پانی اور بجلی چوری کرنے والے شخص کے یہاں کھانے پینے کا حکم

 

فتاوى

پانی اور بجلی چوری کرنے والے شخص کے یہاں کھانے پینے کا حکم

حكم الشرب والأكل من ماء وطعام من يسرق الماء والكهرباء

(موقع: اسلام ویب, فتوى,  سوال نمبر: 63938, منگل  22 جمادى الأولى 1426 ھ- 28-6-2005 ع ترجمہ: ڈاکٹر عبد المنان محمد شفیق مکی )

Please visit: islahotaraqqi.com

   براہِ کرم میرے اس سوال کا جلد از جلد جواب دیجیے، کیونکہ مجھے حرام میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے۔

میں جس علاقے میں رہتا ہوں وہاں پانی اور بجلی چوری کرنے کے واقعات بہت زیادہ عام ہو گئے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے:

  • کیا ہمارے لیے ایسے لوگوں کا پانی پینا یا ان کے کھانے میں سے کھانا جائز ہے جو کمپنیوں کا پانی چوری کرتے ہیں؟
  • کیا ان جانوروں کو خریدنا جائز ہے جو اسی چوری شدہ پانی پر پالے گئے ہوں؟
  • کیا ان کے تحائف اور عطیات قبول کرنا جائز ہے؟

براہِ کرم اس مسئلے کی تمام متعلقہ تفصیلات کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔

جواب:الحمد للہ، والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله وصحبه، أما بعد:

مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ سرکاری یا نجی املاک میں دھوکا دہی یا حیلہ سازی کرکے ان کا پانی یا بجلی بغیر قیمت ادا کیے استعمال کرے؛ کیونکہ یہ دھوکا، چوری اور خیانت ہے، اور ان سب کی حرمت قرآن و سنت کی متعدد نصوص سے ثابت ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا من غش فليس منا. : جس نے دھوکا دیا، وہ ہم میں سے نہیں۔(صحیح مسلم)

اور ایک روایت میں ہے: من غشنا فليس منا، والمكر والخداع في النار:"جس نے ہمیں دھوکا دیا، وہ ہم میں سے نہیں، اور مکر و فریب جہنم میں لے جانے والے ہیں۔"( ابن حبان /5559 , طبرانی/10234 , صحیح  ابن حبان 2/326  و صحیح الجامع للالبانی /6408 ان کے نزدیک صحیح ہے )

اگر یقین ہو کہ وہ   کوئی قیمت ادا نہیں کرتے

اگر آپ کو یقین ہو کہ یہ لوگ استعمال کیے جانے والے پانی کی بالکل کوئی قیمت ادا نہیں کرتے، تو:

  • بعض فقہاء کے نزدیک  ان  کا پانی پینا جائز نہیں اور بعض کے نزدیک مکروہ ہے ۔اور اگر چوری کا علم نہیں ہے تو پھر پینے والے پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اس کا وبال چوری کرنے والے پر ہے اور پانی بذات خود پاک ہے ۔

البتہ:

  • ان کا کھانا اپنی اصل کے اعتبار سے حلال ہی رہے گا۔
  • ان کے جانور بھی حلال ہیں۔
  • ان جانوروں کو خریدنا بھی جائز ہے، اگرچہ وہ اسی پانی پر پالے گئے ہوں۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ:

غصب شدہ پانی سے اگائی گئی فصل یا غصب شدہ جانوروں سے کاشت کی گئی پیداوار کھانا اور خریدنا جائز ہے۔

چنانچہ نوازل سیدی عبداللہ الشنقیطی میں ہے:

"غصب شدہ پانی سے اگنے والی فصل، یا غصب شدہ زمین یا غصب شدہ جانوروں کے ذریعے پیدا ہونے والی پیداوار کو کھانا اور خریدنا جائز ہے۔"

اسی مفہوم کو منظوم فقہی عبارت میں یوں بیان کیا گیا ہے: وكل زرع نابت من سحت * فأكله من الحلال البحت

"ہر وہ فصل جو ناجائز ذریعے سے اگائی گئی ہو، اس کا کھانا اپنی اصل کے اعتبار سے حلال ہے۔"

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص یہ پانی یا بجلی استعمال کر لیتا ہے تو اس کی مالی قیمت اس کے ذمہ قرض بن جاتی ہے، اس لیے بعد میں پیدا ہونے والی اشیاء بذاتِ خود حرام قرار نہیں پاتیں۔

اگر کچھ قیمت ادا کرتے ہوں اور کچھ چوری کرتے ہوں:

لیکن اگر وہ پانی یا بجلی کا کچھ بل ادا کرتے ہوں اور کچھ میں دھوکا دہی یا چوری کرتے ہوں، تو راجح قول کے مطابق:

  • ان کا پانی پینے میں کوئی حرج نہیں۔

البتہ بعض اہلِ علم کی رائے یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے مال میں حرام کی مقدار زیادہ ہو تو اس کے مال سے معاملہ کرنا اور اس کے ہاں کھانا مکروہ ہے۔

خلاصۂ فتویٰ

1.    پانی اور بجلی چوری کرنا حرام ہے۔

2.    اگر یقین ہو کہ کسی کا پانی مکمل طور پر چوری شدہ ہے اور اس کی کوئی قیمت ادا نہیں کی جاتی، تو اس کا پانی پینا  بعض کے نزدیک جائز نہیں اور بعض کے یہاں  صرف مکروہ ہے ۔

3.    تاہم اس کے گھر کا کھانا، اس کے جانور، اور ان جانوروں کی خرید و فروخت جائز ہے؛ کیونکہ وہ اشیاء بذاتِ خود حرام نہیں ہوتیں۔

4.    اگر وہ کچھ ادائیگی کرتے ہوں اور کچھ چوری کرتے ہوں، تو راجح قول کے مطابق ان کے ہاں کھانے پینے میں حرج نہیں، اگرچہ احتیاط بہتر ہے۔واللہ أعلم۔

 

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: