اسلامى نظام معىشت:مسلمانوں كے تمام معاشى مسائل كے حل
كى گارنٹى (قسط 2)
Please visit: islahotaraqqi.com
مسلمانوں کے معاشی مسائل کا حل:
معاشى مسائل و اس كے اسباب و عوامل مىں جو كچھ بھى
ذكر كىا گىا ہے اس سے واضح طور پر علم ہوتا ہے كہ وہ مختلف انواع و اقسام كے ہىں
اور كافى مشكل و پىچىدہ ہىں، لىكن اىسا
نہىں ہے كہ ان كو حل كرنا اور ان پر قابو پانا ممكن نہىں ہے بلكہ اگر پختہ
عزائم،اىماندارى و صدق نىت، لازمى منصوبہ بندى و شفافىت كے ساتھ عمل كىا جائے تو ان كو حل كرنا بہت
آسان ہےكوئى مشكل نہىں ہے ۔اور تارىخ اسلامى مىں اس كے عملى نمونے موجود ہىں۔ خود
نبى كرىم نے ہجرت كے بعد مسلمانوں كے معاشى مسائل كو حل كرنے كےلىے انصار و
مہاجرىن كے درمىان اخوت كا رشتہ قائم كىا
اور تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیا ۔ ایک ٹیم موجود تھی جو اسلامی
فلاحی نظام پر پختہ یقین رکھتی تھی اس لئے اس ٹیم کے افراد نے ایک دوسرے کے لئے
قربانی دی اور اس طرح دو طبقوں میں جو غیر معقول معاشی فرق تھا وہ ختم ہو گیا۔ یہ
ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ان دنوں مدینہ منورہ کی معاشیات کا سارا انحصار یہودیوں کے
سودی کاروبار پر تھا جس طرح آج ہماری ساری معیشت سودی نظام پر قائم ہے ۔بالکل یہی
کیفیت اس دور میں بھی تھی۔ مگرنبى اکرم نے
مہاجرین سے یہ نہیں فرمایا کہ تم بھی یہودیوں سے سود پر قرض لے کر اپنا کاروبار
شروع کر دو کیونکہ اس طرح معاشی انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل ناممکن تھی۔ بلکہ
آپﷺ نے انصار مدینہ سے فرمایا کہ اپنے بھائیوں کی مدد کرو اور پھر قرض حسنہ کا
نظام رائج فرمایا اور جب معاشرے کے افراد عملاً باہمی تعاون کے ذریعے بلا سود
قرضوں پر معیشت کو قائم کرنے میں لگ گئے تو آپﷺ نے سود کو مکمل طورپر حرام قرار دے
کر اس لعنت کو ختم کر دیا ۔
اس طرح سے آپ نے اىك اہم اقتصادى مسئلہ كو بہت ہى
خوبصورتى كے ساتھ عمدہ انداز مىں حل كردىا
اور اىك عملى نمونہ تا قىامت مسلمانوں كے لىے چھوڑ دىا ۔اب اگر ىہى اسپرٹ
آج كے مسلمانوں مىں پىدا ہوجائے تو ان كے بہت سارے مسائل حل ہوسكتے ہىں۔
علاوہ ازىں مسلمانوں کو درپیش معاشی مسائل کے حل کے لیے مختلف حکمت
عملیوں اور اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہاں کچھ اہم تجاویز پیش کی جا رہی ہیں:
اسلامى نظام معىشت كو نافذ كرنا:
انفرادى، اجتماعى اور حكومتى ہر
سطح پر منصوبہ بندى كےساتھ اسلامى اقتصادى
نظام كو نافذ كرنا ضرورى ہے كىونكہ معاشى مسائل و دشوارىوں كو دور كرنے كا اس سے
بہتر و افضل اور كوئى طرىقہ نہىں ہے۔اسى كے ذرىعہ تمام معاشى مسائل و دشوارىوں پر
قابو پاىا جاسكتا ہے۔اس كےلىے ضرورى ہے كہ حلال تجارت كو فروغ دىا جائے، سود
سے پاك نظام قائم كىا جائے، نظام زكوة و
اوقاف كو صحىح شكل و صورت مىں بحال كركے اس كو فعال بناىا جائےوغىرہ ، اور اس امر مىں كوئى شبہ نہىں ہے كہ اسلامی معیشت تمام غىر اسلامى معاشى مشكلات و مسائل کے حل کے لیے واضح راہِ عمل فراہم کرتی ہے، اس لىے ىہاں
بعض غىر اسلامى معاشى مسائل اور ان
كے بدىل و حل كا ذكر
كىا جا رہا ہے :
معاشى مسئلہ
اسلامى حل
سودى معىشت: مضاربہ ، مشاركہ اور اسلامى بىنكارى
دولت كا ارتكاز: زكوة و صدقات اور وراثت كے عادلانہ اصول
غربت:
بىت المال ، وقف، اجتماعى انفاق
بے روزگارى:
ہنرمندى، عدل پر مبنى كاروبار، محنت كى ترغىب
طبقاتى فرق :
دولت
كى عادلانہ تقسىم، وراثت كے اسلامى اصول
بىمہ :
اسلامى تكافل ، بىت المال
كرپشن و بے اىمانى:
تقوى ، امانت دارى و احتساب
اخلاقى زوال:
اسلامى تربىت ، حلال روزى كى تاكىد
ان بدائل و حلول كى
تفصىلات اور ان كےنفاذ و عملدرآمد كے طرىقوں كو جاننے كے لىے معاشىات كى كوئى كتاب خصوصا درج ذىل كتابوں كا مطالعہ كىا
جائے۔
اسلام اور
جدىد معاشى تصورات، پروفىسر ڈاكٹر محمد نعىم صدىقى
اسلام اور جدىد معاشى نظرىات: سىد ابو الاعلى مودودى
اسلام كا معاشى نظام: پروفىسر غلام رسول چىمہ
ىہ تىنوں كتابىں بہت اہم ہىں اور انٹرنىٹ پر بھى دستىاب ہىں خصوصا موقع كتاب و سنت .كام پر۔
https://www.kitabosunnat.com/
ىہاں ىہ ذكر كرنا انتہائى ضرورى ہے كہ
متعدد ماہرىن اقتصاد كا مختلف دراسات و اسٹڈىز كى بنىاد پر كہنا ہے كہ تنہا زكوة سے صرف مسلمانوں ہى كى نہىں
بلكہ پورى دنىا كى غربت و بےروزگارى كو ختم كىا جا سكتا ہے۔
زکاة : غربت کے
خاتمے کا یقینی اسلامی حل
اگر اسلامی ممالک
میں موجود تمام مالی اثاثوں - جیسے نقد رقم، مالیاتی مشتقات، معدنیات، فیکٹریاں،
پٹرول، گیس، عام اور عسکری صنعتیں وغیرہ - پر 2.5٪ زکاة باقاعدگی سے نکالی جائے تو اس کی
مجموعی مالیت تقریباً 3 ٹریلین 370 ارب امریکی ڈالر سالانہ تک پہنچتی ہے۔اور عالمی اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں غربت کی شرح 10٪ سے کم ہے۔اور روزانہ 1.5 ڈالر سے کم آمدنی والے افراد کی تعداد تقریباً 702 ملین (70 کروڑ 20 لاکھ) ہے۔
اس لحاظ سے، اگر زکاة کی رقم صحیح طریقے سے جمع اور تقسیم کی جائے، تو دنیا
بھر کے تمام غریبوں کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں، اور زمین پر کوئی فقیر باقی نہیں
رہے گا۔
یہ تمام اعداد و شمار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ اگر اسلامی ممالک اور
ان کے مالدار افراد زکاة کے نظام کو مؤثر، منظم اور شفاف انداز میں نافذ کریں،تو
دنیا کے تمام غریب مسلمانوں کی بنیادی ضروریات
خوراک، علاج، تعلیم اور رہائش با
آسانی پوری کی جا سکتی ہیں۔
ماہر اقتصاد سیف کے بقول :اگر اسلامی ممالک زکوٰۃ فنڈ کے قیام اور شفاف نظم
کو اپنائیں تو یہ ایک جادوئی حل ثابت ہوگا،جو مسلم دنیا کی معیشت کو نئی زندگی دے
گا اور غربت کا خاتمہ کر دے گا۔
اب اس کا مطلب ہے كہ اگر مسلمان
صرف اپنی واجب زکوٰۃ صحیح طور پر ادا کریں تو ہم دنیا بھر کے فقر کی ضرورت کا کم
از کم: 70٪ حصہ پورا
کر سکتے ہیں، اور اگر زکوٰۃ کو اسلامی طرز پر ادارہ جاتی نظام (یعنی
بیت المال) کے ذریعے منظم کیا جائے، تو ہم 100٪ تک فقر کا
خاتمہ کر سکتے ہیں۔
یہ تو صرف زکوٰۃ کی بات ہے -ہم نے صدقہ، وقف، کفالت اور تعاونِ باہمی جیسے
اسلامی معاشرتی انصاف کے دیگر ذرائع کا ذکر ابھی کیا ہی نہیں۔
درحقیقت، زکوٰۃ محض عبادت نہیں بلکہ اسلامی معیشت کا بنیادی ستون ہے، جسے
اللہ تعالیٰ نے اس لیے فرض کیا تاکہ معاشرے میں عدل، توازن اور عزتِ نفس قائم
ہو۔یقیناً درست کہا گیا ہے: اگر زکوٰۃ اپنے حق کے مطابق ادا کی جائے تو ہمارے درمیان کوئی
غریب باقی نہ رہے گا۔(تفصىل كے لىے دىكھىے: زكاة المال.. أداة ناجعة للقضاء على الفقر والجوع بالدول
الإسلامية، الخلىج اونلاىن، سلمى حداد، 9-4-2022)
اس كى تصدىق اقوامِ متحدہ کے رپورٹ سے بھى
ہوتى ہے جس كے مطابق، دنیا سے شدید غربت اور بھوک کے خاتمے کے لیے 300 ارب ڈالر
درکار ہیں، جو کہ پائیدار ترقی کے پہلے دو اہداف (Sustainable
Development Goals) کے حصول کے لیے ضروری ہیں۔
اگر دنیا کے تمام لوگ اپنی دولت کا صرف 2.5 فیصد زکوٰۃ کی صورت میں ادا
کریں، تو ہم سب مل کر غربت کا خاتمہ کر سکتے ہیں(موقع :https://themuslimvibe.com/faith-islam/did-you-know-zakat-can-eradicate-poverty)
تعلیم و تربىت مىں سرماىہ كارى :
تعلیمی نظام کی اصلاح: تعلیمی
نظام میں بہتری لانے کے لیے نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔ جدىد
سائنس،ٹىكنالوجى، اور ہنر سكھانے والے اداروں كو فروغ دىنا، فنی اور پیشہ ورانہ
تعلیم پر زور دینا چاہیے تاکہ نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارتیں
فراہم کی جا سکیں۔
تعلیم تک رسائی: خاص طور پر دیہی علاقوں میں تعلیم تک
رسائی کو بہتر بنانا، تاکہ ہر بچے کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔
بے روزگاری کا خاتمہ زكوة كے علاوہ :
ملازمت کے مواقع پیدا کرنا: حکومتوں کو چھوٹے اور
درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کی ترقی کے لیے پالیسیاں بنانی چاہئیں تاکہ نئے ملازمت
کے مواقع پیدا ہوں۔
کاروباری تربیت: نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کے لیے
تربیت اور مالی مدد فراہم کرنا۔
بدعنوانی کا خاتمہ:
شفافیت اور احتساب: حکومتی اداروں میں شفافیت اور احتساب
کو فروغ دینا۔ بدعنوانی کے خلاف سخت قوانین اور ان کی مؤثر عمل درآمد کو یقینی
بنانا اور انصاف پر مبنى پالىسى بنانا۔
عوامی آگاہی: عوام میں بدعنوانی کے خلاف آگاہی پیدا کرنا
تاکہ لوگ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکیں۔
سیاسی استحکام:
جمہوری اداروں کی مضبوطی: سىاسى اداروں کو مضبوط بنانا اور سیاسی استحکام کو
فروغ دینا تاکہ معیشت میں بہتری لائی جا سکے۔
مکالمہ اور مفاہمت: مختلف سیاسی جماعتوں اور گروہوں کے درمیان مکالمہ اور
مفاہمت کو فروغ دینا۔
اجتماعی فلاح و تعاون کا فروغ :
اوّلین مسلم دور کی طرح بیت المال اور اجتماعی کفالت کا نظام قائم کرنا۔
مخیر حضرات اور اداروں کو غربت کے خاتمے میں کردار دینا۔
صحت کی خدمات کی بہتری:
صحت کی سہولیات کی فراہمی: صحت کی بنیادی سہولیات کو بہتر بنانا اور عوامی
صحت کے پروگرامز کو فروغ دینا۔
صحت کی آگاہی: صحت کے مسائل کے بارے میں عوامی آگاہی
بڑھانا تاکہ لوگ صحت مند طرز زندگی اختیار کریں۔
زراعت اور صنعت کی ترقی اور خود كفالت:
زرعی ترقی: جدید زراعتی تکنیکوں کا استعمال اور کسانوں
کو مالی مدد فراہم کرنا تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو۔
صنعتی ترقی: صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا
اور مقامی مصنوعات کی پیداوار کو بڑھانا۔
عالمی معیشت میں شمولیت:
تجارتی معاہدے: عالمی مارکیٹ میں شمولیت کے لیے تجارتی
معاہدوں کا فائدہ اٹھانا اور برآمدات کو بڑھانا۔
بین الاقوامی
تعاون: دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو فروغ دینا۔
خود انحصاری کی ترقی:
مقامی وسائل کا استعمال: مقامی وسائل اور مواد کا
استعمال بڑھانا تاکہ معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔
اىجاد اور
تحقیق:
تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کرنا تاکہ نئے کاروباری ماڈلز اور مصنوعات
کی تخلیق کی جا سکے۔
ىہ ہىں چند اہم حلول و تجاوىز جن كو اگر اىماندارى سے تسلسل كے ساتھ نافذ كىا جائے تو مسلمانوں كى اقتصادى قسمت
تبدىل ہو سكتى ہے، ان كے ىہاں خوشحالى،
سكھ اور چىن ، اطمىنان وسكون كا دور دورہ ہوسكتا ہے، فقر و فاقہ، غربت و
افلاس كا خاتمہ ہو سكتا ہےاور اىك نئے دور كا آغاز ہوسكتا ہے ۔لىكن اس كے لىے حکومتوں، غیر سرکاری تنظیموں، اور عوام سب کو
مل کر کام کرنا ہوگا، اىك جامع و مربوط حكمت عملى بنانى ہوگى اور سب
كو اپنى ذمہ دارىوں كو بحسن و خوبى ادا كرنا ہوگا تاکہ ان مسائل کا مؤثر حل تلاش
کیا جا سکے اور ایک مستحکم اور خوشحال معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
خاتمہ:
اس مقالہ كے اہم نتائج درج ذىل ہىں :---
اسلامى نظام معىشت افراط و تفرىط سے پاك دنىا كا سب سے افضل و بہتر ،جامع و عمدہ نظام ہےكىونكہ ىہ اللہ كا عطا كردہ نظام
ہے جس كى برابرى دنىا كا كوئى دوسرا نظام نہىں كرسكتا ہے اور نہ ہى اس كا مقارنہ و مقابلہ كسى دوسرے نظام سے كىا جا سكتا ہے ۔
عصرِ حاضر کے مسلمانوں کی معاشی حالت افسوسناک ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں کہ
وہ ترقی نہ کر سکیں۔اور ان کے معاشی مسائل
دراصل ایمان، اخلاق، اسلامى نظام معىشت اور نظم و عدل سے دوری کا نتیجہ ہیں۔ اگر مسلمان
قرآن و سنت کی ہدایات پر عمل کریں، ان دونوں کی روشنی میں
معیشت کو منظم کریں، علم و عمل کو فروغ دیں، حلال کمائی کو اپنائیں، سود سے بچیں،
اور عدل و مساوات کو قائم کریں اور اجتماعی انصاف کا نظام قائم کریں، تو وہ دوبارہ
دنیا میں ایک مضبوط اور خوشحال قوم بن سکتے ہیں۔
معاشی مسائل کا حقیقی حل محض معاشی پالیسیوں میں نہیں بلکہ اسلامی اصولوں
کی واپسی، اخلاقی اصلاح، اور اجتماعی عدل کے قیام میں ہے۔ جب مسلمان قوم امانت،
دیانت اور عدل کو اپنائے گی، سود سے بچے گی، اور زکوٰۃ و خیرات کے نظام کو زندہ
کرے گی، تب حقیقی معاشی خوشحالی نصیب ہوگی۔
اسلامی نظامِ معیشت محض نظری نظام نہیں، بلکہ ایک عملی، عادلانہ، اور ربانی
فریم ورک ہے۔یہ نہ صرف معاشرے میں دولت کی منصفانہ گردش کو یقینی بناتا ہے بلکہ
روحانی سکون، معاشرتی عدل، اور معاشی استحکام کو بھی فروغ دیتا ہے۔
اسلامی نظامِ معیشت دراصل ایک مکمل، جامع اور ربانی نظام ہے جو انسان کی
معاشی، اخلاقی اور سماجی ضرورتوں کو عدل و توازن کے ساتھ پورا کرتا ہے۔ اگر آج کے
مسلمان اس نظام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کریں تو وہ ہر قسم کی
معاشی پریشانی، غربت اور محرومی سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی لیے کہا جا سکتا ہے
کہ "واقعى اسلامی نظامِ معیشت مسلمانوں کے تمام معاشی مسائل کے حل کی گارنٹی
ہے"۔و ما علىنا الا البلاغ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمىن
مصادر و مراجع:
قرآن كرىم ،بخارى
،مسلم ،مسند الامام احمد بن حنبل ،سلسلہ احادىث صحىحہ
اسلام اور
جدىد معاشى تصورات، پروفىسر ڈاكٹر محمد نعىم صدىقى ،لاہور: جدىد مكتبہ دانىال،
ستمبر 2015ع .
اسلام اور جدىد معاشى نظرىات: سىد ابو الاعلى مودودى ، لاہور: اسلامك
گبلىكىشنز لمٹىڈ، فرورى 1969ع.
اسلام كا معاشى نظام: پروفىسر غلام رسول چىمہ، لاہور: علم و عرفان پبلشرز،
2007ع .
موقع: كتاب و
سنت.كام، تعارف بركتاب : ادهار كے معاملات، شىخ محمد صالح العثىمىن، ترجمہ:حافظ
احمد حماد، لاہور: مكتبہ اسلامىہ، جنورى 2009ع.
مسلمان ممالك مىں بىروزگارى سوال كا جواب، مصنوعى ذہانت كا جائزہ بتارىخ
1-11-2025 بوقت سات بجے شام
عصر حاضر میں مسلمانوں کی سیاسی ابتری اور اس کا تدارک:
سیرتِ طیبہﷺ کی روشنی میں،Rahat-ul-Quloob > Volume 2 Issue 1 of
Rahat-ul-Quloobhttps://journals.asianindexing.com/article.php?id=1682060029185_983)
تقويم الأزمات الاقتصادية والاجتماعية في الاقتصاد الإسلامي د. أحمد علي السّبع، مجلة اوراق ثقافىة، بىروت،https://www.awraqthaqafya.com/2534
الدول الإسلامية الفقيرة، الاثنين 09 يونيو 2014 ، عبدالعزيز محمد النهاري، عكاظ
زكاة المال.. أداة ناجعة للقضاء على الفقر والجوع بالدول الإسلامية، الخلىج
اونلاىن، سلمى حداد، 9-4-2022
قائمة الدول حسب معدل البطالةhttps://ar.wikipedia.org/wiki
أرقام حول البطالة في الدول الاسلامية، الشروق مىڈىا،https://echourouqmedia.net/?q=node/1406
https://en.wikipedia.org/wiki/List_of_countries_by_external_debt
https://themuslimvibe.com/faith-islam/did-you-know-zakat-can-eradicate-poverty
0 التعليقات: