اقتصادىات
اسلامى نظام معىشت:مسلمانوں كے تمام معاشى مسائل كے حل
كى گارنٹى
Please visit: islahotaraqqi.com
ىہ مقالہ گذشتہ سال بروز سنىچر و اتوار 8-9 نومبر 2025ع كو اے
اىم ىو كے شعبہ اسلامك اسٹڈىز مىں منعقد
ہونے والے بىن الاقوامى سىمىنار بعنوان: عالمى تناظر مىں مذہب، سماجى انصاف اور
عدم مساوات مىں پىش كىا گىا جس كو حاضرىن و ذمہ داروں نے كافى
سراہا ۔ سىمىنار كے مقالات كتابى شكل مىں شائع ہوچكے ہىں لىكن اردو طباعت كا معىار
مناسب نہىں ہے۔ بہت سارے الفاظ باہم دگر ملے ہوئے ہىں ۔اس لىے اس مقالہ كو مجلہ كے
صفحات مىں شائع كىا جا رہا ہے تاكہ قارئىن اس سے مستفىد ہوں اور اس كا فائدہ عام
ہو۔
ىہ اپنے موضوع پر اىك گرانقدر مقالہ ہے جو مسلمانوں گى معاشى مسائل اور ان
كے حلول پر مشتمل ہے۔(چ ا)
عناصر موضوع :
مقدمہ
اسلامى نظام معىشت پر اىك نظر
عصر حاضر مىں مسلمانوں کے معاشی حالات و مسائل
معاشى مسائل كے چند اہم اسباب و وجوہات
مسلمانوں کے معاشی مسائل کا حل
خاتمہ
مصادر و مراجع
مقدمہ
اسلام ایک جامع دین ، مکمل
ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کے لیے كامل رہنمائی فراہم کرتا ہے، چاہے وہ عبادات ہوں یا معاملات،معىشت ہو یا
سیاست،عدالت ہو یا قیادت ، اخلاق ہو ىا سلوك وغىرہ۔ اسلام مىں ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات موجود ہیں جو نہ صرف آخرت میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں
،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔
اسلام میں جہاں عقائد، عبادات وفرائض كى اہمىت ہے۔ وہیں معاملات ومعاشرت، معاشىات واخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل
ہے،اسلام کا اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں ۔لہذاہرمسلمان کے لیے
اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس
ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :َیا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي
السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ
عَدُوٌّ مُبِينٌ
(بقرۃ:208) اے اہل ایمان اسلام میں
پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا
دشمن ہے ۔ لہذا کسی مسلمان کے لیے یہ جائز
نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاشىات ومعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے
آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت ہے کہ اس میں ہر
طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے۔ ان میں
معاشی زندگی کے مسائل او ران کے حل کو خصوصی اہمیت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے ہر
مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے۔(موقع: كتاب و سنت.كام، تعارف بركتاب
: ادهار كے معاملات)
لىكن ىہ اىك مسلمہ حقىقت ہے كہ اہل اسلام نے كئى صدىوں سے خصوصا جب سے مسلمان سیاسی طور پر زوال پذیر ہوئے ہیں تب سے مسلمانوں نے معاملات، معاشىات،
سماجىات اور ملکی و قومی مسائل جیسے اہم
شعبوں میں قرآن وسنت کی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور بہت سارے لوگوں نے
اسلام کو عقائد و عبادات تک محدود کر رکھا ہے۔ اور آج حالت ىہ ہے كہ كسى بھى
مسلمان ملك مىں اسلام كے بتائے ہوئے اصولوں پر معاشى نظام كى بنىاد ہے ہى نہىں
بلكہ تقرىبا تمام مسلمان ممالك مىں معاشى نظام كى بنىاد سرماىہ دارانہ نظام پر
ركھى گئى ہےجس کی وجہ سے مسلمان بحیثیتِ قوم مزید پستی اور زوال مىں مبتلا
ہىں اور مختلف معاشى مشكلات كا شكار
ہىں ۔(اسلام كا معاشى نظام: پروفىسر غلام رسول چىمہ، مقدمہ ص 11)
اسلامى نظام معىشت پر اىك نظر:
یہ بات روز روشن كى طرح واضح ہے کہ اسلامی اقتصادی نظام قرآن وسنت کی
گرانمایہ تعلیمات پر مبنی ہے کیونکہ ان کے ذرىعہ سے ہی ہدایات ملتی ہیں۔ اس کے
اصول پختہ‘ ابدی اور درخشندہ ہیں۔ اگر معاشی نظام ان پر استوار کیا جائے تو اسے دوام
واستمرار حاصل ہو گا اور وہ دیگر سب نظاموں پر سبقت لےجائے گا۔ اسلام کا معاشی
نظام ایک ایسے ہمہ گیر فلسفہ پر قائم ہے جس کا نام اسلام ہے جو عالمگیر دعوت اور
ہمہ گیر انقلاب کا داعی ہے۔ دنیائے انسانی کی صرف معاشی اصلاح وفلاح کا ہی
خواہشمند نہیں ہے بلکہ روحانی‘مذہبی‘ اخلاقی‘ سیاسی‘ معاشرتی اور معاشی غرض
ہر قسم کی دینی ودنیوی فلاح وبہبود اور رُشد وہدایت کا علمبردار ہے۔ (مقدمہ اسلام اور جدىد
معاشى تصورات، پروفىسر ڈاكٹر محمد نعىم صدىقى ، ص 1)
اسلامی نظامِ معیشت کی بنیاد چند ایسے اصولوں پر قائم ہے جو فرد اور معاشرہ
دونوں کے لیے عدل و توازن کا سبب بنتے ہیں۔ مثال كے طور پر: مال و دولت اللہ كى ملكىت ہىں، وراثت كى تقسىم
، عدل و احسان، حلال و حرام كا تعىن،
زكوة و صدقات، سود كى حرمت ، بىت المال ،
وقف، انفاق عام ، اخلاقى اصول و معاشرتى ذمہ دارىاں وغىرہ
اسلامی نظامِ معیشت کے مقاصد مىں
سے:دولت کی منصفانہ تقسیم،غربت اور طبقاتی فرق کا خاتمہ،اجتماعی فلاح اور تعاون کا
فروغ،حرص، لالچ اور استحصال کی روک تھام اور اخلاقی اور روحانی پاکیزگی کا قیام وغىرہ ہے۔
اس نظام کی اہم و بنىادى خصوصیات
مىں سے ہے كہ وہ انسانی ہمدردی پر مبنی نظام ہے، فرد اور
معاشرہ دونوں کی فلاح کا ضامن ہے، دولت کی منصفانہ تقسیم اور روحانی و اخلاقی تربیت کے ساتھ معاشی ترقی
بھى ہےوغىرہ ۔(تفصيل كے لىے دىكھىے: اسلام اور جدىد معاشى تصورات، پروفىسر
ڈاكٹر محمد نعىم صدىقى ، ص 161-223)
اسلامی نظام معیشت اسلامی تعلیمات اور عدل و انصاف پر مبنى ایک جامع ربانى
معاشى نظام ہے ۔جس کا مقصد معاشرتی
انصاف، اقتصادی ترقی، انسانی فلاح و بہبود اور سماجى توازن کو فروغ دینا ہے۔ یہ نظام نہ صرف دولت کی پیداوار کو جائز حدود میں رکھتا
ہے بلکہ دولت کی منصفانہ تقسیم کو بھی یقینی بناتا ہے۔
اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی
نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے
جذبات پیدا کرتا ہے۔ اسلام حلال طریقے سے کمانے اور حلال جگہ پر خرچ کرنے کی ترغیب
دیتا ہے۔ىہى وہ معاشى نظام ہے جو افراط و تفرىط سے پاك ہے اور اسى نظام كے نفوذ
مىں انسانوں كى فلاح مضمر ہے ۔( موقع كتاب و سنت .كام: تعارف بر كتاب از م . ا. :اسلام اور جدىد معاشى نظرىات: سىد ابو
الاعلى مودودى ، اسلام كا معاشى نظام: پروفىسر غلام رسول چىمہ و
مقدمہ ص 11)
اسلامی مالی و معاشی نظام ایک
ایسے اقداری ڈھانچے پر قائم ہے جس کی بنیاد ایمان، امانت، سچائی، شفافیت، ثبوت و
وضاحت، آسانی، تعاون، تکامل اور یکجہتی پر ہے۔ اسلام میں اخلاق کے بغیر کوئی معیشت
اسلامی نہیں ہو سکتی۔ یہی اقداری نظام تمام لین دین کرنے والوں کے لیے امن،
اطمینان اور استحکام کا ضامن ہے۔
اسلامی شریعت نے ان تمام مالی و اقتصادی لین دین کو حرام قرار دیا ہے جو
جھوٹ، جوا، دھوکہ دہی، غرر (غیر واضح معاملات)، جہالت، ذخیرہ اندوزی، استحصال، حرص
و طمع، ظلم اور لوگوں کے مال ناحق کھانے پر مبنی ہوں۔
اسلامی نظام میں ایمانی و اخلاقی قدروں کی پابندی عبادت شمار ہوتی
ہے جس پر اللہ کی طرف سے اجر ملتا ہے، اور یہ انسان کے طرزِ عمل کو منظم کرتی ہے ،
خواہ وہ پیدا کرنے والا ہو یا استعمال کرنے والا، خریدار ہو یا فروخت کنندہ ،
خوشحال ہو یا بدحال ، ہر حال میں۔(تفصىل كےلىے
دىكھىے: تقويم الأزمات الاقتصادية والاجتماعية في الاقتصاد الإسلامي د. أحمد علي السّبع https://www.awraqthaqafya.com/2534 /مجلة اوراق ثقافىة، بىروت)
اسلامی نظامِ معیشت کا مقصد صرف دولت کا حصول نہیں بلکہ عدل، انصاف اور
فلاحِ عامہ کو یقینی بنانا ہے۔ اس نظام میں دولت کو ایک امانت سمجھا جاتا ہے، جسے
معاشرے کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے۔ ىہ صرف دولت كمانے و اس كے کے حصول کا نظام نہیں بلکہ انسان کی فلاح و نجات
کا راستہ ہے۔اس کا مقصد نہ صرف اقتصادی ترقی ہے بلکہ انسانی اقدار
اور اخلاقیات کو بھی فروغ دینا ہے، تاکہ ایک خوشحال اور منصفانہ معاشرہ تشکیل دیا
جا سکے۔
دنیا کے بیشتر معاشی نظام آج بھی انسانیت کو حقیقی سکون اور عدل فراہم کرنے
میں ناکام ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام نے دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹ دیا ہے، اور
اشتراکی نظام نے فرد کی آزادی کو ختم کر دیا۔ ایسے میں اسلامی نظامِ معیشت ایک
معتدل، عادلانہ اور خدا ترس نظام کے طور پر سامنے آتا ہے جو انسان کے معاشی تقاضوں
کو پورا کرنے کے ساتھ روحانی و اخلاقی تطہیر بھی کرتا ہے۔ىہ مادی خوشحالی اور
روحانی اطمینان دونوں کو یکجا کرتا ہے۔ یہ انسانی فلاح، عدل، اور مساوات پر مبنی
ایک الٰہی نظام ہے۔ اگر اسے صحیح معنوں میں نافذ کیا جائے تو دنیا سے غربت، بے
روزگاری اور معاشی ناہمواری کا خاتمہ ممکن ہے۔
عصر حاضر مىں مسلمانوں کے معاشی
حالات و مسائل:
دور حاضر مىں اكثر مسلمانوں كے
معاشى حالات انتہائى خراب ہىں ، اور ان كے اقتصادى مسائل بہت زىادہ ہىں۔ ان سب كا
ىہاں پر تفصىل سے ذكر كرنا ممكن نہىں ہےاور نہ ہى ان كا احاطہ كرنا مقصود
ہے ۔اس لىے چند ضرورى و اہم حالات و مسائل كا مختصر طور پر ذكر كىا جا رہا ہے ۔تفصىل
كے لىے حوالوں كا مطالعہ كافى ہوگا۔
بلا شبہ مسلمانوں كے اقتصادى حالات
اىك علاقہ سے دوسرے علاقہ مىں مختلف ہىں لىكن مجموعى طور پر ان مىں ىكسانىت اور
مماثلت ہے ۔اسى طرح ان کو مختلف اقسام كے معاشی مسائل درپیش ہیں، جو کہ مختلف ممالک اور
خطوں میں مختلف صورتوں میں سامنے آتے ہیں۔ یہاں کچھ اہم مشترك معاشی حالات و مسائل کا ذکر کیا جا رہا ہے جو آج مسلمانوں مىں
نمایاں ہیں:
اسلامى اقتصادى نظام كى عدم تنفىذ:
مىرى نگاہ مىں جىسا كہ اس سے پہلے ذكر
كىا گىا كہ دور حاضر مىں حكومتى سطح
پر كسى بھى مسلمان ملك كا معاشى نظام مكمل
طور سے اسلامى نہىں ہے اور انفرادى و اجتماعى سطح پر اكثر مسلمان اس كو نافذ نہىں
كرتے ہىں ، اس لىے ىہ پورى دنىا كے
مسلمانوں كا سب سے بڑامشترك معاشى مسئلہ
ہے۔اسى وجہ سے اكثر مسلمان معاشى طور پر
پرىشان و حىران، مضطرب و سرگرداں ہىں ۔ىقىنا
ان كےتمام چھوٹے بڑے مسائل كى جڑ ىہى ہے۔
اس مىں كوئى شك نہىں ہے كہ جس طرح مسلمانوں نے زندگى كے ہر مىدان مىں اسلام كو ترك
كردىا ہے اسى طرح اقتصادى مىدان مىں بھى دىنى و شرعى قواعد و قوانىن كو چھوڑ دىا
ہے اور كھلے عام دن رات اس كى مخالفت كرتے
ہىں اور بغاوت پر آمادہ رہتے ہىں ۔ان كے
اقتصادى و مالى معاملات از حد خراب ہىں جو
اہل دانش و بىنش پر مخفى نہىں ہىں اور نہ اس پر كسى دلىل و برہان كى حاجت ہے۔
سودی نظامِ معیشت:
ىہ درج بالا عامل كا اىك لازمى نتىجہ ہے ۔سود پر مبنی بینکاری اور قرضوں نے مسلم معیشت کو کمزور کیا ہے۔قرآن و حدىث
كے بہت سارے نصوص اس كى حرمت پر بصراحت دلالت كرتے ہىں۔ قرآن میں الللہ تعالى نے سود کو نہ صرف حرام قرار دىا ہے
بلكہ اسے اللہ اور رسول ﷺ سے جنگ قرار دیا
گیا ہے(بقرہ/279)،احادىث مىں
سود كے كھانےوالے، كھلانے والے ، دونوں
گواہ اور اس كے لكھنے والے نبى كرىم كى لعنت ہے۔(بخارى و مسلم) اور اىك رواىت مىں آىا ہے كہ جو آدمی دانستہ
طور پر ایک درہم سود کھاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں (اس کا یہ جرم) چھتیس دفعہ زنا
کرنے سے زىادہ سنگین ہے ۔(مسند الامام احمد بن حنبل و سلسلہ احادىث صحىحہ ، 1033) اسے مگر انتہائى افسوس كى بات ہےكہ آج مسلمان و مسلم دنیا اسی نظام پر چل رہی ہے۔دنىا
كا كوئى بھى ملك سود سےپاك نہىں ہے، توحىد كا علم بردار ملك سعودىہ بھى اس لعنت
مىں گرفتار ہے وہاں بھى سودى بىنك كھلے عام كام كر رہے ہىں ۔مسلمان حكومتوں اور
مسلمانوں پر غیر اسلامی طرزِ
معیشت کا غلبہ ہے۔
سود كے علاوہ مسلمانوں مىں شارٹ سىل، حصص كا غىر شرعى كاروبار، آن لائن غىر
شرعى تجارت ، جوا و قمار كى نئى شكلىں، غىر شرعى بىمہ كى مختلف شكلىں بھى رائج ہىں۔
یہ تمام مسائل دراصل اسلامی اصولوں سے دوری کا نتیجہ ہیں۔ جب تک مسلمان
اپنی معاشی زندگی کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے تابع نہیں کرتے، ان بلاؤں مىں
گرفتار رہىں گے۔
غربت:
آج كى دنىا مىں مسلمانوں کا دوسرا سب سے اہم مسئلہ افلاس و غربت اور فقر و ناداری ہے۔ دنیا کے ایک چوتھائی سے زیادہ ىعنى تقرىبا
دو ارب انسان مسلمان ہیں ۔ اس کے باوجود
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ مسلم دنیا کی اکثریت معاشی لحاظ سے پسماندگی، بے روزگاری،
غربت اور غیرانحصاری کا شکار ہے، مسلمان معاشی طور پر کمزور، غیر خود کفیل، اور
دوسروں پر انحصار کرنے والی قوم بن چکے ہیں ۔
اگر ہم خاص طور پر اسلامی ممالک پر نظر ڈالیں تو وہاں کی اکثریت خطِ غربت
سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔
دنیا میں مسلمانوں کی تعداد میں سے تقریباً 504 ملین (پچاس کروڑ چالیس لاکھ)
افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ تعداد عالمِ اسلام کی کل آبادی
کا تقریباً 37 فیصد بنتی ہے ، جبکہ یہ
دنیا کے کل غریبوں کا تقریباً 39 فیصد ہیں۔ یعنی دنیا میں جتنے بھی لوگ غربت کی
لکیر سے نیچے ہیں، ان میں سے ایک تہائی سے زیادہ مسلمان ہیں۔
اس حقیقت کی تائید ڈاکٹر احمد
محمد علی (صدر، اسلامی ترقیاتی بینک) نے بھی ایک انٹرویو میں کی، جب انہوں نے کہا: اسلامی
ترقیاتی بینک کے رکن ممالک میں سے 29 ممالک دنیا کے سب سے 34 غریب ترین ممالک میں شامل ہیں۔یہ
سب ترقی پذیر ممالک ہیں جہاں غربت، بیروزگاری اور ناخواندگی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ (تفصىل كے لىے دىكھىے:زكاة المال.. أداة ناجعة للقضاء
على الفقر والجوع بالدول الإسلامية، الخلىج اونلاىن، سلمى حداد، 9-4-2022،الدول
الإسلامية الفقيرة، الاثنين 09 يونيو 2014 ، عبدالعزيز محمد النهاري، عكاظ)
اعداد و شمار کے لحاظ سے،بھارت دنیا کا وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ غریب
افراد رہتے ہیں ، ان کی تعداد تقریباً 234
ملین (23 کروڑ 40 لاکھ) ہے۔اس کے بعد:پاکستان 93 ملین،ایتھوپیا 86 ملین،نائجیریا 74 ملین، اورجمہوریہ کانگو 66 ملین غریبوں کے ساتھ بالترتیب دوسرے، تیسرے، چوتھے اور
پانچویں نمبر پر ہیں۔(تفصىل كے لىے دىكھىے: زكاة المال.. أداة ناجعة للقضاء على الفقر والجوع بالدول
الإسلامية، الخلىج اونلاىن، سلمى حداد، 9-4-2022)
ىہ مسلمانوں كى وہ تعداد ہے جو خط غربت سے نىچے زندگى گذار رہى ہے اور انتہائى غرىب ہىں ۔ خط افلاس سے اوپر فقراء و مساكىن كى تعداد ان
كے علاوہ ہےجن كى شرح تقرىبا 40% ہے۔ اس طرح مسلمانوں كى 70 سے 80% آبادى ىعنى
بھارى اكثرىت غرىب و فقىر ہے ۔ مالدار مسلمانوں كى تعداد انتہائى كم ہے۔ان اعداد و
شمار سے غربت كى حالت انتہائى بھىانك و افسوسناك ہے۔
بے روزگاری:
ىہ دور حاضر كے مسلمانوں كا انتہائى اہم مسئلہ ہے كىونكہ ان مىں بے روزگارى سب سے زىادہ
ہے،انٹرنٹ پر اسلامى ممالك مىں بے روزگارى كے موضوع پر سرچ كرتے ہوئے پتہ چلا كہ
اسلامی ممالک میں بے روزگاری ایک بڑا اقتصادی اور سماجی
چیلنج ہے، خاص طور پر نوجوانوں کے درمیان، جو آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں۔ اعداد و
شمار کے مطابق صرف عرب ممالک میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح تقریباً 28 فیصد ہے، جو عالمی
اوسط 12 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔(مصنوعى ذہانت كا جائزہ بتارىخ 1-11-2025 بوقت سات بجے
شام )۔ بعض افرىقى ممالك مثلا جىبوتى
مىں 60% مالى مىں 30% اور مورىتانىہ مىں 31% ہے
جو انتہائى زىادہ و بھىانك ہے۔ (قائمة
الدول حسب معدل البطالةhttps://ar.wikipedia.org/wiki) اىك رپورٹ
كے مطابق تقرىبا 40% تعلىم ىافتہ افراد بے
روزگار ہىں۔ گزشتہ چند برسوں میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک
میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی اوسط شرح 16 فیصد رہی، جبکہ عالمی اوسط
12.9 فیصد پر برقرار ہے۔(أرقام حول البطالة في الدول الاسلامية، الشروق مىڈىا،https://echourouqmedia.net/?q=node/1406)
نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے باوجود، کئی مسلم ممالک میں بے روزگاری کی
شرح بلند ہے۔ روزگار کے مواقع محدود ہیں، اور تعلیم و ہنر کی کمی نے
نوجوانوں کو بے روزگار کر رکھا ہے اور ان کو ملازمت کے مواقع نہیں ملتے۔
مالى كرپشن اور بد عنوانى :
ىہ اىك اىسى وبا ہے جس مىں آج كا تقرىبا ہر مسلمان طبقہ مبتلا ہے، علماء، حكمراں اور عوام سب اس حمام
مىں ننگے ہىں جو انتہائى افسوس كى بات ہے۔مسلمانوں كے مالى معاملات انتہائى خراب
ہىں۔ راقم سطور كا اس بارےمىں خود ذاتى
تجربہ ہے كتنے لوگوں نے قرض لىا لىكن آج
تك واپس نہىں كىا ہے۔كتنے مسلمان بنا كسى
حىا و شرم كے دوسروں كى پراپڑتى پر ناجائز قبضہ جمالىتے ہىں
اور اس پر فخر بھى كرتے ہىں ، اس كے بارےمىں جو كچھ بھى لكھا جائے كم ہے۔سب
سے زىادہ ہمارے حكمراں ، وزراء و امراء
مالى بد عنوانىوں كا شكار ہىں، بعد ازاں
بىروكرىٹس اور كارپورىٹس مىں ىہ
بىمارى كچھ كم نہىں ہے۔عوام بھى اس معاملہ
مىں كسى سےپىچھے نہىں ہے ۔غضب تو ىہ ہے كہ
علماء بھى بہتى گنگا مىں ہاتھ دھونے سے پىچھے نہىں ہىں۔اللہ تعالى تمام مسلمانوں
كو ہداىت دے۔آمىن
ذخیرہ اندوزی:
آج کے حکمرانوں، وزراء
اور عہدے داروں کاطرزعمل یہ ہے کہ وہ
حکمرانی یا کسی عہدے کو غنیمت شمارکرتے ہیں اوریہی سوچتے ہیں کہ انہی دنوں میں کئی
سالوں کے لیے دولت جمع کرلیں، مال کو ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے قیادت وحکمرانی
کا فائدہ اٹھاتے ہوئےتحفے وتحائف بھی وصول کرتے ہیں اور اسے اپنا حق تصور کرتے
ہیں، جو کسی بھی ریاست کے حکمران کے شایان شان نہیں۔یہاں یہ بات ذہن نشین ہو کہ
جہاں بھی غربت اورفقرآجائے نابودی بھی حتمی ہے اورغربت معاشرے میں اس وقت آتی ہے
جب قیادت وحکمران دولت جمع کرنے میں لگ جائیں اوراپنی قیادت وکرسی کے جانے کا خوف
پیدا ہوجائے ۔اسلامی ریاست کے قیادت کے لئے یہ حکم ہے کہ نہ صرف خود سرمایہ ذخیرہ
کرنے سے اپنے آپ کو بچائے رکھے بلکہ قیادت ریاست کے دیگرتمام حکام اورذمہ
دارافسران وملازمین کےطرزعمل اورکردارکی کڑی نگرانی کرےاوران کےاثاثوں کاجائزہ
لیتےرہنا چاہئے، یہ نہ ہو کہ قیادت سےلیکردربان وچوکیدار تک سب بےلگام رہیں اورجس
کاجوجی چاہے کرپشن کرنے لگے، اس کا عملی مثال آج کے دور میں ہمارے سامنے عیاں ہے،
جس میں قیادت سے لیکردربان وچوکیدارسب دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار میں ملوث ہیں۔(عصر حاضر میں مسلمانوں کی سیاسی ابتری اور اس کا تدارک:
سیرتِ طیبہﷺ کی روشنی میں،Rahat-ul-Quloob > Volume 2 Issue 1 of
Rahat-ul-Quloobhttps://journals.asianindexing.com/article.php?id=1682060029185_983)
دولت و وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم:
چند طبقوں کے پاس بے تحاشا دولت جمع ہے جبکہ
اکثریت فقر و تنگدستی میں مبتلا ہے۔ طبقاتی خلیج بہت وسىع ہے۔
زکوٰۃ، صدقات اور اوقاف جیسے اسلامی ادارے کمزور یا غیر فعال ہیں۔
غیر ملکی قرضوں کا بوجھ:
زیادہ تر مسلم ممالک نے عالمی مالیاتی
اداروں جىسے : عالمى بىنك،
انٹرنىشنل مونىٹرى فنڈ وغىرہ سے بہت زىادہ قرضے لے ركھے ہىں ۔مثلا: تركى 526 ارب ڈالر ، انڈونىشىا 425، ملىشىا 301،
سعودى عرب 264، متحدہ عرب امارات 220 ،قطر 195، پاكستان 131، مصر 155 اور
لبنان34 ارب ڈالر كے مقروض ہىں۔(https://en.wikipedia.org/wiki/List_of_countries_by_external_debt )۔ىہاں تفصىل كا موقع نہىں ہے
لىكن ان اعداد و شمار سے واضح ہے كہ اكثر
مسلمان ممالك بھارى بھركم قرضوں کے تلے
دبے ہوئے ہیں۔ظاہر ہے كہ ان قرضوں کے ساتھ پائى جانے والی شرائط ان ممالك کی معاشی خودمختاری چھین لیتی ہیں
اور ان کو اقتصادی
غلامی میں مبتلا کر دیتى ہیں، جس سے ان کی پالیسیوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔
غیر پیداواری معیشت و طرز زندگى :
بیشتر مسلم ممالک اپنی ضرورت کی اشیاء خود پیدا نہیں کرتے بلکہ درآمدات پر
انحصار کرتے ہیں اور زیادہ تر ممالک درآمدی
معیشت پر چل رہے ہیں ۔اس سے ان کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے ہیں اور معیشت
کمزور ہو جاتی ہے۔
اسراف و تبذير:
اسراف و تبذىر دونوں سے اسلام نے انتہائى سختى كے ساتھ منع كىا ہے، اللہ نے
تبذىر والے كو شىطان كا بھائى بتاىا ہے (اسراء/27) لىكن بہت ہى افسوس كى بات ہے كہ دور حاضر مىں مسلمانوں كى
بہت بڑى تعداد اس وبا مىں مبتلا ہے ۔ىہ ان كى زندگى كےہر شعبہ مىں نماىاں ہے خصوصا
گھر، لباس، خورد و نوش، تقرىبات و شادى
بىاہ وغىرہ مىں۔انتہائى تكلىف كى بات تو ىہ ہے كہ بہت سارے اپنے شوق كو پورا كرنے
، نام و نمود ، دكھاوا اور بد نامى كےڈر سے بىنكوں سے سودى قرض تك لىنے مىں پس و پىش نہىں كرتے ہىں
جس كى وجہ سے سماج مىں بہت سارے مسائل جنم لىتے ہىں جو اہل علم پر مخفى نہىں ہىں۔اىك
طرف تو حرام كا ارتكاب ہوتا ہے ، اللہ كى ناراضگى كا سبب بنتا ہے ۔ وہىں دوسرى طرف
قرض كا بوجھ سر پر رہتا ہے، انسان كو ذہنى پرىشانى ہوتى ہے، كچھ لوگ تو خودكشى تك
كرلىتے ہىں وغىرہ۔ اىك اندازہ كے مطابق
انڈىن مسلمان تعلىم كى بہ نسبت شادى بىاہ مىں اپنے بچوں پر زىادہ خرچ كرتے ہىں۔ىہ
اىك بہت بڑا قومى و ملى المىہ ہےجس كو دور كرنے كى شدىد ضرورت ہے ، در اصل اكثر مسلمانوں كو ىہ شعور ہى نہىں ہے
كہ قىامت كے دن ان كو اپنى كمائى و خرچ كا حساب دىنا ہے۔ىہ اىك حقىقت ہے كہ اگر
اسراف و تبذىر كو ختم كردىا جائے تو بہتىرے
مسائل كو ىقىنى طور پر حل كىا جاسكتا ہے ۔بہت سارے نادار و فقىر مسلمانوں
كى مدد كركے ان كو خوشحال بناىا جا سكتا ہےجس كے مثبت نتائج سماج و معاشرہ پر ظاہر
ہوں گے۔
ىہ ہىں چند اہم مسائل جن كا ذكر اوپر كىا گىا۔ان كے علاوہ اور بھى معاشى مسائل
ہىں جن كا تذكرہ ممكن نہىں ہے لىكن درج بالا سطور سے واضح ہے كہ مسلمانوں کو درپیش معاشی مسائل متعدد اور پیچیدہ ہیں اور ان کے حل کے لیے جامع حکمت
عملیوں کی ضرورت ہے جن كا ذكر آگے آرہا ہے۔
ان معاشى مسائل کےبعض نماىاں اثرات و نتائج :
·
عوام میں غربت، بھوک اور مایوسی میں اضافہ
·
تعلیم و صحت کے شعبوں میں پسماندگی
·
نوجوان نسل کا ہجرت پر مجبور ہونا
·
اخلاقی زوال اور سماجی بے اطمینانی
·
امتِ مسلمہ کا عالمی سطح پر کمزور ہونا
معاشى مسائل كے چند اہم اسباب و وجوہات:
مسلمانوں کےمندرجہ بالا معاشی مسائل کے کچھ اہم اسباب و عوامل درج ذیل ہیں:
اسلامى معاشى نظام سے دورى:ىہ راقم
سطور كى نظر مىں اىك مسئلہ ہے اورسب سے اہم و بنىادى سبب
بھى ہے كىونكہ اس سے دورى كى وجہ سے تمام مسائل و پرىشانىاں جنم لىتى ہىں۔ اوپر جو
كچھ ذكر كىا گىا ہے وہ عموما اسى كا نتىجہ ہے۔ جىسے مسلمان قوم نے سود، ذخیرہ اندوزی، حرام تجارت اور
استحصال سے بچنے کے اسلامی اصولوں کو ترک کر دیا ہے۔ نتیجتاً بہت سارے مسائل مىں
گرفتار ہوگئے۔دنىا مىں اسلامى معاشى نظام سے بہتر اور كوئى نظام نہىں ہے اگر
مسلمان اس كو صدق و اخلاص كے ساتھ مكمل طور سے نافذ كرتے ہىں تو ىہ ان كے تمام
معاشى مسائل كے حل كى گارنٹى ہے۔
تعلیمی نظام کی کمزوری اور تعلیم و
ہنرکی کمی:
اکثر مسلم ممالک میں تعلیم کا معیار پست ہے اور کئی مسلم ممالک میں تعلیمی نظام میں بنیادی خامیاں ہیں ، جیسے کہ نصاب کی
عدم مطابقت، تعلیمی سہولیات کی کمی، اور اساتذہ کی تربیت کی کمی جن مىں بہتری کی ضرورت ہے۔ اس کی وجہ سے
نوجوانوں کو مہارتیں حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں اور ان کی بڑی
تعداد دینی یا دنیوی کسی بھی میدان میں مہارت حاصل نہیں کر پاتی، جس سے روزگار کے
مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔اور تعلیم کی کمی
کی وجہ سے لوگ بہتر ملازمتوں کے لیے تیار نہیں ہو پاتے، جس سے معیشت متاثر ہوتی
ہے۔ اکثر مسلم معاشروں
میں جدید سائنس، ٹیکنالوجی، اور پیشہ ورانہ تعلیم کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو
ترقی کے لیے ضروری ہے۔نتیجتاً مسلم نوجوان نوکری تلاش کرنے والے بن گئے
ہیں، روزگار پیدا کرنے والے نہیں۔ تعلیمی نظام کی ناکامی بے روزگاری کی ایک بڑی وجہ ہے، جو
کہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارتیں فراہم نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ، اقتصادی
ترقی کی کمی بھی بے روزگاری کا باعث بنتی ہے۔
بدعنوانی اور کرپشن:
بدعنوانی اور حکومتی ناکامی کئی مسلم ممالک میں معیشت کی ترقی میں رکاوٹ
ہیں۔ رشوت، اقربا پروری، ناجائز منافع خوری، اور ٹیکس چوری
جیسے عوامل نے معیشت کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔وسائل عوام کے بجائے چند طاقتور ہاتھوں
میں مرتکز ہو گئے ہیں۔ یہ عوامى وسائل کے غلط استعمال کا باعث بنتی ہیں اور
سرمایہ کاری کو متاثر کرتی ہیں۔اور عوامی خدمات کی فراہمی میں مشکلات پیدا کرتے
ہیں۔
سیاسی عدم استحکام:
کئی مسلم ممالک میں سیاسی انتشار و
عدم استحکام، جنگ و جدال، اور داخلی تنازعات اور اندرونی اختلافات نے معیشت کو برباد کیا ہے ۔ یہ حالات سرمایہ کاری کو کم کرتے ہیں اور اقتصادی ترقی میں رکاوٹ بنتے
ہیں۔ جہاں امن نہیں،
وہاں سرمایہ کاری اور ترقی ممکن نہیں۔آج كے دور مىں كم ہى مسلمان ممالك ہىں جہاں
سىاسى استحكام پاىا جاتا ہے ، اكثر ممالك
اس عظىم نعمت سے محروم ہىں جس كا مشاہدہ ہر كوئى اپنى آنكھوں سے كر رہا ہے۔
سماجی عدم مساوات:
معاشرتی عدم مساوات اور طبقاتی فرق بھی معاشی مسائل کا
باعث بنتے ہیں۔ غریب طبقے کو بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل نہیں ہوتی، جس کی وجہ
سے غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔
قدرتی وسائل کا غیر مؤثر استعمال:
کئی مسلم ممالک میں قدرتی وسائل جیسے تیل، گیس، اور
معدنیات کا غیر مؤثر استعمال ہوتا ہے۔ یہ وسائل اکثر بدعنوانی یا ناقص حکومتی
پالیسیوں کی وجہ سے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال نہیں ہوتے۔
صنعتی ترقی کی کمی:
کئی مسلم ممالک میں صنعتی ترقی کی کمی ہے، جس کی وجہ سے معیشت کا انحصار
زراعت یا خام مال کی برآمد پر ہوتا ہے۔ یہ صورتحال معیشت کو مستحکم نہیں رکھتی۔
عالمی معیشت میں شمولیت كى كمى :
کئی مسلم ممالک عالمی معیشت میں مؤثر طور پر شامل نہیں ہو پاتے، جس کی وجہ
سے انہیں عالمی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات کی برآمد میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا
ہے۔
صحت کی خدمات کی کمی:
صحت کی خدمات کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جو کہ انسانی ترقی اور معیشت پر
منفی اثر ڈالتی ہے۔ صحت کی خراب حالت سے کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
خود انحصاری کی کمی:
کئی مسلم ممالک میں خود انحصاری کی کمی ہے، جس کی وجہ سے وہ عالمی مارکیٹ
پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ یہ صورتحال معیشت کو غیر مستحکم بنا سکتی ہے۔
مسلمانوں کے معاشی مسائل کے عوامل و اسباب مختلف و پیچیدہ ہیں جن كو دور كرنےكے لىے ایک منظم و جامع حکمت عملی کی ضرورت ہےجن كا ذكر آرہا ہے ۔
0 التعليقات: