نبی و اصحاب نبی کا ایک اہم حق :صحابہ کرام کا ادب و احترام اور ان سے محبت کرنا

 


نبی و اصحاب نبی کا  ایک اہم حق :صحابہ کرام  کا ادب و احترام اور ان سے محبت کرنا

ڈاکٹر عبد المنان محمد شفیق مکی

Please visit: islahotaraqqi.com

ولاء و براء اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ و اصول ہے۔ ولاء سے مراد یہ ہے کہ تمام مسلمانوں سے ان کے ایمان کی بنا پر محبت کی جائے، ان کی مدد کی جائے، ان کی خیرخواہی کی جائے اور ان کی اعانت و حمایت کی جائے۔ جبکہ براء سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے دشمنوں، یعنی کافروں، مشرکوں اور منافقوں، سے بغض رکھا جائے، ان سے دشمنی رکھی جائے، ان سے دور رہا جائے، اور ان میں سے جنگجوؤں کے خلاف اپنی استطاعت کے مطابق جہاد کیا جائے۔ بلا شبہ اس میں اصحابِ نبی بدرجۂ اولیٰ داخل ہیں، اور اسلام میں ان کا ایک خاص مقام و مرتبہ اور مخصوص درجہ و فضیلت ہے۔ لہٰذا نبی کریم ﷺ اور اصحابِ نبی کا ہم پر حق ہے، اور ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ ان کے اس حق کو پہچانے اور اسے ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرے۔

پیارے نبی ﷺ  اور آپ کے أصحاب کا ایک نہایت اہم اور بنیادی حق یہ ہے کہ آپ ﷺ کے تمام اصحاب سے بلا امتیاز یکساں عقیدت و محبت رکھی جائے، ان کے ادب و احترام کو ہمیشہ ملحوظ رکھا جائے، ان کی عیب جوئی، طعنہ زنی اور برائی بیان نہ کی جائے، بلکہ ان کا دفاع کیا جائے، ان کے فضائل، محاسن اور مناقب بیان کیے جائیں، اور ان کے مابین پیش آنے والے تنازعات کے بارے میں زبان بند رکھی جائے، وغیرہ۔ اس کے متعدد وجوہات و اسباب ہیں، جن میں سے چند اہم کا تذکرہ یہاں کیا جا رہا ہے۔

اصحاب نبی سے  محبت کرنے  اور ادب و احترام  سے پیش آنے کے اسباب

اس کی ایک اہم وجہ و بڑا سبب یہ ہے کہ  صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا اسلام اور شریعتِ اسلام میں خاص مقام و مرتبہ اور مخصوص درجہ و فضیلت ہے۔  ان کے فضائل بے شماراور ان کے محاسن انگنت   ہیں , ان کی فضیلت کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ وہ انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے بعد دنیا میں اللہ کے سب سے بہترین بندے ہیں , ان سے محبت کرنا دین و  ایمان کا جزء ہے ۔ اللہ تعالى نے ان کو اپنے آخری نبیr کی صحبت کے لیے اختیار کیا , وہ ایسی پاکباز اور مقدس ہستیاں ہیں جو انتہائی خوف و دہشت کے ماحول میں سخت ترین آزمائشوں کے باوجود ایمان لائے اور آپ کی رفاقت و صحبت کا حق ادا کیا اور اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی, اپنی جان و مال, عزت و آبرو, گھر بار,  اعزہ و اقربا ءحتى کہ والدین تک سب کچھ قربان کردیا لیکن ایمان پر ثابت قدم رہے  ۔ وہ ہر خیر و بھلائی کے معاملے میں لوگوں سے سبقت لے جانے میں کوشاں رہتے تھے ، میدان جہاد و قتال ہو کہ میدان دعوت و ارشاد,اسلام کی خاطر خرچ و عطا  ہو یا پھر کثرت عبادت و نوافل وہ ہر میدان کے شہسوار تھے۔

 اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالى نے اصحاب نبی کو اپنے آخری پسندیدہ دین کا محافظ و مبلغ بنایا , انہوں نے ہی دین کو بعد کی نسلوں تک منتقل کیا ہے ۔ وہی  عین دین کی بنیاد ہیں،دین کے اول پھیلانے والے ہیں، انہوں نے حضور اقدسﷺ سے دین حاصل کیا اور ہم لوگوں تک پہنچایا، دین کو پوری دنیا میں پھیلانے کے لیے جان و مال کی بے دریغ قربانی دی اور بے مثال جدو جہد و لاجواب کوشش کی ۔بعد کی نسلوں کا ایمان انہیں کا مرہون منت ہے , آج چودہ صدیاں گزرنے کے بعد اگر ہم مسلمان ہیں تو بنا مبالغہ اس کا سہرا صحابہ کرام کے سر ہے ۔

ایک تیسری  اہم وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام کی جماعت ایک  ایسی مقدس جماعت ہے جو رسول اللہ اور عام اُمت کے درمیان اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ایک  بہترین و شاندار واسطہ ہے۔ اس واسطہ کے بغیر نہ اُمت کو قرآن کریم ہاتھ آسکتا ہے، نہ قرآن کریم کے وہ مضامین جن کو قرآن نے رسول اللہ کے بیان پر یہ کہہ کر چھوڑا ہے: ’’لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ إِلَیْہِمْ‘‘ (نحل:۴۴) ’’ تاکہ آپ لوگوں کے لیے بیان کریں وہ چیز جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے ۔‘‘ اور نہ ہی رسالت اور اس کی تعلیمات کا کسی کو اس واسطہ کے بغیر علم ہوسکتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعلیمات کو دنیا کی ہر چیز حتیٰ کہ اپنی آل اولاد اور اپنی جان و مال سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔(صحابہ کرام کا  مقام اور اس کے تقاضے : مولانا محمد اعجاز مصطفى, موقع جامعۃ العلوم الاسلامیہ, بینات)

 چوتھا بڑا سبب یہ ہےکہ حضرات صحابۂ کرامؓ کی جماعت اس پوری کائنات میں وہ خوش قسمت جماعت ہے جن کی تعلیم وتربیت اور تصفیہ وتزکیہ کے لیے سرورکائنات ﷺ کو معلم اور استاد واتالیق مقرر کیاگیا۔ اس انعام خداوندی پر وہ جتنا شکر کریں کم ہے، جتنا فخر کریں بجا ہے۔آں حضرت ﷺ کی علمی وعملی میراث اور آسمانی امانت چونکہ ان حضرات کے سپرد کی جارہی تھی، اس لیے ضروری تھا یہ حضرات آئندہ نسلوں کے لیے قابل اعتماد ہوں، اس لیے  قرآن وحدیث میں جابجا ان کے فضائل  ومناقب بیان کیے گئے۔وحی الہی  نے ان کی تعدیل فرمائی، ان کا تزکیہ کیا، ان کے اخلاص وللہیت کی شہادت دی اورانہیں یہ رتبہ بلند ملا کہ انہیں رسالت محمدی ﷺکے عادل گواہوں کی حیثیت سے ساری دنیا کے سامنے پیش کیا۔ حضرات صحابہؓ کے ایمان کو ’’معیار حق‘‘ قرار دیتے ہوئے نہ صرف لوگوں کو اس کا نمونہ پیش کرنے کی دعوت دی گئی،بلکہ ان حضرات کے لیے ادب و احترام کی تعلیم دی گئی ہے۔( صحابہ کرام کا مقام و مرتبہ : مولانا نعمان نعیم,ڈیلی جنگ, میگزین ڈیسک, 18/ستمبر 2020ع)

چنانچہ صحابۂ کرام ؓسے محبت وعقیدت کے بغیر رسول اللہ ﷺسے سچی محبت نہیں ہوسکتی اور صحابہ کرامؓ کی پیروی کے بغیر آنحضور ﷺکی پیروی کا تصور محال ہے۔ کیونکہ صحابہ کرامؓ نے جس انداز میں زندگی گزاری، وہ عین اسلام اور اتباع سنت ہے اور ان کے ایمان کے کمال وجمال، عقیدہ کی پختگی، اعمال کی صحت و اچھائی اور صلاح وتقویٰ کی عمدگی کی سند خود رب العالمین نے انہیں عطا کی ہے اور معلم انسانیت ﷺ نے اپنے قولِ پاک سے اپنے جاں نثاروں کی تعریف وتوصیف اور ان کی پیروی کو ہدایت وسعادت قرار دیا ہے۔

قرآن و حدیث میں اصحاب نبی کی فضیلت و عظمت

اب یہاں بعض ان   آیات و احادیث کو پیش کیا جا رہا ہے  جن میں اصحاب نبی کی تعریف کی گئی ہے اور ان کے مقام و مرتبہ کو واضح کیاگیا ہے ۔

اللہ تعالى نے  مہاجرین  صحابہ کی فضیلت میں ارشاد فرمایا: {لِلفُقَرَآءِ ٱلمُهَٰجِرِينَ ٱلَّذِينَ أُخرِجُواْ مِن دِيَٰرِهِم وَأَموَٰلِهِمۡ يَبتَغُونَ فَضلٗا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضوَٰنٗا وَيَنصُرُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلصَّٰدِقُونَ } (حشر/٨) مال فئ ان مہاجرین  فقراء  کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے نکال دئیے گئے , یہ لوگ اللہ تعالى کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ و اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں , یہی لوگ سچے ہیں۔

انصار مدینہ کی فضیلت اللہ تعالى نے مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرمائی: {وَٱلَّذِينَ تَبَوَّءُو ٱلدَّارَ وَٱلإِيمَٰنَ مِن قَبلِهِمۡ يُحِبُّونَ مَن هَاجَرَ إِلَيهِم وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِم حَاجَةٗ مِّمَّآ أُوتُواْ وَيُؤثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِم وَلَو كَانَ بِهِم خَصَاصَة وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفسِهِۦ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلمُفلِحُونَ }   (حشر/9)

(اور فئ ان لوگوں کے لیے بھی ہے ) جو مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی  ایمان لاکر دار الہجرت یعنی مدینہ منورہ میں مقیم تھے , یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آتے ہیں , اور جو کچھ بھی ان کو یعنی مہاجرین کو دے دیا جائے اس کی کوئی ٹیس یا کسک اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے ہیں  اور ان کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں  خواہ وہ خود ہی محتاج ہوں ۔

     اور انصار و مہاجرین دونوں کی تعریف و توصیف میں فرمایا: {وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلأَوَّلُونَ مِنَ ٱلمُهَٰجِرِينَ وَٱلأَنصَارِ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحسَٰنٖ رَّضِيَ ٱللَّهُ عَنهُم وَرَضُواْ عَنهُ وَأَعَدَّ لَهُم جَنَّٰتٖ تَجرِي تَحتَهَا ٱلأَنهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدٗا ذَٰلِكَ ٱلفَوزُ ٱلعَظِيمُ } (توبہ/100)  مہاجرین و انصار میں سے پہلے سبقت کرنے والے  اور احسان و راستبازی کے ساتھ ان کی اتباع کرنے والے ان سے اللہ راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے , اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے , یہی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔

    {لَّقَد تَّابَ ٱللَّهُ عَلَى ٱلنَّبِيِّ وَٱلمُهَٰجِرِينَ وَٱلأَنصَارِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ ٱلعُسرَةِ مِن بَعدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٖ مِّنهُمۡ ثُمَّ تَابَ عَلَيهِمۚ إِنَّهُۥ بِهِم رَءُوف رَّحِيم } (توبہ/١١٧) درحقیقت اللہ نے نبی , اور مہاجرین  اور انصار کے توبہ کو قبول کرلیا جنہوں نے تنگی کے وقت میں آپ کی پیروی کی  اس کے بعد کہ ان میں سے ایک جماعت کے دلوں میں تقریبا  انحراف  اور کجی واقع ہونے والی تھی پھر اللہ نے ان کے توبہ کو قبول کرلیا , یقینا وہ  ان پر بہت ہی شفیق و مہربان ہے ۔

احادیث میں صحابہ کرام کو سب سے افضل بتایا گیا ہے, ان کے نقش قدم پر چلنے کا حکم دیا گیا ہے, ان سے محبت کرنا ایمان کی علامت ہے, ان کو برا بھلا کہنا حرام ہے, ان کو برا بھلا کہنے والوں پر لعنت ہوتی ہے وغیرہ ۔ اس معنی کی بعض احادیث ہیں :---

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن مسعود رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ، وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ (بخاری /2652 و مسلم/2533)

حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: سب سے بہتر لوگ میرے زمانہ کے ہیں , پھر  ان کے بعد آنے والے  پھر ان کے بعد آنے والے , پھر ایسے لوگ آئیں گے جن کی گواہی قسم سے پہلے ہوگی  اور کبھی ان کا قسم ان کی  کی گواہی سے پہلے ہوگا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے بیانات میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے اور وہ گواہی اور قسموں کو بہت  معمولی و  حقیر سمجھتے ہیں۔معلوم ہوا کہ صحابہ کرام تمام مسلمانوں میں سب سے بہتر و افضل ہیں ۔

عن البراء رضي الله عنه قالسمعت النبي صلى الله عليه وسلم الأنصار لا يحبهم إلا مؤمن ولا يبغضهم إلا منافق فمن أحبهم أحبه الله ومن أبغضهم أبغضه الله (بخاری/3783 و مسلم/75)

حضرت براء بن عازب کی روایت ہے  ان کا کہنا ہے کہ میں نے نبی کریم سے سنا ہے : انصار سے صرف وہی محبت کرتا ہے جو مومن ہے اور ان سے وہی بغض و دشمنی رکھتا ہے جو منافق ہے , لہذا جس نے ان سے محبت کی  اللہ ان سے محبت کرے گا اور جس نے ان سے دشمنی کی اس سے اللہ دشمنی کرے گا۔

معلوم ہوا کہ اصحاب نبی سے محبت کرنا ایمان کا جزء اور اس کی علامت ہے ۔

عن عبد اللہ بن عمرو قال: قال رسول اللہ: ......وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً ، قَالُوا : وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي ، (ترمذی/2641, علامہ البانی نے حسن کہا ہے )

حضرت عبد اللہ بن عمرو کی روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:  میری امت 73/ فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی , ایک کو چھوڑ کر بقیہ تمام فرقے جہنم میں جائیں گے۔ یہ سن کر صحابہ کرام نے پوچھا : اے اللہ کے رسول وہ کون سا فرقہ ہے؟ آپ نے جواب دیا: جو میرے اور میرے اصحاب کے طریقہ پر ہوگا۔معلوم ہوا کہ تمام  اصحاب نبی مسلمانوں کے مقتدا و پیشوا ہیں ۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تَسُبُّوا أصْحابِي، لا تَسُبُّوا أصْحابِي، فَوالذي نَفْسِي بيَدِهِ لو أنَّ أحَدَكُمْ أنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، ما أدْرَكَ مُدَّ أحَدِهِمْ، ولا نَصِيفَهُ. (بخاری / 3673  و مسلم/2541)

حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میرے اصحاب کو گالیاں مت دو, میرے اصحاب کو گالیاں مت دو , اس ذات کی قسم !جس کے ہاتھ میں میری جان ہے , اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ ان کے مد یا آدھے مد کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا ۔

عن عبدالله بن عباس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلممن سبَّ أصحابي، فعليه لعنةُ اللهِ والملائكةِ والناسِ أجمعينَ. حسن: أخرجه الطبراني  (12709)، ، وحسنه الألباني وقال: حسن , وفی روایۃ: لا یقبل اللہ منہ صرفا و لا عدلا(خطیب/تاریخ, حسن)

حضرت عبد اللہ بن عباس  کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: جس نے میرے اصحاب کو گالیاں دیں تو اس پر اللہ کی, فرشتوں اور تمام مسلمانوں کی لعنت ہے ,( حسن , طبرانی/12709, علامہ البانی نے بھی اسے حسن قرار دیا ہے)اور ایک دوسری روایت میں ہےکہ اللہ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت, توبہ یا فدیہ قبول نہیں فرمائے گا۔ (خطیب/حسن)

معلوم ہوا کہ اصحاب نبی کو گالیاں دینا, ان کو سب و شتم کرنا,ان کی عدالت کو تسلیم نہ کرنا,  ان میں عیب نکالنا, ان کی مذمت کرنا, ان کی تنقیص  و تجریح کرنا وغیرہ سب حرام ہے ۔

اب ایک  مزید حدیث کو ذکرکرکے یہ بات ختم کی جاتی ہے ۔یہ حدیث  مشہور صحابی حضرت  عبد الرحمن بن عوف کی ہے ان کا کہنا ہے: لما حضرت النبي صلى الله عليه وسلم الوفاة قالوا: يا رسول الله أوصنا قال: أوصيكم بالسابقين الأولين من المهاجرين وبأبنائهم و من بعدهم إلا تفعلوه لا يقبل منكم صرف ولا عدل(المعجم الاوسط للطبرانی/حسن) یعنی  جب پیارے نبی کی وفات کا وقت قریب آیا تو اصحاب نبی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ہمیں کوئی وصیت فرمائیں؟  آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں مہاجرین میں سب سے پہلے ایمان لانے والوں  اور ان کی اولادوں اور ان کے بعد آنے والوں کا ادب و احترام کرنے کی وصیت کرتا ہوں ۔ اگر تم لوگ ان کا ادب و احترام نہیں کرو گے تو تمہارا فرض یا نفل  , توبہ یا فدیہ کچھ بھی قبول نہیں کیا جائے گا ۔

انہیں آیات و احادیث پر اکتفا کیا جاتا ہے کیونکہ جن کے دلوں میں ایمان ہے اور ان کے دل بیماری سے خالی ہیں تو یہ صحابہ کرام کے مقام و مرتبہ کی وضاحت اور ان سے محبت و ادب و احترام کے لیے بہت کافی ہیں لیکن جن کے دلوں میں بیماری ہے ان کے لیے  تمام آیات و احادیث کا ذخیرہ بھی کافی نہیں ہے ۔اللہ ہدایت دے ۔ آمین 

اصحاب نبی کو گالی دینے کا حکم:

علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ صحابہ کو گالی دینے والےکا کیا حکم ہے اور کیا ایسا کرنا کفر ہے؟  اور اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کو گالی دینا  ایک ہی درجہ کا نہیں ہوتا ہے, ، بلکہ اس کے مختلف درجات و اقسام  ہیں، ان میں سے ایک قسم ان کی عدالت پر اعتراض و طعنہ زنی ہے , جب کہ ایک قسم اس کے برعکس ہے جو ان کی عدالت میں رد و قدح نہیں ہے, اور کبھی تمام صحابہ یا ان میں سے اکثر کو گالی دی جاتی ہے, یا ان میں سے کسی ایک کو گالی دی جاتی ہے ,  اور یہ ان میں سے ہوتا ہے جن کی فضیلت کے بارے میں نصوص تواتر کے ساتھ موجود ہیں , اور کبھی اس سے کم درجہ کے ہوتے ہیں ۔

اسی لیے علماء کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص حلال  و جائز سمجھ کر صحابہ کو گالیاں دیتا ہے تو وہ کافر ہے, اور جو تمام صحابہ کرام یا  کچھ کو چھوڑ کے ان کی اکثریت کو یا کسی ایک کو اس کی صحبت کی وجہ سے گالی دیتا ہے تو وہ بھی کافر ہے ۔امام سبکی رحمہ اللہ اپنے فتاوى میں فرماتے ہیں : إن سب الجميع بلا شك أنه كفر، وهكذا إذا سب واحدًا من الصحابة حيث هو صحابي؛ لأن ذلك استخفاف بحق الصحبة، ففيه تعرض إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فلا شك في كفر الساب... إلى أن قالولا شك أنه لو أبغض واحدًا منهما - أي الشيخين أبي بكر وعمر - لأجل صحبته فهو كفر، بل من دونهما في الصحبة إذا أبغضه لصحبته كان كافرًا قطعًا (فتاوى السبكي " ( 2 / 575 ) یعنی سب کو گالی دینا بلا شبہ کفر ہے , اسی طرح کسی ایک صحابی  کو گالی دینا  صرف اس لیے کہ  وہ صحابی ہے  کیونکہ یہ حق صحبت کی توہین و حقارت ہے اور اس میں نبی کریم کو نشانہ بنانا ہے , ایسی صورت میں گالی دینے والے کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے, ...... ان کا مزید کہنا ہے : اور بلا شبہ اگر کوئی شیخین حضرت ابو بکر و عمر میں کسی کو صرف  ان کی صحبت کی وجہ سے بغض اور دشمنی  رکھتا ہے تو وہ کافر ہے  بلکہ ان دونوں سے جو صحبت میں کم درجہ کے ہیں ان سے ان کی صحبت کی وجہ سے بغض و عداوت رکھتا ہے تو وہ بھی قطعی طور پر کافر ہے۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول ہے: وأما من جاوز ذلك إلى أن زعم أنهم ارتدوا بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم، إلاَّ نفرًا قليلاً لا يبلغون بضعة عشر نفسًا أو أنهم فسقوا عامتهم فهذا لا ريب في كفره؛ لأنه مكذب لما نصه القرآن في غير موضع من الرضا والثناء عليهم، بل من يشك في كفر مثل هذا فإن كفره متعين(الصارم المسلول: المسالۃ الرابعۃ: فی بیان السب المذکور....)  اور جو لوگ اس سے آگے بڑھ کر یہ دعوى کرتے ہیں  کہ وہ سب کے سب رسول اللہ کے بعد مرتد ہوگئے  صرف  چند افراد کو چھوڑ کے جن کی تعداد دس سے کچھ زائد ہے یا وہ سب کے سب فاسق ہوگئے تو ایسے شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے کیونکہ وہ ان کی بابت قرآن میں کئی جگہ وارد تعریف و رضامندی کو غلط بتا رہا ہے, اس کی تکذیب کررہا ہے, بلکہ جو شخص ایسے شخص کے کفر میں شک کرتا ہے تو  اس کا کفر یقینی ہے۔

اور کبھی گالی اس سے کم تر درجہ کی ہوتی ہے جس سے گالی دینے والا کافر تو نہیں ہوتا ہے لیکن  علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ وہ فاسق ہوجاتا ہے۔  اس مسئلہ کی بابت مزید فائدہ کے لیے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی الصارم المسلول اور قاضی عیاض کی الشفاء  کا مطالعہ کریں ۔ واللہ اعلم ( اسلام ویب: أقوال العلماء في حكم من سب الصحابة,سوال نمبر:  36106, سوموار 11-8-2003ع)

ماضی میں علماء کرام نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر رد و قدح اور طعنہ زنی کرنے کو  بدعتی ہونے اور الحاد و لادینیت کی علامت شمار کیا ہے  جو شریعت کے راویوں کو مجروح کرکے اس کو باطل کرنا چاہتے ہیں ۔حضرت ابو زرعہ کا قول ہے: إذا رأيت الرجل ينتقص أحداً من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعلم أنه زنديق، وذلك أن الرسول صلى الله عليه وسلم عندنا حق، والقرآن حق، وإنما أدى إلينا هذا القرآن والسنن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، وإنما يريدون أن يجرحوا شهودنا ليبطلوا الكتاب والسنة، والجرح بهم أولى، وهم زنادقة!!..     (الكفاية في علم الرواية للخطيب البغدادي وتهذيب الكمال للمزي وتاريخ دمشق لابن عساكر بسنده من طريق الخطيب، والإصابة لابن حجر ج ١ ص ١١, کتاب ابو زرعۃ الرازی و جہودہ فی السنۃ النبویۃ, سعدی بن مہدی ہاشمی, عقیدتہ و اقوالہ فی المعتقد)

جب کسی آدمی کو دیکھو کہ اصحاب رسول کی برائی کرتا ہے , ان کی تنقیص و توہین کرتا ہے تو جان لو کہ وہ زندیق یعنی ملحد ,  لادین اور بد عقیدہ شخص ہے ۔اور ایسا اس لیے ہے کیونکہ ہمارے نزدیک رسول اللہ برحق ہیں , اور قرآن برحق ہے,  اور یہ قرآن و سنت صرف انہیں کے ذریعہ ہم تک پہنچا ہے , ان کا ارادہ ہمارے گواہوں کو مجروح کرنا (طعنہ زنی و رد کرنا)  ہے  تاکہ قرآن و حدیث کو باطل ثابت کردیں , جب کہ وہ جرح (طعنہ زنی و رد کرنا)کے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ وہ زنادقہ یعنی ملحد, لادین , گمراہ و بد عقیدہ لوگ ہیں ۔

اور اما م احمد سے منقول ہے: إذا رأيت رجلاً يذكر أحداً من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بسوء فاتهمه على الإسلام ("البداية والنهاية" (8/139) .( یعنی  جب تم کسی کو دیکھو کہ وہ اصحاب نبی کا تذکرہ برائی کے ساتھ کر رہا ہے تو  اس کا اسلام مشکوک ہے ۔

اور امام بربہاری نے تحریر کیا  ہے : واعلم أن من تناول أحداً من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعلم أنه إنما أراد محمداً، وقد آذاه في قبره) "شرح السنة" للإمام البربهاري,الطعن في الصحابة إيذاء للرسول صلى الله عليه وسلم)

   جان لو کہ جس نے اصحاب رسول میں سے کسی کی بھی برائی کی , ان کی طعن و تشنیع کی  تو اس نے صرف محمد کو نشانہ بنایا اور آپ کی قبر میں آپ کو تکلیف پہنچائی ۔(اسلام ویب: الطعن في الصحابة زندقة وانحلال, سوال نمبر: 56684, جمعرات 9-12-2004 ع)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اصحاب نبی کے بارے میں ہمیں ہمیشہ حسن ظن رکھنا چائیے, ان کے  بلندمقام و مرتبہ, حسنات و محاسن , قربانیوں وخدمات کو دھیان میں رکھتے ہوئے ان کے درمیان  پیدا ہوئے اختلافات و تنازعات کے بارے میں ہمیشہ اپنی زبان بند رکھنی چائیے ۔ صحابہ کی شان میں گستاخی عظیم جرم ہے جو بسا اوقات کفر تک لے جانے والا ہے ۔ اللہ تعالى ہم سب کو ان سے محبت کرنے  و ادب و احترام سے پیش آنے کی توفیق دے۔آمین

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: