لوگوں كو ہنسانے اور بطور مذاق جھوٹ بولنے كا حكم

 

لوگوں كو ہنسانے اور بطور مذاق جھوٹ بولنے كا حكم

حديث:عن معاوىة بن حىدة القشىرى قال سمعت النبى ىقول :ويلٌ لِلَّذِي يُحَدِّثُ بالحدِيثِ لِيُضْحِكَ بِهِ القوْمَ فيَكَذِبُ ويلٌ لَهُ ويلٌ لَهُ۔

تخريج :علامہ البانى كے نزدىك حسن ہے،  ترمذى  و صحىح ترمذى  /2315، الفاظ ترمذى كے ہىں ،  أبو داود /4990،  نسائي /السنن الكبرى-11126، أحمد/  20046،  صحيح الجامع /7136، صحيح الترغيب والترهيب/2944.

ترجمہ: حضرت معاوىہ بن حىدہ قشىرى كى رواىت ہے ان كا كہنا ہے كہ مىں نے نبى كو فرماتے ہوئے سنا:اس شخص كے لىے ہلاكت، تباہى و بربادى ہے جو لوگوں كو ہنسانے كے لىے گفتگو كرتا ہے اور اس كے لىے جھوٹ بولتا ہے ، اس كے لىے تباہى و ہلاكت ہے ، اس كے لىے تباہى و ہلاكت ہے۔

معانى كلمات:

وىل:  وہ لفظ ہے جو ہر اس شخص کے لیےبولا جاتا ہے جو ہلاکت اور عذاب میں پڑ جائے۔اور ابن الأثیر رحمہ اللہ نے فرمایا:’’ویل‘‘ کا معنی ہے:غم، ہلاکت اور عذاب کی سخت مشقت۔ اور ہر وہ شخص جو کسی ہلاکت میں پڑتا ہے، وہ ’’ویل‘‘ (ہلاکت ہو) کا لفظ بولتا ہے۔اور اسی مفہوم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: يَا وَيْلَتَنَا (الکہف: 49)یعنی: اے ہماری ہلاکت ۔(موقع مركز السنة النبوية : مذكوره حديث كي شرحhttps://alsunna.net/hadith/651) اور بعض کے نزدیک جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔

1.    ىكذب: جھوٹ: یعنی کسی چیز کی خبر حقیقت کے خلاف دینا۔ ۔(موقع موسوعة الاحادىث النبوىة:مذكورہ حدىث كى شرح)

شرح:

بلا شبہ اىك حقىقى مسلمان سدا  سچا ہوتا ہے اور ہمىشہ سچ بولتا ہے ، جھوٹ نہیں بولتا ہے ، اور وہ گفتار و کردار میں ہر بےہودہ اور بےکار کام سے بچتا ہے۔اس حدیث میں جھوٹ  بولنے سے سخت ترین ڈراوا  اور تنبىہ ہے  اور ایسے شخص کے لیے ہلاکت کی وعید ہے جو مذاق اور لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے۔ یہ عمل انتہائی قبیح اور بدترین برائیوں میں سے ہے، جس  سے جھوٹ کی حرمت مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ ان بُری اخلاقیات میں سے ہے جن سے مومن کو بالکل پاک اور دور  رہنا چاہیے، اور ہر حال میں اپنی زبان کو جھوٹ سے پاک رکھنا چاہیے، سوائے ان مواقع کے جن میں شریعت نے اجازت دی ہے۔اور جس طرح  مزاح  اور مذاق کے لیے جھوٹ بولنا حرام ہے، اسی طرح جھوٹ کو سننا بھی حرام ہے اگر سننے والا جانتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے؛ بلکہ اس پر لازم ہے کہ اس کی نکیر کرے۔(موقع موسوعة الاحادىث النبوىة:مذكورہ حدىث كى شرح)

اس حدىث كى شرح مىں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے تحرىر كىا  ہے  كہ  وىل یہ بد دعا اور وعید  دونوں کا لفظ ہے، اسی لیے اس کا نکرہ كى  حالت میں جملے کی ابتدا میں آنا درست ہے، جیسے کہا جاتا ہے:سلامٌ عليك۔ چونکہ یہ دعا ہے، اس لیے نکرہ ہونے کے باوجود ابتداء میں آ سکتا ہے۔ اسی طرح ’’ویل‘‘ بھی نکرہ ہے،  اس لیے اس کا ابتداء میں آنا درست ہے كىونكہ  یہ وعید اور بددعا کا لفظ ہے ۔

اور کہا گیا ہے کہ ’’ویل‘‘ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔ لیکن یہ لفظ دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یعنی جب کسی خاص شخص پر اس وادی کا عذاب واقع ہو، تو اس کا معنی وادی بھی ہو سکتا ہے، لیکن عمومی طور پر یہ محض وعید  کا لفظ ہوتا ہے۔

اور حدیث میں جو فرمایا:الذی یُحدِّث وہ شخص جو بات بیان کرے، یعنی الناس  لوگوں سے گفتگو کرے۔الناس مفعول بہ محذوف ہے۔اور ’’فیکذب‘‘ یعنی جھوٹ بولے۔اورجھوٹ حقیقت کے خلاف خبر دینا ہے۔یعنی اس کی بات کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی، لیکن وہ صرف اس لیے اىسا  بولتا ہے کہ لوگوں کو ہنسانا چاہتا ہے( ttps://alsunna.net/hadith/651) ۔

" ويل له ويل له   اس کے لیے ہلاکت ہے، اس کے لیے ہلاکت ہے" یعنی اس کے لیے عذاب، رسوائی اور خسارہ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جھوٹ حرام ہے، اوراور لوگوں كو ہنسانا جىسے مقصد كے لىے اس كا سہارا لىنا اس كى حرمت كو مزىد بڑھادىتا ہے  ۔كىونكہ ہنسانا کوئی ایسی ضرورت نہیں کہ اس کے لیے انسان جھوٹ بولے۔ نبی ﷺ خود اصحابؓ سے مزاح بھی فرماتے تھے، لیکن ہمیشہ سچ ہی بولتے تھے، کبھی جھوٹ نہ بولتے۔(موقع الدرر السنىة: مذكورہ حدىث كى شرح )

امام مناوى كا قول ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے اس كى ہلاكت كى شدت اور سختى كى  بابت خبر دينےكے لىے  ’’ویل‘‘ کو تین مرتبہ دہرایا۔کیونکہ صرف جھوٹ ہى  بذاتِ خود ہر برائی کی اصل ہے اور ہر رسوائی كى جڑ و بنىاد  ہے۔ اور جب جھوٹ میں مزید یہ بُرائی شامل ہو جائے کہ انسان لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولے -جو کہ دل کو مردہ کرتا ہے، نسیان (بھول) پیدا کرتا ہے، اور بےوقوفی و ہلکے پن کو جنم دیتا ہے - تو یہ تمام برائیوں میں سب سے قبیح ہو جاتا ہے۔
اسی لیے حکیموں نے کہا ہے:’’لغو اور بےہودہ طریقے سے لوگوں کو ہنسانا بدترین برائی ہے‘‘۔(فیض القدیر 6/ 368  ماخوذ ازموقع  مركز السنة النبوىة: مذكورہ حدىث كى شرح ))

امام مغربی رحمہ اللہ كا كہنا ہے كہ جھوٹ کو گناہِ کبیرہ میں شمار کیا گیا ہے کیونکہ کبیرہ گناہ کی تعریف اس پر پوری طرح صادق آتی ہے، اس لیے کہ خود جھوٹ کے بارے میں شدید وعید وارد ہوئی ہے۔ شافعی فقہاء میں سے رویانی نے البحر میں صراحت کی ہے کہ جھوٹ بڑا گناہ ہے خواہ اس سے کسی کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا: جو شخص جان بوجھ کر جھوٹ بولے، اس کی گواہی رد کر دی جائے گی، چاہے اس کے جھوٹ سے کسی دوسرے کو ضرر نہ بھی پہنچے، کیونکہ جھوٹ ہر حال میں حرام ہے۔

البحر میں ایک مرسل حدیث روایت کی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کی صرف ایک جھوٹی بات کی وجہ سے اس کی گواہی کو باطل قرار دیا۔اور امام اذرعی نے فرمایا: کبھی ایک ہی جھوٹ انسان کو کبیرہ گناہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔

اور جان لو کہ جھوٹ کی حقیقت کے تعین میں اختلاف ہے:

  • جمہور کے نزدیک جھوٹ کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کی ایسی خبر دینا جو واقعے کے خلاف ہو۔ پس اگر کوئی کہے: "زید گھر میں ہے"، اور بعد میں واضح ہو کہ وہ گھر میں ہے، تو یہ سچ ہے؛ اور اگر گھر میں نہ ہو تو جھوٹ ہے، خواہ کہنے والا یہ یقین رکھتا ہو کہ وہ گھر میں ہے۔ البتہ اس خاص حالت میں وہ گناہگار نہیں ہوگا کیونکہ اس نے حقیقت کے خلاف قصد نہیں کیا تھا۔
  • نظام کے نزدیک جھوٹ وہ ہے جو اعتقاد (یقین) کے خلاف ہو، چاہے اتفاق سے وہ واقعے کے مطابق ہی کیوں نہ ہو جائے۔
  • جاحظ کے نزدیک جھوٹ وہ ہے جو اعتقاد اور واقعے دونوں کے خلاف ہو، اور اس نے سچ اور جھوٹ کے درمیان ایک درمیانی حالت بھی تسلیم کی ہے۔ان اقوال کی تحقیق علمِ اصول میں مذکور ہے۔(امام مغربى :ماخوذ  از:موقع مركز السنة النبوىة)

اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ  كا كہنا ہےكہ سب سے بڑے جھوٹ مىں سے اىك ىہ  بھی ہے جو بعض لوگ آج کل کرتے ہیں۔ آدمی جان بوجھ کر ایسی بات کہتا ہے جسے وہ خود جانتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے، لیکن صرف اس لیے کہ لوگ ہنسیں۔ حالانکہ اس کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولے، اس کے لیے ہلاکت ہے، اس کے لیے ہلاکت ہے"۔

یہ وعید ایسے معاملے پر ہے جو بہت سے لوگوں کے نزدیک بڑا معمولی سمجھا جاتا ہے۔ہر قسم كا  جھوٹ ہر حال میں حرام ہے، اور یہ انسان کو فجور (بدکاری و گناہ) کی طرف لے جاتا ہے، اور اس میں کوئی استثنا نہیں۔ البتہ ایک حدیث میں تین چیزوں میں رخصت آئی ہے:جنگ میں، لوگوں کے درمیان صلح کرانے میں، اور شوہر کا بیوی سے یا بیوی کا شوہر سے کلام كرنا۔

لیکن بعض علماء نے کہا ہے کہ اس حدیث میں جھوٹ سےمراد توریہ ہے، کھلا ہوا  جھوٹ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ توریہ کو بھی کبھی جھوٹ کہا جاتا ہے، جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:"حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین باتوں کے سوا کبھی جھوٹ نہیں بولا: دو اللہ کے بارے میں: ’میں بیمار ہوں‘ (الصافات: 89)، اور ’یہ کام اس بڑے بت نے کیا ہے‘ (الأنبیاء: 63)، اور ایک حضرت سارہ کے بارے میں…“ كہ وہ مىرى بہن ہے (بخارى /3358، مسلم /2371)

یہ دراصل آپ نے  جھوٹ نہىں بولا بلكہ آپ نے تورىہ سے كام لىا  اور بلا شبہ آپ صادق تھے۔

چاہے یہ معنی لیا جائے یا وہ؛ بہرحال بہت سے اہل علم کے نزدیک جھوٹ صرف انہیں تین صورتوں میں جائز ہے۔ جبکہ بعض علماء کہتے ہیں کہ جھوٹ کسی حال میں جائز نہیں: نہ مذاق میں، نہ سنجیدگی میں، نہ مال حاصل کرنے کے لیے، نہ کسی اور مقصد کے لیے۔

خلاصہ یہ ہے کہ جھوٹ حرام ہے، اور انسان کے لیے کسی بھی حالت میں جھوٹ بولنا جائز نہیں؛ نہ مذاق میں، نہ سنجیدگی میں، سوائے ان تین مواقع کے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے مزید فرمایا:ىہ حدیث دلیل ہے کہ لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنا حرام ہے، بلکہ یہ کبیرہ گناہ ہے، کیونکہ اس پر ہلاکت کی وعید آئی ہے۔

حدیث سے یہ فائدہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ڈراموں، اسٹیج پرفارمنس اور تمثیل میں جو باتیں بیان کی جاتی ہیں جن كا حقىقت سے كوئى تعلق نہىں ہوتا ہے  اور جنہیں کسی شخص کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، وہ بھی اسی وعید میں داخل ہیں۔

اسی طرح اس حدیث سےتاكىد  (زور دینے) کے لیے کلام دہرانے کا جواز بھی ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: "اس کے لیے ہلاکت، پھر ہلاکت"۔.

اور جھوٹ کبھی خیر کے لیے ہوتا ہے اور کبھی شر کے لیے۔جیسے:

·            لوگوں میں صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا  خىر و بھلائى  ہے۔جنگ میں جھوٹ بولنا اور دشمن كو غلط فہمى مىں ڈالنا مثلا تعداد بہت زىادہ ہے اور ساز و سامان زبردست ہے  بھلائی ہے۔

·            شوہر کا بیوی سے محبت و قربت  میں ایسی بات کہنا جس کا بعد میں جھوٹ ہونا ظاہر نہ ہو، یہ بھی بھلائی ہے۔

اسی وجہ سے ان تین صورتوں میں جھوٹ مباح قرار دیا گیا۔

پھر جھوٹ بعض اوقات مزید بڑا گناہ بن جاتا ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ اگر جھوٹ کے ذریعے کسی کا مال ناجائز طریقے سے کھا لیا جائے تو اس میں دو خرابیاں جمع ہو جاتی ہیں: جھوٹ کی خرابی اور مال باطل طریقے سے لینے کی خرابی۔

بعض لوگ لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں، اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ لوگ ہنس رہے ہیں تو اسے اپنا معمول بنا لیتے ہیں، یہاں تک کہ یہ عمل ان پر ہلکا سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ حالانکہ حدیث میں آیا ہے: "اس کے لیے ہلاکت ہے، پھر ہلاکت ہے"۔ اسے تینوں نے روایت کیا ہے اور اس کی سند قوی ہے۔

کچھ لوگ بچوں سے بھی جھوٹ بولتے ہیں، یہ سمجھ کر کہ وہ ان كى تنقىد نہىں كرىں  گے، لیکن حقیقت میں وہ خود جھوٹ میں پڑتے ہیں اور بچوں کے لیے جھوٹ کو معمولی بنا دیتے ہیں اور اس پر ان كى پرورش كرتے ہىں ۔(ابن عثىمىن :ماخوذ ازموقع  مركز السنة النبوىة: مذكورہ حدىث كى شرح )

شیخ عبد المحسن العباد نے اس حدىث كے تحت لكھا ہے :

اس میں جھوٹ سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے، اور جھوٹ کے بارے میں سختی اس طرح بیان کی گئی ہے کہ تین مرتبہ "ہلاکت" کا لفظ دہرایا گیاہے۔وہ جھوٹ بولتا ہے اور جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے تاکہ لوگوں کو ہنسائے، حالانکہ وہ جھوٹا ہے اور غلط بات کہہ رہا ہے۔یہ جھوٹ ہے، چاہے یہ ہنسانے کے لیے ہو یا کسی اور مقصد کے لیے، کیونکہ جھوٹ ہر حال میں حرام ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا:"جھوٹ سے بچو"۔لہٰذا انسان کو چاہیے کہ جھوٹ سے بچے اور جھوٹ سے دور رہے۔

اسی طرح یہ بیان بھی اس بات پر دلیل ہے کہ ڈرامہ اور تمثیل حرام ہے، جس میں آج کئی لوگ مبتلا ہیں، کیونکہ تمثیل جھوٹ پر مبنی ہوتی ہے اور غیر حقیقی باتوں کو بیان کرتی ہے۔

اگر کوئی شخص کوئی واقعہ یا لطیفہ بیان کرے جو سرے سے سچ نہ ہو اور اس کی کوئی حقیقت نہ ہو، تو یہ بھی حرام ہے، کیونکہ وہ ایسی چیز کی خبر دے رہا ہے جو حقیقت میں موجود نہیں۔ اس طرح وہ خود اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔اور اس میں تین مرتبہ "ہلاکت" کا ذکر کیا گیا ہے۔

اور امام صنعانی رحمہ اللہ نے فرمایا:یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنا حرام ہے۔ یہ خاص قسم کا تحریم (منع) ہے۔ اور سامعین پر بھی ایسے جھوٹ کو سننا حرام ہے، اگر وہ جانتے ہوں کہ یہ جھوٹ ہے، کیونکہ یہ منکر (برا کام) پر خاموش رہ کر اس کی تائید کرنا ہے۔ بلکہ ان پر لازم ہے کہ ایسی بات پر نکیر کریں یا اس مجلس سے اٹھ جائیں۔ اور جھوٹ کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔(سبل السلام 2/ 683 ماخوذ ازموقع  مركز السنة النبوىة: مذكورہ حدىث كى شرح)

حدیث کے فوائد:

جو شخص لوگوں سے بات کرتے ہوئے جھوٹ بولے، اس کے لیے ہلاکت کی وعید ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حق اور سچی بات کے ذریعے ہنسانے یا دل لگی میں کوئی حرج نہیں، خاص طور پر جب اس میں افراط نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ بھی مزاح فرماتے تھے لیکن ہمیشہ سچ بولتے تھے۔

حدیث میں  آپ كا دو بار كہنا:"  اس کے لیے ہلاکت ہے، پھر ہلاکت ہے"اس کی شدید ہلاکت اور اس عمل کی سنگینی کی طرف اشارہ ہے جس كا وہ ارتكاب كر رہا ہے ۔

صرف جھوٹ ہى  ہر برائی کی جڑ ہے، اور جب جھوٹ کے ساتھ لوگوں کو ہنسانے کی کوشش بھی شامل ہو -جو دلوں کو سخت کرتی ہے، بھلائی کو بھلا دیتی ہے، اورنا سمجھى و بےوقوفی پیدا کرتی ہے -تو یہ گناہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔

اگر جھوٹ کے ساتھ ہنسانے کا عمل شامل ہو تو  اس كا عذاب شدید ہوتا ہے؛ اسی طرح اگر جھوٹ کے ساتھ کسی کا مال ناجائز طریقے سے کھایا جائے تو یہ گناہ اور سخت ہو جاتا ہے۔

اس حدیث میں ڈرامہ کرنے والوں، مزاحیہ فنکاروں اور ان لوگوں کے لیے بھی وعید ہے جو ہنسانے کے لیے بے تكى اوٹ پٹانگ باتوں كا استعمال كرتے ہىں  اور ایسی باتیں بناتے ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتیں-بلكہ وہ صرف لوگوں كو ہنسانے كے لىے جھوٹ ہوتى ہىں ۔

 اس حدیث کے مفہوم میں  ان چىزوں كا بھى ذكر داخل ہے جن كى كوئى حقىقت نہىں ہوتى ہے اور جو  کسی شخص کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں  جو  آج کل "نِکّت" (لطیفے)  كے نام سے جانے جاتے ہىں ۔(موقع موسوعة الاحادىث النبوىة:مذكورہ حدىث كى شرح)

ہر بات میں سچ بولنے کی ترغیب ہےاور جھوٹ کے ہر قسم کے انجام اور اثرات سے ڈرانا ہے۔(موقع الدرر السنیہ)

آخر مىں اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ دنىا كے تمام مسلمانوں كو ہر قسم كے  جھوٹ سے محفوظ ركھے اورشرىعت پر عمل كرنے كى توفىق دے اور دىن و دنىا مىں كامىابى عطا فرمائے ۔آمىن

 

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: