شرک سب سے بڑا گناہ ہے
Please visit: islahotaraqqi.com
أبو میمونہ
حديث: عن عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟
ثَلَاثًا الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ،
وَشَهَادَةُ الزُّورِ - أَوْ قَوْلُ الزُّورِ – وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا ، فَجَلَسَ فَمَا زَالَ
يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا : لَيْتَهُ سَكَتَ و فی روایۃ : و کان متکئا فجلس , فقال : الا و قول الزور
تخرىج: صحیح
بخاری /6273, صحیح مسلم /87 و
259, سنن ترمذی/1901 و احمد /20385 معمولی
اختلاف کے ساتھ
ترجمہ:حضرت عبد الرحمن بن ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں
نے فرمایا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر
تھے تو آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے
گناہوں کی خبر نہ دوں؟ (آپ نے یہ بات تین
بار کہی) پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی
نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا (یا فرمایا: جھوٹ بولنا)“ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، پھر آپ
سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور اس بات کو دہراتے رہے حتی کہ ہم نے (دل میں) کہا: کاش!
آپ مزید نہ دہرائیں۔ اور ایک روایت میں ہے : آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر بیٹھ
گئے اور فرمایا: خبردار اور جھوٹ بولنا ۔ (اس میں جھوٹی گواہی کا لفظ نہیں ہے)
معانی کلمات:
الکبائر: یہ کبیر کی جمع ہے بمعنى بڑا , بلند مقام و مرتبہ والا , معلم و
سردار ہے۔ کبیر اللہ کا ایک نام بھی ہے ۔
یہاں بڑا گناہ مراد ہے۔
عقوق: یہ عق سے مصدر ہے جس کا معنى نافرمانی کرنا و بد سلوکی کرنا ,
عقیقہ کرنا و ذبیحہ کرنا ہے ۔
الزور:ز پر ضمہ بمعنى باطل, جھوٹ, جعل سازی وغیرہ
متکئا: یہ اتکأ سے اسم فاعل ہے جس کا معنى ٹیک لگانا , سہارا لینا اور
بھروسہ کرنا ہے ۔(موقع المعانی)
شرح:
گناہ، جن میں ایک مومن مبتلا ہوتا ہے، دو قسم کے ہیں: صغیرہ اور کبیرہ۔ کبیرہ گناہ وہ عظیم گناہ ہیں جن پر آخرت میں عذاب کی
وعید وارد ہوئی ہو یا دنیا میں ان پر کوئی حد یا سزا مقرر کی گئی ہو، جیسے قتل،
شراب نوشی، زنا اور اسی طرح کے دوسرے گناہ، جنہیں قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ نے
واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔ (الموقع: الدرر
السنیۃ , الموسوعۃ الحدیثیۃ, شرح حدیث مذکور)
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے کبیرہ گناہوں میں سے تین ایسے گناہوں کا ذکر
فرمایا ہے جو سب سے بڑے اور سب سے زیادہ سنگین ہیں: اللہ تعالیٰ کے ساتھ
شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ بلا شبہ یہ تینوں گناہ دنیا و آخرت دونوں کے
لیے انتہائی تباہ کن ہیں اور افراد و معاشرے پر نہایت برے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ان
تینوں گناہوں کی تفصیل اس مقام پر بیان کرنا ممکن نہیں، اس لیے عنوان کی مناسبت سے
یہاں صرف شرک پر گفتگو کی جا رہی ہے۔ ان شاء اللہ آئندہ والدین کی نافرمانی
اور جھوٹی گواہی پر بھی الگ سے بحث کی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں سب سے بڑا گناہ، جس کا ارتکاب آغازِ آفرینش
سے لے کر آج تک ہوتا چلا آ رہا ہے، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔( الموقع: اسلام ویب, المقالات, الشرک...تعریفہ
و انواعہ, نمبر 17484, تاریخ نشر : 15-7-2002ع ) اگرچہ قتل اور نسل کشی ایسے
سنگین جرائم ہیں جنہیں پوری انسانیت ناپسند اور قابلِ مذمت سمجھتی ہے، لیکن اللہ
تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا بلا شبہ ان سب سے بڑا جرم ہے؛ کیونکہ قتل اور نسل کشی
انسان کے حق میں جرم ہیں، جبکہ شرک خود اللہ تعالیٰ کے حق میں جرم ہے، اور اللہ
تعالیٰ کا حق بندوں کے حقوق سے کہیں زیادہ عظیم ہے۔ اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے انسان
کو پیدا کیا، اسے رزق دیا، بے شمار نعمتوں سے نوازا، صحت، مال اور اولاد عطا
فرمائی؛ لیکن اس کے باوجود انسان اس کی عبادت اور شکرگزاری کے بجائے دوسروں کی
عبادت کرنے لگتا ہے اور غیر اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔(الموقع: اسلام ویب, المقالات: التحذیر من
الشرک فی القرآن الکریم, نمبر 158864,
تاریخ نشر: 6-6-2010ع )
شرک کی سنگینی اور خطرناکی کے پیشِ نظر قرآنِ کریم میں مادۂ (ش ر ك)
اپنے مختلف مشتقات، جیسے: شرک، شرکاء، أشرک،
یشرک، مشرکون، مشرکات، شریک وغیرہ کے
ساتھ تقریباً 169 مرتبہ وارد ہوا ہے۔ احادیثِ نبویہ میں اس کا شمار کرنا نہایت دشوار ہے۔ قرآن و
سنت میں اس کثرتِ ذکر سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے شرک سے انتہائی سختی کے ساتھ
خبردار کیا ہے اور توحید کو اختیار کرنے پر غیر معمولی زور دیا ہے؛ کیونکہ اسلامی
عقیدے میں شرک سب سے بڑا گناہ اور توحید کی ضد ہے۔ اس موضوع پر قرآنِ کریم کا
اسلوب بھی نہایت جامع اور متنوع ہے۔ کہیں شرک سے ڈرایا گیا ہے، کہیں اس کے خطرات
بیان کیے گئے ہیں، کہیں مشرک کا شرعی حکم بیان ہوا ہے، اور کہیں آخرت میں اس کے
انجام کو واضح کیا گیا ہے۔ ذیل میں ان میں سے چند اہم پہلو متعلقہ آیاتِ قرآنیہ کی
روشنی میں بیان کیے جائیں گے۔۔(الموقع:
اسلام ویب, التحذیر من الشرک فی القرآن
الکریم, نمبر 158864)
بلاشبہ اسلام میں سب سے بڑا گناہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے، اور
یہ ایسا جرم ہے جسے اللہ تعالیٰ توبہ کے بغیر ہرگز معاف نہیں فرمائے گا۔ ارشادِ
باری تعالیٰ ہے:﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ
بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ
فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا﴾"بے شک
اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے، اور اس کے سوا
جسے چاہے معاف کر دیتا ہے، اور جو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے، اس نے بہت بڑا گناہ
گھڑ لیا۔" (النساء: 48)
اسی طرح اگر کوئی شخص توبہ کیے بغیر شرک کی حالت میں مر جائے تو اس پر
جنت ہمیشہ کے لیے حرام ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ
حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ
مِنْ أَنْصَارٍ﴾"یقیناً جو
اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے، اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اور اس کا ٹھکانہ
جہنم ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔" (المائدہ: 72)
قرآنِ کریم نے شرک کو "ظلمِ عظیم" قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ و اذ قال لقمان لابنہ و ہو یعظہ يَا
بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ "(یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت
کرتے ہوئے کہا: اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، بے شک شرک بہت
بڑا ظلم ہے۔" (لقمان: 13)
شرک کو ظلمِ عظیم اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے حق میں علمی
اور عملی، دونوں اعتبار سے زیادتی ہے۔ علمی اعتبار سے اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کے
سوا کسی اور کو معبود اور مستحقِ عبادت سمجھا جائے، اور عملی اعتبار سے اس طرح کہ
اللہ تعالیٰ کے بجائے کسی اور کی عبادت کی جائے۔
اسی لیے نہایت اہم اور قطعی واجبات میں سے ایک یہ ہے کہ ہر مسلمان شرک کے
معنی، اس کے خطرات اور اس کی اقسام کو اچھی طرح جانے، تاکہ اس کی توحید کامل، اس
کا اسلام محفوظ اور اس کا ایمان صحیح و مضبوط رہے۔(الموقع: الاسلام سؤال و جواب, ما حقیقۃ الشرک
و ما اقسامہ, سوال نمبر 34817, تاریخ نشر: 29/جون 2003ع )
شرک کی تعریف:
لفظی تعریف:
"شرک"
کا لفظی معنى ہے کسی کو شریک بنانا، یعنی
ایک کو دوسرے کا شریک ٹھہرانا۔ کہا جاتا ہے: "أشرك بينهما" یعنی دونوں
کو شریک کر دیا، ان كو دو كرديا ڈبل كردىایا "أشرك في أمره غيره" یعنی اپنے معاملے میں کسی اور کو بھی
شامل کر لیا۔
اصطلاحی تعریف:
اور شرع کی اصطلاح میں شرک یہ ہے کہ اللہ جلّ و علا کے ساتھ ربوبیت،
عبادت، یا اسماء و صفات میں کسی کو شریک یا ہمسر ٹھہرایا جائے۔(الموقع: الاسلام سؤال و جواب, ما حقیقۃ الشرک و
ما اقسامہ, سوال نمبر 34817)
اس تعریف سے ظاہر ہے کہ اس کی کل
تین مندرجہ ذیل قسمیں ہیں :
1- شرک فی الربوبیت:
اس سے مراد یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور بھی
کائنات کی تخلیق، تدبیر اور تصرف میں شریک ہے۔ اس قسم کے شرک کا دعویٰ فرعون نے
اپنے بارے میں کیا تھا، چنانچہ اس نے کہا:﴿فَقَالَ
أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى﴾ (النازعات: 24)"پھر اس نے
کہا: میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔"
اللہ تعالیٰ نے اس کے اس دعوے کو
باطل ثابت کرنے کے لیے اسے سمندر میں غرق کر دیا، کیونکہ جو اپنے آپ کو رب کہتا
تھا، وہ اپنے ہی زیرِ تصرف سمجھے جانے والے پانی میں غرق ہو گیا۔ آخر رب اپنے ہی
تصرف میں آنے والی مملکت میں کیسے غرق ہو سکتا ہے؟ ( الموقع: اسلام ویب, الشرک...تعریفہ و انواعہ,
نمبر 17484)
2- شرک فی الالوہیت:
اس سے مراد عبادت یا عبادت کی کسی بھی قسم کو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور
کے لیے بجا لانا ہے، جیسے کوئی شخص بتوں، معبودانِ باطلہ، قبروں یا دیگر اشیاء کی
عبادت اس دعوے کے ساتھ کرے کہ یہ اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیں گی۔ یہ سب شرک فی
الالوہیت کی صورتیں ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت میں اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان اپنی مخلوق
میں سے کسی کو واسطہ نہیں بنایا، بلکہ بندوں پر واجب ہے کہ وہ بلاواسطہ صرف اسی کا
تقرب حاصل کریں۔ وہی تمام اقسام کی عبادت کا مستحق ہے، خواہ وہ خوف ہو، امید ہو،
محبت ہو، نماز ہو، زکوٰۃ ہو یا دیگر قلبی اور بدنی عبادات۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد
ہے:﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ
وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا
شَرِيكَ لَهُ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ (الأنعام:
162-163)"کہہ
دیجیے! بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ ہی کے لیے
ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا
ہے، اور میں سب سے پہلے فرمانبرداروں میں ہوں۔"
3- شرک فی الاسماء والصفات:
اس سے مراد یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ کوئی مخلوق بھی اللہ تعالیٰ کی صفات میں
اس کے مانند متصف ہے، مثلاً یہ عقیدہ رکھنا کہ کوئی انسان بھی اللہ تعالیٰ کی طرح
غیب جانتا ہے، یا کسی مخلوق کو ایسی قدرت حاصل ہے کہ اس کے لیے کوئی چیز ناممکن
نہیں، اور اس کا حکم بھی "کن فیکون" کی طرح نافذ ہو جاتا ہے۔
یہ سب اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کی صورتیں ہیں، اور جو شخص اس قسم کا
دعویٰ کرے وہ جھوٹا اور دجال ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام اقسامِ شرک کو اپنے جامع کلمات
میں ایک ہی جملے میں سمو دیا ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ
شرک کرنےکے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:
«أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ»"یہ کہ تم اللہ کا کوئی شریک اور ہمسر ٹھہراؤ،
حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔" (بخاری و مسلم )
"ند" سے مراد
ہم مثل، ہم پلہ, ہمسر اور نظیر ہے۔ لہٰذا جس شخص نے اللہ تعالیٰ
کے ساتھ ربوبیت، الوہیت یا اسماء و صفات میں کسی کو شریک ٹھہرایا، اس نے اللہ کے
لیے ایک ہم مثل، ہمسر اور نظیر بنا دیا۔( الموقع: اسلام ویب, الشرک...تعریفہ و انواعہ,
نمبر 17484)
شرک کی اقسام
قرآن و سنت کے
نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک اور کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا ، اس كا ہم مثل
قرار دىنا کبھی انسان کو اسلام سے خارج کر دیتا ہے اور کبھی نہیں۔ اسی بنا پر
علماء نے اسے دو قسموں میں تقسیم کیا ہے:
1. شرکِ
اکبر
2- شرکِ
اصغر
اول: شرکِ اکبر الشرك
الأكبر وهو أن يصرف لغير اللهِ ما هو محض حق الله من ربوبيته وألوهيته وأسمائه
وصفاته
یہ وہ شرک ہے کہ
اللہ کے خالص حقوق—جیسے اس کی ربوبیت، الوہیت اور اس کے اسماء و صفات—میں سے کسی
چیز کو غیر اللہ کے لیے خاص کر دیا جائے۔
یہ شرک کبھی ظاہر
ہوتا ہے، جیسے بتوں، قبروں، مردوں اور غائب ہستیوں کی عبادت۔
اور کبھی پوشیدہ
ہوتا ہے، جىسے اللہ كے علاوہ مختلف معبودوں پر توكل كرنے والوں كا شرك، ىا منافقوں
كا شرك و كفر، اگرچہ ان كا شرك اكبر اور ملت سے خارج كرنے والا ہے اور اىسا مشرك
ہمىشہ جہنم مىں رہے گا لىكن ىہ بھى شرك خفى ہے كىونكہ وہ اسلام كو ظاہر كرتے ہىں
اور كفر و شرك كو مخفى ركھتے ہىں لہذا وہ ظاہر كے بجائے باطنى مشرك ہىں ۔
شرکِ اعتقادی
یہ شرک عقائد میں
بھی ہوتا ہے، مثلاً:
·
یہ عقیدہ رکھنا کہ
اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی پیدا کرتا ہے، زندگی دیتا ہے، موت دیتا ہے یا کائنات کا
نظام چلاتا ہے۔
·
یا یہ عقىدہ ركھنا
کہ اللہ كے ساتھ کوئی اور بھی مطلق اطاعت
کا مستحق ہے، جسے حلال و حرام کا اختیار حاصل ہو اگرچہ وہ
انبیاء کی شریعت کے خلاف ہو۔
·
یا محبت و تعظیم
میں اللہ كے ساتھ شرك كرنا ىعنى کسی کو
محبت و تعظىم مىں اللہ کے برابر کرنا۔ ىہ
ان شرک مىں سے ہے جو اللہ معاف نہىں كرے گا اور جس کے بارے میں اس نے فرمایا: (ومن الناس من يتخذ من دون الله أندادا
يحبونهم كحب الله( البقرة / 165)"کچھ
لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا شریک بناتے ہیں اور ان سے ایسی محبت
کرتے ہیں جیسی اللہ سے ہونی چاہیے" ۔
·
یا یہ عقیدہ رکھنا
کہ اللہ کے سوا کوئی اور بھى غیب جانتا
ہے—یہ عموما گمراہ فرقوں میں بكثرت پایا جاتا ہے، جیسے بعض رافضہ، غالی صوفیہ اور
باطنیہ۔ رافضہ كا اپنے اماموں كے بارے مىں عقىدہ ہے كہ وہ غىب جانتے ہىں ، اسى طرح
باطنىہ اور صوفىہ اپنے اولىاء كے بارے مىں عقىدہ ركھتے ہىں ۔
·
یا یہ عقىدہ ركھنا
کہ کوئی اور بھی اللہ تعالى كى طرح رحم كرتا ہے جو رحمت اللہ كے لائق ہے تو وہ اسى
كى طرح رحم كرتا ہے مثلا گناہوں كو بخشنا ، برائىوں سے درگذر كرنا اور بندوں كو معاف كرنا وغىرہ ۔
شرکِ اقوال
یہ شرک باتوں میں
بھی ہوتا ہے، جیسے:
·
غیر اللہ کو
پکارنا، اس سے فریاد کرنا، مدد طلب کرنا یا اس سے پناہ مانگنا—ایسے امور میں جن پر
صرف اللہ قادر ہے، چاہے وہ غىر نبی ہو،
ولی، فرشتہ یا جن ىا كوئى بھى مخلوق ۔ ىہ شرك اكبر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج
كردىتا ہے ۔
·
دین کا مذاق
اڑانا، اللہ کو اس کی مخلوق کے مشابہ قرار دینا، یا اس کے ساتھ کسی کو خالق، رازق
یا مدبر ماننا۔
یہ سب شرکِ
اکبر ہیں، جو انسان کو اسلام سے خارج کر دیتے ہیں اور ناقابلِ معافی گناہ ہیں
(جب تک توبہ نہ کی جائے)۔(الموقع:
الاسلام سؤال و جواب, ما حقیقۃ الشرک و ما اقسامہ, سوال نمبر 34817)
شرکِ افعال:
اور کبھی ىہ شرک اعمال میں ہوتا ہے جیسے کوئی شخص غیر اللہ کے لیے ذبح کرے، یا اس
کے لیے نماز پڑھے یا سجدہ کرے۔
یا ایسے قوانین بنائے جو اللہ کے حکم کے مقابل
ہوں، انہیں لوگوں کے لیے شریعت بنا دے اور انہیں انہی کے مطابق فیصلے کرنے پر
مجبور کرے۔
یا کافروں کی پشت
پناہی حمایت کرے اور مسلمانوں کے خلاف ان کی مدد کرے۔
یہ اور اس طرح کے
دیگر اعمال ایمان کی بنیاد کے منافی ہیں اور ان کے کرنے والے کو دائرۂ اسلام سے
خارج کر دیتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی اور عافیت کے طلب گار ہیں۔(الموقع: الاسلام سؤال و جواب, ما حقیقۃ الشرک
و ما اقسامہ, سوال نمبر 34817)
2- شرکِ
اصغر
شرکِ اصغر وہ ہے
جو شرکِ اکبر کا ذریعہ اور وسیلہ بنے، یا جسے نصوصِ شرعیہ میں
"شرک" کہا گیا ہو لیکن وہ درجۂ شرکِ اکبر تک نہ پہنچتا ہو۔
یہ عموماً دو
پہلوؤں سے ہوتا ہے:
پہلا پہلو:
ایسے اسباب سے
وابستگی کے اعتبار سے جن کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی، جیسے ہاتھ (کف)، موتیوں
یا اس جیسے دیگر تعویذات کو اس عقیدے سے لٹکانا کہ یہ حفاظت کا ذریعہ ہیں یا نظرِ
بد کو دور کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے نہ شرعاً اور نہ تقدیراً انہیں اس کا
سبب بنایا ہے۔
دوسرا پہلو:
کچھ چیزوں کی ایسی
تعظیم کے اعتبار سے جو انہیں ربوبیت کے درجے تک تو نہیں پہنچاتی، مگر حد سے بڑھی
ہوئی ہو، جیسے غیر اللہ کی قسم کھانا، یا یہ کہنا: "اگر اللہ اور فلاں نہ
ہوتے"، اور اس جیسے دیگر الفاظ۔
شرکِ اصغر کی
اقسام:
شرکِ اصغر کبھی
ظاہر ہوتا ہے، جیسے چھلہ، دھاگا یا تعویذ وغیرہ پہننا یا لٹکانا، اور اس جیسے دیگر
اقوال و اعمال۔
اور کبھی یہ مخفی
ہوتا ہے، جیسے معمولی ریاکاری (دکھاوا)۔
اسی طرح یہ کبھی اعتقادات
میں ہوتا ہے، مثلاً کسی چیز کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ نفع حاصل کرنے یا
نقصان دور کرنے کا سبب ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کا سبب نہیں بنایا، یا
کسی چیز میں برکت کا عقیدہ رکھنا جبکہ اللہ نے اس میں برکت نہیں رکھی۔
اور کبھی یہ اقوال
میں ہوتا ہے، جیسے کوئی یہ کہے: "ہمیں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش
ملی"—بغیر اس عقیدے کے کہ ستارے خود بارش برساتے ہیں—یا غیر اللہ کی قسم
کھائے بغیر اسے اللہ کے برابر سمجھنے کے ىا اس كى تعظىم كے ، یا یہ کہے: "جو
اللہ چاہے اور تم چاہو" وغیرہ۔
اور کبھی یہ افعال
میں ہوتا ہے، جیسے کوئی تعویذ لٹکائے یا چھلہ یا دھاگا پہنے مصیبت دور کرنے یا اس
سے بچنے کے لیے؛ کیونکہ جو شخص کسی چیز کو ایسا سبب قرار دے جسے اللہ نے نہ شرعاً
سبب بنایا ہو نہ تقدیراً، تو وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔
اسی طرح وہ شخص
بھی (شرکِ اصغر میں مبتلا ہے) جو کسی چیز سے برکت حاصل کرنے کے لیے اسے چھوتا یا
اس سے مسح کرتا ہے، حالانکہ اللہ نے اس میں برکت نہیں رکھی، جیسے مسجدوں کے
دروازوں کو چومنا، ان کی چوکھٹوں سے تبرک حاصل کرنا، یا ان کی مٹی سے شفا طلب
کرنا، اور اس جیسے دیگر اعمال۔
یہ شرک کو اکبر
اور اصغر میں تقسیم کرنے کا ایک مختصر بیان ہے، اس کی مکمل تفصیلات كو اس مختصر موضوع میں سمیٹنا ممکن نہیں۔(الموقع: الاسلام سؤال و جواب, ما حقیقۃ الشرک و ما اقسامہ, سوال نمبر
34817)
حکم کے اعتبار سے
شرکِ اکبر اور اصغرمىں فرق:
حکم کے لحاظ سے
دونوں میں واضح فرق ہے:
شرکِ اکبر انسان
کو اسلام سے خارج کر دیتا ہےاور اس سے تمام سابقہ اعمال ضائع و برباد ہوجاتے ہیں ،
چنانچہ اس کا مرتکب کافر اور مرتد شمار ہوتا ہے۔
رہا شرکِ اصغر،
تو وہ انسان کو ملتِ اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے تمام سابقہ اعمال
ضائع و برباد ہوتے ہیں بلکہ صرف وہ عمل ضائع ہوتا ہے جس میں وہ شرک واقع ہوتا ہے ۔ اور یہ شرک ایک مسلمان سے بھی سرزد ہو سکتا ہے اور وہ اسلام
پر باقی رہتا ہے؛ لیکن اس کا مرتکب ایک بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔ اگر کوئی
شخص اس گناہ سے توبہ کیے بغیر اللہ تعالیٰ سے جا ملے تو وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے
تحت ہوگا؛ اگر اللہ چاہے تو اسے معاف فرما دے، اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے، پھر
اسے جنت میں داخل کر دے۔(الموقع:
الاسلام سؤال و جواب, ما حقیقۃ الشرک و ما اقسامہ, سوال نمبر 34817و اسلام ویب, الشرک...تعریفہ و انواعہ, نمبر
17484)
اور اس کا مرتکب سخت خطرے میں ہوتا ہے، کیونکہ
یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔اسی لیے حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لأن
أحلف بالله كاذباً أحب إليّ من أن أحلف بغيره صادقاً
"میرے نزدیک یہ زیادہ بہتر ہے کہ میں اللہ
کی قسم کھا کر جھوٹ بولوں، اس کے مقابلے میں کہ میں غیر اللہ کی سچی قسم کھاؤں۔"یعنی انہوں نے غیر
اللہ کی قسم (جو شرکِ اصغر ہے) کو اللہ کی جھوٹی قسم سے بھی زیادہ سنگین قرار دیا۔اور
ىہ معلوم ہے كہ اللہ كے نام سے جھوٹى قسم كھانا كبىرہ گناہ ہے ۔(الموقع:
الاسلام سؤال و جواب, ما حقیقۃ الشرک و ما اقسامہ, سوال نمبر 34817)
یہ ہے شرک اپنی
دونوں قسموں، یعنی شرکِ اکبر اور شرکِ اصغر کے ساتھ۔ ایک مسلمان پر
واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور ان امور کا علم حاصل کرے جو اسے توحید کے
قریب کرتے ہیں، کیونکہ مسلمانوں میں شرک کے پھیلنے کے سب سے بڑے اسباب میں سے ایک
اللہ تعالیٰ کے حقِ توحید سے ناواقفیت اور جہالت ہے۔
نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم خالص توحید کو واضح کرنے، شرک کی حقیقت بیان کرنے اور اس کے تمام اسباب
کا سدِّباب کرنے کے لیے نہایت حریص تھے۔ لیکن کتاب و سنت، جو ہدایت کا اصل سرچشمہ
ہیں، ان سے دوری نے امت کے بعض طبقات کو ایسی غلط دینی رسومات اور اعمال میں مبتلا
کر دیا جو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہونے چاہییں تھے، مگر وہ مخلوق کے لیے انجام
دیے جانے لگے، حالانکہ وہ ان کے ہرگز مستحق نہیں تھے۔ ( الموقع: اسلام ویب, الشرک...تعریفہ و انواعہ, نمبر 17484)
دوسرا بڑا گناہ جو
اس حدیث میں مذکور ہے وہ والدین کی
نافرمانی کرنا ہے جس سے مراد ان کے
ساتھ بدسلوکی کرنا اور ان کے حقوق ادا نہ کرنا ہے۔
تیسرا بڑا گناہ جو
آپ نے ذکر کیا وہ ایک روایت کے مطابق جھوٹ بولنا ہے ۔ اس سے
قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک
لگائے ہوئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نشست میں سیدھے ہو کر بیٹھ گئے،
تاکہ اپنی بات کی اہمیت پر متنبہ فرمائیں اور اس سے خبردار کریں، پھر فرمایا: "خبردار! اور جھوٹی بات کہنا (بھی کبیرہ
گناہ ہے)"۔ زور (جھوٹ) سے مراد باطل بات ہے، اور اس
میں گفتگو میں جھوٹ بولنا، جھوٹی گواہی دینا اور اس کے علاوہ دوسری تمام باطل
باتیں شامل ہیں۔ (موقع الدرر السنیۃ: الموسوعۃ الحدیثیۃ ,
شرح حدیث : الا انبئکم ...)
اہم نصیحت:
آخر میں: ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ شرک سے—چاہے چھوٹا
ہو یا بڑا—بچنے کی پوری کوشش کرے، کیونکہ سب سے بڑا گناہ جس کے ذریعے اللہ کی
نافرمانی کی گئی، وہ اسی کے ساتھ شرک کرنا ہے، اور یہ اس کے خالص حق (یعنی اس کی
عبادت اور اطاعت) میں تعدی ہے، حالانکہ وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی
شریک نہیں۔
لہٰذا ہر عقل مند
اور دیندار شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو شرک سے محفوظ رکھنے کی فکر کرے اور
اپنے رب کی پناہ طلب کرے، اس سے دعا کرے کہ وہ اسے شرک سے بچائے؛ جیسا کہ خلیل
اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی:
(وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الأَصْنَامَ) "اے
میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچا" (ابراہیم: 35)۔
بعض سلف نے بجا
طور پر کہا: "جب ابراہیم علیہ السلام بھی اس سے ڈرتے تھے تو پھر کون ہے جو
اپنے آپ کو اس آزمائش سے محفوظ سمجھ سکتا ہے؟"
پس ایک سچے بندے
کے لیے ضروری ہے کہ وہ شرک کا شدید خوف دل میں رکھے اور اپنے رب کی طرف پوری رغبت
کے ساتھ متوجہ ہو کر اس سے نجات کی دعا کرے،
اور اس عظیم دعا کا اہتمام کرے جو نبی کریم ﷺ نے صحابہؓ کو سکھائی: "الشرك فيكم أخفى من دبيب النمل،
وسأدلك على شيء إذا فعلته أذهب عنك صغار الشرك وكباره تقول: اللهم إني أعوذ بك
أن أشرك بك وأنا أعلم، وأستغفرك لما لا أعلم". صححه الألباني في
"صحيح الجامع" (3731).
"تم
میں شرک چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہوتا ہے، اور میں تمہیں ایک ایسی دعا
بتاتا ہوں کہ اگر تم اسے پڑھو گے تو تم سے چھوٹا اور بڑا ہر طرح کا شرک دور ہو
جائے گا: (اے
اللہ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں جانتے بوجھتے تیرے ساتھ کسی کو
شریک ٹھہراؤں، اور جو میں نہ جانوں اس پر تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں)"۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم
رکھے یہاں تک کہ ہم اس سے جا ملیں، اور ہم اس کی عزت کی پناہ چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں
گمراہ نہ کرے؛ وہی زندہ ہے جسے کبھی موت نہیں آئے گی، جبکہ جن و انس سب کو موت آنی
ہے۔اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا اور حکمت والا ہے، اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔(الموقع: الاسلام سؤال و جواب, ما حقیقۃ الشرک
و ما اقسامہ, سوال نمبر 34817)
0 التعليقات: