کن بنیادوں پر کھڑی ہے بھاجپائی حکومت؟

 اداریہ                                                                             

کن بنیادوں پر کھڑی ہے بھاجپائی حکومت؟

Please visit: islahotaraqqi.com

چیف ایڈیٹر

ڈاکٹر عبد المنان محمد شفیق 

جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں، بلکہ جمہوریت آزاد اداروں، غیر جانبدار میڈیا، آئینی بالادستی، سماجی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کے مجموعے کا نام ہے۔ جب کسی ملک میں اقتدار ان ستونوں کو کمزور کرکے اپنی گرفت مضبوط کرنا شروع کر دے تو بظاہر جمہوری ڈھانچہ باقی رہتا ہے، مگر اس کی روح آہستہ آہستہ مجروح ہونے لگتی ہے۔

بھاجپا کی حکومت کے بارے میں آج بھارت میں یہی بحث شدت سے جاری ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی سے جڑا ہوا طبقہ اسے مضبوط قیادت، قومی وقار اور ترقی کی علامت سمجھتا ہے، جبکہ اس سے نامتفق طبقہ اسے طاقت کے غیر معمولی ارتکاز، سماجی تقسیم اور جمہوری اداروں کی کمزوری کا سبب قرار دیتا ہے۔ ناقدین کے مطابق موجودہ حکومت چند ایسے ستونوں پر کھڑی ہے جنہوں نے بھارتی سیاست اور معاشرے کی سمت بدل دی ہے جن میں سے چند اہم ستونوں کا ذکر نیچے کیا جا رہا ہے:----

آر ایس ایس: نظریاتی اور تنظیمی طاقت کا سرچشمہ

بلا شبہ آر ایس ایس (Rashtriya Swayamsevak Sangh) بھارت کی سب سے بڑی ہندو قوم پرست تنظیم ہے اور اس وقت بھارتی سیاست کی سب سے مؤثر نظریاتی قوت ہے۔ ناقدین کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی طاقت محض انتخابی حکمتِ عملی کا نتیجہ نہیں، بلکہ آر ایس ایس کی دہائیوں پر محیط فکری و تنظیمی محنت اور لگاتار جدوجہد کا ثمر ہے۔

آر ایس ایس نے دہائیوں تک تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں، مذہبی حلقوں اور مقامی سطح کے نیٹ ورکس کے ذریعے ایک مخصوص قوم پرستانہ سوچ کو فروغ دیا، جس میں "ہندوتوا" کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جبکہ اقلیتوں کے خدشات کو ثانوی سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کو محض ایک سیاسی جماعت کے بجائے ایک وسیع نظریاتی تحریک کی سیاسی شاخ سمجھا جاتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہی نظریاتی بنیاد آج حکومت کی پالیسیوں، نصاب، سیاسی نعروں اور سماجی ترجیحات میں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

ناقدین کا دعویٰ ہے کہ آر ایس ایس کا اثر صرف سیاست تک محدود نہیں رہا، بلکہ نصاب، ثقافت، تاریخ نویسی اور ریاستی اداروں تک پھیل چکا ہے۔ حکومت کے حامی اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آر ایس ایس ایک سماجی و فلاحی تنظیم ہے جس نے قومی شعور، نظم و ضبط اور حب الوطنی کو مضبوط کیا ہے۔

بلا شبہ بی جے پی کو پروان چڑھانے، اس کی جڑوں کو مضبوط بنانے، اسے حکومت تک پہنچانے، سال در سال حکومت پر اس کی گرفت مستحکم کرنے اور مختلف مرکزی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں اسے کامیاب بنانے میں اس تنظیم اور اس کی محنت و کاوش کا بہت بڑا دخل ہے، جس کا مشاہدہ ہر شخص کر رہا ہے۔

کمالِ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ آر ایس ایس ایک غیر دستوری، غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ تنظیم ہے۔ نہ وہ اپنا حساب و کتاب رکھتی ہے اور نہ آئی ٹی آر فائل کرتی ہے، پھر بھی مکمل آزادی کے ساتھ اپنا کام کر رہی ہے اور اس پر کوئی پابندی نہیں ہے، جب کہ ایک معمولی تنظیم کے لیے رجسٹریشن کروانا، حساب و کتاب رکھنا اور آئی ٹی آر فائل کرنا  وغیرہ ضروری ہوتا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ انڈیا میں دو طرح کا قانون نافذ ہے اور ہر شخص قانون کے سامنے برابر نہیں ہے۔ یہ تمام سابقہ حکومتوں، خصوصاً کانگریس، کی کمزوری ہے کہ وہ اس تنظیم کو قانون کے دائرے میں نہ لا سکیں اور اس کے سامنے جھک گئیں۔ بلکہ انہوں نے اس زہریلی تنظیم کو دودھ پلایا، اسے پالا پوسا اور بڑا کیا، جس نے بعد میں طاقتور ہو کر خود انہیں ہی ڈس لیا۔ بلا شبہ یہ ان کی ایک بہت بڑی اور بھیانک غلطی تھی، جس کا خمیازہ وہ خود بھگت رہی ہیں۔

جھوٹ، پروپگنڈہ اور بیانیہ سازی

جدید سیاست میں میڈیا اور اطلاعاتی جنگ بے حد اہم ہو چکی ہے، اور موجودہ دور میں اقتدار صرف پارلیمنٹ سے نہیں بلکہ میڈیا، سوشل میڈیا اور معلوماتی جنگ سے بھی قائم رہتا ہے۔ مودی حکومت کو اس فن میں غیر معمولی مہارت حاصل ہے۔

ناقدین کے مطابق حکومت نے ایک ایسا طاقتور پروپگنڈا نظام قائم کیا ہے اور ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں جذباتی نعروں، قوم پرستی اور مذہبی جذبات کو حقیقی عوامی مسائل پر فوقیت دی جاتی ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کے مسائل اور معاشی دباؤ جیسے موضوعات اکثر شور شرابے اور جذباتی مباحث میں دب جاتے ہیں، اور اصل و بنیادی موضوعات سے توجہ ہٹانے کے لیے قومی سلامتی، مذہبی جذبات یا قوم پرستی کو نمایاں کیا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں، سوشل میڈیا پر منظم طریقے سے مخالف آوازوں کو بدنام کیا جاتا ہے اور جھوٹی یا ادھوری معلومات پھیلائی جاتی ہیں۔ مخالف آوازوں کے خلاف شدید آن لائن حملے بھی اسی بیانیاتی سیاست کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب سیاست حقیقت کے بجائے تاثر پر کھڑی ہو جائے تو جمہوری شعور کمزور ہونے لگتا ہے۔

میرا ماننا ہے کہ بی جے پی کی حکومت کو برقرار رکھنے اور اسے استحکام بخشنے میں اس عنصر کا بہت بڑا ہاتھ ہے، اور مودی حکومت بڑی حد تک اسی پر قائم ہے۔ ورنہ جو بربادی اور تنزلی ملک میں اس کے دورِ حکومت میں ہوئی ہے، اس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ لیکن جھوٹ اور پروپگنڈے کے ذریعے ان تمام حقیقتوں پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے اور عوام حقیقت جاننے سے محروم رہتی ہے۔ بلکہ کمال تو یہ ہے کہ ہر ناکامی کو کامیابی بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور عوام کو بڑی ہوشیاری کے ساتھ گمراہ کیا جاتا ہے۔

مذہب اور نفرت کی سیاست

بھارت ایک کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک ہے، لیکن ناقدین کے مطابق حالیہ برسوں میں مذہبی شناخت سیاست کا سب سے طاقتور ہتھیار بن گئی ہے۔ ان کے نزدیک انتخابی مہمات، جلسوں اور میڈیا مباحثوں میں مذہبی جذبات کو مسلسل ابھارا جاتا ہے تاکہ اکثریتی طبقے کی سیاسی حمایت کو مستحکم رکھا جا سکے۔

ناقدین یہ الزام لگاتے ہیں، اور ان کے مطابق یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے، کہ بی جے پی کے بعض اعلیٰ مذہبی و سیاسی رہنما، مثلاً نریندر مودی، ہمنتا بسوا شرما، شوبھندو ادھیکاری، یوگی آدتیہ ناتھ، انوراگ ٹھاکر، نتیش رانے اور ٹی راجا وغیرہ — جن کی ایک طویل فہرست ہے — مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے بارے میں اشتعال انگیز بیانات دیتے ہیں، جبکہ حکومت اکثر ایسے معاملات میں خاموش دکھائی دیتی ہے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ بلکہ ان کے خلاف مقدمات خارج ہو جاتے ہیں اور سنگھی ذہنیت رکھنے والے جج حکومت کے منشا کے مطابق فیصلے دیتے ہیں، جیسا کہ حال ہی میں انوراگ ٹھاکر کے معاملے میں دیکھا گیا۔ دوسری طرف مسلمانوں کے خلاف ناانصافی کی مثالیں بھی سامنے آتی رہتی ہیں، جیسا کہ اعظم خان کے معاملے میں دیکھا گیا۔ اس کی سیکڑوں مثالیں ہیں جنہیں یہاں درج نہیں کیا جا سکتا۔ گاؤ رکھشا، لو جہاد، شہریت ترمیمی قانون، بابری مسجد اور رام مندر جیسے معاملات نے مذہبی تقسیم اور دینی نفرت و کراہیت کو مزید گہرا کیا ہے۔

انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نفرت انگیز سیاست کے نتیجے میں معاشرے میں خوف، عدم اعتماد اور فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھی ہے۔

اپوزیشن اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انتخابی سیاست میں مذہبی جذبات کو اس شدت سے استعمال کیا گیا کہ اقلیتوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا۔

ناقدین کے مطابق جب اقتدار کو عوامی مسائل کے بجائے مذہبی جذبات کے ذریعے مضبوط کیا جائے تو معاشرہ آہستہ آہستہ نفرت، اشتعال اور تقسیم کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ حکومت نے اسی کے ذریعے ہندوؤں کا پولرائزیشن کیا، انہیں مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا اور کرسیِ اقتدار تک پہنچی ہے، اور یہی نفرت و کراہیت کی سیاست اسے سوٹ کرتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ اس پر پابندی لگانے کے بجائے دن بدن اسے بڑھاوا دے رہی ہے تاکہ حکومت پر اس کا قبضہ برقرار رہے اور وہ طویل عرصے تک حکومت کرتی رہے۔

بلا شبہ مودی حکومت انگریزوں کی سچی جانشین ہے، کیونکہ ان کی پالیسی "پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو" تھی، اور بعینہٖ یہی پالیسی مودی اور بی جے پی نے اپنا رکھی ہے۔

میڈیا کی غلامی اور صحافت کا بحران

جمہوریت میں آزاد میڈیا کو چوتھا ستون کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کا اصل کام اقتدار سے سوال کرنا ہوتا ہے، لیکن ناقدین کے مطابق بھارت میں میڈیا کا ایک بڑا حصہ حکومت کے قریب آ چکا ہےاور اس کی گودی میں بیٹھ کر مکمل  طور سے اس کا غلام بن چکا ہے ۔ ان کے مطابق کئی بڑے نیوز چینلز اقتدار سے سخت سوال پوچھنے کے بجائے اپوزیشن، اقلیتوں اور ناقدین کو نشانہ بنانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ میڈیا کا ایک بڑا حصہ اب سوال پوچھنے کے بجائے حکومتی بیانیے کو فروغ دینے میں مصروف نظر آتا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹی وی مباحثوں میں حقیقی عوامی مسائل کے بجائے مذہبی تنازعات، جذباتی موضوعات اور اپوزیشن مخالف شور زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ کئی معروف صحافیوں اور آزاد میڈیا اداروں نے حکومتی دباؤ، مقدمات اور معاشی دباؤ کی شکایات بھی کی ہیں۔

ناقدین کا الزام ہے کہ حکومت مخالف صحافیوں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، ان کے خلاف مقدمات قائم کیے جاتے ہیں یا انہیں “قوم مخالف” قرار دیا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا کے دور میں آزاد صحافت مزید مشکل ہو گئی ہے، کیونکہ پروپگنڈہ، ٹرولنگ اور منظم آن لائن حملے صحافیوں کو دباؤ میں رکھتے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ جب میڈیا اقتدار کا ترجمان بن جائے تو عوام تک سچائی ادھوری پہنچتی ہے اور جمہوریت اپنی ایک بڑی حفاظتی دیوار کھو دیتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی حکومت کو دوام و استحکام بخشنے اور اسے برقرار رکھنے میں غلام گودی میڈیا کا بہت بڑا عمل دخل ہے۔ انڈین میڈیا جس بے حیائی، بے شرمی اور بے غیرتی کا مظاہرہ کر رہی ہے، تاریخ میں اس کی مثال ملنا بہت مشکل ہے۔ ملک کی بربادی و پستی اور عوام میں تشدد و نفرت کے فروغ کا حکومت سے زیادہ غلام میڈیا ذمہ دار ہے، اور اس وقت یہ دیش کا سب سے بڑا غدار بن چکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں آزادی صحافت میں گودی میڈیا کا نمبر 157 ہے ۔ آئندہ جب کبھی بھی ملک کے اس دور کی تاریخ لکھی جائے گی تو میڈیا کو اس کا بڑا ذمہ دار قرار دیا جائے گا اور اس کے منفی کردار کا ذکر ضرور ہوگا۔

آزاد اداروں پر اثر و رسوخ اور سیاسی استعمال

جمہوریت کی اصل طاقت اس کے آزاد اور غیر جانبدار ادارے ہوتے ہیں۔ عدالتیں، تحقیقاتی ایجنسیاں، الیکشن کمیشن اور سرکاری ادارے اگر سیاسی دباؤ سے آزاد رہیں تو جمہوری نظام متوازن رہتا ہے۔ لیکن ناقدین کے مطابق مودی کے دورِ حکومت میں بھارت کے کئی اہم اداروں کی غیر جانبداری پر سنجیدہ سوالات اٹھے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اہم اداروں میں ایسے افراد کو تقرر کرنے کی کوشش کی جو نظریاتی طور پر Rashtriya Swayamsevak Sangh یا حکمران جماعت کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس رجحان کے نتیجے میں ریاستی اداروں کی آزادی متاثر ہوئی اور ان کا استعمال بعض اوقات سیاسی مخالفین کے خلاف دباؤ کے آلے کے طور پر کیا گیا۔

مثال کے طور پر Election Commission of India کے بارے میں مختلف اپوزیشن جماعتوں نے یہ اعتراض کیا کہ بعض اہم انتخابی معاملات میں اس کا رویہ مکمل طور پر غیر جانبدار محسوس نہیں ہوا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ الیکشن کمیشن مکمل طور پر غیر جانبدار نظر نہیں آتا، کیونکہ آج تک اس نے وزیر اعظم اور بی جے پی کے کئی بڑے لیڈروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، حالاں کہ وہ ہندو مذہب کے نام پر ووٹ مانگتے ہیں، جو سراسر ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔

اسی طرح Central Bureau of Investigation، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) اور دیگر تحقیقاتی اداروں پر بھی یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ ان کی کارروائیاں زیادہ تر اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف تیز ہو جاتی ہیں، جبکہ حکومتی حلقوں کے خلاف مقدمات کمزور پڑ جاتے ہیں۔ ان سب کی ایک دو نہیں بلکہ سیکڑوں مثالیں ہیں، جن میں سب سے نمایاں راہل گاندھی، کیجریوال، سنجے سنگھ، منیش سسودیا اور ہیمنت سورین وغیرہ کے خلاف مقدمات قائم کرنا اور انہیں گرفتار کرنا ہے۔

ناقدین کے مطابق یہ صورتحال جمہوری ڈھانچے کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ جب عوام کا اعتماد اداروں کی غیر جانبداری سے اٹھنے لگے تو پورا سیاسی نظام مشکوک ہو جاتا ہے۔ ان کے نزدیک اداروں کا اصل کام آئین اور قانون کی حفاظت ہے، نہ کہ کسی مخصوص سیاسی نظریے یا جماعت کے مفادات کا تحفظ۔

ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اہم اداروں میں نظریاتی طور پر حکومت کے قریب سمجھے جانے والے افراد کی تقرری نے اداروں کی غیر جانبداری کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ریاستی ادارے سیاسی مفادات کے تابع دکھائی دینے لگیں تو عوام کا اعتماد پورے جمہوری نظام سے متزلزل ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب حکومت اور اس کے حامی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ادارے قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں اور بدعنوانی کے خلاف کارروائی کو سیاسی انتقام کہنا صرف اپوزیشن کا دفاعی بیانیہ ہے۔

بہرحال، ایک مضبوط جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی ادارے نہ صرف آزاد ہوں بلکہ عوام کی نظر میں بھی غیر جانبدار دکھائی دیں، کیونکہ اداروں پر اعتماد ہی آئینی نظام کی اصل بنیاد ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مودی کی حکومت کے بارے میں رائے آج بھی شدید طور پر منقسم ہے۔ ہندوتوا کا ایک طبقہ اسے بھارت کی نئی طاقت اور قومی وقار کی علامت سمجھتا ہے، جبکہ دوسرا  بڑا طبقہ اسے جمہوری اقدار، سماجی ہم آہنگی اور آئینی توازن کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔

لیکن تاریخ ہمیشہ یہ بتاتی ہے کہ طاقتور حکومتیں نہیں بلکہ مضبوط ادارے جمہوریت کو زندہ رکھتے ہیں۔ جب میڈیا خاموش ہو جائے، ادارے کمزور پڑ جائیں، اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھا جانے لگے اور سیاست نفرت کے سہارے چلنے لگے، تو جمہوریت کا جسم باقی رہتا ہے مگر اس کی روح زخمی ہو جاتی ہے۔

جمہوریت کی اصل حفاظت اپوزیشن نہیں بلکہ بیدار عوام کرتے ہیں، کیونکہ جب عوام سوال کرنا چھوڑ دیں تو اقتدار مطلق بن جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس ملک کی حفاظت فرمائے اور دشمن طاقتوں کو شکست دے۔ آمین۔

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: