مامون کو دہشت زدہ کرنا کب سے جہاد
ہوگیا؟
تحریر : مدار وطن کا علمی شعبہ , ریاض ترجمہ و تعلیق: ڈاکٹر عبد المنان محمد
شفیق مکی
شریعت کی رو سے کسی بھی مسلمان کو کسی بھی قسم کی تکلیف
دینا یا اسے کسی بھی طرح کا نقصان پہنچانا ناجائز و حرام ہے ۔ اس سلسلے میں شرعی
اصول و ضابطہ ہمارے نبی کا یہ فرمان "لا ضرر و لا
ضرار "(صحیح ابن
ماجہ/1909, دار قطنی /3/77 , الحاکم/2345 وغیرہ ) ہے جس کا معنى ہے کہ ایک انسان نہ
تو خود اپنی ذات کو نقصان پہنچائے اور نہ ہی کسی دوسرے کو نقصان پہنچائے اور نہ ہی
نقصان کا بدلہ اسی کے مثل نقصان سے دے ۔
اور کسی کوبھی
ناحق نقصان پہنچانا علامہ ابن رجب
کے قول کے مطابق دو طریقوں سے حرام ہے :
پہلا طریقہ یہ ہے کہ غیر کو نقصان پہنچانے والے کا صرف
ایک ہی مقصد ہو اور وہ صرف نقصان پہنچانا ہے ۔ بلا شبہ یہ ایک قبیح و حرام عمل ہے
اور اس کی مختلف صورتیں و شکلیں ہیں جن
میں سے ایک مثال کے طور پر وصیت میں نقصان پہنچانا ہے, اسی طرح کسی ماں کا اپنے
بیٹے کو دودھ نہ پلانا بھی اس کو نقصان پہنچانا ہے ۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کسی غیر کو نقصان پہنچانے والے کا
صرف ایک ہی مقصد نقصان پہنچانا نہ ہو بلکہ ساتھ ہی اس کا کوئی درست اور صحیح مقصد
بھی ہو ۔ مثلا کوئی اپنی ملکیت میں کسی طرح کا کوئی تصرف کرتا ہے جس سے اس کا مقصد
فائدہ اٹھانا ہے لیکن اس سے دوسرے کا نقصان ہوتا ہے یا بطور کفایت شعاری دوسرے کو
اپنی مملوکہ چیز سے فائدہ اٹھانے سے روک دیتا ہے جس سے روکے گئے شخص کا نقصان ہوتا
ہے ۔اس کی بھی مختلف صورتیں اور شکلیں ہیں
جیسے : بلند و بالا عمارت میں کھڑکی یا روشندان کھولنا جس سے کہ پڑوسی کا گھر نظر
آئے یا اونچی عمارت بنانا جس سے کہ پڑوسی کا گھر دکھائی دے اور بے پردہ ہوجائے(1) ۔
اب غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جب تکلیف پہنچانے کی
یہ ساری صورتیں حرام ہیں تو پھر کچھ متشدد اور انتہا پسند لوگوں کی
طرف سے اپنے مسلمان بھائیوں کو تکلیف پہنچانا , ان پر ظلم کرنااور ان کو خوف و
دھشت میں مبتلا کرنا کیسا ہے؟
ایک عمارت میں
کھڑکی کھولنا جس سے پڑوسی کا گھر نظر آئے اور ایک مکمل بلڈنگ ہی کو دھماکے سے اڑا
دینا جس میں کہ دسیوں , سیکڑوں افراد زخمی ہوں , کئی ایک لوگ موت کے گھاٹ اتر
جائیں اور بغل کی عمارتوں کو بھی نقصان ہو
۔کیا ان دونوں کاموں میں کوئی تناسب ہے؟ کیا دونوں افعال میں کوئی مقارنہ کیا جا
سکتا ہے؟ جب محض کھڑکی کھول کے کسی مسلمان کو تکلیف میں مبتلا کرنا حرام ہے تو کسی
بھی عمارت کو بم دھماکے سے اڑا دینا بدرجہ اولی حرام ہے اور سخت ترین گناہ ہے ۔
اللہ تعالى کا فرمان ہے: وَٱلَّذِينَ
يُؤْذُونَ ٱلْمُؤْمِنِينَ
وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ
بِغَيْرِ مَا ٱكْتَسَبُواْ فَقَدِ ٱحْتَمَلُواْ بُهْتَٰنًا وَإِثْمًا مُّبِينًا (احزاب/58) اور جولوگ مومن
مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں انہوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ
کا وبال اپنے سر لے لیا ہے ۔
تو اب سوال یہ ہے کہ یہ بم دھماکے جو کئی سالوں سے بہت
سارے اسلامی ملکوں میں کچھ گمراہ لوگوں کی طرف سے انجام دئیے جاتے
ہیں کیا مسلمان مردوں اور عورتوں کو تکلیف دینا یا ان کو نقصان پہنچانا نہیں ہے ؟
اسی طرح اسلامی ممالک میں غیر مسلموں کی موجودگی کو حجت و بہانہ بنا کر بہت سارے
مجرمانہ اعمال انجام دینا مثلا: قتل کرنا , گھروں اور رہائشی کمپلیکس پر حملہ
کرنااور بینکوں کو لوٹنا وغیرہ کیا یہ سب مسلمانوں اور مستامن(2) کافروں کو خوفزدہ کرنا نہیں ہے یا ان کو تکلیف
دینا نہیں ہے؟
بلا شبہ یہ انہیں تخریبی و فسادی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے
کہ پولس اور فوج ہر سڑک اور گلی کوچہ میں تعینات ہے , جس سے ملکی اور غیر ملکی ہر
کسی کا نقصان ہوتا ہے کیونکہ ایک تو اس سے ہر شخص کو بار بار چیکنگ اور تفتیش کے
مرحلہ سے گذرنا پڑتا ہے اور دوسرے کاموں کو بروقت پورا کرنے میں دشواری ہوتی ہے
اور لامحالہ دیر ہوجاتی ہے ۔بلا شبہ یہ بھی مسلمانوں کو تکلیف دینا ہے ۔ ہمارے نبی
کا فرمان ہے:من آذى المسلمین فی طرقہم وجبت علیہ لعنتہم(3) یعنی جو کوئی مسلمانوں کو ان کی راہوں میں
تکلیف دیتا ہے تو اس پر ان کی لعنت واجب ہوگئی ۔ اور ہمارے نبی کا یہ بھی فرمان ہے
: اتقوا اللاعنین , قالوا : و ما اللاعنان یا رسول اللہ؟
قال: الذی یتخلى فی طرق الناس او فی ظلہم (4) ترجمہ: دو لعنت
والی چیزوں سے بچو , صحابہ کرام گویا ہوئے کہ اے اللہ کے رسول وہ دو لعنت والی
چیزیں کون سی ہیں ؟ آپ نے جواب دیا کہ لوگوں کے راستہ یا سایہ میں قضاء حاجت کرنا
۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو لوگوں کے
راستہ یا سایہ میں پیشاب پائخانہ کی وجہ سے لعنت و ملامت کا حقدار ٹہرا تو پھر اس
کی کیا حالت ہوگی جو لوگوں کے چلنے پھرنے میں رکاوٹ کا سبب بنا اور راستوں و
بازاروں میں گذرنے والوں کو دہشت زدہ کیا
۔
آخر ایسے لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو ازخود اپنی ذات کے
لیے لعنت و ملامت مول لیتے ہیں اور اس سے ان کے اوپر کوئی اثر بھی نہیں پڑتا ہے ,
وہ اپنے اعمال و افعال سے باز بھی نہیں آتے ہیں ۔ کیا ان لوگوں کو اس کا علم نہیں
ہے کہ اس امت کے علماء, صلحاء, مفکرین اور دانشوروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایسا
عمل گمراہی و ضلالت ہے اور ایسا وہی کرتے ہیں جو کم عقل اور بیوقوف ہیں , اور یہ
ناممکن ہے کہ یہ امت ضلالت و گمراہی پر متفق ہو, کیا ان کو یہ بھی نہیں معلوم ہے
کہ مساجد کے ائمہ ان کے لیے بد دعائیں کرتے ہیں اور تمام نمازی اس پر آمین کہتے
ہیں , کیا ان کو اس بات کا بھی خوف نہیں
ہے کہ اللہ تعالى ان کی بد دعائیں ان کے حق میں قبول فرمالے تو ان کا اور ان جیسے
لوگوں کا انجام بہت برا ہوگا۔
کیا ان لوگوں کے پاس مسلمانوں کو تکلیف دینے, پرامن
لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور مستامن کافروں کو قتل کرنے کی کوئی دلیل ہے؟
حضرت عبد الرحمن بن ابو لیلی کی روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے اصحاب نبی نے بیان کیا ہے کہ وہ لوگ نبی کریم کے ساتھ چل رہے تھے اسی دوران
ان میں سے ایک آدمی سوگیا تو ایک شخص نے جا کرکے اس کی رسی لے لی جس سے وہ گھبرا
گیا , یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا: لا یحل لمسلم أن
یروع مسلما (5) یعنی یہ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی
مسلمان کو خوف زدہ کرے ۔
غور کیجیے کہ آپ
نے یہ بات ایک رسی کے تعلق سے فرمائی ہے جس کو ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے کھینچ
لیا جس سے وہ گھبرا اٹھا ۔ اس کے مقابلے میں قتل و غارتگری , توڑ پھوڑ , بم دھماکے
, خونریزی اور فساد و بگاڑ کی بات ہی دوسری ہے , کیا کوئی بھی عقلمند و صاحب دانش
و بینش آدمی اس کو جائز قرار دے سکتا ہے
چہ جائیکہ کوئی دیندار اور با اخلاق آدمی اس کو جائز قرار دے ۔
واہیات دلائل:
بم دھماکے اور دھشت گردی کرنے والوں کے نزدیک کچھ کمزور
اور واہیات قسم کے دلائل ہیں جن کے ذریعہ وہ استدلال کرتے ہیں اور اپنے مجرمانہ
اعمال کو جائز ٹہراتے ہیں , حالانکہ ان کے یہ دلائل ایسے ہیں جو شرعی نصوص یا صحیح
نظر و فکر والوں کے سامنے بالکل بودی ہیں اور ان کا کوئی وزن نہیں ہے ۔
ان کے دلائل میں سے ایک دلیل ان کا یہ کہنا ہے کہ در اصل
ان کی کاروائیوں کا مقصد مسلمانوں کو قتل کرنا یا ان کو تکلیف دینا یا ان کو
خوفزدہ کرنا بالکل نہیں ہوتا ہے بلکہ ان کا مقصد تو صرف کافروں کا قتل کرنا ہوتا
ہے اور ایسا اسی صورت میں ممکن ہے جب مسلمانوں میں سے بھی چند لوگ مارے جائیں
۔گویا کہ وہ کافروں کے قتل کرنے کی مصلحت کو مسلمانوں کے جانوں کو بچانے کی مصلحت
پر ترجیح دیتے ہیں , اور اس مسئلہ میں وہ تترس یعنی دوران جنگ چند مسلمان
قیدیوں کو ڈھال بنانے والے مسئلہ سے
دلیل پکڑتے ہیں ۔
لیکن ان کی اس دلیل کا دو جواب ہے :
پہلا جواب تو یہ ہے کہ اسلامی شریعت کی رو سے ہر کافر کا
قتل کرنا جائز نہیں ہے ۔ مثلا : ذمی کافر , اگر ذمی(6) کافر جزیہ ادا کرتا ہے تو اس سے چھیڑ جھاڑ کرنا
یا اس کو قتل کرنا اور تکلیف دینا جائز نہیں ہے بلکہ اسلامی حکومت اور اس کی رعایا
پر فرض ہے کہ وہ ان کے اموال و دولت , عزت و ناموس اور جان و روح کی حفاظت کرے ۔
بعینہ یہی معاملہ معاہد(7) اور مستامن کافرکے ساتھ بھی ہوگا ۔ان کے ساتھ بھی چھیڑ
چھاڑ کرنا , ان کو تکلیف دینا یا قتل کرنا حرام ہےبلکہ علماء امت کا اس بات پر اتفاق
ہے کہ ناحق کسی بھی معصوم نفس پر جارحیت اور زیادتی حرام ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا
کافر اور ایسا کرنا گناہ کبیرہ ہے ۔ قرآن و حدیث میں صراحتا اس سے روکا گیا ہے ۔
ایک دلیل اللہ تعالى کا یہ فرمان ہے: و لا تقتلوا النفس
التی حرم اللہ الا بالحق (انعام /151) یعنی اللہ کی حرام کردہ جان
کو ناحق قتل نہ کرو ۔ اس آیت میں نفس کا لفظ عام ہے جو کافر اور مسلم سب کو شامل
ہے ۔
اور حدیث میں آیا ہے: من قتل
معاھدا لم یرح رائحۃ الجنۃ , وان ریحہا لیوجد من مسیرۃ اربعین عاما (8)۔ترجمہ: جس نے کسی کافر معاہد کو قتل کیا تو وہ جنت کی
خوشبو بھی نہیں پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے بھی محسوس کی
جاتی ہے ۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ اس مسئلہ کو تترس یعنی مسلمان جنگی قیدی کو ڈھال بنانے والے مسئلہ پر قیاس کرنا صحیح
نہیں ہے بلکہ یہ فہم و سمجھ کی غلطی اور اجتہادی مسئلہ کے صورت حال کی غلط توضیح و
تطبیق ہے کیونکہ تترس کا مسئلہ مصلحت کے قاعدہ پر مبنی ہے جس کی صورت یہ ہے کہ
مسلمانوں اور کافروں کے درمیان جنگ کی حالت ہے ۔اتفاق سے کافر چند مسلمانوں کو
گرفتار کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور ان کو قیدی بنا لیتے ہیں , اور جب جنگ دوبارہ
شروع ہوتی ہے تو کافر ان قیدی مسلمانوں کو میدان جنگ میں آگے کرکے اپنے لیے ڈھال
بنا لیتے ہیں اور خود ان کے پیچھے رہتے ہیں ۔
اب ایسی صورت میں مسلمانوں کے سامنے صرف دو ہی راستے ہیں
, ایک تو یہ کہ مسلمان لڑائی سے دستبردار ہوجائیں
کیونکہ جنگ کی حالت میں بے گناہ مسلمان قیدی ناحق مارے جائیں گے , لیکن عین
ممکن ہے کہ اس طرز عمل سے کافروں کی ہمت بڑھ جائے اور وہ مسلمانوں پر حملہ
کردیں اور ان کے ملک پر قابض ہو جائیں اور
تمام مسلمانوں کو تہ تیغ کردیں جن میں یہ مسلمان
قیدی بھی شامل ہیں ۔
دوسری صورت یہ ہے کہ مسلمان لڑائی بالکل بند نہ کریں
بلکہ اپنی پوری طاقت سے کافروں پر حملہ آور ہوں , ظاہر ہے کہ اس صورت میں پہلے
قیدی مسلمان ہی مارے جائیں گے کیونکہ پہلی صفوں میں وہی ہیں اور وہ بلا شبہ بے
قصور ہیں ان کا کوئی گناہ نہیں ہے ۔
معلوم ہوا کہ دونوں ہی صورتوں میں قیدی مسلمانوں کا مارا
جانا بالکل طے ہے ۔ اب اس نازک صورت حال میں کیا کیا جائے گا ۔ بلا شبہ اسلامی
شریعت کے مقصد سے قریب تر یہی ہے کہ تمام مسلمانوں کے جانوں کی حفاظت کی جائے
کیونکہ یہ بات قطعی طور پر معلوم ہے کہ قتل کو کم کرنا ہی شریعت کا اصل مقصد ہے ۔
بلکہ اگر اس امر کا بھی امکان ہے کہ قتل کو مکمل طور سے روکا بھی جا سکتا ہے تو اس
کو روکا جائے گا لیکن اس مسئلہ میں واضح ہے کہ قتل کو بالکل روکا نہیں جا سکتا ہے
لیکن بلا شبہ کم کیا جا سکتا ہے ۔
بنا بریں اگر کافروں پر حملہ کی صورت میں چند مسلمان
مارے جاتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے , لڑائی جاری رکھی جائے گی , کافروں پر
حملہ کیا جائے گا ورنہ زیادہ مسلمانوں کے مارے جانے کا خطرہ ہے ۔
یہ ہے جنگی قیدی مسلمانوں کو ڈھال بنا نے والے مسئلہ کی
اصل حقیقت جس کو گمراہ لوگ اپنے مجرمانہ اور قبیحانہ اعمال کے لیے دلیل بناتے
ہیں اور اپنے منحرف اعمال کو چھپانے کے لیے
استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ان کے لیے مسلمانوں کے
خون بہانے کو جائز قرار دے بلکہ وہ جنگجو کفار کہاں ہیں جو مسلمانوں کی سرزمین
پر چڑھائی کریں گے اور مسلمانوں کے خلاف تلوار کا استعمال کرکے ان کو قتل و ذبح
کریں گے ۔
معلوم ہوا کہ
دونوں دو الگ الگ صور تیں ہیں اور ان میں کسی طرح کی کوئی مشابہت بھی نہیں
ہے لہذا ایک کو دوسرے پر قیاس کرنا بالکل صحیح نہیں ہے ۔
اسی وجہ سے جب امام غزالی رحمہ اللہ نے اس مسئلہ کا ذکر
کیا تو ساتھ ہی اس بات کی بھی وضاحت کردی کہ مذکورہ مسئلہ میں مصلحت قطعی , کلی
اور ضروری ہے , پھر مزید فرمایا کہ یہ اس کے معنى میں نہیں ہے( یعنی یہ فعل ان
حالات میں نہیں داخل ہے جن میں ڈھال بنائےگئے
مسلمان قیدیوں کا قتل کرنا جائز ہے )کہ اگر کافر مسلمانوں کو کسی قلعہ کے
اندر اپنے لیے ڈھال بنا لیتے ہیں تو ایسی صورت میں لڑائی جاری رکھنا اور حملہ کرنا
درست نہیں ہے -تاکہ مسلمانوں کو تکلیف نہ ہو -کیونکہ اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے اور ہم مسلمان قلعہ سے
بے نیاز ہیں ۔اب اگر ہمیں ان پر کامیابی کی قطعی امید نہیں ہے اور یہ قطعی نہیں
ہے بلکہ بلا شبہ ظنی ہے یعنی کامیابی مل
سکتی ہے اور نہیں بھی مل سکتی ہے اس لیے ایسی صورت میں حملہ کرنے سے بچا جائے
گا ۔(المستصفی من علم الاصول , 1/420-421)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ امام غزالی کے نزدیک ڈھال بنائے
گئے مسلمان کا قتل کرنا جائز نہیں ہے اگر
چہ ان کے قتل کرنے سے مسلمانوں کی اس سے
بڑی کوئی اور مصلحت پوری ہوتی ہو۔ یہ بعض
ان دوسری فقہی آراء سے مختلف ہے جو انتہائی ضرورت کی حالت میں ڈھال بنائے گئے
قیدیوں کو قتل کرنے کی اجازت دیتی ہے ۔
بنا بریں ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے اور
اپنے حدود میں رہتے ہوئے لوگوں کا خون ناحق بہانے سے بچے کیونکہ ایسا کرنا گناہ
کبیرہ ہے اور اس کا انجام بہت ہی بھیانک ہے ۔ اور اس بات کا مکمل یقین رکھے کہ
علماء امت اس جیسے مسائل کو حل کرنے کی سب سے زیادہ قدرت و صلاحیت رکھنے والے لوگ
ہیں ۔ لہذا ان سے رابطہ استوار کرے اور ان کے قافلہ سے جڑ جائے اور ان کو طعن و تشنیع کرنے سے باز رہے ورنہ
سیدھی راہ سے بھٹک جائے گا اور انجام بہت ہی خراب ہوگا ۔ارشاد باری تعالى ہے: وَإِذَا
جَآءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ ٱلأَمْنِ أَوِ ٱلْخَوْفِ أَذَاعُواْ بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ
إِلَى ٱلرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُوْلِي ٱلأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ ٱلَّذِينَ
يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ (نساء/83) ترجمہ: اور جب
انہیں امن یا خوف کی کوئی بھی خبر ملتی ہے تو اسے پھیلا دیتے ہیں حالانکہ اگر یہ
رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں
آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کر
سکیں ۔
معلوم ہوا کہ پر امن لوگوں کو خوفزدہ کرنا جہاد نہیں ہے
اور نہ ہی اسلام کی کوئی خدمت انجام دینا ہے بلکہ یہ سراسر جہالت, گمراہی اور
ضلالت ہے اور اسلام و مسلمانوں کی بدنامی
کا باعث ہے ۔
مکہ مکرمہ , 18/جولائی 2013ع /9/رمضان 1434ھ جمعرات
حواشی از مترجم :
(1) ابن
رجب الحنبلی: جامع العلوم و الحکم, تحقیق
و تعلیق: طارق عوض محمد, ط 3, الدمام : دار ابن الجوزی, 1422ھ, ص 573,575,
576
(2) مستإمن : وہ کافر ہے جو ذمی کے علاوہ ہوتا ہے اور جو
کسی اسلامی ملک میں کسی مخصوص کام کے لیے عارضی طور پر ایک محدود وقت کے لیے قیام
پذیر ہوتا ہے ۔(دیکھیے: التعامل مع غیر المسلمین فی السنۃ النبویۃ: عبد الرحمن
العقل, ط1, المدینۃ المنورۃ:جائزۃ نایف آل سعود العالمیۃ, 1431ھ/20210ع, ص 35)
(3) المعجم الکبیر للطبرانی /3050, السلسلۃ الصحیحۃ
/2294, علامہ البانی نے اس حدیث کو اس کے
شواہد کی وجہ سے حسن قرار دیا ہے ۔
(4) صحیح مسلم , باب النہی عن التخلی فی الطرق و الظلال,
حدیث نمبر 618, صحیح ابی داؤد, باب
المواضع التی نہى النبی عن البول فیھا, حدیث نمبر 25۔
(5) صحیح ابو داؤد : باب من یأخذ الشئی علی المزاح
/5004, علامہ البانی نے صحیح کہا ہے ۔ مسند احمد/23064, الترغیب و الترہیب/3/403 ۔
(6 و 7) ذمی اور معاہد: اسلامی ملک میں رہنے والے غیر
مسلم رعایا کی ایک قسم ذمی ہے ۔ذمی یہ ذمہ سے ماخوذ ہے جس کا لفظی معنى عہد و
پیمان ہے اور شریعت کی اصطلاح میں ذمی اس کافر کو کہا جاتا ہے جو کسی اسلامی ملک
کے عہد و پیمان میں دائمی طور پر داخل ہوجاتا ہے , جزیہ ادا کرتا ہے اور ملت کے
احکام کی پابندی کرتا ہے ۔(التعامل مع غیر المسلمین: د. عبد اللہ الطریقی , ط1,
الریاض: دار الفضیلۃ, 1428ھ, ص 139) اسی ذمی کو معاہد بھی کہا جاتا ہے ۔دونوں میں
تھوڑا سا فرق یہ ہے کہ ذمی کا علاقہ جنگ کے ذریعہ فتح کیا ہوا علاقہ ہوتا ہے جب کہ
معاہد کا علاقہ جنگ کے ذریعہ فتح نہیں ہوتا ہے , اسی طرح سے ایک ذمی کو اسلامی
ریاست اپنی طرف سے حقوق دیتی ہے اور معاہد ریاست سے معاہدہ کے تحت اپنے حقوق کا
تعین کرتا ہے لیکن عام طور سے معاہد کا لفظ حدیث میں ذمی کے لیے استعمال کیا جاتا
ہے ۔ علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں : المعاھد من کان بینک و بینہ عھد و اکثر ما یطلق
فی الحدیث على أہل الذمۃ و قد یطلق على غیرھم من الکفار اذا صولحوا على ترک الحرب
مدۃ ما یعنی معاہد وہ ہے کہ تمہارے اور اس کے درمیان عہد و پیمان ہو ۔ حدیث میں اس
کا زیادہ تر اطلاق ذمیوں پر ہوتا ہے , کبھی ان کے علاوہ یہ ان غیر مسلموں کے لیے
بھی بولا جاتا ہے جن سے کسی مدت تک کے لیے جنگ بندی کی صلح ہوجائے ۔(دیکھیے: سید
جلال الدین عمری: غیر مسلموں سے تعلقات اور ان کے حقوق , بار دوم , على گڑھ :
ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی, جنوری 1999ع, ص 218-219)
(8) بخاری: باب اثم من قتل معاھدا بغیر جرم , حدیث نمبر
3166, وباب اثم من قتل ذمیا بغیر جرم , حدیث نمبر 6914۔
0 التعليقات: