تقوى کی تعریف اور اہمیت و فضیلت

بسم ا للہ الرحمن الرحیم

تقوى کی تعریف  اور اہمیت و فضیلت
      تقوى کی لفظی تعریف: تقوى عربی زبان کا لفظ ہے۔ یہ وقى سے ماخوذ ہے۔ اسی سے وقایہ ہے۔ جس کا معنى ہے بچاؤ , حفاظت و حمایت۔اسی سے واضح ہوجاتا ہے کہ تقوى کو تقوى کیوں کہا جاتا ہے۔کیونکہ یہ ایک انسان کو گناہوں کے ارتکاب سے بچاتا ہے ۔ معصیتوں سے  اس کی حفاظت کرتا ہے ۔ حرام و ناجائز امور کے سامنے ڈھال ہوتا ہے اسی لیے اس کو تقوى کہا جاتا ہے۔
    تقوى کی شرعی تعریف: تقوی کی بہت ساری شرعی تعریف ہیں جن میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ بلکہ سب ایک دوسرے  کو مکمل کرنے والی ہیں۔ اورایک دوسرے کی وضاحت کرنے والی ہیں۔ان میں سے چند یہ ہیں:-----
    تقوی کی تعریف أمیر المؤمنین  حضرت علی نے یہ کی ہے: اللہ سے خوف کھانا, قرآن پر عمل کرنا, کم پر قناعت کرنااور آخرت کے لیے تیاری کرنا تقوی ہے۔
     تقوی کی ایک دوسری تعریف یہ ہے کہ تم اپنے درمیان اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں کے درمیان  ایک رکاوٹ و آڑ بنا لو ۔اور وہ رکاوٹ یا آڑ اللہ کا خوف ہے اور  اسی  کا نام تقوی ہے۔ اور حضرت عبد اللہ بن عباس نے متقین کی تعریف کی ہے:الذین یحذرون  من اللہ و عقوبتہ یعنی جو اللہ اور اس کی سزا سے ڈرتے ہیں۔
   تقوی کی سب سے مختصر و جامع تعریف یہ ہے : اللہ کے  جملہ احکام کو بجا لانا اور تمام  برائیوں سے دور رہنا۔
    معلوم ہوا کہ تقوی در اصل اللہ سبحانہ و تعالی کی اطاعت و بندگی کا نام ہے ۔ اور یہ وہی کرے گا جس کے اندر اس کا خوف ہے ۔ اور اسی کا نام تقوی ہے ۔
     محل تقوی:چونکہ تقوی خوف خدا سے عبارت ہے اور خوف قلبی عبادت ہے۔  اسی وجہ سے قرآن و حدیث میں تقوی کی جگہ دل کو  بتلایا گیا ہے ۔ قرآن میں ہے : ذلک و من یعظم شعائر اللہ فانہا من تقوی القلوب یعنی    اللہ کے شعائر کی تعظیم کرنا دلوں کے تقوى سے ہے۔ (حج/32)۔حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریم نے فرمایا: التقوی   ھا ھنا  التقوى ھاھناو أشار الى صدرہ  یعنی تقوى یہا ں ہے تقوی یہاں ہے اور آپ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا۔اسی  بناء پرتقوی کسی مظہر یا شکل و صورت کا نام نہیں ہے جس کی نمائش کرکے ایک انسان متقی بن جائے ۔ حدیث میں ہے : ان اللہ لا ینظر الى صورکم و اموالکم و لکن ینظر الى قلوبکم و اعمالکم  یعنی  اللہ تمھاری صورتوں , شکلوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا ہے۔بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ (صحیح مسلم, کتاب البر و الصلۃ و الاداب, باب تحریم  ظلم المسلم  و خذلہ...)
      اسلام میں تقوى کی اہمیت و فضیلت, مقام و مرتبہ: دین اسلام میں تقوى کی بہت زیادہ اہمیت و فضیلت ہے اور اس کا مقام  بہت ہی ارفع و اعلى ہے۔اس  کی شان بہت ہی عظیم ہے اور اس کا درجہ بہت ہی بلند ہے۔اور ہر مسلمان کو  اس کی شدید حاجت و ضرورت ہے۔اس کے مقام و مرتبہ, اہمیت و فضیلت کا اندازہ درج ذیل امور سے ہوتا ہے جوبالکل نمایاں  اور واضح ہے:---
       1-  اس کا حکم خود اللہ رب العالمین نے اگلوں اور پچھلوںکو دیا ہے اور اس کی نصیحت و وصیت اس نے بذات خود   تمام قوموں کو  کی ہے۔ فرمان باری تعالى ہے: وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ وَإِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ  وَكَانَ اللَّهُ غَنِيًّا حَمِيدًا (نساء/131) اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یقینا یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی نصیحت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو ۔ اور اگر تم کفر کرتے ہو تو جان لو کہ اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ۔ اور اللہ بے نیاز  و ہر تعریف کا حقدار ہے۔
ایک دوسری آیت میں ہے:یا ایہا الذین آمنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ و لا تموتن الا و انتم مسلمون(آل عمران/102) یعنی اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔اور بھی آیات ہیں جن کو طوالت کے خوف سے ذکر نہیں کیا جا رہا ہے۔
     2-                        تقوی کا لفظ اپنی مختلف شکلوں  مثلا اتقوا , تتقون , متقین  وغیرہ میں قرآن مجید میں 258 بار آیا ہے۔معلوم ہوا کہ تقوی اللہ کی نظر میں ایک بہت ہی اہم چیز ہے ۔ اسی وجہ سے اس کا  تذکرہ  بار بار کیا گیا ہے۔
3-   دین اسلام میں مسلمان بندوں کے درمیان مفاضلت , بزرگی و برتری کا صرف ایک معیار ہے اور وہ صرف اور صرف تقوى ہے۔ارشاد باری تعالى ہے: یا أیہا الناس انا خلقناکم من ذکر و انثى و جعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا إن اکرمکم عند اللہ اتقاکم ( الحجرات /13) یعنی اے لوگو بلا شبہ ہم نے تم کو ایک مرد و عورت سے پیدا کیا ہے ۔ اور پھر ہم نے تم کو مختلف قبیلوں و قوموں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ با عزت وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہے۔ یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا اور با خبر ہے۔
   اور حدیث میں ہے: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ ، وَأَبَاكُمْ وَاحِدٌ ، وَنَبِيُّكُمْ وَاحِدٌ ، لا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ ، وَلا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ ، وَلا لأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ ، وَلا لأَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ ، إِلا بِالتَّقْوَى ". حضرت ابو سعید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: بلا شبہ تم سب کا رب ایک ہے ۔ اور تمہارا باپ ایک ہے اور تمہارا نبی ایک ہے۔کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت اور برتری  حاصل نہیں ہے ۔ اسی طرح کسی سرخ کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی سرخ پر پر کوئی فضیلت اور برتری  حاصل نہیں ہے مگر صرف تقوى سے۔
      معلوم ہوا کہ اللہ تبارک و تعالى کے نزدیک فضیلت , بزرگی اور برتری کا صرف ایک ہی معیار اور پیمانہ ہے اور وہ صرف تقوی ہے ۔ اللہ کے یہاں نیشنلٹی , قومیت, رنگ , زبان, زمین,  ثروت و دولت,فقر, غربت ,خاندان, حسب و نسب وغیرہ کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی قیمت ہے۔ اور نہ ہی کوئی بھی انسان ان کی بنیاد پر جنت میں داخل ہوگا۔اور نہ ہی اللہ کا محبوب ہوگا۔ اللہ کا محبوب  صرف اور صرف وہی ہے جو تقوى والا ہے۔
 اب یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آج کے زمانہ میں کتنے مسلمان ہیں جو خود اپنے مسلمان بھائیوں کو اسلام کی اتنی واضح تعلیمات کے باوجود نیشنلٹی اور قومیت کی بنیاد پر حقیر سمجھتے ہیں ۔ اور ان کو گری ہوئی نگاہوں سے دیکھتے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ ان کا برتاؤ و سلوک بھی ان کے ساتھ ادنی درجے کا ہوتا ہے ۔ اور یہ برائی خلیجی ممالک کے  بہت سارے مسلمانوں میں خاص طور سے پائی جاتی ہے ۔ جو کہ گنا ہ کبیرہ ہے  کیونکہ حدیث میں آیا ہے: بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم یعنی ایک آدمی کے شر کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔(صحیح مسلم, کتاب البر و الصلۃ و الاداب,باب تحریم ظلم المسلم و خذلہ...)
    معلوم ہوا کہ سب مسلمان برابر ہیں خواہ وہ کسی بھی ملک کا رہنے والا ہو۔ اور خواہ  اس کا رنگ, نسل , زبان , قومیت وغیرہ کچھ بھی ہو۔اور تفاضل کا معیار صرف تقوى ہے۔
       4-                        تقوى ایک اتنی اہم چیز ہے جس کی وصیت و نصیحت تمام انبیاء و رسولوں- حضرت آدم سے لیکر ہمارے آخری نبی محمد مصطفےتک - نے اپنی امت کو کی ہے۔ اللہ جل و علا کا فرمان ہے: إذ قال لہم أخوہم نوح ألا تتقون (شعراء/106) جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کہ تم لوگ تقوى کیوں نہیں اختیار کرتے ہو۔ایک دوسری آیت میں ہے: : إذ قال لہم أخوہم صالح  ألا تتقون (شعراء/142) اور ایک تیسری آیت میں ہے : إذ قال لہم شعیب  ألا تتقون (شعراء/177)  یعنی جب ان سے شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ تم لوگ تقوى کیوں نہیں أپناتے ہو۔اس کے علاوہ بھی اس طرح کی آیات ہیں۔
        5-                        خود ہمارے نبی أحمد مجتبى محمد مصطفى نےاس کی اہمیت و فضیلت کے پیش نظر  اس کی وصیت اپنی امت کو کی ہے۔ حدیث میں ہے:جب حضرت ابو سعید خدری نے نبی کریم سے نصیحت فرمانے کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا:أوصیک بتقوى اللہ فانہ راس کل شئی یعنی میں تمہیں اللہ کے تقوى کی نصیحت کرتا ہوں کیونکہ وہی ہر چیز کا اصل ہے۔( مسند امام احمد/ حدیث نمبر 11774)۔ اور انہیں کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم نے فرمایا: ان اللہ یحب العبد التقی الغنی الخفی یعنی بلا شبہ اللہ متقی , بے نیاز اور گمنام بندے کو محبوب رکھتا ہے۔(صحیح مسلم/حدیث نمبر :2965)۔ تقوی کا لفظ اپنی مختلف شکلوں میں احادیث میں کتنی بار آیا ہے اس کا شمار کرنا بھی مشکل ہے ۔ اسی سے اس کی اہمیت و فضیلت کا پتہ چلتا ہے۔
      6- اسلام میں اس کے بلند مقام و مرتبہ کا پتہ اس سے بھی چلتا ہے کہ ہمارے نبی ہمیشہ حمد و صلاۃ کے بعد آغاز خطبہ میں چند ان آیتوں کی تلاوت فرماتے تھے جن میں تقوى کا ذکر ہوا ہے۔مثال کے طور پر یا أیہا الذین آمنوا اتقواللہ و قولوا قولا سدیدا, یا ایہا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس و احدۃ و جعل منہا زوجہا.....وغیرہ
      7-                       اس کی اہمیت و عظمت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ اس کے بہت زیادہ فوائد قرآن و حدیث میں بیان کیے گئے ہیں۔جا بجا اس کا ذکر کیا گیا ہے ۔ طوالت کی وجہ سے  ان کو یہاں  تفصیل سے بیان نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ میں ان پر ان شاء اللہ بعد میں الگ سے تحریر کروں گا۔پھر بھی چند اہم فوائد کی طرف اشارہ کردیتا ہوں۔جو یہ ہیں کہ  متقی اللہ کا محبوب ہوتا ہے ۔اس کو آخرت میں جنت حاصل ہوگی۔اس کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔تقوی بکثرت روزی اور علم کا سبب ہے۔ دل میں اس سے نور پیدا ہوتا  ہے ۔علاوہ ازیں تقوی شیطانوں سے حفاظت کا ذریعہ اور آسمان و زمین سے برکتوں کے حصول کا سبب ہے۔ وغیرہ
     اب میں آخر میں اللہ جل و علا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ پوری دنیا کے تمام مسلمانوں کو شریعت میں مطلوبہ تقوى اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔ اور یقین جانئے کہ اگر تمام دنیا کے بیشتر مسلمان اپنے اندر تقوی پیدا کر لیتے ہیں۔ اور ان کی اکثریت تقوى کے رنگ میں رنگ جاتی ہے۔ اور وہ صحیح معنی میں متقی بن جاتے ہیں  تو ان شاء اللہ ایک بار پھر یہ امت اللہ کے فضل و کرم , اس کی نصرت , حمایت و مدد سے پوری دنیا پر حکومت کرے گی اور اس کا جھنڈا ہر جگہ بلند ہو گا۔

وما علینا الا البلاغ و آخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔
التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

1 التعليقات:

avatar


Wow, awesome blog layout! How long have you been blogging for? you make blogging look easy. The overall look of your web site is excellent, let alone the content! itunes sign in