توحید کے بغیر کوئی عبادت مقبول
نہیں
ڈاکٹر عبد المنان محمد شفیق مکی
اللہ جل جلالہ نے قرآن مجید میں جا بجا یہ واضح کیا ہے
کہ توحید کے بغیر کوئی بھی عمل اور عبادت اس کے نزدیک مقبول نہیں ہے ۔احادیث میں
بھی اس کا ذکر ہے اور اس سلسلے میں نصوص
کی کثرت ہے ۔ تمام نصوص کو یہاں بیان کرنا ممکن نہیں ہے اور نہ ہی یہ مقصود ہے۔
یہاں صرف چند آیتوں کی روشنی میں یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ توحید کے بغیر کوئی
بھی چھوٹا یا بڑا عمل, کسی بھی قسم کی
عبادت قابل قبول نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی اعتبار ہے بلکہ وہ رائیگاں اور
برباد ہے ۔
محترم قارئین:
اللہ تعالى ارشاد فرماتا ہے:{وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُواْ ٱللَّهَ
مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُواْ ٱلزَّكَوٰةَۚ
وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلۡقَيِّمَةِ ٥} (بینۃ /5)
ترجمہ: اور ان کو اس کے
سوا کوئی اور حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ
صرف اللہ کی عبادت کریں, اس کے لیے اپنے
دین کو خالص کرکے , بالکل یکسو ہوکر, اور نماز
قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں ۔ یہی نہایت صحیح اور درست دین ہے ۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ موضوع کی وضاحت سے پہلے کچھ
کلمات کے معانی اور آیت کی تفسیر بیان کردی
جائے تاکہ موضوع کو سمجھنے میں ممد و معاون ہو۔
معانی کلمات:
یعبدوا:یہ عبد سے فعل مضارع ہے ۔اسی سے عبادت ہے جس کا
معنى اطاعت و فرماں برداری کرنا, پرستش,
بندگی اور پوجا کرنا وغیرہ ہے ۔
مخلصین:یہ اخلص سے اسم فاعل ہے اور مخلص کی جمع ہے , اسی سے اخلاص ہے جس کا لفظی معنى نیک نیتی, خلوص, وفاداری اورکسی چیز سے ملاوٹ کو ختم کرنا و صاف کرنا ہے۔شرعی اصطلاح میں صرف اور صرف اللہ کی
رضامندی و خوشنودی کے لیے کوئی عبادت کرنا
اخلاص کہلاتا ہے ۔
الدین:یہ مصدر ہے اس کی جمع ادیان ہے, یہ کئی معانی کے
لیے آتا ہے جیسے : ہر وہ چیز جس کے ذریعہ اللہ کی عبادت کی جائے دین ہے, حساب, ملکیت, قدرت, حکم, مذہب, ملت,
حالت, عادت, سیرت, فرمانبرداری, قہر و غلبہ وغیرہ۔ اسی سے ہے مالک یوم الدین یعنی
حساب کے دن کا مالک ہے, قوم دین یعنی فرمانبرداری کرنے والے لوگ , یہاں مذہب و ملت
مراد ہے۔
حنفاء:
حنیف کے معنی ہیں مائل ہونا کسی ایک طرف یکسو
ہونا ۔ حنفاء جمع ہے۔ یعنی شرک سے توحید کی طرف اور تمام ادیان سے منقطع ہو کر صرف
دین اسلام کی طرف مائل اور یکسو ہوتے ہوئے۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا۔(تفسیر
احسن البیان) حنف سے ماخوذ ہے جو دین باطل سے دین حق کی طرف مائل ہونا ہے۔ اس کے
بالمقابل جنف ہے جو حق سے باطل کی طرف مائل ہونا ہے۔(الوسیط للطنطاوی) موحد, ابراہیم علیہ السلام کے دین کا متبع ۔
القیمۃ: لفظ قیمۃ کا وزن فیعلۃ ہے اور یہ قوامۃ سے
ماخوذ ہے جس کا معنى انتہائی استقامت و
درستگی ہے , اور یہ صفت ہے اس کا موصوف محذوف ہے۔(موقع المعانی,
فیروز اللغات الوسیط للطنطاوی, تفسیر احسن
البیان)
تفسیر: مذکورہ بالا آیت
میں اللہ تعالى نے کئی اہم, ضروری و بنیادی احکام جیسے عبادت کرنے , صرف اللہ کی عبادت کرنے جسے توحید کہا جاتا ہے, حنیفیت, اخلاص,
نماز کو قائم کرنا اور زکوۃ کی ادائیگی کا
تذکرہ کیا ہے۔یہاں پر ان سب کا ذکر مقصود نہیں ہے اور نہ ہی ان سب کا اس مختصر
مضمون میں بیان کرنا ممکن ہے ۔ لہذا یہاں پر موضوع کی مناسبت سے صرف اللہ کی عبادت
یعنی توحید کا ذکر کیا جا رہا ہےاور یہ
واضح کیا جا رہا ہے کہ تمام عبادات کی قبولیت کا دارومدار توحید پر ہے اور اس کے
بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی ہے ۔لیکن پہلے آیت کی تفسیر ذکر کی جاتی ہے ۔
اس
آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ ان کے یعنی اہل کتاب کے اوپر کس چیز کا کرنا ضروری تھا ، چنانچہ فرمایا:
وما أمروا الا لیعبدوا اللہ .....
اللہ
تعالى کے قول : و ما امروا میں و اؤ حال
کے لیے ہے , لہذا یہ جملہ حالیہ ہے اور اس
کا مقصد یہ بتانا ہے کہ یہ گمراہ لوگ قباحت اعمال اور دماغ کی خرابی کی انتہا کو پہنچ
گئے تھے، کیونکہ انہوں نے تفرقہ کیا ،
اختلاف کیا اور ہدایت سے منہ موڑا ، حالانکہ انہیں صرف وہی کرنے کا حکم دیا
گیا تھا جس میں ان کے لیے بہتری ہے۔ (الوسیط
للطنطاوی)
لیعبدوا اللہ
مخلصین لہ الدین : ان کو تمام ادیان و شریعتوں میں حکم تو یہی ہوا تھا کہ وہ اللہ کی اخلاص کے ساتھ عبادت کریں۔ یعنی اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبادات سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس سے قربت کی طلب کو اپنا مقصد بنائیں ۔
حنفاء: یعنی
یکسو ہو کر یعنی دین توحید کے مخالف تمام ادیان سے منہ موڑ کر صرف دین
حق کو اپنائیں ۔(تفسیر سعدی)
مطلب
ہے کہ اہل کتاب (یہود و نصاری ) کے ان
کافروں نے حق کی بابت تفرقہ اور اختلاف کیا
حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں , خلوص کے
ساتھ اس کی اطاعت کریں, اور باطل ادیان سے
منہ موڑ کر حق دین کو اپنائیں , اور تمام
رسولوں پر بنا کسی تفریق کے ایمان
لائیں کیونکہ ان سب کا مذہب ایک تھا۔ ان کو یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ
نماز کو اس کے مقررہ اوقات میں اللہ رب العالمین کے لیے خشوع اور اخلاص کے ساتھ قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں
جو ان کو پاک و صاف کرتی ہے۔(الوسیط للطنطاوی)
و یقیموا الصلاۃ و یؤتوا الزکاۃ: اور نماز قائم کریں اور
زکوٰۃ ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے نماز اور
زکوٰۃ کو الگ سے ان کے فضل وشرف کی بنا پر
خاص طور سے ذکر کیا ہے ، حالانکہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ارشاد : لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ میں داخل ہیں ، نیز اس لیے بھی انہیں الگ ذکر کیا کہ یہ
دونوں ایسی عبادتیں ہیں کہ جس نے ان کو ادا کیا تو
گویا اس نے دین کے تمام قوانین و احکام کو پورا کیا ۔(تفسیر سعدی)
و
ذلک دین القیمۃ : القیمۃ محذوف موصوف کی صفت ہے۔ دِينُ الْمِلَّةِ
الْقَيِّمَةِ أَيْ : الملۃ القائمۃ العادلۃ يَا الامۃ الْمُسْتَقِيمَةُ
الْمُعْتَدِلَةُ
، (اور یہی سچا دین ہے) مطلب: راست اور عادل مذہب، یا: راست اور معتدل قوم۔ اکثر ائمہ
مثلا زہری اور شافعی نے اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ اعمال
، ایمان میں داخل ہیں ۔ (ابن کثیر)
(
و ذلک اور وہ) یعنی جس کا ہم نے ان کو حکم دیا تھا جیسے وہ ہماری اخلاص کے ساتھ
عبادت کریں اور ہمارے فرائض کو ادا کریں ، درست دین ہے۔ یعنی درست اور صحیح ملت کا مذہب
یا درست کتابوں کا مذہب ہے ۔(الوسیط
للطنطاوی) یا دین مستقیم ہے جو نعمتوں بھری جنت میں پہنچاتا ہے
اور اس کے سوا دیگر ادیان، ایسے راستے ہیں جو جہنم میں لے جاتے ہیں۔(تفسیر
سعدی)
آمدم بر سر مطلب:
توحید کے
بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی ہے:
آیت
کی تفسیر کے بعداب یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ توحید کے بغیر کوئی عبادت اللہ کے
نزدیک مقبول نہیں ہے اور نہ ہی اس سے آخرت میں کوئی فائدہ ہوگا۔
بلا
شبہ عقیدہ توحید اسلام کی اساس و بنیاد ہے, اسی پر اس کی پوری عمارت قائم ہے۔ ایک اللہ
کی وحدانیت کا اقرار اور اس کی عبادت و بندگی میں کسی کو شریک نہ کرنا یہی دین کا خلاصہ
اور بندگی کا تقاضا ہے۔اس کی اہمیت و
فضیلت, افادیت و ضرورت کے لیے صرف اتنا
کافی ہے کہ اس کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی ہے اور وہ اعمال صالحہ کی قبولیت
کے لیے ایک اہم و بنیادی شرط ہے۔ اسی طرح
توحید کے بغیر قیامت کے دن اعمال
کا کوئی فائدہ یا وزن نہیں ہوگا
۔اور خود اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنی
آخری کتاب قرآن مجید میں جا بجا اس کا حکم دیا ہے ۔توحید کی اہمیت و فضیلت, ضرورت
و افادیت کو جاننے کے لیے مجلہ اصلاح و
ترقی کے اس شمارہ کا مطالعہ کرنا ازحد
مفید و بہتر ہوگا۔
برادران
اسلام : اللہ تعالى نے مذکورہ بالا آیت میں نہایت
واضح و صریح طور پر صرف اور
صرف اخلاص اور حنیفیت کے ساتھ اپنی عبادت کا حکم دیا ہے ۔ اور
یہی حکم
تمام سابقہ اقوام کو ان کے انبیاء کے ذریعہ دیا گیا۔ ان کی شریعتوں میں یہی حکم بیان کیا گیا اور اس پر سختی سے عمل کرنے کے لیے کہا گیا
۔اسی کا نام توحید ہے اور سب سے بڑی و اہم چیز جس کا اللہ نے حکم دیا ہے وہ بلا شبہ توحید ہی ہے
جو صرف تنہا اللہ کی عبادت کرنے کا نام ہے , صرف اسی کی
عبادت کرنا کسی اور کی نہیں اور نہ ہی اس کی عبادت میں کسی کو شریک
کرنا,اس کے ساتھ کسی بت، نبی، فرشتے، پتھر، جن یا کسی اور چیز کی پرستش نہ کرنا۔
اور سب سے بڑی برائی جس سے اللہ نے منع کیا ہے وہ شرک ہے, جو اللہ
کے ساتھ کسی اور کو پکارنا ہے ۔
اس کی واضح و صریح دلیل
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:وَاعْبُدُوا
اللهَ وَلاَ تُشْرِكُوْا بِهِ شَيْئاً (نساء/36) اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
اس آیت میں اللہ عز وجل نے جہاں ایک طرف اپنی عبادت کا حکم دیا ہے
وہیں دوسری طرف شرک سے بھی منع کردیا ہے
کیونکہ دونوں چیزیں ایک ساتھ قطعا جمع نہیں ہوسکتی ہے ۔ جو موحد ہوگا وہ
مشرک نہیں ہوگا اور جو مشرک ہوگا وہ قطعا موحد نہیں ہو سکتا ہے ۔ علاوہ ازیں اگر شرک عبادت میں داخل ہو جائے تو اسے باطل کر
دیتا ہے، جس طرح نجاست طہارت میں داخل ہو جائے تو اسے باطل کر دیتی ہے۔ البتہ اگر شرک
بڑا شرک ہے تو یہ تمام عبادات کو باطل کر دیتا ہے۔اور اگر یہ چھوٹی شرک کی کوئی قسم ہے تو اس کا انجام اس عمل کو باطل کرنا ہے جس میں دکھاوا ہے ، لیکن
وہ اس کے دوسرے مخلصانہ اعمال کو باطل نہیں کرے گا ۔
اس کی دلیل اللہ تعالى کا یہ فرمان ہے : ولقد
اوحی الیک و الى الذین من قبلک لَئِنْ
أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ ولتکونن
من الخاسرین(الزمر:65) اور یقینی طورپر آپ کی طرف اور آپ سے پہلے کے تمام انبیاء کی
طرف یہ وحی کی جا چکی ہے کہ اگر آپ نے شرک
کیا تو آپ کا عمل ضائع ہوجائے گا اور آپ لازما
نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوں گے ۔ایک
دوسری آیت میں ہے: وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا
كَانُوا يَعْمَلُونَ (الأنعام:88) اور اگر فرضا یہ حضرات بھی شرک کرتے تو ان کا سب کیا کرایا رائیگاں ہوجاتا۔
اور حدیث قدسی میں آیا ہے: "أنا أغنى الشركاء
عن الشرك، من عمل عملاً أشرك فيه معي غيري تركته وشركه" میں
تمام شریکوں میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں
جس نے کوئی عمل کیا اور اس میں
میرے ساتھ میرے علاوہ کو شریک کیا تو میں
نے اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑدیا ۔یعنی اللہ تعالى کسی بھی عمل
کو صرف اسی صورت میں قبول کرے گا جب کہ اس میں اخلاص ہو , خالص عمل ہو اور اس کا مقصد صرف اللہ کی خوشنودی ہو ۔
اس کے علاوہ اللہ تعالى کا ارشاد ہے:﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ ﴿وَمَا
خَلَقْتُ﴾ خلق اللہ تعالى کا عمل ہے﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ﴾ اور ہم نے انسانوں و
جناتوں کو نہیں پیدا کیا ہے مگر ایک مقصد کے تحت جس کی وضاحت اللہ تعالى کے
قول" الا لیعبدون" سے ہوتی ہے یعنی مگر وہ صرف میری عبادت کریں ۔
اور حضرت عبد اللہ بن عباس وغیرہ سے منقول ہے کہ قرآن میں عبادت کا
ہر حکم توحید کا حکم ہے ۔اس بنا پر اللہ تعالى کے قول: الا لیعبدون کا معنى ہے:
الا لیوحدون فی العبادۃ یعنی وہ صرف تنہا میری عبادت کریں , خصوصی طور پرصرف میری عبادت کریں , میرے ساتھ میرے علاوہ کی
عبادت نہ کریں , صرف اور صرف میری عبادت کریں ۔
اس لیے ہر مسلمان کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ عبادت صرف اسی وقت عبادت کہلاتی ہے جب وہ توحید پر ہو
۔ یہ ایک اصول و قاعدہ ہے جس کا ہرایک کے لیے جاننا ضروری ہے ۔ جیسا کہ ابن عباس
کا قول ہے کہ عبادت کا ہر حکم توحید کا حکم ہے
کیونکہ توحید کے بغیر کوئی عبادت عبادت نہیں ہوتی ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسے اعمال جن کو بہت سارے لوگ انجام دیتے ہیں
مثلا ایک طرف وہ اللہ سے سوال کرتے ہیں اور دوسری طرف پتھروں سے بھی مانگتے ہیں,
اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی
گنبدوں, درختوں اور پتھروں وغیرہ کو بھی پوجتے ہیں , کیا ان کی تخلیق کا
مقصد یہی ہے؟ کیا و ما خلقت الجن و الانس کا معنى یہی ہے؟
ہرگز نہیں،یہ عبادت نہیں بلکہ شرک ہے۔ عبادت صرف وہی ہے جو توحید
پر ہو ۔
چنانچہ امام محمد بن عبد الوہاب نے اس کی وضاحت ایک مثال کے ذریعہ
کی ہے۔
فرمایا: ’’جان لو کہ عبادت اسی وقت عبادت کہلاتی ہے جب وہ توحید پر ہو۔ یا
دوسرے لفظوں میں توحید کے بغیر عبادت عبادت نہیں ہوتی ہے, جس طرح طہارت کے بغیر نماز کو نماز نہیں کہتے
ہیں" ۔
اب اگر کوئی شخص بنا طہارت و پاکیزگی کے کوئی نماز ادا کرتا ہے,
رکوع و سجدہ کرتا ہے اور نماز کے تمام اعمال کو شروع سے آخر تک ادا کرتا ہے , ایسے
شخص کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟ کیا اس نے نماز ادا کی ہے یا نہیں ادا کی ہے؟
ظاہر ہے کہ اس کا جواب ہوگا کہ اس نے نماز نہیں ادا کی ہے ۔
لہٰذا جس نے بغیر طہارت کے نماز پڑھی گویا اس نے نماز نہیں پڑھی۔
اس کی نماز کا وجود یا عدم دونوں ایک ہی
ہے۔ کیونکہ نماز پاکیزگی کے بغیر نماز نہیں ہے۔ اسی طرح عبادت توحید کے بغیر عبادت
نہیں ہے۔
معلوم ہوا کہ صرف وہی
عبادت صحیح اور مقبول ہوگی جو توحید پر قائم ہو , اور اگر عبادت بہت زیادہ ہے
انسان نے اپنی پوری زندگی اسی میں فنا کردی ہے لیکن وہ توحید پر نہیں ہے تو سب
ضائع و برباد ہوجائے گا جیسا کہ اوپر نصوص کی روشنی میں ذکر کیا گیا ۔ہر مسلمان کے
لیے اس اصول و قاعدہ کا جاننا انتہائی ضروری ہے ۔
اس کے علاوہ مذکورہ بالا
آیت میں اخلاص و حنیفیت کا بھی حکم دیا گیا ہے , یہاں ان دونوں کی تفصیل
بیان کرنے کا موقع نہیں ہے لیکن اخلاص و حنیفیت کسی کی عبادت میں اسی وقت پایا
جائے گا جب اس کی عبادت توحید پر ہو اور شرک سے پاک ہو, یہ اخلاص و حنیفیت کی ضروری و لازمی شرط ہے ۔
آخر میں اللہ تعالى سے دعا ہے کہ وہ پوری دنیا کے تمام مسلمانوں کو
اس اہم و ضروری حقیقت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کو اعمال کے خسارہ و
ضیاع سے محفوظ رکھے ۔ آمین
0 التعليقات: