سازگار ماحولیات:
اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت
Please visit: islahotaraqqi.com
أبو میمونہ
آیات: ﴿وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا
لِلْأَنَامِ ﴾ ﴿فِيهَا
فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ﴾
﴿وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ
﴾﴿فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴾ (الرحمن: 10-13)
ترجمہ:اور زمین کو اس نے مخلوقات کے لیے بنایا اور تیار کیا،
جس میں پھل ہیں، غلافوں والی کھجوریں ہیں، بھوسے والے اناج ہیں اور خوشبودار پودے
یا رزق ہے۔ پس اے جن و انس! تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
معانیِ کلمات:
وَضَعَ:عربی زبان میں اس لفظ کے کئی معانی ہیں، جن میں سے ایک
معنی بنانا اور تیار کرنا ہے۔ بولا جاتا ہے: وضعت
الأسئلة یعنی میں نے سوالات تیار کر لیے۔ اس کے ساتھ مربوط لفظ کے اعتبار سے اس کا
معنی بدلتا رہتا ہے، مثلاً: وضع عنقه یعنی اس کی گردن مار دی،
وضعت الحرب أوزارها یعنی جنگ ختم ہوگئی۔
أنام:اس سے مراد زمین پر موجود تمام مخلوقات ہیں، اور اس میں
جن بھی شامل ہو سکتے ہیں، لیکن یہ عموماً انسان کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ اسمِ
جمع ہے جس کا اس کے اپنے لفظ سے کوئی واحد نہیں۔
فاكھۃ:ان پھلوں کو کہتے ہیں جنہیں انسان بطورِ لذت اور تفریح
کھاتا ہے، نہ کہ مستقل غذا کے طور پر۔ یہ لفظ فکہ سے ماخوذ ہے اور فاکہ کا مؤنث ہے، جس کے معنی ہیں: کسی چیز سے لطف
اندوز ہونا، لذت حاصل کرنا، خوشی پانا اور فائدہ اٹھانا۔ اس کی جمع فواکہ ہے۔
أكمام:یہ كِمّ (ک پر کسرہ) کی جمع ہے، جس سے مراد وہ غلاف ہے
جس میں پھل نکلنے سے پہلے شگوفہ یا گابھا بند ہوتا ہے۔
حب:اس سے مراد ہر وہ خوراک ہے جو انسان اور جانور کھاتے
ہیں۔ خشک ہو کر اس کا پودا بھوسا بن جاتا ہے جو جانوروں کے کام آتا ہے۔ اس کی جمع
حبوب، حِبّان اور حبّات آتی ہے۔ اس کا ایک معنی دانہ بھی ہے۔
عصف:چھلکا یا بھوسا جو دانے کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسے عصف اس
لیے کہا جاتا ہے کہ ہوا اسے ہلکے پن کی وجہ سے اڑا دیتی ہے۔ یا اس سے مراد سوکھے
ہوئے پتے ہیں۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿فَجَعَلَهُمْ
كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ﴾
"پھر
اس نے انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی مانند کر دیا۔"
ريحان:اس سے مراد ہر خوشبودار پودا ہے، اور ایک قول کے مطابق
اس سے مراد رزق ہے۔ اس کی جمع ریاحین اور مفرد ریحانہ ہے۔
آلاء: یہ إلى (ہمزہ کے کسرہ اور فتحہ
دونوں کے ساتھ پڑھا جاتا ہے اور لام ساکن
ہے ) و ألو کی جمع ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ نعمتوں کے ہیں۔(معجم
المعاني، الوسيط للطنطاوي، مصباح اللغات)
تفسیر:
آئیے پہلے ان آیات
کی مختصر تفسیر جانتے ہیں، پھر ان کی روشنی میں موضوع کی وضاحت کی جائے گی۔
یہ آیات اللہ
تعالیٰ کی زمینی نعمتوں کے بعض مظاہر کو بیان کرتی ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا
فرمان ہے:﴿وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ﴾"اور زمین کو اس نے تمام مخلوقات کے لیے
بنایا۔"
"الأنام"
سے مراد مختلف رنگوں، شکلوں اور زبانوں والی مخلوقات ہیں، جو زمین کے مختلف علاقوں
اور راستوں میں زندگی بسر کرتی ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس شاندار، بے
مثال اور حکمت بھرے نظام پر قائم کیا تاکہ تمام لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں، کیونکہ
اسے اس ہموار اور بچھے ہوئے انداز پر پیدا کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان اس میں
موجود خزانوں اور خیرات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس پر ایک جگہ سے دوسری جگہ آمد و
رفت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا:"
ہو الذی خلق لکم ما فی الأرض جمیعا (بقرہ/29)وہی ہے جس نے زمین
کی تمام چیزیں تمہارے لیے پیدا کیں۔"(الوسيط
للطنطاوي)
علامہ سعدیؒ نے اس
آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ زمین کو اللہ تعالیٰ نے اسی حالت پر رکھا جس پر وہ
اپنی کثافت، استحکام اور مختلف اوصاف و احوال کے ساتھ ہے، تمام مخلوقات کے لیے؛
یعنی مخلوق کی خاطر، تاکہ وہ اس پر سکونت اختیار کریں اور یہ ان کے لیے گہوارہ اور
فرش بنے۔ وہ اس پر عمارتیں تعمیر کریں، کھیتی باڑی کریں، درخت لگائیں، کنویں
کھودیں، اس کے کشادہ راستوں پر چلیں اور اس کے معدنی خزانوں اور ان تمام چیزوں سے
فائدہ اٹھائیں جن کی انہیں ضرورت بلکہ ناگزیر حاجت ہے۔(تفسیر سعدی)
پھر اللہ تعالیٰ
نے ان بعض ضروری غذاؤں، نعمتوں اور خیرات کا ذکر فرمایا جو زمین میں موجود ہیں،
چنانچہ ارشاد فرمایا:"اس میں پھل ہیں"یعنی ہر وہ درخت جو ایسے پھل پیدا کرتا ہے
جن سے بندے لطف اندوز ہوتے ہیں، جیسے انگور، انجیر، انار، سیب اور دیگر پھل۔
﴿وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ﴾"اور کھجور کے وہ درخت جن کے خوشوں پر غلاف
چڑھے ہوتے ہیں۔"
یعنی کھجور کے
ایسے درخت جن کے غلافوں (چھلکوں) کے اندر سے خوشے نکلتے ہیں۔ یہ خوشے بتدریج
نشوونما پاتے ہیں اور آہستہ آہستہ مکمل ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ ان میں پھل تیار
ہو جاتا ہے۔
پھر یہی کھجور
انسانوں کی غذا بنتی ہے، اسے تازہ بھی کھایا جاتا ہے اور ذخیرہ بھی کیا جاتا ہے۔
مقیم اور مسافر دونوں اس سے زادِ راہ حاصل کرتے ہیں، اور یہ نہایت لذیذ پھل ہے جو
بہترین اور عمدہ پھلوں میں شمار ہوتا ہے۔
(تفسیر سعدی)
﴿وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ ﴾اور بھوسے والے دانے ہیں"یعنی ایسے غلے جن کے ساتھ تنکے اور ڈنٹھل
ہوتے ہیں، جن سے بھوسا حاصل ہوتا ہے اور وہ مویشیوں اور دیگر ضرورتوں میں کام آتا
ہے۔ اس میں گندم، جو، مکئی، چاول، باجرا اور دیگر تمام غلے شامل ہیں۔
﴿ وَالرَّيْحَانُ ﴾ "اور ریحان ہے"مفسر
فرماتے ہیں کہ "ریحان" کے معنی میں دو احتمال ہیں:
پہلا احتمال: اس سے مراد انسانوں کے کھانے پینے کی تمام اقسامِ رزق
ہوں۔ اس صورت میں یہ عام کو خاص پر عطف کرنے کی مثال ہوگی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے
پہلے بعض مخصوص نعمتوں کا ذکر فرمایا، پھر "ریحان" کے لفظ کے ذریعے تمام
اقسامِ رزق کو شامل کر لیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر عمومی اور خصوصی
دونوں طرح کی روزی اور خوراک کی نعمت کا احسان جتلایا ہے۔
دوسرا احتمال: "ریحان" سے مراد وہی معروف
خوشبودار پودا (ریحان، نازبو، خوشبودار سبزہ) ہو۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ اپنے
بندوں کو اس نعمت کی یاد دلا رہے ہیں کہ اس نے زمین میں طرح طرح کی خوشبودار
نباتات، عمدہ مہکیں اور دل آویز خوشبوئیں پیدا فرمائی ہیں، جو روح کو فرحت بخشتی
ہیں اور دل و دماغ کو شاداب و مسرور کر دیتی ہیں۔
(تفسیر سعدی)
بلاشبہ اللہ
تعالیٰ نے ان آیات میں اپنی نعمتوں کی متعدد اقسام کا ذکر فرمایا ہے: زمین میں پھل
پیدا کیے تاکہ انسان ان سے لطف اندوز ہوں، غلے پیدا کیے تاکہ وہ غذا کا ذریعہ
بنیں، اور خوشبودار پودے پیدا کیے جو زندگی میں تازگی، شادابی اور خوشگواری پیدا
کرتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ
نے ان نعمتوں کے بیان کے بعد فرمایا:﴿فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا
تُكَذِّبَانِ﴾یعنی: "پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟"
یہاں خطاب جن و
انس دونوں مکلف مخلوقات سے ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے تمام انسان مراد ہیں، خواہ
مومن ہوں یا کافر۔ مطلب یہ ہے کہ اے جن و انس کی جماعت! تم اپنے رب کی ان بے شمار
نعمتوں میں سے کس کس نعمت یعنی اس کے فضل و احسان کا انکار کرو گے؟ حالانکہ ان میں
سے ہر نعمت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو، اس کی عظمت
کے سامنے جھکو اور خالص اسی کی عبادت بجا لاؤ۔(الوسيط للطنطاوى)
جب اللہ تعالیٰ نے
اپنی ان بے شمار نعمتوں کا ذکر فرمایا جنہیں آنکھیں بھی دیکھتی ہیں اور عقلیں بھی
پہچانتی ہیں، اور خطاب چونکہ دونوں بوجھ اٹھانے والی مخلوقات، یعنی انسانوں اور
جنوں سے تھا، اس لیے انہیں اپنی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے فرمایا:"پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو
جھٹلاؤ گے؟"
یعنی تم اللہ
تعالیٰ کی دینی اور دنیاوی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کا انکار کرو گے؟
اور جنات کا جواب
کتنا خوبصورت تھا جب نبی کریم ﷺ نے ان کے سامنے یہ سورت تلاوت فرمائی۔ آپ ﷺ جب بھی
اس آیت:﴿فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا
تُكَذِّبَانِ﴾پر پہنچتے تو وہ عرض کرتے:
"اے
ہمارے رب! ہم تیری کسی بھی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تمام تعریفیں تیرے ہی لیے
ہیں۔"
لہٰذا بندے کو بھی
یہی رویہ اختیار کرنا چاہیے کہ جب اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور احسانات
کا ذکر کیا جائے تو وہ ان کا اقرار کرے، ان پر شکر ادا کرے اور اللہ تعالیٰ کی حمد
و ثنا بجا لائے۔(تفسیر
سعدی)
علامہ جملؒ کے قول
کا خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت کو سورۂ رحمٰن میں اکتیس مرتبہ اس لیے دہرایا گیا ہے
تاکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اقرار کرایا جائے، ان سے نصیحت حاصل کرنے کی تاکید
کی جائے اور بندوں کے دلوں میں ان کا احساس تازہ کیا جائے۔
اس کی مثال ایسی
ہے جیسے کوئی شخص کسی احسان فراموش انسان سے کہے: کیا تم محتاج نہ تھے، پھر میں نے
تمہیں مال دار نہیں بنایا؟ کیا تم اس احسان کا انکار کرتے ہو؟ کیا تم ننگے نہ تھے،
پھر میں نے تمہیں لباس نہیں پہنایا؟ کیا تم اس نعمت کا بھی انکار کرتے ہو؟
اسی طرح وہ اپنے
احسانات کو یکے بعد دیگرے شمار کراتا اور ہر نعمت کے بعد اس کے اقرار کا مطالبہ
کرتا ہے۔
اس قسم کا اسلوب
عربوں کے کلام میں معروف اور رائج ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اپنے
بندوں پر ہونے والی گوناگوں نعمتوں کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا، پھر ہر نعمت یا
نعمتوں کے ایک مجموعے کے بعد ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَبِأَيِّ
آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴾"پس اے جن و انس!
تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟"
یعنی جب تمہارے
اردگرد اور تمہاری ذات میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں نمایاں ہیں تو پھر ان
میں سے کس کس نعمت کا انکار کر سکتے ہو؟ یہ استفہام درحقیقت انکار، توبیخ اور
نعمتوں کے اقرار پر ابھارنے کے لیے ہے۔(الوسيط للطنطاوى)
اب مذکورہ بالا
موضوع "سازگار ماحولیات:
اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت" کی وضاحت کی جاتی
ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس
کائنات کو انتہائی حکمت، توازن، حسن اور سازگار ماحول کے ساتھ تخلیق فرمایا ہے۔
زمین، آسمان، پہاڑ، دریا، جنگلات، نباتات اور بے شمار مخلوقات پر مشتمل یہ وسیع
نظامِ کائنات درحقیقت انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔
قرآنِ کریم بار بار انسان کو ان نعمتوں پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، تاکہ وہ
اپنے رب کی معرفت حاصل کرے اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرے۔
اسی لیے جب اللہ
سبحانہ وتعالیٰ نے زمین کو بنایا اور ارادہ فرمایا کہ انسان اور دیگر مخلوقات کو
پیدا کرکے زمین پر آباد کرے تو اس نے اس زمین کا ماحول تمام مخلوقات، خصوصاً
انسانوں کے لیے انتہائی سازگار بنایا، تاکہ وہ یہاں زندگی گزار سکیں اور انسانی
تخلیق کے مقاصد، جیسے زمین کو آباد کرنا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت وغیرہ، اچھی طرح
انجام دے سکیں۔
بنا بریں انسان
اور تمام مخلوقات کو جس چیز کی جتنی زیادہ ضرورت تھی، اللہ تعالیٰ نے اسے اسی قدر
وافر اور کثیر مقدار میں مہیا فرمایا۔ مثلاً کسی بھی مخلوق کے زندہ رہنے کے لیے سب
سے زیادہ ضروری چیز ہوا ہے۔ کوئی بھی مخلوق ہوا کے بغیر چند منٹ بھی زندہ نہیں رہ
سکتی۔ لہٰذا ہوا سب سے زیادہ مقدار میں زمین پر موجود ہے، حتیٰ کہ پانی میں بھی
آکسیجن کی صورت میں کافی مقدار میں موجود ہے۔(راقم)
ہوا میں آکسیجن (O₂)
کی
مقدار تقریباً 21 فیصد ہے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی مقدار زمین پر زیادہ تر
جانداروں کے لیے زندگی قائم رکھنے کے لیے موزوں ہے۔ اگر یہ بہت کم ہو جائے تو سانس
لینے میں دشواری ہوگی، اور اگر بہت زیادہ بڑھ جائے تو آگ لگنے کا خطرہ بہت بڑھ
جائے گا۔
اور آکسیجن زمین
پر ہمیشہ موجود رہے اور اس کا توازن بگڑنے نہ پائے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے
جنگلات بنائے اور پیڑ پودے اگائے، جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن
خارج کرتے ہیں۔ اس طرح ہوا مسلسل صاف اور تازہ رہتی ہے اور اس میں آکسیجن کی کمی
نہیں ہوتی۔
یہ امر باعثِ تعجب
ہے کہ ہماری زمین پر جنگلات کا کل رقبہ تقریباً 40.6 ملین مربع کلومیٹر، یا
تقریباً 4.06 ارب ہیکٹر ہے، جو زمین کی خشکی کے تقریباً 31 فیصد حصے پر پھیلا ہوا
ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا جنگل ایمیزون رین فاریسٹ (Amazon
Rainforest) ہے۔(چیٹ
جی پی ٹی)
بلاشبہ ان جنگلات
اور پیڑ پودوں کا آکسیجن یعنی صاف ستھری ہوا کی مقدار کو برقرار رکھنے، کاربن ڈائی
آکسائیڈ کو جذب کرنے اور ماحول کو سازگار بنانے میں بہت اہم کردار ہے۔ اس کے علاوہ
یہ جنگلات انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے خوراک اور غذا بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ
بارش کا ایک اہم سبب ہیں اور حرارت میں اضافے کو روکنے میں معاون ہوتے ہیں۔
آج دنیا موسمیاتی
تبدیلیوں، خصوصاً حرارت میں اضافے سے پریشان ہے، جس کی ایک بڑی وجہ جنگلات کی بڑے
پیمانے پر کٹائی ہے۔
اس کے علاوہ انسان
اور دیگر مخلوقات کے لیے پانی انتہائی ضروری ہے۔ پانی کے بغیر بھی زندگی کا تصور
محال ہے، کیونکہ ہر چیز کی تخلیق میں پانی کا بہت اہم حصہ ہے۔ خود انسان کے جسم
میں پانی تقریباً 76 فیصد تک پایا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ انسان
کی روزمرہ زندگی میں چوبیس گھنٹے پانی کا استعمال ہوتا ہے۔ کھانا بنانے سے لے کر
فیکٹریوں تک، بجلی پیدا کرنے سے گھر اور دفتر کی صفائی تک، ہر جگہ پانی استعمال
ہوتا ہے۔
اسی لیے اللہ
تعالیٰ نے پانی کو بھی انتہائی زیادہ مقدار میں پیدا فرمایا ہے۔ سمندروں کے علاوہ
تالاب، دریا، جھیلیں وغیرہ قدرت کے شاہکار ہیں۔ ہماری زمین کا تقریباً 71 فیصد حصہ
پانی اور 29 فیصد حصہ خشکی پر مشتمل ہے۔
اسی سے اندازہ
ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی کو کس قدر وافر مقدار میں پیدا کیا ہے۔ اس کے
علاوہ انسانوں، حیوانات اور درختوں کی پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اللہ
تعالیٰ نے زمین کے اندر بھی کافی مقدار میں پانی مہیا کیا ہے، تاکہ پانی پر منحصر
مخلوقات کو پریشانی نہ ہو اور ضرورت کے وقت زمین سے پانی حاصل کیا جا سکے۔
یہ انسان اور تمام
مخلوقات کے لیے ماحول کو سازگار بنانے میں اللہ تعالیٰ کی زبردست کاریگری اور
بہترین انتظام کی ایک مثال ہے۔(راقم)
اس کے علاوہ اللہ
تعالیٰ نے زمین پر پہاڑ بنائے۔ اور یہ جان کر ہم سب کو تعجب ہوگا کہ دنیا کی خشکی
کا تقریباً 22 سے 24 فیصد حصہ پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے، یعنی تقریباً 33 سے 36
ملین مربع کلومیٹر۔(چیٹ جی پی ٹی)
ان پہاڑوں کی
تخلیق کے بہت سے مقاصد ہیں، جن میں سے ایک عظیم مقصد کا ذکر خود اللہ تعالیٰ نے
قرآن مجید میں فرمایا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:﴿وَأَلْقَىٰ
فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ﴾(النحل: 15)
یعنی: "اور
اس نے زمین میں مضبوط پہاڑ گاڑ دیے تاکہ وہ تمہیں لے کر حرکت نہ کرے۔"
کیونکہ اگر زمین
مسلسل ہلتی رہتی تو اس پر سکونت ممکن ہی نہ ہوتی۔
جغرافیائی مطالعہ
بتاتا ہے کہ زمین میں جب گہرائیاں پیدا ہوئیں اور ان میں پانی جمع ہو کر سمندر بنے
تو زمین میں اضطراب پیدا ہوا۔ اس کے بعد خشکی پر اونچے پہاڑ ابھر آئے۔ اس طرح دو
طرفہ عمل کے نتیجے میں زمین پر توازن قائم ہوگیا۔ اگر زمین کی سطح پر یہ توازن نہ ہوتا
تو انسان کے لیے یہاں زندگی ناممکن یا کم از کم سخت دشوار ہو جاتی۔
(تذکیر القرآن)
اس طرح اللہ
تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت سے زمین اور ماحول کو تمام مخلوقات کے لیے سازگار بنایا۔
یہ پہاڑ صرف زمین
کی خوبصورتی کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی زندگی اور ماحول کے لیے بھی بہت اہم کردار
ادا کرتے ہیں۔ قرآن میں بھی پہاڑوں کا ذکر زمین کے نظام میں ایک اہم نعمت کے طور
پر آیا ہے۔
سائنسی اعتبار سے
پہاڑوں کے چند بڑے فوائد یہ ہیں:
1۔
بارش اور موسم پر اثر: پہاڑ بادلوں کو
روک کر بارش کا سبب بنتے ہیں۔ سمندروں سے آنے والی نمی پہاڑوں سے ٹکرا کر اوپر
اٹھتی ہے اور بارش یا برف کی شکل میں گرتی ہے۔
2۔
پانی کے ذخیرے:دنیا کے بڑے
دریاؤں کا آغاز اکثر پہاڑی علاقوں سے ہوتا ہے۔ گلیشیئر اور برف پہاڑوں میں پانی
ذخیرہ کرتے ہیں، جو پگھل کر انسانوں، جانوروں اور زراعت کو پانی فراہم کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر ہمالیہ (Himalayas) سے کئی بڑے دریاؤں
کا نظام وابستہ ہے۔
3۔
حیاتیاتی تنوع Biodiversity):
)پہاڑوں میں مختلف اقسام کے پودے، جانور
اور پرندے پائے جاتے ہیں۔ بہت سی ایسی انواع بھی پہاڑوں میں ہوتی ہیں جو دنیا کے
دوسرے علاقوں میں نہیں ملتیں۔
4۔
آب و ہوا کا توازن: پہاڑ درجۂ حرارت،
ہواؤں اور موسمی نظام کو متاثر کرتے ہیں، جس سے زمین کے مختلف علاقوں کا ماحول
قائم رہتا ہے۔
5۔
زمین کی حفاظت: پہاڑ مٹی کے کٹاؤ (Erosion) کو کم کرتے ہیں اور زمین کے بڑے حصوں کو
قدرتی توازن فراہم کرتے ہیں۔
6۔
معدنیات کا ذخیرہ: پہاڑوں میں مختلف
معدنیات پائی جاتی ہیں، جیسے لوہا، تانبا، سونا، نمک اور دیگر قیمتی پتھر۔
7۔
جنگلات اور آکسیجن:پہاڑی جنگلات کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے
ہیں، آکسیجن فراہم کرتے ہیں اور ماحول کو صاف رکھتے ہیں۔
8۔
انسانی زندگی اور ثقافت:پہاڑ سیاحت، بعض
علاقوں میں زراعت، چرواہی اور مقامی معیشت کے لیے اہم ہیں۔
9۔
زمین کے توازن میں کردار:ارضیاتی اعتبار سے
پہاڑ زمین کی پلیٹوں کی حرکت اور زمینی ساخت کے نظام کا حصہ ہیں، جو زمین کے طویل
مدتی توازن میں کردار ادا کرتے ہیں۔(چیٹ جی پی ٹی)
10۔
دیگر ضروریات :ان سب کے علاوہ پہاڑوں سے انسانوں کی بہت سی ضروریات
پوری ہوتی ہیں۔ مثلاً ان کا استعمال گھر، سڑکیں، پل اور سیمنٹ بنانے میں ہوتا ہے۔
مختصر یہ کہ پہاڑ
پانی کے خزانے، موسم کے محافظ، جنگلات کے گھر، معدنیات کے مرکز اور زمین کے قدرتی
توازن کے ستون ہیں۔
اس کے علاوہ اللہ
تعالیٰ نے انسانوں اور دیگر مخلوقات کے لیے ماحول کو سازگار بنانے کے لیے بہت سی
نعمتیں پیدا فرمائی ہیں، جن کا ذکر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی جگہ
کیا ہے۔
مثال کے طور پر
اللہ عزوجل نے سورۂ نحل کی آیات (5 تا 8) میں جانوروں کی تخلیق کے مقاصد بیان کرتے
ہوئے فرمایا کہ بعض جانوروں کے اون سے تم گرمی حاصل کرتے ہو، بعض کو تم کھاتے ہو،
کچھ جانور سامان ڈھونے کے کام آتے ہیں اور کچھ تمہاری سواری کے لیے ہیں وغیرہ۔
مزید آسمان سے بارش کا برسانا, مختلف نباتات کا اگانا, رات و دن, سورج و چاند ,
ستاروں و سمندروں کی تسخیر نیز کشتیوں,
دریاؤں اور راستوں کا ذکر کیا ہے۔ (نحل/10-15)
اسی طرح اللہ
عزوجل نے قرآن مجید میں انسانوں کے پیدا کردہ اناج، غلّات، سبزیوں وغیرہ کا ذکر
فرمایا ہے۔ مثلاً سورۂ عبس کی آیات (24 تا 31) میں اناج، انگور، سبزیاں، زیتون،
کھجور، باغات، میوے، ترکاریاں اور گھاس کا ذکر ہے۔ یہ سب چیزیں ماحول کو سازگار
بنانے کے قبیل سے ہیں۔
اور یہاں سورۂ
رحمٰن کی مذکورہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور
زمین کو اس نے تمام مخلوقات کے لیے بچھایا۔ اس میں پھل ہیں، غلاف والی کھجوریں
ہیں، بھوسے والے دانے ہیں اور خوشبودار نباتات ہیں۔ پس تم اپنے رب کی کون کون سی
نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟"(راقم)
یہ آیات ماحولیات
کے بارے میں قرآن کے نہایت جامع تصور کو ہمارے سامنے پیش کرتی ہیں۔ سب سے پہلے
اللہ تعالیٰ نے زمین کا ذکر فرمایا:﴿وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ﴾ جس سے
معلوم ہوتا ہے کہ زمین کو نہ صرف تمام جانداروں اور مخلوقات کے لیے بنایا گیا ہے،
بلکہ یہ زمین ان کی ضرورتوں کے مطابق بھی تیار کی گئی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے
کہ زمین صرف انسان ہی کی ملکیت نہیں، بلکہ یہ تمام مخلوقات کا مشترکہ مسکن ہے۔
چنانچہ ماحولیات کے تحفظ کا تعلق صرف انسانی مفاد سے نہیں بلکہ پوری مخلوق کے حقوق
سے بھی ہے۔
اس کے بعد پھلوں،
کھجوروں، غلّوں اور خوشبودار پودوں کا ذکر کرکے بتایا گیا کہ یہ سب انسانی زندگی
اور حیاتیاتی نظام (Ecosystem) کے لیے ضروری ہیں۔
یہ تمام چیزیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو انسانی
ضروریات کے مطابق بنایا ہے۔ غذا، توانائی، خوبصورتی، خوشبو اور زندگی کے بے شمار
وسائل اسی زمین سے حاصل ہوتے ہیں۔
اگر نباتات نہ ہوں
تو نہ انسان زندہ رہ سکتا ہے اور نہ حیوانات۔ اس طرح پورا حیاتیاتی نظام ایک دوسرے
سے مربوط ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت و قدرت کا مظہر ہے۔
ان چیزوں کا ذکر
اس جانب بھی اشارہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو انسان کی جسمانی، معاشی اور
جمالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے موزوں بنایا ہے۔ غذائی تحفظ، زرعی پیداوار،
موسمی اعتدال اور فضا کی پاکیزگی سب نباتات ہی کی مرہونِ منت ہیں۔
اس لیے سرسبز و
شاداب سازگار ماحول درحقیقت اللہ تعالیٰ
کی ایک عظیم نعمت ہے۔
قابلِ غور بات یہ
ہے کہ ان نعمتوں کے ذکر کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَبِأَيِّ
آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴾
گویا سازگار
ماحول، زرخیز زمین، سرسبز کھیت، پھل دار درخت اور خوشبودار نباتات محض قدرتی وسائل
نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں۔ ان نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ان
کا شکر ادا کرے اور ان کی حفاظت کرے۔(چیٹ جی پی ٹی)
قرآن مجید میں اس
قسم کی آیات کی کثرت ہے۔ ان سب کو اس مختصر مضمون میں بیان کرنا ممکن نہیں، اور نہ
ہی ان سب کا احاطہ کرنا ہمارا مقصد ہے۔ لہٰذا بطورِ نمونہ چند چیزوں کا تذکرہ بغیر
کسی تفصیل کے یہاں کر دیا گیا ہے، جس سے موضوع کی وضاحت بخوبی ہو جاتی ہے، اور یہ
معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ماحول کو کس طرح سازگار بنایا ہے اور یہ کہ
سازگار ماحول اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔(راقم)
آج دنیا ماحولیاتی
بحران کا شکار ہے۔ فضائی آلودگی، پانی کی کمی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، زمین کی
زرخیزی میں کمی اور موسمی تغیرات نے انسانی زندگی کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ان
مسائل کی بنیادی وجہ انسان کا اسراف، بے احتیاطی اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں
کی ناقدری ہے۔
قرآن کا پیغام یہ
ہے کہ انسان زمین میں فساد برپا کرنے کے بجائے اس کی اصلاح اور حفاظت کا ذریعہ
بنے۔
اسلام کا تصورِ
شکر بھی محض زبانی حمد و ثنا تک محدود نہیں بلکہ عملی ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔
اگر پانی اللہ کی نعمت ہے تو اسے ضائع کرنا ناشکری ہے۔ اگر درخت اللہ کی نعمت ہیں
تو بلا ضرورت انہیں کاٹنا ناشکری ہے۔ اگر زمین اللہ کی نعمت ہے تو اسے آلودہ کرنا
اور اس کے قدرتی توازن کو بگاڑنا بھی ناشکری کے زمرے میں آتا ہے۔
سورۂ رحمٰن کی یہ
آیات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ ایک صحت مند اور سازگار ماحول اللہ تعالیٰ کی عظیم
عطا ہے۔ اس نعمت کی قدر کرنا، اس کے حسن اور توازن کو برقرار رکھنا اور آنے والی
نسلوں کے لیے اسے محفوظ بنانا ہمارا دینی، اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے۔
جب انسان زمین اور
اس کے وسائل کو اللہ کی امانت سمجھ کر استعمال کرے گا تو وہ حقیقی معنوں میں اس
نعمت کا شکر گزار بن سکے گا۔(چیٹ جی پی ٹی)
اللہ تعالیٰ ہمیں
اپنی نعمتوں کی قدر کرنے، ان پر غور و فکر کرنے اور ان کی حفاظت کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین۔
0 التعليقات: