ایمان و شرک : اجتماع ضدین
آیات: {ذَٰلِكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلۡغَيۡبِ نُوحِيهِ إِلَيۡكَۖ وَمَا كُنتَ لَدَيۡهِمۡ إِذۡ أَجۡمَعُوٓاْ أَمۡرَهُمۡ وَهُمۡ يَمۡكُرُونَ ١٠٢} {وَمَآ أَكۡثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِينَ ١٠٣} {وَمَا تَسَۡٔلُهُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ ١٠٤}{وَكَأَيِّن مِّنۡ ءَايَةٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ يَمُرُّونَ عَلَيۡهَا وَهُمۡ عَنۡهَامُعۡرِضُونَ ١٠٥}{وَمَا يُؤۡمِنُ أَكۡثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشۡرِكُونَ ١٠٦} (يوسف/102-106)
ترجمہ:
یہ (قصہ) غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی ہم
آپ پر وحی کر رہے ہیں , ورنہ آپ ان کے پاس نہیں تھے جب وہ آپس میں اتفاق کرکے سازش کر رہے
تھے۔لوگوں کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں ہے خواہ آپ کتنا ہی حریص ہوں, آپ ان سے
اس کی کوئی اجرت طلب نہیں کر رہے ہیں , یہ تو صرف دنیا والوں کے لیے نصیحت ہے,
آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن پر یہ گذرتے ہیں لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں کرتے ہیں ۔ ان میں سے اکثر اللہ پر
ایمان رکھتے ہیں مگر وہ مشرک ہیں ۔
معانی کلمات:
اجمعوا امرہم : اجمع الامر و علىہ: کسی چیز کا پختہ
ارادہ کرنا, اجمع القوم على کذا: اتفاق کرنا, اجمع المتفرق : متفرق کو اکٹھا کرنا
, اجمع الشئی: کسی چیز کو شمار کرنا وغیرہ ۔
حرصت:اصل مادہ حرص ہے , اس کے کئی معانی ہیں, حرص على
الرجل: کسی پر مہربان ہونا اور نفع پہنچانے کی کوشش کرنا, اچھی طرح خیال رکھنا,
قرآن میں ہے : لقد جاءکم رسول من
انفسکم عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم(توبہ/28) , حرص على الشئی:
کسی چیز کا لالچ کرنا, کسی چیز کی بے انتہا خواہش رکھنا, انتہائی توجہ دینا , حرص
بمعنى توجہ, خواہش , نگہداشت, شوق ۔
ذکر: یہ مصدر ہے
اور کئی معانی کے لیے آتا ہے ,
تذکرہ, شہرت , کہا جاتا ہے: لہ ذکر فی الناس یعنی اس کی لوگوں میں شہرت ہے, تعریف و ثنا,
ذکر اللہ یعنی اللہ کی تعریف کی, ذکر فلانۃ : خطبھا یعنی پیغام نکاح دیا,
شرف و بزرگی , نماز و دعا, نصیحت, یادکرنا اور ذہن میں محفوظ کرنا, ذکر الدرس یعنی سبق کو یاد کیا وغیرہ
کأین:اسم, یہ دو لفظوں سے مرکب ہے, کاف تشبیہ و ای با تنوین, یہ کم خبریہ کے معنى میں تعداد کی
زیادتی کو بتاتا ہے ۔ اس کی تنوین نون کی شکل میں لکھی جاتی ہے ۔جیسے: کاین رجلا
لقیت یعنی میں بہت سے آدمیوں سے ملا, اس کے بعد اکثر من آتا ہے جیسے کاین من رجل
لقیت ای لقیت کثیرا من الرجال یعنی میں
بہت سارے لوگوں سے ملا, کاین من کتاب قرات ای قرات الکثیر من الکتب یعنی میں نے
بہت ساری کتابیں پڑھیں, اس کی دو شکلیں مشہور ہیں, استفہام کے معنى میں بہت کم
استعمال ہے اور اس صورت میں قلت کے لیے ہوتا ہے
۔
یمرون: یہ مر سے
ماخوذ ہے, اس کا معنى گذرنا , جانا ہے ۔مرہ و مر بہ و مر علیہ : گذرنا۔ (موقع المعانی و مصباح اللغات)
تفسیر:
سورہ یوسف کے شان نزول کے بارے میں مفسرین کے مختلف
اقوال ہیں جن میں سے ایک قول یہ ہے کہ یہ سورہ جیسا کہ علامہ آلوسی نے اپنی تفسیر
روح المعانی میں لکھا ہے کہ قریش اور
یہودیوں نے نبی کریم سے یوسف اور ان کے بھائیوں کے قصے کے بارے میں سوال کیا ۔ تو یہ سورت نازل ہوئی اور اس قصہ کو اللہ
تعالى نے جامع وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا
۔پھر آپ نے اسے لوگوں کے سامنے اس امید کے ساتھ پیش کیا کہ وہ ان کے ایمان لانے کا
سبب ہوگا ۔لیکن اس کے باوجود وہ لوگ ایمان نہیں لائے جس سے آپ کو سخت تکلیف و کرب
ہوئی ۔ تب یہ آخری آیات نازل ہوئیں ۔(روح المعانی) چنانچہ
اللہ تعالیٰ اس عظیم سورت کو اس بات پر ختم
کرتا ہے جو دلالت کرتا ہے کہ یہ قرآن اللہ
تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور جس سے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو تسلی ملتی ہے، اور جو آپ کے لیے آپ کے دشمنوں پر فتح کے امید کا دروازہ کھولتاہے۔
اللہ تعالى کے قول:" ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک" میں ذلک
اسم اشارہ ہے جس کا مشار الیہ
یوسف, ان کے بھائیوں اور والد سے متعلق
سورت میں مذکور واقعات اور قصے ہیں ۔یعنی اے نبی ! جو کچھ ہم نے آپ سے اس سورت
میں بیان کیا ہے اور جو دوسری سورتوں میں آپ سے بیان کیا ہے وہ غیب کی خبریں ہیں جن
کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مکمل اور جامع طور پر نہیں جانتا۔(الوسیط للطنطاوی)
اور ہم آپ کی
طرف اس کی وحی کرتے ہیں اور آپ کو
اس کی تعلیم دیتے ہیں کیونکہ اس میں
لوگوں کے لیے عبرت اور نصیحت ہے ۔(الوسیط
للطنطاوی) لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں
ہے کیونکہ وہ گزشتہ قوموں کے واقعات تو سنتے ہیں لیکن عبرت پذیری کے لیے نہیں، صرف
دلچسپی اور لذت کے لئے۔ اس لیے وہ ایمان سے محروم ہی رہتے ہیں۔(احسن التفاسیر)
اور اللہ کا قول: وَما
كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ ، یہ اس بات پر بطور دلیل لایا گیا ہے کہ یہ قصے و
واقعات غیب کی خبریں ہیں جن کی وحی آپ کی طرف کی جاتی ہے ۔ یعنی جو باتیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ اس سورت میں
جو کچھ ہم نے آپ سے بیان کیا ہے وہ غیب کا حصہ ہے کہ آپ r یوسف کے بھائیوں
کے پاس اس وقت موجود نہیں تھے جب انہوں نے یوسف کے خلاف سازش رچنے پر اتفاق کیا
اور پھر انہوں نے اسے متفقہ طور پر کنویں میں
پھینکنے کا فیصلہ کیا۔ نہ آپ اس وقت موجود تھے جب عزیز کی بیوی نے یوسف کے خلاف سازش
کی تھی اور نہ ہی آپ اس عظیم سورہ میں درج مختلف واقعات کے گواہ تھے۔ بلکہ ہم نے آپ
کو یہ سب کچھ بتا دیا ہے تاکہ آپ اسے لوگوں کو سنائیں اور وہ اس میں موجود حکمتوں، احکام، اسباق اور نصیحتوں سے
مستفید ہو سکیں۔(الوسیط للطنطاوی)
اس آیت کے مشابہ
کچھ اور بھی آیات ہیں , جیسے نوح علیہ
السلام کے قصہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: تِلْكَ مِنْ أَنْباءِ الْغَيْبِ نُوحِيها إِلَيْكَ ما كُنْتَ تَعْلَمُها
أَنْتَ وَلا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هذا فَاصْبِرْ إِنَّ الْعاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ "(ہود: 49) یہ غیب کی کچھ خبریں
ہیں جو ہم آپ پر وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے آپ کو
اور نہ آپ کی قوم اس کا علم تھا، لہٰذا صبر کیجیے ، بیشک
[بہترین] انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے۔"
اور موسیٰ علیہ السلام کے قصے کے دوران اللہ تعالیٰ کا یہ
قول ہے: وَما كُنْتَ بِجانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنا إِلى
مُوسَى الْأَمْرَ وَما كُنْتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ "(القصص: 44) اور جب ہم نے موسیٰ
کو فرمان شریعت عطا کیا تو آپ (طور کے)
مغربی جانب موجود نہیں تھے اور نہ ہی آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔"
اور حضرت مریم کی بابت گفتگو کے دوران اللہ تعالى کا
قول : ذلِكَ مِنْ أَنْباءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ، وَما كُنْتَ
لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ، وَما كُنْتَ
لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ "( آل عمران/ 44)۔ یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ r کی طرف وحی کرتے ہیں، اور آپ r ان کے ساتھ نہیں تھے جب وہ (قرعہ اندازی کے لیے ) اپنے قلم
ڈال رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم کی کفالت اور پرورش کرے گا ، اور آپ r ان کے ساتھ نہیں تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔"(الوسیط للطنطاوی)
درج بالا یہ آیتیں اور اس کے علاوہ دوسری آیات بھی ہیں جو اس بات
پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ قرآن اللہ بزرگ و
برتر کی طرف سے ہے کیونکہ آپr ان لوگوں کے ہم عصر نہیں تھے جن کے واقعات و قصے
قرآن میں بیان ہوئے ہیں کہ
ان کا مشاہدہ کیا ہو, نہ کبھی ان سے باہمی میل جول ہوا کہ ان کی زبانی سنا ہو اور نہ ہی آپ نے کسی ایسی کتاب کا مطالعہ کیا
تھا جس میں ان کی خبر ہو۔آپ کو اور آپ کی
قوم عرب کو ان تاریخی واقعات کا کچھ بھی علم نہیں تھا ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
پاس اس کے جاننے کا صرف ایک ہی راستہ تھا جو وحی کا
تھا ۔بلا شبہ یہ سب آپ کے رسول برحق ہونے کی ایک بڑی دلیل ہے ۔(تفسیر فتح القدیر, الوسیط للطنطاوی و تفسیر سعدی)
ان آیتوں سے بریلویوں اور بدعتیوں کے رسول اللہ کے بارے میں غلو پر مبنی
عقیدہ" علم غیب اور ہر جگہ حاضر و
ناظر ہونے" کی بھی تردید ہوتی ہے ۔کیونکہ اگر آپ عالم الغیب ہوتے تو اللہ
تعالى یہ نہ فرماتا کہ ہم غیب کی وحی آپ کی طرف کر رہے ہیں کیونکہ جس کو پہلے ہی علم ہو اس کو اس طرح سے
مخاطب نہیں کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح حاضر و ناظر کو یہ نہیں کہا جاتا ہے کہ آپ وہاں
موجود نہیں تھے جب یہ واقعات پیش آئے ۔(احسن البیان, آل
عمران/44)
اللہ تعالى کا قول: وَما أَكْثَرُ النَّاسِ. بظاہر
یہ عام ہے اور سب کو شامل ہے لیکن اس کے
مخاطبین کے بارے میں اہل تفسیر کے درمیان اختلاف ہے ۔ ابن عباس کا کہنا ہے کہ
وہ کفار مکہ ہیں, بعض نے منافقین کو مراد
لیا ہے جب کہ کچھ کے نزدیک نصاری اور کچھ کےنزدیک مشرکین وغیرہ ہیں ۔ (روح المعانی)
اب اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو بیان کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں تسلی اور
سکون پیدا کرتی ہے ، فرمایا: وَما أَكْثَرُ
النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ.
یعنی اے رسولؐ آپ لوگوں کے لیے دین فطرت لائے ہیں جس میں
نفوس کے لیے سکون و راحت ہے اور جس کو قلوب
خوشی و اطمینان کے ساتھ قبول کرتے
ہیں ۔ تاہم، زیادہ تر لوگوں کو شیطان نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے، جس نے ان کی روحوں
اور دلوں کو مسخ کر دیا ہے۔ آپ کا ان کے ایمان کے لیے شدید خواہش رکھنے اور
بصیرت کے ساتھ انھیں حق کی طرف بلانے کے لیے آپ کی بے تابی و تڑپ کے باوجود، وہ اب
آپ پر ایمان نہیں لاتے ہیں اور آپ کی پکار
پر لبیک نہیں کہتے ہیں ، کیونکہ لالچ، ہوس اور نفرت نے ان کی روحوں کو اپنی لپیٹ میں
لے لیا ہے۔لہذا آپ ان کے ایمان نہ لانے پر رنج و غم نہ کریں کیونکہ آپ کی ذمہ داری
فقط دعوت و تبلیغ ہے کسی کو ہدایت دینا نہیں ہے ۔ (الوسیط للطنطاوی)
اس میں قریش و یہود کے ایمان نہ لانے پر اللہ کے رسول کو تسلی دی گئی ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے ۔ اور یہ بھی
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے آپ سے ایمان لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن جب
انہوں نے وعدہ خلافی کی اور ایمان سے منہ
موڑا جس سے آپ کو تکلیف ہوئی تو یہ آیت
بطور تسلی نازل ہوئی ۔(روح المعانی)
اور اللہ تعالى کے قول: وَما أَكْثَرُ النَّاسِ...سے تعبیر کرنے
میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چند لوگ ایسے
ہیں جنہوں نے بلا جھجک آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت پر لبیک کہا اور اپنی
مرضی اور پسند سے سچے دین میں داخل ہو گئے۔
اور اللہ تعالى کا یہ قول: ولو حرصت ’’اور خواہ تم بے تاب ہو‘‘جملہ معترضہ ہے یہ واضح کرنے کے لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
حق کو ظاہر کرنے میں خواہ کتنا ہی مبالغہ کیوں نہ کریں، وہ پھر بھی اپنی گمراہی اور
کفر پر اڑے رہیں گے، کیونکہ کسی چیز کی
شدید خواہش رکھنا حرص کہلاتا ہے یا کسی
چیز کو انتہائی جد و جہد سے طلب کرنا حرص ہے ۔(الوسیط للطنطاوی)
اور اللہ کا یہ قول: وَما تَسْئَلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ
لِلْعالَمِينَ، رسول اللہ rکو مزید تسلی دیتا ہے اور آپ کے شان کو بلند کرتا ہے۔یعنی
اے رسول کریم ! آپ یقینا ان کی ہدایت اور
سعادت کے لیے اس قرآن کی جو تلاوت کرتے ہیں اس کے بدلے میں کوئی معمولی اجرت بھی
نہیں لیتے ہیں جیسا کہ دوسرے کاہن, حبر
اور راہب کرتے ہیں(الوسیط للطنطاوی) کہ جس سے ان کو یہ شبہ ہو کہ یہ دعوائے نبوت تو صرف پیسے جمع کرنے کا بہانہ
ہے(احسن البیان)۔ اور آپ جو
کچھ بھی کرتے ہیں وہ صرف اللہ کی خوشنودی اور اس کے دین کو پھیلانے کے لیے کرتے ہیں ۔
اور اللہ کے اس فرمان: إِنْ هُوَ
إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعالَمِينَ کا مطلب ہے کہ یہ
قرآن جو آپ ان کے لیے تلاوت کرتے ہیں تمام انسانیت اور پوری دنیا کے لیے ایک نصیحت، اور ہدایت کے سوا کچھ نہیں۔ یہ
کسی قوم یا کسی نسل اور علاقہ سے سے مخصوص نہیں ہے۔(الوسیط للطنطاوی) تاکہ لوگ اس سے ہدایت حاصل کریں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار
لیں۔ اب دنیا کے لوگ اگر اس سے آنکھیں پھیرے رکھیں اور اس سے ہدایت حاصل نہ کریں تو
لوگوں کا قصور اور ان کی بد قسمتی ہے، قرآن تو فی الواقع اہل دنیا کی ہدایت اور نصیحت
ہی کے لیے آیا ہے۔
گر نہ بیند بروز شپره چشم *** چشمہ آفتاب را چہ گناه (تفسیر احسن البیان)
مفسرین کا کہنا ہے : یہ جملہ اپنے سابقہ جملہ کی تعلیل
ہے یعنی اس کا سبب بیان کرتی ہے ، کیونکہ تمام لوگوں کے لیے عمومی نصیحت بعض لوگوں
کو چھوڑ کر بعض سے اجرت لینے و اس کا مطالبہ کرنے
کے منافی ہے ۔اجرت صرف اس صورت میں لی جاتی ہے جب دعوت مخصوص ہو عام
نہ ہو ۔
پھر اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمائی کہ یہ مشرکین اللہ تعالى کی وحدانیت اور اس کی قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیوں اور دلائل کا
روزآنہ مشاہدہ کرتے ہیں لیکن وہ ان سے اندھے
ہیں۔ فرمایا: وَكَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ ......... مُعْرِضُونَ. ۔(الوسیط للطنطاوی)
یہاں آیت(نشانی) سے مراد
ہر وہ دلیل ہے جو خالق کے وجود، اس کی وحدانیت اور اس کے علم و قدرت کے
کمال پر دلالت کرتی ہے۔ اگرچہ یہ لفظی طور پر واحد ہے، لیکن اس کے معنی جمع کے ہیں
۔(روح المعانی) جن سے ان مشرکین کا گذر ہوتا ہے لیکن وہ اس پر توجہ
نہیں کرتے ہیں اور نہ اس کے بارے میں غور وفکر کرتے ہیں اور نہ اس سے نصیحت حاصل
کرتے ہیں کیونکہ ان کی بصیرتیں ان کے اوپر
خواہشات, سرکشی و نافرمانی , ضد و ہٹ دھرمی کے غلبہ کی وجہ سے مرچکی ہیں ۔(الوسیط للطنطاوی)
علامہ ابن کثیر نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے : "اس آیت
میں اللہ تعالیٰ نے اس کی نشانیوں اور اس کی وحدانیت کے دلائل پر غور کرنے
میں اکثر لوگوں کی غفلت و لاپرواہی سے آگاہ
کیا ہے، جو اللہ تعالى نے آسمان میں روشن و چمکدارثابت ستاروں ,گردش کرنے والے سیاروں
اور مداروں کو پیدا کیا ہے , اور زمین پر
باغات , ثابت مضبوط پہاڑ, اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر , تلاطم خیز موجیں , وسیع و عریض ریگستان, رنگ , بو اور مذاق میں مشابہ و مختلف
پھل اور حیوانات و پیڑ پودے بنائے ہیں ۔
پس پاک ہے وہ ذات جو تنہا اور یکتا
ہے , ہر قسم کی مخلوقات کا پیدا کرنے والا
ہے, جو ابدیت, دوام اور بے نیازی و خودمختاری میں منفرد ہے ۔(تفسیر ابن کثیر)
کسی عربی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
وفي كل شيء له آية **** تدل على
أنه واحد
ہر چیز
میں اس کی نشانی ہے جو اس بات پر دلالت
کرتی ہے کہ وہ تنہا ایک ہے ۔
مولانا صلاح الدین یوسف نے لکھا ہے:آسمان و زمین کی پیدائش
اور ان میں بے شمار چیزوں کا وجود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایک خالق و صانع ہے جس
نے ان چیزوں کو وجود بخشا ہے اور ایک تنہا مدبر ہے جو ان کا ایسا انتظام کر رہا ہے کہ صدیوں
سے یہ نظام چل رہا ہے اور ان میں کبھی آپس میں ٹکراؤ اور تصادم نہیں ہوا ہے۔ لیکن لوگ
ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے یوں ہی گزر جاتے ہیں ان پر غورد فکر کرتے ہیں اور نہ ان سے
رب کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔ (تفسیر احسن
البیان)
اللہ تعالى کا قول : یمرون علیہا و ہم عنہا معرضون: اس میں آپ کو مزید
تسلی دی گئی ہے اور قوم جس میں گرفتار ہے
اس کی مذمت کی گئی ہے ۔ (روح المعانی)
پھر، اللہ سبحانہ ، نے یہ وضاحت فرمائی کہ وہ
اپنی غفلت اور جہالت کے علاوہ، وہ صحیح
معنوں میں ایمان نہیں رکھتے ہیں اور ان کا
ایمان صحیح نہیں ہے ۔ چنانچہ فرمایا: وَما يُؤْمِنُ
أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ.
یعنی ان گمراہ
لوگوں کی اکثریت کا ایمان یہ ہے کہ وہ اس کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کے
خالق ہونے کا اعتراف کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنے عقیدہ, اپنی عبادت اور
تصرفات و اعمال میں اس کے ساتھ شریک کرتے
ہیں ۔اب اگرچہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا خالق اور آسمانوں اور زمین کا
خالق اللہ ہے، لیکن اس کے باوجود وہ عبادت کے ذریعے اپنے بتوں کی خوشنودی حاصل کرتے تھے اور ان کے مقرب بنتے تھے، یہ کہتے ہوئے کہ ہم ان
کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔(الوسیط للطنطاوی)
یہ آیت کن کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس کے مصداق کون
ہیں ؟ اس کے بارے میں مفسرین کے مختلف
اقوال ہیں ۔ابن عباس , مجاہد, عکرمہ, قتادہ اور شعبی کا کہنا ہے کہ اس سے مراد
کفار مکہ ہیں ۔ابن زیداور عکرمہ ,
قتادہ و مجاہد کے دوسرے قول کے مطابق تمام کفار عرب ہیں ۔ ابن عباس کا ایک دوسرا قول ہے کہ اس سے اہل
کتاب مراد ہیں , بلخی کا کہنا ہے کہ اس سے منافقین مراد ہیں , بعض کے نزدیک ثنویت والے مراد ہیں وغیرہ۔(روح المعانی)
اور یہ آیت
ہر قسم کے شرک کو شامل ہے ، خواہ ظاہر ہو یا پوشیدہ، بڑا ہو یا چھوٹا۔اور یہ آیت کریمہ ہر قسم کے شرک سے منع کرتی ہے اور
اللہ رب العالمین کی مخلصانہ عبادت اور اطاعت کا مطالبہ کرتی ہے اور اس کی دعوت
دیتی ہے ۔
شرک کے
بارے میں قرآن و سنت میں بکثرت نصوص وارد ہوئے
ہیں جن میں اس کو عظیم ترین ناقابل
معافی گناہ قرار دیا گیا ہے اور ہمیشہ کے
لیے جہنم میں داخل کرنے کی دھمکی دی گئی
ہے ۔ جیسے : مائدہ/72, نساء/48 و 116
وغیرہ , اسے عمل کو برباد کرنے والا قرار دیا گیا ہے ۔(زمر/65, انعام /88) احادیث
میں اس کی مزید تفاصیل ہے , اس کی تعریف اور
مختلف اقسام کو واضح کیا گیا ہے اور اس سے ڈرایا گیا ہے اور دور رہنے کی
تاکید کی گئی ہے ۔یہاں تفصیل کا موقع نہیں ہے
احادیث سے شرک سے حفاظت کی صرف ایک
دعا کو ذکر کیا جاتا ہے جس کی تعلیم ہمارے نبی نے مسلمانوں کودی ہے۔وہ دعا
ہے: اللہم انی اعوذبک ان اشرک بک شیئا و
انا اعلم و استغفرک لما لا اعلم یعنی الے
اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں جانتے ہوئے تیرے ساتھ کسی چیز کو شریک کروں اور جس کا علم
مجھے نہیں ہے اس لیے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔
ہر مسلمان چائیے کہ وہ یہ دعا ضرور کرے تاکہ ہر قسم کے شرک سے اللہ اس کی حفاظت فرمائے ۔
لیکن یہ
انتہائی افسوس و تکلیف کی بات ہے کہ اللہ و اس کے رسول کی طرف سے شرک سے
شدید تحذیر و اس کی سخت مذمت کے باوجود
دور حاضر میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد تقریبا ہر علاقہ و خطہ میں ہر قسم کے شرک میں مبتلا ہے اور اس کے اڈے بکثرت قائم ہیں جن کو نام نہاد
مسلمانوں نے دھندہ بنا لیا ہے اور مسلمان
بنا کسی ڈر و خوف کے علانیہ طور پر شرک کا
کام کر رہے ہیں ۔جب کہ ایمان و شرک دو متضاد چیزیں ہیں جو کسی حقیقی
مسلمان کے یہاں قطعا جمع نہیں ہوسکتی ہیں جیسا
کہ آگ و پانی ہے ۔یہ تو مسلمانوں کی دینی تعلیم سے جہالت , اسلامی تربیت کا
فقدان, کمزور و غلط عقیدہ, شیاطین انس و جن کے ورغلانے اور ماحول کے اثرات کا نتیجہ ہے کہ یہ دو متضاد
چیزیں آج کے بہت سارے مسلمانوں میں جمع ہیں ۔ العیاذ باللہ
آج کے قبر پرست مسلمان:
کیا اس آیت میں آج کے یا کسی بھی زمانہ اور علاقہ کے قبر پرست مسلمان شامل ہیں کہ نہیں ؟آئیے
دیکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں علماء کی کیا رائیں ہیں :
علامہ آلوسی
نے روح المعانی میں تحریر کیا ہے:
وقد
يقال نظرا إلى مفهوم الآية: إنهم من يندرج فيهم كل من أقر بالله تعالى وخالقيته
مثلا وكان مرتكبا ما يعد شركا كيفما كان، ومن أولئك عبدة القبور الناذرون لها
المعتقدون للنفع والضر ممن الله تعالى أعلم بحاله فيها وهم اليوم أكثر من الدود.
آیت کے مفہوم کے
پیش نظر کہا جا سکتا ہے: یہ وہ لوگ ہیں جن میں ہر وہ شخص شامل ہے جو مثلاً
اللہ تعالیٰ اور اس کی خالقیت کو تسلیم
کرتا ہے، اور ساتھ ہی شرک میں شمار کی
جانے والی چیزوں کا ارتکاب کرتا ہے چاہے وہ کچھ بھی ہو۔ ان میں قبروں کے پوجا کرنے
والے وہ بھی ہیں جو ان کے لیے نذر و نیاز کرتے
ہیں اور نفع و ضررکا یقین رکھتے
ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ان میں ان کا کیا حال ہے اور وہ
آج کل کیڑے سے بھی زیادہ ہیں۔
علامہ شوکانی کا کہنا ہے:
و مثل ہؤلاء الذین اتخذوا احبارہم و رہبانہم اربابا من
دون اللہ المعتقدون فی الاموات بانہم یقدرون على ما لا یقدر علیہ الا اللہ سبحانہ
کما یفعلہ کثیر من عباد القبور, ولا ینافی ہذا ما قیل من أن الایۃ نزلت فی قوم
مخصوصین , فالاعتبار بما یدل علیہ اللفظ لا بما یفیدہ السبب من الاختصاص بمن کان
سببا لنزول الحکم (تفسیر فتح القدیر)
اور انہیں کے مثل
وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنے
احبار و رہبان کو اللہ کے علاوہ رب بنا لیا جن کا مردوں کے بارے میں عقیدہ ہے کہ ان کو اس چیز پر بھی قدرت حاصل ہے جس پر اللہ کے سوا کسی
کو قدرت نہیں ہے, اور جیسا کہ بہت سار
ےقبروں کی عبادت کرنے والے کرتے ہیں, اور یہ کہنا کہ یہ آیت مخصوص قوم کے بارے میں
نازل ہوئی ہے اس بات کے منافی نہیں ہے کیونکہ اعتبار اس چیز کا ہوتا ہے جس پر لفظ
دلالت کرتا ہے نہ کہ خصوصی سبب کا جس کی
وجہ سے حکم نازل ہوا ۔
علامہ ابو بکر جزائری کا کہنا ہے:
وکثیر من اہل الجہل فی ہذہ الامۃ القرآنیۃ یدعون لغیر
اللہ و یذبحون لغیر اللہ و ینذرون لغیر اللہ و ہم مؤمنون باللہ و بما جاء بہ رسولہ
من التوحید و البعث و الجزاء و الشرع (ایسر التفاسیر)
اور اس قرآنی امت
کے بہت سے جاہل لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پکارتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی اور کے لئے قربانی کرتے ہیں اور
اللہ کے سوا کسی اور کے لئے نذر مانتے ہیں
جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول توحید, دوبارہ زندہ کیا جانا , جزاء اور شریعت
وغیرہ جو کچھ لے کر آئے اس پر ایمان رکھتے
ہیں۔
مولانا صلاح الدین یوسف نے تحریر کیا ہے:
یہ وہ حقیقت ہے جسے قرآن نے بڑی وضاحت کے ساتھ متعدد جگہ
بیان فرمایا ہے کہ یہ مشرکین یہ تو مانتے ہیں کہ آسمان و زمین کا خالق مالک رازق اور
مدبر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی
شریک ٹھہرا لیتے ہیں اور یوں اکثر لوگ مشرک ہیں۔ یعنی ہر دور میں لوگ تو حید ربوبیت
کےتو قائل رہے ہیں لیکن توحید الوہیت ماننے
کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ آج کے قبر پرستوں کا شرک بھی یہی ہے کہ وہ قبروں میں مدفون
بزرگوں کو صفات الوہیت کا حامل سمجھ کر انہیں
مدد کے لیے پکارتے بھی ہیں اور عبادت کے کئی مراسم بھی ان کے لیے بجا لاتے ہیں۔ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهُ.(تفسیر احسن
البیان)
مندرجہ بالا اقوال سے واضح ہے کہ اس آیت کے مصداق
آج کے قبر پرست مسلمان بھی ہیں اور وہ
اس میں داخل ہیں اور یہ ان کے اوپر
مکمل طور سے فٹ بیٹھتی ہے کیونکہ اگر چہ ان کا ایمان اللہ و اس کے رسول دونوں پر
ہے لیکن شرک اکبر و اصغر دونوں ان کے یہاں بکثرت موجود ہے ۔
اللہ تعالى سے دعا ہے کہ وہ ہر مسلمان کو ایمان و عقیدہ توحید کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور اسی پر ثابت رکھے
اور ہر قسم کے شرک سے محفوظ رکھے۔ آمین , وما علینا الا البلاغ و آخر دعوانا ان
الحمد للہ رب العالمین ۔
0 التعليقات: