دنیا و آخرت دونوں میں
امن کے لیے شرک کا چھوڑنا ضروری ہے
Please visit: islahotaraqqi.com
ابو میمونہ
آیت: ﴿وَحَآجَّهُۥ قَوْمُهُۥ قَالَ أَتُحَـٰٓجُّوٓنِّى فِى ٱللَّهِ وَقَدْ هَدَىٰنِ وَلَآ أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِۦٓ إِلَّآ أَن
يَشَآءَ رَبِّى شَيْـًٔا وَسِعَ رَبِّى
كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا أَفَلَا
تَتَذَكَّرُونَ﴾ ﴿وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ
أَشْرَكْتُم بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ عَلَيْكُمْ سُلْطَـٰنًا فَأَىُّ ٱلْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ
بِٱلْأَمْنِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴾ ﴿ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوٓا إِيمَـٰنَهُم بِظُلْمٍ
أُولَـٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ﴾ (انعام/80-82)
ترجمہ: اور ان کی قوم نے ان سے بحث و تکرار
کی۔ انہوں نے فرمایا: "کیا تم
اللہ کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے ہو، حالانکہ وہ مجھے ہدایت عطا فرما چکا ہے؟ اور
میں ان چیزوں سے نہیں ڈرتا جنہیں تم اس کا شریک ٹھہراتے ہو، مگر یہ کہ میرا رب کچھ
چاہے۔ میرا رب اپنے علم کے اعتبار سے ہر
چیز کو محیط ہے۔ کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟اور میں ان چیزوں سے کیسے
ڈروں جنہیں تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے، جبکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے
اللہ کے ساتھ ایسی ہستیوں کو شریک ٹھہرا دیا ہے جن کے حق میں اس نے تم پر کوئی
دلیل نازل نہیں کی؟ پس اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ دونوں گروہوں میں سے امن کا
زیادہ حق دار کون ہے؟جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم (یعنی شرک)
کے ساتھ آلودہ نہیں کیا، یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے امن ہے اور یہی ہدایت یافتہ
ہیں۔
معانی کلمات:
تحاجونی: یہ حاج(جیم پر تشدید) سے فعل مضارع ہے جس کا معنى : جھگڑنا, تکرار
کرنا اور بحث و مناظرہ کرنا ہے ۔
سلطانا: حکمراں, بادشاہ, غلبہ و
اقتدار, سلطنت, حکومت, حجت , دلیل , برہان
۔ یہاں حجت و دلیل مراد ہے ۔
احق: یہ حق سے اسم تفضیل ہے بمعنى
زیادہ حقدار , زیادہ مستحق ۔
لم یلبسوا: یہ لبس سے فعل مضارع ہے اس کا معنى ملانا, اختلاط و خلط ملط کرنا ہے ۔(موقع المعانی)
تفسیر:
جب حضرت ابراہیم
علیہ السلام نے اپنی قوم کو توحید کا پیغام دیا، اس کے واضح دلائل بیان کیے، جن کا
ذکر اس سے پہلے کی آیتوں میں ہے، اور جن میں ان کے خود ساختہ معبودوں کی تردید بھی
تھی، تو مشرکین نے آپ سے حجت کی اور آپ کے ساتھ بحث و مناظرہ کیا۔ چنانچہ ان آیات
میں اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی قوم کے درمیان ہونے والی بعض
بحثوں اور مناظروں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿وَحَاجَّهُ
قَوْمُهُ﴾
"اور ان کی قوم نے ان سے بحث و تکرار کی۔"
محاجّہ سے مراد
دلیل قائم کرنے میں باہمی مناظرہ اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرنا ہے۔ اور
حجت اس واضح دلیل کو کہتے ہیں جو انسان کو محجّہ، یعنی سیدھے اور واضح مقصد تک
پہنچا دے ۔ نیز حجت ہر اس دلیل کو بھی کہتے ہیں جو دو فریقوں میں سے ہر ایک اپنے
دعوے کو ثابت کرنے یا اپنے مخالف کے دعوے کو رد کرنے کے لیے پیش کرے۔
پس ﴿وَحَاجَّهُ
قَوْمُهُ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ ان کی قوم نے ان سے بحث و مناظرہ کیا، ان سے جھگڑا
کیا، یا توحید کے معاملے میں ان پر غالب آنے کی کوشش شروع کر دی۔ کبھی وہ تقلیدِ
آباء و اجداد کی پستی میں گری ہوئی باطل دلیلیں پیش کرتے تھے، اور کبھی دھمکی اور
خوف دلانے کا طریقہ اختیار کرتے تھے۔ چنانچہ قرآن نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت
ابراہیم علیہ السلام نے انہیں بتوں کی عبادت سے روکا تو انہوں نے کہا:﴿وَجَدْنَا آبَاءَنَا كَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ﴾"ہم نے اپنے باپ
دادا کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے پایا ہے۔"(الوسیط
للطنطاوی)
یہ آیت واضح دلیل ہے کہ مشرکین نے بھی اپنے شرک کے لیے کجھ نہ کچھ دلائل
تراش رکھے تھے ۔ جس کا مشاہدہ آج بھی کیا جا سکتا ہے ۔ جتنے بھی مشرکانہ عقائد
رکھنے والے گروہ ہیں , سب نے اپنے اپنے عوام کو مطمئن کرنے اور رکھنے کے لیے
ایسے سہارے تلاش کر رکھے ہیں جن کو وہ دلائل سمجھتے ہیں یا جن سے کم از کم دام تزویر میں پھنسے ہوئے
عوام کو جال میں پھنسائے رکھا جا سکتا ہے ۔(تفسیر احسن البیان)
اس پر حضرت
ابراہیم علیہ السلام نے نہایت مضبوط اور بے باک جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّهِ وَقَدْ
هَدَانِ﴾یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں، اور اس کی وحدانیت کی دلیلوں کے
بارے میں مجھ سے جھگڑتے ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ مجھے راہِ حق کی ہدایت دے چکا ہے
اور مجھے اس بات کی دلیل قائم کرنے کی توفیق عطا کر چکا ہے کہ عبادت کا حقیقی
مستحق صرف وہی ہے؟
یہ استفہام انکار،
سرزنش اور اس بات سے انہیں مایوس کر نے کے لیے ہے کہ وہ ان کے باطل عقائد کی طرف
واپس ہوں گے۔
اور ﴿وَقَدْ
هَدَانِ﴾ کا جملہ حال ہے، جو اس انکار کو مزید مؤکد کرتا ہے، یعنی تمہارا مجھ سے
مناظرہ کرنا کسی فائدے کا نہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ مجھے سیدھے راستے کی ہدایت عطا
کر چکا ہے اور مجھے بتوں سے نفرت کرنے والا اور انہیں حقیر سمجھنے والا بنا چکا
ہے۔ (الوسیط للطنطاوی)
پھر حضرت ابراہیم
علیہ السلام نے ان کے سامنے صاف صاف اعلان کر دیا کہ وہ ان کے بتوں سے ہرگز نہیں
ڈرتے اور نہ ہی ان کی کوئی حیثیت یا وقعت سمجھتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا:﴿وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ﴾یعنی
میں ان معبودوں سے نہیں ڈرتا جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو؛ کیونکہ وہ بے جان
چیزیں ہیں، نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں، نہ نفع دے سکتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں، نہ سنتی
ہیں، نہ کسی کو اللہ کے قریب کر سکتی ہیں اور نہ سفارش کر سکتی ہیں۔
ایسا معلوم ہوتا
ہے کہ ان کی قوم نے انہیں اپنے بتوں کے غضب سے ڈرایا تھا اور کہا تھا، جیسا کہ
قومِ عاد نے اپنے نبی حضرت ہود علیہ السلام سے کہا تھا:﴿إِن نَّقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ
آلِهَتِنَا بِسُوءٍ﴾ "ہم تو
بس یہی کہتے ہیں کہ ہمارے بعض معبودوں نے تمہیں کوئی آسیب پہنچا دیا ہے۔"۔ (تفسیر ابن کثیر و الوسیط
للطنطاوی)
اس پر حضرت
ابراہیم علیہ السلام نے انہیں یہ نہایت مضبوط اور دوٹوک جواب دیا۔
اور اللہ تعالیٰ
کا یہ فرمان:﴿إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا﴾یہ
استثناءِ منقطع ہے، یعنی نفع اور نقصان پہنچانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے، اس کے
سوا کوئی اور نہیں۔(تفسیر
ابن کثیر)
یہ مبارک جملہ
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے رب کے ساتھ بلند ترین ادب اور اس کی مشیت کے
سامنے کامل سپردگی کو ظاہر کرتا ہے۔ چنانچہ اگرچہ وہ اپنے خالق پر کامل ایمان
رکھتے تھے اور ان معبودانِ باطل سے مکمل طور پر بیزار تھے، پھر بھی انہوں نے ہر
معاملہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے سپرد کر دیا اور اپنے مستقبل کو اسی کی مرضی کے
ساتھ وابستہ رکھا۔(الوسیط للطنطاوی)
اور اللہ تعالیٰ
کا یہ فرمان:﴿وَسِعَ
رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا﴾ یعنی میرے رب کا علم ہر چیز کو اپنے احاطے میں لیے
ہوئے ہے اور ہر شے پر محیط ہے، اس لیے بعید نہیں کہ اس کے علم میں کسی سبب سے ان
باطل معبودوں کی طرف سے مجھے کوئی ایسی تکلیف پہنچنا بھی مقدر ہو جسے وہ چاہے۔
یہ جملہ استئنافِ
بیانی کے طور پر آیا ہے۔ گویا ان کی قوم نے کہا ہو: "تمہارا رب کیسے ایسی کوئی چیز چاہ سکتا ہے
جس سے تم ڈرو؟" تو اس
کے جواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:﴿وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا﴾ یعنی
میرا رب ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے۔ میں اگرچہ اس کا بندہ ہوں اور وہ میرا
مددگار ہے، لیکن وہی بہتر جانتا ہے کہ اپنے بندوں میں سے کس کو کب اور کس انداز
میں نفع یا نقصان پہنچانا اس کی حکمت کے مطابق ہے۔
لفظ ﴿عِلْمًا﴾
تمییز کی بنا پر منصوب ہے، جو اصل میں
فاعل سے منتقل ہو کر آئی ہے؛ کیونکہ اس تعبیر کی اصل یہ تھی کہ کہا جاتا: "وَسِعَ عِلْمُ
رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ" (میرے
رب کا علم ہر چیز پر محیط ہے)، لیکن اس اسلوب کو چھوڑ کر فعل کو خود اللہ تعالیٰ
کی طرف منسوب کیا گیا، نہ کہ اس کے علم کی طرف، اور لفظ "علمًا" کو فاعل بنانے کے بجائے تمییز قرار دیا
گیا، تاکہ وسعت، احاطہ اور شمول کا تعلق براہِ راست اللہ تعالیٰ کی ذات سے قائم
ہو، اور اس طرح یہ تعبیر زیادہ جامع، زیادہ باوقار اور نفس پر زیادہ گہرا اثر
ڈالنے والی بن جائے۔(الوسیط للطنطاوی)
اور اللہ تعالیٰ
کا یہ فرمان:﴿أَفَلَا
تَتَذَكَّرُونَ﴾ یعنی اے غفلت میں پڑے ہوئے لوگو! تم غور و فکر اور نصیحت حاصل کرنے سے منہ موڑتے ہو جبکہ میں نے تمہارے سامنے ایسے دلائل واضح کر
دیے ہیں جن میں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے،
اور اس کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ اپنے لیے بھی نہ نفع کے مالک ہیں اور نہ
نقصان کے؟
پس یہاں استفہام
انکار اور سرزنش کے لیے ہے، کیونکہ اتنے واضح دلائل کے باوجود انہوں نے نصیحت قبول
نہ کی۔
اور یہاں " تفکر و اس
کے مثل لفظ استعمال کرنے کے بجائے تذکر کا لفظ استعمال ہوا ہے ، تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان معبودانِ
باطل کا باطل ہونا انسانی عقلوں میں پہلے ہی سے راسخ ہے، اسے سمجھنے کے لیے نئے
غور و فکر سے زیادہ صرف یاد دہانی اور تنبیہ کی ضرورت ہے۔(الوسیط للطنطاوی)
پھر قرآنِ کریم نے
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ بات نقل کی کہ جب انہوں نے اپنی قوم کے سامنے صاف
صاف یہ اعلان کر دیا کہ وہ ان کے معبودوں سے نہیں ڈرتے، تو اس کے بعد انہوں نے ان
کا مذاق اڑاتے ہوئے اور ان کی حالت پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا؛ کیونکہ وہ
انہیں ایسی چیز سے ڈرا رہے تھے جو ڈراؤنا نہیں ہے اور جس سے ڈرنے کی کوئی وجہ ہی نہ تھی۔ چنانچہ انہوں
نے کہا:﴿وَكَيْفَ
أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُمْ بِاللَّهِ مَا
لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا﴾
یعنی تمہارے لیے یہ کیسے جائز اور قابلِ تصور ہو گیا کہ تم یہ گمان کرو کہ
میں تمہارے باطل معبودوں سے ڈرتا ہوں، حالانکہ ہم ان کی جانب سے خوف سے امن میں
ہیں اور وہ
خوف کے بالکل لائق نہیں، کیونکہ نہ وہ کسی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ نفع دے
سکتے ہیں؟ جبکہ تم خود اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اپنے خالق اللہ کے ساتھ شرک
کیا ہے، حالانکہ اس شرک کے حق میں تمہارے پاس نہ عقل کی کوئی دلیل ہے اور نہ نقل
کی کوئی برہان۔
پس یہاں استفہام،
انکار اور اظہارِ تعجب کے لیے ہے؛ یعنی تعجب اس بات پر ہے کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ
السلام کے اس امن کو ناپسند کرتے تھے جو حقیقتاً امن ہی کا مقام تھا، جبکہ اپنے
لیے اس بے خوفی کو معیوب نہیں سمجھتے تھے جو سب سے زیادہ خوفناک اور ہولناک مقام،
یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے، میں اختیار کیے ہوئے تھے۔
بعض علماء نے
فرمایا ہے کہ جملہ:﴿وَكَيْفَ
أَخَافُ...﴾کا
عطف اس سے پہلے والے جملے:﴿وَلَا
أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ﴾پر ہے، تاکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں یہ
بتائیں کہ ان کے معبودوں سے نہ ڈرنا اتنی تعجب کی بات نہیں، جتنی تعجب کی بات یہ
ہے کہ وہ خود اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔
اس سے یہ بھی
معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم اللہ تعالیٰ کے وجود کو مانتی
تھی، لیکن الوہیت میں اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتی تھی۔ اسی لیے حضرت
ابراہیم علیہ السلام نے ان پر یہ حجت قائم کی کہ تم اس رب کے ساتھ، جسے تم خود بھی
مانتے ہو، دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو، حالانکہ اس شرک کے حق میں اللہ تعالیٰ نے تم
پر کوئی دلیل یا سند نازل نہیں فرمائی۔(الوسیط للطنطاوی)
علامہ آلوسی رحمہ
اللہ کا کہنا ہے :
"اللہ
تعالیٰ کا فرمان: ﴿وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ﴾، شیخ الاسلام کے بقول، ایک
استئناف (نیا جملہ ) ہے، جس کا مقصد حضرت ابراہیم علیہ السلام سے خوف کی نفی اس
انداز سے کرنا ہے جو کفار کے گمان کی بنیاد پر انہیں لازماً خاموش کر دے، اس کے
بعد کہ حقیقتِ واقعہ اور نفسِ امر کے اعتبار سے پہلے ہی خوف کی نفی کی جا چکی تھی۔
اور انکار کو خود
خوف پر متوجہ کرنے کے بجائے اس کی کیفیت پر متوجہ کرنے، یعنی یہ کہ 'میں کیسے
ڈروں؟'، میں وہ مبالغہ ہے جو اگر یوں کہا جاتا کہ 'کیا میں ڈروں؟' تو حاصل نہ
ہوتا؛ کیونکہ ہر موجود کی کوئی نہ کوئی کیفیت ہوتی ہے، پس جب خوف کی تمام ممکنہ
کیفیات کی نفی کر دی گئی تو برہانی طریقے سے ہر اعتبار سے خود خوف کی بھی مکمل نفی
ثابت ہو گئی۔"
اور اللہ تعالیٰ
کے فرمان:﴿مَا
أَشْرَكْتُمْ﴾میں "ما" موصولہ ہے، اور اس
کا صلہ محذوف ہے، یعنی اصل عبارت "ما
أشركتم بہ" ہے،
یعنی "جنہیں تم نے اللہ
کا شریک ٹھہرایا ہے۔"
پھر حضرت ابراہیم
علیہ السلام نے اس انکاری اور تعجب آمیز اندازِ بیان پر اس نتیجے کو مرتب فرمایا
جو لازماً اس سے پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا:﴿فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ
إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾
یعنی دونوں گروہوں
میں سے کون زیادہ اور حقیقی طور پر اس بات کا مستحق ہے کہ وہ ہر قسم کے نقصان
پہنچنے سے مامون و محفوظ ہو اور امن میں ہو : موحدین کا گروہ یا مشرکین کا
گروہ؟ اگر تمہیں اس کا علم ہے تو مجھے بتاؤ، اور دلائل و حجت کے ساتھ اسے واضح
کرو۔(الوسیط للطنطاوی)
یہاں شرط کا جواب
محذوف ہے، جس کی تقدیر یہ ہے کہ اخبرونی
بذلک: "مجھے
اس کا جواب دو۔"
یہ ان کو حق کا
اقرار کرنے پر مجبور کرنے کا ایک مؤثر اسلوب ہے، بشرطیکہ وہ عقل رکھنے والے ہوں یا
حق بات سننے کے لیے آمادہ ہوں، اور اس میں انہیں جواب دینے کی ترغیب بھی دی گئی
ہے۔
صاحب تفسیر المنار
کا قول ہے :
"حضرت
ابراہیم علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ: '" فأينا أحق بالأمن " ہم
دونوں میں سے کون زیادہ امن کا مستحق ہے؟' بلکہ فرمایا: ﴿فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ﴾
(دونوں گروہوں میں سے کون؟)۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ اس سے واضح ہو جائے کہ یہ تقابل
صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی قوم کے درمیان مخصوص نہیں، بلکہ ہر موحد
اور ہر مشرک کے درمیان عام ہے؛ کیونکہ ایک گروہ موحد ہے اور دوسرا مشرک۔ اس طرح یہ
تعبیر خود امن کے استحقاق کی علت کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
اور یہ بھی کہا
گیا ہے کہ اس اسلوب کی حکمت اپنی تعریف اور تزکیۂ نفس سے بچنا ہے۔ نیز یہاں اسمِ
تفضیل اپنے حقیقی معنی میں نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ دونوں میں سے کون حقیقتاً امن
کا مستحق ہے۔ لیکن اسمِ تفضیل اس لیے اختیار کیا گیا تاکہ انہیں اس انتہا درجے کے
باطل دعوے سے، کہ صرف وہی امن کے مستحق ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام خوف کے
مستحق ہیں، ایک درمیانی اور منصفانہ مقام تک لایا جائے، یعنی کم از کم یہ سوچیں کہ
آخر دونوں فریقوں میں سے زیادہ حق دار کون ہے۔ نیز اس اندازِ بیان سے انہیں پوری
بات سننے سے بدکنے اور نفرت کرنے سے بھی بچایا گیا ہے۔"(الوسیط للطنطاوی)
پھر اللہ تعالیٰ
نے واضح فرما دیا کہ دونوں فریقوں میں سے امن کا زیادہ حق دار کون ہے۔ چنانچہ
ارشاد فرمایا:﴿الَّذِينَ
آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ
وَهُمْ مُهْتَدُونَ﴾"جو لوگ
ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا، انہی کے لیے امن ہے اور
وہی ہدایت یافتہ ہیں۔"
یعنی وہ لوگ جو
ایمان لائے اور اپنے ایمان کو کسی بھی قسم کے شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کیا، جیسا کہ
مشرکین کے گروہ نے کیا کہ انہوں نے بتوں کی عبادت کی اور یہ دعویٰ کیا کہ ہم ان کی
عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔ ایسے سچے مومن ہی امن
کے مستحق ہیں، نہ کہ دوسرے لوگ؛ کیونکہ یہی حق کی طرف ہدایت یافتہ ہیں، جبکہ ان کے
علاوہ سب کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔
اس سلسلے میں صحیح
احادیث وارد ہوئی ہیں جن میں اس آیت کے لفظ "ظلم" کی تفسیر شرک سے کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک
وہ روایت ہے جسے امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
سے روایت کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا
إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ تو صحابۂ کرام نے عرض کیا: "ہم میں کون ہے جس نے اپنی جان پر ظلم نہ
کیا ہو؟" اس پر
یہ آیت نازل ہوئی:﴿إِنَّ
الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾"بے شک
شرک بہت بڑا ظلم ہے۔"(تفسیر ابن کثیر)
حضرت عبداللہ بن
مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت:﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا
إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾نازل ہوئی تو یہ بات لوگوں پر بہت گراں گزری۔ انہوں نے عرض
کیا: "اے
اللہ کے رسول! ہم میں کون ہے جو اپنے نفس پر ظلم نہیں کرتا؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم جس ظلم کو مراد
لے رہے ہو، وہ یہاں مراد نہیں ہے۔ کیا تم نے اس نیک بندے (لقمان) کا یہ قول نہیں
سنا: ﴿إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾؟ یہاں ظلم سے مراد صرف شرک ہے۔"( صحیح بخاری
/ 6937 و صحیح مسلم /124)
امام رازی رحمہ
اللہ کا قول ہے:
"اس
بات کی دلیل کہ یہاں ظلم سے مراد یہی ہے، یہ ہے کہ یہ پورا واقعہ ابتدا سے انتہا
تک شریک، ہم سر اور ہم مثل ٹھہرانے کی نفی کے بارے میں ہے، اس میں اطاعت و عبادات
کا کوئی ذکر نہیں۔ لہٰذا یہاں ظلم کو شرک ہی پر محمول کرنا واجب ہے۔" (الوسیط للطنطاوی)
علامہ عبد الرحمن
سعدی نے تحریر کیا ہے: اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے درمیان فیصلہ کن امتیاز
بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا
إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ ﴾یعنی: وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے
اپنے ایمان کو کسی ظلم کے ساتھ مخلوط نہیں کیا۔﴿ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ
وَهُمْ مُهْتَدُونَ﴾ یعنی انہی لوگوں کے لیے ہر قسم کے خوف، عذاب اور بدبختی سے
امن ہے، اور وہی سیدھے راستے کی ہدایت پانے والے ہیں۔
اگر انہوں نے اپنے
ایمان کو کسی بھی قسم کے ظلم کے ساتھ بالکل آلودہ نہ کیا ہو، نہ شرک کے ساتھ اور
نہ گناہوں کے ساتھ، تو انہیں کامل امن اور کامل ہدایت حاصل ہوگی۔
اور اگر انہوں نے
اپنے ایمان کو صرف شرک کے ساتھ آلودہ نہ کیا ہو، اور وہ گناہوں کا ارتکاب کرتے ہوں، تو انہیں اصل
ہدایت اور اصل امن حاصل ہوگا، اگرچہ اس کا کامل درجہ انہیں حاصل نہیں ہوگا۔
اور اس آیتِ کریمہ
کا مفہوم یہ ہے کہ جن لوگوں میں یہ دونوں اوصاف موجود نہ ہوں، انہیں نہ ہدایت حاصل
ہوگی اور نہ امن، بلکہ ان کا حصہ گمراہی اور بدبختی ہی ہوگا۔(تفسیر سعدی)
ان آیات سے بالکل
واضح ہوتا ہے کہ دنیا و آخرت دونوں میں حقیقی امن کے لیے شرک سے اجتناب ضروری ہے۔
شرک کے ہوتے ہوئے کامل امن کا حصول ممکن نہیں۔ آج دنیا میں جو بدامنی، خوف اور
اضطراب نظر آتا ہے، اس کے اسباب میں ایک بڑا سبب اللہ تعالیٰ سے انحراف اور شرک
بھی ہے۔ اگر مسلمان دنیا و آخرت میں امن چاہتے ہیں تو انہیں ان آیات پر عمل کرتے
ہوئے ہر قسم کے شرک سے فوراً توبہ کرنی چاہیے اور ہمیشہ کے لیے اس سے دست بردار ہو
جانا چاہیے، ورنہ وہ اسی خوف، اضطراب اور بدامنی کے مختلف مظاہر سے دوچار رہیں گے۔
موجودہ دور کے
مسلمانوں پر ایک نظر
ان آیات کی روشنی
میں جب ہم عصرِ حاضر کے مسلمانوں کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امت کے
مختلف طبقات میں ظلم، یعنی شرک، کی متعدد صورتیں پائی جاتی ہیں۔ بہت سے مقامات پر
ایسے مراکز قائم ہیں جہاں بعض لوگ عقیدت کے نام پر ایسے اعمال انجام دیتے ہیں
جنہیں قرآن و سنت کی روشنی میں شرک یا شرک تک پہنچانے والے اعمال قرار دیا گیا ہے۔
مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ان مقامات پر حاضری دیتی ہے اور مختلف شرکیہ یا شرک سے
مشابہ اعمال میں مبتلا ہوتی ہے۔
ایک مخصوص مسلک
"بریلویت" نے اس کو خوب رواج
دیا ہے اور اس کو شکم پروری کا ذریعہ بنایا ہے ۔ بہت سارے عرب ممالک مثلا
مصر , عراق, سوڈان و یمن وغیرہ میں بھی شرک کے اڈے بکثرت موجود ہیں ۔
شرک اصغر کی تو بات کرنا ہی بیکار ہے ۔ اس کی اتنی کثرت ہے کہ معاذ اللہ ۔ کون سا
ایسا ظلم ہے جو مسلمانوں میں نہیں ہے ۔
اسی طرح بعض دینی
حلقوں اور مسالک سے وابستہ افراد نے بھی ان رسوم کو فروغ دیا ہے، جن میں برصغیر کا
مسلکِ بریلویت بھی شامل ہے، جہاں بعض حلقوں میں مزارات سے متعلق ایسے عقائد و
اعمال پائے جاتے ہیں جن پر اہلِ علم نے شدید تنقید کی ہے، اور بعض لوگوں نے انہیں
معاشی مفادات کا ذریعہ بھی بنا لیا ہے۔
اسی طرح مصر،
عراق، سوڈان، یمن اور بعض دیگر عرب ممالک میں بھی ایسے متعدد مقامات موجود ہیں
جہاں بعض زائرین کی طرف سے غیر شرعی یا شرکیہ نوعیت کے اعمال دیکھنے میں آتے ہیں۔
رہا شرکِ اصغر، تو
اس کی کثرت بھی نہایت تشویش ناک ہے۔ ریا، نمود و نمائش، غیر اللہ کی قسم کھانا ، قسموں اور نذروں میں بے احتیاطی،
اور دیگر بہت سے اعمال مسلمانوں کے مختلف طبقات میں عام ہوتے جا رہے ہیں۔ حقیقت یہ
ہے کہ شرک کی کون سی ایسی صورت ہے جس سے آج امت کا کوئی نہ کوئی طبقہ متاثر نہ ہو؟
مسلمانوں میں شرک
کے بڑے مراکز اور مظاہر
آج مسلمانوں میں
شرک کی مختلف صورتیں، خواہ شرکِ اکبر ہو یا شرکِ اصغر، شرکِ جلی ہو یا شرکِ خفی،
یا اعتقادی، قولی اور عملی شرک، مختلف درجوں میں موجود ہیں۔ امتِ مسلمہ کے مختلف
علاقوں میں بعض ایسے مقامات اور ماحول بھی موجود ہیں جہاں عقیدۂ توحید کے خلاف
اعمال یا شرک تک پہنچانے والے افعال پائے جاتے ہیں۔ ان میں نمایاں درج ذیل ہیں:
مسلمانوں میں شرک
کے بڑے مراکز اور مظاہر
آج کے مسلمانوں میں شرک کے تمام اقسام: اکبر و
اصغر, جلی و خفی , اعتقادی , قولی و عملی
واضح طور پر بکثرت موجود ہیں۔ امتِ مسلمہ کے مختلف علاقوں میں بعض ایسے
مقامات اور ماحول موجود ہیں جہاں عقیدۂ توحید کے خلاف اعمال یا شرک تک پہنچانے
والے افعال دیکھنے میں آتے ہیں۔ ان میں نمایاں درج ذیل ہیں:
1. بعض
مزارات اور درگاہیں جہاں فوت شدہ بزرگوں سے حاجات طلب کی جاتی
ہیں، ان سے فریاد کی جاتی ہے، ان کے نام کی نذر و نیاز دی جاتی ہے یا ان کے متعلق
ایسے عقائد رکھے جاتے ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں۔
2. قبروں
اور مزارات پر قائم بعض آستانے اور خانقاہیں جہاں قبر کا
طواف، سجدہ، استغاثہ یا دیگر غیر شرعی رسوم رائج ہیں ۔
3. جعلی
پیروں، فقیروں اور خود ساختہ روحانی مراکز جہاں لوگوں کے
عقائد سے فائدہ اٹھا کر غیر شرعی عملیات، بیعت، نذر و نیاز اور توہمات کو فروغ دیا
جاتا ہے۔
4. جادو،
عملیات، تعویذ گنڈوں اور کہانت کے مراکز جہاں عامل، کاہن،
نجومی اور جادوگر غیب دانی، قسمت بدلنے یا مشکلات حل کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔
5. بعض
سالانہ عرس، میلے اور مذہبی اجتماعات جہاں عبادت کی
حدود سے تجاوز کرتے ہوئے قبروں اور شخصیات کی تعظیم میں ایسے افعال کیے جاتے ہیں
جو شریعت کے مطابق جائز نہیں۔
6. بعض
عوامی رسوم و روایات جو گھروں، دیہات اور محلوں میں رائج ہیں،
جیسے غیر اللہ کے نام کی منت ماننا، قبروں پر چادریں چڑھانا، مخصوص درختوں، پتھروں
یا مقامات سے برکت حاصل کرنے کے غیر ثابت طریقے اختیار کرنا۔
7. سوشل
میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم جہاں بعض افراد غیر مستند دینی دعوے، جعلی
کرامات، عملیات، روحانی وظائف اور شرکیہ یا خرافی نظریات کی تشہیر کرتے ہیں، جس سے
لاکھوں افراد متاثر ہوتے ہیں۔
تاریخی اور
معلوماتی اعتبار سے، دنیا میں متعدد ایسے مشہور مزارات اور زیارت گاہیں ہیں جہاں
بعض زائرین کی طرف سے ایسے اعمال کی نشاندہی مختلف علماء نے کی ہے جنہیں وہ بدعت،
غلو یا بعض صورتوں میں شرک قرار دیتے ہیں۔ ذیل میں چند معروف مقامات، ان کے شہر
اور ممالک درج ہیں:
ہندوستان میں :
خواجہ معین الدین چشتی کا مزار اجمیرمیں , حضرت نظام الدین اولیاء کی درگاہ, دہلی اور غازی مزار بہرائچ میں
وغیرہ ۔
پاکستان میں : داتا
دربار , لاہور , لال شہباز قلندر , سیہون
, بری امام ,اسلام
آباد , شاہ رکن عالم کا مزار ,
ملتان وغیرہ
بنگلہ دیش میں : شاہ جلال درگاہ , سلہٹ
وغیرہ
عراق میں : مزار کربلا , کربلا, مزار نجف, نجف , کاظمین و مزارِ عبدالقادر جیلانی بغداد , سامرا کے مزارات, سامرا وغیرہ
سوریا میں : روضۂ سیدہ زینب , دمشق وغیرہ ۔
مصر میں : روضۂ سید
احمد البدوی , طنطا
, روضۂ
امام حسین , قاہرہ
وغیرہ
ترکی میں : مولانا جلال الدین رومی کا مزار , قونیہ وغیرہ
یہ تو بطورِ نمونہ
اور مثال چند مشہور درگاہوں اور بڑے مزارات کے نام ہیں، ورنہ ان کی تعداد ہزاروں
بلکہ لاکھوں تک پہنچتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی پناہ دینے والا ہے! بعض شہروں میں تو
تقریباً ہر گلی اور ہر کونے میں کوئی نہ کوئی مزار یا درگاہ موجود ہے۔
ذرا غور کیجیے اور
تصور کیجیے کہ جن گناہوں کو اسلام نے کبیرہ قرار دیا ہے، جن سے انتہائی سختی کے
ساتھ منع فرمایا ہے، ان میں سب سے بڑا گناہ شرک ہے۔ شرکِ اکبر ایک مسلمان کو دائرۂ
اسلام سے خارج کر دیتا ہے، اور اگر کوئی شخص بنا توبہ کے شرک ہی کی حالت میں مر جائے تو اس کا ٹھکانہ
ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم ہے اور جنت اس پر حرام ہے۔ نیز شرکِ تمام اعمال کو
رائیگاں اور برباد کر دیتا ہے۔ افسوس کہ شرک کی مختلف انواع و اقسام میں مسلمانوں
کی ایک بڑی تعداد مبتلا نظر آتی ہے۔
اسی وجہ سے آج
پوری دنیا میں مسلمان بدامنی کا شکار ہیں، خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور غیر مسلم
اقوام کے ظلم و ستم سہہ رہے ہیں۔ کیا آج کے مسلمان اپنے اسلاف سے عبرت و نصیحت
حاصل کریں گے اور شرک کے ان تمام مظاہر سے توبہ کرکے خالص توحید کی طرف رجوع کریں
گے، تاکہ انہیں دنیا و آخرت دونوں میں حقیقی امن حاصل ہو؟
یہ نتائج ہماری
ذاتی رائے یا کسی فرد یا جماعت کے خلاف تعصب پر مبنی نہیں، بلکہ قرآنِ کریم کی
انہی آیات کا واضح تقاضا ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو شرک سے پاک رکھنے
والوں ہی کے لیے امن اور ہدایت کی بشارت دی ہے۔ لہٰذا اگر امتِ مسلمہ دنیا و آخرت
میں حقیقی امن، عزت، سربلندی اور کامیابی کی خواہاں ہے تو اسے ہر قسم کے شرک سے
توبہ کرکے خالص توحید کو مضبوطی سے اختیار کرنا ہوگا۔
وَمَا عَلَيْنَا
إِلَّا الْبَلَاغُ، وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ
الْعَالَمِينَ۔
0 التعليقات: