اسلام مىں عدل و انصاف كا حكم

 

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                            اسلام مىں عدل و انصاف كا حكم

islahotaraqqi.com

آىت: ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴾                (مائدہ/8)

ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر(حق اور  راستی پر) قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کر ے کہ تم عدل نہ كرو  بلكہ  عدل سے کام لو  كىونكہ یہی تقویٰ کے قریب تر ہے،  اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ یقیناً اس سے باخبر ہے۔

معانى كلمات:

قَوَّامِينَ: یہ “قوّام” کی جمع ہے، اور یہ “قائم” سے صیغۂ مبالغہ ہے۔قوّام” اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی کام کو نہایت اہتمام، کمال اور حسن کے ساتھ انجام دینے میں بہت زیادہ سرگرم اور پختہ ہو۔

 شُهَدَاءَ: یہ “شہید” کی جمع ہے بمعنى گواہ ، جو “فعیل” کے وزن پر ہے۔ اس صیغے کا اصل مفہوم یہ ہے کہ یہ نفس میں راسخ اور پختہ صفات پر دلالت کرتا ہے، جیسے: کریم اور حکیم۔

قسط : اس کا معنی عدل و انصاف ہے۔ کہا جاتا ہے: “أقسط فلان” یعنی فلاں شخص نے اپنے اقوال اور فیصلوں میں انصاف کیا۔

 لَا يَجْرِمَنَّكُمْ:    اس كا جرم تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے اور نہ ابھارے ۔ عربی محاورے میں کہا جاتا ہے: جرمہ على كذا یعنی اسے کسی کام پر ابھارا یا مجبور کیا۔ اس کا ایک معنی یہ بھی ہے: تمہیں ایسا (برا) عمل کمانے والا نہ بنائے، کیونکہ جرم کا لفظ اصل میں کسب کے معنی میں آتا ہے، لیکن خاص طور پر ایسے کسب کے لیے بولا جاتا ہے جس میں کوئی بھلائی نہ ہو، اور اسی سے لفظ جریمہ (جرم) بنا ہے۔

لفظ جرم کی اصل یہ ہے کہ درخت سے پھل کو کاٹ لیا جائے، پھر اسے کمانے کے معنی میں استعمال کیا جانے لگا، کیونکہ کمانے والا اپنے کام کے لیے خود کو دیگر امور سے کاٹ لیتا ہے ۔

شنآن:   اس سے مراد شدید بغض اور سخت نفرت ہے۔ کہا جاتا ہے: شنئتُ الرجل أشنؤه شنأً وشنآناً، یعنی میں نے اس شخص سے سخت دشمنی اور شدید نفرت کی ، یہاں مراد دشمن لوگ ہیں۔ (الوسىط للطنطاوى)

أَلَّا تَعْدِلُوا  : تم عدل نہ كرو  یعنی یہ دشمنی تمہیں ان کے بارے میں انصاف چھوڑنے پر مجبور نہ کرے۔

اعْدِلُوا :  عدل سے فعل امر ہے ىعنى تم عدل كرو،   یہ کھلا اور واضح حکم ہے کہ دوست ہو یا دشمن، ہر ایک کے ساتھ عدل کرو۔

تفسىر:

اسلام  كا اىك انتہائى اہم  بنىادى اصول و ضابطہ  سب كے ساتھ عدل  و انصاف ہے اور بلا شبہ اسلام عدل  کا دین ہے، اور اگر ہر دین کی کوئی نمایاں صفت ہو تو اسلام کی امتیازی صفت عدل ہی ہے۔ چنانچہ اس کی شریعت میں عدل و انصاف ایک عملی حقیقت بھی ہے اور ایک لازم فریضہ بھی، جسے اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی استثنا کے سب پر فرض کیا ہے۔

یقیناً عدل و مساوات  اسلام کی عظیم ترین  اخلاقى و اصولى اقدار میں سے ہىں ، جن كو  اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اختیار کرنے بلکہ معاشرے میں راسخ کرنے اور عملی طور پر نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور جن کے عملی نفاذ کے لیے نبی کریم ﷺ ، آپ كے اصحاب اور اسلاف نے بھرپور کوششیں فرمائیں۔

قرآنِ کریم  و احادىث كے متعدد نصوص  مىں عدل و انصاف كا مكمل صراحت و وضاحت كے ساتھ ذكر ہوا ہے اور مسلمانوں کو ہراىك كے ساتھ ہرحال مىں عدل و انصاف  كرنے كا حكم دىا گىا ہے ۔انہىں مىں سے  سورۃ المائدہ کی ىہ  آیت ہے  جو   اسى عظیم سنہرى   اصولِ عدل کو بیان کرتی ہے۔

برادران اسلام :

اس سے پہلے كى آىت مىں  اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو اپنے عہد و پیمان کو پورا کرنے کا حکم دیا، تو اس کے بعد انہیں یہ بھی حکم دیا کہ وہ اپنے تمام اقوال اور اعمال میں حق پر قائم رہیں، اور انہیں ان نعمتوں کی یاد دہانی کرائی جو اس نے ان پر نازل فرمائیں۔ چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِاے ایمان والو! اللہ کے لیے مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو...”

اور اس کا معنی یہ ہے: اے وہ لوگو جو حق پر سچا ایمان لائے ہو! ( كُونُواْ قَوَّامِينَ للَّهِ شُهَدَآءَ بالقسط )اللہ کے لیے پوری مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنویعنی تمہاری صفات اور اخلاق میں یہ ہونی چاہیے کہ تم ہر اس چیز میں جس كا كرنا  تم پر لازم ہے، صرف اللہ ہی کے لیے حق کے ساتھ قائم رہو۔ اس کی اطاعت پر عمل كرو  اور اس کی منع کردہ چیزوں سے بچو۔

اور تمہاری عادت اور طرزِ عمل یہ بھی ہونا چاہیے کہ تم اپنی باتوں اور فیصلوں میں عدل کو لازم پکڑو، کیونکہ اس کے خلاف چلنا اس دینِ اسلام کی تعلیمات کے منافی ہے جس پر تم ایمان لائے ہو اور جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے پسند فرمایا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: کُونُوا قَوَّامِينَاس میں “صفت كىنونت ” (ہو جاؤ) کا لفظ دوام اور استمرار پر دلالت کرتا ہے، اور “قوّامین” کا صیغہ مبالغہ کثرت اور شدت پر دلالت کرتا ہے۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی صفت کو ان کے نفوس میں راسخ کیا جائے اور ان کے دلوں میں اسے مضبوطی سے جما دیا جائے۔

گویا اللہ تعالیٰ ان سے فرما رہا ہے:اپنے نفسوں کو اپنے خالق کی اطاعت پر آمادہ کرو، اور انہیں حق اور عدل کی پابندی کا عادی بناؤ، اور اس کو ہر حال اور ہر موقع پر اپنا شعار بنا لو۔ صرف ایک یا دو مرتبہ عدل اور اطاعت پر عمل کرنا کافی نہیں، بلکہ تم پر لازم ہے کہ تم ہر وقت اور ہر عمل میں اس کے پابند رہو۔(الوسىط للطنطاوى)

 علامہ عبد الرحمن سعدى نے لكھا ہے: اے ایمان والو!”ان چیزوں پر ایمان لانے کے بعد جن کا تمہیں حکم دیا گیا ہے، اب اپنے ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو۔ اس طرح کہ تم اللہ کے لیے پوری طرح قائم رہنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ۔یعنی تمہاری ظاہری اور باطنی تمام حرکات و سکنات عدل قائم کرنے کے لیے متحرک ہوں، اور یہ قیام صرف اللہ کے لیے ہو، نہ کہ کسی دنیاوی غرض و مقصد کے لیے۔ اور تمہارا مقصد خالص انصاف  ہو جو كہ  عدل ہو—جو نہ افراط ہے نہ تفریط—تمہارے اقوال میں بھی اور تمہارے اعمال میں بھی۔اور تم عدل کو ہر ایک پر  قائم کرو: خواہ وہ قریب ہو یا دور، دوست ہو یا دشمن۔(تفسىر سعدى)

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: عدل کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہےیہ عدل کے واجب ہونے کی صریح تاکید ہے، اس کے بعد کہ پہلے اس کے ترک سے روکا جا چکا تھا، جیسا کہ فرمایا: وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُواکسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو

یہ اس بات کی مزید تاکید کے لیے ہے کہ وہ اس چیز کو لازم پکڑیں جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور جس سے اس نے منع فرمایا ہے، اور  اس حکم کی حکمت اور علت بیان كرنے كے لىے  ہے۔

اور ضمیر ہو اس مصدر کی طرف لوٹتی ہے جو “اعدلوا” (عدل کرو) سے مفہوم ہوتا ہے۔یعنی: اے ایمان والو! ہر حال میں عدل کو لازم پکڑو، کیونکہ دشمنوں کے ساتھ بھی اور دوسروں کے ساتھ بھی عدل کرنا، گناہوں سے بچنے اور نفس کو ہلاکت میں پڑنے سے محفوظ رکھنے کے زیادہ قریب ہے۔(الوسىط للطنطاوى)

 تفسىر سعدى مىں ہے:  کسی قوم کی عداوت تمہیں عدل چھوڑنے پر آمادہ نہ کرے، جیسا کہ وہ لوگ کرتے ہیں جن کے پاس نہ عدل ہوتا ہے نہ انصاف۔ بلکہ جس طرح تم اپنے دوست کے حق میں گواہی دیتے ہو، اسی طرح اس کے خلاف بھی سچی گواہی دو، اور جس طرح تم اپنے دشمن کے خلاف گواہی دیتے ہو، اسی طرح اس کے حق میں بھی گواہی دو—اگرچہ وہ کافر ہو یا بدعتی—کیونکہ اس کے معاملے میں بھی عدل واجب ہے۔

اور جو حق سامنے آئے  اسے قبول کیا جائے، اس لیے نہیں کہ کس نے کہی ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ حق ہے۔ اور محض کہنے والے کی بنیاد پر حق کو رد کرنا، درحقیقت حق پر ظلم کرنا ہے۔(تفسىر سعدى)

پھر فرمایا: اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى عدل کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔

یعنی جتنا تم عدل کے قیام میں کوشش کرو گے اور اس پر عمل کے لیے کوشاں رہو گے، اتنا ہی یہ تمہارے دلوں میں تقویٰ کے قریب ہوگا، بلکہ جب عدل کامل ہو جائے تو تقویٰ بھی کامل ہو جاتا ہے۔(تفسىر سعدى)

سوال ىہ ہے كہ اللہ تعالیٰ نے ىہ كىوں فرماىا  كہ   عدل کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہےحالانکہ عدل بذاتِ خود تقویٰ کی دلیل اور اس کا جوہر ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن جب اپنے دشمن کے ساتھ حالتِ جنگ یا تعامل میں ہوتا ہے تو کبھی یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس کے مال کو مباح سمجھ لے اور جتنا لے سکتا ہے لے لے۔

چنانچہ قرآنِ کریم نے اس کی وضاحت کر دی کہ کامل تقویٰ کے زیادہ قریب یہ ہے کہ وہ اپنے دشمن کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کرے اور اس کے کسی حق پر زیادتی نہ کرے۔

صاحبِ “الکشاف” فرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ کے فرمان: عدل کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے کا مطلب یہ ہے کہ پہلے انہیں اس بات سے روکا گیا کہ دشمنی انہیں عدل چھوڑنے پر آمادہ نہ کرے، پھر از سرِ نو عدل کا حکم صراحت کے ساتھ دیا گیا، تاکہ تاکید اور تشدید ہو۔پھر دوبارہ عدل کے حکم کی علت بیان کی گئی، جو یہ ہے: یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہےیعنی عدل تقویٰ کے زیادہ قریب اور اس کے زیادہ مناسب ہے۔

اور اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جب کفار—جو اللہ کے دشمن ہیں—کے ساتھ عدل واجب ہے اور اس درجہ تاکید کے ساتھ ہے، تو پھر مومنوں کے ساتھ عدل کا وجوب کس قدر زیادہ ہوگا، جبکہ وہ اللہ کے دوست اور محبوب بندے ہیں۔

. پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آیت کو اس فرمان پر ختم فرمایا : وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے”۔

یعنی: اے ایمان والو! اپنے ہر کام میں—چاہے تم کوئی عمل کرو یا کسی چیز کو چھوڑو—اللہ سے ڈرتے رہو، اور اپنے آپ کو ہر اس چیز سے بچاؤ جو اسے ناپسند ہو، اور وہی کام کرو جن کا اس نے تمہیں حکم دیا ہے۔

بلاشبہ اللہ تعالیٰ سے تمہارے  مخفى اعمال میں سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے، اور وہ قیامت کے دن تمہیں تمہارے اعمال کے مطابق پورا پورا بدلہ دے گا—چاہے وہ اچھے ہوں یا برے، چھوٹے ہوں یا بڑے—دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

پس یہ مبارک جملہ بطورِ تذییل آیا ہے، جس کا مقصد اللہ کے احکام کی مخالفت اور اس کی حدود کو پامال کرنے سے خبردار کرنا ہے۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اس کریم آیت نے مومنوں کو ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کی اطاعت پر قائم رہنے کا حکم دیا ہے، اور بغیر کسی جانبداری اور ظلم کے گواہی کو درست طریقے سے ادا کرنے کی تلقین کی ہے ۔ نیز دشمن اور دوست دونوں کے ساتھ عدل کرنے کا حکم دیا ہے، اور ظاہر و باطن میں اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور اس کے خوف کو لازم پکڑنے کی ہدایت دی ہے۔

علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اس آیت کی نظیر سورۂ نساء، آىت نمبر 135  میں بھی گزر چکی ہے: ( يَا أَيُّهَا الذين آمَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ بالقسط شُهَدَآءَ للَّهِ )اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو

یہاں اس پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ عدل کی اہمیت کو مزید نمایاں کرنے اور غصے کی شدت کو ختم کرنے کے لیے مزید تاکید کی گئی ہے۔اور بعض اہلِ علم كا كہنا  ہے کہ دونوں آیات کے نزول کے اسباب مختلف ہیں: پہلی آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی، اور یہ آیت یہود کے بارے میں۔(الوسىط للطنطاوى)

سورہ نساء كى اس آىت مىں  اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو عدل و انصاف قائم کرنے اور حق کے مطابق گواہی دینے کی تاکید فرما رہا ہے چاہے  اس كى وجہ سے انہىں ىا ان كے والدىن  اور رشتہ داروں کو نقصان ہی اٹھانا پڑے۔ اس لئے کہ حق سب پر حاکم ہے اور سب پر مقدم ہے۔

بلا شبہ اس آیت میں عدل و انصاف کی تاکید اور اس کے لئے جن باتوں کی ضرورت ہے ، ان کا اہتمام کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مثلاً :

ہر حال میں عدل کرو اس سے سرمو انحراف نہ کرو، کسی ملامت گر کی ملامت اور کوئی اور محرک اس میں رکاوٹ نہ ہے۔ بلکہ اس اس کے قیام میں تم ایک دوسرے کے معاون اور دست و بازو بنو۔

صرف اللہ کی رضا تمہارے پیش نظر ہو ، کیونکہ اس صورت میں تم تحریف تبدیل اور کتمان سے گریز کرو گے اور تمہارا فیصلہ عدل کی میزان میں پورا اترے گا۔

عدل و انصاف کی زد اگر تم پر یا تمہارے والدین پر یا دیگر قریبی رشتے داروں پر بھی پڑے ، تب بھی تم پر وا مت کرو اور اپنی اور ان کی رعایت کے مقابلے میں عدل کے تقاضوں کو اہمیت دو۔

کسی مال دار کی اس کی تو نگری کی وجہ سے رعایت نہ کرو اور کسی تنگ دست کے فقر سے خوف مت کھاؤ کیونکہ وہی  جانتا ہے کہ ان دونوں کی بہتری کس میں ہے ؟

فیصلے میں خواہش  نفس ، عصبیت اور دشمنی آڑے نہیں آنی چاہئے۔ بلکہ ان سب کو نظر انداز کر کے بے لاگ عدل کرو۔(تفسىر احسن البىان)

کچھ محققین نے ایک لطیف نکتہ یہ بیان کیا ہے کہ وہاں (سورۂ نساء میں) “قسط” (عدل) کو پہلے ذکر کیا گیا اور یہاں بعد میں، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں آیت اپنے نفس، والدین اور رشتہ داروں کے خلاف بھی انصاف کرنے کے بیان کے لیے آئی تھی، اس لیے ابتدا عدل کے ذکر سے کی گئی، تاکہ کسی قسم کی جانبداری نہ رہے  اور نہ كسى بنوت اور  قرابتدارى  كى  رعاىت  كى جائے ۔

اور یہاں آیت دشمنی کو ترک کرنے کے سیاق میں آئی ہے، اس لیے پہلے “اللہ کے لیے قائم رہنے” کا ذکر کیا گیا، کیونکہ یہ بات مومنوں کو ظلم و زىادتى  سے  زیادہ روکنے والی ہے، پھر اس کے بعد عدل کے ساتھ گواہی دینے کا ذکر کیا گیا۔پس ہر مقام پر وہی اسلوب اختیار کیا گیا جو اس کے مناسب تھا۔(الوسىط للطنطاوى)

عدل و انصاف كى راہ مىں حائل دو اہم ركاوٹىں:

سورہ مائدہ كى مذكورہ آىت و سورہ نساء كى آىت نمبر 135 كى روشنى مىں ىہ بات باكل واضح ہوجاتى ہے كہ در اصل عدل و انصاف  كى راہ مىں دو اہم چىزىں سب سےبڑى  ركاوٹ بنتى ہىں اور اس كى راہ مىں دو اہم اسباب و عوامل سب سے بڑے موانع ہىں  جن مىں سے اىك اہم عامل و سبب سورہ نساء كى آىت مىں مذكور   مثبت تعلق ىعنى محبت ہے جب كہ دوسرا اہم سبب و وجہ سورہ مائدہ مىں مذكور   منفى تعلق ىعنى دشمنى ہے ۔ 

محبت: انسان كا اپنی ذات سے محبت ‘ والدین اور رشتہ داروں وغیرہ کی محبت انسان کو سوچنے پر مجبور کردیتی ہے کہ میں اپنے خلاف کیسے فتویٰ دے دوں ؟ اپنے ہی والدین کے خلاف کیونکر فیصلہ سنا دوں ؟ سچی گواہی دے کر اپنے عزیز رشتہ دارکو کیسے پھانسی چڑھا دوں ؟ لہٰذا وَلَوْ عَلٰی اَنْفُسِکُمْ۔ فرما کر اس نوعیت کی تمام عصبیتوں کی جڑکاٹ دی گئی کہ بات اگر حق کی ہے ‘ انصاف کی ہے تو پھر خواہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ جا رہی ہو ‘ تمہارے والدین پر ہی اس کی زد کیوں نہ پڑ رہی ہو ‘ تمہارے عزیز رشتہ دار ہی اس کی کاٹ کے شکار کیوں نہ ہو رہے ہوں ‘ اس کا اظہار بغیر کسی مصلحت کے ڈنکے کی چوٹ پر کرنا ہے۔

 دشمنى :  یعنی کسی فرد یا گروہ کی دشمنی ‘ جس کی وجہ سے انسان حق بات کہنے سے پہلو تہی کرجاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ بات تو حق کی ہے مگر ہے تو وہ میرا دشمن ‘ لہٰذا اپنے دشمن کے حق میں آخر کیسے فیصلہ دے دوں ؟ آیت زیر نظر میں اس عامل کو بیان کرتے ہوئے دشمنی کی بنا پر بھی کتمانِ حق سے منع کردیا گیا  اور خبر دار كىا گىا كہ تمہارا کوئی عمل اور کوئی قول اس کے علم سے خارج نہیں ‘ لہٰذا ہر وقت چوکس رہو ‘ چوکنے رہو۔ (بيان القرآن)

    اس كے علاوہ اور بھى عوامل و اسباب ہىں جو عدل  و انصاف مىں ركاوٹ بنتے ہىں جن مىں سر فہرست مال و دولت كے حصول كى لالچ، جاہ و منصب كى خواہش ، مسلكى، گروہى، ملكى، جماعتى، علاقائى، قرابتدارى ، خاندانى  و لسانى عصبىت   وغىرہ  شامل ہىں ۔جن كو ىہاں تفصىل سے بىان كرنا ممكن  نہىں ہے ۔مزىد تفصىل كے  لىے گوگل پر سرچ كركے مىرے مضمون:  موجودہ دور کے مسلمانوں میں عدل وانصاف کا فقدان.. اسباب وجوہات كا مطالعہ كىجىے ۔

خلاصہ:

تمام تفاسیر اس بات کی تاکید کرتی ہیں کہ یہ آیت انصاف کے اصولوں کو مضبوطی سے قائم کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے، یہاں تک کہ اُن مواقع پر بھی جب بغض کسی حد تک جائز معلوم ہوتا ہو (جیسے کافروں یا دشمنوں سے نفرت)، تب بھی یہ چیز معاملہ یا فیصلے میں ظلم کو ہرگز جائز نہیں بناتی۔

یہ آیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ عدل و  انصاف ایک ہمہ گیر دینی فریضہ ہے، جو حالات، تعلقات اور جذبات سے بالاتر ہو کر ادا کیا جانا چاہیے۔ حتیٰ کہ جہاں دشمنی کا جواز بھی موجود ہو، وہاں بھی ظلم کی اجازت نہیں، بلکہ عدل ہی مطلوب اور تقویٰ کا راستہ ہے۔

معاشروں پر عدل کے فوائد ،  نتائج  و اثرات:

اب آخر مىں عدل كے چند اہم فوائد و نتائج بھى بىان كىے جاتے ہىں تاكہ  ہر اىك كے لىے اس كى حكمت و علت واضح ہوجائے  ، اس كى اہمىت و افادىت سامنے آجائے اور ہر شخص اس كو نافذ كرنے كى جد و جہد كرے اور ىہ بحث بھى مكمل ہوكر مزىد مفىد و نافع بن جائے ۔

عدل ایک مطلق اور آفاقی قدر ہے جو ہر حال میں اور ہر شخص سے مطلوب ہے ،یہ کسی ایک قوم، مذہب یا زمانے تک محدود نہیں، بلکہ یہی ہر معاشرے کے استحکام اور بقا کی اصل بنیاد ہے۔

عدل کا اہتمام جس سماج و  معاشرے، ملك و ملت  میں ہوگا وہاں امن و سکون اور اللہ کی طرف سے رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو گا۔

عدل ہی سلطنت کی ٹھوس و مضبوط  بنیاد ہے، اور اسی کے ذریعے آسمان و زمین قائم ہیں۔

عدل ملکوں کے قیام اور بقا کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ ظلم ان کے زوال اور تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ لہذا جس نے عدل کو اپنی حکومت کی بنیاد بنایا، اس کی قوت مضبوط ہو گئی اور اس کی ریاست مستحکم ہو گئی، چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ اور جس نے اپنی ریاست کی بنیاد ظلم، امانت کی ضیاع اور حقوق کی پامالی پر رکھی، اس کی حکومت باقی نہیں رہتی، خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔

عدل دین، مال، جان اور عزت کا محافظ ہے اور اسی کے ذریعے انسان اپنی جان، مال اور عزت کے بارے میں محفوظ ہو جاتا ہے۔

عدل پر قائم ریاست میں ہر فرد سکون اور امن محسوس کرتا ہے، اور اسے ظلم و زیادتی کا کوئی خوف نہیں رہتا۔

عدل سے زمین سرسبز اور لوگ پُرامن ہوتے ہیں، اسی پر معاشرے کی خوشحالی اور اطمینان موقوف ہے۔

 کمزور عدل ہی کی پناہ لیتے ہیں، اور محتاج اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

 عدل میں مظلوم کے لیے انصاف ہے اور محروم کے لیے رزق کا دروازہ ہے۔

اسی کے ذریعے لوگوں میں اتحاد پیدا ہوتا ہے، کلمہ ایک ہوتا ہے، تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور باہمی روابط مستحکم ہوتے ہیں۔

جب معاشرے میں عدل قائم ہوتا ہے تو افراد امن و اطمینان کے ساتھ آزادی اور نشاط کے ساتھ کام کرتے ہیں، جس سے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے، ملک مستحکم ہوتا ہے اور لوگ خوشحال ہو جاتے ہیں۔

جب عدل اور مساوات کی اقدار کو عملاً نافذ کیا جاتا ہے تو مسلم معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، خوشحالی اور ترقى  حاصل کرتا ہے، اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کرتا ہے، اور ایک مرتبہ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت، علوم کی ترقی اور زمین کی آبادکاری مىں ، انسانیت کی رہنمائی کے قابل ہو جاتا ہے۔

پس عدل پورے نظامِ زندگی کا دار و مدار ہے، تمام بھلائیوں کا مجموعہ اور فضیلت کی بنیاد ہے۔

دور حاضر كے مسلمانوں پر اىك نظر:

دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنا مسلمانوں کی بنیادی ذمہ داری تھی۔ انہیں اسی مقصد کے لیے بھیجا گیا تھا کہ وہ دنیا اور اس کی اقوام کو عدل و انصاف کا راستہ دکھائیں اور ہر قسم کے ظلم و ستم سے بچائیں۔ ابتدائی ادوار میں مسلمانوں نے اس فریضے کو بخوبی انجام دیا، لیکن بعد کے زمانوں میں وہ آہستہ آہستہ اس عظیم ذمہ داری سے غافل ہوتے گئے۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ خود مسلم سماج و معاشرہ عدل و انصاف کے شدید فقدان کا شکار ہے۔

اعلیٰ حکمرانوں سے لے کر ادنیٰ ذمہ داروں تک، ہر سطح پر بگاڑ، فساد، کرپشن اور ظلم و ستم پایا جاتا ہے۔ عوام و خواص، علماء و جہلاء—سب اس مہلک بیماری میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ امیر و غریب، مرد و عورت، ہر طبقہ اس بلا میں گرفتار ہے۔ معاشرے کا کوئی شعبہ، چاہے سرکاری ہو یا غیر سرکاری، اس سے محفوظ نہیں۔ گویا چاروں طرف عدل و انصاف کا قتل عام ہو رہا ہے۔ ایسی حالت میں یہ امت دوسروں کو عدل کا راستہ کیسے دکھا سکتی ہے، بلکہ خود دوسروں کی محتاج بن چکی ہے۔

اگر مسلمانوں میں حقیقی عدل و انصاف ہوتا تو ان کے درمیان اس قدر اختلافات، جنگیں اور باہمی کشمکش نہ ہوتی۔ وہ ذاتی، گروہی اور ملکی مفادات پر امت کے اجتماعی مفاد کو ترجیح دیتے۔ ان کے معاشرے میں امن، آزادی اور خوشحالی ہوتی، اور ہر فرد کو اس کا جائز شرعی، سیاسی اور معاشی حق حاصل ہوتا۔ کوئی شخص بھوک، جہالت یا بے گھری کا شکار نہ ہوتا، بلکہ عزت و سکون کے ساتھ زندگی گزارتا۔

عدل و انصاف کی حکمرانی کا تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان اپنے موقف و روىہ  کو مسلکی، گروہی ىا وطنى و علاقائى وغىرہ  تعصبات کے بجائے حق و باطل کے معیار پر پرکھے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ ظالم کے خلاف ڈٹ جائے اور مظلوم کی حمایت کرے، خواہ ماضی میں مظلوم ہی نے اس پر ظلم کیوں نہ کیا ہو۔ یہی اسلام کی تعلیم ہے اور یہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہےجىسا كہ ان آىات مىں بىان ہوا ہے بلكہ اللہ تعالى نے ىہ بھى حكم دىا ہے  كہ اگر تمہارے اوپر كوئى  كافر، فاسق ا  ور  گمراہ   گروہ اور جماعت ظلم و جارحىت كرتا ہے  تب بھى تم كو ظلم و ستم سے باز رہنا ہے اور ہر حال مىں عدل و انصاف كرنا ہے ۔ اللہ تعالى كا ارشاد ہے:  و لا ىجرمنكم شنآن قوم ان صدوكم عن المسجد الحرام ان تعتدوا(مائدہ/2) جن لوگوں نے تم كو مسجد حرام سے روكا تھا ان كى دشمنى تمہىں اس بات پر آمادہ نہ كرے كہ تم ظلم و جارحىت كرو۔ىعنى اگرچہ مشركوں نے تم كو 6ھ مىں مسجد حرام جانے سے روكا تھا لىكن تم ان كے اس روكنے كى وجہ سے ان كے ساتھ زىادتى والا روىہ مت اختىار كرنا اور ان كے اوپر ظلم و ستم مت كرنا۔ سبحان اللہ ! كتنى عمدہ تعلىم ہے كہ  ظالم كى طرف سے ظلم و زىادتى كے باوجود اس كے ساتھ ظلم و زىادتى سے منع كىا جا رہا ہے ۔ بلا شبہ اسى  عدل و انصاف كے ذرىعہ ہم دنىا كو عدل كا سبق دے سكتے ہىں اور اس كا شاندار نمونہ بن سكتے ہىں  ۔ كىا ہم مسلمان ا س  كے لىے تىار ہىں ؟

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں—حکمرانوں اور عوام—کو عدل و انصاف قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ہر قسم کے ظلم و ستم سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

 

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: