ماحولیات کو درپیش چیلنجز اور ہماری دینی ذمہ داریاں

 

اداریہ    

ماحولیات کو درپیش چیلنجز اور ہماری دینی ذمہ داریاں

چیف ایڈیٹر

ڈاکٹر عبد المنان محمد شفیق مکی

Please visit: islahotaraqqi.com 

ہر سال 5 جون کو دنیا بھر میں "یومِ ماحولیات" منایا جاتا ہے، جس کا مقصد انسانوں کو درپیش ماحولیاتی بحرانوں، ان کے منفی اثرات و نقصانات سے آگاہ کرنا اور ماحول کے تحفظ کے بارے میں ان میں بیداری و شعور پیدا کرنا ہے۔

بلاشبہ دورِ حاضر میں ماحولیاتی آلودگی ایک خطرناک اور سنگین مسئلہ اور پوری دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ بلکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماحولیات کے تحفظ کا مسئلہ موجودہ دور کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے، اور اپنے مضر نتائج اور انسانیت کے لیے تباہ کن اثرات کے اعتبار سے بقول شیخ محمد صادق رحمہ اللہ یہ مسئلہ جوہری ہتھیاروں کے خطرے سے کسی طرح کم نہیں۔

درحقیقت ٹیکنالوجی کے میدان میں حیرت انگیز ترقی، توانائی کے نئے ذرائع کی دریافت، مختلف دھاتوں اور کیمیائی مادّوں کا ظہور، قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال اور فطرت کے قوانین میں انسان کی بے سوچے سمجھے مداخلت نے ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے بے شمار پیچیدگیاں اور مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

دنیا اس وقت ایسے بے مثال ماحولیاتی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے اور بہت سے ایسے سنگین ماحولیاتی چیلنجز سے دوچار ہے جو زمین کی پائیداری، انسانوں، جانوروں اور آنے والی نسلوں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

بلکہ ماحولیاتی مسائل اب ایسے مسائل نہیں رہے جو صرف آنے والی نسلوں کو متاثر کریں گے، بلکہ یہ آج ہی دنیا بھر میں کروڑوں انسانوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ یہ بھوک، نقل مکانی، بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی اور عوامی صحت کے بحرانوں کا سبب بن رہے ہیں۔

آج دنیا کو درپیش 10 بڑے اور سنگین ماحولیاتی چیلنجز درج ذیل ہیں:

1۔ موسمیاتی تبدیلی اور عالمی درجہ  حرارت میں اضافہ (Climate change & Global Warming)

2۔ حیاتیاتی ایندھن (Fossil Fuels) پر انحصار اور توانائی کا عدم تحفظ

3۔ فضائی آلودگی (Air Pollution)

4۔ پانی کی قلت اور آبی آلودگی (Water Scarcity and Water Pollution)

5۔ غیر پائیدار زراعت اور غذائی نظام (Unsustainable Agriculture and Food Systems

6۔ جنگلات کی کٹائی (Deforestation)

7۔ زمین کی زرخیزی میں کمی اور صحرائی عمل (Soil Degradation and Desertification)

8۔ حیاتیاتی تنوع کا نقصان (Biodiversity Loss)

9۔ پلاسٹک آلودگی اور فضلہ جات کا انتظام (Plastic Pollution and Waste Management)

10۔ سمندری سطح میں اضافہ (Rising Sea Levels)

ظاہر ہے کہ ان تمام چیلنجز کے بارے میں اس اداریہ میں تفصیلی گفتگو غیر ممکن ہے، لیکن بلا شبہ ان کے منفی اثرات اور نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ اقوامِ متحدہ (UN) نے آج دنیا کو درپیش سب سے اہم ماحولیاتی چیلنجز کو "کرۂ ارض کے تین بڑے بحرانوں" (Triple Planetary Crisis) کے عنوان سے بیان کیا ہے: موسمیاتی تبدیلی، آلودگی، اور حیاتیاتی تنوع کا نقصان۔

یہ باہم مربوط مسائل ماحولیاتی نظام اور انسانی فلاح و بہبود پر گہرے منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ لہٰذا عربی محاورے "ما لا يُدرَك كلُّه لا يُترَك جُلُّه" کے مطابق کرۂ ارض کے ان تین بڑے بحرانوں پر مختصر روشنی ڈالی جا رہی ہے، تاکہ موضوع تشنہ نہ رہے اور ایک جھلک ہی سہی، قارئین کے سامنے آ جائے۔

1۔ موسمیاتی تبدیلی اور عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ

انسانی سرگرمیوں، خصوصاً کوئلہ، تیل اور گیس جیسے حیاتیاتی ایندھن کے استعمال سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی وجہ سے عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے اور شدید گرمی کی لہروں میں شدت آ رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں شدید موسمی واقعات (جیسے سیلاب، خشک سالی اور طوفان) زیادہ کثرت اور شدت کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں، برفانی تودے تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سمندروں کی سطح بلند ہو رہی ہے۔

یہ تبدیلیاں زرعی پیداوار کے لیے خطرہ بن رہی ہیں اور بہت سی انسانی آبادیوں کو اپنے علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور کر رہی ہیں۔ اس پر قابو پانے کے لیے شمسی اور ہوائی توانائی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی ضرورت ہے۔

2۔ فضائی اور پلاسٹک آلودگی

فضائی آلودگی آج بھی ماحول اور انسانی صحت کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔ اس کی وجہ سے انسانوں میں سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا تعلق بڑی حد تک حیاتیاتی ایندھن کے جلنے اور شہری علاقوں میں موجود باریک آلودہ ذرات سے ہے۔

پلاسٹک آلودگی جدید دور کا ایک بڑا ماحولیاتی مسئلہ بن چکی ہے، جو سمندری ماحولیاتی نظام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، کیونکہ لاکھوں ٹن پلاسٹک کا فضلہ سمندروں میں پہنچ جاتا ہے، جس سے سمندری جانور متاثر ہو رہے ہیں اور نہایت چھوٹے پلاسٹک ذرات (Microplastics) عالمی غذائی سلسلے میں شامل ہو جاتے ہیں۔

3۔ حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی نظام کا نقصان

قدرتی مسکن کی تباہی، آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، انسانی آبادی کا پھیلاؤ، ضرورت سے زیادہ شکار (خصوصاً مچھلیوں کا شکار) اور جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے پودوں اور جانوروں کی انواع میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے، اور یہ اہم قدرتی کاربن ذخائر (جیسے ایمیزون کے جنگلات) کی تباہی کا سبب بن رہی ہے۔

جس کے نتیجے میں پودوں اور جانوروں کی بہت سی انواع ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، جس سے قدرتی توازن متاثر ہو رہا ہے۔

مزید کچھ اہم ماحولیاتی چیلنجز یہ ہیں:

4۔ میٹھے پانی کی قلت اور پانی کا معیار

صاف اور پینے کے قابل پانی تک رسائی اور مناسب صفائی کا نظام دنیا بھر میں بڑھتا ہوا بحران بن چکا ہے۔ آبادی میں اضافے، آبی وسائل کے غلط انتظام، پانی کے ضیاع اور موسمی حالات میں تبدیلی کے باعث زیرِ زمین پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، جبکہ صنعتی اور زرعی فضلے کی وجہ سے آبی ذرائع آلودہ ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے انسانی صحت، زراعت اور مجموعی غذائی تحفظ کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2.1 ارب افراد اب بھی محفوظ اور صاف پینے کے پانی کی سہولت سے محروم ہیں، جب کہ 3.4 ارب افراد کو مناسب اور محفوظ صفائی ستھرائی کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔

5۔ جنگلات کی کٹائی (Deforestation)

ہم اکثر درختوں کو ایک معمولی چیز سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ زمین پر درخت خاموشی سے ایک نہایت اہم کام انجام دے رہے ہیں: وہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں۔ ایک بالغ درخت ہر سال تقریباً 21 کلو گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر سکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہیکٹر (تقریباً ڈھائی ایکڑ) جنگل ایک عام گاڑی کے سالانہ سفر سے پیدا ہونے والے کاربن اخراج کی تلافی کر سکتا ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں جنگلات خطرناک رفتار سے ختم ہو رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں:

·            لکڑی حاصل کرنے کے لیے درختوں کی کٹائی،

·            زمین کو صاف کر کے زراعت یا تعمیرات کے لیے استعمال کرنا،

·            اور جلاؤ کے ذریعے کھیتی (Slash-and-Burn Farming) کے طریقے۔

ان سرگرمیوں سے:

                                                                                                                                                    قدرتی ماحولیاتی نظام تباہ ہو رہے ہیں،زمین کی زرخیزی کم ہو رہی ہے،اور جب درخت کاٹے جاتے ہیں تو ان میں محفوظ کاربن دوبارہ فضا میں شامل ہو جاتا ہے۔

اس سے ایک دوہرا نقصان پیدا ہوتا ہے:

1۔ کاربن جذب کرنے والے درخت کم ہو جاتے ہیں۔

2۔ پہلے سے محفوظ کاربن دوبارہ ماحول میں خارج ہونے لگتا ہے۔

1990ء سے اب تک دنیا کے جنگلات میں 80 ملین ہیکٹر سے زیادہ کمی واقع ہو چکی ہے۔

اگرچہ 61 ممالک نے 2030ء تک تباہ شدہ جنگلات کے 170 ملین ہیکٹر رقبے کو بحال کرنے کا وعدہ کیا ہے، لیکن اس سلسلے میں پیش رفت سست ہے، جبکہ وقت بہت اہم ہے۔

جنگلات زمین کے قدرتی محافظ ہیں۔ ان کی حفاظت صرف درختوں کو بچانا نہیں بلکہ آب و ہوا، حیاتیاتی تنوع، پانی کے نظام اور انسانی مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔

یہ ہیں آج کے وقت میں ماحولیات کو درپیش چند بڑے اور اہم چیلنجز، جن پر فوری توجہ اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے کہ ان مسائل کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیاں، قدرتی وسائل کا حد سے زیادہ استعمال اور آلودگی ہے، لہٰذا ان پر قابو پانا ممکن ہے، اگرچہ مشکل ضرور ہے۔

چونکہ یہ تمام مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ان کا حل بھی مشترک ہے، اور وہ ہے:

زیادہ سے زیادہ شجر کاری کرنا، پانی کا تحفظ، آلودگی میں کمی کرنا، صاف توانائی کا استعمال اور قدرتی وسائل کا محتاط استعمال۔

اور یہ صرف حکومتوں، سیاست دانوں یا ماہرینِ ماحولیات کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ یہ تمام انسانوں، بالخصوص علماء و فضلاء اور مذہبی رہنماؤں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، کیونکہ تحفظِ ماحول انسانی بقا کا بنیادی تقاضا ہے۔

آج کے سنگین ماحولیاتی حالات میں یہ سوال نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ ان چیلنجز کے مقابلے میں ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں کیا ہیں، اور ایک مسلمان کی حیثیت سے اس بارے میں ہماری دینی رہنمائی کیا ہے؟

افسوس کا مقام یہ ہے کہ ماحولیات کے موضوع کو اکثر محض سائنس دانوں، ماہرینِ ماحولیات یا حکومتی اداروں کا مسئلہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ بنا بریں منبر و محراب پر خاموشی طاری ہے اور تحفظِ ماحول: ایک فراموش شدہ دینی فریضہ بن چکا ہے، حالانکہ اسلام کی نگاہ میں یہ ایک دینی اور اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔

قرآنِ کریم نے انسان کو زمین کا خلیفہ قرار دیا ہے، اور خلیفہ کا کام تخریب نہیں بلکہ تعمیر، فساد نہیں بلکہ اصلاح، اور تباہی نہیں بلکہ حفاظت ہے۔

اگر آج منبر و محراب، درس گاہیں، تعلیمی ادارے اور سماجی تنظیمیں ماحولیات کے تحفظ کو دینی و اخلاقی ذمہ داری کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیں تو یہ صرف درخت لگانے یا صفائی کی مہم نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی زمین کی امانت کی حفاظت کی ایک اجتماعی کوشش ہوگی۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ماحولیات کو محض سائنسی موضوع نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک شرعی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری کے طور پر تسلیم کریں، اور مدارس کے نصاب میں اسے ایک اہم اور لازمی مضمون کے طور پر جگہ دیں، تاکہ آنے والی نسل کے علماء بھی اس عصری چیلنج سے پوری طرح واقف اور باخبر ہوں۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب دنیا ماحولیات کے انتہائی سنگین اور خطرناک مسائل سے نبرد آزما ہے، ہمارے دینی حلقوں میں یہ موضوع ابھی تک حاشیے پر ہے۔ قرآنِ کریم کی متعدد آیات، رسول اللہ ﷺ کی بے شمار احادیث اور فقہِ اسلامی کے واضح اصول ماحولیات کے تحفظ پر دلالت کرتے ہیں، مگر اردو دینی لٹریچر میں اس موضوع پر سنجیدہ اور وقیع مواد کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

فقہِ طہارت، فقہِ عبادات اور فقہِ معاملات کی طرح اب وقت آ گیا ہے کہ اردو دنیا میں "فقہِ ماحولیات" کو ایک مستقل علمی عنوان کے طور پر متعارف کرایا جائے، کیونکہ اس کے مباحث قرآن، حدیث، فقہ، مقاصدِ شریعت اور قواعدِ فقہیہ میں بکھرے ہوئے موجود ہیں، مگر انہیں یکجا کرنے کی سنجیدہ کوششیں ابھی بہت کم ہیں۔

کیا ہمارے دینی مدارس اور علماء کرام اس پر توجہ دیں گے؟

اس موقع پر علماء، ائمہ، خطباء اور دینی اداروں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے خطبات، دروس اور دینی اجتماعات میں ماحولیات کا موضوع ابھی تک وہ مقام حاصل نہیں کر سکا جس کا وہ مستحق ہے۔

حالانکہ زمین کی اصلاح، پانی کی حفاظت، شجرکاری، صفائی اور جانوروں کے حقوق جیسے موضوعات براہِ راست قرآن و سنت سے ثابت ہیں۔ اگر مساجد کے منبروں سے ان موضوعات پر گفتگو کی جائے اور عوام کو یہ باور کرایا جائے کہ ماحولیات کا تحفظ بھی ایک دینی فریضہ ہے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا کی جا سکتی ہے۔

اسی طرح والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ نئی نسل میں ماحول دوستی کا شعور پیدا کریں۔ بچوں کو صفائی، شجرکاری، پانی کی حفاظت اور قدرتی وسائل کے صحیح استعمال کی عملی تربیت دی جائے۔ محض نصیحتیں کافی نہیں بلکہ عملی نمونہ پیش کرنا بھی ضروری ہے۔

یومِ ماحولیات ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ زمین صرف ہماری نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی بھی امانت ہے۔ ہمیں یہ حق حاصل نہیں کہ ہم اپنی عارضی آسائشوں کی خاطر ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیں۔

ایک سچا مسلمان وہ ہے جو اللہ کی مخلوق سے محبت کرے، زمین کو آباد رکھے، اور اپنی ذات سے کسی انسان، حیوان یا ماحول کو نقصان نہ پہنچنے دے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ماحولیات کے تحفظ کو ایک وقتی مہم یا رسمی تقریب کے بجائے دینی، اخلاقی اور سماجی فریضہ سمجھا جائے۔ اگر ہم قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف ماحولیات کے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں بلکہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس امانت کی صحیح معنوں میں حفاظت بھی کر سکیں گے جو اس نے ہمارے سپرد کی ہے۔

ماحولیات کی حفاظت کرنا ہم سب کی دینی، اسلامی، اخلاقی، وطنی اور قومی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس نیک کام میں خود بھی حصہ لیجیے اور دوسروں کو بھی اس میں حصہ لینے پر آمادہ کیجیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں زمین کی اصلاح کرنے والوں میں شامل فرمائے، فساد اور آلودگی سے بچنے کی توفیق عطا کرے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر، پاکیزہ اور متوازن ماحول چھوڑنے کی سعادت نصیب فرمائے۔آمین۔

وما علينا إلا البلاغ، وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔

 

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: