مسلمانوں
کی تکالیف اور پریشانیوں کو دور کرنے کی فضیلت و اہمیت
حدیث: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:من نفَّسَ عن مسلمٍ كُربةً مِن كُربِ الدُّنيا نفَّسَ اللَّهُ عنهُ كربةً مِن كُرَبِ يومِ القيامةِ ، ومن يسَّرَ على مُعسرٍ في الدُّنيا يسَّرَ اللَّهُ عليهِ في الدُّنيا والآخرةِ ، ومن سَترَ على مُسلمٍ في الدُّنيا سترَ اللَّهُ علَيهِ في الدُّنيا والآخرةِ ، واللَّهُ في عونِ العَبدِ ، ما كانَ العَبدُ في عونِ أخيهِ.
تخریج
:
صحیح ترمذی للالبانی /1930, الفاظ اسی کے
ہیں , مسلم /2699 لیکن اس میں اضافہ ہے ۔
ترجمہ: حضرت ابو
ہریرہ کی روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ آپ rنے ارشاد
فرمایا کہ جس نے کسی مسلمان سے دنیا کی کوئی مصیبت یا پریشانی دور کی تو اللہ
تعالى اس کی قیامت کے دن کی کوئی پریشانی دور کردے گا اور اگر کسی نے دنیا میں کسی
تنگدست پر آسانی کی تو اللہ تعالى اس کے اوپر دنیا و آخرت دونوں میں آسانی کرے گا
, اور جس نے کسی مسلمان کی دنیا میں پردہ
پوشی کی تو اللہ تعالى دنیا و آخرت دونوں میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ,
اور اللہ تعالى بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہوتا
ہے ۔
معانی
کلمات:
نفس
عن : دور کرنا, ختم کرنا, زائل کر دینا ۔
کربۃ:مصیبت,
پریشانی, رنج و الم , غم و مشقت جمع کرب۔
معسر:مفلس,
تنگ دست, تنگ حال , غریب, دیوالیہ ۔
شرح:
بلاشبہ ہمارا دین اسلام دین رحمت و شفقت ہے, دین تعاون و احسان ہے, دین الفت و محبت ہے
, اس کی رحمت و رافت سےکائنات و انسانوں کا کوئی بھی طبقہ محروم نہیں ہے ۔ سماج و معاشرہ کا کوئی
بھی عنصر و جزء ایسا نہیں ہے جس کو اس کی رحمت و شفقت شامل نہ ہو یا جس کو اس کے سایہ عاطفت میں جگہ
نہ ملتی ہو ۔ انسان تو خیر انسان ہے اس کی رحمت و رأفت سے حیوان و ماحول , دنیا و کائنات بھی محروم نہیں ہے ۔اسی لیے اسلام ہمیں بنا
کسی تفریق کے مسلم و غیر مسلم, مرد و عورت, غریب و مالدار, کالے و گورے , چھوٹے و
بڑے, انسان و حیوان غرضیکہ سب کے ساتھ
رحم اور ہمدردی کرنے کی تعلیم دیتا ہے ,
تمام کے ساتھ محبت و شفقت کرنے پر ابھارتا ہے , سب کے ساتھ اچھے اور اعلیٰ اخلاق
سے پیش آنے پر زوردیتا ہے اور ان پر عمل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے،سب کے ساتھ رحمدلی و ہمدردی کرنے,آسانی کرنے, مصیبت و تکلیف کو ختم
کرنے , دکھ درد کو دور کرنے , رنج و غم
میں شریک ہونے کا درس دیتا ہے ۔اسلام کی
نظر میں ان سب اعمال کی بہت زیادہ اہمیت و فضیلت ہےاوران کا بہت بڑا مقام و مرتبہ ہے ۔ ان افعال کا بڑا درجہ ہے اور ان پر اجر عظیم کا وعدہ ہے۔جیسا کہ یہ
حدیث اس پر دلالت کرتی ہے ۔
اس روایت میں نبی کریم نے چار بہترین اخلاق و
عادات,خصائل و محاسن کا ذکر کیا ہے اور
ساتھ ہی انہیں کے موافق ان کے عظیم اجر و ثواب کا بھی تذکرہ کیا ہے ۔اور وہ یہ ہیں :
پہلی:" جس نے کسی مسلمان سے دنیا کی
کوئی مصیبت یا پریشانی دور کی "۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پہلی نصیحت
میں مومنوں کی پریشانی دور کرنے کی تلقین فرمائی
ہے یعنی: اگر کوئی شخص کسی مومن کے غم، تکلیف یا پریشانی کو دور کرتا ہے ، اگرچہ
وہ معمولی سی ہی کیوں نہ ہو۔(موقع
الدرر السنیۃ:الموسوعۃ الحدیثیۃ, شروح الاحادیث, من نفس عن مسلم...) تو اس میں
کوئی شک نہیں کہ یہ عمل بہت بڑا عمل ہے اور اس کی اللہ کے نزدیک اور لوگوں کے دلوں میں انتہائی اہمیت
و قدر ہے، کیونکہ زندگی سختیوں اور مشکلات سے بھری ہوئی ہے، مصیبت اور پریشانی, رنج و غم سے عبارت ہے ۔اور کبھی زندگی
کی تکلیف مومن کو اس قدر مضبوطی سے جکڑ لیتی ہے کہ اس کا دل و دماغ الجھن میں پڑجاتا ہے, حیران و پریشان ہوجاتا ہے اور اس سے نکلنے کی کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی ہے
۔
ایسی حالت میں ایک مسلمان کے لیے اپنے بھائی کی مدد
کے لیے دوڑنا، تعاون کا ہاتھ بڑھانا اور اس
تکلیف کو دور کرنے یا اسے کم کرنے کی کوشش کرنا کتنی بڑی بات ہے۔ ایسی تسلی غم زدہ
کے دل پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ لہٰذا، یہ مناسب ہے کہ اللہ کی طرف سے اس کا انعام یہ
ہو کہ وہ اسے اس سے بھی بڑی اور سخت مصیبت
سے نجات دے: یقینا وہ یوم قیامت کی تکلیف ہے,
سوال اور سزا کی تکلیف ہے ۔ یہ کتنا بڑا اجر ہے اور کتنا زیادہ ثواب ہے۔ پریشانی اور تکلیف کو دور کرنا ایک احسان ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ اسے
اس کے موافق و مطابق اجر دے گا۔(موقع
اسلام ویب, حدیث: من نفس عن مؤمن کربۃ..)
نبی
کریم rنے یہاں
پر صرف یوم قیامت کی کوئی مصیبت و پریشانی
دور کرنے کے بارے میں بتایا ہے ۔
آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ دنیا اور آخرت کی کوئی مصیبت دور کردے گا جیسا کہ آسانی کرنے اور پردہ پوشی میں فرمایا ہے
۔اس کی دو وجہ ہے :
1- کرب بڑی مصیبت و پریشانی کو کہا جاتا ہے اور یہ دنیا میں ہر کسی کے ساتھ پیش نہیں آتا
ہے, جب کہ اس کے برعکس غربت اور وہ عیوب
جن کو چھپانے کی ضرورت ہوتی ہے، شاید ہی کوئی اس دنیا میں اس سے پاک و محفوظ ہو ۔
2- دنیا کی بڑی
سی بڑی مصیبت آخرت کی مصیبت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے مصائب کو دور کرنے
کا اجر اپنے لیے مخصوص کرلیا ہے ، تاکہ وہ اس سے آخرت کے مصائب سے نجات دے۔ اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کا یہ فرمان ہے: الله يجمع يوم القيامة الأولين والآخرين في صعيد واحد
فيسمعهم الداعي وينفذهم البصر وتدنو الشمس منهم فيبلغ الناس من الغم والكرب ما لا
يطيقون ولا يحتملون فيقول الناس ألا ترون ما قد بلغكم ..(بخاری /4712, 3361, مسلم /
480وترمذی/2432) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اولین و آخرین کو
ایک ہموار اور وسیع میدان میں جمع کرے گا، اس طرح کہ پکارنے والا سب کو اپنی بات
سنا سکے گا اور دیکھنے والا سب کو ایک ساتھ دیکھ سکے گا (کیونکہ یہ میدان ہموار ہو
گا، زمین کی طرح گول نہ ہو گا) اور لوگوں سے سورج بالکل قریب ہوگا۔اور لوگ غم و اندوہ
میں اس قدر ڈوب جائیں گے جس کی انہیں طاقت نہیں ہوگی اور نہ وہ برداشت کر پائیں گے
، اس پر ایک شخص اپنے قریب کے دوسرے شخص
سے کہے گا، دیکھتے نہیں کہ سب لوگ کیسی پریشانی میں مبتلا ہیں؟ اور مصیبت کس حد تک
پہنچ چکی ہے؟ کیوں نہ کسی ایسے شخص کی تلاش کی جائے جو اللہ پاک کی بارگاہ میں ہم
سب کی شفاعت کے لیے جائے۔(موقع اسلام ویب: جامع العلوم و الحکم لابن
رجب الحنبلی, حدیث:36 من نفس عن مؤمن...)
تنفیس
اور تفریج میں فرق:
اس
حدیث میں تنفیس کا لفظ آیا ہے جب کہ ابن عمر کی روایت میں فرج عن مسلم یعنی تفریج کا لفظ آیا ہے ۔ اس
بنیاد پر بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ کرب
بڑی مصیبت اور پریشانی ہے جس کی وجہ
سے اس کا شکار ہونے والا مصیبت میں پڑ جاتا ہے۔ اور اس کی تنفیس یہ ہے کہ اس کو اس
سے ہلکا کردیا جائے , اس میں کمی کردی جائے ۔ یہ تنفیس الخناق(خ پر کسرہ بمعنى
گلا) سے ماخوذ ہے گویا کہ وہ اس کی گردن
کو ڈھیلا کرتا ہے تاکہ وہ سانس لے لے ۔ اور تفریج اس سے بڑھ کر ہے، جو اس سے مصیبت
کو دور کردینا ہے ، لہذا اس کی پریشانی دور
ہو جاتی ہے، اور اس کا رنج و غم ختم
ہوجاتا ہے ۔ پس تنفیس کا بدلہ تنفیس اور تفریج کا بدلہ تفریج ہے جیسا کہ ابن عمر کی
حدیث میں ہے ۔ اور کعب بن عجرہ کی حدیث میں
دونوں کو جمع کر دیاگیا ہے یعنی نفس و فرج دونوں وارد ہوئے ہیں ۔(موقع
اسلام ویب: جامع العلوم و الحکم, حدیث:36)
دوسری:"
اگر کسی نے دنیا میں کسی تنگدست پر آسانی کی"۔اس میں کوئی شک نہیں کہ
کسی نادہندہ قرض دار کو معاف کرنا اعلیٰ اخلاق
میں سے ہے۔ اور مال کے اعتبار سے دنیا میں
کسی فقیر پر آسانی دو طرح سے ہوتی ہے یا تو اس کی حالت کے سدھرنے تک اس کو مہلت دی جائے یا اگر وہ مقروض
ہے تو اس کے قرض میں سے کچھ معاف کردیا جائے یا اس کو وہ چیز دی جائے جس سے اس کی
پریشانی دور ہوجائے ۔ اور ان دونوں کی بہت بڑی فضیلت ہے ۔ (موقع الدرر
السنیۃ:الموسوعۃ الحدیثیۃ, من نفس عن مسلم...)
اسی لیے شریعت
نے اہل حقوق پر زور دیا ہے کہ وہ
مقروض تنگ دستوں کے وقت میں اضافہ
کردیں اور ان کے حالات بہتر ہونے تک انہیں
مہلت دیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الى میسرۃ (بقرہ/280) اور
اگر (مقروض) تنگدست ہو تو اسے مہلت دو یہاں
تک کہ اس کے لیے قرض ادا کرنا آسان ہو جائے ۔ اس سے بھی زیادہ نیکی یہ ہے کہ مقروض
اپنے حقوق میں سے کچھ معاف کر دے اور کچھ قرض کم کر دے۔ اس کی دلیل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کان رجل یداین الناس , فکان یقول لفتاہ :اذا
اتیت معسرا فتجاوز عنہ , فلقی اللہ فتجاوز عنہ (بخاری
/3480, مسلم /1562, صحیح الجامع/4454) ”یعنی ایک آدمی لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا،
اور اپنے خادم سے کہتا تھا: اگر تم کسی تنگ دست و مفلس سے ملو تو اس سے در گذر کرو
, ممکن ہے کہ اللہ تعالى ہم سے درگذر فرمادے, اس لیے جب اس کی وفات ہوئی تو اللہ
تعالى نے اس کو معاف کردیا ۔۔(موقع: اسلام ویب, حدیث: من نفس عن مؤمن
کربۃ...)
اور اس کا بدلہ یہ ہے کہ اللہ تعالى دنیا و آخرت دونوں میں اس پر آسانی کرے
گا کیونکہ اس نے اس کے بندہ پر آسانی کی ہے ۔ اوریہ اس کا اس کے عمل کے جنس سے بدلہ ہوگا ۔(موقع
الدرر السنیۃ:الموسوعۃ الحدیثیۃ, من نفس عن مسلم...)۔
تیسری:’’اور جس
نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی ‘‘ کا مطلب
ہے: اس نے اسے کوئی برا کام کرتے ہوئے دیکھا
اور اسے لوگوں پر ظاہر نہیں کیا ، تو اس کا بدلہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس کی دنیا
میں پردہ پوشی کرے گا، یعنی: اس کے عیب یا غلطی پر پردہ ڈالے گا، اور آخرت میں اہل موقف سے اس کی
پردہ پوشی کرے گا۔(موقع
الدرر السنیۃ:الموسوعۃ الحدیثیۃ, من نفس عن مسلم...)۔
یہ
حدیث ہمیں مسلمانوں کے عیبوں کو چھپانے اور
ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی پیروی نہ کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ یہ ان صالح اخلاق کی
ایک اور شکل ہے جو ہماری روشن شریعت کی تاج ہے ۔ معصوم وہ ہے جس کی اللہ حفاظت کرے۔
مسلمان کتنا ہی متقی اور پرہیزگار کیوں نہ
ہو،اس سے لغزش و غلطی کا ہونا بعید نہیں ہے۔ وہ کچھ گناہ کر سکتا ہے، پھر بھی وہ اس
کو اللہ کے حق میں اپنی کوتاہی کی وجہ
سے ناپسند کرتا ہے اور نہیں چاہتا ہے کہ کوئی اس کی لغزش و غلطی پر
مطلع ہو ۔ لہٰذا اگر کوئی مسلمان اپنے کسی
بھائی میں کوئی کوتاہی دیکھے تو اسے چاہیے کہ موعظت و نصیحت کے فرائض
میں کوتاہی کے بغیر اسے چھپائے اور اسے ظاہر نہ کرے۔(موقع: اسلام ویب,
حدیث: من نفس عن مؤمن کربۃ...)
احادیث
سے سترپوشی کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:من ستر عورۃ اخیہ
المسلم ستر اللہ عورتہ یوم القیامۃ(ابن ماجہ)”جس نے اپنے مسلمان
بھائی کے عیب کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب کو چھپائے گا۔ جب
کہ ، غلطیوں کا سراغ لگانا ایک ایسی چیز ہے جس سے فطرت نفرت کرتی ہے اور شریعت منع
کرتی ہے۔ بلکہ درحقیقت اس کے بارے میں سخت
وارننگ جاری کی گئی ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے ان کا کہنا ہے : صعد رسول الله صلى
الله عليه وسلم المنبر فنادى بصوت رفيع، فقال: " يا معشر من اسلم بلسانه، ولم
يفض الإيمان إلى قلبه، لا تؤذوا المسلمين، ولا تعيروهم، ولا تتبعوا عوراتهم، فإنه
من تتبع عورة اخيه المسلم تتبع الله عورته، ومن تتبع الله عورته يفضحه ولو في جوف
رحله(ترمذی/2032,
علامہ البانی نے حسن صحیح قرار دیا ہے مشکاۃ/5044, تحقیق ثانی, ابوداؤد/4880
معمولی اختلاف کے ساتھ )ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے
اور بلند آواز سے پکارتے ہوئے فرمایا: ”اے وہ لوگو جنہوں نے اپنی زبانوں سے اسلام تو
قبول کر لیا لیکن ابھی تک ان کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا ۔ مسلمانوں کو تکلیف مت دو، ان کو
عار مت دلاؤ اور ان کے عیب نہ تلاش کرو، اس لیے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے
عیب ڈھونڈتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا عیب ڈھونڈتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب
ڈھونڈتا ہے، اسے رسوا و ذلیل کر دیتا ہے، اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہو“ ۔(موقع:
اسلام ویب, حدیث: من نفس عن مؤمن کربۃ...)
سلف
میں سے کسی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: "میں ایسے لوگوں سے ملا جن میں کوئی
عیب نہیں تھا، تو انہوں نے لوگوں کے عیوب کا ذکر کیا، تو لوگوں نے ان کے عیوب کو بیان کیا، اور میں ایسے لوگوں سے ملا جن میں عیوب تھے، لیکن
انہوں نے لوگوں کے عیوب کو بیان کرنے سے پرہیز کیا، تو ان کے عیوب بھلا دئیے گئے
۔(موقع
:موسوعۃ الاحادیث النبویۃ, حدیث: من نفس عن مؤمن..)
"
لوگوں پر پردہ ڈالنے سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ برائی کو نظر انداز کر دیا جائے اور اس سے روکا نہ جائے۔ بلکہ اس کو
بدلنے کی کوشش کی جائے اور ساتھ ہی پردہ
پوشی بھی کی جائے ۔ یہ ان لوگوں پر لاگو ہوتا
ہے جو کسی گناہ کے لیے نہیں جانے جاتے ہیں, فساد اور بدعنوانی نیز برائی و بدکاری پر لگاتار و برابر قائم نہیں رہتے ہیں
اور اس کے لیے مشہور نہیں ہیں۔ ایسے افراد اگر کوئی غلطی یا لغزش کرتے ہیں تو اس کی پردہ دری کرنا, اسے ظاہر کرنا، اس کو
بیان کرنا یا اس پرگفتگو کرنا جائز نہیں ہے۔
لیکن
جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو برائیوں کے لیے مشہور ہیں اور اسی سے جانے جاتے ہیں ، ان
کی پرہ پوشی کرنا مستحب نہیں ہے ۔ بلکہ اگر
اس سے فساد کا اندیشہ نہ ہو تو ان کا معاملہ
مناسب اتھارٹی کے پاس بھیج دیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی پردہ پوشی انہیں بدعنوانی
کرنے کی ترغیب دے گی، دوسرے لوگوں کو تکلیف پہنچانے کی حوصلہ افزائی کرے گی، اور دوسرے برے اور
سرکش لوگوں کی ہمتوں کو بڑھائے گی۔۔(موقع :موسوعۃ الاحادیث النبویۃ, حدیث: من
نفس عن مؤمن..)
چوتھی: آپ کا قول:" اللہ تعالى بندے کی مدد میں ہوتا ہے
جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہوتا ہے ‘‘ کا مطلب ہے: جو اپنے بھائی کی مدد
کرے گا، اللہ اس کی مدد کرے گا، اور جو اپنے
بھائی کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرے گا، اللہ اس کی حاجتیں پوری کرے گا۔ اس طرح بدلہ عمل کے جنس سے ملتا ہے اور اس کے مطابق ہوتا ہے۔(موقع الدرر السنیۃ: شروح الاحادیث, من نفس
عن مسلم...)۔
معلوم
ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کا اس وقت تک حامی و ناصر ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے دینی
اور دنیاوی مفادات میں اپنے بھائی کی مدد کرنے کو تیار رہتا ہے۔ یہ امداد دعا، جسمانی
مدد، مالی مدد، یا دیگر ذرائع سے ہو سکتی ہے۔ (موقع :موسوعۃ
الاحادیث النبویۃ, حدیث: من نفس عن مؤمن..)
یہ
حدیث اور اس معنى کی دیگر تمام روایتیں سب
مسلمانوں کی ضروریات کو پورا کرنے اور نیک
کاموں میں ان کے ساتھ تعاون کرنے کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان ایک
ہستی، ایک ساخت اور ایک جسم ہیں۔ ان کے لیے نیک کاموں میں تعاون کرنا، حق کی وصیت
کرنا, نیکی کا حکم دینا، برائی سے منع کرنا
اور ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرنا ان میں سے ہر ایک کا ان کو حکم دیا گیا ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ(حج:77) اور نیکی کرو
تاکہ تم کامیاب ہو ۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ
يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (بقرہ: 195)"اور نیکی کرو، بے شک اللہ نیکی
کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔" ، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ
مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ(نحل: 128) ’’بے شک اللہ ان
لوگوں کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے ہیں اور جو نیک عمل کرتے ہیں‘‘۔اس لیے انسان کو حکم
دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں اور دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور بھلائی کرے۔ کیونکہ
نیکی ان مسلمانوں کو فائدہ پہنچاتی ہے جن کو اس کی ضرورت ہے، یا جن کے دلوں میں اسلام
کے لیے میلان ہے، یا جو معاہد اور مستامن ہیں ، ان کی غربت کی وجہ سے یا ان کے اسلام
لانے کی امید میں وغیرہ۔ (موقع
الشیخ ابن باز الرسمی, شروح الکتب, ریاض الصالحین, من : باب قضاء حوائج المسلمین)
اس
حدیث میں نبی کریم نے یہ واضح کردیا ہے کہ اللہ تعالى ایک مسلمان کو اس کے عمل کے
جنس سے بدلہ دیتا ہے جو وہ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کرتا ہے ۔ الجزاء من جنس
العمل یہ ایک اصول ہے کہ بدلہ اسی قسم کا ہوتا ہے جیسا کہ عمل۔(موقع
:موسوعۃ الاحادیث النبویۃ, حدیث: من نفس عن مؤمن..,موقع الدرر السنیۃ:الموسوعۃ
الحدیثیۃ, من نفس عن مسلم...,موقع اسلام ویب: جامع العلوم و الحکم, حدیث:36) مشہور
مثل ہے: جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ اور اس معنی
کے نصوص بہت زیادہ ہیں، جیسے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: إنما يرحم الله من عباده الرحماء "(مختصر
المقاصد للزرقانی/صحیح , اسی معنى کی روایت بخاری/5655 میں بھی ہے )اللہ اپنے
بندوں میں سے صرف ان لوگوں پر رحم کرتا ہے جو رحم کرنے والے ہیں"۔ اور آپ کا یہ قول: إن الله يعذب
الذين يعذبون الناس في الدنيا) مسلم/2613,صحیح
ابن حبان/5613 و مسند احمد/15330) کہ "اللہ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا
میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔"(موقع اسلام ویب: جامع العلوم و الحکم,
حدیث:36)
فوائد
و مسائل :
ابن
دقیق العید کا قول ہے : یہ ایک عظیم حدیث ہے جو مختلف قسم کے علوم ، اصول اور آداب کو شامل ہے ۔ یہ مسلمانوں کی
ضروریات کو پورا کرنے اور علم یا دولت یا مدد یا کسی فائدہ کی بابت اشارہ کرنا یا
نصیحت کرنا وغیرہ جو کچھ بھی دستیاب ہے اس
سے ان کو فائدہ پہنچانے کی خوبی کو اجاگر کرتا ہے ۔
کسی
عمل کا بدلہ اسی عمل کے جنس سے ہوتا ہے
یہ
مفلس و تنگدست پر آسانی کرنے کی ترغیب دیتا
ہے اور اس سے غیر کی مدد کی فضیلت کا علم ہوتا ہے ۔
یہ
ایک مسلمان بندے کی مدد کرنے کی ترغیب دیتا ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ مدد کرنے
والے کی اسی قدر مدد کرتا ہے جس قدر وہ
اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے ۔
مسلمان
کی پردہ پوشی میں سے ہے کہ اس کے عیب کو تلاش نہ کیا جائے ۔
اللہ
کے نزدیک جزا و سزا کا دارومدار صرف اعمال پر ہے انساب پر قطعا نہیں ہے ۔(موقع
:موسوعۃ الاحادیث النبویۃ, حدیث: من نفس عن مؤمن..)
اللہ کی رضا کی خاطر دنیاوی مفاد کے بغیر جو
کوئی مسلمانوں کی حاجات و ضروریات کا خاص خیال رکھے اور انہیں پوری کرے تو اس کا
یہ عمل نہایت فضیلت والا ہے، ایسے شخص کی حاجات خود رب العالمین پوری کرتا ہے،
مزید اسے آخرت میں اجر عظیم سے بھی نوازے گا۔
اللہ تعالى سے دعا ہے کہ وہ دنیا کے تمام
مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرنے, ان کی مصیبتوں و پریشانیوں کو دور
کرنے , ان پر آسانی کرنے , ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس سے
وہ عظیم اجر و ثواب کے مستحق بن سکیں۔آمین و ما علینا الا البلاغ و آخر دعوانا ان
الحمد للہ رب العالمین ۔ 3/جولائی 2025ع رات پونے گیارہ بجے ۔
0 التعليقات: