کلمہ توحید کی عظمت و فضیلت
"لا الہ الا اللہ" یہ کلمہ توحید ہے , تمام انبیاء کی دعوت کا مرکز و محور ہے, انسان کی تخلیق کا مقصد ہے, دین اسلام کی بنیاد ہے, اس کا کا پہلا رکن ہے , علم و عمل کے اعتبار سے پہلا فریضہ ہے, ایک معبود برحق کا اعتراف ہے, شرک کا انکار ہے, کلمہ نجات ہے,سب سے افضل ذکر ہے ,اللہ کی رضامندی کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے, جنت میں داخلہ کی کنجی ہے, جہنم سے آزادی کا پروانہ ہے, گناہوں کو مٹانے کا سبب ہے, دکھوں اور غموں کا مداوا ہے, نیکیوں کاخزانہ ہے, ثواب کا بھنڈار ہے, ہر قسم کی دنیاوی غلامی سے نجات کا دستاویز ہے, وزن میں سب پر بھاری ہے حتى کہ اس کا وزن ساتوں آسمان و زمین سے زیادہ ہے,سعادت دارین کا اہم وسیلہ ہے, فلاح دین و دنیا کی گارنٹی ہے غرضیکہ اس کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند ہے , اس کی عظمت و فضیلت مسلم ہے, اس کی اہمیت و ضرورت اس کے محاسن و فضائل بے شمار ہیں ۔بہت سارے نصوص میں اس کے فضائل و محاسن, اہمیت و افادیت کو واضح کیا گیا ہے ۔ یہاں صرف درج ذیل حدیث کی روشنی میں اس کی اہمیت و فضیلت کو اجاگر کیا جا رہا ہے ۔
حضرات گرامی : نبی کریم نے ایک حدیث میں کلمہ توحید کی
فضیلت و اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
دَخَلَ الْجَنَّةَ»
ترجمہ:حضرت معاذ بن جبل کی روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول
اللہ نے ارشاد فرمایا: جس کا آخری کلام" لا الہ الا اللہ" ہو تو وہ جنت
میں داخل ہوگا۔
تخریج:ابوداؤد/3116, الفاظ اسی کے ہیں , علامہ البانی نے صحیح کہا ہے, مسند الامام احمد/22034, مشکاۃ المصابیح/1-509
توحید کی عظمت و فضیلت, اہمیت و افادیت :
درج بالا حدیث کی رو سے کلمہ توحید
کی ایک فضیلت و اہمیت یہ بھی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر
دی ہے کہ جس کا انتقال ہوا اور اس نے اخلاص کے ساتھ آخری بات "لا الہ الا اللہ" کہی جس کا مطلب ہے
کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے ,
وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔تو اس کا بدلہ جنت
میں داخل ہونا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا انجام براہ راست جنت میں داخل ہونا ہے اور وہ کبھی جہنم
میں نہیں جائے گا کیونکہ نبی کریم کا فرمان ہے: انما الاعمال بالخواتیم یعنی اعمال کا اعتبار خاتمہ پر ہے (بخاری/کتاب
الرقاق/6493, مسلم /306) یعنی اعمال کی قیمت اور اس کا نتیجہ اس کے خاتمہ کی
کیفیت پر موقوف ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اگر اس کے گناہوں کو اللہ تعالى نے
اپنی مشیئت سے معاف نہیں کیا تو وہ پہلے جہنم
میں داخل ہو گا اس کے بعد پھر وہ جنت میں
داخل ہوگا، کیونکہ اللہ عزوجل ہر اس شخص کو
جہنم سے نکالے گا جو "لا الہ الا اللہ" (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں) کی گواہی دیتا ہے۔ اور اللہ ہی بہتر جانتا
ہے کہ اس کے انجام کی حقیقت کیا ہے ۔(موقع :موسوعۃ الاحادیث النبویۃ , حدیث :
من کان آخر کلامہ...)
مزید
اس حدیث کے مفہوم کے بارے میں علماء کے دو اقوال ہیں:
پہلا:
جس کی وفات کلمہ توحید پر ہوئی وہ جنت میں
داخل ہوگا، یعنی وہ اس میں لازمی طور پر داخل ہوگا:یا تو اس کے گناہوں کو معاف کرکے اس کو فورا جنت میں
داخل کردیا جائے گا، یا اس کو سزا
دینے کے بعد تاخیر سے جنت میں داخل کیا جائے گا ۔
اس
مفہوم کی بنا پر یہ ان لوگوں کے ساتھ خاص نہیں ہے جن کا خاتمہ اس کلمہ پر ہوا ہے ۔ اور
نہ ہی مفہوم مخالف کا اعتبار ہوگا یعنی جس نے مرتے وقت یہ کلمہ نہیں کہا وہ جہنم میں جائے گا ، کیونکہ بایں صورت یہ بہت سے منطوق نصوص سے متصادم ہوگا، اور بلا
شبہ منطوق کو مفہوم پر فوقیت حاصل ہے۔
دوسرا:
جس کا خاتمہ لا الہ پر ہوا اور اس کے آخری الفاظ یہی تھے – خواہ وہ اس سے پہلے ثواب و گناہ دونوں کرنے والا تھا
–تو یہ اس کے اوپر اللہ تعالى کی رحمت کا سبب ہوگا اور اس کو براہ راست جہنم سے نجات ملے گی اور
جہنم اس کے اوپر حرام ہوگی ۔ اس کے برخلاف جس
اچھائی و برائی کرنے والے توحید
پرست کے آخری الفاظ یہ نہیں تھے تو وہ اللہ تعالى کی مشیئت کے تحت ہوگا , اگر چاہے
تو اس کو معاف کرکے بنا عذاب کے جنت میں
داخل کردے اور اگر چاہے تو اس کو اس کے
گناہ کی وجہ سے عذاب دے پھر اس کو جنت میں داخل کرے ۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔ (موقع:
اسلام ویب, الفتوى, معنى حديث: من كان آخر کلامہ ...., فتوى نمبر12801, شنبہ,
19-1-2002 م)
دھیان رہے کہ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر کسی نے دنیا میں اپنوں یا غیروں پر ظلم ڈھایا ہے اور حقوق
العباد میں کسی قسم کی کوتاہی کی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ کلمہ توحید اس کے
لیے قیامت کے دن اس کے ظلم و ستم سے آڑ بن
جائے گا اور مظلوموں سے اس کو محفوظ رکھے گا تو اس کو جان لینا چائیے کہ یہ عظیم کلمہ
اپنی انتہائی عظمت و فضیلت کے باوجود اس کو اس
کے ظلم و ستم سے کچھ بھی فائدہ دینے والا
نہیں ہے اور نہ ہی اس کے کچھ کام آئے گا ۔
لہذا اس کا مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ وہ یقینا جنت کا مستحق ہوگا لیکن جب
اس کے اوپر عائد بندوں کے حقوق ادا
کر دئیے جائیں گے ۔اس لیے ہر مسلمان کے لیے ظلم و ستم سے بچنا ضروری ہے ۔(موقع : صید الفوائد ,حديث ((مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ)) فوائد ومسائل،،، رضوان بن أحمد
العواضي, الخميس: 5- رجب الحرام – 1439ھ)
ابن بطال رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مہلب کا کہنا ہے : مسلمانوں کے ائمہ کے مابین
اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اسی پر اس کا انتقال ہوا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا، لیکن جب لوگوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا اور
مظلوموں کو ان کے حقوق واپس مل جائیں گے ۔ان کی بات ختم ہوئی ۔(شرح
صحیح البخاری لابن بطال, 3/236)
اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک
مسلمان کے لیے مستحب ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی بات اس عظمت و فضیلت والے کلمہ کے
ساتھ ختم کرے، خاص طور پر اگر اس نے خاموش رہنے کا ارادہ و عزم کر لیا ہے
اور کوشش کرے کہ وہ ہمیشہ
اس کی آخری بات ہو کیونکہ کسی کو نہیں معلوم کہ اس کے ساتھ آئندہ کیا پیش آسکتا ہے,ایک اہم ترین حالت جس میں یہ معاملہ
پیش آتا ہے وہ ہر وہ حالت ہے جس میں بندے کو اپنی ہلاکت کا اندیشہ ہوتا ہے مثلا
بیماری , حادثہ اور نیند وغیرہ , اس لیے جب کوئی انسان سوتا ہے تو یہ اس کی آخری نیند ہوسکتی ہے اور اسی
میں وہ اللہ تعالى سے ملاقات کرسکتا ہے ۔(موقع :
صید الفوائد ,حديث ((مَنْ كَانَ آخِرُ...)) رضوان العواضي)
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ایمان قول و عمل اور نیت کا
نام ہے۔ پس جب بھی کوئی بندہ اپنی زندگی میں اللہ کے لیے خالص اپنے قول و فعل کے ذریعے صحیح توحید پر ثابت قدم رہتا ہے، شرک کی غلاظت اور اعمال
صالحہ کو برباد کرنے والی چیزوں سے دور
رہتا ہے تو وہ اپنے رب سے اس عظیم کلمہ کے ساتھ ملاقات کرتا ہے جس کے ساتھ وہ اس دنیا سے
رخصت ہوتا ہے، جو اس کے اعمال و اقوال پر مہر
کی طرح ہوتا ہے۔
علامہ صنعانی رحمہ اللہ کا قول ہے: اس کلمہ کو کہنے کی
توفیق اسی کو ہوگی جس کے اعمال اس سے پہلے نیک ہوں گے ۔ان کی بات ختم
ہوئی۔(التنویر شرح الجامع الصغیر , 10/367)
اس لیے زبان کو جھوٹ بولنے، اس کی طرف بلانے یا اس کی طرف
رہنمائی کرنے سے بچانا اور اسے اللہ کے ذکر
اور اس کے دین کی طرف بلانے سے تر اور معمور
رکھنا واجب ہے، تاکہ بندے کو موت کے وقت اس کلمہ کو ادا کرنے میں کامیابی حاصل ہو۔(موقع :
صید الفوائد ,حديث ((مَنْ كَانَ آخِرُ...)) رضوان العواضي)
اور
کلمہ شہادت جس طرح اختتام یا خاتمہ ہے اسی طرح آغاز بھی ہے ۔ اسی وجہ سے جب اللہ تعالى نے آپ کو
مبعوث فرمایا تو آپ ابتدا میں قبائل میں
گشت کرتے تھے اور فرماتے تھے : اے لوگو ! کہہ دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور
تم کامیاب ہو جاؤ گے۔اور صرف شہادتین ہی
سے اسلام میں داخل ہوا جاتا ہے۔ اس لیے یہ ابتدا اور انتہا دونوں ہے۔ یہ اس بات کی
دلیل ہے کہ شہادت انسان کے زبان سے ادا
ہونے والی سب سے آخری چیز ہو ۔ اور اگر
شہادت کے بعد کوئی انسان پھر کوئی اور کلام کرتا ہے تو اس کو دوبارہ تذکیر و تلقین کی جائے گی یہاں
تک کہ شہادت اس کا سب سے آخری کلام ہو ۔(موقع :موسوعۃ الاحادیث النبویۃ ,
حدیث : من کان آخر کلامہ...)
اب اس حدیث سے جڑے ہوئے بعض دیگر مسائل کا ذکر کیا
جا رہا ہے ۔
کلمہ
توحید کی تلقین کا حکم اور اس کا وقت :
کلمہ توحید کی اسی اہمیت و فضیلت, عظمت و منزلت کی وجہ سے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے
کہ جب کسی مسلمان کے وفات کا وقت قریب ہو تو اس کو اس کلمہ کی تلقین کرو , اس
لیے مرنے والے شخص کو اس عظیم کلمہ کی
تلقین کرنا مستحب ہے تاکہ اس کا خاتمہ اسی
پر ہو اور اس کو اس عظیم بشارت کی کامیابی
حاصل ہو ۔ اس کی دلیل یہ صحیح حدیث ہے :
لقنوا موتاکم لا الہ الا اللہ یعنی اپنے مردوں کو لا الہ کی تلقین کرو (مسلم/917, ابن ماجہ/1444, ابن حبان /3004, صحیح الجامع
/5150) اور یہاں مردہ سے مراد وہ شخص ہے جو موت کے قریب ہے نہ
کہ وہ شخص جو فوت ہو چکا ہے ۔
شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے : ’’ موتاکم یعنی تمہارے مردوں ‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو موت
کے قریب پہنچ چکے ہیں، کیونکہ وہ ابھی تک دنیا
میں ہیں، اور ممکن ہے کہ اس کو تلقین کرنے
سے فائدہ ہو جس سے وہ کلمہ شہادت کو یاد کرکے اسے ادا کرے اور اہل جنت میں سے ہوجائے ۔(موقع : صید الفوائد ,حديث ((مَنْ كَانَ آخِرُ...)) رضوان العواضي)
موت کے بعد تلقین کا حکم:
اور جہاں تک
موت کے بعد کسی کو تلقین کرنے کی بات ہے تو یہ بدعت ہے کیونکہ حدیث میں اس کا ذکر
نہیں ہے اور اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں
ہے کیونکہ اب وہ دنیا سے آخرت کی طرف منتقل ہوگیا اور اب وہ یاد کرنے کے قابل بھی نہیں ہے ۔ اللہ
تعالى کا فرمان ہے: لتنذر(بعض قرءات میں تا خطاب کے ساتھ لتنذر ہے) من کان حیا تاکہ آپ زندہ شخص کو ڈرائیں(یس/70) ۔ ان کی بات ختم ہوئی ۔ (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ 1/838) (موقع : صید الفوائد ,حديث ((مَنْ كَانَ
آخِرُ...)) رضوان العواضي)
تلقین کی تعداد:
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے : جس کا آخری
کلام" لا الہ الا اللہ" ہو وہ جنت میں داخل ہوگا , اور اس تلقین کا حکم
دینا مندوب و مستحب ہے , اور اس تلقین پر
علماء کا اتفاق ہے لیکن اس کو کثرت کے ساتھ متواتر دہرانا ان کے نزدیک
ناپسندیدہ ہے کیونکہ اس کی وجہ سے وہ اپنے حالات کی تنگی اور تکلیف کی شدت سے
پریشان ہو سکتا ہے جس سے اس کے دل
میں اس سے نفرت پیدا ہوسکتی ہے اور کوئی نامناسب بات کہہ سکتا ہے ۔ علماء کرام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کسی نے
ایک بار کلمہ کہہ دیا ہے تو دوبارہ اس سے نہیں کہا جائے گا مگر یہ کہ وہ اس کے بعد
کوئی دوسرا کلام کرے تو پھر اس کو دوبارہ اشارہ کیا جائے گا تاکہ یہ
اس کا آخری کلام ہو ۔(بات ختم ہوئی
/شرح مسلم , نووی, 6/219) (موقع : صید الفوائد ,حديث ((مَنْ كَانَ آخِرُ...))
رضوان العواضي)
محمد رسول اللہ
کی تلقین کا حکم:
جو ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ "لا الہ الا اللہ " کہنا
اس گواہی کے بغیر کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، ایک مومن کے لیے کافی
ہے، کافر کے برعکس، اس کے لیے مکمل شہادت کا کہنا ضروری ہے ۔ لیکن اگر کوئی مومن اسے مکمل طور پر کہے تو اچھا
و بہتر ہے۔(موقع : صید الفوائد ,حديث ((مَنْ كَانَ آخِرُ...))
رضوان العواضي)
بعض کا کہنا ہے کہ اس سے مراد ہے کہ وہ شہادتین کو ادا
کرے صرف کلمہ توحید کو نہیں کیونکہ کلمہ توحید شہادتین کی علامت و نشانی ہے لہذا اس میں اللہ کے لیے
توحید کی شہادت اور محمد کے لیے رسالت کی شہادت دونوں کو شامل ہے ۔(موقع : الدرر السنیۃ, الموسوعۃ الحدیثیۃ: شروح
الاحادیث, من کا ن آخر کلامہ....)
علامہ مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ نے مرعاۃ المفاتیح (5/308) میں تحریر کیا ہے:
(المجموع میں ہے:موت کے
قرب انسان کو بنا کسی اضافہ کے صرف لا
الہ الا اللہ کی تلقین کی جائے گی , ظاہر
احادیث کی وجہ سے محمد رسول اللہ کی زیادتی مسنون نہیں ہے , بعض کے نزدیک یہ
زیادتی مسنون ہے کیونکہ اس سے مقصود توحید ہے , اس کا جواب یہ ہے کہ یہ توحید
پرست ہے , اور اس علت و سبب سے یہ مسئلہ
اخذ ہوتا ہے جس پر اسنوی نے بحث کی ہے کہ
اگر وہ کافر ہے تو اس کو شہادتین کی تلقین کی جائے گی اور ان دونوں کا حکم دیا
جائے گا) ۔(موقع : صید الفوائد ,حديث ((مَنْ كَانَ آخِرُ...))
رضوان العواضي)
فوائد
و مسائل :
اس حدیث میں بہت سے اہم فائدے اور مسائل ہیں جن میں سے اہم
کا خلاصہ ذیل میں دیا جاتا ہے:
اس حدیث سے کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کی عظیم فضیلت و مرتبت کا علم ہوتا ہے ۔ (موقع: الدرر السنیہ,موقع
:موسوعۃ الاحادیث النبویۃ ,... موقع : صید
الفوائد ,حديث ((مَنْ كَانَ آخِرُ..)
نیک اعمال و اقوال صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہوتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ان
الحسنات یذہبن السیئات (ہود/114) بے شک نیکیاں
برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔
یقینا بندہ کا قول قابل ثواب یا عقاب (سزا) ہے جس طرح اس کے افعال کی حالت ہے
بلکہ اقوال زیادہ قابل شدت اور سختی کے
لائق ہیں جیسا کہ قرآن و سنت کے نصوص میں واضح
طور پر بیان کیا گیا ہے۔
کسی انسان کا
اچھا خاتمہ ہونا بلا شبہ اس کے نیک و
صالح ہونے کی ایک نشانی ہے ۔(موقع : صید الفوائد ,حديث ((مَنْ كَانَ آخِرُ...))
رضوان العواضي)
محتضر
یعنی جو وفات کے قریب ہے اس کو کلمہ شہادہ کی تلقین کرنا مستحب و پسندیدہ عمل
ہے ۔(موقع :موسوعۃ
الاحادیث النبویۃ , حدیث : من کان آخر کلامہ...)
تلقین
مرنے کے بعد یا قبرمیں نہیں کی جاتی
ہے بلکہ کسی چیز کے کرنے اور نہ
کرنے میں نبی کریم کی اقتداء کرتے ہوئے موت کے وقت ہوتی ہے۔ اگر یہ اچھا عمل ہوتا
تو وہ ایسا کرنے میں ہم سے آگے ہوتے اورہم سے بازی لے جاتے ۔(موقع :موسوعۃ
الاحادیث النبویۃ , حدیث : من کان آخر کلامہ...)
مسلمانوں کے درمیان خوشخبری پھیلانا مستحب عمل ہے خاص طور سے جب اس کے پھیلانے پر ان میں خیر کے
لیے کوشش کرنے اور اس کے لیے مقابلہ
کرنے کا باعث بنے اور اس
کا جذبہ پیدا ہو ۔
اگر کوئی کافر صدق
دل کے ساتھ توحید کی گواہی دیتا ہے، اور پھر
فوراً مر جاتا ہے، تو وہ جنت کا مستحق ہے، خواہ اس نے اس کے علاوہ کچھ اور نہ کیا ہو۔
جنت توحید پرستوں کا ٹھکانہ ہے اور جو شخص بغیر توحید کے
مر جائے اس کے لیے اس میں کوئی جگہ نہیں ہے، چاہے اس کا عمل یا بھاگ دوڑ کچھ بھی ہو، جیسا کہ قرآن و سنت کی نصوص سے معلوم ہوتا ہے۔
بلا شبہ جو
دنیا میں توحید والے اور نیک اعمال کرنے والے
ہیں وہی آخرت میں عزت و احترام والے ہیں۔(موقع : صید الفوائد ,حديث ((مَنْ كَانَ آخِرُ...)) رضوان العواضي)
اس
دنیوی زندگی کو کلمہ توحید سے خیرباد کہنے کی فضیلت بہت زیادہ ہے ۔(موقع :موسوعۃ
الاحادیث النبویۃ , حدیث : من کان آخر کلامہ...)
اللہ
تعالى سے دعا ہے کہ وہ دنیا کے تمام مسلمانوں کو کلمہ توحید کی عظمت و اہمیت کو
جاننے, اس کے مطابق زندگی گذارنے اور موت کے وقت اس کو ادا کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
0 التعليقات: