قرب قىامت كى اىك اہم نشانى: نا اہلوں كى قىادت و سىادت
islahotaraqqi.com
حديث: عن أبي هريرة قال: بينما النبي ﷺ في
مجلس يحدث القوم جاءه أعرابي فقال: متى الساعة؟ فمضى النبي ﷺ يحدث، فقال: بعض
القوم: سمع ما قال، فكره ما قال، وقال بعضهم: بل لم يسمع، حتى إذا قضى حديثه، قال: أين السائل عن الساعة؟ قال: ها أنا يا رسول
الله، قال: إذا ضيعت الأمانة فانتظر الساعة قال: كيف إضاعتها؟ قال: إذا وسد الأمر إلى غير أهله فانتظر الساعة
تخرىج: بخارى، كتاب العلم ، حدىث
نمبر 59
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ كا
كہنا ہے کہ ایک بار نبی کریم ﷺ
لوگوں میں بیٹھے ہوئے ان سے باتیں کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا
اور پوچھنے لگا کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ ﷺ اپنی گفتگو میں مصروف رہے۔
بعض لوگ (جو مجلس میں تھے) کہنے لگے آپ ﷺ نے دیہاتی کی بات سنی لیکن پسند
نہیں کی اور بعض کہنے لگے کہ نہیں بلکہ آپ نے اس کی بات سنی ہی نہیں۔ جب آپ ﷺ
اپنی باتیں پوری کر چکے( تو میں سمجھتا ہوں )کہ آپ ﷺ نے پوچھا كہ قیامت کے بارے میں سوال كرنے والا كہاں
ہے؟
وہ شخص بولا: “یا رسول اللہ! میں موجود ہوں۔”آپ ﷺ نے فرمایا: “جب امانت ضائع کر دی جائے تو قیامت کا
انتظار کرو۔اس نے عرض کیا: “امانت کو ضائع کرنا کیسے ہوگا؟”آپ ﷺ نے فرمایا: “جب معاملات
نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو۔”
شرح:
نبی کریم ﷺ لوگوں کو دین کے امور سکھاتے تھے اور ان کے سوالات کے جوابات
دیتے تھے، تاکہ ان پر حق واضح ہو جائے اور وہ ان باتوں کو جان سکیں جو ان کے لیے
دنیا اور آخرت دونوں میں نفع بخش ہیں، نیز غیب کی بعض وہ باتیں بھی بیان فرماتے
تھے جن کی اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی تھی۔(موقع: الدرر السنىة، الموسوعة الحدىثىة، شرح حدىث مذكورہ)
اس حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنے
صحابہ سے گفتگو فرما رہے تھے اور انہیں تعلیم دے رہے تھے “کہ اسی اثنا میں ایک اعرابی آیا”—اور اعرابی وہ
ہوتا ہے جو دیہات یا صحراء میں رہتا ہے۔ یہ اعراب آ کر نبی کریم ﷺ سے سوال کیا
کرتے تھے، اور صحابہ کرام ان کے آنے پر خوش ہوتے تھے، کیونکہ صحابہ کرام خود نبی
کریم ﷺ سے سوال کرنے میں ہیبت محسوس کرتے تھے۔ (موقع: خالدالسبت، مذكورہ حدىث كى شرح)
اس اعرابى نے آپ سے سوال کیا: قیامت کب قائم ہوگی؟
یہاں "الساعة" (قیامت) سے مراد كے بارے مىں دو احتمال ہىں :
ایک یہ کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہو، اور دوسرا یہ کہ اس سے مراد ہلاکت
اور تباہی کا وقت ہو۔ یعنی امت اس وقت ہلاک ہو جاتی ہے جب امانت کو ضائع کر دیا
جائے، اگرچہ قیامت ابھی نہ آئی ہو۔ پس دونوں احتمال موجود ہیں۔(موقع: اھل الحدىث و الاثر،الشىخ ابن عثىمىن ، صحىح بخارى، شرح كتاب الرقاق)
نبی کریم ﷺ نے اسے فوراً جواب نہیں دیا، بلکہ
لوگوں کے ساتھ اپنی گفتگو جاری رکھی۔ یہاں تک کہ بعض لوگوں نے یہ گمان کیا کہ شاید
آپ ﷺ نے سوال سنا ہی نہیں، یا یہ کہ آپ ﷺ کو یہ سوال پسند نہیں آیا۔ لیکن جب آپ ﷺ
اپنی گفتگو مکمل کر چکے تو فرمایا: “قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟”
اس میں یہ رہنمائی ہے کہ دورانِ گفتگو سوال کرنے والے کے سوال کا فوراً
جواب نہ دینا نہ تو بات کرنے والے کے لیے کوئی عیب ہے اور نہ ہی سوال کرنے والے کے
لیے اس میں کوئی حرج ہے۔ بلکہ مناسب یہی ہے کہ بات مکمل کر لی جائے، پھر سوال کا
جواب دیا جائے۔ اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ سوال بھی اس وقت کیا جائے جب گفتگو مکمل
ہو جائے۔(موقع خالد
السبت ) اور یہ آپ ﷺ کے حسنِ ادب کا مظہر تھا کہ آپ پہلی بات کو مکمل کیے بغیر اسے
منقطع نہیں کرتے تھے، تاکہ سننے والے اسے اچھی طرح سمجھ لیں۔(موقع :الدررالسنىة، الموسوعة الحدىثىة)
وہ شخص بولا: “یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں۔”
آپ ﷺ نے فرمایا: “جب امانت ضائع کر دی جائے تو قیامت کا انتظار کرو”، یعنی
یہ قیامت کے قریب ہونے کی ایک نشانی ہے کہ امانت ضائع ہو جائے۔
امانت، ایک جامع اور وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ یہ صرف چند چیزوں تک محدود نہیں
بلکہ تمام فرائض اور ذمہ داریوں کو شامل ہے۔ اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے حقوق
بھی داخل ہیں اور بندوں کے حقوق بھی۔ اسی طرح وہ تمام چیزیں بھی امانت میں شامل
ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے سپرد کی ہیں اور جو اس کی اپنی ذات سے متعلق ہیں۔
یعنی انسان کی صحت ایک امانت ہے، اس کے حواس امانت ہیں، اس کا جسم امانت
ہے، اس کی زندگی امانت ہے۔ لہٰذا اسے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان میں اپنی مرضی کے
مطابق تصرف کرے۔ اسی طرح اعمال، ملازمتیں، پیشے، خرید و فروخت، اور تمام قسم کے
معاملات اور لین دین—یہ سب کے سب امانت کے دائرے میں آتے ہیں۔(موقع:خالدالسبت)
اور یہاں قیامت کے انتظار کا مطلب یہ ہے کہ اس کے قریب ہونے کا یقین رکھا
جائے اور اس کے وقوع کی توقع کی جائے، نہ یہ کہ انسان عمل چھوڑ کر بیٹھ جائے۔ (موقع : موسوعة الاحادىث
النبوىة، حدىث اذا وسد الامر...)
اس نے عرض کیا: “امانت کو ضائع کرنا کیسے ہوگا؟”
آپ ﷺ نے فرمایا: “جب معاملات نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو قیامت کا
انتظار کرو۔”
یہاں فرمایا گیا: “جب معاملہ نااہل لوگوں کے سپرد کر دیا جائے تو قیامت کا
انتظار کرو”۔
حدیث میں لفظ ''الأمر'' آیا ہے، اس سے مراد وہ امور ہیں جن کا تعلق حکومت و
امارت اور قضا و افتا سے ہو۔ ( موقع : اكتاب و سنت ، هداية القاري شرح صحيح بخاري،
اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6496)
“وسد الامر” کا مطلب ہے کہ
معاملات کو ایسے لوگوں کے حوالے کر دیا جائے جو اس کے اہل نہ ہوں، یعنی وہ اس كے حق دارنہ ہوں، نہ کمال کے حامل ہوں، اور
نہ ہی وہ قوت و امانت رکھنے والے ہوں جو اس ذمہ داری کو صحیح طریقے سے نبھا سکیں،
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔(موقع خالد السبت) ىا ایسے لوگوں
کو ذمہ داریاں دے دی جائیں جو دین، امانت اور دیانت کے اہل نہ ہوں، اور جو ظلم و
فجور میں معاون ہوں۔ اس وقت حکمرانوں نے اس امانت کو ضائع کر دیا جسے اللہ تعالیٰ
نے ان پر لازم کیا تھا۔ یہاں تک کہ خیانت کرنے والے کو امین سمجھا جانے لگے گا اور
امانت دار کو خائن قرار دیا جائے گا۔ اور یہ صورتِ حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب
جہالت غالب آ جائے اور اہلِ حق اس کو قائم کرنے سے عاجز رہ جائیں ۔(موقع :الدررالسنىة، الموسوعة الحدىثىة)
اب اگر ذمہ داریاں اس بنیاد پر دی جائیں کہ کوئی شخص کسی کا رشتہ دار ہے،
یا رشوت کے ذریعے کوئی منصب حاصل کر لے، یا اسی طرح کسی اور دنیاوی وجہ سے اسے
عہدہ دے دیا جائے، یا یہ مناصب بدکاروں، فاجروں اور فساد پھیلانے والوں کے ہاتھ
میں آ جائیں، تو یہ سب اس بات کی نشانیاں ہیں کہ قیامت قریب ہے۔(موقع خالد السبت)
اہم بات یہ ہے کہ
اس حدیث میں اس امر کی دلیل موجود ہے کہ آخری زمانے میں امت امانت کو ضائع کرنے کے
سبب فساد کا شکار ہو جائے گی۔ اور یہ اس وقت ہوگا جب معاملات—خواہ عمومی ہوں یا
خصوصی—نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں۔ چنانچہ جب کسی کام کو اس کے اہل کے بجائے
غیر اہل کے حوالے کر دیا جائے تو پھر قیامت کا انتظار کرو۔(موقع: اھل الحدىث و الاثر،الشىخ ابن عثىمىن ، صحىح بخارى، شرح كتاب الرقاق)
مثال کے طور پر: اگر امارت (حکمرانی) کسی ایسے شخص کے سپرد کر دی جائے جو
دین سے دور ہو، حدود قائم نہ کرتا ہو، اپنے رشتہ داروں کی طرف داری کرتا ہو،
مالداروں کو نوازتا ہو اور کمزوروں پر ظلم ڈھاتا ہو وغىرہ ، تو ایسا شخص امارت کا
ہرگز اہل نہیں۔ جب اس کے حوالے امارت کر دی جائے تو پھر قیامت کا انتظار کرو۔
اسی طرح اگر کوئی وزیر ایسا ہو جو امت کو برائی، اخلاقی فساد اور معاشرتی
انحطاط کی طرف لے جائے، تو وہ بھی اس منصب کا اہل نہیں۔ پس جب اس کے سپرد معاملہ
کر دیا جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔
اسی طرح کوئی ایسا سربراہ جو نہ اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اور
نہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق، اور اس کے باوجود مسلمانوں کے معاملات اس کے سپرد
کر دیے جائیں، تو وہ بھی نااہل ہے۔ جب ایسے شخص کو ذمہ داری دی جائے تو قیامت کا
انتظار کرو۔
اسی طرح ایک مدیر (منتظم) کو لے لیجیے جس کے سپرد انتظامی امور کر دیے
جائیں، حالانکہ وہ نہ فنی لحاظ سے انتظام جانتا ہو اور نہ تربیتی اعتبار سے اہل
ہو، لیکن وہ وزیر کا قریبی یا جان پہچان والا ہونے کی وجہ سے اس منصب پر بٹھا دیا
گیا ہو—تو ہم کہیں گے کہ یہ بھی امانت کو ضائع کرنے میں داخل ہے۔
بلکہ نبی کریم ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جب کوئی شخص کسی کو کسی جماعت پر اس
حال میں مقرر کرے کہ ان میں اس سے بہتر لوگ موجود ہوں، تو اس نے اللہ، اس کے رسول
ﷺ اور تمام مومنین کے ساتھ خیانت کی۔ یعنی اگر تم کسی جماعت پر کسی ایسے شخص کو
مقرر کرو جبکہ اس منصب کے لیے اس سے زیادہ بہتر لوگ موجود ہوں، تو یہ اللہ، اس کے
رسول اور مومنین کے ساتھ خیانت ہے۔
اگر اس اصول کو آج کے ہمارے حالات پر منطبق کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ
امانت تقریباً مکمل طور پر ضائع ہو چکی ہے—الا یہ کہ اللہ چاہے—اور معاملات نااہل
لوگوں کے سپرد کیے جا رہے ہیں یا کیے جا چکے ہیں۔ رشتہ داروں کی رعایت کی جاتی ہے،
دوستوں کو نوازا جاتا ہے، بااثر لوگوں کو ترجیح دی جاتی ہے، اور یہی اصل مسئلہ ہے۔
لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ اب ہم قیامت کے منتظر ہیں—چاہے وہ ہلاکت کی گھڑی ہو
یا وہ قیامت جس کا قیام ہونا ہے—کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے شرط اور جزا کو آپس میں جوڑ
دیا ہے: شرط ہے امانت کا ضائع ہونا، اور اس کا نتیجہ (مشروط) قیامت ہے۔(موقع: اھل الحدىث و الاثر،الشىخ ابن عثىمىن ، صحىح بخارى، شرح كتاب الرقاق)
اب سوال یہ ہے کہ ان ذمہ داریوں کا اصل اہل کون ہے؟
اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق: إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ “بے شک بہترین شخص جسے تم ملازم رکھو وہ ہے جو قوی (قابل) اور امانت دار
ہو۔” (القصص: 26)
اہل وہ لوگ ہیں جو مضبوط اور باصلاحیت ہوں، جو ان بوجھوں کو اچھی طرح
اٹھانے اور ان ذمہ داریوں کو صحیح انداز میں نبھانے کی قدرت رکھتے ہوں۔ اس کے ساتھ
ساتھ ان میں پختہ دین داری، نیکی، استقامت اور اصلاح کی صفات بھی پائی جاتی ہوں،
اور دیگر متعلقہ اوصاف بھی موجود ہوں۔(موقع خالد
السبت )
فوائد و مسائل:
· حکمرانوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر امین بنایا ہے
اور ان پر خیرخواہی لازم کی ہے۔ اگر وہ ذمہ داریاں نااہل لوگوں کے سپرد کریں تو
انہوں نے امانت کو ضائع کر دیا۔
· قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک خائن کو امین نہ
سمجھا جانے لگے، اور یہ اس وقت ہوگا جب جاہل لوگ غالب آ جائیں اور اہلِ حق کمزور
ہو جائیں کہ وہ حق کو قائم اور اس کی نصرت نہ کر سکیں۔
· سائل کو تعلیم دینا مشروع ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
“سوال کرنے والا کہاں ہے؟”
· جب سائل بات نہ سمجھے تو وہ عالم سے دوبارہ سوال کر سکتا
ہے، جیسا کہ اس نے پوچھا: “امانت کو ضائع کرنا کیسے ہوگا؟”
· عالم، قاضی اور ان جیسے ذمہ دار افراد کے لیے ضروری ہے کہ
وہ ترتیب اور اولویت کا لحاظ رکھیں، یعنی جو کام پہلے شروع ہو چکا ہو اسے پہلے
مکمل کریں۔ چنانچہ یہاں صحابۂ کرام کو دی جانے والی نصیحت کو مکمل کرنا سوال کے
جواب دینے پر مقدم رکھا گیا۔(موقع : موسوعة
الاحادىث النبوىة، حدىث اذا وسد الامر...)
· اس حدیث میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سوال کرنے والے کے
ساتھ نرمی برتنی چاہیے، اگرچہ وہ سوال میں سختی کرے یا جہالت کا مظاہرہ کرے۔
· اسی طرح اس میں طالبِ علم اور سائل کی قدر و اہمیت اور
اس کے ساتھ حسنِ توجہ کا بیان ہے، اور اس کے سوال کا جواب دینا بھی ضروری ہے۔
· مزید یہ کہ بڑی امانتوں میں سے ایک اہم امانت یہ ہے کہ
معاملات کو ان کے اہل لوگوں کے سپرد کیا جائے، اور اس كو ضائع كرنا دراصل امانت میں خیانت اور اس کو ضائع کرنا ہے۔(موقع الدرر السنية)
دور حاضر مىں
امانت كا ضىاع اور نا اہلوں كى قىادت و سىادت :
اس بابت دور حاضر مىں مسلمانوں كے
حالات كا جائزہ لىنے سے معلوم ہوتا ہے كہ موجودہ زمانہ مىں ان كے ىہاں امانت و دىانت كا زبردست فقدان ہے اور وہ تقرىبا مكمل طور سے ضائع ہے ۔ ہر قوم و ملت ، ہر جگہ و علاقہ مىں اكثر نا اہلوں و نالائقوں كى قىادت و سىادت ہے اور وہى ہر جگہ ہر منصب پر
قابض ہىں ۔خواہ مشرق ہو ىا مغرب ، شمال ہو ىا جنوب، عرب ہو ىا عجم ہر جگہ امانت تقرىبا ناپىد ہوچكى ہے۔ كوئى مسجد ہو ىا مدرسہ ، كوئى تنظىم ہو ىا ادارہ، حكومت ہو ىا قضاء، سركارى
عہدہ ہو ىا غىر سركارى غرضىكہ چھوٹے سے
چھوٹا منصب ہو ىا بڑے سے بڑا ، بکثرت مقامات پر نااہل افراد کا غلبہ نظر آتا ہے جس
كا خمىازہ آج امت بگھت رہى ہے اور وہ دوسرى قوموں سے بہت سارے مىدانوں مىں بہت
پىچھے ہے اور انتہائى ذلىل و خوار ہے ۔ ان مىں باہمى اتحاد و اتفاق نہىں ہے، شرىعت كى تنفىذ نہىں ہے،
سائنس و ٹكنالوجى كى عمدہ تعلىم نہىں ہے ، ہر طرف لوٹ و كھسوٹ كا بازار گرم ہے اور اقتصادى ، ثقافتى، سىاسى و
فوجى استقلال كے بجائے انحصار ہے جس سے ىہ
قوم كافى حد تك غلامى كى زنجىروں مىں جكڑى ہوئى ہے ۔آج کے نام نہاد جمہور ی دور
میں یہ ساری باتیں خواب وخیا ل ہوکر رہ گئی ہیں۔
آج دنىا كے مختلف ملكوں و
حصوں مىں جو جنگ و جدال ، خونرىزى ، قتل و غارتگرى اور فساد برپا ہے اس كى بھى اىك اہم وجہ ىہى نا
اہلوں كى قىادت ہے ۔
اس پر كچھ زىادہ تحرىر كرنے كى ضرورت نہىں ہے اور ىہ روز روشن كى طرح بالكل
واضح ہے ۔ اور علامہ ابن عثىمىن كى رائے سى مىں كلى طور پر متفق ہوں ۔اور آج كى
حالت ہو بہو اس شعر كى طرح ہے:
برباد گلستاں كرنے كو صرف اىك ہى الو كافى تھا*** ہر شاخ پہ الو بىٹھے ہىں انجام گلستاں كىا ہوگا
اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ دنىا كے تمام مسلمانوں كو امانت كو ادا كرنے
اور نا اہلوں كے بجائے اہل و حقدار كو ذمہ دارىاں سونپنے كى توفىق عطا فرمائے تاكہ
ىہ امت اىك بار پھر اپنى عظمت رفتہ كو واپس لا سكے۔آمىن و ما علىنا الا البلاغ و
آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمىن۔
0 التعليقات: