غزہ میں انسانیت دم توڑ رہی ہے
غزہ
پٹی فلسطین کا ایک معروف و مشہور علاقہ
ہے، یہ نقشے پر کسی ستون کی مانند 41/ کلو میٹر لمبا اور 6- 12/ کلو میٹر
کے درمیان چوڑا ہے۔اس کا کل رقبہ
365/کلومیٹر مربع ہے۔ اس کے ایک طرف بحیرۂ روم ہے اور ایک جانب مصر پڑتا ہے. 2024ء
کی ایک رپورٹ کے مطابق اس چھوٹے سے خطے میں 23/لاکھ لوگ آباد ہیں۔
1948
ء سے اب تک متعدد دفعہ اسرائیل اور فلسطینی عسکری جماعتوں کے درمیان خونی ٹکراؤ ہوا
اور ہر دفعہ بے گناہ شہریوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی۔ 2007 سے اب تک حماس بھی اہل
غزہ کا کوئی بھلا نہیں کر سکا ہے۔ بلکہ اس کی اب تک کی ہر تدبیر الٹی ثابت ہوئی ہے۔
کیونکہ فلسطین دن بدن سکڑتا گیا ہے، متعدد مسائل کے دلدل میں دھنستا گیا ہے، جن بیرونی
طاقتوں کا آسرا تھا وہ بس پھپتیاں کستے رہے، ان سے بھی کچھ نہ ہوسکا اور آج نوبت بہ
ایں جا رسید کہ وہاں زندگی کے وسائل معدوم ہیں، اسرائیلی جارحیت نے 90/ فیصد مکانات
کو بری طرح نقصان پہونچایا ہے، اسکول اور طبی مراکز تک ڈھا دیئے ہیں،غزہ کی معاشی کمر
توڑ دی ہے، فلسطین کی نصف سے زائد آبادی خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
جبکہ ورڈ فوڈ پروگرام کے مطابق 63/ فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔
یہ
غربت و افلاس ،بھوک و پیاس , بے روزگاری، ناخواندگی اور پسماندگی کا گھروندا بن گیا
ہے۔ اور غزہ تو قید خانے کی شکل اختیارکر چکا ہے۔غزہ میں بھکمری کی صورت حال اس وقت انتہائی خوفناک, المناک ,
تشویشناک و خطرناک ہے,اس کو الفاظ میں بیان کرنا بہت ہی مشکل ہے , وہاں سے انسانوں
و حیوانوں کی ایسی تصاویر سامنے آرہی ہیں جن کو دیکھ کے
رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔غزہ میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں،
خاص کر بچوں کا بھوک کی وجہ سے برا حال ہے۔غزہ میں ہر5میں سے ایک بچہ شدید غذائی
قلت کا شکار ہے۔ہر 3 میں سے ایک شخص کو کئی کئی روز تک کھانا میسر نہیں آتا۔ورلڈ
فوڈ پروگرام کے مطابق غزہ میں بھوک کا بحران مایوسی کی نئی اور حیران کن سطح تک
پہنچ گیا ہے۔ اس نے غزہ کے لیے خوراک کی امداد میں اضافے پر زور دیا۔ 90,000
خواتین اور بچوں کو غذائی قلت کے فوری علاج کی ضرورت ہے۔ مرسی کور، ایم ایس ایف،
نارویجن رفیوجی کونسل سمیت 109 تنظیموں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ امدادی کارکن
خود قطاروں میں کھڑے ہوکر خوراک لینے پر مجبور ہیں۔
اسرائیل
نے مارچ 2025ع سے غزہ کو خوراک، ادویات
اور ایندھن کی سپلائی مکمل طور پر روک دی جس کے بعد صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ مئی
میں کچھ ریلیف دیا گیا تھا لیکن اقوام متحدہ کے مطابق روزانہ 500 سے 600 ٹرک
امدادی سامان کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ اس وقت صرف 69 ٹرک پہنچ رہے ہیں۔
غزہ کی پٹی میں بھکمری نے اب خوفناک
شکل اختیار کر لی ہے۔ اسرائیل کی ناکہ بندی کے باعث اشیائے خوردونوش اور ضروری
ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے جس کے باعث گزشتہ 3 /ہفتوں میں متعدد بچوں سمیت
درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ غزہ شہر کے مریض دوست اسپتال کی صورتحال اس قدر
خراب ہے کہ ڈاکٹر بچوں کو بچانے کے لیے ضروری ادویات اور غذائیت سے بھرپور خوراک
فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ گزشتہ ہفتے صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہوگئی جب صرف 4 /دنوں
میں 5 /چھوٹے بچے غذائی قلت کے باعث موت کا شکار ہوگئے ۔ ان میں سے کوئی بھی بچہ
پہلے ہی کسی سنگین بیماری میں مبتلا نہیں تھا، اس کے باوجود غذائیت کی کمی کے باعث
ان کی حالت اس قدر بگڑ گئی کہ انہیں بچایا نہ جا سکا۔
سنہ 2025 میں غذائی قلت سے متعلق 74/ اموات
میں سے 63 صرف جولائی میں ہوئیں۔ ان میں پانچ سال سے کم عمر کے 24 بچے، پانچ سال
سے زیادہ عمر کا ایک بچہ اور 38 بالغ شامل تھے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ صحت نے کہا، "ان میں
سے زیادہ تر افراد کو صحت کے مراکز پہنچنے پر مردہ قرار دے دیا گیا۔ یا پھر پہنچنے
کچھ دیر بعد ہی ان کی موت ہو گئی۔ ان کے جسموں میں بھوک سے نڈھال پن اور شدید
کمزوری کے واضح نشانات دکھائی دے رہے تھے۔"
اسرائیلی
جارحیت کے خلاف سو سے زائد انسانی حقوق اور امدادی تنظیموں نے اپنی تشویش کا اظہار
کیا ہے۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیل
کے بارے میں دو ٹوک کہا ہے کہ وہ غزہ میں عام شہریوں کے خلاف مسلسل جنگی جرائم کا ارتکاب
کر رہا ہے۔ وہ دانستہ طور پر بھوک پیاس کو ایک مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے
فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔
کتنے
دکھ کی بات ہے کہ آج کی انسانیت نواز کہی جانے والی دنیا کے سامنے لوگوں کو بھوک پیاس
سے تڑپا تڑپا کر مارا جا رہا ہے اور ہر جگہ اپنی طاقت و چودھراہٹ دکھانے والی حکومتیں
مجرمانہ چپی سادھے ہوئی ہیں۔
بولتے
کیوں نہیں مرے حق میں ****آبلے پڑ گئے زبان میں کیا
؟
تف
ہے !ماضی کی نسل کشی پر ماتم کرنے والے لوگ حال کی نسل کشی پر مجرمانہ خاموشی اختیار
کئے ہوۓ ہیں۔
مذکورہ
تنظیم نے عالمی برادری کو جھنجوڑتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب اپنی چپی توڑے، قابض اسرائیل
پر فوری دباؤ ڈالے اور اسے بین الاقوامی قوانین کا پابند بنائے تاکہ بھوک کو جنگی ہتھیار
کے طور پر استعمال کرنے کا غیر انسانی سلسلہ بند ہو۔ کیونکہ غزہ شدید غذائی قحط کا
شکار ہے اور ہر گزرتا دن معصوم انسانی زندگیاں نگل رہا ہے۔
کچھ
مسلم ممالک بطور خاص سعودیہ عربیہ، مصر، اردن اور امارات وغیرہ غذائی اشیاء کی
امدادی ٹرکیں اور کنٹینرس مصر کے راستے غزہ تک پہونچانے کی کوشش میں ہیں، لیکن ان کی
سیکڑوں گاڑیاں غزہ پٹی اور رفح بارڈر پر بے بس کھڑی ہیں، اسرائیل نے بیریکیڈنگ لگا کر ان کا راستہ روک رکھا ہے ۔ کاش کوئی ایسی
طاقت سامنے آتی جو جنگی مجرم کی گوش مالی کر پاتی اور انسانیت کا سبق سکھا سکتی!
خیر
28/جولائی کی ایک خبر کے مطابق بین الاقوامی دباؤ کے آگے اسرائیل کچھ جھکا ہے اور غزہ کے تین علاقوں میں جنگ میں روزانہ دس گھنٹے کا توقف شروع کیا ہے۔اس کے مطابق اسرائیلی
فوج نے 27/جولائی اتوار کے روز سے غزہ کے
تین آبادی والے علاقوں میں دن میں 10 گھنٹے جنگ میں محدود وقفہ شروع کر دیا ہے۔ اس
دوران طیاروں سے خوراک کے پیکٹ گرائے جا رہے ہیں۔ اسرائیل کا یہ اقدام غزہ میں
بھوک میں شدید اضافہ اور جنگ میں طرز عمل پر بین الاقوامی شدید تنقید و دباؤکے بعد اٹھایا گیا ہے۔
اسرائیلی
فوج نے کہا کہ صبح 10 بجے سے رات 8 بجے تک تین علاقوں میں جنگ میں توقف رہے گا۔ یہ
تین علاقے غزہ شہر، دیر البلع اور مواصی میں، تمام بڑی آبادی والے، علاقے ہیں جہاں داخل
ہونے والی انسانی امداد میں اضافہ کیا جائے گا۔لیکن ظاہر ہے کہ حالات کی
سنگینی کے اعتبار یہ امداد مکمل طور سے ناکافی ہےاور اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے
۔لیکن کچھ نہیں سے تو کچھ اچھا ہے ۔
تصور
کیجئے وہاں کے حالات کا جہاں آشیانے اجڑ چکے ہوں، زمین فضا اور سمندر سے وحشیانہ حملے
ہو رہے ہوں، خیموں یا کھلے آسمان تلے جینے کی مجبوری ہو، جہاں نہ علاج میسر ہو نہ موسم
کے سرد وگرم سے بچنے کا کوئی انتظام۔ اور پھر پانی دانہ بند کر کے نسل کشی کی جا رہی
ہو۔
آج غزہ میں انسانیت تڑپ رہی ہے،لوگ بلک رہے
ہیں، انسان ہی نہیں کتے بلی بھی ریگستانی پودوں کی طرح سوکھ رہے ہیں۔ اب وہاں کے عام
شہریوں کو بموں کا اندیشہ کم ہے، زیادہ ڈر بھوک پیاس سے تڑپ تڑپ کر مر جانے کا ہے۔
سوال
یہ ہے کہ اس نسل کشی کا سلسلہ کب اور کیسے تھمے گا؟ بات چیت سے؟ عسکری زور آزمائی سے؟
عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی ثالثی سے؟
یہ
سچ ہے کہ جو چیز طاقت اور دادا گیری سے ہڑپی گئی ہے اسے زورِ بازو سے واپس لیا جانا پہلا آپشن ہے۔ لیکن جب فریقین
میں طاقت کا کوئی توازن نہ ہو تو اسے شجاعت
نہیں تہوّر اور احمقانہ اقدام کہا جائے گا۔ بات چیت اور صلح سمجھوتے کی راہ سب سے کارگر
ہے۔ ویسے بھی متعدد جنگوں میں ابھی تک فلسطینیوں نے لاکھوں قربانیاں دی ہیں، ان گنت
لوگ معذور ہوئے ہیں، شہادت کا اب یہ جذباتی سلسلہ رکنا چاہئے، فلسطینیوں کو ان کے حقوق
دلانے کے نام پر ورغلانے والوں کی دکانیں بند ہونی چاہئے۔ یاد رکھئے! بھاگنا ہر بار
بزدلی نہیں ہے کہیں کہیں قدم پیچھے ہٹانا حکمت عملی کا حصہ اور وقت کا تقاضا ہوتا ہے۔
دوسروں پر تکیہ بھلے درست نہیں ہے لیکن انصاف پسند لوگوں کو بھی اپنا فرض نبھانے کا
موقع ملنا چاہیے، صاف نظر آرہا ہے کہ اسرائیلی ظلم کا گھڑا بھر چکا ہے، اب انصاف پسندوں
کو آگے بڑھ کر اسے پھوڑنا چاہئے۔ فلسطینی عوام امن چاہتی ہے، شانتی کی تلاش میں ہے،
آزادی کی سانس لینا چاہتی ہے اسے بلا شبہ یہ حق ملنا چاہئے۔ اور اس
میں جو جس قدر ہاتھ بٹا سکتا ہے بٹانا چاہئے اور غزہ میں دم توڑتی انسانیت کو بچانا
چاہئے۔
اور
یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب مسلمان ممالک انفرادی , اجتماعی اور سیاسی تینوں
سطحوں پر اسلام کو مکمل طور سے نافذ کریں
گے, سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھیں گے , فکری , سماجی و اقتصادی غلامی
کی ذہنیت سے باہرنکلیں گے, اپنے اندر اتفاق و اتحاد پیدا کریں گے اور دوسروں کا
سہارا لینا چھوڑ دیں گے ورنہ جس طرح آج
بنا عمل کے کمزوری کا بہانہ بنا کر اس
کا رونا رو رہے ہیں اور ذلت و رسوائی کی زندگی گذار
رہے ہیں آئندہ بھی اسی طرح آنسو بہاتے رہیں گے
اور ذلت و رسوائی ان کا مقدر ہوگی ۔و ما علینا الا البلاغ و آخر دعوانا ان
الحمد للہ رب العالمین ۔
0 التعليقات: