فتاوى:
کیا حالتِ احرام میں عورت کے لیے سونے والا آئی ماسک (قناعِ نوم) پہننا
جائز ہے؟
موقع : اسلام سوال و جواب, 3-ذوالحجہ1447ھ / 20-مئی2026ء,
سوال نمبر: 572099, ترجمانی: ڈاکٹر عبد المنان محمد شفیق
Please visit: islahotaraqqi.com
سوال:
حج کے دوران خواتین کے لیے سوتے وقت آنکھوں پر باندھی جانے والی پٹی (آئی
ماسک) استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟ واضح رہے کہ میں نے دو سال پہلے حج کے دوران
ایسا کیا تھا، تو کیا مجھ پر کوئی گناہ یا کفارہ لازم ہے؟
جواب:الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله، وبعد:
اول:
سوتے وقت آنکھوں پر باندھی جانے والی پٹی، جسے “قناعِ نوم” یا “آئی ماسک”
کہا جاتا ہے، ایک ایسی چیز ہے جو نیند کے دوران بیرونی روشنی کم کرنے اور بہتر
نیند کے لیے آنکھوں کو ڈھانپنےکے لیے
استعمال کی جاتی ہے۔
احرام کی حالت میں عورت کے لیے ایسی چیز پہننا منع ہے جو چہرے یا اس کے کسی
حصے کے مطابق سلی ہوئی اور بنائی گئی ہو، جیسے نقاب، برقع و لثام۔
امام موفق الدين ابن قدامة رحمہ اللہ فرماتے ہیں:“احرام کی حالت میں عورت کے لیے
چہرہ ڈھانپنا حرام ہے، جیسے مرد کے لیے سر ڈھانپنا حرام ہے۔ اس مسئلے میں ہمیں کسی
اختلاف کا علم نہیں، سوائے اس روایت کے جو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے منقول ہے
کہ وہ حالتِ احرام میں اپنا چہرہ ڈھانپ لیا کرتی تھیں۔ ممکن ہے کہ وہ ضرورت کے وقت
کپڑا لٹکا کر ڈھانپتی ہوں، اس لیے یہ اختلاف شمار نہیں ہوگا۔
امام ابن المنذر نے کہا ہے کہ برقع کی کراہت حضرت سعد، ابن عمر، ابن عباس
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے، اور ہمیں اس کا علم نہیں ہے کہ کسی نے
اس کی مخالفت کی ہو ۔
امام بخاری وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: و لاتنتقب
المراۃ المحرمۃ و لا تلبس القفازین احرام والی عورت نہ نقاب پہنے اور نہ دستانے۔’
البتہ اگر عورت کو مردوں کے اس کے قریب گذرنے کی وجہ سے اپنا چہرہ ڈھکنے کی ضرورت پیش آئے، تو وہ اپنے سر کے اوپر سے کپڑا
چہرے پر لٹکا سکتی ہے۔
یہ حضرت عثمان اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، اور یہی قول
امام عطاء، امام مالک، امام ثوری، امام شافعی، امام اسحاق اور محمد بن حسن رحمہم
اللہ کا ہے، اور ہمیں اس میں کسی اختلاف کا علم نہیں۔( المغنی , 3/301)
اسی طرح ابن قيم الجوزية رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور اسی سے
ہے کہ “نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ‘عورت نہ نقاب پہنے اور نہ
دستانے’ یعنی حالتِ احرام میں۔ آپ ﷺ نے چہرے اور ہاتھوں دونوں کو اس چیز سے منع
فرمایا جو خاص اسی عضو کے مطابق بنائی گئی ہو۔
صحیح بات یہ ہے کہ ممانعت ہر اس چیز کو شامل ہے جو لفظ، معنی اور علت کے
اعتبار سے اس کے عموم میں داخل ہو۔ لہٰذا برقع اور لثام اگرچہ لفظِ نقاب میں مذکور
نہیں، لیکن ان میں اور نقاب میں کوئی فرق نہیں۔ بلکہ جب نقاب سے منع کیا گیا ہے تو
برقع اور لثام بدرجہ اولیٰ ممنوع ہوں گے۔(إعلام الموقعين2/393-395)
علي أبو الحسن المالكي اپنی کتاب “کفایۃ الطالب الربانی” (1/554) میں
فرماتے ہیں:“عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے سر کے اوپر سے کپڑا لٹکا
کر پورا چہرہ اور دونوں ہاتھ ڈھانپ لے، لیکن اسے سوئی وغیرہ سے باندھے نہیں۔البتہ
اس کے لیے نقاب، برقع یا لثام پہننا جائز نہیں، اور اگر وہ ان میں سے کوئی چیز
پہنے گی تو اس پر فدیہ لازم ہوگا۔”
“لثام” اُس کپڑے کو کہتے ہیں جو منہ پر رکھا جاتا
ہے۔المصباح المنیر 2/549 میں ہے:“لثام لام کے کسرہ کے ساتھ اُس چیز کو کہتے ہیں جس سے
ہونٹ ڈھانپے جائیں۔”
اور اسی کتاب(2/ 556) میں ہے:“تَلَفَّمَ” اُس وقت کہا جاتا ہے جب کوئی شخص عمامہ لے کر
اسے اپنے منہ پر اس انداز سے رکھے جو نقاب سے مشابہ ہو، مگر وہ ناک کی نوک یا اس
کے اگلے حصے تک نہ پہنچے۔ لیکن اگر وہ ناک کے کچھ حصے کو بھی ڈھانپ لے تو وہ
“نقاب” شمار ہوگا۔ یہ بات ابو زید نے کہی ہے۔
اصمعی کہتے ہیں: جب نقاب منہ پر ہو تو اسے لفام یا لثام کہا جاتا ہے۔”
ان تفصیلات کی بنیاد پر عورت کے لیے آنکھوں پر باندھی جانے والی پٹی (آئی
ماسک) پہننا بھی ممنوع ہوگا؛ کیونکہ یہ لثام سے کم درجے کی چیز نہیں جو منہ پر
ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ پورا چہرہ نہیں ڈھانپتی، لیکن چہرے کے ایک حصے کو خاص اسی انداز
سے ڈھانپتی ہے کہ وہ اسی عضو کے مطابق بنی ہوئی ہوتی ہے۔
دوم:
اگر آپ نے یہ کام لاعلمی میں حالتِ احرام میں کیا تھا، تو آپ پر نہ کوئی
گناہ ہے اور نہ کوئی کفارہ۔
شیخ محمد بن صالح العثيمين فرماتے ہیں:“احرام کی ممنوعات کا ارتکاب
کرنے والے تین قسم کے ہوتے ہیں:
پہلی قسم: وہ شخص جو ضرورت کی وجہ سے ایسا کرے۔ ایسے شخص پر گناہ نہیں،
لیکن اس پر فدیہ یا کفارہ لازم ہوگا۔
دوسری قسم: وہ شخص جو بھول کر،یا
لاعلمی میں یا مجبوری کے تحت ایسا کرے۔ ایسے شخص پر نہ گناہ ہے اور نہ
فدیہ۔ البتہ جب اس کا عذر ختم ہو جائے تو اس پر لازم ہے کہ فوراً اس ممنوع کام کو
ترک کر دے۔ چنانچہ اگر وہ بھولا ہوا تھا تو یاد آتے ہی، اور اگر جاہل تھا تو علم
ہونے کے بعد فوراً اس ممنوع چیز کو چھوڑ دے۔
تیسری قسم: وہ شخص جو کسی ضرورت کے بغیر، اور نہ ہی جہالت، بھول یا مجبوری
جیسے کسی عذر کی بنا پر، بلکہ قصداً اور جان بوجھ کر ان ممنوعات کا ارتکاب کرے؛ تو
ایسا شخص گناہ گار ہوگا، اور جن امور میں فدیہ واجب ہوتا ہے ان میں اس پر فدیہ بھی
لازم ہوگا۔یہ اقتباس “لقاء الباب المفتوح” (8/56) سے ختم ہوا۔
اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے۔ماخذ:اسلام سوال و جواب
0 التعليقات: