تخلىق كائنات(بگ بىنگ)

 

تخلىق كائنات(بگ بىنگ)


آىت:اَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا ، وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ ، اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ۔(انبىاء/32)

ترجمہ:کیا کافر لوگوں نے یہ نہیں دیکھاکہ آسمان وزمین باہم ملے جلے تھے پھر ہم نے انہیں جدا کیا اور ہر زنده چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا، کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔

معانى كلمات:

   رتقا: مصدر ہے رَتَقَ يَرتِقُ سے، جس کے معنی ہوتے ہیں: "بند کرنا، جوڑ دینا، رفو كردينا وغىرہ "۔ کہا جاتا ہے:رتق الفتق  "فلاں نے شگاف کو بندكىا  اور جوڑ دیا،  رتق الثوب،  كپڑا كو جوڑ دىا، اس كا پھٹا ہوا حصہ سل دىا، رتق الشئى بند كردىا ۔

فتق : كئى معانى كے  لىے آتا ہے ، مثلا فتق الشئى كسى چىز كو پھاڑنا،  شق كرنا، فتق بىن القوم : اختلاف پىدا كرنا، فتق الكلام : واضح كہنا، فتق الثوب : كپڑے كى سلائى كو توڑنا، اس كى بناوٹ كو ادھىڑنا   ۔ ىہ رتق کی ضد ہے۔(موقع معجم المعانى و مصباح اللغات)

تفسىر:

بلا شبہ قر آن كرىم اللہ كى طرف سے نبى كرىم كو عطا كردہ سب سے بڑا ابدى معجزہ ہے، اس كے ذرىعہ اللہ نے انسانوں و جناتوں كو تا قىامت چىلنج كىا ہے اور اس مىں  کائنات وزندگى سے متعلق  كئى علمى اور سائنسى   زبردست رموز وحقائق بیان کیے  ہیں جن کا احاطہ کرنا مشکل ہے، لىكن  جیسے جیسے انسانی علم میں  اضافہ و ترقى ہو رہى  ہے  ویسے ویسے ان حقائق کے راز منکشف ہوتے جا رہے ہیں۔ىقىنا قرآن لسانى، ادبى، علمى، سائنسى اور غىبى وغىرہ  كئى ناحىوں پر مشتمل اىك معجزاتى كتاب ہے ۔

مذكورہ بالا آىت مىں بھى اللہ تعالى نے دو اہم علمى اور سائنسى حقىقت اور  راز كو بىان كىا ہے جن مىں سے اىك  كائنات كى تخلىق كے بارے مىں ہے اور دوسرا  ہر جاندار كى   مادہ تخلىق سے متعلق ہے۔

 اللہ تعالى كا قول: اولم ىر الذىن كفروا ،  كىا كافروں نے دىكھا نہىں ۔

 ىہاں رؤیت ىعنى دىكھنے سے نگاہوں و آنكھوں سے دىكھنا نہىں مراد ہے  بلكہ  رؤیت قلبی ىعنى دل سے د ىكھنا  مراد ہے۔ یعنی كسى چىز كا جاننا اور اس مىں غور و فكر كرنا ۔کیا انہوں نے غور فکر نہیں کیا؟ یا انہوں نے جانا نہیں؟۔(تفسىرقرطبى و  احسن البىان) (یعنی) کیا ان لوگوں نے، جنہوں نے اپنے رب كے ساتھ كفر  کیا اور عبودىت و بندگى  میں اس کے لیے اخلاص كا انكار كىا ، اس چیز پر غور نہیں کیا جو ان کے سامنے دکھائی دیتی ہے اور واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہی ربِّ محمود، کریم اور عبادت کے لائق ہے؟۔(تفسىر سعدى)

پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت پر گواہی دینے والے مختلف قسم کے کائناتی شواہد پیش کیے ، اور شرک کی نفی کرنے والی نقلی دلیلوں، اور دلوں کو حق کی طرف ابھارنے والی وجدانی دلیلوں کا ذکر فرماىا، اس کے بعد کافروں کو آسمانوں اور زمین کی  اپنے عظىم ملك و سلطنت میں غور و فکر کرنے کی ترغیب دی، تاکہ شاید یہ غور و فکر انہیں ایمان کی طرف لے جائے۔ چنانچہ فرمایا: أَوَلَمْ يَرَ …”

اور اللہ تعالى كا قول: اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا مفسرين  نے اس آیت كى  تفسير میں  درج ذىل مختلف اقوال بیان کیے ہیں:

پہلا قول: کَانَتَا رَتْقاًکے معنی یہ ہیں کہ آسمان ٹھوس  و سخت تھا، اس سے بارش نہیں برستی تھی،اور زمین بھی بند تھی، اس سے نباتات نہیں اُگتے تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان کو اس طرح "فتق" کیا کہ اس سے بارش برسنے لگی،اور زمین کو اس طرح "فتق" کیا کہ اس میں سے پودے اگنے لگے۔

یہ تفسیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔ ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:
آسمان بند تھا، بارش نہیں ہوتی تھی؛ زمین بند تھی، اس میں نباتات نہیں اگتے تھے۔ جب اللہ نے زمین میں رہنے والوں کو پیدا فرمایا، تو اس نے آسمان کو بارش کے ذریعے کھولا، اور زمین کو نباتات کے ذریعے کھولا۔(الوسىط للطنطاوى)ىہى قول عكرمہ، عطىہ و ابن زىد كا بھى ہے ۔(تفسىر قرطبى)

شىخ سعدى نے بھى  ىہى تفسىر كى ہے: وہ آسمان اور زمین کو دیکھتے ہیں تو پاتے ہیں کہ دونوں بند تھے؛ آسمان میں نہ بادل تھا نہ بارش، اور زمین خشک و مردہ تھی، اس میں کوئی سبزہ نہ تھا۔ پھر ہم نے دونوں کو چاک کر دیا: آسمان کو بارش کے ذریعے اور زمین کو نباتات کے ذریعے۔(تفسىر سعدى)

 دوسرا قول: بعض علماء کا یہ قول بھی ہےكہ آسمان اور زمین اىك چىز كى طرح   باہم   اىك ساتھ جڑے ہوئے تھے۔پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں "فتق" یعنی جدا کر دیا  اس اعتبار سے كہ آسمان کو اس کی بلندی پر اٹھا دیا اور زمین کو اس کے مقام پر برقرار رکھا،اور دونوں کے درمیان ہوا کو حائل کر دیا۔

قتادہؒ نے فرمایا کہ اللہ كے قول  "كَانَتَا رَتْقاً" کا مطلب یہ ہے کہ دونوں (آسمان اور زمین) ایک ہی چیز تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان كو  ہوا كے ذرىعہ جدا كردىا  ۔(الوسىط للطنطاوى)ىہى قول ابن عباس ،  كعب، حسن ، عطاء اور ضحاك كا بھى ہے ۔(تفسىر قرطبى)

مولانا صلاح الدىن ىوسف نے بھى ىہى تفسىر كى ہے، انہوں نے لكھا ہے كہ  رَتْقٌ کے معنی، بند کے اور فَتْقٌ کے معنی پھاڑنے، کھولنے اور الگ الگ کرنے کے ہیں۔ یعنی آسمان و زمین، ابتدائے امر میں، باہم ملے ہوئے اور ایک دوسرے کے ساتھ پیوست تھے۔ ہم نے ان کو ایک دوسرے سے الگ کیا، آسمانوں کو اوپر کر دیا جس سے بارش برستی ہے اور زمین کو اپنی جگہ پر رہنے دیا، تاہم وہ پیداوار کے قابل ہوگئی۔(تفسىر احسن البىان)

تىسرا قول:  بعض حضرات کا خیال ہے کہ "کَانَتَا رَتْقاً" کے معنی یہ ہیں کہ ساتوں آسمان آپس میں جڑے ہوئے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں "فتق" کرکے سات الگ الگ آسمان بنا دیا۔ زمینیں بھی اسی طرح جڑی ہوئی تھیں، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی جدا کرکے سات بنا دیا۔

مجاہدؒ فرماتے ہیں: آسمان ایک ہی جڑی ہوئی تہہ تھی، پھر اللہ نے اسے چاک کرکے سات آسمانوں میں تقسیم کر دیا، اور زمین بھی ایک ہی تہہ تھی، اسے بھی اللہ نے چاک کرکے سات زمینیں بنا دیں۔(الوسىط للطنطاوى) ىہى سدى و ابو صالح سے بھى منقول ہے ۔(تفسىر قرطبى)

سائنس كى اصطلاح مىں اس كو بگ بىنگ كہا جاتا ہے ۔صاحب تذكىر القرآن نے لكھا ہے: رتق کے معنی کسی چیز کا منھ بند (منضم الاجزاء) ہونا ہے اور فتق کا مطلب اس کا کھل جانا ہے۔غالباً اس سے زمین وآسمان کی وہ ابتدائی حالت مراد ہے جس کو موجودہ زمانہ میں بِگ بینگ نظریہ کہاجاتا ہے۔ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق زمین وآسمان کا تمام مادہ ابتداء ً ایک بہت بڑے گولے (سپر ایٹم) کی صورت میں تھا۔ معلوم طبیعیاتی قوانین کے مطابق اس وقت اس کے تمام اجزاء اپنی اندرونی مرکز کی طرف کھنچ رہے تھے اور انتہائی شدت کے ساتھ باہم جڑے ہوئے تھے۔ اس کے بعد اس گولے کے اندر ایک دھماکہ ہوا اور اس کے اجزاء اچانک بیرونی سمت میں پھیلنا شروع ہوئے۔ اس طرح بالآخر وہ وسیع کائنات بنی جو آج ہمارے سامنے موجود ہے۔(تذكىر القرآن)

ىہاں ىہ واضح كردىنا انتہائى ضرورى ہے كہ قرآن کریم کبھی کبھار کائناتی حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے مثلا ان السموات والارض کانتا رتقا ۔ ” آسمان و زمین باہم ملے ہوئے تھے پھر ہم نے ان دونوں کو جدا کیا “۔ ہم اس حقیقت پر محض اس لیے یقین کرتے ہیں کہ یہ قرآن میں مذکور ہے ‘ اگرچہ تفصیلات کا ہمیں علم نہیں ہے کہ یہ کیونکر ہوا ؟ زمین آسمان سے کیسے جدا ہوئی یا آسمان زمین سے کیسے جدا ہوئے۔ ہم ان سائنسی نظریات کو بھی اس مجمل حد تک قبول کرتے ہیں جو حقیقت مذکورہ در قرآن کے خلاف نہ ہوں۔ لیکن ہم یہ نہیں کرتے کہ فلکیاتی نظریات کو سامنے رکھ کر آیات قرآنیہ کو ان کے پیچھے دوڑائیں اور قرآن کی صداقت کا سرٹیفکیٹ ان نظریات سے لیں کیونکہ یقینی حقیقت قرآن ہے۔ زیادہ سے زیادہ ہم یہ کہہ سکتےہیں کہ آج کے فلكىاتى  نظریات اس آیت کے اس مجمل مضمون کے خلاف نہیں ہیں جو آیت میں آج سے صدیوں پہلے بیان کردیا گیا تھا۔(تفسىر فى ظلال القرآن)

مزىد تفصىل كے لىے ” قرآنى آىات اور سائنسى حقائق " كتاب خصوصا اس كے ابواب 13 پانى اور قوت حىات و 20 كائنات كى پىدائش  كا مطالعہ كرىں جو ڈاكٹر بلوك نور باقى كى تالىف ہے اور جس كا ترجمہ سىد محمد فىروز شاہ گىلانى نے كىا ہے۔ ىہ كتاب انٹرنٹ پر بھى دستىاب ہے۔

  مذكورہ بالا تىن اقوال  و معانى مىں سے بعض علماء نے پہلے معنی کو ترجیح دی ہے،  جن كے قول كا خلاصہ ہے :" كانتا رتقا "  وہ دونوں آپس مىں ملے ہوئے تھے  كا مطلب ہے كہ  آسمان سے سے بارش نہیں برستی تھی، اور زمین سے پودے نہیں اگتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بارش کے ذریعے اور زمین کو نباتات کے ذریعے "فتق" کیا۔

ىہى معنى راجح ہے  اور اس كى دلىل كتاب اللہ مىں مذكور بعض قرائن ہىں ، جن مىں سے بعض ىہ ہىں :--

1.    اللہ تعالى كا قول : اَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا  کیا کافروں نے نہیں دیکھا...

ىہ اس بات كى دلىل ہے كہ انہوں نے ىہ  دىكھا کیونکہ "دیکھا" کا سب سے ظاہری معنی بصری ىعنى آنكھوں سے دىكھنا ہے، اور جو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ یہ تھا کہ پہلے آسمان سے بارش نہىں ہوتى تھى  اور زمین میں کوئی نباتات نہیں تھے۔ پھر ان کی آنکھوں ہی کے سامنے بارش نازل ہوتی ہے اور زمین سے پودے اگتے ہیں۔

2- دوسرا  قرىنہ ىہ ہے كہ اللہ تعالیٰ نے  اس كے فوراً بعد فرمایا: وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ جس سے ظاہر ہوتا ہے كہ ىہ كلام اپنے سابقہ كلام سے مربوط و منسلك ہے  ىعنى : ہم نے اسی پانی سےجو ہم نے آسمان کے فتق کے بعد برسایا اور جس سے زمین کے فتق کے بعد  مختلف اقسام كے نباتات پیدا کیےہر زندہ چیز پیدا کی۔

      3-اىك تىسرا قرىنہ بھى ہے وہ ىہ كہ اسى معنى كى وضاحت دوسرى آىات سے بھى ہوتى ہے  جیسے:
( والسمآء ذَاتِ الرجع والأرض ذَاتِ الصدع ) اور الرَّجْع” سے مراد بار بار بارش کا برسنا ہے،
اور “الصَّدْع” سے مراد زمین کا پھٹ کر نباتات کو باہر نکالنا ہے۔

اسی قول کو امام ابن جریر طبری، ابن عطیہ اور فخرالدین رازی نے بھی اختیار کیا ہے۔(الوسىط للطنطاوى)

اب اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ تفسیر مرجوح اور کمزور ہے، اس لیے کہ بارش تو متعدد آسمانوں سے نہیں اترتی بلکہ صرف ایک آسمان-یعنی آسمانِ دنیا-سے برستی ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن نے جمع کا صیغہ اس لیے استعمال کیا ہے کہ آسمان کا  ہرٹكڑا آسمان ہى ہوتا ہے،  جیسا کہ کوئی کہتا ہے: لباس پھٹا ہوا ہے یعنی: اس كا اىك  ٹکڑا پھٹا ہوا ہے لىكن اس پر بھى لباس كہہ دىا ۔

اور یہ آیت کریمہ دراصل مشرکین کی جہالت کو آشکارا کرنے اور ان کے کفر پر ملامت کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے، حالانکہ وہ اپنی آنکھوں سے کھلی نشانیاں دیکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی بے پایاں قدرت پرواضح اور  روشن دلیل ہیں۔اور  وہ خوب جانتے ہیں کہ جس کا وصف یہ ہو، اس کی عبادت چھوڑ کر كسى  پتھر یا اس كے مثل كسى اور  چیز کی -جو نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ نقصان - پرستش کرنا صحىح نہىں ہے اور  سراسر بے عقلی ہے ۔(الوسىط للطنطاوى)

آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کیا وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا، اپنی آنکھوں سے یہ منظر نہیں دیکھتے اور اپنی عقلوں سے یہ بات نہیں سمجھتے کہ آسمان اور زمین دونوں  بند حالت میں تھے، نہ آسمان سے بارش برس رہی تھی اور نہ زمین سے نباتات اُگ رہے تھے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بارش سے اور زمین کو سرسبز نباتات سے چاک کیا اور کھول دیا۔

وہ یقیناً ان مظاہر کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور اپنے ذہن سے سمجھتے ہیں، مگر چونکہ ان پر ضد اور انکار کا غلبہ ہے، اس لیے وہ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں جو نہ عبادت کرنے والے کو فائدہ دیتی ہیں اور نہ نافرمانی کرنے والے کو کوئی ضرر پہنچا سکتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے یہاں "کَانَتَا" (دو تھیں)  تثنىہ کا لفظ اس اعتبار سے استعمال فرمایا ہے کہ آیت میں دو نوعوں (دو قسموں) کا ذکر ہے:آسمان کی قسم     2   -زمین کی قسم جىسا كہ اللہ تعالى كے قول مىں ہے : إِنَّ الله يُمْسِكُ السماوات والأرض أَن تَزُولاَ .(فاطر/41   (اللہ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ کہیں وہ  ہٹ نہ جائیں۔(تفسىر قرطبى و الوسىط للطنطاوى)

اور اللہ تعالى كا قول:و جَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ" یعنی ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی۔

یہ جملہ پہلے بیان شدہ مضمون کی مزید تاکید ہے، اور اللہ کی وحدانیت اور اُس کی قدرتِ کاملہ كا اثبات   ہے۔

یہاں "جَعَلْ کا معنی " خلق  پیدا کیا" ہے، اور "مِنْ" ابتداءئىہ ہے۔یعنی:ہم نے اپنی غالب قدرت كے ذرىعہ  پانى سے پىدا كىا ہر اس چىز كو  جو حقیقی زندگی رکھتی ہے یعنی جانوریا  ہر وہ چیز جو نشوونما پاتی  اور بڑھتى ہے، تو  اس مىں  نباتات بھى شامل ہىں ۔اىسى صورت مىں حىات ىعنى زندگى سے مراد ہر وہ چىز ہے جس مىں نشو نما ہوتى ہے ۔

یہ عموم (عمومی قاعدہ) فرشتوں اور جنّات کے علاوہ ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، کیونکہ بعض روایات کے مطابق:فرشتے نور سے پیدا کیے گئے  اور جنّات آگ سے پیدا کیے گئے۔جىسا كہ فرمان بارى تعالى ہے:"خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّار(رحمن/14-15)ٍ"یعنی:"اللہ نے انسان کوٹھىكرى كى طرح  خشک بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا، اور جنّ کو  شدىد شعلہ والى آگ سے۔"(الوسىط للطنطاوى)

وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ ”یہاں پر خَلَقْنَا کے بجائے جَعَلْنَا فرمایا كىونكہ  زمین کے اوپر زندگی جس کسی شکل میں بھی ہے ‘ چاہے وہ نباتاتی حیات ہو یا حیوانی ‘ ہر جاندار چیز کا مادۂ تخلیق مٹی اور مبدأ حیات پانی ہے۔ گویا مٹی سے ہر جاندار چیز کی تخلیق ہوئی اور ان سب کی زندگی کا دارومدار پانی پر رکھا گیا۔ چناچہ ہر جاندار کے لیے مبدأ حیات پانی ہے۔(تفسىر بىان القرآن)

امام قرطبی کہتے ہیں کہ آیت ( وَجَعَلْنَا مِنَ المآء كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ) کے تین معانی بیان کیے گئے ہیں:

1.    اللہ نے ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ (یہ قول قتادہ کا ہے)

2.    ہر چیز کی زندگی اور بقا پانی سے ہے۔

3.    "ہم نے پىٹھ كے پانى  ىعنى نطفہ سے ہر جاندار کو پیدا کیا۔(تفسىر قرطبى و الوسىط للطنطاوى )

  آىت مىں اگر پانى سے  مراد بارش اور چشموں کا پانی ہے، تب بھی واضح ہے کہ اس کی روئیدگی ہوتی ہے اور ہر ذی روح کو حیات نو ملتی ہے اور اگر مراد نطفہ ہے، تو اس میں بھی کوئی اشکال نہیں کہ ہر زندہ چیز کے وجود کے باعث وہ قطرہ آب ہے جو نر کی پیٹھ کی ہڈیوں سے نکلتا اور مادہ کے رحم میں جاکر قرار پکڑتا ہے۔(تفسىر احسن البىان)

بلا شبہ ہماری دنیا میں ہر جاندار چیز سب سے زیادہ جس چیز سے مرکب ہوتی ہے وہ پانی ہے۔ پانی نہ ہو تو زندگی کا خاتمہ ہوجائے۔ یہ پانی ہماری زمین کے سوا کہیں اور موجود نہیں۔ وسیع کائنات میں استثنائی طورپر صرف ایک مقام پر پانی کا پایا جانا واضح طورپر ’’خصوصی تخلیق‘‘ کا پتہ دیتا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ایسی کھلی کھلی نشانیوں کے بعد بھی آدمی اللہ  کو نہیں پاتا۔ اس کے باوجود وہ بدستور محروم پڑا رہتا ہے۔(تذكىر القرآن)

پانى كى اہمىت و افادىت، ضرورت و حاجت كو بىان كرنے كى لىے صرف اللہ تعالى كا ىہ فرمان كافى ہے كہ اس نے ہر زندہ چىز كى تخلىق پانى سے كى ہے ۔علاوہ ازىں اس دنىا مىں پانى كى اہمىت و افادىت ، ضرورت و حاجت انتہائى  زىادہ ہے ، گھر كى تعمىر سے لے كر كھانا بنانے تك ، غسل و طہارت سے لے كر  دوا علاج  ، صنعت و حرفت،  اور ساز و سامان كى تىارى تك سب  مىں پانى كا استعمال ہوتا ہے ،   غرضىكہ دنىا كا كوئى بھى چھوٹا ىا بڑا   كام پانى كے بغىر نہىں ہوتا ہے ، انسا ن و حىوان اپنى ہر ضرورت كى تكمىل كے لىے پانى كا محتاج ہے، پانى كے بغىر اس دنىا مىں زندگى ممكن نہىں ہے، پانى اللہ كى اىك انمول نعمت ہےجس كا  كوئى بدل نہىں ہے  اسى لىے ا اللہ تعالى  نے  اسے انتہائى زىادہ مقدار مىں پىدا كىا ہے كہ زمىن كا تىن چوتھائى حصہ  پانى ہے۔اس كى كىمىائى و فىزىائى خصوصىات بہت زىادہ ہىں  جس كو ىہاں بىان كرنا ممكن نہىں ہے۔ان شاء اللہ موقع ملنے پر پھر كبھى پانى كى اہمىت و افادىت پرشرىعت و سائنس دونوں كى روشنى مىں مضمون تحرىر كىا جائے گا۔

پانى كى قدر و اہمىت كا صحىح اندازہ اسى كو ہوتا ہے جو پانى كى شدىد قلت سے دوچار ہوتا ہے ۔ اگر كچھ دىر كے لىے بلڈنگ ىا آفس ىا گھر سےپانى  ختم ہوجائے تو لوگ انتہائى مضطرب و پرىشان ہوجاتے ہىں، اىك قسم كا ہنگامہ برپا ہوجاتا ہے اور لوگ پانى كا انتظام و انصرام كرنے مىں لگ جاتے ہىں  ۔

پانى كى اسى اہمىت و ضرورت ، افادىت و حاجت كے پىش نظر اس مىں اسراف سے منع كىا گىا ہے لىكن افسوس كى بات ہے كہ مسلمان دوسرے اسلامى تعلىمات كى طرح اس كو بھى نظر انداز كرتے ہىں اور اكثر مسلمان پانى كے استعمال مىں شدىد غفلت برتتے ہىں جو سخت  دىنى و سماجى جرم ہے ۔اس كے برعكس  ترقى ىافتہ  كافرقومىں و ممالك   پانى كى اہمىت و حاجت كو بخوبى سمجھ رہے ہىں اور اس كے استعمال مىں احتىاط برت رہے ہىں ۔ مجھے اچھى طرح ىاد ہے كہ جب مىں 2002ع مىں برىطانىا گىا تھا تو وہاں عموما سركارى عمارتوں مىں ٹوائلٹ مىں پانى كى جگہ ٹشو پىپر استعمال كىا جا رہا تھا اور فلش كے لىے صاف ستھرا پانى كے بحائے غىر صاف لىكن غىر مضر  پانى استعمال ہوتا ہے ۔مىرا مقصد اس سے ہر گز ىہ نہىں ہے كہ ہم مسلمان ان كى طرح ٹوائلٹ مىں ٹشوپىپر استعمال كرىں بلكہ  مقصد محض اپنے اندر  پانى كى اہمىت و افادىت كے شعور كو پىدا كرنا ہے۔

اور اللہ كا قول : ( أَفَلاَ يُؤْمِنُونَ ) ان کے ایمان نہ لانے كا  انکار ہے ىعنى وہ لوگ اىمان نہىں لائىں گے ، باوجود اس کے کہ ہر چیز ایمان حق  کی طرف بلانے کے لیے بالکل روشن ہے۔ اور فاء اىك مقدر پر معطوف ہے جس كا ىہ انكار متقاضى ہے  ىعنى  کیا وہ اپنی آنکھوں سے اللہ کی وحدانیت و اس كى قدرت پر دلالت كرنے والى  روشن نشانیاں دیکھتے ہیں، پھر بھی ایمان نہیں لاتے؟ واقعی  ان کا یہ طرزِ عمل عجیب ترین اور حیرت انگیز ہے !(الوسىط للطنطاوى )

شىخ سعدى نے لكھا ہے كہ کیا وہ ذات جس نے صاف شفاف فضا میں، جہاں بادل کا ایک ٹکڑا تک نہ تھا، بادل پیدا کر دیے اور ان میں وافر پانی بھر دیا، پھر انہیں اس مردہ  بستى  کی طرف روانہ کیا جس كے اطراف  گرد آلود تھے اور جس كا پانى خشك ہوگىا تھا  ۔پھر جب بارش ہوئی تو زمین زندہ ہوگئی، حرکت میں آگئی، پھول گئی اور ہر قسم کے حسین و دلکش جوڑے (پودے) اُگانے لگی، جو رنگ و صورت میں بھی مختلف ہیں اور فائدوں میں بھی-کیا یہ سب اس بات کی دلیل نہیں کہ وہی برحق ہے اور اس کے سوا سب باطل؟ اور یہ کہ وہی مردوں کو زندہ کرنے والا اور وہی بے حد مہربان و رحم کرنے والا ہے؟اسی لیے فرمایا:أَفَلَا يُؤْمِنُونَ (کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے؟) یعنی ایسا ایمان جس میں نہ شک ہو نہ شرک۔(تفسىر سعدى)

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ دنىا كے تمام انسانوں كو كائنات كے  علمى حقائق و انكشافات نىز دلائل و براہىن سے  غور و فكر اور استدلال كرتے ہوئے اللہ تعالى پر اىمان لانے كى توفىق بخشے ۔ آمىن

 

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: