اسلام میں شجرکاری و کاشت کاری کی
اہمیت و فضیلت
و
ماحولیات کے تحفظ میں ان کا کردار
Please visit: islahotaraqqi.com
ابو میمونہ
حدیث:عَنْ
أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:ما
مِن مُسلِمٍ يَغرِسُ غَرسًا، أو يَزرَعُ زَرعًا، فيَأكُلُ منه طَيرٌ أو إنسانٌ أو
بَهيمةٌ إلَّا كان له به صَدَقةٌ۔
تخریج: صحیح بخاری/2320، و صحیح
مسلم/1553۔
ترجمہ:حضرت
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی
بھی مسلمان جو کوئی پودا لگاتا ہے یا کھیت میں بیج بوتا ہے، پھر اس سے کوئی پرندہ،
انسان یا جانور کھاتا ہے تو وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوتا ہے۔
معانی کلمات:
یغرس: یہ "غرس" سے
فعل مضارع ہے، اس کا معنی ہے: زمین میں درخت لگانا، پودا لگانا۔ "غرس"
بمعنی پودا، اس کی جمع "اغراس" ہے۔
یزرع: یہ "زرع" سے
مشتق ہے۔ "زرع الارض" کا معنی ہے: زمین جوتنا، کاشت کرنا، اور "زرع
الحب" کا معنی ہے: بیج ڈالنا، بیج بونا۔"زرع
الاشواک فی الطریق" کا معنی ہے: راستے میں کانٹے بونا، اور "زرع
الالغام" کا معنی ہے: بارودی سرنگیں بچھانا۔"زرع"
(ر ساکن) بمعنی کھیتی (بوئی ہوئی چیز) ہے، اس کی جمع "زروع" آتی ہے۔
بہیمۃ: درندوں اور پرندوں کے
علاوہ چار پاؤں والے خشکی و سمندر کے جانور، اس کی جمع "بہائم" ہے۔ یہ
"بہم" سے ماخوذ ہے، جس کا معنی ہے: ہر وہ جاندار جو بولنے کی صلاحیت
نہیں رکھتا؛ اس لیے کہ اس کی آواز میں ابہام (غیر واضح پن) ہوتا ہے، اور ہر وہ مخلوق
جو تمیز اور عقل نہیں رکھتی "بہیمہ" کہلاتی ہے۔(موقع المعانی)
تشریح:
اسلام میں درخت
لگانا اور زراعت کرنا دونوں نہایت پسندیدہ، بابرکت اور باعثِ اجر و ثواب اعمال
ہیں۔ یہ ملک و ماحول کے لیے باعثِ تزئین و آرائش، اور اپنے تمام تر مادی و روحانی
فوائد کے ساتھ انسانیت کی ایک عظیم خدمت بھی ہیں۔ ان کی دینی اہمیت و فضیلت
اور دنیاوی فوائد و منافع مسلم ہیں۔ انہیں صدقۂ جاریہ قرار دیا گیا ہے اور ان کی
ترغیب دی گئی ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں فائدہ ہی فائدہ ہے اور کسی بھی جہت سے
نقصان نہیں۔
شجرکاری اور کاشت
کاری دونوں کا ذکر قرآن و سنت میں موجود ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نباتات،
درختوں، پیڑوں اور پودوں کا کئی جگہ ذکر فرمایا ہے اور انہیں اپنی نشانیوں میں
شامل کیا ہے۔
بطور مثال صرف ایک
آیت ذکر کی جاتی ہے، اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
وَهُوَ ٱلَّذِيٓ
أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَخرَجنَا بِهِۦ نَبَاتَ
كُلِّ شَيءٖ فَأَخرَجنَا مِنهُ خَضِرٗا نُّخرِجُ مِنهُ حَبّٗا مُّتَرَاكِبٗا وَمِنَ
ٱلنَّخلِ
مِن طَلعِهَا قِنوَان دَانِيَة وَجَنَّٰتٖ مِّن أَعنَابٖ وَٱلزَّيتُونَ
وَٱلرُّمَّانَ
مُشتَبِهٗا وَغَيرَ مُتَشَٰبِهٍ ٱنظُرُوٓاْ إِلَىٰ ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ
أَثمَرَ وَيَنعِهِۦٓ إِنَّ فِي ذَٰلِكُم
لَأٓيَٰتٖ لِّقَومٖ يُؤمِنُونَ (الانعام:
99)
ترجمہ:اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی
برسایا، پھر ہم نے اس کے ذریعے ہر قسم کی نباتات اگائیں، پھر ہم نے اس سے سبز
کونپل (شاخ) نکالی، جس سے ہم تہ بہ تہ دانے نکالتے ہیں، اور کھجور کے درختوں سے ان
کے شگوفوں سے لٹکتے ہوئے خوشے، اور انگوروں، زیتون اور انار کے باغات (پیدا کیے)
جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور مختلف بھی۔ تم اس کے پھل کو دیکھو جب وہ
پھل لائے اور اس کے پکنے کو بھی دیکھو۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں
جو ایمان رکھتے ہیں۔
کھیتی کا ذکر کرتے
ہوئے فرمایا: أَفَرَءَيتُم مَّا تَحرُثُونَ ءَأَنتُم تَزرَعُونَهُۥٓ أَم نَحنُ
ٱلزَّٰرِعُونَ لَو نَشَآءُ لَجَعَلنَٰهُ حُطَٰمٗا فَظَلتُم تَفَكَّهُونَ إِنَّا لَمُغرَمُونَ بَل نَحنُ مَحرُومُونَ (الواقعہ:
63-67)
ترجمہ:اچھا پھر یہ بھی بتاؤ کہ جو کچھ تم
کاشت کرتے ہو، کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے
چورا چورا کر دیں، پھر تم تعجب کرتے رہ جاؤ یا باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ (اور کہتے)
بے شک ہم پر تو تاوان پڑ گیا، بلکہ ہم تو محروم ہی رہ گئے۔
معلوم ہوا کہ
انسان صرف بیج ڈالنے اور محنت کرنے والا ہے، مگر اصل پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ
ہے؛ اس لیے زراعت محض انسانی طاقت کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی نعمت اور اس کی قدرت
کی نشانی ہے۔
احادیث میں درخت
لگانے اور کاشت کاری کرنے کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے، جن میں سے ایک مذکورہ
بالا روایت ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی احادیث ہیں، جن میں سے بعض کا ذکر اسی
شمارہ میں "اسلام
اور تحفظِ ماحولیات" کے موضوع کے تحت ہو چکا ہے۔ طوالت سے بچنے
کے لیے دیگر احادیث کا ذکر یہاں نہیں کیا جا رہا ہے۔
اس حدیث میں نبی
کریم ﷺ نے درخت لگانے اور کھیتی کرنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے، اس کی رغبت دلائی
ہے، اور یہ وضاحت فرمائی ہے کہ کوئی مسلمان کوئی چیز کاشت کرتا ہے یا کوئی درخت
لگاتا ہے، پھر اس کا فائدہ آگے بڑھتا ہے، یعنی اس میں سے انسان، پرندہ یا جانور
کھاتا ہے، اور ہر وہ جاندار جس میں روح ہو، خواہ خشکی کا ہو یا سمندر کا، تو اس کے
سبب اس مسلمان کے لیے اجر لکھا جاتا ہے۔(موقع الدرر
السنیۃ)
اس حدیث میں زمین
کو آباد کرنے کی ترغیب بھی ہے، تاکہ انسان خود بھی اس سے فائدہ اٹھائے یا اس کے
بعد آنے والے لوگ فائدہ اٹھائیں، اور وہ بھی اس کے سبب اجر پائیں۔(موقع الدرر السنیۃ)
حافظ رحمہ اللہ
فرماتے ہیں:وَفِي
الْحَدِيثِ فَضْلُ الْغَرْسِ وَالزَّرْعِ وَالْحَضُّ عَلَى عِمَارَةِ الْأَرْضِ۔یعنی:
اس حدیث میں باغبانی اور زراعت، اور زمین کو آباد کرنے کی فضیلت مذکور ہے۔
فی الواقع کھیتی
کی بڑی اہمیت ہے کہ انسان کی شکم پری کا بڑا ذریعہ کھیتی ہی ہے۔ اگر کھیتی نہ کی
جائے تو غلہ کی پیداوار نہ ہوگی، اسی لیے قرآن و حدیث میں اس فن کا ذکر بھی آیا
ہے۔
مگر جو کاروبار
یادِ الٰہی اور فرائضِ اسلام کی ادائیگی میں حائل ہو، وہ الٹا وبال بھی بن جاتا
ہے۔ کھیتی کا بھی یہی حال ہے کہ بیشتر کھیتی باڑی کرنے والے یادِ الٰہی سے غافل
اور فرائضِ اسلام کی ادائیگی میں سست ہو جاتے ہیں۔ اس حالت میں کھیتی اور اس کے
آلات کی مذمت بھی وارد ہوئی ہے۔
بہرحال مسلمان کو
دنیاوی کاروبار کے ساتھ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنا اور فرائضِ اسلام ادا
کرنا ضروری ہے۔
(موقع: اسلامک اردو
بکس ڈاٹ کام، موسوعۃ القرآن و الحدیث، صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث
نمبر: 2320)
اسی طرح امام
بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے باغبانی، زراعت اور زمین آباد کرنے کی فضیلت ثابت
کی ہے۔ اس حدیث کی بنیاد پر بعض علماء کہتے ہیں:
کھیتی باڑی دیگر
کاموں سے افضل ہے، جبکہ بعض حضرات صنعت و حرفت کی فضیلت کے قائل ہیں۔ کچھ اہل علم
تجارت کو افضل کہتے ہیں، لیکن اکثر احادیث میں دستکاری کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
دراصل افضلیت
لوگوں کے احوال کے اعتبار سے ہے۔ جہاں لوگ خوراک کے زیادہ محتاج ہوں وہاں زراعت
افضل ہے تاکہ وہ قحط زدہ نہ ہوں، اور جہاں کاروبار کی زیادہ ضرورت ہو وہاں تجارت
افضل ہے، اور جہاں دستکاری کی ضرورت ہو وہاں صنعت و حرفت افضل ہے۔ دورِ حاضر میں
حالات کا تقاضا یہ ہے کہ سب اپنی اپنی جگہ فضیلت رکھتی ہیں۔واللہ اعلم۔(موقع: اسلامک اردو بکس ڈاٹ کام، موسوعۃ
القرآن و الحدیث، صحیح ہدایۃ القاری شرح صحیح بخاری، اردو، حدیث نمبر: 2320)
بعینہٖ یہی بات
ڈاکٹر ابراہیم الودعان نے بھی لکھی ہے:
کہا جا سکتا ہے کہ
ہاتھ کی کمائی حلال ہونے کے اعتبار سے زیادہ پاکیزہ ہے، جبکہ درخت لگانا اور زراعت
عام فائدے کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہے، کیونکہ اس کا فائدہ دوسروں تک بھی پہنچتا
ہے۔ لہٰذا حالات کے اعتبار سے اس کی فضیلت بدل سکتی ہے۔ اگر لوگوں کو خوراک کی
زیادہ ضرورت ہو تو زراعت افضل ہے، اور اگر تجارت کی ضرورت ہو تو تجارت بہتر ہے،
اور اگر صنعت کی ضرورت زیادہ ہو تو صنعت افضل ہے۔(موقع
الالوکۃ الشرعیۃ: حدیث: ما من مسلم يغرس غرسا أو يزرع زرعا، د. إبراهيم بن فهد بن
إبراهيم الودعان، تاریخ الاضافہ: 28/2/2017ء، 1/6/1438ھ)
اور یہاں خاص طور
پر مسلمان کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ عموماً وہ درخت لگاتے وقت یہ نیت رکھتا ہے
کہ اس کے پھل سے مسلمان اللہ تعالیٰ کی عبادت پر قوت حاصل کریں گے۔ نیز اس لیے کہ
حقیقی ثواب مسلمان ہی کو حاصل ہوتا ہے، جبکہ کافر کو اس کے نیک اعمال پر ثواب نہیں
ملتا، البتہ اس کے عذاب میں کمی کی جا سکتی ہے، اور دنیا میں اسے اس کے اعمال کے
بدلے کچھ فائدہ دیا جا سکتا ہے۔(موقع الدرر
السنیۃ)
اس حدیث کے تحت
ڈاکٹر ابراہیم بن فہد ودعان نے کل 36 فوائد بیان کیے ہیں، جن میں سے صرف 24 کا ذکر
یہاں ترتیب وار کیا جا رہا ہے۔ بعض کا بیان متفرق طور پر مضمون میں آ چکا ہے،
لہٰذا ان کو دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
وہ فوائد یہ ہیں:
1۔ اس حدیث سے دینِ اسلام کی کمال و جامعیت ظاہر ہوتی ہے۔
2۔ انسان کو اس دنیاوی زندگی کے موقع کو غنیمت جاننے کی بہت زیادہ
ترغیب دی گئی ہے۔
3۔ ایسی چیزیں لگانے کی ترغیب دی گئی ہے جن سے لوگ انسان کے مرنے کے
بعد بھی فائدہ اٹھائیں، تاکہ اس کا اجر جاری رہے اور قیامت تک اس کے لیے صدقہ لکھا
جاتا رہے۔
4۔ مسلمان کو نیکی کے کام میں سستی اور کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔
5۔ مسلمان کو اپنی زندگی اور معاشرے میں مثبت، کارآمد اور فعال
کردار ادا کرنا چاہیے۔
6۔ بلند ہمتی اختیار کرنی چاہیے۔
7۔ امید، خوش گمانی اور روشن مستقبل کی طرف دیکھنے کی ترغیب ملتی
ہے۔
8۔ ہمارا دین عمل کرنے، اسباب اختیار کرنے اور بے بسی و سستی اختیار
نہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
9۔ لفظ "غرس" (درخت لگانا) حرکت اور نئی زندگی کے آغاز کا
احساس دلاتا ہے۔
10۔ عمر ختم ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرنی چاہیے۔
11۔ نبی کریم ﷺ کا اپنی امت کے لیے خیر خواہی کا جذبہ ظاہر ہوتا ہے۔
12۔ انسان کو اپنی استطاعت کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
13۔ نیکی، بھلائی اور معروف کے کاموں کی بہت سی قسمیں ہیں۔
14۔ جس طرح دوسروں نے تمہارے لیے درخت لگائے جن سے تم فائدہ اٹھا رہے
ہو، تم بھی ان لوگوں کے لیے لگاؤ جو تمہارے بعد آئیں گے۔
15۔ اس خطاب میں عورتیں بھی شامل ہیں، کیونکہ درخت لگانا صرف مردوں
کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
16۔ خود غرضی اور صرف اپنی ذات سے محبت کے بجائے دوسروں کو فائدہ
پہنچانے کی تعلیم ملتی ہے۔
17۔ درخت لگانا کوئی بے مقصد یا کھیل تماشا کا کام نہیں، بلکہ اس میں
اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر و ثواب ہے۔
18۔ اگر کسی شخص کی مرضی کے بغیر اس کی فصل یا درخت سے کوئی چوری کے
ذریعے، یا کوئی پرندہ یا جانور فائدہ اٹھا لے، تب بھی اس کے لیے صدقہ لکھا جاتا
ہے۔
19۔ درخت لگانے والے اور کاشت کرنے والے کو اجر ملتا ہے، اگرچہ اس نے
اس اجر کی نیت نہ بھی کی ہو۔ حتیٰ کہ اگر اس نے درخت لگا کر اسے فروخت کر دیا یا
فصل اگا کر بیچ دی، تب بھی اسے صدقہ کا ثواب ملے گا، کیونکہ اس نے لوگوں کی خوراک
میں وسعت پیدا کی۔
20۔ اس عمل کی عظمت اس وقت مزید واضح ہوتی ہے جب معلوم ہوتا ہے کہ
درخت لگانے اور زراعت کا ثواب موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے اور قیامت تک صدقۂ
جاریہ بنتا ہے۔
21۔ اگر انسان کسی بھی جائز کام میں اچھی نیت شامل کر لے تو اسے اس
پر اجر ملتا ہے۔ چنانچہ زمین میں درخت لگانا ایک جائز عمل ہے، اگر انسان اس سے
اپنے آپ کو حرام سے بچانے، اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے، فقر دور کرنے، یا انسان،
پرندے اور جانور کے فائدے کی نیت کرے تو اس پر ثواب پائے گا۔
22۔ اس عمل کرنے والے نے اجر و ثواب کا یہ مقام اس لیے حاصل کیا کہ
اس نے صرف اپنی ذات کے لیے زندگی نہیں گزاری، بلکہ معاشرے کی بھلائی کے لیے کام
کیا اور اپنی استطاعت کے مطابق خیر کو بڑھانے کی کوشش کی، چاہے اسے اپنی فصل سے
فائدہ حاصل ہو یا نہ ہو، اور چاہے وہ اس کا پھل کھانے تک زندہ رہے یا نہ رہے۔
23۔ یہ حدیث ہمیں ایسے مسلسل اجر والے نیک اعمال کا نمونہ فراہم کرتی
ہے جو زمین کی آبادی، زندگی کی بہتری اور اجتماعی فائدے کے لیے تعاون کا ذریعہ
بنتے ہیں۔
24۔ اس حدیث میں برداشت، نرمی اور انسانی طبیعت کو غصے اور باہمی
جھگڑوں سے پاک کرنے کی دعوت ہے۔
(موقع الالوکۃ:
حدیث: ما من مسلم يغرس غرسا ...، د. إبراهيم بن فهد بن إبراهيم الودعان)
ماحولیات کے تحفظ
میں شجرکاری اور کاشت کاری کا کردار
اب موضوع کے دوسرے
جزء یعنی ماحولیات کے تحفظ میں ان کے کردار کی مختصر وضاحت کی جا رہی ہے،
کیونکہ تدبرِ حدیث اس کی طوالت کا متحمل نہیں ہے۔
اس حدیث میں
شجرکاری کی ترغیب دی گئی ہے، زمین کو آباد کرنے اور اس میں زراعت کرنے جیسے عمل کی
اہمیت بیان ہوئی ہے، کیونکہ اس میں بہت خیر ہے، اور اس سے یہ دنیا اپنے مقررہ وقت
تک آباد رہتی ہے۔ جس سے دینِ اسلام کی کمال و جامعیت اور نبی کریم ﷺ کی ماحولیات
کے بارے میں توجہ ظاہر ہوتی ہے، اور یہ حدیث نباتات کی حفاظت اور اہمیت کی بنیادی
دلیلوں میں سے ہے۔(موقع
الالوکۃ: حدیث: ما من مسلم يغرس غرسا...، د. إبراهيم ودعان)
شجرکاری کے فوائد:
1۔ مخلوقات کی غذا:درخت
انسانوں اور دیگر مخلوقات کے لیے غذا کا اہم ذریعہ ہیں۔ بہت سے درختوں کے پھل
انسانوں کے لیے براہِ راست غذا بنتے ہیں، جیسے کھجور، انگور، انجیر، زیتون، آم،
سیب، انار وغیرہ۔ جبکہ بعض درختوں کے پتے، بیج، جڑیں یا دیگر حصے بھی انسان کے
استعمال میں آتے ہیں۔
جنگلات میں بے
شمار حیوانات اپنی غذا کا بڑا حصہ درختوں سے حاصل کرتے ہیں۔ درختوں کے پتے، شاخیں،
پھل اور چھال بہت سے جانوروں کی خوراک بنتے ہیں۔
پرندے پھل، بیج
اور بعض اوقات درختوں پر موجود کیڑے مکوڑے کھاتے ہیں۔ بہت سے جاندار درختوں پر
منحصر زندگی گزارتے ہیں۔
2۔ فضائی آلودگی میں کمی:درخت
فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے اور آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ اس طرح فضا میں
آکسیجن فراہم کرتے اور ہوا کو صاف کرتے ہیں، جس سے ہوا پاکیزہ رہتی ہے، آلودگی کم
ہوتی ہے اور بعض جراثیم کے خاتمے میں مدد ملتی ہے۔
3۔ موسمی اعتدال:درخت گرمی کی شدت
کم کرتے، بارشوں کے نظام میں معاون بنتے اور درجۂ حرارت کو متوازن رکھتے ہیں۔ تیز
ہواؤں کی شدت کم کرتے اور ماحول کی نمی برقرار رکھتے ہیں۔ یہ درخت گلوبل وارمنگ،
یعنی درجۂ حرارت کی زیادتی (جو پوری دنیا کے سروں پر عذاب بن کر مسلط ہے) سے ہمیں نجات
دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
4۔ مٹی کا تحفظ:درختوں کی جڑیں
زمین کو کٹاؤ سے بچاتی ہیں، مٹی کو محفوظ رکھتی ہیں اور اس کی زرخیزی کو برقرار
رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
5۔ آبی ذخائر کا تحفظ:درخت
بارش کے پانی کو زمین میں جذب ہونے میں مدد دیتے ہیں، جس سے زیرِ زمین پانی کی سطح
برقرار رہتی ہے۔
6۔ حیوانات و پرندوں کی پناہ گاہ:حدیث
میں "طیر" اور "بہیمہ" کا ذکر اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ درخت
صرف انسان کے لیے نہیں، بلکہ دیگر مخلوقات کے لیے بھی ذریعۂ حیات ہیں۔
7۔ خوش کن منظر اور سایہ:ہریالی
اور نباتات، جیسے کھجور، آم، لیچی اور دیگر درخت، ایسا منظر پیش کرتے ہیں جس سے دل
خوش ہوتا ہے اور طبیعت کو سکون ملتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ درخت ہمیں سایہ فراہم کرتے
ہیں اور گرمی سے راحت پہنچاتے ہیں۔
ایک خوبصورت تدبری
نکتہ
حدیث میں رسول
اللہ ﷺ نے صرف "يَغْرِسُ
غَرْسًا" (درخت لگائے) نہیں فرمایا، بلکہ اس کے بعد "فَيَأْكُلُ
مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ" فرمایا۔
گویا اسلام کی نظر
میں درخت کی اصل اہمیت صرف لگانے میں نہیں، بلکہ اس کے باقی رہنے اور مخلوق کو نفع
پہنچانے میں ہے۔ اسی لیے اگر کوئی درخت لگا کر اسے سوکھنے کے لیے چھوڑ دے تو مقصد
مکمل نہیں ہوتا۔ ماحولیات کے تناظر میں درخت لگانے سے زیادہ اہم ان کی نگہداشت اور
حفاظت ہے۔
کیونکہ آج کل لوگ
لاکھوں پودے لگا دینے کی خبریں تو دیتے ہیں، لیکن نبوی تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ اصل
مطلوب مخلوقِ خدا کو مستقل فائدہ پہنچانا ہے۔ یہی شجرکاری کا حقیقی ماحولیاتی اور
شرعی مقصد ہے۔(چیٹ جی پی ٹی)
یاد رکھیے کہ
درختوں سے یہ سارے فوائد اس وقت حاصل ہوتے ہیں جب یہ زندہ رہتے ہیں، اور جب یہ
اپنی عمرِ طبعی کے سبب یا قصداً جلا دینے یا کاٹ دیے جانے کے سبب مر جاتے ہیں یا
مرجھا جاتے ہیں، تو ان کی لکڑیاں سالہا سال تک انسانوں کے کام آتی ہیں۔
بڑے افسوس کے ساتھ
یہ کہنا پڑتا ہے کہ ایسے مہربان دوست اور قیمتی سرمایے کی جو قدر ہونی چاہیے، وہ
آج نہیں ہو رہی ہے۔
کھیتی کے فوائد و
منافع:
اب چند سطور میں
کھیتی کے چند اہم فوائد اور نمایاں منافع کا ذکر کیا جا رہا ہے، تاکہ موضوع ہر
حیثیت سے مکمل ہو جائے۔
1۔ غذا کی فراہمی:کھیتی
انسانوں کی بنیادی خوراک کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ گندم، چاول، مکئی، دالیں، سبزیاں
اور پھل وغیرہ زراعت ہی سے حاصل ہوتے ہیں۔(چیٹ جی پی ٹی)
اور حقیقت یہ ہے
کہ اس کی بڑی اہمیت ہے کہ انسان کی شکم پری کا بڑا ذریعہ کھیتی ہی ہے۔ اگر کھیتی
نہ کی جائے تو غلہ کی پیداوار نہ ہوگی، اور جب انسان کی خوراک پوری نہیں ہوگی تو
وہ کمزور اور لاغر ہو جائے گا، اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کر پائے گا اور چند
دنوں بعد موت کا شکار ہو جائے گا۔
اسی لیے جہاں بارش
نہیں ہوتی، غلہ و اناج پیدا نہیں ہوتا، وہاں قحط سالی اور بھکمری پیدا ہو جاتی ہے،
اور ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد موت کا آسان نوالہ بن جاتے ہیں، کیونکہ انہیں خوراک
میسر نہیں ہوتی۔
صرف یہی کھیتی کی
دینی و دنیاوی اہمیت، فضیلت، فوائد اور منافع کو بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس کے
علاوہ کھیتی کے بے شمار فوائد ہیں۔ اسی لیے قرآن و حدیث میں اس فن کا ذکر بھی آیا
ہے، جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا۔(راقم)
2۔ جانوروں کے لیے خوراک:کھیتی
سے حاصل ہونے والا چارہ، بھوسا اور مختلف نباتات جانوروں کی غذا بنتے ہیں۔
3۔ آکسیجن اور ہوا کی پاکیزگی:فصلیں
اور نباتات کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے آکسیجن پیدا کرتی ہیں، جس سے ماحول صاف
اور متوازن رہتا ہے۔
4۔ زمین کی زرخیزی اور حفاظت:نباتات
زمین کو مضبوط رکھتے ہیں، مٹی کے کٹاؤ کو کم کرتے ہیں اور زمین کی قدرتی ساخت کو
برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
5۔ معاشی فائدہ:زراعت روزگار کا
بڑا ذریعہ ہے۔ کسان، مزدور، تاجر اور بہت سی صنعتیں اس سے وابستہ ہیں۔
6۔ ماحولیاتی توازن:کھیت،
باغات اور سبزہ ماحول کے درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے اور موسمی نظام میں مدد کرتے
ہیں۔
7۔ پانی کے چکر میں کردار:پودے
پانی کو جذب کرتے ہیں اور بخارات کے ذریعے فضا میں واپس پہنچاتے ہیں، جس سے بارشوں
کے نظام پر اثر پڑتا ہے۔
8۔ حیاتیاتی تنوع کا تحفظ:کھیت
اور زرعی علاقے بہت سے کیڑے مکوڑوں، پرندوں اور دیگر جانداروں کے لیے مسکن فراہم
کرتے ہیں۔
9۔ انسانی صحت:تازہ پھل، سبزیاں
اور غذائی اجناس صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہیں۔(چیٹ
جی پی ٹی)
یہی وجہ ہے کہ
قرآن نے زمین کو آباد کرنے، اس میں بیج بونے اور پیداوار حاصل کرنے کو اللہ تعالیٰ
کی نعمتوں میں شمار کیا ہے۔
سطورِ بالا میں جو
کچھ پیش کیا گیا، اس سے یقینی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ شجرکاری اور زراعت کو
اسلام میں بہت زیادہ اہمیت و فضیلت حاصل ہے، اور ان کا ماحولیات کے تحفظ میں ایک
زبردست کردار ہے۔
لہٰذا ہم سب کو
بھی ان کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا چاہیے، تاکہ یہ سازگار ماحول قائم
رہے۔
اللہ تعالیٰ سے
دعا ہے کہ وہ ہم سب کو ماحول اور دیگر مخلوقات کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و
خوبی ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
0 التعليقات: