ایمان و
توحید کی دعوت: ہم مسلمانوں کی ذمہ داریاں
اور ہماری لاپرواہیاں و غفلتیں
یہ
محض اللہ کا بے پایاں فضل و کرم و اس کا بے انتہا احسان ہے کہ مجلہ کا یہ خصوصی شمارہ مبارک و میمون " توحید نمبر" شائع ہو رہا ہے , ہم اس عظیم نعمت پرسب سے
پہلے اس کے شکر گذار ہیں ۔بعد ازاں ہم
اپنے دل کی گہرائیوں سے اہل علم و فضل
اصحاب قلم کا شکریہ ادا کرتے ہیں
جنہوں نے خاکسار کی دعوت کو قبول کرکے اپنی
روز مرہ کی مصروفیات میں سے مطلوبہ وقت نکال کر مجلہ کے لیے اپنی قیمتی تخلیق پیش کی ۔ اسی طرح جس نے بھی اس
مبارک مجلہ کی نشر و اشاعت میں کسی
بھی قسم کا کوئی کردار ادا کیا ہے ان سب کا بہت بہت شکریہ ۔اللہ تعالى اس مجلہ کو
سب کے لیے ذخیرہ آخرت بنائے اور یوم قیامت
نجات کا ذریعہ بنائے ۔ آمین
حضرات
گرامی:
فی
الحال قومی و بین الاقوامی موضوعات کی کثرت ہے جن پر اداریہ تحریر کیا جا سکتا
ہے جیسے عالمی مسائل میں مسئلہ فلسطین, پاکستان و سعودی عرب کے درمیان دفاعی
معاہدہ, اسرائیل کا قطر کے اوپر حملہ,
امریکی صدر ٹرمپ کا مسئلہ غزہ کو حل کرنے
کا امن فارمولہ و پاکستان و افغانستان کے کشیدہ تعلقات وغیرہ ۔ اور قومی موضوعات تو اتنے زیادہ ہیں کہ
ان کا شمار مشکل ہے ۔ جن میں سر فہرست وطن عزیز میں مسلمانوں کے خلاف روز افزوں نفرت, آر ایس ایس کا سو سالہ جشن, لداخ کا مسئلہ, الیکشن
کمیشن , ووٹ چوری , آئی لو محمد , بریلی کا فساد, حکومت کی تاناشاہی, ایس آئی آر,
میڈیا کا جانبدارانہ کردار, آر ایس ایس کا
ملک پر قبضہ وغیرہ جیسے سیکڑوں مسائل
ہیں جن پر بآسانی اداریہ تحریر کیا جا
سکتا ہے ۔ لیکن راقم کے دل نے یہ گوارا نہیں کیا اور نہ ہی نفس اس پر آمادہ ہوا کہ
اس عظیم و مبارک توحید نمبر میں کسی خالص
دنیاوی موضوع کو شامل کیا جائے ۔
لہذا مناسب معلوم ہوا کہ ایمان و توحید کے
تعلق سے مسلمانوں خصوصا جماعت اہل حدیث و اس کے افراد کو اس کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرادی
جائے کیونکہ یہ تمام اہل اسلام خصوصا
جماعت اہل حدیث کی ایک بڑی ذمہ داری ہے
اور اس کے بارے میں ہر ایک سے قیامت کے دن اس کے منصب و علم کے بقدر اس سے پوچھا
جائے گا۔اور ساتھ ہی ان کی غفلتوں و
لاپرواہیوں کو بھی بیان کر دیا جائے تاکہ ان کو دور کرکے ایک پختہ لائحہ عمل تیار
کیا جائے ۔
محترم
قارئین:
اس
اداریہ میں ایمان و توحید کی عظمت, فضیلت,
اہمیت و افادیت , اثرات وغیرہ پر روشنی نہیں ڈالنی ہےکیونکہ
یہ پورا شمارہ ہی توحید کے مختلف موضوعات پر مشتمل ہے جن میں درج بالا
موضوعات بھی شامل ہیں ۔بلکہ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا فقط ذمہ داریوں کی یاددہانی و غفلتوں کا بیان
کرنا مقصد ہے ۔
دعوت
ایمان و توحید: امت کی دائمی ذمہ داری :
برادران
اسلام:دین اسلام میں دعوت و تبلیغ , امر بالمعروف(بھلائی کا حکم دینا ) و النہی عن
المنکر (برائی سے روکنا) کی اہمیت و فضیلت, افادیت و ضرورت مسلم ہے اور ان کے بلند مقام و مرتبہ سے دینی و شرعی علوم سے
وابستہ ہر شخص واقف ہے ۔ قرآن و سنت میں ان
کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور یہ ہر شخص پر اس کی اہلیت و صلاحیت ,
طاقت و قوت کے بقدر فرض ہے ۔ اور یہ اس امت کی دائمی ذمہ داری اور ڈیوٹی
رہی ہے، اور اب بھی ہے جیساکہ فرمان الھی
ہے:{وَلۡتَكُن مِّنكُمۡ أُمَّةٞ يَدۡعُونَ إِلَى
ٱلۡخَيۡرِ وَيَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِۚ
وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ }
(آل
عمران/104) (تم میں کچھ لوگ تو ایسے
ضرور ہی ہونے چاہئیے جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں اور برائیوں سے
روکتے رہیں، جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے)
ایک
دوسری آیت میں ہے: {كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ
لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَتُؤۡمِنُونَ
بِٱللَّهِۗ وَلَوۡ ءَامَنَ أَهۡلُ ٱلۡكِتَٰبِ لَكَانَ خَيۡرٗا لَّهُمۚ مِّنۡهُمُ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
وَأَكۡثَرُهُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ } (آل عمران/110) یعنی
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی
گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالى
پر ایمان رکھتے ہو ۔اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہتر تھا , ان میں
ایمان لانے والے بھی ہیں لیکن اکثر تو
فاسق ہیں ۔
بیشک اس آیت میں امت مسلمہ کو "خیر امت " یعنی دنیا کی سب
سے افضل و بہتر قوم قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے شروط بھی بیان کر دئیے گئے ہیں جو امر بالمعروف
یعنی بھلائی کا حکم دینا, نہی عن المنکر
یعنی برائی سے روکنا اور ایمان باللہ ہے۔ گویا
یہ امت اگر ان امتیازی خصوصیات و شروط سے متصف رہے گی تو خیر امت ہے، بصورت دیگر اس
امتیاز سے محروم قرار پاسکتی ہے۔ اس کے بعد اہل کتاب کی مذمت سےبھی اسی نکتے کی وضاحت
مقصود و معلوم ہوتی ہے کہ جو امر بالمعروف و نہی المنکر نہیں کرے گا وہ بھی اہل کتاب
کے مشابہ قرار پائے گا۔ ان کی صفت بیان کی گئی ہے﴿ كَانُوا
لا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنكَرِ فَعَلُوهُ ﴾(مائدۃ
/۷۹) یعنی وہ ایک دوسرے کو برائی سے نہیں
روکتے تھے۔ اور یہاں اسی آیت میں ان کی اکثریت کو فاسق کہا گیا ہے۔
بلا شبہ اللہ تعالى نے آپ ﷺ کو سب سے بہتر وافضل رسول بنايا اور آپ کی امت کو مذكوره بالا شروط کے ساتھ سب سے بہتر وافضل امت قرار دیا، اوریہ اللہ کی
طرف سے اس امت کی تکریم وتعظیم ہے کہ اس نے اس امت کو یہ شرف بخشا کہ وہ اللہ کی
طرف دعوت دینے , رہنمائی کرنے , بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا رسولوں کا فريضہ اور کام انجام دے۔
ایک اور
آیت میں اللہ عز وجل کا فرمان ہے:{وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتُ
بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ يَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ
وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَيُطِيعُونَ ٱللَّهَ
وَرَسُولَهُۥٓۚ أُوْلَٰٓئِكَ سَيَرۡحَمُهُمُ ٱللَّهُۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ
حَكِيمٞ } (توبہ/71)
مومن
مرد اور مومن عورتیں یہ سب ایک دورسرے کے ولی ودوست ہیں،بھلائی کا حکم دیتے اور
برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ واس کے رسول کی
اطاعت کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہو کررہے گی، یقینا اللہ
سب پر غالب اور حکیم ودانا ہے۔
اس
آیت میں مومن مردوں و عورتوں کے چند
نمایاں صفات محمودہ و اچھی خوبیوں کا بیان
ہے جن میں امر بالمعروف و النہی عن المنکر
بھی شامل ہے اور اس کا ذکر اللہ نے سب سے
پہلے کیا ہے ۔اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ درج بالا صفات کے حاملین ہی اللہ کی
رحمت کے حقدار ہوں گے ۔اسی سے اس کی اہمیت و افادیت , فضیلت و عظمت کا علم ہوتا ہے ۔
امر
بالمعروف و النہی عن المنکر کے تعلق سے ایک دو احادیث بھی ملاحظہ فرمائیں :
عَنْ
حُذيفةَ عن النَّبيِّ ﷺ قَالَ: والَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَأْمُرُنَّ
بالْمَعْرُوفِ، ولَتَنْهَوُنَّ عَنِ المُنْكَرِ، أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللَّه أَنْ
يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْهُ، ثُمَّ تَدْعُونَهُ فَلا يُسْتَجابُ لَكُمْ. (رواه
الترمذي وَقالَ: حديثٌ حسنٌ.)
حضرت
حذیفہ بن یمان سے روایت ہے کہ نبی اکرم نے
فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!
تم ضرور با ضرور معروف (بھلائی) کا حکم دو
اور منکر (برائی) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے
پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے۔امام ترمذی کہتے ہیں:یہ حدیث
حسن ہے۔ (سنن ترمذي/كتاب الفتن عن رسول الله /حدیث:
2169, تحفۃ الأشراف: 3366 , (صحیح) سند
میں عبد اللہ بن عبدالرحمن اشہلی انصاری لین الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ
حدیث صحیح ہے)
اس حدیث سے
یہ معلوم ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ جب تک لوگ انجام دیتے
رہیں گے اس وقت تک ان پر عمومی عذاب نہیں آئے گا، اور جب لوگ اس فریضہ کو چھوڑ دیں
گے اس وقت اللہ رب العالمین کا ان پر ایسا
عذاب آئے گا کہ اس کے بعد پھر ان کی دعائیں نہیں سنی جائیں گی، اگر ایک محدود
علاقہ کے لوگ اس امربالمعروف اور نہی عن المنکر والے کام سے کلی طور پر رک جائیں
تو وہاں اکیلے صرف ان پر بھی عام عذاب آ سکتا ہے۔
ایک
دوسری روایت پیش خدمت ہے جس میں اس فریضہ
کے ترک کرنےکو لعنت الہی کا سبب بتایا گیا
ہے :
عن
عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله:" إن اول ما دخل النقص على بني
إسرائيل كان الرجل يلقى الرجل، فيقول: يا هذا اتق الله ودع ما تصنع فإنه لا يحل
لك، ثم يلقاه من الغد فلا يمنعه ذلك ان يكون اكيله وشريبه وقعيده فلما فعلوا ذلك
ضرب الله قلوب بعضهم ببعض، ثم قال: لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود
وعيسى ابن مريم إلى قوله فاسقون (المائدة آية 78 ـ 81) ثم
قال: كلا والله لتامرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر ولتاخذن على يدي الظالم
ولتاطرنه على الحق اطرا ولتقصرنه على الحق قصرا".
ایک
روایت میں اس طرح آیا ہے: لتأمرنَّ بالمعروف، ولتنهون عن المنكر،
ولتأخذنَّ على يد السفيه، ولتأطرنه على الحقِّ أطرًا، أو ليضربن الله بقلوب بعضكم
على بعضٍ، ثم يلعنكم كما لعنهم.
حضرت
عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا:
پہلی خرابی جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوئی یہ تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا تو
کہتا کہ اللہ سے ڈرو اور جو تم کر رہے ہو اس سے باز آ جاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے
جائز و حلال نہیں ہے، پھر دوسرے دن اس سے ملتا تو اس کے ساتھ
کھانے پینے اور اس کی ہم نشینی اختیار کرنے سے یہ چیزیں (غلط کاریاں) اس کے لیے
مانع نہ ہوتیں، تو جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ نے بھی بعضوں کے دل کو بعضوں کے
دل کے ساتھ ملا دیا(یہ ترجمہ اس وقت ہوگا جب ضرب بمعنى خلط ہو , ایک معنى
اور ہے
:یا گنہ گاروں کے نحوست کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں کو بھی کالا کردیا جنہوں نے کوئی
گناہ نہیں کیا تھا , اس طرح گناہوں اور
آپسی میل ملاپ کی وجہ سے سب کے دل سخت ہوگئے
اور حق و خیر کے قبول کرنے یا رحمت
سے دور ہوگئے , ایسی صورت میں باء سبب کے لیے ہے, مطلب ہے
کہ ان کے دل ایک جیسے ہوں گے، اور وہ سب برے
ہوں گے, ہر ایک دوسرے کی تقلید کرتا ہوگا, اس میں تفرقہ اور اختلاف بھی شامل ہے) پھر آپ نے
آیت کریمہ "لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على
لسان داود وعيسى ابن مريم» سے لے کر۔۔ اللہ
تعالیٰ کے -قول «فاسقون» ”بنی اسرائیل کے
کافروں پر داود علیہ السلام اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی زبانی لعنت کی گئی (مائدہ/78-81) تک کی تلاوت کی، پھر فرمایا:
ہرگز ایسا نہیں، قسم اللہ کی! تم ضرور اچھی باتوں کا حکم دو گے، بری باتوں سے روکو
گے، ظالم کے ہاتھ پکڑو گے، اور اسے حق پر موڑے رکھو گے اور حق و انصاف ہی پر اسے قائم
رکھو گے“ یعنی زبردستی اسے اس پر مجبور کرتے رہو گے(سنن ابي
داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4336,سنن الترمذی/تفسیر
القرآن 6
(3047،
3048)، سنن ابن ماجہ/الفتن 20 (4006)، (تحفة الأشراف: 9614)، وقد أخرجہ: مسند احمد
(1/391) (ضعیف)» (ابوعبیدہ اور ان کے والد ابن مسعود کے
درمیان انقطاع ہیں)الباني کے نزدیک ضعيف ہے)
دوسری
روایت میں ظالم کے بجائے سفیہ کا لفظ آیا ہے اور جو ظالم ہوتا ہے وہ در اصل سفیہ
یعنی بیوقوف, نادان اور بے عقل ہوتا ہے ۔و لتقصرنہ والی عبارت بھی
اس میں نہیں ہے ۔بعدازاں آپ نے فرمایا:یا اللہ تم میں سے بعض کے دلوں کو بعض کے
دلوں سے ملا دے گا، پھر تم پر بھی لعنت کرے گا جیسے ان پر لعنت کی ہے“۔(سنن ابي
داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4337, بعض نے اس حدیث کو حسنٌ لغيره کہا
ہے ۔ابو داؤد /4337, مسند ابو یعلى /5035, المعجم الکبیر للطبرانی/1026)
ان
دونوں احادیث سے واضح ہے کہ یہ فریضہ انتہائی اہم ہے اور اس کا چھوڑدینا بہت بڑا
جرم ہے جس کے پاداش میں قوم اللہ کے لعنت
کی مستحق ہوجاتی ہے ۔اور جس قوم پر اس کی لعنت ہو تو تباہی و بربادی اس کا مقدر ہے ۔
مندرجہ بالا آیات و احادیث
سے دعوت و تبلیغ , امر بالمعروف و النہی عن المنکر کی فضیلت و اہمیت, ضرورت و
افادیت بخوبی واضح ہے, یقینی طور پر یہ اس
امت و اس کے افراد پر ایک اہم فریضہ و بنیادی ذمہ داری ہے ۔
چنانچہ
اس امت پر واجب ہے کہ نبی پر جو کچھ بھی نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کریں،اس کی
طرف لوگوں کو بلائیں , ایمان و توحید کی دعوت دیں اور جس طرح آپ نے ڈرایا ہے اسی
طرح وہ بھی لوگوں کو ڈرائیں اور متنبہ کریں۔لوگوں کو بھلائی کا حکم دیں اور برائی
سے روکیں ۔ہمارے اسلاف نے اس کا بے حد اہتمام کیا ہے اور اس کے لیے بہت زیادہ
قربانیاں دی ہیں ۔
یہ جان لینے کے بعد ہمارے
لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے اور یہ بالکل
واضح و بدیہی, جلی و صریح ہے کہ امر بالمعروف میں جو چیز سب سے پہلے آتی ہے
وہ توحید کی طرف دعوت دینا ہےو النہی عن المنکر میں جو چیز سب سے مقدم ہے وہ شرک
سے روکنا ہے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن
عباس کی روایت میں ہے کہ جب آپ نے حضرت
معاذ کو یمن بھیجا تو ان کو حکم دیا: عن عبد اللہ بن عباس
قال قالَ:
رَسولُ اللَّهِ لِمُعَاذِ بنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إلى اليَمَنِ: إنَّكَ
سَتَأْتي قَوْمًا أهْلَ كِتَابٍ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ، فَادْعُهُمْ إلى أنْ
يَشْهَدُوا أنْ لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، وأنَّ مُحَمَّدًا رَسولُ اللَّهِ، فإنْ
هُمْ أطَاعُوا لكَ بذلكَ، فأخْبِرْهُمْ أنَّ اللَّهَ قدْ فَرَضَ عليهم خَمْسَ
صَلَوَاتٍ في كُلِّ يَومٍ ولَيْلَةٍ، فإنْ هُمْ أطَاعُوا لكَ بذلكَ، فأخْبِرْهُمْ
أنَّ اللَّهَ قدْ فَرَضَ عليهم صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِن أغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ
علَى فُقَرَائِهِمْ، فإنْ هُمْ أطَاعُوا لكَ بذلكَ، فَإِيَّاكَ وكَرَائِمَ
أمْوَالِهِمْ، واتَّقِ دَعْوَةَ المَظْلُومِ؛ فإنَّه ليسَ بيْنَهُ وبيْنَ اللَّهِ
حِجَابٌ.(بخاري /1496) الفاظ اسی کے ہیں، ومسلم /19)
حضرت عبداللہ بن عباس کا
کہنا ہے کہ جب اللہ کے رسول نے حضرت معاذ کو یمن کی طرف روانہ کیا تو ان سےفرمایا کہ تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل
کتاب ہیں۔ اس لیے جب تم وہاں پہنچو تو پہلے انہیں دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی
دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں
اور محمد اللہ
کے رسول ہیں۔اب اگر وہ تمہاری اس بات کو
مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے
ان پر روزانہ دن رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ تمہاری یہ بات بھی
مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ دینا ضروری قرار دیا ہے
‘ یہ ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں پر خرچ کی جائے گی۔ پھر جب وہ
تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو ان کے اچھے مال لینے سے بچو اور
مظلوم کی بد دعا سے بچوکہ اس کے اور اللہ
تعالیٰ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔
اور دعوت ایمان و توحید کے سب پر مقدم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ
توحیدقطعی طور پر اسلام کا پہلا
رکن ہے, وہ انبیاء کی دعوتوں کی بنیاد ہے, سب سے پہلے تمام انبیاء نے اسی کی دعوت
دی ہے, اس کے بغیر ہر عبادت ناقابل قبول ہے, وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کی
گارنٹی ہے,اس کا وزن سب پر بھاری ہے, اس
کے فضائل و محاسن بے شمار ہیں ۔ وغیرہ
اس لیے سب سے پہلےایمان و توحید
کی دعوت دی جائے گی , آغاز اسی سے
ہوگا اور شرک سے منع کیا جائے گا , اس کے
بعد دوسری چیزوں کی دعوت دی جائے گی اور دیگر برائیوں سے منع کیا جائے گا۔
لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ اس دنیا میں ہم توحید کے علاوہ
ہر چیز کو بھول جائیں اور اس کی قیمت پر ہر چیز کو نظر انداز کردیں ۔ اگر ایسا
ہوتا ہے تو یہ ہمارے لیے بہت ہی نقصان دہ و خطرناک ہوگا اور نتیجہ درست نہیں ہوگا کیونکہ یہ دنیا ہے
اور دنیا کے کچھ اصول و ضوابط ہیں , قواعد و قوانین ہیں جن کو فالو کرنا ہر ایک کے
لیے ضروری ہے تبھی اس دنیا میں ہم زندہ رہ سکتے ہیں ۔
اس کی مثال بالکل جسم کی طرح
ہے اگر ہم جسم کو صرف ایک ہی قسم کی خوراک دیتے ہیں خواہ وہ کتنا ہی قیمتی کیوں نہ
ہو لیکن اس سے ہماری جسم کی ضرورتیں پوری نہیں ہوں گی اور ہمارا جسم زندہ بھی نہیں
رہ سکے گا, اور اگر زندہ رہے گا بھی تواس میں کوئی نہ کوئی خلل ہوگا اور اپنی ذمہ
داریوں کے ادا کرنے سے قاصر ہوگا ۔ لہذا
ہمیں ہر چیز پر توجہ دینی ہے اور اس کا اہتمام کرنا ہے , کسی کو نظر انداز نہیں کرنا ہے , اور یہ توجہ و اہتمام ہر ایک کو اس کی اہمیت و ترجیح کے حساب سے دینی
ہے تاکہ توازن برقرار رہے ۔
اور یہ خود ہمارے نبی و اسلاف نے کیا ہے ۔ آپ سے زیادہ توحید کی طرف
دعوت دینے والا کون تھا لیکن اس کے باوجود آپ نےانسانی زندگی کے کسی بھی شعبہ کو نظر انداز نہیں کیا اور ہر ایک پر مناسب توجہ دی کیونکہ دنیا میں
اس کے بغیر کام چلنے والا نہیں ہے اور کسی کی قیمت پر کسی دوسری چیز کو مکمل طور
سے نظر انداز کردینا انتہائی گھاتک اور نقصان دہ
ہے۔
اب موضوع کے دوسرے جزو غفلتوں اور لاپرواہیوں کا مختصر ذکر کیا جا
رہا ہے۔
ہم مسلمانوں کی غفلتیں اور لا پرواہیاں:
اب آئیے جانتے ہیں کہ دعوت
ایمان و توحید کی بابت ہماری لاپرواہیاں, کوتاہیاں اور غفلتیں کیا ہیں ۔
یہاں پر ترتیب وار ان کو ذکر کیا جارہا ہے تاکہ ان کو پڑھنے اور سمجھنے میں آسانی
رہے ۔
ایمان و توحید سے لا علمی :
بلا شبہ ہمارا دین اسلام دنیا کا سب سے اچھا دین ہے اور توحید کی
نعمت دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ دور حاضر
کےاکثر مسلمانوں نے اس کی کما حقہ قدر
نہیں کی اور نہ اس کی عظمت و اہمیت کو
پہچانا ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں دینی
تعلیم و تربیت پر کوئی توجہ نہیں ہے اور نہ اس کے لیے ان کے پاس وقت ہے۔ نتیجہ واضح ہے کہ موجودہ دور کے مسلمانوں
کی اکثریت توحید کو جانتی ہی نہیں ہے ۔قرآن و سنت
اور اس کی حقیقی تعلیمات سے غافل ہے۔
جس قوم کی اکثریت خود ہی ایمان و توحید سے ناواقف ہے وہ دوسروں کو اس
کی دعوت کیسے دے سکتی ہے ؟
انواع و اقسام کے شرک میں
مبتلا ہونا :
ایمان و توحید سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے کہ آج کی دنیا میں شرک کی کثرت اور بہتات ہے, اکثر مسلمان ممالک اس مہلک بیماری میں مبتلا ہیں , برصغیر , بعض
افریقن و یورپین ممالک میں صورت حال بہت زیادہ خراب ہے ۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعدادشرک
اکبر سمیت ہر قسم کے شرک میں مبتلا
ہے اوراس کے کے اڈے
بہت سارے علاقوں و ملکوں میں کھلے ہوئے ہیں اور بعض ممالک میں تو ان کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے ۔ علماء سوء اس
کو رواج دے رہے ہیں اور کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے اور اپنی اپنی دکانیں کھول کے
بیٹھے ہوئے ہیں ۔
اب جو قوم خود ہی توحید سے دور انواع و اقسام کے شرک میں مبتلا ہے , اور راستہ بھٹک گئی ہے وہ دوسروں کو اس کی دعوت دے کر راہ راست پر
کیسے لا سکتی ہے ۔ صحیح ہے فاقد الشئی لا یعطیک یعنی جس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے وہ آپ کو کہاں سے
دے گا۔
دعوت توحید پر فوکس نہ
کرنا :
آج کے دور میں اکثر مسلمان ممالک و تنظیمیں اس پر بالکل توجہ نہیں
کرتی ہیں اور نہ توحید ان کے ایجنڈا میں
شامل ہے, ان کی پالیسی صلح کل کی ہے۔ سعودی عرب کو چھوڑ کر کوئی ایسا ملک نہیں جو
دعوت توحید پر فوکس کرتا ہو ۔ اکثر مسلمان ممالک
چند ایک کو چھوڑ کر دین کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں ۔ عربی و عجمی ممالک
سب برابر ہیں ۔ جہاں تک تنظیموں کی بات ہے تو تمام دنیا میں اہل حدیث و سلفی
تنظیموں کو چھوڑ کر بقیہ تمام تنظیمیں توحید کے موضوع پر خاموش رہتی ہیں اس ڈر سے
کہ کہیں قبر پرست ناراض نہ جائیں یا ان کی جماعت میں شامل نہ ہوں ۔
اور جس قوم کے گھر کی حالت یہ ہو تو ہم دوسروں کو اس کی دعوت کیا دیں
گے۔
غیر اقوام کو دعوت دینے میں کوتاہی و غفلت :
دعوت کا سب سے مفید و بہترین طریقہ وہی ہے جو انبیاء کا رہا ہے یعنی
سب سے انفرادی و اجتماعی طور پر ملاقات کرنا اور ان کو سمجھانا۔ آج کے دور میں
بھی یہ اتنا ہی کارگر اور مفید ہے جتنا
دور قدیم میں تھا ۔ بلا شبہ یہ سائنس و ٹکنالوجی کا زمانہ ہے اور دور حاضر میں
دعوت کے بہت زیادہ جدید وسائل و ذرائع ہیں جن کو اپنانے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ
ان کو اپنانا ضروری ہے ۔ لیکن یہ بھی دھیان رہے کہ آج کے دور میں بھی انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جن کی رسائی
ان جدید وسائل تک نہیں ہے ۔ایسی صورت میں زمینی سطح پر اتر کر ہمیں کام کرنا ہوگا
اور دور دراز کے پسماندہ علاقوں میں پہنچ کر
ایمان و توحید کی دعوت کو عام کرنا ہوگا ۔
لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج زمینی سطح پر دعوت و تبلیغ کا کام بہت کم
ہورہا ہے جس سے ہم نہ صرف اس دعوت کو خود اپنے
مسلمان بھائیوں تک پہنچانے میں ناکام ہیں تو غیروں کے بارے میں بات کرنا ہی
بیکار ہے ۔
دعوت و تبلیغ کی موجودہ صورت حال کے بارے میں تفصیل سے جاننے کے لیے
میرے مضمون" دعوت و تبلیغ کی موجودہ صورت حال کا جائزہ اور تجاویز" کا مطالعہ کریں جو مجلہ اصلاح و ترقی کے ستمبر 2024ع کے شمارہ میں شائع ہوا ہےاور جو
میرے ویب سائٹdrmannan.com و اصلاح و ترقی فیس بک
پیج پر بھی ہے ۔
توحید و جماعت اہل حدیث :
دعوت ایمان و توحید کی سب سے بڑی ذمہ داری جماعت اہل حدیث یا سلفی
جماعت کی ہے کیونکہ یہ اس کی شناخت و پہچان ہے, یہ اس کی نمایاں و امتیازی خصوصیت
ہے جس کے ذریعہ وہ دوسری جماعتوں سے منفرد و ممتاز ہوتی ہے ۔ اس کے یہاں قرآن و
سنت کی واضح تعلیمات کی روشنی میں توحید کا ایک صاف ستھرا نکھرا ہوا تصور موجود ہے جس میں کسی طرح کی کوئی آمیزش
قطعا نہیں ہے ۔
اور جہاں تک باب توحید میں
اس جماعت کی خدمات اور کاوشوں کا تعلق ہے تو
بلا شبہ اس کی خدمات صرف بر صغیر میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں توحید کے باب میں بہت زیادہ ہیں ا ور قابل قدراور لائق ستائش ہیں جن کا اعتراف غیربھی کرتے ہیں
لیکن یہ اعتراف کرنا بھی ضروری ہے
کہ فی الحال اس میں بہت زیادہ کمیاں اور کوتاہیاں ہیں جن کو دور کیا جانا ضروری ہے
, اور ابھی کئی گنا زیادہ محنت و جد و جہد کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی مشترکہ و اجتماعی محنت کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک
ایمان و توحید کا پیغام آسانی سے پہنچایا جا سکے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ہم
سلفیوں کی دعوت و تبلیغ صرف اپنوں کے ہی
دائرہ میں محدود ہے, ہم دوسروں تک اسے پہنچانے میں کوتاہ رہے ہیں
اور ہماری کاوشیں اس بابت بہت کم ہیں , سوال یہ ہے کہ کیا کبھی ہماری جماعت شرک کے اڈوں تک توحید کا زریں پیغام لے کر گئی ہے؟
کیا کبھی ہم نے انفرادی یا اجتماعی طور پر ان لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے؟
اس کے جو سرغنہ ہیں ان کی
بات چھوڑئیے , کیا کبھی ہم عوام تک توحید
کا پیغام لے کر پہنچے ہیں ۔
کیا اس اہم کام کے لیے ہمارے پاس متفرغ داعیوں کی مطلوبہ تعداد موجود
ہے؟
کیا اس کے لیے درکار مطلوبہ بجٹ
ہمارے پاس فراہم ہے؟
کیا اس کے ےلیے ہم نے کوئی طویل مدتی پروگرام و منصوبہ تیار کیا ہے؟
وغیرہ
ان سب کا جواب نفی میں ہے ۔بلا شبہ یہ ہماری بہت
بڑی غفلت و لاپرواہی ہے۔
اوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے واضح ہے کہ توحید کا موضوع جس قدر
ہم مسلمانوں کی توجہ, اہتمام , اہمیت و عنایت کا
طالب و مستحق ہے اسی قدر ہم مسلمانوں میں
اس سے غفلت و لا پرواہی برتی جا رہی ہے جو اپنی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہے۔جس
امت کو خیر امت بنایا گیا , اور جس کا
وظیفہ و پیشہ ہی دعوت و تبلیغ , بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا
متعین کیا گیا اور جس کی بنیادی ذمہ
داری ہی غیر قوموں کی رہنمائی و ان قیادت و سیادت تھی جب اس کی خود یہ بری
حالت ہے اور وہ راستہ بھٹک گئی ہے
تو وہ دوسروں کی کیا رہنمائی کرے گی۔
یہ ایک بہت بڑا قومی المیہ ہے جس کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں
ہے ۔ اور اس پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے ۔اس کے لیے منظم و منصوبہ بند
انفرادی و اجتماعی کوشش کی ضرورت ہےتاکہ ہم فردا فردا تمام مسلم اور غیر مسلم تک توحید کی دعوت
پہنچا سکیں اوراپنی دینی ذمہ داریوں و فرائض کو ادا کرکے قیامت کے دن سرخرو و کامیاب ہو سکیں ۔
اب کچھ اس خصوصی شمارہ کے بارے میں :
الحمد للہ "مبارک توحید نمبر" یہ مجلہ کا 9/ خصوصی
شمارہ ہے جواب تک کا سب سے اہم , افضل و
ضخیم شمارہ ہے ۔ یہ ہر مومن کے لیے ایک بیش قیمتی ہدیہ و
انمول تحفہ ہے ۔یہ اردو میں توحید کے موضوع پر
ایک مختصر دائرۃ المعارف ہے جو400/ صفحات اور35/ مضامین پر مشتمل ہے, موضوعات کی ترتیب کی سہولت کے لیے آغاز و افتتاح کے
علاوہ اس کو کل 11/ ابواب میں تقسیم کر
دیا گیا ہے ۔راقم سطور کے کل 11/موضوعات
اس میں شامل ہیں اور اس کے قلم کاروں
میں مشہور و نامی گرامی اصحاب علم و
فضل شامل ہیں ۔
راقم سطور نے توحید سے متعلق
50/ موضوعات کی فہرست تیار کرکے پہلے اپنے متعارفین و مخصوص افرادسے شخصی طور پر
گفتگو کی اور ان سے اس نمبر کے لیے لکھنے کی خصوصی درخواست کی ۔مختلف گروپس میں اس
کا اعلان کیا گیا اور انفردی طور پر بھی لوگوں کو موضوعات کی فہرست بھیجی گئی ۔جس
کے نتیجہ میں تقریبا نصف موضوعات پر اہل علم
نے لکھنے کی خواہش ظاہر کی اور اس کو منتخب کیا ۔ بعد ازاں اگست 2025 ع کے شمارہ میں منتخب و غیر منتخب توحید سے متعلق 50/موضوعات کی ایک فہرست جاری
کی گئی اور فیس بک پر بھی اس کا اعلان کیا گیا
لیکن ایک فرد کے علاوہ کسی نے کوئی
دلچسپی نہیں لی لیکن وہ ہنوز تشنہ تکمیل
ہے ۔
اس کے بعد احباب و علماء
کرام کو واٹسپ پیغام کے ذریعہ کئی بار یاد
دہانی کرائی گئی اور کئی ایک سے پرسنل گفتگو بھی ہوئی ۔
جس کے نتیجہ میں چار پانچ
افراد کو چھوڑ کر الحمد للہ اکثر نے اپنے کہنے کے مطابق مضمون لکھ کرکے ادارہ کے حوالہ کردیا ۔ فجزاہم
خیر الجزاء و زادہم علما و فضلا, ان میں صرف ایک موضوع ایسا ہےجس کا اعلان نہیں
ہوا تھا البتہ بقیہ آدھے موضوعات کو کسی
نے ٹچ نہیں کیا اور نہ اس پر لکھنے کی خواہش کا اظہار کیا خصوصا ایسے موضوعات جن
پر مواد موجود نہیں ہیں اور ان پر ریسرچ کی ضرورت ہے ۔ امید ہے کہ آئندہ کلیات,
جامعات و معاہد میں زیر تعلیم باحثین اس کو اپنے بحث کا موضوع بنائیں گے جس سے نئی
علمی باتیں سامنے آسکیں گی اور معلومات کی
دنیا میں اضافہ ہوگا۔
بلا شبہ اس شمارہ میں کچھ پرانے موضوعات بھی شامل کیے گئے
ہیں تاکہ ممکنہ حد تک توحید کے زیادہ سے زیادہ موضوعات کا احاطہ
ہوجائے اور وہ ایک جگہ جمع ہوجائیں اور
کچھ موضوعات خصوصا فضائل و محاسن کے باب
میں تکرار ہے اور ان کو حذف نہیں کیا گیا ہے
کیونکہ ہر قلم کار کا اپنا الگ اسلوب ,
جدا انداز بیان و طریقہ استنباط ہوتا ہے اور قاری ہر مضمون میں کچھ نہ کچھ نیا ضرور
پائے گا۔ امید ہے کہ مجلہ باذوق قارئین کے
معیار پر کھرا اترے گا اور کافی مفید و نفع بخش ہوگا ۔
اللہ تعالى سے دعا ہے کہ وہ
اس خصوصی شمارہ کو قبول فرمائے اور اسے
خواص و عوام میں مقبول بنائے اور اس سے وابستہ تمام افراد کے لیے صدقہ جاریہ اور نجات کا ذریعہ بنائے ۔ آمین
0 التعليقات: