حج کے بعض احکام و آداب

 

 

حج کے بعض احکام و آداب

أبو میمونہ

Please visit: islahotaraqqi.com

آیات: الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُوماتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدالَ فِي الْحَجِّ وَما تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوى وَاتَّقُونِ يا أُولِي الْأَلْبابِ (١٩٧) لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُناحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلاً مِنْ رَبِّكُمْ فَإِذا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ وَاذْكُرُوهُ كَما هَداكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ (١٩٨) ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (١٩٩) فَإِذا قَضَيْتُمْ مَناسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آباءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْراً فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا وَما لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ (٢٠٠) وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنا عَذابَ النَّارِ (٢٠١)أُولئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسابِ (٢٠٢) وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقى وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ (٢٠٣)(بقرہ/197-203)

ترجمہ:

   حج کے مہینے معلوم و متعین ہیں, لہذا جو ان مہینوں میں حج کو لازم کرلے  تو اسے حج میں فحش کلامی یا  ہمبستری, کسی قسم کا گناہ اور لڑائی جھگڑا نہیں کرنا ہے ,  اور جو  تم کوئی بھی  نیکی کرو گے اللہ تعالى اس کو جانتا ہے, اور تم اپنے ساتھ زاد راہ لے لیا کرو  اور  یقینا سب سے بہتر زاد راہ   تقوى ہے, اور اے عقل والو ! مجھ سے خوف کھاؤ۔ تم پر اپنے رب کا فضل تلاش کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے,  پس جب تم عرفات سے روانہ ہو تو اللہ کا مشعر حرام کے پاس ذکر کرو,  اور اس کا ذکر اسی طرح کرو جیسا کہ اس نے تم کو ہدایت دی ہے,  حالانکہ اس سے پہلے تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے۔ پھر جہاں سے سب لوگ واپس ہوتے  ہیں وہیں سے تم بھی  واپس ہو ۔اور اللہ سے مغفرت طلب کرو بلا شبہ اللہ بہت زیادہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔پھر جب اپنے ارکان و اعمال حج کو ادا کرچکو  تو جس طرح پہلے اپنے  آباء و اجداد کا ذکر کرتے تھے  اسی طرح اب اللہ کا ذکر کرو بلکہ اس سے بھی زیادہ,۔ لوگوں میں سے بعض وہ بھی ہیں جن کا کہنا ہے اے ہمارے رب ہم کو دنیا  ہی میں سب کچھ  دے, ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔اور ان میں سے کچھ کا کہنا ہے اے ہمارے رب ہم کو دنیا میں بھلائی  دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے   اور ہمین جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھ۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے ان کے اعمال کا حصہ ہے اور اللہ بہت تیز حساب لینے والا ہے۔ اور گنتی کے چند دنوں یعنی ایام تشریق میں اللہ کو یاد کرو, دو دن میں جلدی کرنے والے پر کوئی گناہ نہیں ہے اور تاخیر کرنے والے پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے بشرطیکہ وہ صاحب تقوى ہو۔ اور اللہ کا تقوى اختیار کرو  اور جان لو کہ تم سب اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔

معانی کلمات:

  فرض:  لازم کرنا  اور واجب قرار دینا  ۔ کہا جاتا ہے: فرضت عليك كذا، أى أوجبته میں نے تم پر فلاں چیز فرض کی”، یعنی اسے تم پر واجب کر دیا۔

رفث:  اس کا  اصل معنی فحش اور بے حیائی کی بات کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد جماع ہے، یا وہ گفتگو جو جماع اور اس کے اسباب و دواعی کے ایسے ذکر پر مشتمل ہو جسے بیان کرنا ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔

فسوق: اس  سے مراد گناہوں کا ارتکاب کرکے  اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل جانا ہے ۔ اس میں گالی گلوج، حالتِ احرام کی ممنوع چیزوں کا ارتکاب، اور ہر وہ کام شامل ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔

جدال:  جدل سے ماخوذ ہے،  جس کا  ایک معنی بل دینے اور بٹنے کے ہیں۔ اسی سے “زمامٌ مجدول” بٹی ہوئی رسی کو کہا جاتا ہے۔دوسرا معنى جھگڑا کرنا اور زمین پر پٹکنا بھی ہے ۔ وغیرہ یہاں مراد ایسی بحث، تکرار اور نزاع سے منع کرنا ہے جو باہمی بغض، عداوت اور دلوں کی خرابی کا سبب بنے۔

تزودوا: یہ فعل امر ہے اس کا اصل زود ہے, معنى ہے زاد راہ لے لو, سفرخرچ لے لو۔

زاد:توشہ,  زاد راہ, ضروریات و اخراجات سفر ,راشن  جمع ازواد , زود

ألباب:لب” کی جمع ہے، اور “لب” کے معنی عقل کے ہیں۔ ہر چیز کا “لب” اس کا خالص اور بہترین حصہ ہوتا ہے۔ عقل کو “لب” اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ انسان کی سب سے اشرف اور ممتاز صفت ہے۔

جناح:  اصل میں “جنح الشيء” سے ہے، جس کے معنی مائل ہونے کے ہیں۔ کہا جاتا ہے: “جنحت السفينة” یعنی کشتی ایک جانب جھک گئی۔ یہاں “جناح” سے مراد گناہ اور جرم ہے، کیونکہ گناہ انسان کو حق سے باطل کی طرف مائل کر دیتا ہے، اس لیے اسے “جناح” کہا گیا۔

ابتغاء:اس کا  معنی شدت کے ساتھ طلب کرنے کے ہیں ۔

فضل: کے معنی زیادتی اور اضافہ کے ہیں، اور یہ خیر و شر دونوں میں استعمال ہوتا ہے، لیکن عرف میں اچھے اور پسندیدہ اضافہ کو “فضل” اور برے اضافہ کو “فضول” کہا جاتا ہے۔یہاں “فضل” سے مراد وہ حلال مال ہے جو جائز تجارت یا رزق کے دوسرے مشروع ذرائع سے حاصل کیا جائے۔

أفضتم: کثرت اور ازدحام کے ساتھ ایک جگہ سے نکل پڑنا اور بہہ نکلنا۔یہ حاجیوں  کو پانی سے تشبیہ دینے کے طور پر کہا گیا ہے کہ جب پانی بہت زیادہ ہو جاتا ہے تو اس کا ایک حصہ دوسرے کو دھکیلتا ہوا پھیل جاتا اور وادی یا برتن کے کناروں سے بہنے لگتا ہے۔مراد لوگوں کا  عرفات سے کثرت اور ازدحام کے ساتھ تیزی سے نکلنا ہے  اور مزدلفہ کی طرف روانہ ہونا ہے ۔

عرفات:  ایک معروف پہاڑ کا نام ہے۔ اور اسے عرفات اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ لوگ اس کے ذریعہ متعارف ہوتے ہیں ۔پس  لوگ ایک ہی وقت میں اس پر جمع ہو تے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں۔

مشعر:  یہ لفظ “شعور” سے مشتق ہے، یہ اسم ہے  جس کا معنی علم و آگہی ہے، یا “شعار” سے مشتق ہے، جس کا معنی علامت ہے۔اور “المشعر” کو “الحرام” کی صفت سے اس لیے موصوف کیا گیا کہ وہ حدودِ حرم میں داخل ہے، اور ایک ایسا مقدس مقامِ عبادت ہے جسے حرمت و تقدس حاصل ہے۔اور مشعر حرام سے مراد مزدلفہ ہے۔

مناسک:منسک” کی جمع ہے، جو “نسك” سے مشتق ہے اور باب نصر سے ہے ، جس کا  معنی عبادت کرنا ہے۔ یہاں اس سے مراد وہ عبادات اور اعمال ہیں جو حج سے متعلق ہیں۔

سریع:  یہ سرع سے ماخوذ ہے, اس کا معنى تیز رو , تیز رفتار, فاسٹ, جلدوغیرہ ہے ,  جمع سرعان و سراع ہے۔

حساب:  مصدر ہے، جیسے “محاسبہ”۔ کبھی “محسوب” کو بھی “حساب” کہا جاتا ہے۔ حساب کے معنی گننے کے ہیں۔ کہا جاتا ہے: “حسب يحسب حسابًا وحِسابةً وحسبانًا” یعنی اس نے شمار کیا۔

معدودات:  معدود کی جمع ہے جو عد سے ماخوذ ہے,  جس کا معنى ہے شمار کرنا , گننا۔معدود یعنی  گنتی کے, گنے چنے , تھوڑے, کم تعداد میں , ایام معدودات سے مراد ایام تشریق ہیں۔

تحشرون: یہ حشر سے فعل مضارع ہے  جس کا معنى ہے جمع کرنا, داخل کرنا, اٹھانا, جلاوطن کرنا وغیرہ (تفسیر قرطبی, الوسیط للطنطاوی, تفسیر سعدی  و موقع معجم المعانی)

تفسیر:

یہ سورہ بقرہ کی 197سے 203 تک کی آیتیں ہیں جن میں اللہ تعالى نے حج سے متعلق  بعض احکام و آداب , ارکان و مسائل کا خویصورت انداز میں ذکر کیا ہے ۔  دعا کرنے اور اپنے ذکر پر ابھارا ہے اور تقوى کو اپنانے کی تاکید کی ہے  وغیرہ ۔یہاں ان آیات کی مختصر تفسیر پیش خدمت ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُوماتٌ﴾، اس کا مطلب یہ ہے کہ حج کا وقت چند معلوم مہینے ہیں، یا یہ کہ حج کے مہینے متعین اور معروف ہیں۔ یہاں مضاف کو حذف کر دیا گیا ہے اور مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام کر دیا گیا ہے۔اور نسبت حج کے وقت کی طرف کرنے کے بجائے خود حج کی طرف کی گئی ہے، یہ بتانے کے لیے کہ  یہ مہینے چونکہ اس عظیم فریضے کی ادائیگی کے لیے مخصوص ہیں، اس لیے انہوں نے اسی فریضے سے تقدس اور برکت حاصل کر لی ہے، یہاں تک کہ گویا یہ مہینے خود یہی فریضہ بن گئے ہوں۔(الوسیط للطنطاوی)

حج کے مہینوں کے بارے میں اختلاف ہے, ایک قول ہے کہ یہ  شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔ اور ایک قول یہ ہے کہ شوال، ذوالقعدہ اور پورا ذوالحجہ حج کے مہینے ہیں۔

اس اختلاف کا فائدہ دم کے وجوب کے  متعلق ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ پورا ذوالحجہ حج کے مہینوں میں شامل ہے، وہ اس شخص پر دم لازم نہیں کرتے جو طوافِ افاضہ کو مؤخر کر کے ذوالحجہ کے آخری دنوں میں ادا کرے، کیونکہ اس نے طواف حج کے مہینوں ہی میں کیا ہے۔

اور جو یہ کہتے ہیں کہ حج کا وقت ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے، وہ ایسے شخص پر دم واجب قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس نے طواف اپنے مقررہ وقت سے مؤخر کیا۔

لفظ "مہینوں" کا اطلاق دو مہینوں اور ایک تہائی کے حصے پر ہو سکتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مہینے کے ایک حصے کو اس کے پورے حصے کے برابر سمجھا جاتا ہے - بالکل اسی طرح کہ کوئی کہہ سکتا ہے، "میں نے تمہیں فلاں سال میں دیکھا ہے،" حالانکہ اس سال کے اندر کسی نے اس شخص کو صرف ایک گھنٹے کے لیے دیکھا ہوگا۔(تفسیر قرطبی)

اور اللہ تعالیٰ نے ان مہینوں کو “معلوم” قرار دے کر تعبیر فرمایا، اس لیے کہ عرب ہر سال حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے ہی سے حج کے مہینوں کو جانتے تھے، اور اسلام آیا تو اس نے اسی معروف و متعین نظام کو برقرار رکھا جس کو وہ جانتے تھے ۔

یا “معلوم” ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ مہینے مخصوص اوقات کے ساتھ مقرر ہیں، جن سے نہ پہلے حج ادا کیا جا سکتا ہے اور نہ بعد میں۔ اور اس مفہوم میں جاہلیت کے اس “نسیء یعنی مؤخر کرنا” کی تردید بھی شامل ہے، جسے وہ اپنی خواہشات کے مطابق انجام دیا کرتے تھے۔

اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ﴾ اس بات کی وضاحت ہے کہ مسلمان کو اس فریضے کی ادائیگی کے وقت کن اعلیٰ اخلاق اور پاکیزہ اوصاف سے آراستہ ہونا چاہیے۔

مطلب یہ ہے کہ حج کے أوقات  چند معلوم مہینے ہیں، پس جو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کر کے اسے اپنے اوپر لازم کر لے اور احرام باندھ لے، اس پر لازم ہے کہ عورتوں سے جماع اور اس کے دواعی سے بچے، اور ہر اس قول و فعل سے دور رہے جو اسلامی آداب کے خلاف ہو اور ساتھیوں اور بھائیوں کے درمیان جھگڑے اور نزاع کا سبب بنے۔کیونکہ سب لوگ اللہ تعالیٰ کے دسترخوانِ رحمت پر جمع ہوئے ہیں، اس لیے ان پر لازم ہے کہ وہ اس کی اطاعت پر متحد رہیں، اور نیکی و تقویٰ میں ایک دوسرے کا تعاون کریں، نہ کہ گناہ اور زیادتی میں۔(الوسیط للطنطاوی)

اورجان لیجیے کہ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ وقوفِ عرفہ سے پہلے جماع کر لینے سے حج فاسد ہو جاتا ہے، اور ایسے شخص پر آئندہ سال حج کی قضا اور قربانی لازم ہوتی ہے۔(تفسیر قرطبی)

علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ نے ﴿فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ﴾ میں ضمیر لانے کے بجائے لفظ “الحج” کو ظاہر فرمایا، حالانکہ مقام کا تقاضا یہ تھا کہ ضمیر لائی جاتی۔ اس اظہار میں اس کے مقام و مرتبہ کی کامل اہمیت کو نمایاں کرنا مقصود ہے، اور اس حکم کی علت کی طرف بھی اشارہ ہے۔

کیونکہ معظم بیت اللہ کی حاضری اور اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ان باتوں کو ترک کرنے کا مقتضی ہے جو انسان کو آلودہ اور داغدار کرتی ہیں، خصوصاً اس شخص کے لیے جو بادشاہوں کے بادشاہ کی طرف سلوک اور سفر کا قصد رکھتا ہو۔

اور نفی کے اسلوب کو اختیار کرنا ممانعت میں مبالغہ کے لیے ہے، نیز اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حقیقتاً ان امور کا وجود ہی نہ ہونا چاہیے، کیونکہ جو چیز اپنی ذات میں ہی بری، ناپسندیدہ اور مطلقاً ممنوع ہو، وہ ایسے شخص کے حق میں جو نہایت عظیم اور دشوار عبادت میں مشغول ہو، اور بھی زیادہ قبیح اور ناپسندیدہ ہو جاتی ہے۔

اور ﴿فِيهِنَّ﴾ کی ضمیر “اشہر” کی طرف راجع ہے، کیونکہ غیر عاقل کی جمع کے لیے عربی میں مؤنث کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔

شافعیہ نے اس آیت سے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ حج کے مہینوں کے علاوہ دوسرے وقت میں حج کا احرام باندھنا جائز نہیں، کیونکہ حج کے مخصوص مہینوں کے علاوہ احرام باندھنا عبادت کو اس کے مقررہ وقت سے پہلے شروع کرنا ہے، اس لیے وہ صحیح نہیں ہوگا۔(الوسیط للطنطاوی و تفسیر سعدی) جبکہ احناف اور حنابلہ کے نزدیک حج کے مہینوں سے پہلے احرام باندھنا جائز تو ہے، البتہ مکروہ ہے۔ اور امام مالکؒ اس میں کراہت کے بھی قائل نہیں ہیں۔

بظاہر یہاں شافعیہ کا قول زیادہ راجح معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ﴾ ان کے موقف کی تائید کرتا ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان مہینوں کو اس فریضے کا ظرف اور محل قرار دیا ہے۔

اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ﴾ برائی سے منع کرنے کے بعد نیکی کرنے کی ترغیب پر مشتمل ہے۔یعنی برے اقوال و افعال کو چھوڑ دو، اور نیک اعمال کی طرف جلدی کرو، خصوصاً ان بابرکت زمانوں اور مقدس مقامات میں۔ اور اللہ تعالیٰ سے تمہارے اعمال میں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، بلکہ وہ تمہارے ہر نیک عمل کو جانتا ہے اور تمہیں اس کا ایسا بدلہ عطا فرمائے گا جس کے تم مستحق ہو۔(الوسیط للطنطاوی)اس سے یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ صرف برائیوں کو چھوڑ کر اللہ کا تقرب حاصل نہیں ہوگا بلکہ احکام کو بھی انجام دینا ضروری ہے۔ (تفسیر سعدی)

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى﴾۔امام رازیؒ فرماتے ہیں:اس مبارک جملے کے بارے میں دو قول ہیں:

پہلا قول یہ ہے کہ یہاں مراد یہ ہے کہ تقویٰ یعنی نیک اعمال کا زادِ راہ اختیار کرو۔ اس کی دلیل اس کے بعد آنے والا یہ ارشاد ہے: ﴿فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى﴾۔

اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کا سفر دو قسم کا ہوتا ہے :

ایک دنیا کا سفر، اور دوسرا دنیا سے سفر۔

پس دنیا کے سفر کے لیے زادِ راہ ضروری ہے، جو کھانا، پینا اور مال وغیرہ ہے ۔ اسی طرح دنیا سے سفر کے لیے بھی زاد ضروری ہے، جو  اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اور اس کے سوا ہر چیز سے بے رغبتی ہے ۔

اور یہ زاد پہلے زاد سے کہیں بہتر ہے، کیونکہ دنیا کا زاد انسان کو عارضی تکلیف سے بچاتا ہے، جبکہ آخرت کا زاد دائمی عذاب سے نجات دلاتا ہے۔

اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ آیت اہلِ یمن کے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے  جو بغیر زادِ راہ کے حج کے لیے نکل پڑتے تھے اور کہتے تھے: “ہم توکل کرنے والے ہیں۔ پھر وہ لوگوں سے سوال کرتے، بلکہ کبھی ان پر ظلم کرتے اور ان کا مال زبردستی لے لیتے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ وہ مال اور کھانے پینے کا ایسا سامان ساتھ لے کر چلیں جو انہیں لوگوں سے سوال کرنے سے بے نیاز کر دے۔

اور ہمارے نزدیک یہ مبارک آیت دونوں معنوں کی گنجائش رکھتی ہے۔

چنانچہ یہ لوگوں کو اس روحانی اور معنوی زادِ راہ اختیار کرنے کی دعوت دیتی ہے جو حقیقی سعادت کا باعث ہے، جو  اللہ تعالیٰ کا تقویٰ، اس کے احکام کی پیروی، اس کی نافرمانی سے اجتناب، اور کثرت سے نیک اعمال کرنا ہے ۔

اور اسی کے ساتھ ساتھ یہ انہیں اس ظاہری اور مادی زادِ راہ کے اختیار کرنے کا بھی حکم دیتی ہے جو انہیں لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے سے بچائے اور ان کی عزت و آبرو کی حفاظت کرے۔

اس طرح ہم نے لفظ کو اس کے حقیقی اور مجازی دونوں معنوں میں استعمال کیا ہے، اور یہ ایسا اسلوب ہے جو بہت سے اہلِ علم کے نزدیک معروف اور پسندیدہ ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے آیت کے آخر میں تقویٰ کی تاکید اور اخلاص کی ضرورت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ﴾۔یعنی اے پاکیزہ  سلیم عقل رکھنے والو اور صحیح فہم و ادراک کے مالک لوگو! میرے لیے خالص تقویٰ اختیار کرو۔ کیونکہ جب تم عقل و شعور والے ہو تو تم پر تقویٰ کی پابندی اور بھی زیادہ لازم ہے، اور اس سے اعراض کرنا تمہارے حق میں اور زیادہ قبیح ہے۔

اور یہ مبارک جملہ اپنے سابقہ جملے کی تکرار نہیں ہے، کیونکہ پہلی آیت میں تقویٰ کی ترغیب دی گئی تھی، جبکہ یہاں تقویٰ میں اخلاص پیدا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔(الوسیط للطنطاوی)

پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ روحانی زادِ راہ اختیار کرنا اس بات کے منافی نہیں کہ انسان مادی زادِ راہ بھی اختیار کرے، بشرطیکہ تقویٰ موجود ہو۔ چنانچہ فرمایا: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ یعنی حج کے موسم میں تجارت یا دیگر جائز ذرائعِ معاش کے ذریعے حلال رزق اور پاکیزہ مال طلب کرنے میں تم پر نہ کوئی گناہ ہے اور نہ کوئی حرج۔

مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ لوگ حج کے زمانے میں تجارت سے بچتے تھے، یہاں تک کہ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں خرید و فروخت سے بھی اجتناب کرتے تھے۔ پس یہ آیت نازل ہوئی تاکہ انہیں بتایا جائے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔

امام بخاریؒ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ “ذو المجاز” اور “عکاظ” جاہلیت کے زمانے میں لوگوں کی تجارتی منڈیاں تھیں۔ جب اسلام آیا تو لوگوں نے گویا اسے ناپسند کیا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾۔

اور ابن کثیرؒ نے ذکر کیا ہے کہ امام احمدؒ نے ابو امامہ تیمی سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں:
میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: “ہم کرایہ پر سواری دیتے ہیں، تو کیا ہمارا حج ہو جاتا ہے؟

انہوں نے فرمایا:“کیا تم بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے، جمرات کو رمی نہیں کرتے، سر نہیں منڈواتے، اور مناسک ادا نہیں کرتے؟میں نے عرض کیا: “کیوں نہیں!”

تو حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا:“ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ  سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے۔ آپ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا، یہاں تک کہ جبریل علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ پھر نبی ﷺ نے اس شخص کو بلایا اور فرمایا: ‘تم بھی حاجی ہو۔

پس یہ آیتِ کریمہ اس بات میں بالکل صریح ہے کہ جو شخص حج کے موسم میں رزق حاصل کرنے کا محتاج ہو، اس کے لیے روزی کمانا جائز ہے، بشرطیکہ یہ چیز اسے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی ادائیگی سے غافل نہ کر دے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ﴾۔

یہاں “فَإِذَا” کی فاء اس اجمال کی تفصیل کے لیے ہے جو اس سے پہلے ﴿فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ﴾ میں بیان ہوا تھا۔

علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عرفات میں وقوف حج کا سب سے بڑا رکن ہے۔ چنانچہ حدیثِ شریف میں آیا ہے:“الحج عرفةیعنی حج تو عرفات ہی ہے۔اور یہ وقوف ذوالحجہ کی نویں تاریخ کو ہوتا ہے۔(الوسیط للطنطاوی)

امام قرطبیؒ نے لکھا ہے کہ اہلِ علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر کسی شخص نے یومِ عرفہ میں زوال سے پہلے وقوف کیا اور پھر زوال سے پہلے ہی وہاں سے چلا گیا، تو اس کا وہ وقوف معتبر نہیں ہوگا۔

اور اس بات پر بھی اجماع ہے کہ جس شخص نے زوال کے بعد عرفات میں وقوف کیا اور رات آنے سے پہلے دن ہی میں وہاں سے روانہ ہوگیا، اس کا حج مکمل ہو جائے گا، سوائے امام مالکؒ کے۔ ان کا کہنا ہے کہ رات کا کچھ حصہ پانا ضروری ہے۔

البتہ جو شخص رات کے وقت عرفات میں وقوف کرے، تو اس کے حج کے مکمل ہونے میں امت کا کوئی اختلاف نہیں۔

جمہور کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ مطلق فرمان ہے: ﴿فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ﴾ کیونکہ اس میں رات یا دن کی کوئی تخصیص نہیں کی گئی۔

اسی طرح حضرت عروہ بن مضرسؓ کی حدیث بھی دلیل ہے۔ وہ کہتے ہیں:میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ “جمع” یعنی مزدلفہ کے مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کیا:“یا رسول اللہ! میں جبلِ طیّ سے آپ کے پاس آیا ہوں، میں نے اپنی سواری کو تھکا دیا اور خود بھی مشقت اٹھائی، تو کیا میرا حج ہو گیا؟رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“جس شخص نے ہمارے ساتھ جمع میں فجر کی نماز پائی، اور اس سے پہلے رات یا دن میں عرفات میں وقوف کر چکا ہو، اس کا حج مکمل ہوگیا۔(تفسیر قرطبی)

اور ﴿مِنْ عَرَفَاتٍ﴾ میں “مِنْ” ابتدائے غایت(آغاز نقطہ کی تحدید)  کے لیے ہے، یعنی: جب تم عرفات سے نکل کر مشعرِ حرام کی طرف روانہ ہو۔

اور “المشعر الحرام” سے مراد مزدلفہ ہے، اور بعض کے نزدیک مزدلفہ کے اندر ایک خاص مقام مراد ہے۔

احناف اور شوافع کے نزدیک مزدلفہ میں وقوف واجب ہے، رکن نہیں۔ لہٰذا اگر کسی سے یہ فوت ہو جائے تو اس کا حج باطل نہیں ہوگا، البتہ اس پر دم لازم آئے گا۔اور اکثر مالکیہ کے نزدیک وہاں وقوف سنتِ مؤکدہ ہے۔جبکہ بعض تابعین اور بعض شافعیہ کے نزدیک وہاں وقوف بھی وقوفِ عرفات کی طرح رکن ہے۔

مطلب یہ ہے کہ اے گروہِ حجاج! جب تم عرفات سے باہمی ازدحام اور تیزی کے ساتھ مزدلفہ کی طرف روانہ ہو، تو اللہ تعالیٰ کا تلبیہ، تہلیل اور دعا کے ذریعے خوب ذکر کرو، ، ایسے دلوں کے ساتھ جو عاجزی سے بھرے ہوں اور ایسی روحوں کے ساتھ جو پاکیزہ ہوں۔ کیونکہ ان مقدس مقامات اور بابرکت اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر درجات کی بلندی اور اعلیٰ مقامات کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ﴾۔

یہاں “کاف” تشبیہ کے لیے ہے، اور اس طرح کے اسلوب میں تشبیہ سے مراد حسن و کمال کی برابری میں مشابہت  ہوتی ہے۔ جیسے تم کہتے ہو: اخدمه كما أكرمك تعنى: لا تتقاصر خدمتك عن إكرامه.  “اس کی خدمت اسی طرح کرو جیسے اس نے تمہارا اکرام کیا ہے”، یعنی تمہاری خدمت اس کے احسان سے کم نہ ہو۔

مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایسا حسین ذکر کرو جو اس ہدایت کے شایانِ شان ہو جو اس نے تمہیں عطا فرمائی ہے۔ اور تم جانتے ہو کہ یہ ہدایت کتنی عظیم نعمت ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے تم تاریکیوں سے نکل کر نور کی طرف آئے ہو۔ لہٰذا تم پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرو اور اس کی خوب حمد و ثنا بیان کرو۔

اور بعض نے کہا ہے کہ “کاف” تعلیل کے لیے ہے، اور “ما” مصدر یہ ہے۔ یعنی: اللہ تعالیٰ کو یاد کرو اور اس کی عظمت بیان کرو، اس سابقہ ہدایت کی وجہ سے جو اس نے تمہیں عطا فرمائی۔

اور ﴿وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ﴾ میں “إنْ” دراصل “إنَّ” مخففہ من الثقیلہ ہے۔ اور ﴿مِنْ قَبْلِهِ﴾ کی ضمیر اس ہدایت کی طرف راجع ہے جو “ما” مصدر یہ اور اس کے متعلقہ الفاظ سے مفہوم ہوتی ہے۔اور یہاں “ضلال” سے مراد ایمان اور ان احکام سے ناواقفیت ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو مکلف بنایا ہے۔

یعنی اللہ تعالیٰ کا ایسا ذکر کرو جو اس کی ہدایت کے شایانِ شان ہو، کیونکہ اگر یہ ہدایت نہ ہوتی تو تم اپنے گمراہی اور دینِ حق سے جہالت کی حالت ہی میں باقی رہتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ عظیم احسان فرمایا کہ تمہیں ہدایت عطا کی، لہٰذا اس نعمت پر اس کا کثرت سے ذکر اور شکر ادا کرو۔(الوسیط للطنطاوی)

اور اللہ تعالیٰ نے عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا ذکر کرنے اور اپنے ذکر کی کثرت کا حکم دینے کے بعد، اب روانگی کے صحیح اور بہترین طریقے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾۔یعنی عرفات سے روانہ ہو، نہ کہ مزدلفہ سے۔

اس آیت میں خطاب کن لوگوں سے ہے؟ اس بارے میں دو قول ہیں:

پہلا قول یہ ہے کہ اس میں خطاب قریش اور ان کے اتباع  سے ہے، کیونکہ وہ اپنے آپ کو دوسرے لوگوں سے برتر سمجھتے تھے، اس لیے وہ عام لوگوں کے ساتھ عرفات میں وقوف نہیں کرتے تھے، بلکہ الگ مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے۔اور وہ کہتے تھے: “ہم اللہ کے قطین یعنی اس کے حرم کے باشندے ہیں، اس لیے ہمارے لیے یہی مناسب ہے کہ ہم حرم کی تعظیم کریں” — جو کہ مزدلفہ ہے  — “اور حل کی کسی جگہ کی تعظیم نہ کریں” — جو عرفات ہے ۔

امام بخاریؒ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، وہ فرماتی ہیں:

قریش اور وہ لوگ جو ان کے دین پر تھے مزدلفہ میں وقوف کرتے تھے، اور انہیں “حُمس” کہا جاتا تھا، جبکہ باقی تمام عرب عرفات میں وقوف کرتے تھے۔ پھر جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ عرفات جائیں، وہاں وقوف کریں، پھر وہاں سے روانہ ہوں۔ یہی مراد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ہے:﴿ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ﴾۔

اس بنا پر معنی یہ ہوگا:اے گروہِ قریش! تم بھی اسی جگہ سے روانہ ہو جہاں سے سب لوگ روانہ ہوتے ہیں، یعنی عرفات سے، اور مزدلفہ سے روانگی کے اس طریقے کو چھوڑ دو جو تم اختیار کیے ہوئے تھے۔ پس مقصود قریش کے اس باطل امتیاز کو ختم کرنا ہے۔

اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس آیت میں خطاب تمام لوگوں سے ہے، اور اللہ تعالیٰ نے سب کو حکم دیا ہے کہ وہ اسی جگہ سے روانہ ہوں جہاں سے عام لوگ روانہ ہوتے ہیں۔اور آیت میں “الناس” سے مراد حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام ہیں، کیونکہ ان دونوں کی سنت عرفات سے روانگی کی تھی، نہ کہ مزدلفہ سے۔

بعض اہلِ علم نے کہا ہے کہ ایک شخص پر جمع کا لفظ بولنا جائز ہے، جب وہ ایسا پیشوا ہو جس کی اقتدا کی جاتی ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے:﴿الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ﴾ حالانکہ یہاں “الناس” سے مراد “نعیم بن مسعود” ہیں۔

اور ہمارے نزدیک دوسرا قول زیادہ قابلِ قبول ہے، کیونکہ اس آیت کا خاص اور عام دونوں پہلوؤں سے اصل مقصد تمام لوگوں کو ایک مقام پر جمع ہونے کی دعوت دینا ہے، تاکہ وہ حج کی ادائیگی کے وقت اخوت اور مساوات کا عملی احساس کریں، بغیر اس فرق کے کہ کون بڑا ہے اور کون چھوٹا، کون مالدار ہے اور کون فقیر، کون قریشی ہے اور کون غیر قریشی۔اور اس ممانعت میں قریش کی وہ حالت بدرجہ أولى داخل ہے جس پر وہ تھے۔

اور علماء کا کہنا  ہے:“اعتبار لفظ کے عموم کا ہوتا ہے، سبب کے خصوص کا نہیں۔

اور یہاں “ثم” دونوں “افاضتوں” — یعنی عرفات سے روانگی اور مزدلفہ سے روانگی — کے درمیان معنوی فرق اور دوری کو ظاہر کرنے کے لیے ہے، کیونکہ ان میں سے ایک صحیح ہے اور دوسری غلط۔یعنی مزدلفہ سے روانہ نہ ہو، کیونکہ یہ بڑی غلطی ہے، بلکہ اپنی روانگی عرفات سے کرو، کیونکہ یہی وہ صحیح عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا اور پسندیدہ قرار دیتا ہے۔(الوسیط للطنطاوی)

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ ، ﴿أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ﴾ پر معطوف ہے۔یعنی اپنے گناہوں اور سابقہ خطاؤں پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو، کیونکہ مومن جتنا زیادہ روحانی بلندی اور قلبی صفائی حاصل کرتا ہے، اتنا ہی وہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کے مقابلے میں اپنے آپ کو کوتاہ محسوس کرتا ہے۔

اور جو شخص کثرت سے توبہ اور استغفار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی لغزشوں کو معاف فرما دیتا ہے، کیونکہ وہ بہت زیادہ بخشنے والا اور نہایت رحم فرمانے والا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ حج کے اعمال سے فارغ ہونے کے بعد انہیں کیا کرنا چاہیے۔ چنانچہ فرمایا: ﴿فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا﴾۔

ابن کثیرؒ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فرمایا:
اہلِ جاہلیت حج سے فارغ ہونے کے بعد موسمِ حج میں مسجدِ منیٰ اور پہاڑ کے درمیان کھڑے ہو کر اپنے آباء و اجداد کے کارنامے اور فضائل بیان کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ان میں سے کوئی کہتا: “میرا باپ لوگوں کو کھانا کھلاتا تھا، دیتیں ادا کرتا تھا...”۔ غرض ان کی گفتگو صرف اپنے آباء کے کارناموں کے ذکر ہی پر مشتمل ہوتی تھی۔ تب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی۔

مطلب یہ ہے کہ جب تم اپنی عبادات سے فارغ ہو جاؤ اور حج کے اعمال ادا کر چکو، تو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی اطاعت میں ایسے مشغول ہو جاؤ جیسے تم اپنے آباء کے فخر و فضائل کے ذکر میں مشغول رہتے تھے، بلکہ تمہیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اپنے آباء کے کارناموں کے  ذکر سے بھی زیادہ اور بڑھ کر کرو۔

کیونکہ آباء کے فضائل کا ذکر اگر جھوٹ پر مبنی ہو تو دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب کا سبب بنتا ہے، اور اگر سچا بھی ہو تو اکثر تکبر اور غرور پیدا کر دیتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا ذکر اگر اخلاص اور خشوع کے ساتھ ہو تو اس کا ثواب بہت عظیم اور اجر بہت بڑا ہے۔

اور اس کے علاوہ جب انسان اپنے باپ کو اس لیے نہیں بھولتا کہ وہ اس کے وجود کا سبب ہے، تو اس کے لیے بدرجۂ اولیٰ یہ لازم ہے کہ وہ اس ذات کو نہ بھولے جس نے اس کے باپ کو پیدا فرمایا، اور وہ اللہ رب العالمین ہے۔

پس اس آیتِ کریمہ کا مقصد اللہ تعالیٰ کے ذکر کی ترغیب دینا اور حسب و نسب پر فخر کرنے سے روکنا ہے۔(الوسیط للطنطاوی)  اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایک مسلمان  جب بھی کسی عبادت سے فارغ ہو تو اس میں جو کوتاہی ہوئی ہے اس پر اللہ سے معافی مانگے اور جو اسے عبادت کی توفیق ملی ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرے۔(تفسیر سعدی)

اور یہاں “أو” اضراب اور بلندی و علو کی طرف ترقی کے معنی میں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے انہیں حکم دیا کہ وہ اس کا ذکر اپنے آباء کے ذکر کے مشابہ و مساوی  کریں، پھر انہیں اس سے بھی بلند اور اعلیٰ درجے کی طرف منتقل فرمایا، اور مطالبہ کیا کہ ان کا ذکرِ الٰہی اپنے آباء کے ذکر سے کہیں زیادہ اور عظیم ہو۔(الوسیط للطنطاوی)

اور اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اپنا ذکر کرنے کا حکم دینے کے بعد یہ بیان فرمایا کہ دعا اور سوال کے اعتبار سے لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہیں۔پہلے گروہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ﴾۔یعنی بعض لوگ ایسے ہیں جو اپنی دعا میں صرف یہ کہتے ہیں: “اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں وہ سب کچھ دیدے جس کی ہمیں رغبت ہے , ہم اس کے سوا اور کسی چیز کے طلبگار نہیں ہیں  ۔ ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں خیر کا کوئی حصہ اور نصیب نہیں ہوگا۔

یہ وہ لوگ ہیں جن پر دنیا کی محبت، اس کی خواہشات اور لذتوں نے غلبہ پا لیا ہے، یہاں تک کہ وہ صرف اسی کے بارے میں سوچتے ہیں اور اسی کی فکر میں لگے رہتے ہیں، جبکہ آخرت اور اس کے ثواب و عذاب سے غافل رہتے  ہیں۔

اور ﴿فَمِنَ النَّاسِ﴾ میں “فاء” تفصیل کے لیے ہے، کیونکہ اس کے بعد لوگوں کی دو قسموں کا بیان ہے۔اور ﴿آتِنَا﴾ کے مفعول کو حذف کر دیا گیا ہے تاکہ مطلوب چیز کی عمومیت پر دلالت ہو، یعنی وہ دنیا کی ہر اس چیز کو چاہتے ہیں جس تک ان کے ہاتھ پہنچ سکتے ہوں، بغیر اس تمیز کے کہ وہ حلال ہے یا حرام۔

اور دوسرے گروہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا:﴿وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾۔یعنی وہ لوگ دعا کرتے ہیں:“اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما”۔

یعنی ایسی عمدہ حالت عطا فرما کہ ہمارے بدن تندرست ہوں، ہمارے دل مطمئن ہوں، اور ہماری زندگی آسان اور خوشحال ہو، تاکہ ہم تیرے سوا کسی کے محتاج نہ ہوں اور تیرے علاوہ کسی کے سامنے ذلیل نہ ہوں۔

اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما” یعنی روزِ قیامت ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن سے تو راضی ہوگا اور جو تجھ سے راضی ہوں گے۔اور ہمیں قیامت کے دن  آگ کے عذاب سے بچا لے۔

اور اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی تیسری قسم کا ذکر نہیں فرمایا، یعنی وہ لوگ جو صرف آخرت چاہتے ہیں اور دنیا کی کوئی طلب نہیں رکھتے، کیونکہ اسلام ایسا دین نہیں جو اپنے ماننے والوں کو دنیا کے جائز حصے بھلا دینے کی تعلیم دے، اور نہ وہ ان نعمتوں اور زینتوں سے کنارہ کشی کو پسند کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے پیدا فرمائی ہیں۔

بلکہ اسلام تو چاہتا ہے کہ اس کے ماننے والے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل کرنے والے ہوں:﴿وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا﴾اور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس کے ذریعے آخرت کا گھر طلب کرو، اور دنیا میں اپنے حصے کو نہ بھولو۔(الوسیط للطنطاوی)

اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ اس دوسرے گروہ نے اللہ تعالیٰ سے آگ کے عذاب سے بچانے کی دعا الگ سے کی، حالانکہ یہ بات “آخرت کی بھلائی” میں شامل تھی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے مضبوط ایمان، پاکیزہ باطن اور اپنے رب سے شدید خوف کی بنا پر امید کے مقابلے میں خوف کو زیادہ محسوس کرتے ہیں۔پس وہ اپنی نیکیوں کو — خواہ کتنی ہی زیادہ ہوں — اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور فضل کے مقابلے میں بہت کم سمجھتے ہیں، اور قبولیت کی امید میں بار بار دعا اور التجا کرتے رہتے ہیں۔

اور علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ آیتِ کریمہ جامع ترین دعاؤں میں سے ہے۔

اس دعا کی فضیلت میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک وہ روایت ہے جسے امام بخاریؒ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے:

اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة، وفي الآخرة حسنة، وقنا عذاب النار.”“اے اللہ! اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔

امام رازیؒ فرماتے ہیں:

جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے مناسکِ حج کی تفصیل بیان فرمائی، پھر اس کے بعد ذکر کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ﴾پھر اس کے بعد یہ بیان فرمایا کہ بہتر یہی ہے کہ غیر اللہ کے ذکر کو چھوڑ دیا جائے اور صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر پر اکتفا کیا جائے۔اس کے بعد دعا کا طریقہ بیان فرمایا اور ارشاد ہوا:﴿فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ﴾

اور یہ ترتیب کتنی حسین ہے! کیونکہ پہلے عبادت ضروری ہے تاکہ نفس ٹوٹے اور اس کی تاریکیاں دور ہوں۔ پھر عبادت کے بعد اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہونا ضروری ہے تاکہ دل منور ہو اور اس پر اللہ تعالیٰ کے جلال کا نور جلوہ گر ہو۔

پھراس ذکر  کے بعد انسان دعا میں مشغول ہوتا ہے، کیونکہ دعا اسی وقت کامل ہوتی ہے جب اس سے پہلے ذکر ہو۔جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں مذکور ہے کہ انہوں نے پہلے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا:﴿الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ﴾پھر اس کے بعد دعا کی:﴿رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ﴾ پس انہوں نے دعا سے پہلے ذکر کو مقدم رکھا۔(الوسیط للطنطاوی)

پھر اللہ تعالیٰ نے اس دوسرے گروہ کا انجام بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾۔اسمِ اشارہ “أولئك” دوسرے گروہ کی طرف لوٹ رہا ہے، کیونکہ وہ مذکورہ عمدہ صفات سے متصف ہیں۔ اور دور کے اسمِ اشارہ کو ان کی بلند منزلت اور اعلیٰ مرتبے کو ظاہر کرنے کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔

اور اس جملے کو پہلے جملے پر عطف نہیں کیا گیا، کیونکہ یہ گویا اس کا نتیجہ اور ثمرہ ہے۔

اور ایک قول یہ ہے کہ اسمِ اشارہ دونوں گروہوں کی طرف راجع ہے، یعنی ہر گروہ کو اس کی نیت کے مطابق اس کے عمل کا حصہ ملے گا۔ لیکن اس قول کو یہ بات کمزور کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی پہلے گروہ کا انجام یہ بیان فرما چکا ہے:﴿وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ﴾۔

مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اپنی دعا میں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی طلب کی، ان کے لیے ان کے نیک اعمال کے مطابق بڑا حصہ اور عظیم اجر ہے، یا ان نیک کاموں کے سبب عظیم بدلہ ہے جو انہوں نے کیے۔

پس حرفِ جر “من” ابتدائے غایت کے لیے بھی ہوسکتا ہے اور تبعیض کے لیے بھی۔

اور اس مبارک جملے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے یہ وعدہ ہے کہ جب وہ خلوصِ دل کے ساتھ اس کے حضور گڑگڑائیں گے تو وہ ان کی دعا قبول فرمائے گا اور ان کی مراد عطا کرے گا۔

اور واللہ سریع الحساب کا  معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت تیز حساب لینے والا ہے۔ اسے نہ گنتی کی ضرورت ہے، نہ گرہ باندھنے کی، اور نہ سوچ بچار کی، جیسا کہ انسان حساب کرتے وقت کرتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ﴾ اور اس کا قول حق ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کو خوب جانتا ہے، اس لیے اسے یاد کرنے یا غور و فکر کی ضرورت نہیں۔

اور ایک قول یہ ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کے اعمال کی جزا بہت جلد دینے والا ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا:“اللہ تعالیٰ ایک ہی دن میں تمام بندوں کا حساب کیسے لے گا؟

تو انہوں نے فرمایا:“جس طرح وہ ایک ہی دن میں سب کو رزق عطا کرتا ہے۔

اور حساب کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کے اعمال کے مطابق جزا کی مقدار سے آگاہ کرے گا، اور انہیں وہ اعمال یاد دلائے گا جنہیں وہ بھول چکے ہوں گے۔

اور ایک قول یہ ہے کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ یومِ حساب کا آنا بہت قریب اور جلد واقع ہونے والا ہے۔ پس آیت کا مقصد قیامت کے دن سے خبردار کرنا ہے۔

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان:﴿وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ﴾اس فرمان پر معطوف ہے:﴿فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا﴾اور ان دونوں کے درمیان جو عبارت آئی ہے، وہ بطورِ جملہ معترضہ ہے۔اور “ایامِ معدودات” سے مراد یومِ نحر کے بعد آنے والے ایامِ تشریق کے تین دن ہیں۔اور “تشریق” کے معنی گوشت کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے نمک لگا کر دھوپ میں سکھانے کے ہیں۔(الوسیط للطنطاوی)

علماء کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس آیت میں “ایامِ معدودات” سے مراد منیٰ کے دن ہیں، اور یہی ایامِ تشریق ہیں۔ یہ تینوں نام انہی دنوں پر بولا جاتا ہے، اور یہی جمرات کو کنکریاں مارنے کے دن ہیں۔(تفسیر قرطبی)

پس یہ آیتِ کریمہ حجاج اور دوسرے تمام مسلمانوں کو حکم دیتی ہے کہ وہ ان بابرکت دنوں میں کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں، کیونکہ اہلِ جاہلیت ان دنوں کو باہمی فخر و مباہات اور عورتوں سے دل لگی میں گزارا کرتے تھے، اور ان کا خیال یہ تھا کہ دسویں ذوالحجہ یعنی یومِ نحر کے ختم ہوتے ہی حج بھی ختم ہو جاتا ہے۔

حالانکہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ ان دنوں کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی نعمتوں پر شکر کے ساتھ آباد کرنا چاہیے۔

امام مسلمؒ نے نُبَیشَہ ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“ایامِ تشریق کھانے، پینے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دن ہیں۔

اور امام بخاریؒ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ وہ منیٰ میں ان دنوں میں تکبیر کہا کرتے تھے: نمازوں کے بعد، اپنے بستر پر، اپنے خیمے میں، اپنی مجلس میں، اور چلتے پھرتے، یعنی ان تمام دنوں میں ہر وقت۔

اور ان دنوں کے ذکر میں سے یہ بھی ہے کہ تشریق کے ہردن  جمرات کو کنکریاں مارتے وقت ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی جائے۔

چنانچہ امام بخاریؒ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ ہر کنکری کے ساتھ تکبیر فرمایا کرتے تھے۔

اور جمہور فقہاء کے نزدیک ان دنوں میں روزہ رکھنا حرام ہے، کیونکہ یہ کھانے، پینے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دن ہیں۔

مطلب یہ ہے کہ ان گنے ہوئے دنوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو، یعنی نمازوں کے بعد، قربانی کے وقت، جمرات کو کنکریاں مارتے وقت، اور دیگر مواقع پر تکبیر و تہلیل میں مشغول رہو۔کیونکہ یہ دن عبادت اور اطاعت کے خاص موسم ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر درجات کی بلندی اور گناہوں کے مٹنے کا سبب بنتا ہے۔(الوسیط للطنطاوی)

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقَى﴾۔

اس کی وضاحت یہ ہے کہ حاجی پر لازم ہے کہ ایامِ تشریق کی پہلی اور دوسری رات منیٰ میں گزارے، تاکہ ہر دن زوال کے بعد اکیس کنکریاں مارے، یعنی ہر جمرہ پر سات سات کنکریاں۔

پھر جس نے تشریق کے دوسرے دن کنکری ماری اور وہان سے نکلنے کا ارادہ کرلیا اور تیسری رات منی میں نہیں گذارتا ہے اور اس دن اس نے شافعی مسلک کے مطابق زوال کے بعد یا احناف کے مطابق اس کے بعد یا اس کے پہلے کنکری ماری تو اس پر تیسری رات منیٰ میں نہ ٹھہرنے کا کوئی گناہ نہیں۔

مطلب یہ ہے کہ جو شخص پہلے دو دنوں میں جلدی روانہ ہو جائے، اس پر اس تعجیل کی وجہ سے کوئی گناہ نہیں، اور جو شخص تیسرے دن تک ٹھہرا رہے، اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ دونوں میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہو اور اس کی حدود کی پابندی کرے۔

پس “تقویٰ” کی قید اس بات کی طرف متنبہ کرنے کے لیے ہے کہ اعمال کی اصل قدر و قیمت دل کے تقویٰ، پاکیزگی اور سلامتی پر موقوف ہے۔

علامہ آلوسیؒ کا کہنا ہے:﴿لِمَنِ اتَّقَى﴾ ایک محذوف مبتدا کی خبر ہے، اور “لام” یا تو تعلیل کے لیے ہے یا اختصاص کے لیے۔یعنی یہ مذکورہ  اختیار — جلدی جانے یا تاخیر کرنے کا — متقی شخص کے فائدے کے لیے ہے، تاکہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق تعجیل یا تاخیر اختیار کر سکے اور مشقت میں نہ پڑے۔یا یہ مطلب ہے کہ مذکورہ تمام احکام درحقیقت متقی ہی کے ساتھ خاص ہیں، کیونکہ حقیقی حاجی وہی ہے۔اور دونوں صورتوں میں “تقویٰ” سے مراد ہر ایسے فعل یا ترک سے بچنا ہے جو گناہ کا سبب بنے۔(الوسیط للطنطاوی)

حضرت عبد اللہ بن مسعود کا قول ہے کہ لمن اتقى مغفرت سے متعلق ہے اور اس کا مطلب ہے کہ مغفرت اس کے لیے ہے جو حج سے واپسی کے بعد تمام گناہوں سے بچتا رہا ۔(تفسیر قرطبی)

پھر آیت کا اختتام اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر ہوا:﴿وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾۔

یعنی ہر اس کام میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو جو تم کرتے ہو یا چھوڑتے ہو، اور یقین رکھو کہ ایک دن تم اپنے انتشار کے بعد جمع کیے جاؤ گے اور قیامت کے دن اپنے خالق کے حضور پیش کیے جاؤ گے، تاکہ وہ تمہارے اعمال کا بدلہ دے۔

حج کے احکام پر مشتمل ان آیات کا اختتام دو اہم بنیادوں پر کیا گیا ہے:

1. اللہ تعالیٰ کا تقویٰ۔                                                                                                                                                                                                             2-حشر و نشر پر پختہ یقین۔

یہ بتانے کے لیے  کہ یہی دونوں چیزیں دین داری کا خلاصہ اور ہر قسم کی  تمام عبادات اور اس کے تمام طریقوں  کا حقیقی ثمرہ ہیں۔ اور اگر کوئی عبادت ان دونوں حقیقتوں سے خالی ہو تو وہ صرف ایک بے روح صورت رہ جاتی ہے۔

یہاں تک ان مبارک آیات نے ہمیں حج کے بعض احکام، آداب اور مناسک  ایسے اسلوب میں بیان کیے ہیں جو دلوں کو ہدایت دیتا اور روحوں کو خوشی بخشتا ہے۔ اور جو شخص ان تعلیمات پر عمل کرے، وہ انہی لوگوں میں شامل ہوگا جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوا اور جو اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے۔(الوسیط للطنطاوی)

اللہ تعالى سے دعا ہے کہ وہ دنیا کے تمام مسلمانوں کو حلال کمائی سے اخلاص و تقوى کے ساتھ شریعت کے مطابق حج ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام حاجیوں کے حج کو قبول فرمائے۔ آمین و ما علینا الا البلاغ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: