عالمی ایام جیسے یومِ صحت، ہفتۂ شجر کاری، ہفتۂ ٹریفک وغیرہ میں شرکت کا حکم

 

فتاوى

عالمی ایام جیسے یومِ صحت، ہفتۂ شجر کاری، ہفتۂ ٹریفک وغیرہ میں شرکت کا حکم

ڈاکٹر عبد المنان محمد شفیق مکی

Please visit: islahotaraqqi.com

بہت سے مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا رہتا ہے کہ کیا ان کے لیے مخصوص عالمی دنوں اور ہفتوں، مثلاً یومِ عطیہ خون, یوم  ماحولیات، یومِ مزدور، یومِ تعلیم، ہفتۂ ٹریفک وغیرہ میں شرکت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ نیز ان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

اسی لیے یہاں اہلِ علم کے مختلف فتاویٰ اور آراء حوالوں کے ساتھ نقل کی جا رہی ہیں، تاکہ ان کی روشنی میں ایک مسلمان بآسانی یہ فیصلہ کر سکے کہ ایسے عالمی ایام اور ہفتوں میں شرکت کا شرعی حکم کیا ہے۔

سوال: یومِ صحت، ہفتۂ شجر کاری، ہفتۂ ٹریفک اور اس جیسے بہت سے عالمی دن یا ہفتے منائے جاتے ہیں۔ ان مواقع کے لیے ذرائع ابلاغ میں خصوصی پروگرام اور مہمات چلائی جاتی ہیں تاکہ لوگوں میں آگاہی پیدا ہو اور انہیں ان امور میں شریک ہونے کی ترغیب دی جائے تو اس کا شرعی حکم ہے۔

جواب: یہ معاملہ تین صورتوں سے خالی نہیں:

                 1-     اگر ان قومی یا عوامی مناسبتوں کا انعقاد عید کے نام سے کیا جائے اور انہیں عید کی طرح منایا جائے، اور یہ ثواب حاصل کرنے کے لیے تقرب الہی یا تعظیم کے طور پر ہو ، تو یہ جائز نہیں ہے؛ کیونکہ مسلمانوں کی عیدیں شریعت نے متعین کر دی ہیں، جو عید الفطر، عید الاضحیٰ اور ہفتہ وار عید یعنی جمعہ کا دن ہیں۔ ان کے علاوہ کسی دن کو عید بنانا جائز نہیں۔ اس کی دلیل حضرت عائشہؓ سے مروی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد’’جس شخص نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔(بخاری /2697)

2-اگر ان مناسبتوں کا انعقاد کفار کی مشابہت اختیار کرنے کے طور پر کیا جائے، تو یہ بھی جائز نہیں؛ کیونکہ ہمیں ان کی عبادات , تہواروں و تقریبات  میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔مثال کے طور پر نورز منانا یا عید محبت منانا  جس کو ویلنٹائن ڈے کہا جاتا ہے  یا کرسمس وغیرہ منانا  ۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: من تشبه بقوم فهو منهم ’’جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ انہی میں سے ہے۔(سنن ابی داود، باب ما جاء في لبس الشهرة، حدیث نمبر: 4031۔ نیز امام طبرانی نے المعجم الأوسط میں حضرت حذیفہؓ سے روایت کیا ہے اور حسن کہا ہے ۔ امام سیوطی نے الجامع الصغير (2/590، رقم: 8593) میں روایت کیا ہے۔)

           3-  البتہ اگر ان مناسبتوں کا انعقاد محض امور کی تنظیم، عوامی شعور بیدار کرنے اور امت کی اصلاح و فلاح کے لیے ہو، تاکہ لوگوں کو ان چیزوں کی طرف متوجہ کیا جائے جو ان کے لیے حاضر و مستقبل میں مفید اور خیر و بھلائی کا باعث ہیں، جیسے ہفتۂ ٹریفک، صفائی مہم، ہفتۂ شجر کاری وغیرہ، اور اس میں نہ تقربِ الٰہی کا عقیدہ پایا جائے، نہ اسے عبادت سمجھا جائے اور نہ ہی اس دن کی کوئی مذہبی تعظیم مقصود ہو،  تو یہ امور عبادات میں سے نہیں بلکہ عادات اور انتظامی معاملات میں شمار ہوتے ہیں، اس لیے ان کے انعقاد میں کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ ان کا مقصد مصالح کے حصول، لوگوں کے فائدے اور مفاسد سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔

اسی مفہوم کو واضح کرتے ہوئے سعودی عرب کی دائمی کمیٹی برائے علمی تحقیقات و افتاء (اللجنة الدائمة) نے اپنے فتویٰ نمبر 9403 میں بھی یہی موقف اختیار کیا ہے۔واللہ اعلم۔(الموقع: المکتبۃ الشاملۃ :كتاب الفقه الميسر, عبد الله الطيارج 13 ص 137-138)

یہی فتوى شیخ ابن عثیمین کا بھی ہے , وہ بھی اس کے جواز کے قائل ہیں ۔ جب ان  سے یہ پوچھا گیا کہ " ہفتہ مساجد "، " ہفتہ شجر کاری " اور اس طرح کے دیگر ہفتوں کے انعقاد کا کیا حکم ہے؟

انہوں نے جواب دیا:

"مجھے ان ہفتوں کی کوئی اصل شریعت میں معلوم نہیں۔ اگر انہیں عبادت کے طور پر اختیار کیا جائے اور ان کے لیے مخصوص دن مقرر کر دیے جائیں، یہاں تک کہ وہ عیدوں کی مانند بن جائیں، تو یہ بدعت کے حکم میں داخل ہوں گے؛ کیونکہ ہر وہ چیز جس کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور جس کی اصل نہ کتاب اللہ میں ہو اور نہ رسول اللہ ﷺ کی سنت میں، وہ بدعت ہے۔

البتہ ان ہفتوں کے منتظمین کا کہنا یہ ہے کہ ان کا مقصد لوگوں کو ان کاموں کی طرف متوجہ کرنا، ان میں نشاط پیدا کرنا اور ان کی اہمیت یاد دلانا ہے جن کے لیے یہ ہفتے مقرر کیے گئے ہیں۔ لہٰذا اس معاملے میں غور کرنا چاہیے کہ آیا یہ مقصد ان ہفتوں کے انعقاد کے لیے واقعی ایک معقول جواز ہے یا نہیں۔                 " (اقتباس ختم)

اس آخری کلام کا خلاصہ وہی ہے جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے، یعنی ایسی مناسبتوں اور تقریبات کو جو دین سے براہِ راست متعلق نہ ہوں، جن کا مقصد اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنا نہ ہو، اور جن میں جاہلیت کی رسوم و عادات کی پیروی بھی نہ پائی جاتی ہو، مصالحِ مرسلہ کے باب میں شمار کیا جائے گا۔

اسی مفہوم پر دائمی فتویٰ کمیٹی (اللجنۃ الدائمہ) کے علماء کا وہ قول بھی محمول ہے جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے:

"اور وہ امور جن سے مقصود مثلاً امت کے مفاد کے لیے کاموں کی تنظیم اور معاملات کی ترتیب ہو، جیسے ٹریفک ویک، تعلیمی اوقات کی تنظیم، ملازمین کے اجلاس اور اس نوعیت کے دیگر انتظامی امور، جو اپنی اصل کے اعتبار سے تقرب، عبادت یا تعظیم کا ذریعہ نہ بنتے ہوں، تو یہ عام عادات و انتظامات سے متعلق بدعات ہیں، جن پر نبی ﷺ کا یہ فرمان:«من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد»جس نے ہمارے دین میں ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے" منطبق نہیں ہوتا۔ لہٰذا ان میں کوئی حرج نہیں، بلکہ بسا اوقات وہ مشروع اور جائز بھی ہوتے ہیں۔" (اسلام ویب : الفتوى, التأصيل الشرعي والفوارق بين بدع العادات وبدع العبادات, فتوى نمبر    327784    سوموار  25 رجب 1437 ھ/ 2-5-2016 ع)

ایک دوسری جگہ آپ نے جواب دیا :"رہا شجر کاری ہفتہ (أسبوع الشجرة)، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔"(الكنز الثمين، ص: 172).(موقع الإسلام سؤال و جواب, حکم الاحتفال بالیوم الثقافی الذی تقیمہ احدی الجامعات بشکل سنوی, سوال نمبر 221242, 18 /جمادى الثانیہ 1436 مطابق 7/اپریل 2015ع )

اس  سے واضح ہوتا ہے کہ خود شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے بھی "شجر کاری ہفتہ" اور اس جیسی سرگرمیوں کو مطلقاً حرام یا بدعت قرار نہیں دیا، بلکہ اصل معیار یہ بتایا کہ:

1.    کیا اسے عبادت اور ثواب کا ذریعہ سمجھا جا رہا ہے؟

2.    کیا اس دن یا ہفتے کی بذاتِ خود تعظیم مقصود ہے؟

3.    یا محض بیداری، تعلیم، تنظیم اور اجتماعی مصلحت مقصود ہے؟

اگر مقصد صرف آگاہی، تربیت، تنظیم اور عوامی مصلحت ہو، جیسا کہ یومِ ماحولیات، ہفتۂ شجر کاری، ہفتۂ صفائی یا ٹریفک ویک وغیرہ میں ہوتا ہے، تو بہت سے معاصر اہلِ علم انہیں مصالحِ مرسلہ اور وسائلِ مباحہ کے باب میں شمار کرتے ہیں، نہ کہ شرعی عیدوں یا دینی شعائر کے باب میں۔

اور جہاں تک کسی دن کو سال میں مخصوص کرنے اور اس کے بار بار آنے  کا سوال ہے  تو اس کے باریک فرق کے بارے میں ڈاکٹر عبد اللہ بن سلیمان آل مہنا کی تحریر انتہائی شاندار,  بصیرت افروز و قابل توجہ  ہے, وہ لکھتے ہیں  :

". اس دن میں فرق کرنا ضروری ہے جو کسی خاص کام کے لیے مقرر کیا جائے، خواہ وہ بار بار آئے، اور اس دن میں جو خود اپنی ذات کی وجہ سے مقرر کیا جائے اور بار بار منایا جائے، اس طور پر کہ اسی دن کو مقصودِ بالذات سمجھا جائے، اس کی تعظیم کی جائے اور اسے دوسرے دنوں پر امتیاز دیا جائے۔

پہلی صورت میں اس دن کی تخصیص اور امتیاز مقصود نہیں ہوتا، بلکہ مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ اسے کسی مخصوص کام کے لیے وقت اور موقع کے طور پر اختیار کر لیا جائے، جیسے تعلیمی سال کا آغاز، امتحان، اجلاس یا اس جیسے دوسرے امور۔ اس صورت میں خود دن کو کسی اضافی معنی یا فضیلت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔

جبکہ دوسری صورت میں خود وہ دن مقصودِ بالذات ہوتا ہے، خواہ اس وجہ سے کہ اس دن کوئی خاص واقعہ پیش آیا تھا یا کسی اور سبب سے اس دن کو عظمت دی جاتی ہے اور اسے دوسرے دنوں سے ممتاز سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ ہر سال اس دن کا انتظار کرنا اور اس موقع پر مخصوص تقریبات و سرگرمیوں کا اہتمام کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اصل مقصود خود اسی دن کی تخصیص اور تعظیم ہے۔

یہ بات معلوم ہے کہ کسی دن کو اس طرح مخصوص کرنا صرف شرعی دلیل ہی کی بنیاد پر جائز ہو سکتا ہے۔ لہٰذا وہ ایام جن کا انتظار کیا جائے، جن میں لوگ جمع ہوں اور جن کے ساتھ مخصوص اعمال وابستہ ہوں، صرف وہی عیدیں ہیں جنہیں شریعت نے مشروع قرار دیا ہے، یعنی عید الفطر، عید الاضحیٰ، ایامِ تشریق اور ہفتہ وار عید یعنی جمعہ کا دن۔

لہٰذا اگر ہم ان کے علاوہ مزید دنوں کو اس حیثیت سے شامل کر لیں تو ہم شرعی عیدوں سے مشابہت اختیار کریں گے، انہیں مزاحمت پہنچائیں گے، اور ایسے اوقات کو تعظیم و تخصیص دیں گے جن کے لیے شریعت میں کوئی دلیل موجود نہیں"۔ (الأعياد المحدثة وموقف الإسلام منها، ص: 239)۔ .(موقع الإسلام سؤال و جواب, حکم الاحتفال بالیوم الثقافی الذی تقیمہ احدی الجامعات بشکل سنوی, سوال نمبر 221242 )

مندرجہ بالا تفصیلات سے واضح ہوتا ہے کہ اس نوعیت کے عالمی ایام اور عوامی مناسبتوں میں، بشرطیکہ مذکورہ شرائط کا لحاظ رکھا جائے، شرکت کرنا جائز ہے اور اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔ واللہ أعلم بالصواب۔

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: