ایمان و عمل صالح کا ایک ساتھ ذکر: دلالت و مفہوم


           اسلا م میں عمل صالح کی از حد  اہمیت و فضیلت , فوائد و نتائج 
                                          اور
                          ہم مسلمانوں کی بے حسی اور غفلت
                                                                            دوسری قسط
ایمان و عمل صالح کا ایک ساتھ ذکر: دلالت و مفہوم             
      عمل صالح کی ازحد اہمیت و فضیلت پر دلالت کرنے والی چیزوں میں سے ایک اللہ سبحانہ تعالى کا بذات خود  أپنے مقدس کلام قرآن مجید میں ایمان اور عمل صالح کا ایک دوبار نہیں بلکہ زائد از ستر  بار جگہ  بجگہ ان دونوں کا ایک ساتھ ذکر کرنا ہے۔بطور مثال چند آیات یہ  ہیں:
     وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ  هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (بقرۃ/82)
    إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ(بقرۃ/277)
    إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُم بِإِيمَانِهِمْ  تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ (یونس/9)
اس کے علاوہ آیتوں کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
      اب سوال یہ پیدا ہوتا کہ آخر اللہ نے ان دونوں کا تذکرہ ایک ساتھ اور پھر بار بار اور اتنا زیادہ کیوں کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ اس کے پیچھے بہت سارے مقاصد, حکمتیں اور فلسفے ہیں۔اوراس میں بہت ساری چیزوں کی طرف واضح اشارہ  اور کھلا ہوا پیغام ہے۔ جن میں سے چند یہ ہیں:--
     1۔ایمان اور عمل صالح کا باہمی مضبوط تعلق: دونوں کا متعدد بار ایک ساتھ ذکر کرکے اللہ تعالى ہم مسلمانوں کو ان دونوں کا باہمی مضبوط ربط اورآپسی  گہرا تعلق بتلانا چاہتا ہے کہ وہ دونوں آپس میں ایک دوسرے سے مربوط اور جڑے ہوئے ہیں ۔ وہ دونوں ایسے اجزاء ہیں جو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے ہیں۔ اورعمل صالح ایمان کے لوازمات میں سے ہے۔اس کا ایک بنیادی حصہ ہے۔دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔اور ان کا یہ لزومی تعلق وجودی نوعیت کا ہے کہ اگر  ایک کا وجود نہیں ہے تو دوسرا بھی بے معنى و بیکار ہے۔یعنی اگر ایمان ہے اور عمل صالح نہیں ہے تو ایمان غیر مفید و غیر نفع بخش ہے ۔اسی طرح اگر عمل صالح ہے اور ایمان نہیں ہے تو وہ بھی کسی کام کا نہیں ہے۔ دونوں کا ایک ساتھ وجود ضروری ہے۔ فرمان باری تعالى ہے: وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات ِلَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ ( مائدہ/9) ایک دوسری آیت میں ہے: وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (زخرف/72 ) ایک تیسری آیت میں ہے:إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ  إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ (حج/14 )
       اس قسم کی اور بھی آیتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن نجات کے لیے ایمان اور عمل صالح دونوں کا ایک ساتھ  پایاجانا ضروری ہے۔ایک دوسرے کے بغیر فائدہ مند نہیں ہے۔
      ایمانی تربیت کے دو پہلو ہیں جو ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتے ہیں۔(1) ایمان (2) عمل صالح۔ایمان کی جگہ دل ہے جبکہ عمل صالح کی جگہ جسمانی اعضاء ہیں۔اسی طرح  عمل صالح  دین کا جوہر ہے۔ ایمان کا عظیم ترین مظہر اور اس  کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔
        علاوہ ازیںایمان بنیاد ہے عمل صالح اس کی عمارت ہے اور کوئی بھی بنیاد  اپنے عمارت سے کیسے بے نیاز ہو سکتی ہے اور کیسے کوئی عمارت بغیر بنیاد کے قائم ہوسکتی  ہے۔  
      اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایمان وعمل  دونوں کا آپس میں بہت ہی قوی  ربط اور باہمی مضبوط تعلق ہے۔دونوں ایک دوسرے سے بے نیاز اور جدا نہیں ہو سکتے ہیں ۔اور دونوں علیحدہ علیحدہ مستقل طور پر غیر نفع بخش اور غیر مفید ہیں۔دونوں کا ایک ساتھ وجود ضروری ہے۔دونوں کو ایک ساتھ بار بار بکثرت ذکر کرنے کا فلسفہ و حکمت یہی ہے۔
       2- ایک دوسرے کے بغیر مفید و کارآمد نہیں ہے: اللہ عزوجل نے ایمان و عمل صالح کو آپس میں جوڑکے ہم مسلمانوں کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ ایمان بغیر عمل صالح کے خاص طور سے دنیا میں  مفید و نفع بخش نہیں ہے۔کار آمد و فائدہ مند  نہیں ہے جس طرح عمل صالح  بغیر ایمان کے مقبول نہیں ہے۔اور اسکی کوئی قیمت و وزن نہیں ہے اور دنیا میں اس کا کوئی نتیجہ برآمد ہونے والا نہیں ہے۔ہاں آخرت میں گناہ گار شخص کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔چاہے تو اس کو بنا عذاب کے بخش دے یاعذاب دینے کے بعد بخش دے۔اللہ تعالى کا فرمان ہے: وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ , وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (نور/55-56)
      آیت نمبر 55 میں  اللہ عزوجل نے مسلمانوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایمان وعمل کی بنیاد پر ان کو دنیا میں سلطنت و حکومت عطا کرے گا۔ ان کے دین کو غالب کردےگا۔ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔لیکن شرط ہے کہ صرف ایمان کا کھوکھلا دعوى  نہ ہو بلکہ  اس کا ثبوت اور دلیل عمل صالح بھی  ہو۔ نیز صرف اور صرف مسلمان اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹہرائیں۔
اور آیت نمبر 56 میں بتلایا کہ اگر میری رحمت کے مستحق بننا چاہتے ہو تو نماز پڑھو زکوۃ دو ,رسول کی اطاعت کرو یعنی دوسرے الفاظ میں  عمل ضرور کرو۔ورنہ صرف دعوى کرکے میری رحمت تم کو باکل نہیں ملے گی۔
    تاریخ سے باکل واضح ہے کہ جب مسلمانوں نے اسلام کے مطابق عمل کیااور اس کو اپنی زندگی اور زمین پر نافذ کیا۔ تو اللہ نے ان دونوں آیتوں میں کیا گیا أپنا وعدہ پورا کیا کیونکہ اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا ہے ۔ اور اس کا وعدہ بالکل سچا ہوتا ہے۔اللہ نے مسلمانوں کو دنیا کا فاتح بنایا۔ان کو عزت و سلطنت عطا کی۔ دین کو غلبہ عطا کیا۔ پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کا بول بالا تھا۔کوئی مسلمانوں کی طرف بری نگاہ سے دیکھتا بھی نہیں تھا۔
     لیکن موجودہ دور میں عمل سے عاری ایمان کے دعویدار مسلمانوں کی کیا حالت ہے۔تعداد تو بہت زیادہ ہے ۔اس کے باوجود جو ان کی سیاسی, اقتصادی,تعلیمی, فوجی, تجارتی, صنعتی  جوحالت ہے وہ اہل علم سے مخفی نہیں ہے۔اور اس کا مشاہدہ آج کے دور میں ہم مسلمان خود أپنی آنکھوں سے کر رہے ہیں۔اس کی خاص وجہ آج کے دور میں مسلمانوں میں اعمال صالحہ کی بہت زیادہ کمی ہے۔اس کے مقابلہ میں برائیوں کی کثرت ہے۔ نیز ہماری عبادات خلوص اور معنویت سے خالی ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ آج کل کے مسلمان پوری دنیا میں سب سے زیادہ ذلیل و خوار ہیں۔ انکی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔اور نہ ہی ان کا کوئی وزن ہے۔
    سورہ نور کی یہ دونوں آیتیں موجودہ دور کے مسلمانوں کے لیے آئینہ ہیں جس میں ہر مسلم کو اپنا چہرہ دیکھ کے جائزہ لینا چائیے اور خود احتساب کرنا چائیے۔فورا معلوم ہوجائے گا کہ آج کی دنیا میں ہماری بے عزتی, ذلت و خواری کی وجوہات کیا ہیں؟
     3- عمل صالح ایمان کے صحیح ہونے کی دلیل و علامت ہے:دونوں کو ایک ساتھ ذکر کرکے یہ بتلانا مقصود ہے کہ ایمان صرف چند کلمات کی ادائیگی یا محض زبانی جمع خرچ  کرنے یا بغیر دلیل کے صرف دعوى کرنے کانام  ایمان نہیں ہے۔بلکہ عمل صالح ایمان کی بنیاد ہے۔ اس کا نا جدا ہونے والا جزء ہے۔وہی ایمان کا مظہر اور اس کے صحیح ہونے کی دلیل و علامت ہے۔آخر اس ایمان کا کیا فائدہ ہے جس کی ترجمانی عمل نہ کرے ۔بلکہ بعض کے یہاں تو یہ ایمان مانا ہی نہیں جائے گا۔لہذا ایمان کے ساتھ عمل صالح ضروری ہے۔
      4- ایمان میں کمی و بیشی:دونوں کو ایک ساتھ ذکر کرنے میں یہ حکمت بھی پوشیدہ ہے کہ عمل صالح کے بقدر ایمان کم و زیادہ ہوتا ہے۔أگر عمل صالح زیادہ ہے تو اس کا واضح مطلب ہے کہ انسان کا ایمان بھی زیادہ ہے اور اگر کم ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انسان کا ایمان بھی کم ہے۔اور اگر کسی کا دعوی ایمان کا ہے لیکن عمل بالکل نہیں ہے تویہ واضح طور پر اس کے ایمان میں خلل و نقص کی علامت ہے۔ ایسے شخص کو اپنے ایمان کا جائزہ لینا چائیے کیونکہ ایسا وہی کرسکتا ہے جو منافق یا زندیق ہے۔
       اب آئیے ذرا أعداد و شمار کی زبان میں عمل صالح کی اہمیت و فضیلت کا جائزہ لیتے ہیں۔یہ جاننے کے لیے کہ اللہ عزوجل نے  قرآن مجید میں کتنی بار ایمان اور عمل صالح کا تذکرہ  مختلف اسلوب وپیرایہ میں ایک ساتھ کیا ہے پہلے میں نے المعجم المفہرس لالفاظ القرآن الکریم کی طرف رجوع کیا تو یہ حقیقت سامنے آئی  کہ ایمان و عمل صالح کا ذکر ایک ساتھ  الذین آمنوا و عملوا الصالحات کے الفاظ میں 52بار ہوا ہے۔اور  وہ آیتیں یہ ہیں۔میں صرف سورہ اور آیت نمبر لکھ دیتا ہوں تاکہ مضمون زیادہ طویل نہ ہو۔ آپ خود قرآن مجید میں ان کو دیکھ سکتے ہیں:
بقرہ/25, 82 ,277                  آل عمران/57,             نساء/57 , 122  ,173
مائدہ/9 , 93   آخری آیت میں دوبار آیا ہے۔    أعراف/ 42                 یونس /4, 9
ہود/23             رعد/29                 إبراہیم / 23                  کہف/30, 107
مریم /96            حج/ 14, 23 , 50 ,56             نور/55           شعراء/227   
عنکبوت/7 , 9 ,  58          روم/ 15 , 45                  لقمان/8            سجدۃ/19
سبا/4                فاطر/ 7                 ص /24, 28                غافر /  58       
 فصلت /8            شورى/22 , 23 , 26           جاثیۃ/21, 30      محمد/2 , 12     فتح / 29             طلاق /11              إنشقاق/25                بروج/11          تین/6   
    بینہ/7                عصر /3
   اور دیگر اسلوب  و الفاظ میں 19 بار ہوا ہےجو یہ ہیں:
ومن یعمل من الصالحات من ذکر أو أنثى وہو مؤمن فاولئک یدخلون الجنۃ (نساء / 124)
و یبشر المؤمنین الذین یعملون الصالحات أن لہم أجرا حسنا (کہف/2)
و من یاتہ مؤمنا قد عمل الصالحات فاولئک لہم الدرجات العلى(طہ/75)
ومن یعمل من الصالحات و ہو مؤمن فلا یخاف ظلما و لاہضما(طہ/112)
فمن یعمل من الصالحات وہو مؤمن فلا کفران لسعیہ( أنبیاء/94)
من آمن باللہ و الیوم الاخر و عمل صالحا فلہم أجرہم عند ربہم (بقرہ/62, مائدہ/69 )
من عمل صالحا من ذکر أو انثى وہو مؤمن (نحل/97,غافر/40 )
و أما من  آمن و عمل صالحا فلہ جزاء الحسنى(کہف/ 88,مریم/60, طہ/82,فرقان/70, 71 ,قصص/67 ,80 , سبا/37 )
ومن یؤمن باللہ و یعمل صالحا یکفر عنہ سیئاتہ (تغابن/9 , طلاق /11 )
     یعنی کل  71  بار اللہ سبحانہ و تعالى نے بذات خود مختلف اسلوب و الفاظ میں ایمان و عمل صالح کا ذکر ایک ساتھ کیا ہے۔اسی سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عمل صالح کی اللہ سبحانہ و تعالى کی نظر میں کتنی زیادہ اہمیت  و فضیلت ہے۔اور فرد و امت کی زندگی میں اس کا کتنا زیادہ اثر و دخل ہے۔عمل صالح سے ایک امت کس قدر رفعت و بلندی کو پاسکتی ہے۔ شان و شوکت,سلطنت و حکومت , آرام و چین , سکون و اطمینان حاصل کرسکتی  ہے۔ اور اگر معاملہ اس کے الٹا ہے تو کس طرح سے مسلم قوم ذلیل و خوار ہوسکتی  ہے  ۔اپنی پونجی و سرمایہ گنوا سکتی ہے۔سلطنت و حکومت, قیادت و سیادت سے دستبردار ہوسکتی ہے۔ ذلت و رسوائی کے ساتھ خوف و دہشت کے سایہ میں زندگی گذارنے کے لیے مجبور ہوسکتی ہے ۔جیسا کہ ہم خود دیکھ رہے ہیں۔  اسی لیے اللہ تعالى اس کا بار بار تذکرہ کر رہا ہے۔ اور ہم مسلمانوں کو حکم دے رہا ہے کہ عمل صالح سے قطعا غافل نہ ہوں ورنہ اس کا انجام بہت ہی بھیانک  ہوگا۔
      کیا ہم مسلمان اللہ کے فرمان سے نصیحت حاصل کریں گے, ہوش کے ناخن لیں گے یا اب بھی غفلت میں پڑے رہیں گے اور خواب خرگوش میں مست رہیں گے۔سوچئے اور غور کیجیے۔

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: