اگر کوئی شخص ہدی کی قیمت ادا کر دے، تو کیا اسے ہدی ساتھ لانے (سوقِ ہدی) کا ثواب بھی ملے گا؟

 

فتاوى :

اگر کوئی شخص ہدی کی قیمت ادا کر دے، تو کیا اسے ہدی ساتھ لانے (سوقِ ہدی) کا ثواب بھی ملے گا؟

موقع : اسلام سوال و جواب, 1-ذوالحجہ1447ھ /          18-مئی2026ع , سوال نمبر: 637974, ترجمانی : ڈاکٹر عبد المنان محمد شفیق 

Please visit: islahotaraqqi.com

سوال:اگر میں عمرہ میں ہدی کی قیمت ادا کر دوں تو کیا یہ جائز ہے، اور کیا مجھے اس کا اجر ملے گا؟ کیونکہ میرے لیے اپنے ملک سے ہدی ساتھ لانا مشکل ہے، حالاں کہ میں عمرۂ حدیبیہ میں نبی کریم ﷺ کی سنت کی پیروی کرنا چاہتا ہوں۔(ہدی اُس جانور کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا  و تقرب کے لیے حرمِ مکہ میں ذبح کرنےکی نیت سے بھیجا جائے )

الجواب: الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله، وبعد:

Bottom of Form

اوّل: معتمر اور حاجی کے لیے ہدی ساتھ لے جانا مستحب ہے؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ عمرۂ حدیبیہ میں بھی ہدی ساتھ لے گئے تھے اور حجۃ الوداع میں بھی۔

اسی طرح اُس شخص کے لیے بھی ہدی بھیجنا مستحب ہے جو اپنے شہر میں مقیم ہو اور نہ حج کرے نہ عمرہ، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: يُهْدِي مِنَ الْمَدِينَةِ، فَأَفْتِلُ ‌قَلَائِدَ هَدْيِهِ، ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ " رسول اللہ ﷺ مدینہ سے ہدی بھیجا کرتے تھے، اور میں آپ کے ہدی کے جانوروں کے قلادے بٹا کرتی تھی، پھر آپ ﷺ ان چیزوں سے اجتناب نہیں فرماتے تھے جن سے مُحرم اجتناب کرتا ہے۔(بخاری  /1698و مسلم /1321)

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:“کیا عمرہ میں ہدی دینا مستحب ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ عمرۂ حدیبیہ کے موقع پر ہدی ساتھ لے گئے تھے، بلکہ ہدی تو بغیر حج و عمرہ  کے بھی مشروع ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ ہی میں ہوتے تھے اور مدینہ سے ہدی بھیج دیا کرتے تھے۔(مجموع فتاویٰ الشیخ ابن عثیمین/15/25) مزید دیکھیے: جواب نمبر (484345)

دوم:آپ کے لیے جائز ہے کہ ہدی کی قیمت مثلاً اسلامی بینک کو دے دیں، یا کسی ایسے قابلِ اعتماد شخص کو دیں جسے آپ جانتے ہوں اور اسے اس کام کا وکیل بنا دیں۔البتہ افضل یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو آپ خود اپنے ہاتھ سے ہدی ذبح کریں۔ اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو کسی ایسے شخص کو وکیل بنائیں جسے آپ جانتے ہوں، تاکہ ذبح کے وقت ہدی کے مالک کا نام متعین ہو جائے۔ نبی کریم ﷺ بھی ہدی مکہ بھیجا کرتے تھے۔

شیخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اسلامی بینک کی جانب سے حجاج کی طرف سے وکالت قبول کرنا، تاکہ ان پر آسانی اور تخفیف ہو، ایک نہایت اچھا کام ہے۔ بحمد اللہ ہم نے اس کے بہت سے فوائد دیکھے ہیں۔ وہ لوگ بحمد اللہ قابلِ اعتماد ہیں، اس معاملے کا خاص اہتمام کرتے ہیں، اور ان کے کاموں کی نگرانی کے لیے ہماری طرف سے اور وزارتِ عدل کی طرف سے نمائندے بھی موجود ہوتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کو ان کے ذریعے نفع دے اور انہیں مدد عطا فرمائے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس میں حجاج کے لیے بڑی وسعت اور سہولت ہے؛ کیونکہ ہر شخص اس بات کی قدرت نہیں رکھتا کہ خود ہدی خریدے، خود ذبح کرے اور پھر تقسیم بھی کرے۔ چنانچہ یہ ادارے جانور خرید لیتے ہیں، ذبح کرتے ہیں اور تقسیم کر دیتے ہیں، لہٰذا اس میں کوئی حرج نہیں، الحمد للہ۔

البتہ جس شخص کے لیے یہ ممکن ہو کہ وہ خود اپنی ہدی کا انتظام کرے، خود ذبح کرے اور خود تقسیم کرے، تو یہ یقیناً ایک اعلیٰ درجہ ہے اور بلا شبہ یہی افضل ہے۔ لیکن شدید ازدحام کی وجہ سے ہر شخص کے لیے یہ آسان نہیں ہوتا۔
(نور على الدرب,مزید دیکھیے: جواب نمبر (436389)

سوم:ہدی کو ساتھ لے جانا ایک مستقل سنت ہے، جسے ادا کرنا مستحب ہے، اور اس پر الگ ثواب ملتا ہے۔

لہٰذا اگر کسی نے ہدی ذبح کی لیکن اسے ساتھ لے کر نہیں آیا تو اسے ہدی کا ثواب تو ملے گا، لیکن “سوقِ ہدی” یعنی ہدی ساتھ لانے کا ثواب حاصل نہ ہوگا۔

شیخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:“کیا ہدی کو حِل سے حرم تک لے آنا کافی ہے؟

تو شیخ نے جواب دیا:“جی ہاں، حِل سے حرم تک لانا کافی ہے، ضروری نہیں کہ اپنے شہر سے ہی ساتھ لایا جائے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر ہم نے قصیم وغیرہ میں ان کمپنیوں کو رقم دے دی جو فدیہ کے جانور خریدنے کی ذمہ دار ہوتی ہیں، تو کیا ہم نے ہدی ساتھ لانے کا ثواب پا لیا؟

تو ہم کہیں گے: تم نے ہدی نہیں، بلکہ درہم روانہ کیے ہیں؛ کیونکہ یہ لوگ جانور مکہ ہی سے خریدیں گے۔(الشرح الصوتی لزاد المستقنع,2/317)

اور جو شخص ہدی ساتھ لانے کی نیت رکھتا ہو، لیکن موجودہ سفری نظام، اجازت ناموں اور بھاری اخراجات کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے، تو ان شاء اللہ اسے اس کی  نیت کا اجر ملے گا۔

حضرت ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ( إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ، عَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ، وَيَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ، وَيَعْلَمُ لِلَّهِ فِيهِ حَقًّا، فَهَذَا بِأَفْضَلِ المَنَازِلِ، ....(الترمذي /2325، وقال: "هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ) یعنی دنیا صرف چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے:

ایک وہ بندہ جسے اللہ نے مال اور علم دونوں عطا کیے، تو وہ اپنے مال میں( علم کی روشنی میں ) اپنے رب سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے، اور اس میں اللہ کا حق پہچانتا ہے؛ پس یہی لوگ سب سے افضل درجے والے ہیں۔

اور ایک وہ بندہ جسے اللہ نے علم دیا لیکن مال نہیں دیا، مگر اس کی نیت سچی ہے۔ وہ کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں شخص کی طرح عمل کرتا۔ پس وہ اپنی نیت کے سبب اُس کے برابر اجر پاتا ہے۔

اور ایک وہ بندہ جسے اللہ نے مال دیا لیکن علم نہیں دیا، تو وہ اپنے مال میں بغیر علم کے اندھا دھند تصرف کرتا ہے، نہ اپنے رب سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اللہ کا حق پہچانتا ہے؛ پس یہی لوگ بدترین درجے والے ہیں۔

اور ایک وہ بندہ جسے اللہ نے نہ مال دیا اور نہ علم، مگر وہ کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں شخص کی طرح برے کام کرتا۔ پس وہ اپنی نیت کی وجہ سے اُس کے گناہ میں برابر ہے۔( الترمذي /                     2325 یہ حدیث حسن صحیح ہے)

اہلِ علم نے اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ اجر میں یہ برابری کس معنی میں ہے؟ کیا صرف عمل کے  اصل اجر میں برابری مراد ہے، بغیر کئی گنا اضافہ کے؟ یا اضافہ سمیت؟

امام أبو العباس القرطبي رحمہ اللہ “المفہم” (3/730) میں فرماتے ہیں:

رہا وہ شخص جس کا عجز واقعی ثابت ہو اور اس کی نیت سچی ہو، تو اس میں اختلاف نہیں ہونا چاہیے کہ اسے بھی براہِ راست عمل کرنے والے کی طرح کئی گنا اجر ملے گا؛ کیونکہ اس پر سابقہ دلائل دلالت کرتے ہیں۔ نیز امام نسائی نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: من أتى فراشه، وهو ينوي أن يقومَ يصلي من الليل فغلبته عيناه حتى يصبح؛ كان له ما نوى، وكان نومُه صدقة عليه۔یعنی جو شخص اپنے بستر پر اس نیت سے آئے کہ رات میں اٹھ کر نماز پڑھے گا، لیکن نیند غالب آ جائے یہاں تک کہ صبح ہو جائے، تو اس کے لیے وہ اجر لکھ دیا جاتا ہے جس کی اس نے نیت کی تھی، اور اس کی نیند اس کے لیے صدقہ شمار ہوتی ہے۔اقتباس ختم ہوا۔مزید دیکھیے: اجر کی مساوات کے متعلق اہلِ علم کے اختلاف کی تفصیل، جواب نمبر (429996)

اسی طرح شیخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ “شرح الأربعین النوویة” (ص: 369) میں فرماتے ہیں:

یہ بات جان لو کہ جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے مگر اسے انجام نہ دے سکے، تو اس کی کئی صورتیں ہیں:

پہلی صورت یہ ہے کہ وہ اس نیکی کے اسباب اختیار کرے لیکن اسے حاصل نہ کر سکے؛ تو ایسے شخص کے لیے پورا اجر لکھا جاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ﴾اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلے، پھر اسے موت آ پہنچے، تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ثابت ہو چکا۔’ (النساء: 100)

اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے۔ماخذ:اسلام سوال و جواب

 

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: