اسلام اور تحفظ ماحولیات

 


اسلام اور تحفظ   ماحولیات

ڈاکٹر عبد المنان محمد شفیق مکی

Please visit: islahotaraqqi.com

ماحولیات (Environment)کی تعریف:

ماحولیات: ماحول سے بنا ہے جو عربی زبان کا لفظ ہےاور  دو حروف سے مرکب ہے: ما اور حول۔ "ما" موصولہ  الذی کے معنى میں  ہے، جس کے معنیٰ ہیں: ہر وہ چیز جو، "حول" کے معنی: چکر لگانا، سال کا پھر آنا , اردگرد , آس پاس و گھراؤ کے ہیں ۔تو ماحول کے معنیٰ ہوئے: وہ چیزیں جو ایک جسم کے چار سو پھیلی ہوئی ہیں۔(راقم) 

 اسے عربی میں بیئۃ, انگریزی میں   Environmentیا  Ecology  کہتے ہیں۔ اصطلاحات ’’ایکولوجی‘‘ (Ecology) اور ’’اینوائرونمنٹ‘‘ (Environment) کا ایک ہی مطلب لیا جاتا ہے۔ ان دونوں اصطلاحات کو کم و بیش تمام تر انگریزی اُردو لغات میں ’’ماحول‘‘ اور ’’ماحولیات‘‘ کے نام سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ (ویکیپیڈیا: آزاد دائرۃ المعارف)

اصطلاحی تعریف: یہ حیاتیات کی ایک شاخ ہے جس میں جانداروں کا ایک دوسرے اور ماحول کے مابین تفاعل کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔(ویکیپیڈیا: آزاد دائرۃ المعارف)   اس  سے مراد وہ تمام  فطری و قدرتی عناصر ہیں جو انسان کو اپنے گرد گھیرے ہوئے ہیں، جیسے پانی، ہوا، زمین، جنگلات, حیوانات اور نباتات(موقع : المکتبۃ الشاملۃ,  کتاب الفقہ المیسر, عبد اللہ الطیار, 13/135)۔اور بعض کے نزدیک اس کا اصطلاحی  مفہوم بہت وسیع ہےاور اس کا تعلق صرف ہمارے اردگرد کے ماحول سے نہیں بلکہ پوری کائنات سے ہے جس میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں۔ (چیٹ جی پی ٹی)

 ماحولیات کے  تحفظ کا مطلب :

ماحولیات کے تحفظ کا مطلب یہ ہے کہ اسے ہر اس چیز سے محفوظ رکھا جائے جو آلودگی، بگاڑ، نقصان یا تباہی کا سبب بنتا ہے  (کتاب الفقہ المیسر, 13/135)کیونکہ  ایک صحت مند، پُرسکون اور خوشگوار زندگی کے لیے ماحول کا محفوظ اور متوازن رہنا انتہائی ضروری ہے۔

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کوانتہائی  حیرت انگیز دقت، حکمت اور بے مثال نظم و ضبط اور  اس کی تمام مخلوقات کے درمیان گہرا ربط، باہمی ہم آہنگی اور کامل تناسب کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ ، جس میں ہر چیز اپنی حدود میں رہ کر اپنا کردار ادا کرتی ہے، نہ کوئی عنصر دوسرے پر زیادتی کرتا ہے اور نہ ہی ایک پہلو دوسرے کے توازن کو بگاڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْزُونٍ﴾(حجر/19)"اور ہم نے زمین کو پھیلا دیا، اس میں مضبوط پہاڑ گاڑ دیے اور اس میں ہر چیز ایک متعین اندازے اور توازن کے ساتھ اگائی۔

اسی طرح اللہ تعالى نے ہر مخلوق کو مخصوص صفات، خصوصیات، ساخت اور مقدار عطا فرمائی، جیسا کہ اس کی حکمتِ بالغہ پر مبنی ارادہ کا تقاضا تھا۔ اور  ہر چیز کو ایک خاص زمانے، خاص مقام، مخصوص ترتیب اور متعین حالت میں پیدا کیا۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :﴿إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ﴾" (القمر/49)بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک تقدیر یعنی  مقرر اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:﴿وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا﴾ (الفرقان/2)اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا، پھر اس کے لیے ایک مناسب اندازہ مقرر فرمایا۔

یعنی پانی، زمین، ہوا، پہاڑ، حیوانات اور نباتات سمیت دنیا کی ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص اندازے، توازن اور باہمی ربط کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ (الموقع: الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین, حمایۃ البیئۃ فی الإسلام, الشیخ محمد صادق محمد یوسف رحمہ اللہ )

اسی توازن کی بدولت زندگی بہترین انداز میں جاری رہی، لیکن بعض انسانوں نے اس حیرت انگیز نظام میں مداخلت کرکے اس توازن کو بگاڑنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں ماحولیات میں فساد پیدا ہوا اور ہو رہا ہے، اور ان تمام جاندار مخلوقات کو نقصان پہنچ رہا ہے جن میں سب سے نمایاں خود انسان ہے۔(کتاب الفقہ المیسر, 13/135)

اب اگر اس نظامِ توازن میں معمولی سا خلل بھی واقع ہو جائے تو اس کے نتیجے میں طرح طرح کی آفات اور مصیبتیں جنم لیتی ہیں، بلکہ بسا اوقات فطرت اور انسانیت دونوں کی تباہی کا سبب بن جاتی ہیں۔

ماحولیات کے تحفظ میں اسلام کی سبقت :

یہاں اس حقیقت کا ذکر کرنا انتہائی ضروری ہے کہ ماحولیات کے تحفظ اور اس کی خرابی کے اسباب کو روکنے کے سلسلے میں اسلام نے دوسروں پر سبقت حاصل کی ہے  اور اس سلسلے میں دنیا کے دیگر نظاموں سے بہت پہلے رہنمائی فراہم کی تھی۔ بعد کے زمانے میں ماحولیات کی حفاظت کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ نے سن 1972ء میں سویڈن کے شہر Stockholm میں منعقد ہونے والی ماحولیات سے متعلق کانفرنس کے بعد United Nations Environmental Programme (UNEP) قائم کیا۔ اس ادارے کا مقصد یہ تھا کہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر تعاون  و شراکت کو فروغ دیا جائے، تاکہ اقوام اور عوام اپنی زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکیں، لیکن اس طرح کہ آنے والی نسلوں کے معیارِ زندگی کو نقصان نہ پہنچے۔(کتاب الفقہ المیسر, 13/135) 

ماحولیات کے تحفظ کا شرعی حکم:

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات کو پیدا فرمایا  جس کا ایک اہم و معمولی جزء  زمین ہے جس  کو انسان کے رہنے کے لیے تیار کیا  اور اس میں بے شمار نعمتیں پیدا فرمائیں  اور  پھر انہیں انسان کے لیے مسخر و اس کے تابع  کر دیا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا﴾"(البقرۃ/29)وہی ہے جس نے زمین میں موجود تمام چیزیں تمہارے لیے پیدا کیں۔

اور ایک دوسری آیت میں ہے  :﴿وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾"(سورۃ الجاثیہ: ١٣) اور اس نے اپنی طرف سے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔"

علاوہ ازیں اللہ عز و جل نے انسان کو   اپنی زمین پر خلیفہ بنایا، اسے عزت و شرف سے نوازا، لیکن ساتھ ہی اسے آزمائش  اور امتحان میں بھی ڈالا۔ اسی لیے انسان اپنے تمام اعمال اور تصرفات کے بارے میں جواب دہ ہے۔ یہ ذمہ داری اسی خلافت، عزت اور اختیارِ تصرف کا لازمی تقاضا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ حقوق,  اختیارات اور نعمتیں عطا کرنے کے ساتھ ساتھ وحی کے ذریعے یہ بھی بتا دیا کہ ان نعمتوں کو اپنے اور دوسروں کے فائدے کے لیے کس طرح استعمال کرنا ہے۔ اسے حکم دیا کہ دنیا کی حفاظت کرے، اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھائے، انہیں ضائع اور تباہ نہ کرے بلکہ خیر اور بھلائی کے کاموں میں استعمال کرے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:«وَلاَ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا» [الأعراف: ٥٦]. اور زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد برپا نہ کرو۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس طرح بنایا اور آراستہ کیا کہ انسان اس میں خوش حالی، آسودگی اور راحت کی زندگی گزار سکے؛ کیونکہ اس میں پانی، پہاڑ، جانور، پودے اور بے شمار مادی و معنوی نعمتیں موجود ہیں۔ لہٰذا انسان پر لازم ہے کہ ان نعمتوں کی حفاظت کرے اور ان سے فائدہ اٹھائے، لیکن اس انداز سے کہ ان کے فطری توازن اور باہمی ہم آہنگی میں کوئی خلل پیدا نہ ہو۔

آج ہم کائنات کے نظام میں جو بگاڑ اور بے اعتدالی دیکھ رہے ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان نے علم، حکمت اور دور اندیشی کے بغیر فطرت کے نظام میں مداخلت شروع کر دی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے ماحولیات کے تحفظ کی راہ میں بے شمار رکاوٹیں پیدا کر دی ہیں۔

اس لیے ہر دیندار اور ذمہ دار انسان پر لازم ہے کہ وہ فطرت اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرے اور اسے اسی حالت میں باقی رکھنے کی کوشش کرے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا فرمایا ہے۔

قرآنِ کریم کی درج ذیل آیت زمین میں فساد کے ظہور کی اصل وجہ بیان کرتی ہے، اور وہ ہے انسان کے اپنے اعمال اور گناہ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ [الروم: ٤١]."خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوا ان اعمال کے سبب جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائے ہیں، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید کہ وہ باز آ جائیں۔"

جب لوگوں کے افکار اور دل پاکیزہ نہیں رہتے تو ان کے اعمال کے نتائج بھی تباہ کن ہوتے ہیں اور ان کے انجام نہایت خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ وہ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے، اسی لیے اس نے ان کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے تاکہ وہ اپنی غفلت سے بیدار ہوں، راہِ راست کی طرف لوٹ آئیں اور اپنی اصلاح کر لیں۔ اسی حقیقت کی طرف آیت کے آخر میں اشارہ فرمایا:﴿لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾"شاید کہ وہ لوٹ آئیں۔"

بہت سی احادیثِ نبویہ بھی اس کائنات میں انسان کی ذمہ داری کو واضح کرتی ہیں۔ ان میں ایک مشہور حدیث  عبد اللہ بن عمر کی ہے جس کا ایک جزء یہ ہےفَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»"تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔"(بخاری /2554, مسلم 1829, أبو داؤد /2928, ترمذی/1705  و احمد/5167)

یہ حدیث جوامع الکلم میں سے ہےجس نے مختصر الفاظ میں نہایت وسیع معانی کو  اپنے اندر سمو لیا ہے۔ یہ حدیث انسان پر پہلے بیان کردہ ذمہ داریوں کے علاوہ  کائنات کی سلامتی، اس کے امن اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری بھی عائد کرتی ہے۔

جو لوگ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ نعمتوں کو تباہ کرتے، انہیں برباد کرتے اور ان کے فطری نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں "مفسدین" یعنی فساد پھیلانے والے قرار دیتا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:﴿وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ﴾ [البقرة: ٢٠٥]."اور جب وہ واپس ہوتا  ہے تو زمین میں  فساد پھیلانے کی اور کھیتی و نسل کی بربادی کی کوشش میں لگا رہتا ہے، حالانکہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔"

اس آیت میں حرث سے مراد کھیتی اور نباتات ہیں، جبکہ نسل سے مراد حیوانات ہیں۔  اور وہ دونوں یعنی عالمِ نباتات اور عالمِ حیوانات اسلام میں   انسان کے لیے اللہ کی بڑی نعمتیں مانی جاتی ہیں ۔ جو شخص ان میں سے کسی ایک کو بھی بلاوجہ تباہ کرتا ہے، وہ درحقیقت اللہ کی نعمت کی ناشکری کرتا ہے اور پوری انسانیت کو نقصان پہنچاتا ہے۔( حمایۃ البیئۃ فی الإسلام, الشیخ محمد صادق محمد یوسف رحمہ اللہ )

معلوم ہوا کہ  ماحولیات کی حفاظت، اس کی پاکیزگی کو برقرار رکھنا، اور ہر اس عمل سے اجتناب کرنا جو اس کے بگاڑ، آلودگی یا تباہی کا سبب بنے، اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے؛ کیونکہ اس میں انسانوں اور دیگر مخلوقات کی بھلائی، صحت اور بقا مضمر ہے۔

اس لیے  انسان پر لازم ہے کہ وہ ماحولیات کو اسی طرح پاک، صاف اور محفوظ رکھے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا فرمایا ہے، اور اس کی طرف سے کوئی ایسا عمل صادر نہ ہو جو ماحولیات میں بگاڑ، اس کے نظام میں خلل یا اس کے مختلف اجزاء کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے۔(کتاب الفقہ المیسر, 13/135) 

یہی سبب ہے کہ اسلام نے ماحولیات کی حفاظت کا بھرپور اہتمام کیا ہے اور اس کے ہر پہلو کا مکمل خیال رکھا ہے ۔ اس مقصد کے لیے ایک طرف ہر اس چیز سے منع کیا ہے جو ماحولیات کو نقصان پہنچاتی ہو، اور دوسری طرف ان امور کا حکم دیا ہے جو اس کی حفاظت اور بہتری کا ذریعہ بنتے ہیں۔

چنانچہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے اللہ تعالیٰ نے جن امور سے منع فرمایا ہے، ان میں سرفہرست زمین میں فساد پھیلانا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا﴾" (اعراف/56) اور زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد برپا نہ کرو۔" ایک دوسری آیت میں ہے:﴿وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾" (اعراف /85)اور زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد برپا نہ کرو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو۔"(

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کھیتی اور نسل کی تباہی سے بھی منع فرمایا ہے اور ایسا کرنے والوں کو مفسدین قرار دیا ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا  ہے۔

اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی  روایت  میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایالا ضرر ولا ضرار»"نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ بدلے میں نقصان پہنچاؤ۔"(ابن ماجہ/2341, احمد /2865 , علامہ البانی نے اس حدیث کو تعلیقات رضیہ2/476  میں مختلف اسناد کی وجہ سے قوی قرار دیا ہے ) اس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کو ابتداءً نقصان پہنچانا جائز نہیں، اور نہ ہی نقصان کے جواب میں نقصان پہنچانا درست ہے۔(الموقع: اسلام ویب, الفتوى, تعالیم الإسلام اسبق دعوۃ للحفاظ على البیئۃ, 16689, سنیچر, 18/جمادى الأولى 1423ھ/27-7-2002)

ان آیاتِ کریمہ و حدیث  سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام انسان کو ماحولیات کی حفاظت، اس کی پاکیزگی اور اس کے توازن کو برقرار رکھنے کی تعلیم دیتا ہے، اور ہر اس عمل سے روکتا ہے جو زمین، کھیتی، حیوانات، نباتات یا انسانی زندگی کے لیے نقصان دہ اور فساد کا سبب بنے۔ چنانچہ ماحولیات کا تحفظ محض ایک سماجی یا انسانی ضرورت ہی نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کا بھی ایک اہم تقاضا ہے۔(کتاب الفقہ المیسر, 13/135) 

ماحولیات کے تحفظ کا مسئلہ  :

آج ماحولیاتی آلودگی ایک خطرناک مسئلہ اور پوری دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔بلکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماحولیات کے تحفظ کا مسئلہ  موجودہ دور کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے،  اور اپنے مضر نتائج اور انسانیت کے لیے تباہ کن اثرات کے اعتبار سے یہ مسئلہ جوہری ہتھیاروں کے خطرے سے کسی طرح کم نہیں۔

بلا شبہ ٹیکنالوجی کے میدان میں حیرت انگیز ترقی، توانائی کے نئے برقی ذرائع کی دریافت، مختلف دھاتوں اور کیمیائی مادوں کا ظہور، اور فطرت کے قوانین میں انسان کی بے سوچے سمجھے مداخلت نے ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے بے شمار پیچیدگیاں اور مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

یقیناً یہ ان مسائل میں سے ہے جو دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں اور ان کے علماء کے لیے باعثِ تشویش ہیں، اور وہ اس کے حل کے لیے قرآنِ کریم کی آیات اور اسلامی تعلیمات کی طرف رجوع کرتے ہیں۔۔( حمایۃ البیئۃ فی الإسلام, الشیخ محمد صادق محمد یوسف رحمہ اللہ )

چنانچہ قرآنِ کریم میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً دو سو سے زائدآیات کسی نہ کسی انداز میں ماحولیات اور کائنات کے مختلف مظاہر سے متعلق ہیں۔ ان آیات میں زمین، پانی، ہوا، نباتات، حیوانات، پہاڑ، سمندر اور کائنات کی بے شمار نشانیوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔اورجیسا کہ اس سے پہلے واضح کیا جا چکا ہے کہ  اسلام نے ماحولیات کی حفاظت کا بھرپور اہتمام کیا ہے۔  اس مقصد کے لیے ایک طرف ہر اس چیز سے منع کیا ہے جو ماحولیات کو نقصان پہنچاتی ہو، اور دوسری طرف ان امور کا حکم دیا ہے جو اس کی حفاظت اور بہتری کا ذریعہ بنتے ہیں۔لہذا ماحولیات کے تحفظ کے لیے اللہ تعالیٰ نے جن امور سے منع فرمایا ہے، ان میں سرفہرست زمین میں فساد پھیلانا ہے۔ اسی طرح  کھیتی اور نسل کی تباہی سے بھی منع فرمایا ہے اور ایسا کرنے والوں کو فسادی قرار دیا  ہے۔

 اب آئیے دیکھتے ہیں کہ  حیوانات, نباتات اور پانی وغیرہ  کی حفاظت سے متعلق اسلام کی تعلیمات کیا ہیں ۔

اسلام اور عالمِ حیوانات کا تحفظ:

اسلام جانوروں کے تحفظ کا حکم دیتا ہے , خواہ  وہ کھائے جانے والے جانور ہوں یا نہ کھائے جانے والے , ااور وہ ہمیشہ اہلِ ایمان کو جانوروں کے ساتھ نرمی، شفقت اور رحم کا برتاؤ کرنے اور انہیں نقصان نہ پہنچانے کی  تعلیم دیتا ہے اور ان پر تشدد کرنے والوں کو سزا دیتا ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں انسان کے گرد و پیش موجود تمام مخلوقات کے ساتھ اس کے تعلق اور طرزِ عمل کی وضاحت فرمائی ہے، جن میں جانور بھی شامل ہیں۔

قرآنِ کریم میں بہت سی آیات ایسی ہیں جو عالمِ حیوانات کی تخلیق کے مقاصد کو بیان کرتی ہیں، انسان کو اس دنیا کے مطالعے اور اس کے تحفظ کی دعوت دیتی ہیں، اسے یہ سکھاتی ہیں کہ ان جانوروں سے کس طرح فائدہ اٹھایا جائے اور ان کی پرورش کیسے کی جائے۔ اسی طرح یہ آیات انسان کو ان مخلوقات میں غور و فکر کرنے، ان کی بناوٹ اور ان کے خالق کی عظیم قدرت پر تدبر کرنے کی دعوت دیتی ہیں، خواہ وہ مخلوقات ہمارے نزدیک کتنی ہی چھوٹی  کیوں نہ ہو اور ان کی اہمیت ہماری محدود نظر میں نہ ہو ۔

قرآنِ کریم کی متعدد سورتوں کے نام جانوروں کے نام پر رکھے گئے ہیں، جیسے سورۃ البقرۃ، سورۃ الأنعام، سورۃ النمل، سورۃ النحل اور سورۃ الفیل۔ یہ بھی عالمِ حیوانات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

قرآنِ مجید اس حقیقت پر بھی زور دیتا ہے کہ تمام جانور  اپنی اپنی مستقل جماعتیں اور امتیں ہیں، جیسے انسان ایک امت ہے۔ ارشاد ربانی ہے :﴿وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ﴾ "زمین میں چلنے والا کوئی جاندار اور اپنے پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں مگر وہ تمہاری ہی طرح کی امتیں ہیں۔[الأنعام: ٣٨ ].

یہ قرآنی بیان بذاتِ خود انسان کو ان مخلوقات پر رحم کرنے اور ان کے حقوق کا خیال رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔( حمایۃ البیئۃ فی الإسلام, الشیخ محمد صادق محمد یوسف رحمہ اللہ )

حضرت عبداللہ بن مغفلؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا كُلِّهَا»."اگر کتے بھی دوسری امتوں کی طرح ایک امت نہ ہوتے تو میں ان سب کو قتل کرنے کا حکم دے دیتا۔"(سنن ترمذی /1489 الفاظ انہیں کے ہیں ، سنن ابی داود/4845, نسائی 4280, ابن ماجہ /3205, احمد /16788)

اسی طرح حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قَرَصَتْ نَمْلَةٌ نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَحْرَقْتَ أُمَّةً مِنَ الأُمَمِ تُسَبِّحُ»."ایک نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کے پورے  گاؤں کو جلانے کا حکم دے دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی: ایک چیونٹی نے تمہیں کاٹا تھا اور تم نے ایک ایسی امت کو جلا دیا جو اللہ کی تسبیح کرتی تھی!"(( بخاری /3019 و مسلم 2241)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اسلام جانوروں کی اجتماعی زندگی اور ان کے وجود کا بھی احترام کرتا ہے۔

قرآنِ کریم کئی مقامات پر اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ جانور کیوں پیدا کیے گئے؟

مثلا فرمان باری تعالى ہے: ﴿وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً نُسْقِيكُمْ مِمَّا فِي بُطُونِهَا وَلَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ كَثِيرَةٌ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ  وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ﴾" (المؤمنون: 21-22)اور بے شک تمہارے لیے چوپایوں میں بڑی عبرت ہے، ہم تمہیں ان کے پیٹوں میں موجود چیزوں میں سےایک چیز (دودھ) پلاتے ہیں، اور تمہارے لیے ان میں بہت سے فائدے ہیں، اور تم ان میں سے کھاتے بھی ہو، اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو۔"

اور ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:﴿وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ﴾ (النحل: 5) "اور اس نے تمہارے لیے چوپائے پیدا کیے، ان میں تمہارے لیے گرمی کا سامان اور دیگر فوائد ہیں، اور انہی میں سے بعض کو  تم کھاتے ہو۔"

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کو انسان کے فائدے کے لیے پیدا کیا گیا ہے تاکہ وہ ان سے خوراک، مشروبات، لباس، سواری اور دیگر ضروریات حاصل کرے۔ لہٰذا انسان پر لازم ہے کہ ان نعمتوں کا شکر ادا کرے اور ان کی مناسب  حفاظت کرے۔

اور شکر ادا کرنے کی دو صورتیں ہیں:

1.       نعمت عطا کرنے والے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنا۔

2.       اللہ تعالیٰ کی ہدایات و احکام  کے مطابق ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانا اور ان کا غلط استعمال نہ کرنا۔

اسلام پوری قوت کے ساتھ اس بات پر زور دیتا ہے کہ جانوروں کو کسی قسم کی اذیت یا نقصان نہ پہنچایا جائے۔

حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک ایسے گدھے کے پاس سے گزرے جس کے چہرے پر داغ لگایا گیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: «لَعَنَ اللهُ الَّذِي وَسَمَهُ»."اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت فرمائے جس نے اس کے چہرے کو داغا ہے۔(مسلم /2117, ابن حبان/5628, ابوداؤد/2564و ترمذی /1710)

حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ  فِي سَفَرٍ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ، فَرَأَيْنَا حُمَّرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ، فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا، فَجَاءَتِ الْحُمَّرَةُ فَجَعَلَتْ تُفرِّشُ، فَجَاءَ النَّبِيُّ   فَقَالَ: «مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا؟ رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا».(أبو داؤد و صحیح أبو داؤد /5268 و احمد /3835)

ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ قضاء حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ اسی دوران ہم نے ایک پرندہ دیکھا جس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے۔ ہم نے اس کے بچے پکڑ لیے۔ وہ پرندہ بے قرار ہو کر اپنے پروں کو پھڑپھڑانے لگا۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور فرمایا:"اس پرندے کو اس کے بچوں کے ذریعے کس نے اذیت پہنچائی ہے؟ اس کے بچے اسے واپس لوٹا دو۔

عن عبد اللہ بن جعفر قال: أردَفَني رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ خَلفَهُ ذاتَ يومٍ، فأسرَّ إليَّ حَديثًا لا أحدِّثُ بِهِ أحَدًا من النَّاسِ، وَكانَ أحبُّ ما استَترَ بِهِ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ لحاجَتِهِ هَدفًا، أو حائِشَ نَخلٍ، قالَ: فدخلَ حائطًا لرَجُلٍ مِن الأنصارِ فإذا جَملٌ، فلَمَّا رأى النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ حنَّ وذرِفَت عيناهُ، فأتاهُ النَّبيُّ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ فمَسحَ ذِفراهُ فسَكَتَ، فقالَ: مَن ربُّ هذا الجَمَلِ، لمن هذا الجمَلُ؟ فَجاءَ فتًى منَ الأنصارِ فَقالَ: لي يا رسولَ اللَّهِ فَقالَ: أفلا تتَّقي اللَّهَ في هذِهِ البَهيمةِ الَّتي ملَّكَكَ اللَّهُ إيَّاها؟ فإنَّهُ شَكا إليَّ أنَّكَ تُجيعُهُ وتُدئبُهُ۔(أبو داؤد و صحیح أبو داؤد /2549 , الفاظ أبو داؤد کے ہیں, احمد/1745)

حضرت عبداللہ بن جعفرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا اور مجھ سے ایک ایسی بات رازدارانہ انداز میں فرمائی جسے میں لوگوں میں سے کسی سے بیان نہیں کرتا۔ اور رسول اللہ ﷺ جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو آپ کے لیے سب سے پسندیدہ آڑ کوئی بلند جگہ یا کھجوروں کا گھنا جھنڈ ہوتا تھا۔

راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ ایک انصاری شخص کے باغ میں داخل ہوئے۔ وہاں ایک اونٹ تھا۔ جب اس نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو وہ فریاد و آہ و زاری کرنے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

نبی کریم ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے، اس کے کوہان کے قریب اور گردن کے اطراف پر شفقت سے ہاتھ پھیرا تو وہ پرسکون ہو گیا۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا:

"اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ یہ اونٹ کس کا ہے؟"

انصار کا ایک نوجوان حاضر ہوا اور عرض کیا:"یا رسول اللہ! یہ میرا ہے۔"

آپ ﷺ نے فرمایا:"کیا تم اس جانور کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتے جس کا اللہ نے تمہیں مالک بنایا ہے؟ اس نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے ضرورت سے زیادہ مشقت لیتے ہو۔"

ان احادیث سے اسلام کی بے مثال رحمت اور حیوانات کے حقوق کی حفاظت کا اندازہ ہوتا ہے۔

اسلام بلاوجہ جانوروں کو قتل کرنا ایک بڑا گناہ قرار دیتا ہے اور اس سے سختی کے ساتھ منع کرتا ہے ؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں انسان کے فائدے کے لیے پیدا کیا ہے، اور بے مقصد ان کی ہلاکت دراصل اللہ کی نعمت کی ناشکری ہے۔

حضرت شریدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا عَبَثًا عَجَّ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ: يَا رَبِّ، إِنَّ فُلَانًا قَتَلَنِي عَبَثًا وَلَمْ يَقْتُلْنِي لِمَنْفَعَةٍ».(نسائی /4446 و احمد/19470, علامہ البانی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ضعیف الترغیب /680)

"جو شخص کسی چڑیا کو بلاوجہ قتل کرے گا، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کرے گی اور کہے گی: اے میرے رب! فلاں شخص نے مجھے بے فائدہ قتل کر دیا، کسی جائز منفعت کے لیے نہیں۔

اسلام میں جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور نرمی صرف اس لیے نہیں کہ وہ انسان کے لیے مفید ہیں، بلکہ ان کے ساتھ رحم و شفقت ایک مستقل دینی اور اخلاقی فریضہ ہے اور مسلمانوں پر اس کو لازم قرار دیا گیا ہے ، خواہ ان سے کوئی ظاہری فائدہ حاصل نہ ہو۔

ایک مسلمان کی جانوروں کے ساتھ رحمت و  شفقت کو مذہب میں ایک اصول کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو اس کے جنت میں داخلے کا سبب بن سکتا ہے۔ متعدد احادیث اس معنی کی تائید اور تقویت کرتی ہیں جن میں سے ایک حدیث یہ ہے:

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «بَيْنمَا رَجُلٌ يَمْشِي بطريق فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَنَزَلَ بِئْرًا فَشَرِبَ مِنْهَا، ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا هُوَ بِكَلْبٍ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ: لَقَدْ بَلَغَ هَذَا مِثْلُ الَّذِي بَلَغَ بِي، فَمَلأَ خُفَّهُ ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ ثُمَّ رَقِيَ فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا؟!»، قَالَ: «فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ». (بخاری /6009 و مسلم /2244)"( ایک شخص راستے میں جا رہا تھا۔ اسے شدید پیاس لگی۔ وہ ایک کنویں میں اترا، پانی پیا اور باہر نکلا۔ اس نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس کے مارے ہانپ رہا ہے اور مٹی چاٹ رہا ہے۔ اس شخص نے کہا: اس کتے کو بھی وہی پیاس لاحق ہے جو مجھے تھی۔ چنانچہ وہ دوبارہ کنویں میں اترا، اپنا موزہ پانی سے بھرا، اسے اپنے منہ میں پکڑ کر اوپر آیا اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو پسند فرمایا اور اسے بخش دیا۔"

صحابہؓ نے عرض کیا:"اے اللہ کے رسول! کیا جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے میں بھی ہمارے لیے اجر ہے؟"آپ ﷺ نے فرمایا:"ہر جاندار کے ساتھ بھلائی کرنے میں اجر ہے۔

اس کے برعکس اگر کوئی شخص کسی جانور پر ظلم کرے اور اسے اذیت پہنچائے تو وہ آخرت میں  اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مستحق بن سکتا ہے۔

 حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «دَخَلَت امْرَأَةٌ النَّارَ مِنْ جَرَّاءِ هِرَّةٍ لَهَا - أَوْ هِرٍّ - رَبَطَتْهَا فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا، وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تُرَمْرِمُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ هَزْلًا»(بخاری /3318 و مسلم 2619 )."ایک عورت ایک بلی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی۔ اس نے اسے باندھ رکھا تھا، نہ اسے کھانا دیتی تھی اور نہ آزاد کرتی تھی کہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر اپنی جان بچا لے، یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی۔"

اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لعن الله من اتخذ شيئاً فيه الروح غرضاًيعني: لمجرد تعلم الرماية أو اللهو."اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو کسی جاندار کو نشانہ بنائے۔(صحیح بخاری /5515 و صحیح مسلم  /1958)یعنی محض تیر اندازی کی مشق، تفریح یا کھیل کے لیے کسی جاندار کو ہدف بنانا ناجائز ہے۔

یہ تمام نصوص اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اسلام نے حیوانات کے حقوق کی حفاظت، ان پر رحم، ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کے تحفظ کو دینی ذمہ داری قرار دیا ہے۔( حمایۃ البیئۃ فی الإسلام, الشیخ محمد صادق محمد یوسف رحمہ اللہ )

 اسلام اور عالمِ نباتات کا تحفظ:

ہم گزشتہ صفحات میں عالمِ حیوانات کے بارے میں اسلام کے موقف کا ذکر کر چکے ہیں، اب عالمِ نباتات کے بارے میں اس کی تعلیمات پر گفتگو کرتے ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی رحمت حیوانات کو شامل ہے، اسی طرح نباتات کو  بھی شامل ہے ۔

اور وہ  اللہ تعالیٰ کی ان عظیم نعمتوں میں سے ہیں جو اس نے انسان کے لیے پیدا فرمائی ہیں۔ اگر نباتات نہ ہوتیں تو روئے زمین پر زندگی کا وجود ہی ممکن نہ ہوتا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بکثرت  ان کا ذکر فرمایا ہے اور واضح کیا ہے کہ انہیں انسان اور اس کے جانوروں کی زندگی کے بقا اور استمرار کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔جیسا کہ ارشاد الہی ہے:﴿فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ إِلَى طَعَامِهِ  أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا  وَعِنَبًا وَقَضْبًا وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا  وَحَدَائِقَ غُلْبًا  وَفَاكِهَةً وَأَبًّا  مَتَاعًا لَكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ﴾(عبس: 24-32)

"پس انسان کو چاہیے کہ وہ  اپنے کھانے کے بارے  میں  غور کرے۔ ہم نے خوب پانی برسایا، پھر زمین کو اچھی طرح پھاڑا، پھر اس میں اناج اگایا، انگور اور ترکاریاں پیدا کیں، زیتون اور کھجوریں اُگائیں، گھنے باغات، طرح طرح کے پھل اور چارہ پیدا کیا، جو تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے لیے سامانِ زندگی ہے۔"

ان آیات میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو یاد دلاتا ہے کہ جس طرح اس نے  جانوروں کو انسان کے فائدے کے لیے پیدا کیا ، اسی طرح نباتات کو بھی انسان اور اس کے جانوروں کی منفعت کے لیے پیدا فرمایا ۔ آیت میں استعمال ہونے والا لفظ "متاع" ہر قسم کے فائدے اور نفع کو شامل ہے۔

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمِ نباتات کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی ضروریات، منافع  اور فوائد کے لیے پیدا فرمایا ہے۔

یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اسلام کی تعلیمات انسان کو اس چیز کو تباہ کرنے  یا اس کو نقصان پہنچانے یا اس میں اسراف کرنے یعنی  فضول اور بے مقصد برباد کرنے سے  منع کرتی ہیں جو اس کے اور اس کی قوم کے لیے فائدہ مند ہوں ۔

اللہ تعالیٰ سورۂ ق میں فرماتا ہے:﴿وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكًا فَأَنْبَتْنَا بِهِ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِ  وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ﴾"(ق: 9-10)اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے باغات اور کٹائی کے قابل اناج اگایا، اور بلند و بالا کھجور کے درخت پیدا کیے جن کے خوشے تہہ بہ تہہ لگے ہوتے ہیں۔"

یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ نباتات انسان کی غذا اور روزی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ اس لیے انسان پر لازم ہے کہ ان نعمتوں کا شکر ادا کرے۔

اور جیسا کہ اس سے پہلے  واضح کیا گیا  کہ  شکر دو طریقوں سے ادا ہوتا ہے:

1.       نعمت عطا کرنے والے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا اعتراف۔

2.       ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا۔

اور عالمِ نباتات کے حوالے سے اللہ کی رضا حاصل کرنے کا طریقہ یہ  ہے کہ انسان اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، اسے تباہ نہ کرے اور اس کی حفاظت کرے۔

ارشاد خداوندی ہے:﴿الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا وَسَلَكَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًا وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْ نَبَاتٍ شَتَّى  كُلُوا وَارْعَوْا أَنْعَامَكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِأُولِي النُّهَى﴾(طٰہٰ: 53-54)

"وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا، اس میں تمہارے لیے راستے بنائے اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے مختلف قسم کے پودے اگائے۔ تم خود بھی کھاؤ اور اپنے جانوروں کو بھی چراؤ، بے شک اس میں عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔"

یعنی  صرف اللہ تعالیٰ ہی نے زمین کو زندگی کے قابل بنایا اور آسمان سے پانی برسا کر اس سے مختلف اقسام کے نباتات پیدا فرمائے۔( حمایۃ البیئۃ فی الإسلام, الشیخ محمد صادق رحمہ اللہ )

اسی لیے ماحولیات کی تحفظ کے لیے  اسلام زراعت , درخت لگانےاور شجر کاری کی بڑی ترغیب دیتا ہے اور اس پر اجر و ثواب کی بشارت دیتا ہے۔ کئی احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں ۔

حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ، إِلاَّ كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ»( بخاری /2320 و مسلم 1553). أي: أَنّ أجْر الفلاح مستمرّ حتى بعد موته ما دام يُنتفع من ذلك الغِرَاس والزّرْع، وما تولّد منه إلى يوم القيامة."جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا کوئی کھیتی بوتا ہے، پھر اس میں سے کوئی پرندہ، انسان یا جانور کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ شمار ہوتا ہے۔"

اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کاشت کار اور درخت لگانے والے کا اجر اس کی وفات کے بعد بھی جاری رہتا ہے، جب تک اس درخت یا کھیتی سے فائدہ اٹھایا جاتا رہے، بلکہ اس سے پیدا ہونے والے فوائد بھی اس کے لیے صدقۂ جاریہ بن جاتے ہیں۔

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «سَبْعٌ تَجْرِي لِلْعَبْدِ بَعْدَ مَوْتِهِ، وَهُوَ فِي قَبْرِهِ: مَنْ عَلَّمَ عِلْمًا، أَوْ أَجْرَى نَهْرًا، أَوْ حَفَرَ بِئْرًا، أَوْ غَرَسَ نَخْلًا، أَوْ بَنَي مَسْجِدًا، أَوْ وَرَّثَ مُصْحَفًا، أَوْ تَرَكَ وَلَدًا صَالِحًا يَسْتَغْفِرُ لَهُ بَعْدَ مَوْتِهِ».(صحیح الترغیب /73 , بزار /7289 و بیہقی در شعب ایمان /3449  , الفاظ بیہقی کے ہیں )

"سات اعمال ایسے ہیں جن کا ثواب بندے کو اس کی وفات کے بعد بھی قبر میں پہنچتا رہتا ہے: علم سکھانا، نہر جاری کرنا، کنواں کھدوانا، کھجور کا درخت لگانا، مسجد تعمیر کرنا، قرآنِ کریم کا نسخہ چھوڑ جانا، یا ایسی نیک اولاد چھوڑنا جو اس کے لیے دعا اور استغفار کرے۔"

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے نہریں جاری کرنے، کنویں کھدوانے اور درخت لگانے کو مسجد بنانے، علم پھیلانے اور قرآن کی اشاعت جیسے عظیم اعمال کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کتنی وسیع ہے کہ اس نے ان تمام نفع بخش کاموں کا اجر انسان کی وفات کے بعد بھی جاری رکھا ہے۔( حمایۃ البیئۃ فی الإسلام, الشیخ محمد صادق رحمہ اللہ )

اسلام نے ماحولیات کے ہر پہلو کا خیال رکھا ہے۔ زرعی میدان میں تو یہاں تک ترغیب دی گئی ہے کہ اگر قیامت قائم ہونے لگے یعنی اس کی نشانیاں ظاہر ہوجائیں  اور انسان کے ہاتھ میں پودا ہو تو اسے بھی ضائع نہ کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان  قامت الساعة، وبيد أحدكم فسيلة، فإن استطاع أن لا يقوم حتى يغرسها فليفعل:"اگر قیامت قائم ہو جائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا ایک پودا ہو، اور وہ قیامت برپا ہونے سے پہلے اسے لگا سکتا ہو تو اسے لگا دے۔"( بخاری در ادب مفرد /479 و احمد /12981  و بزار /7408 )

سابقہ حدیث جو پودے لگانے کی فضیلت کے بارے میں بتاتی ہے،  وہ بھی اسی پر دلالت کرتی ہے کہ  اسلام زمین کو آباد کرنے اور سرسبز بنانے کی تعلیم دیتا ہے۔

اسی طرح اسلام نے بنجر اور غیر آباد زمینوں کو آباد کرنے کی بھی ترغیب دی ہے اور اس پر اخروی اجر مقرر کیا ہے تاکہ لوگ اس کام کی طرف راغب ہوں۔ حضرت جابرؓ  بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: من أحيا أرضاً ميتة فله أجر، وما أكلت العافية (كل طالب رزق آدمياً كان أو غيره) منها فهو له صدقة۔(صحیح ابن حبان /5202,  مسنداحمد/14500, دارمی/2607, نسائی در سنن کبرى/5757)

"جو شخص کسی مردہ (بنجر) زمین کو آباد کرے، اس کے لیے اجر ہے، اور اس زمین سے جو بھی جاندار رزق حاصل کرے، وہ اس کے لیے صدقہ شمار ہوگا۔"( اسلام ویب, الفتوى, تعالیم الإسلام اسبق دعوۃ للحفاظ على البیئۃ, 16689)

اسلام لوگوں کو زراعت اور کاشت کاری کی ترغیب محض اس لیے نہیں دیتا کہ اس سے صرف کاشت کار یا کسان کو فائدہ پہنچتا ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ اس کے فوائد پورے معاشرے تک پہنچتے ہیں۔ چنانچہ اس سے انسانوں، جانوروں اور دیگر مخلوقات سبھی کو نفع حاصل ہوتا ہے، اور یوں ایک فرد کا عمل اجتماعی بھلائی اور عام منفعت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

امام طیبی نے محی السنۃ کے حوالے سے نقل کیا ہے : أن رجلًا مرّ بأبي الدرداء وهو يغرس جوزة فقال: أتغرس هذه وأنت شيخ كبير، وهذه لا تطعم إلا في كذا وكذا عامًا؟، فقال: ما عليّ أن يكون لي أجرها ويأكل منها غيري؟  یعنی  ایک شخص نے حضرت ابوالدرداءؓ کو ایک اخروٹ کا پودا لگاتے دیکھا اور کہا:"آپ تو بوڑھے ہو چکے ہیں، جبکہ یہ درخت کئی سال بعد پھل دے گا!"

حضرت ابوالدرداءؓ نے جواب دیا:"مجھے اس بات کی کیا پروا ہے؟ مجھے تو اس کا اجر مل جائے گا اور اس کے پھل دوسرے لوگ کھائیں گے۔"(موقع المکتبۃ الشاملۃ:  كتاب الأعمال الصالحات التي يجري للإنسان أجرها وثوابها بعد الممات, أحمد بن محمد الحجاجي, ص 35)

یہ اسلامی فکر کی عظمت ہے کہ انسان صرف اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی کام کرتا ہے۔( حمایۃ البیئۃ فی الإسلام, الشیخ محمد صادق محمد یوسف رحمہ اللہ )

اسلام اور راستوں کا تحفظ:

اسلام نے راستوں اور گزرگاہوں کی صفائی ستھرائی اور انہیں ہر قسم کی تکلیف دہ چیز سے محفوظ رکھنے کا بھی حکم دیا ہے، بلکہ اسے ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الإيمان بضع وسبعون شعبة، فأفضلها قول لا إله إلا الله، وأدناها إماطة الأذى عن الطريق، والحياء شعبة من الإيمان(صحیح بخاری /9, صحیح مسلم /35, أبو داؤد /4676 و ابن ماجہ /57)

"ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں۔ ان میں سب سے اعلیٰ شاخ 'لا إله إلا الله' کہنا ہے اور سب سے ادنیٰ شاخ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے، اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔

ان نصوص سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے ماحولیات کے تحفظ کو محض ایک سماجی یا تمدنی مسئلہ قرار نہیں دیا، بلکہ اسے دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری کے طور پر پیش کیا ہے۔ زمین کو آباد کرنا، درخت لگانا، جانوروں پر رحم کرنا، راستوں کو صاف رکھنا اور ہر قسم کے فساد و آلودگی سے بچنا اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔

حضرت معقل بن یسارؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: من أماط أذى من طريق المسلمين، كتبت له حسنة، ومن تقبلت منه حسنة دخل الجنة.(بخاری: ادب مفرد/593, طبرانی 20/217 و صحیح الجامع/6098)  جس شخص نے مسلمانوں کے راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹا دی، اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، اور جس کی ایک نیکی قبول کر لی گئی، وہ جنت میں داخل ہوگا۔"

اسی طرح حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بينما رجل يمشي في الطريق إذ وجد غصن شوك، فأخره فشكر الله له فغفر له.(بخاری /2472, مسلم /1914, صحیح ابن حبان/536) ایک شخص راستے میں چل رہا تھا کہ اسے کانٹوں والی ایک شاخ ملی۔ اس نے اسے راستے سے ہٹا دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کو پسند فرمایا اور اسے بخش دیا۔"( ( اسلام ویب, الفتوى, تعالیم الإسلام اسبق دعوۃ للحفاظ على البیئۃ, 16689)

اسلام اور عوامی مقامات کا تحفظ:

اسلام نے پارکوں اور عوامی مقامات کی حفاظت کا بھی حکم دیا ہے اور انہیں گندا کرنے والوں کے لیے سخت تنبیہ فرمائی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اتقوا اللاعنين، قالوا: وما اللاعنان؟ قال: الذي يتخلى في طريق الناس أو في ظلهم  ( صحیح مسلم /269, صحیح أبو داؤد/25, احمد/8853 و ابن حبان 1990) "ان دو کاموں سے بچو جو لوگوں کی لعنت کا سبب بنتے ہیں۔"

صحابہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ دو کام کون سے ہیں؟

آپ ﷺ نے فرمایا:"لوگوں کے راستے میں یا ان کے سایہ دار مقامات میں قضائے حاجت کرنا ۔( اسلام ویب, الفتوى, تعالیم الإسلام اسبق دعوۃ للحفاظ على البیئۃ, 16689)

اسلام اور پانی کا تحفظ:

قرآنِ کریم اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ پانی زندگی کے اہم ترین عناصر میں سے ایک ہے ۔ اور آج ہم اس کے بغیر زندگی کے جاری رہنے کا تصور  بھی نہیں کر سکتے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ﴾ (انبیاء 30)"اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔اور فرمایا:﴿وَاللهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ﴾ (نور/45)"اور اللہ نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔

یعنی تمام جاندار مخلوقات کی اصل اور ان کی ساخت و ترکیب پانی ہی سے ہے۔ ماہرین کے مطابق پانی انسانی جسم کا ایک بنیادی جزو ہے اور جسم کا تقریباً 76 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہی صورتِ حال دیگر تمام جانداروں کی بھی ہے، اور پانی کے بغیر نباتات کے وجود کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

مثال کے طور پر ایک کلوگرام چینی تیار کرنے کے لیے تقریباً ایک ہزار لیٹر میٹھے پانی کی ضرورت پڑتی ہے، جبکہ ایک کلوگرام گندم پیدا کرنے کے لیے پندرہ سو لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔ اسی طرح دیگر صنعتی مصنوعات کی تیاری میں بھی پانی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک کلوگرام فولاد تیار کرنے کے لیے تقریباً چار سو لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسی وجہ سے اسلام کی نظر میں پانی اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک ہےجس  کے ضیاع، بے جا استعمال اور  اس کو آلودہ کرنے سے اسلام  سختی کے ساتھ روکتا ہے اور  پانی کے ذخائر اور آبی وسائل کے تحفظ کا حکم دیتا  ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" : لا يبولن أحدكم في الماء الدائم، الذي لا يجري، ثم يغتسل فيه (صحیح بخاری /239 و مسلم /282).تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں، جو بہتا نہ ہو، ہرگز پیشاب نہ کرے، پھر اسی میں غسل کرے۔

 اور پانی کے بارے میں سلفِ صالحین کا  اہتمام اس حد تک تھا کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں اس موضوع پر مستقل ابواب قائم کیے۔ چنانچہ بعض فقہاء نے "بہتے ہوئے دریا کے کنارے بھی پانی کے اسراف کی کراہت" کے عنوان سے ابواب باندھے ہیں۔

اس حکم کے ثبوت میں انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے اس عمل سے استدلال کیا ہے کہ کان النبی یغسل او کان یغتسل بالصاع الى خمسۃ امداد و یتوضا بالمد  آپ ﷺ ایک صاع سے پانچ مد پانی تک سے غسل فرما لیتے تھے اور صرف ایک مد پانی سے وضو کر لیتے تھے۔( راوی : انس بن مالک , صحیح بخاری /201 و مسلم /325)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام پانی جیسی عظیم نعمت کے استعمال میں اعتدال، کفایت شعاری اور غیر ضروری ضیاع سے اجتناب کی تعلیم دیتا ہے، خواہ پانی کی فراوانی ہی کیوں نہ ہو۔

اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت سعدؓ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ وضو کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"اے سعد! یہ کیسا اسراف ہے؟"

انہوں نے عرض کیا:"کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟"

آپ ﷺ نے فرمایا:"ہاں! اگرچہ تم بہتے ہوئے دریا کے کنارے ہی کیوں نہ ہو۔(مسند احمد 12/23, ابن ماجہ/425 و بیہقی : شعب الایمان /2788)

اور یہ بات معلوم ہے کہ وضو اور غسل ان اعمال میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے۔ جب اللہ رب العزت نے ان عبادات میں بھی اسراف کرنے سے منع فرمایا ہے، حالانکہ یہ خود فرائض ہیں، تو دیگر معاملات میں فضول خرچی اور بے جا استعمال سے منع کرنا بدرجۂ اولیٰ زیادہ واضح اور مؤکد ہے۔

یہی اسلامی تعلیمات ماحولیات کے تحفظ، قدرتی وسائل کی حفاظت اور آنے والی نسلوں کے حقوق کے احترام کی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

ان تمام تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام ماحولیات کے تحفظ، صفائی ستھرائی، حیوانات کی حفاظت، آبی وسائل کی نگہداشت اور انسانی مفادات کے تحفظ کے بارے میں نہایت جامع اور متوازن تعلیمات پیش کرتا ہے۔

لہٰذا اسلام ان انفرادی اور اجتماعی رویوں سے مکمل طور پر بیزار ہے جو بعض قومیں اختیار کرتی ہیں، مثلاً سمندروں کو جوہری فضلات اور تابکار مواد سے آلودہ کرنا، اشیائے خور و نوش کو محض قیمتیں برقرار رکھنے کے لیے تلف کر دینا، تفریح اور شکار کے نام پر درختوں اور جانوروں کو بے دریغ ہلاک کرنا، ماحولیات کے وسائل کو بے فائدہ کاموں میں ضائع کرنا، اور انسانی جانوں کے احترام کو پامال کرتے ہوئے ان پر ظلم و زیادتی کرنا۔

اسلام ان تمام اعمال کو فساد، اسراف اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری قرار دیتا ہے، جبکہ اس کی تعلیمات زمین کی آبادکاری، مخلوقِ خدا کی حفاظت، وسائل کے درست استعمال اور ہر قسم کے نقصان و فساد سے اجتناب پر مبنی ہیں۔( اسلام ویب, الفتوى, تعالیم الإسلام اسبق دعوۃ للحفاظ على البیئۃ, 16689)

 نوجوانوں کی ماحولیات کے تحفظ پر تربیت:

ماحولیات کی آلودگی کے اہم ترین اسباب میں سے ایک یہ ہے کہ لوگوں میں ماحول کے تحفظ سے متعلق مناسب تربیت اور شعور کی کمی پائی جاتی ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلام نے اس موضوع کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ قرآنِ کریم کی متعدد آیات اور رسول اللہ ﷺ کی بے شمار احادیث اس حقیقت پر شاہد ہیں۔

اسلام میں یہ مسئلہ اس قدر اہم اور حساس ہے کہ اسلامی ریاست کے لیے بھی اس سلسلے میں واضح ہدایات اور ذمہ داریاں مقرر کی گئی ہیں تاکہ ماحولیاتی آلودگی اور اس کے نقصانات کا تدارک کیا جا سکے۔

اس موقف پر بہت سے دلائل اور شواہد موجود ہیں، جن میں سے بعض کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ فقہی کتابوں میں بھی جانوروں کے مالکان کے فرائض و ذمہ داریوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ تاہم صرف ان تعلیمات کو پڑھ لینا کافی نہیں، بلکہ اصل مطلوب یہ ہے کہ انہیں عملی زندگی میں نافذ کیا جائے اور معاشرے میں رائج کیا جائے۔

ماحولیات کے تحفظ کے معاملے میں اسلام نے وہی منہج اختیار کیا ہے جو اس نے دیگر تمام معاملات میں اختیار کیا ہے، یعنی محض نظری ہدایات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان پر عمل درآمد اور عملی تطبیق کو ضروری قرار دیا ہے۔

اور یقیناً سب سے پہلے  اسلام میں اس مفہوم کو  عملی طور پر نافذ کیا گیا۔ یہاں تک کہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج جس چیز کو "حیوانات کی سرخ کتاب" (Red Book of Animals) یا جانوروں کے تحفظ کے ضوابط کہا جاتا ہے، اس کی بنیادی روح اسلامی تعلیمات میں پہلے سے موجود ہے۔

مثال کے طور پر اسلام نے بعض مخصوص اوقات اور مخصوص مقامات میں شکار کرنے، درختوں اور پودوں کو کاٹنے سے منع کیا ہے، تاکہ انسان اپنے گرد و پیش کے ماحول کے تحفظ اور اس کی اہمیت کا شعور حاصل کرے۔

چنانچہ اسلام نے حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے شخص پر خشکی کے جانوروں کا شکار حرام قرار دیا ہے، بلکہ اسے یہ بھی حکم دیا ہے کہ جب تک وہ حالتِ احرام میں رہے، کسی جاندار مخلوق کو ایذا نہ پہنچائے اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی کرے۔ اس طرح اسلام انسان کے دل میں تمام جانداروں کے احترام، رحمت اور ماحول کے تحفظ کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۖ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾(مائدہ/96) "تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے، جو تمہارے اور مسافروں کے لیے فائدے کی چیز ہے، لیکن جب تک تم احرام کی حالت میں رہو تم پر خشکی کا شکار حرام ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کے پاس تم سب جمع کیے جاؤ گے۔"

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جب کوئی شخص  حج یا عمرہ کا احرام باندھ لیتا ہے تو اس کے لیے خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا، شکار کرنے والوں کو ان کے جگہوں کی رہنمائی کرنا، یا جانوروں کو کسی بھی قسم کی اذیت پہنچانا جائز نہیں رہتا۔ یہاں تک کہ بعض فقہاء نے پرندوں کے انڈوں کو نقصان پہنچانے تک کو ممنوع قرار دیا ہے۔

حالتِ جنگ میں بھی ماحولیات کا تحفظ:

جنگ کو ایک ہنگامی صورت حال سمجھا جاتا ہے جو امن کے قوانین کے تحت نہیں چلتا ہے۔ اس میں قتل و غارت، تباہی اور اس طرح کی دوسری کارروائیاں شامل ہیں۔ لہٰذا، اسلام، جو امن و سلامتی  کا مذہب ہے، جنگ کی آگ بھڑکانے والے تمام راستوں کو بند کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور صرف ناگزیر ضرورت کے وقت دشمن سے قتال کی اجازت دیتا ہے، تاکہ جان و مال کی حفاظت ہو اور زمین میں فساد کو روکا جا سکے۔یہ ہر مسلمان کو اپنی انسانیت کو نہ کھونے اور جنگ کے دوران بربریت کے کاموں سے باز رہنے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔

اس سلسلے میں بے شمار ہدایات موجود ہیں۔ ان میں سے ایک نہایت اہم ہدایت حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وہ وصیت ہے جو انہوں نے شام کی طرف روانہ ہونے والے لشکر کے سپہ سالار حضرت یزید بن ابی سفیانؓ کو فرمائی۔ امام مالکؒ نے موطا میں روایت کیا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: «إِنِّي مُوصِيكَ بِعَشْرٍ: لَا تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً، وَلَا صَبِيًّا، وَلَا كَبِيرًا هَرِمًا، وَلَا تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا، وَلَا تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا، وَلَا تَعْقِرَنَّ شَاةً وَلَا بَعِيرًا إِلاَّ لِمَأْكُلَةٍ، وَلَا تَحْرِقَنَّ نَخْلًا، وَلَا تُفَرِّقَنَّهُ، وَلَا تَغْلُلْ، وَلَا تَجْبُنْ».

"میں تمہیں دس باتوں کی وصیت کرتا ہوں:

کسی عورت کو قتل نہ کرنا،کسی بچے کو قتل نہ کرنا،کسی بوڑھے اور ناتواں شخص کو قتل نہ کرنا،کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا،کسی آباد بستی کو تباہ نہ کرنا،کھانے کی ضرورت کے بغیر کسی بکری یا اونٹ کو ذبح نہ کرنا،کھجور کے درختوں کو نہ جلانا،انہیں برباد نہ کرنا،خیانت نہ کرنا،اور بزدلی کا مظاہرہ نہ کرنا۔"

غور کیجیے! ایک مومن کو ان نہایت نازک اور خطرناک حالات میں بھی ماحولیات کے تحفظ کا پابند بنایا گیا ہے، جب اس کا ایمان، جان اور مستقبل خطرات سے دوچار ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں بھی اسے بے مقصد جانوروں کو ہلاک کرنے، پھل دار درختوں کو کاٹنے اور نباتات کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

یہ تمام تعلیمات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اسلام ماحولیات کے تحفظ کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔ اسی لیے اسلام بزرگوں اور اہلِ علم پر یہ ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے کہ وہ ان اصولوں کو نئی نسلوں تک منتقل کریں، انہیں اس کی تعلیم دیں اور خود اس کی تعلیمات کے مطابق اپنے عمل کے ذریعے ان کے لیے بہترین نمونہ بنیں۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے متعلق ایک واقعہ اس سلسلے میں بہت سبق آموز ہے۔ ایک  روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ چند قریشی نوجوانوں کے پاس سے گزرے۔ انہوں نے ایک پرندے کو باندھ رکھا تھا اور اسے نشانہ بنا کر تیر چلا رہے تھے، اور پرندے کے مالک کے لیے یہ شرط مقرر کر رکھی تھی کہ جو تیر نشانے سے چوک جائے گا وہ اسے مل جائے گا۔

جب ان نوجوانوں نے حضرت ابن عمرؓ کو دیکھا تو منتشر ہو گئے۔ اس پر حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا:

"یہ کام کس نے کیا ہے؟ اللہ اس شخص پر لعنت فرمائے جس نے یہ کام کیا ہے۔ بے شک رسول اللہ ﷺ نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو کسی جاندار چیز کو نشانہ بازی کا ہدف بنائے۔(صحیح بخاری /5515 و صحیح مسلم  /1958)"

بہت سے شارحین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ ایسے مواقع پر نہایت سخت موقف اختیار کرتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جانوروں کو بلاوجہ تکلیف دینا اسلام کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔

خاتمہ:

آخر میں ہم یہ کہنا چاہتے ہیں  کہ ہر مسلمان کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ماحولیات کے تحفظ کے بارے میں اسلام کی جو ہدایات اور تعلیمات ہیں، ان پر ہر زمانے اور ہر جگہ عمل کرنا لازم ہے۔

اسی طرح ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنے دین کی تعلیمات سے اچھی طرح واقف ہو اور انہیں اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائے۔

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں اپنے تمام امور میں رشد و ہدایت، درست فہم اور صحیح عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور ماحولیات کے تحفظ جیسی اہم ذمہ داری کو بھی بہترین انداز میں ادا کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔

والحمد لله رب العلمين، والصلاة والسلام على رسوله الكريم، وعلى آله وأصحابه أجمعين.  

مصادر و مراجع :

·       قرآن کریم

·       صحیح البخاری از امام محمد بن اسماعیل البخاری۔

·       صحیح مسلم از امام ابو الحسین مسلم ابن الحجاج النسابوری۔

·       سنن ابی داؤد از امام سلیمان بن اشعث السجستانی

·       صحیح ابی داؤد  از علامہ البانی

·       سنن النسائی از امام احمد بن شعیب النسائی۔

·       سنن الترمذی از امام محمد بن عیسیٰ ابن سورۃ الترمذی۔

·       موطا مالک از امام مالک ابن انس الحمیری۔

·       مسند احمد از امام احمد بن محمد بن حنبل الشیبانی۔

·       سنن الدارمی

·       سنن بیہقی از امام احمد بن الحسین ابن علی البیہقی۔

·       شعب الایمان از بیہقی

·       صحیح ابن حبان

·       صحیح الترغیب علامہ البانی

·       ضعیف الترغیب از علامہ البانی

·       صحیح الجامع  از علامہ البانی

·       ادب مفرد از بخاری

·       مصنف عبد الرزاق

·       مسند بزار

·       موقع : المکتبۃ الشاملۃ,  کتاب الفقہ المیسر, عبد اللہ الطیار,

·       الموقع: الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین, حمایۃ البیئۃ فی الإسلام, الشیخ محمد صادق محمد یوسف رحمہ اللہ

·       الموقع: اسلام ویب, الفتوى, تعالیم الإسلام اسبق دعوۃ للحفاظ على البیئۃ, 16689, سنیچر, 18/جمادى الأولى 1423ھ/27-7-2002)

·       موقع المکتبۃ الشاملۃ:  كتاب الأعمال الصالحات التي يجري للإنسان أجرها وثوابها بعد الممات, أحمد بن محمد الحجاجي,

·       چیٹ جی پی ٹی                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                              ویکیپیڈیا: آزاد دائرۃ المعارف

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: