عالمی کشمکش اور اسلامی اصولِ عدل: ایران- امرىكہ جنگ کا تجزیہ

 

ادارىہ

عالمی کشمکش اور اسلامی اصولِ عدل: ایران- امرىكہ  جنگ کا تجزیہ

Please visit: islahotaraqqi.com

چىف اىڈىٹر

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ کا آغاز 28 فروری 2026ء کو ہوا۔ اس جنگ کے اہم مقاصد میں، بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی حکومت کی تبدیلی، ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنا، اس کے بیلسٹک اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام کو ختم کرنا، اور ایران کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ بعض ماہرین کے نزدیک اس جنگ کا اصل مقصد چین کو معاشی طور پر کمزور کرنا اور اسے امریکہ کے برابر آنے یا اس سے آگے نکلنے سے روکنا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کو یہ قوی امید تھی کہ ایران فوجی اعتبار سے ایک کمزور ملک ہے، لہٰذا وہ اپنے تمام مقاصد محض ایک ہفتے کے اندر حاصل کرلیں گے اور جنگ زیادہ طویل نہیں ہوگی۔ لیکن ایران کی غیر معمولی دفاعی و جنگی صلاحیتوں اور اس کے بھرپور جوابی حملوں نے ان کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔ ایران کے غیر متوقع ردِعمل نے نہ صرف مخالف فریق بلکہ پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔

دنیا بھر کے لوگ اس جنگ کے جلد خاتمے کے منتظر رہے، لیکن یہ جنگ ختم ہونے کے بجائے طول پکڑتی گئی۔ بالآخر چالیس دنوں پر مشتمل ایک خونریز، طویل اور تھکا دینے والی جنگ کے بعد 8 اپریل 2026ء کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ اس دوران پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 11 اور 12 اپریل 2026ء کو تقریباً 21 گھنٹوں پر مشتمل طویل مذاکرات بھی ہوئے، جو کسی نتیجے اور اتفاق کے بغیر ختم ہوگئے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کے محاصرے کا حکم دے دیا ہے، اور سمندری علاقوں میں امریکہ کے پندرہ بحری بیڑے تعینات ہوچکے ہیں۔

بہر حال، یہ ایک نہایت وسیع اور پیچیدہ موضوع ہے، جس کے مختلف پہلوؤں پر سینکڑوں صفحات میں گفتگو کی جاسکتی ہے اور ایک ضخیم کتاب مرتب کی جاسکتی ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس مختصر اداریے میں ان تمام جہات کا احاطہ ممکن نہیں، اور نہ ہی یہ اس کا مقصد ہے۔ لہٰذا یہاں صرف چند بنیادی اور اہم نکات پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔

بقول شاعرِ مشرق علامہ اقبال:

اَوروں کا ہے پیام اور، میرا پیام اور ہے****عشق کے درد مند کا طرزِ کلام اور ہے

پہلا نکتہ:

جس کا جاننا ہم سب کے لیے نہایت ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ اس وقت امتِ مسلمہ اپنی تاریخ کے ایک انتہائی نازک، کمزور اور زوال آمادہ دور سے گزر رہی ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں شاید ہی کبھی یہ امت اتنی بے بس، لاچار اور منتشر رہی ہو جتنی آج ہے۔

اس کے بے شمار اسباب و عوامل ہیں، لیکن ان میں ایک بنیادی سبب اس کی سیاسی اور مذہبی تقسیم در تقسیم ہے، جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ سیاسی طور پر امت تقریباً 57 ممالک میں بٹی ہوئی ہے، جبکہ دینی و مذہبی اعتبار سے اس سے بھی زیادہ، یعنی تقریباً 72 فرقوں اور جماعتوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی یہ امت انتہائی پسماندہ ہے۔(مزید تفصیل کے لیے  میرا مضمون: مسئلہ فلسطین اور غلام کوڑا کرکٹ مسلمان قوم ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔)

مزید برآں، جس چیز نے اس امت کو سب سے زیادہ کمزور کیا اور اس کے ناتواں جسم کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی، وہ 1924ء میں دشمنانِ اسلام کے ہاتھوں امامتِ عظمیٰ، یعنی خلافت کا خاتمہ تھا۔ ایک صدی گزر جانے کے باوجود امت اسے دوبارہ بحال نہیں کرسکی۔

اسی کا نتیجہ ہے کہ اب ہر ملک اور اس کے حکمران صرف اپنے قومی، سیاسی اور معاشی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ امت کے اجتماعی مفادات کو نظر انداز کردیا گیا ہے، بلکہ عملاً فراموش کیا جاچکا ہے۔ کوئی بھی ملک انہیں ترجیح دینے کے لیے آمادہ نہیں۔

دوسرا نکتہ:

دشمنانِ اسلام نے امت کی اسی کمزوری اور انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں، یہودی ریاست اسرائیل کو قائم کیا۔ نہ صرف اسے قائم کیا گیا بلکہ اسے ہر قسم کی سیاسی، معاشی، عسکری اور سفارتی حمایت فراہم کی گئی، جو آج بھی جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کا وجود برقرار ہے۔(مزید تفصیل کے لیے میرا مضمون: اسرائیل کا ناپاک وجود: عالمی سپر پاورز کا شاخسانہ) مطالعہ كىجىے ۔

یہ ریاست خطے کے ممالک کے لیے مستقل دردِ سر بنی ہوئی ہے اور روزانہ نئے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسرائیل خود کو خطے کے ممالک کے لیے خطرہ ظاہر کرتا ہے، جبکہ اس کے اپنے توسیع پسندانہ مذہبی نظریات (اسرائیلِ عظمیٰ) درحقیقت پورے خطے کے لیے ایک مستقل خطرہ ہیں۔

بلاشبہ اسرائیل نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک ناسور کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک جارح ریاست ہے اور عالمی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ جب تک اس کا وجود باقی ہے، دنیا خصوصاً اس خطے میں حقیقی امن کا قیام تقریباً ناممکن ہے۔

حالیہ جنگ کے پس منظر میں بھی اسرائیل کا کردار نمایاں ہے، جس نے امریکی صدر Donald Trump کو ایران پر حملے کے لیے آمادہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اگرچہ اسرائیل گزشتہ چالیس برسوں سے امریکہ کو ایران کے خلاف کارروائی پر اکساتا رہا ہے، لیکن اسے اس سے پہلے کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔

تیسرا نکتہ:

تاریخ کے مختلف ادوار میں عموماً دنیا میں دو بڑی طاقتوں (سپر پاورز) کا وجود رہا ہے، جس سے ایک قسم کا عالمی توازن قائم رہتا تھا۔ لیکن موجودہ دور میں دنیا عملاً یک قطبی ہوچکی ہے اور امریکہ واحد سپر پاور کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس صورت حال نے عالمی توازن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نتیجتاً امریکہ اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کر رہا ہے اور اپنی طاقت کے بل پر دنیا بھر میں مداخلت کر رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس کی متعدد مثالیں سامنے آئی ہیں، جن سے اس کی بالادستی اور جارحانہ پالیسی واضح ہوتی ہے۔

یہ طرزِ عمل کسی حد تک برصغیر میں برطانوی سامراجىت  کے دور سے مشابہ ہے، جب وہ ریاستیں جو برطانوی شرائط کو تسلیم کرلیتی تھیں، محفوظ رہتی تھیں، اور جو مزاحمت کرتی تھیں، انہیں بزور طاقت زیر کرلیا جاتا تھا۔

آج بھی کمزور ممالک کی تقریباً یہی حالت ہے۔ جو ممالک امریکہ کی اطاعت قبول کرلیتے ہیں، وہ محفوظ رہتے ہیں، جبکہ جو اس کی مخالفت کرتے ہیں، وہ اس کے عتاب کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایران بھی اسی بنا پر نشانے پر آیا، کیونکہ اس نے امریکی مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔

بلاشبہ یہ طرزِ عمل بین الاقوامی قوانین، اخلاقی اصولوں اور انسانی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔

مزید اہم پہلو:

اس جنگ میں ایران نے جس جرات، شجاعت ، استقامت اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا، وہ غیر معمولی تھا۔ اس نے یہ ثابت کردیا کہ ایک نسبتاً کمزور ملک بھی عزم، خود اعتمادی اور مضبوط دفاعی صلاحیتوں کے ذریعے بڑی طاقتوں کا مقابلہ کرسکتا ہے۔

اسی طرح ایران کی ایک بڑی کامیابی یہ بھی ہے کہ اس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے عائد سخت اقتصادی، عسکری اور تکنیکی پابندیوں کے باوجود خود کو سنبھالا اور بتدریج  اسلحہ سازى مىں خود کفالت کی راہ اختیار کی۔

1979ء کے بعد سے ایران پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد ہیں، جن میں تیل کی برآمدات، بین الاقوامی بینکاری نظام تک رسائی، جدید ٹیکنالوجی، اور اسلحہ کی خرید و فروخت شامل ہیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں اگرچہ اس کی معیشت متاثر ہوئی، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا، لیکن دوسری طرف اس نے دفاعی میدان میں نمایاں ترقی حاصل کی۔

ایران نے میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی میں خود کفالت حاصل کرلی ہے، اور اس کے تیار کردہ بعض میزائل چار ہزار کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نیز اسے غیر روایتی جنگ (Asymmetric Warfare) میں بھی مہارت حاصل ہوچکی ہے۔

یہ بلاشبہ ایک بڑی کامیابی ہے، اور اسی بنیاد پر وہ اس جنگ میں ایک بڑی طاقت کے سامنے ڈٹنے میں کامیاب ہوا۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ سنی، خصوصاً خلیجی ممالک، اس طرز کی خود کفالت کیوں حاصل نہیں کرسکے؟ کیا وہ کسی دباؤ کا شکار ہیں، یا محض سیاسی مصلحتوں نے انہیں اس راستے سے دور رکھا ہے؟

اس جنگ کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی رہی کہ امریکہ اس معاملے میں عالمی سطح پر کافی حد تک تنہا دکھائی دیا۔ چند ممالک کے علاوہ کسی نے اس کا کھل کر ساتھ نہیں دیا، حتیٰ کہ یورپی اور نیٹو ممالک نے بھی براہِ راست شمولیت سے گریز کیا۔

بدقسمتی سے اس معاملے میں ہمارے ملک انڈىا  کا موقف بھی خاصا مایوس کن رہا، جس کی بنیادی وجہ اس کی  "ہندوتوا" كى داخلی نظریاتی اور سیاسی ترجیحات ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اس جنگ میں ایک معتدل اسلامی موقف کیا ہے اور اس کا معیار و پیمانہ کیا ہونا چاہیے؟

واضح رہے کہ اس جنگ میں ایران مظلوم ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل سراسر ظالم اور جارح ہیں۔ ایران نہ اس جنگ کا آغاز کرنے والا ہے اور نہ ہی وہ حملہ آور ہے، بلکہ مذکورہ دونوں ممالک نے اسے دو مرتبہ دھوکا دیا، اور دونوں ہی مواقع پر اس وقت حملہ کیا جب باہمی مذاکرات جاری تھے اور ایران ان کی شرائط ماننے کے لیے آمادہ تھا۔ ان حقائق میں ذرہ برابر بھی شبہ کی گنجائش نہیں۔

لیکن اسرائیل کو امن و استحکام کبھی بھی منظور نہیں رہا، اور نہ اب ہے۔ وہ انسانیت کا دشمن، امن کا مخالف، اور خونریزی کا عادی ہے۔ قتل و غارت گری اس کا وطیرہ بن چکی ہے۔ وہ خود کو مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی طاقت سمجھتا ہے، لہٰذا وہ کیسے گوارا کرسکتا ہے کہ خطے کا کوئی دوسرا ملک اس کے برابر طاقت حاصل کرے اور ایٹمی صلاحیت کے ذریعے اس کے وجود کو چیلنج کرے؟

چنانچہ اسی ذہنیت کے تحت ایران پر یہ ظالمانہ اور وحشیانہ حملہ کیا گیا، جس میں نہ صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا بلکہ اسکولوں، اسپتالوں اور شہری آبادیوں پر بھی بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں شدید جانی و مالی نقصان ہوا۔

بلاشبہ ایران پر یہ جنگ مسلط کرنا ہر قسم کے اخلاقی، انسانی، قومی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ ایک خودمختار ریاست کی آزادی، خودمختاری اور سالمیت پر صریح حملہ ہے۔ آخر امریکہ کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ دنیا میں بالادستی قائم کرے، دیگر ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کرے، اور انہیں طاقت کے زور پر اپنے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرے؟

لہٰذا اس جنگ میں ایران کے مظلوم ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔

دوسری طرف ایران ایک شیعہ اکثریتی ملک ہے اور اس کی حکومت بھی شیعہ فرقہ سے تعلق رکھتی ہے۔اس امر مىں كوئى شك نہىں ہے كہ  اكثر شىعہ اسلام و مسلمانوں كے ازلى و ابدى دشمن ہىں ، انہوں نے ہمىشہ اسلام و مسلمان مخالف طاقتوں كا ساتھ دىا ہے ، ان سے كسى خىر كى توقع ركھنا بىكار ہے ۔ اس حوالے سے ہمارے شدىد  فکری و مذہبی اختلافات اپنی جگہ واضح ہیں، اور اس موضوع پر متعدد مضامین پہلے بھی تحریر کیے جاچکے ہیں، جن میں اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی ہے مثلا:  شیعہ : اسلام اور مسلمانوں کے ازلی دشمن ،  ایران و عراق میں صفوی سلطنت کے مظالم  کی مختصر داستان، غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم ( دو قسطوں مىں ) ، ایران اسرائیل جنگ کے مختلف زاویوں پر ایک نظر، اور چہرہ بے نقاب ہوگىا وغىرہ ۔ ىہ سب مضامىن ہمارے وىب سائٹ پر  موجود ہىں جن كو قارئىن كرام  گوگل پر بآسانى سرچ كركے پڑھ سكتے ہىں ۔

لیکن ان تمام اختلافات کے باوجود ہمارا موقف وہی ہے جس کی تعلیم اسلام دیتا ہے، اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہے—جیسا کہ اس شمارے کے “تدبرِ قرآن” میں بعنوان اسلام میں عدل و انصاف بیان کیا گیا ہے—کہ ایک مسلمان کو ہر حال میں مظلوم کا ساتھ دینا چاہیے، خواہ وہ مظلوم کافر ہو یا بدعتی، اور خواہ اس نے ماضی میں ہمارے ساتھ زیادتی ہی کیوں نہ کی ہو۔

اسی طرح ہر حال میں ظالم کی مذمت کرنا ضروری ہے، اور اس کا ساتھ دینا یا ایسا طرزِ بیان اختیار کرنا جس سے اس کی تائید کا پہلو نکلتا ہو، ہرگز درست نہیں۔

یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اگرچہ ہم ایران اور شیعہ مسلک کے بارے میں اپنا ایک مخصوص موقف رکھتے ہیں، لیکن دنیا کے اکثر مسلمان ایران کو ایک مسلم ملک ہی سمجھتے ہیں۔ حتیٰ کہ عالمی سطح پر بھی اسے ایک اسلامی ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایران اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کا رکن ہے، اس کے شہریوں کو حج و عمرہ کی اجازت ہے، اور اس کی شناخت بھی عمومی طور پر ایک مسلم ریاست کے طور پر ہی کی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ اس پر حملے کی ایک اہم وجہ اس کا نام نہاد اسلامی انقلاب بھی قرار دیا جاتا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب عالمی طاقتیں کسی ملک پر حملہ کرتی ہیں تو وہ اس کے مسلک یا فرقے کو نہیں دیکھتیں۔ىہاں اىك اہم سوال  اور بھى ہے كہ اگر جنگ كرنے والى دونوں قومىں كافر ہىں تو كىا ہمارى ہمدردى  مظلوم كے ساتھ نہىں ہوگى ىا ہم ظالم كے ساتھ ہوں گے؟

لہٰذا اس جنگ میں ہم  صرف اور صرف سیاسی اعتبار سے واضح طور پر ایران کے حق میں کھڑے ہیں، اس کی حمایت کرتے ہیں، اور امریکہ و اسرائیل کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ ہم اس حملے کو نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

ساتھ ہی ہم ایران کی جانب سے اپنے ہمسایہ خلیجی ممالک پر کسی بھی قسم کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، خواہ اس کے پس منظر میں کوئی بھی جواز پیش کیا جائے۔ اصولی طور پر اگر کوئی ملک براہِ راست حملے کا شکار ہو تو اسے دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے، لیکن وسیع پیمانے پر یا تیسرے ممالک میں حملے عموماً تنازعہ کو مزید بڑھاتے ہیں اور نقصان میں اضافہ کرتے ہیں۔

یہی  اس معاملے مىں ایک معتدل، متوازن اور اصولی اسلامی موقف ہے، جو افراط و تفریط سے پاک ہے، اور جس کا معیار حق و باطل اور ظالم و مظلوم کی تمیز پر قائم ہے۔ یہی ہر مسلمان کا موقف ہونا چاہیے۔

آخری بات

اب آخر میں ایک اہم نکتہ ذکر کرکے اس اداریے کو ختم کیا جاتا ہے، کیونکہ اس سے زیادہ طوالت کی گنجائش نہیں رہی، اور یہ بات اس مجلے میں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ کہی جاچکی ہے:

کیا ہم اپنے گریبان میں جھانکنے کے لیے تیار ہیں؟

جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، موجودہ دور میں امتِ مسلمہ انتہائی کمزور اور بے بس ہوچکی ہے، خصوصاً سائنس، ٹیکنالوجی اور دفاعی میدان میں۔ حالانکہ ان ممالک کے پاس وسائل، افرادی قوت، سرمایہ اور ذہانت—ہر چیز وافر مقدار میں موجود ہے، اور ترقی کے تمام امکانات بھی موجود ہیں۔

لیکن افسوس کہ آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم عمل کے بجائے صرف شکایت کرتے ہیں، روتے ہیں، دشمنوں کو کوستے ہیں، اور ان کے مظالم کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں، مگر ان کے مقابلے کے لیے عملی اقدامات نہیں کرتے۔

سوال یہ ہے کہ ایک دشمن اپنے دشمن کے ساتھ کیا کرتا ہے؟ جب ہم خود تسلیم کرتے ہیں کہ اىران اور دىگر  عالمی طاقتیں ہمارے دشمن ہیں، تو وہ وہی کر رہی ہیں جو ایک دشمن ہمیشہ کرتا آیا ہے۔ تاریخ اس پر گواہ ہے۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ہم اپنے دفاع کے لیے کیوں کھڑے نہیں ہوتے؟

ہم اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی سنجیدہ کوشش کیوں نہیں کرتے؟

اگر ہماری پسماندگی اور کمزوری ہی اس کی اصل وجہ ہے—اور یقیناً یہی حقیقت ہے—تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی خامیوں کا جائزہ لیں، ان کی اصلاح کریں، اور ہر میدان میں خود کفالت حاصل کریں۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ اگر ایران جیسے ملک نے شدید پابندیوں کے باوجود دفاعی میدان میں نمایاں ترقی کرلی، تو دیگر مسلم ممالک ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟ہم باہمی اتحاد کیوں قائم نہیں کرتے؟ ہم سائنس و ٹیکنالوجی میں آگے کیوں نہیں بڑھتے؟ ہم  ظالم و ظلم كى مدافعت كے لىے ضرورى  جنگى و دفاعى طاقت تىار كىوں نہىں كرتے جىسا كہ اللہ كا حكم ہے: و أعدوا لہم ماستطعتم من قوة .....(انفال/60)

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود احتسابی کریں، اپنی کمزوریوں کو پہچانیں، اور انہیں دور کریں۔ ورنہ ہم اسی طرح ذلت و پسماندگی کی زندگی گزارتے رہیں گے۔

یاد رکھیں! ظلم کا مقابلہ صرف طاقت سے کیا جاسکتا ہے۔ ظالم صرف قوت کی زبان سمجھتا ہے—یہ ایک اٹل حقیقت ہے، جس کی گواہی تاریخ بھی دیتی ہے۔

آخر میں سوال یہی ہے:کیا ہم اپنا محاسبہ کریں گے؟ اور اگر کریں گے تو کب؟

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ عارضی جنگ بندی مستقل امن کا ذریعہ بنے، دنیا کو جنگ و جدال سے نجات ملے، اور انسانیت ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو۔ نیز مسلم حکمرانوں اور علماء کو بیداری نصیب ہو۔آمین۔
وما علینا إلا البلاغ، وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: