نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستان والو

 

نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستان والو

پہلے بھى  بارہا اس مجلہ كے صفحات مىں ىہ واضح كىا جا چكا ہے كہ بى جى پى آر اىس اىس كى سىاسى شاخ  ہےجس كا واضح مقصد اس كے ہندوتوا كے اغراض و مقاصد كوبذرىعہ سىاست  پورے ملك مىں نافذ كرنا  اور اس كو ہندو راشٹر بنانا ہے۔ اور 2014 ع  مىں جب سے ىہ مودى حكومت برسر اقتدار ہوئى  ہے اسى وقت سے على الاعلان اس كى طرف مضبوطى سے قدم بڑھا رہى ہے اور آج حالت ىہ ہے كہ اس نے عملى طور پر ملك كو ہندو راشٹر مىں تبدىل كردىا  ہے ، اب محض سركارى طور پر اس كا اعلان باقى ہے ۔

بلا شبہ مودى حكومت نے منصوبہ بند طرىقے سے منظم طور پر  آر اىس اىس كے سىاسى ، سماجى ،  تعلىمى، اقتصادى و صحافتى وغىرہ اىجنڈوں كو نافذ كرنے مىں كوئى كسر نہىں چھوڑى ہے۔ اسى لىے آج ىہ ملك انتہائى تىزى كے ساتھ تباہى و بربادى كى طرف بڑھ رہا ہے اور اگر بى جى پى حكومت مزىد چند سالوں تك حكومت مىں برقرار رہتى ہے توپھر اس كى تباہى و بربادى ىقىنى و قطعى ہے  ۔ اسى وجہ سے وطن كے دگر گوں حالات پر ىہاں   كا ہربا شعور  انصاف پسند شہرى بہت زىادہ فكر مند ہے اور ہونا بھى چاہئىے ،  صرف اىك مخصوص گروپ كو چھوڑ كر جوآر اىس اىس و  مودى كا اندھ بھكت ہے ، جس كى وجہ سے وہ  حقىقت كو دىكھ نہىں پا رہا ہے ىا دانستہ طور پر اس  كو نظر انداز كر رہا ہے اور تجاہل عارفانہ سے كام لے رہا ہے۔

افسوس كے ساتھ ىہ كہنا پڑتا ہے كہ آج ہمارا وطن عزىز  زندگى كے ہر مىدان و شعبہ   مىں ناكامىوں كے جھنڈے گاڑ رہا ہے ، داخلى پالىسى ہو ىا خارجى، سىاست ہو ىا معىشت ، تعلىم ہو ىا تجارت،  صحافت ہو ىا صنعت ، انتظامىہ ہو ىا مقننہ ، عدلىہ ہو ىا  اسمبلى  ،  روز گار ہو ىا مہنگائى ، صحت ہو ىا علاج، كارپورىٹ ہو ىا بىوروكرىٹ، نفرت و  تشدد ہو   ىا جرائم  وغىرہ ،  ىہ حكومت در حقىقت  ہر محاذ   پر مكمل طور سے ناكام ہے ۔ىہاں ان سب كے بارے مىں تفصىل سے لكھنا ممكن نہىں ہےپھر بھى  اس كى اىك جھلك ىہاں پىش كى جاتى ہے۔

سماجى صورت حال:

مثال كے طور پر  سماج  كو لے لىجىے   ، آج مسلمانوں  كے خلاف مىڈىا، سوشل مىڈىا  و حكومت كے ذرىعہ ہندؤوں كى اىك بڑى تعداد كے دل و دماغ مىں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی فضا اتنی گہری کر دی گئی ہے کہ ان کا اس ملک میں امن اور سکون سے رہنا مشکل بنا دیا گیا ہےاور كئى اقسام كى پرىشانىوں كا ان كو سامنا ہے۔ ان كے خلاف چنندہ  كاروائى كى جاتى ہے  ، ان كو خوب بدنام كىا جاتا ہے ، اگر كوئى مسلمان كوئى  غلط كام كرتا ہے تو پورى مسلمان قوم كو بدنام كىا جاتا ہے ، بلكہ بنا كسى تحقىق كے جھوٹى خبرىں مسلمانوں كے خلاف نشر كردى جاتى ہىں جن كا بعد مىں  جھوٹا ہونا ثابت ہوتا ہے،  كتنے ہندو مسلمان شكل و صورت بنا  كر مسلمانوں كو بدنام كرنے كے لىےجرائم كرتے ہىں،    ان سے زبردستى جے  شرى رام كا نعرہ لگواىا جاتا ہے ، موقع ملنے پر  ان كى لنچنگ كى جاتى ہے۔ ان سب  كى سىكڑوں  مثالىں ىوٹىوب و انٹرنٹ  پر موجود ہىں  جن كو ہر كوئى بآسانى سرچ كركے دىكھ سكتا ہے ۔

 نفرت  و كراہىت كا ىہ عالم ہے كہ جموں كے وىشنو دىوى مىڈىكل كالج مىں 50/ سىٹوں مىں سے 43/پر مسلم بچوں كا مىرٹ كے حساب سے  قانونا  داخلہ ہوا   تو اس پر بھى ہندو تنظىموں كى طرف سے ہنگامہ كىا جا رہا ہے  اور ان كا داخلہ رد كرنے كى مانگ كى جا رہى ہے  ۔ىہ كىسا انصاف ہے؟

اس كو تو چھوڑئىے نفرت و كراہىت  اس قدر سماج و معاشرہ مىں رچ بس گىا ہے كہ اس كے زہرىلے اثرات سے  تعلىم ىافتہ افراد حتى كہ انسانىت كے خادم  ڈاكٹر  بھى محفوظ نہىں ہىں  اور با رہا ىہ خبروں  مىں آىا ہے كہ كئى ہندو ڈاكٹروں نے مسلمانوں كا علاج كرنے سے منع كردىا ۔اس كے ىوٹىوب وىڈىوز موجود ہىں جن كوبآسانى  دىكھا جا سكتا ہے۔

آئىنى اداروں پر قبضہ:

جہاں تك سوال ملك كے تمام بڑے خود مختار آئىنى اداروں مثلا: عدلىہ ، الىكشن كمىشن، كىگ ،  اىن آئى اے، سى بى آئى ، اى ڈى وغىرہ   كا ہے تو ان سب پر آراىس اىس نے اپنے پروردہ اشخاص كو بىٹھا كر قبضہ كرلىا ہے ۔ ملك كا كوئى اىسا شعبہ ىا تنظىم نہىں ہے جس مىں آر اىس اىس كے تربىت ىافتہ افراد نہ ہوں ۔ پردھان سے لے كر پارلىمنٹ تك، ضلع پنچاىت سے لے كر سپرىم كورٹ تك، كسان سے لے كر طلباء تك ہر جگہ ان كے افراد موجود ہىں جو اس كے اىجنڈوں كو  كامل اىماندارى كے ساتھ نافذ كر رہے ہىں  ۔ىہ ملك سوسال كے عرصہ مىں آہستہ آہستہ  مكمل طور سے منودادى تنظىم آر اىس اىس كے قبضہ مىں جا چكا ہےجس نےان آئىنى اداروں پر اپنى پكڑ بہت مضبوط بنا لى ہے   اور جو  اپنى فكرو  ثقافت كو طاقت كے بل بوتے پر دوسروں پر تھوپنا چاہتا ہے ۔

الىكشن كمىشن:بھاجپا كا اىجنٹ

الىكشن كمىشن آف انڈىا بھى اىك بہت بڑا آئىنى خودمختار ادارہ ہے جس كى ذمہ دارى بھى  بہت عظىم ہے ۔ملك كے طول و عرض مىں صاف شفاف الىكشن كرانا اور جمہورىت كو باقى ركھنا و فروغ دىنا  اس كا كام ہے۔لىكن بھاجپا دور حكومت مىں اس كى جو درگت بنى ہے وہ كسى سے مخفى نہىں ہے، اس كے بارے مىں كچھ لكھنا ہى بىكار ہے ۔ىہ آئىنى ادارہ اپنى آئىنى ذمہ دارىوں سے مكمل طور سے غافل ہے  ،  ىہ كامل طور سے حكومت كے قبضہ مىں ہے اور اس كے اىجنٹ كے طور پر كام كر رہا ہے۔آج تك اس نے مودى كے خلاف كوئى كاروائى نہىں كى ہے جب كہ وہ سرعام جھوٹ بول كر پرچار كرتا ہے اور مذہب كے نام پر ووٹ مانگتا ہے جو آئىن كے سراسر خلاف ہے ۔ اس كے دوہرے پىمانے  ہىں اور ىہ غىر جانبدار بالكل نہىں ہے۔ ىہ ووٹ چورى مىں مكمل طور سے حكومت كے  ساتھ شامل  ہےكىونكہ اس كى رضامندى كے بغىر چورى نہىں ہو سكتى ہے ، ىہ بھاجپا كى واضح طور پر طرفدارى كرتا ہےاور  اس كا صرف اىك مقصد بى جى پى كو جتانا اور اس كو حكومت مىں لانا ہے۔ وغىرہ

عدلىہ حكومت كے زىر اثر :

عدلىہ كا معاملہ بھى دىگر اداروں سے  كوئى بہت زىادہ مختلف نہىں ہے ، عدلىہ اور جج بھى حكومت كے زىر اثر ہىں اور ان كے اشاروں پر ناچ رہے ہىں ۔ ىہاں بھى آر اىس اىس كے جج كثىر تعداد مىں بىٹھے ہوئے ہىں جو حكومت كے من موافق فىصلے  دىتے ہىں اور اس كے اىجنڈوں كو عملى جامہ پہناتے ہىں ،  ىہ حكومت كے خلاف اىكشن لىنے سے گھبراتے ہىں ۔ ىہى وجہ ہے كہ عدلىہ كے بہت سارے  فىصلوں پر بھاجپا حكومت كى چھاپ صاف دكھائى دىتى ہے مثلا رافىل گھوٹالہ ، اڈانى كا معاملہ، بابرى مسجد كا فىصلہ ، راجىو گاندھى كے خلاف گجرات كورٹ كا فىصلہ  وغىرہ    ۔ رہى سہى كسر سپرىم كورٹ كے نئے  سى جے آئى نے پورى كردى ہے ۔  انہوں نے گدى پربىٹھتے  ہى حكومت كو مشورہ دىا ہے كہ سوشل مىڈىا مىں شىئر كىے جانے والے  اىنٹى نىشنل مضامىن كو چىك كرنے  كے لىے اىك نىوٹرل باڈى تشكىل دے ۔ اس كا واضح مطلب ہے كہ ىہ  آزاد آوازوں کو دبانے کا آغاز ہے كىونكہ  سوشل مىڈىا جو سچ خبروں كو جاننے  اور حكومت كى ناكامىوں كو اجاگر كرنے كا اىك بہت بڑا ذرىعہ تھا اب اس سے بھى عوام كو محروم كرنے كا ارادہ ہے ۔ ظاہر ہے كہ نام نہاد نىوٹرل باڈى سے  صرف انہىں مضامىن كو نشر كرنے كى منظورى ملے گى جس مىں صرف حكومت كى تعرىف ہوگى ، اس كےبرے  كارناموں كى ستائش   اور ان  كا گن گان ہوگا۔ اىسى صورت مىں سپرىم كورٹ سے بھى عوام كا اعتماد تقرىبا  ختم ہوچكا ہے۔

تعلىم كى تباہ حالى:

اب اىك سرسرى نظر ملك كے تعلىمى حالات پر بھى ڈال لىتے ہىں  جہاں آئے دن ترقى معكوس ہو رہى ہے  ۔ تعلىم كى بدترىن صورت حال كا اندازہ اس سے لگاىا جا سكتا ہے كہ گذشتہ دس سالوں مىں تقرىبا 90/ہزار سركارى اسكول بند ہو ئے  ہىں جن مىں سب سے زىادہ  29410/اسكول مدھىہ پردىش   مىں بند ہوئے ہىں ، اس كے بعدىوگى جى كے  اترپردىش  كا نمبر ہے جہأں  25126/اسكول بند ہوئے ہىں جب كہ اس كے برعكس پرائىوىٹ اسكول كافى تعداد مىں كھلے  ہىں ۔

اس سے صاف پتہ چلتا ہے كہ مودى منووادى حكومت اپنے اىجنڈا كے مطابق  غرىبوں كو تعلىم سے محروم ركھنا چاہتى ہے كىونكہ وہ مہنگى تعلىم حاصل نہىں كر سكتے ہىں ۔

معىشت كى تباہى :

اقتصاد و معىشت كى بھى تھوڑى سى بات ہوجاتى ہے ۔منموہن كى حكومت مىں انڈىا كا اقتصاد سرپٹ گھوڑے كى طرح آگے بھاگ رہا تھا ، جى ڈى پى 8/ كى اوسط سے پھراٹے بھر رہى تھى ، روزگار كے مواقع مىسر تھے ، لوگوں كے پاس آمدنى كے علاوہ  بچت بھى  ہوتى تھى، قوت خرىداعلى  تھا اور  بازاروں مىں رونق تھى لىكن بھاجپا كى منحوس حكومت قائم ہوتے ہى معىشت كو گرہن لگ گىا ۔مودى نے آراىس اىس كے اقتصادى نظرىات كو عملى جامہ پہنانے  اور مودى اكنامكس كے چكر مىں ملك كى معىشت كو چوپٹ كر دىا، پہلے نوٹ بندى پھر غىر منظم و غىر منصوبہ بند جى اىس ٹى كو نافذ كركے اقتصاد كى كمر توڑ دى جس كا خمىازہ عوام آج تك بھگت رہى ہے اور ملك اس كے برے اثرات سے اب تك باہر نہىں آسكا ہے۔ طرفہ تماشہ تو ىہ ہے كہ حكومت غلط اقتصادى اعداد و شمار پىش كركے اپنى پىٹھ از خود تھپتھپاتى ہے   اور اپنے كو اقتصادى محاذ كا سكندر بتاتى ہے۔ حد تو ىہ ہے كہ 27/نومبر كى خبروں كے مطابق آئى اىم اىف نے انڈىا كے اقتصادى اعداد و شمار كو ناقابل بھروسہ و غىر موثوق قرار دىا ہے۔بقول شاعر:

تمہاری فائلوں میں گاؤں کا موسم گلابی ہے ****  مگر یہ آنکڑے جھوٹے ہیں یہ دعوى کتابی ہے

مىڈىا- قوم كا سب سے بڑا غدار :

اس كے علاوہ صحافت اور مىڈىا  كے معىار مىں مودى كے حكومت مىں آتے ہى جوگراوٹ آئى ہے اس سے ہر كوئى واقف ہے۔حكومت كے وفاداروں نے مىڈىا كو خرىد كر اس  پر مكمل طور سے قبضہ كر لىا ہے ۔آج كا مىڈىا گودى اور دلال مىڈىا ہے جس كا كام صرف دلالى كرنے كے علاوہ اور كچھ نہىں ہے۔ بے شك مودى كے الىكشن جىتنے كا اىك اہم سبب مىڈىا اور اس كا پروپگنڈہ ہے جو نہ صرف  حكومت كى ناكامىوں پر پردہ ڈالتا ہے  بلكہ اس كى خوبصورت توجىہ و تاوىل پىش كرتا ہے اور انتہائى بے شرمى كے ساتھ اس كو ملك و ملت كے لىے  انتہائى كارآمد و مفىد بتاتا ہے ۔ سچ  تو ىہ ہے كہ آج ملك كا سب سے بڑا دشمن و غدار مىڈىا ہے ، اگر مىڈىا صحىح ہوتا تو آج ملك كى ىہ حالت نہ ہوتى۔مودى  كى  عوام مىں  مقبوليت اور  حكومت مىں باقى رہنے كى اىك اہم وجہ  مىڈىا كا  جھوٹ اور پروپگنڈہ  ہے۔كوئى بھى صحافى اگر حق كہنے كى ہمت كرتے ہوئے حكومت كى ناكامىوں كو اجاگر كرتا ہے تو اس كى سزا جىل ہے ۔كتنے صحافىوں اور حق پسندوں كو بنا كسى وجہ كے اس حكومت  نے جىل مىں ٹھونس ركھا ہےوغىرہ ۔

فاشزم كا بول بال:

صورت حال اىسى ہے كہ ملك مىں غىر علانىہ اىمرجنسى نافذ ہے۔حكومت ىا مودى پر اگر كوئى تنقىد كرتا ہے تواس كے وفاداروں كے ذرىعہ  اسے ملك كا غدار ىا دشمن و مخالف قرار دىا جاتا ہے، اس  كى تنقىد كو براہ راست ملك مخالف بتاىا جاتا ہے۔مودى  اور اس كى حكومت اپنے خلاف كچھ سننا نہىں چاہتى ہے ۔ اس كو بادشاہوں و تانا شاہوں كى طرح صرف اپنى تعرىف پسند ہے ۔ ىہى وجہ ہے كہ آج بہت سے لوگ حق بات كہنے سے ڈرتے ہىں اور حكومت كى ہاں مىں ہاں ملاتے ہىں  ۔بقول شاعر:

       جو تم کو ہو پسند وہی بات کہیں گے    ****تم دن کو اگر رات کہو رات کہیں گے

اور اس كى سب سے اہم  وجہ ىہ ہے كہ   بلا شبہ جب كوئى جماعت ىا گروہ ىہ عقىدہ ركھتا ہے كہ كسى بھى علاقہ ىا  ملك پر صرف اسى كا حق ہے،وہاں كے وسائل كا تنہا مالك وہى ہے، باقی سب دوسرے درجے کے شہری ہیں اور ان     كاكوئى  حق نہىں ہے تو اس سے فاشزم جنم لىتا ہے اور وہ جماعت ىا گروپ   فطرى طور پر تاناشاہى ، آمرىت اور فاشزم كا راستہ اپناتا ہے ،  دوسروں  سے ان كے حقوق كو زبردستى طاقت كے بل پر چھىن لىتا ہے اور ان كو ان سے محروم كردىتا ہے اور ہمىشہ اپنے زىر نگىں و تابع بنا كر ركھتا ہے۔ ىہى آج كل ہمارے پىارے  وطن مىں  اقلىتوں و دلتوں خصوصا مسلمانوں كے خلاف  ہورہا ہے ۔ ان طاقتوں كا ارادہ ہے  كہ ہر كوئى انہىں كے رنگ مىں رنگ جائے ، ان كى تہذىب و ثقافت كو اپنا لے اور اس كى شناخت ختم ہوجائے ۔ ىہ كسى غىر كو برداشت كرنے كے لىے بالكل تىار نہىں ہىں ۔ ان كے قول و فعل مىں تضاد ہے اور ان كا" واس دىو كتمبكم و اہنسا پرمو دھرما"  كا نعرہ محض دكھاوا ہے۔

ىہ اپنى فكر كو دوسروں پر بزور طاقت تھوپنا چاہتے ہىں  اور اس كو اس كا پابند بنانا چاہتے ہىں ، حد تو ىہ ہے كہ اگر كوئى ان كا ہم مذہب  انصاف پسند ہندو  ان كى رائے كے خلاف كوئى رائے ركھتا ہے تو اس كو برداشت كرنے كے لىے بالكل تىار نہىں ہوتے ہىں ۔ آج  بروز سنىچر 29/نومبر كو  ىہ خبر نظر سے گذرى كہ  موہن لال سوكھادىا ىونىورسٹى كى وائس چانسلرسمىتا مشرا  نے اورنگزىب عالمگىر كو اىك باصلاحىت ، قابل منتظم  قرار دىا تھا ۔صرف اسى بنا  پر ہندو تنظىموں نے اتنا شور مچاىا اور ہنگامہ كىا كہ بالاخر ان كو مجبور ہوكر استعفى دىنا پڑا اور مضحكہ خىز بات ىہ ہےكہ  28/نومبر 2025ع كوراجستھان  كے گورنر نے ان كا استعفى منظور كر لىا۔

امر اجالا مىں 29/نومبر كى خبر ہے كہ مىرٹھ كے تھاپر نگر مىں اىك مسلمان شاہد كے  گھر خرىدنے پر ہندؤوں نے ہنگامہ كردىا اور طرفہ تماشا ىہ كہ پولس نے مسلمان كے  گھر پر ہى تالا لگوادىا۔

اس طرح كى اىك دو خبرىں نہىں ہىں بلكہ انٹرنٹ اور اخبار اس قسم كى خبروں سے بھرے پڑے ہىں جن سے اندازہ ہوتا ہے كہ حكومت كے ارادے كىا ہىں اور كس طرح سے وہ  ہندتوا كے شرپسندوں كے ساتھ ملى ہوئى ہے۔ جس كى سب سے واضح دلىل ىہ ہے كہ وہ  ان كے خلاف كوئى اىكشن نہىں لىتى ہے ۔بلكہ ان كا پورا تعاون كرتى ہے تاكہ ان كا ووٹ برابر ملتا رہے اور سوسائٹى مىں پولارائزىشن ہوتا رہے ۔

اس كا صاف  و واضح مطلب ہے كہ  اب ىہ ملك آئىن سے نہىں بلكہ ہندو تنظىموں كى غنڈہ گردى سے چل رہا ہے جنہوں  نے پورى مشىنرى كو ىرغمال بنا لىا ہے اور حكومت ان كے سامنے مجبور نہىں ہے  لىكن مجبور  بنى ہوئى ہےكىونكہ دونوں اىك ہىں ۔اور ىہ سب حكومت  ہندوتوا   كى خدمت و اس كے فروغ كے نام پر كر رہى ہے جو خدمت تو نہىں البتہ  دھرم كى  سىاست و تجارت ہے جس مىں بھاجپا انتہائى شاطر و ماہر ہے ۔

اور ان سب كے پىچھے  حكومت كا مقصد عوام كو بىوقوف بنا كر ان كى حماىت حاصل كرنا،  اصل عوامى مسائل جىسے مہنگائى، بىروزگارى ، تعلىم و صحت وغىرہ  سے ان كا دھىان بھٹكانا ، گمراہ كرنا  اورپولارائزىشن كركے ان كا   ووٹ حاصل كرنا  ہے ۔ىہى وجہ ہے كہ حكومت  اصل عوامى  مسائل مىں دلچسپى لىنے  كے بجائے ہندو مسلمان،  مندر مسجد، نام كى تبدىلى  اور مورتىوں كے افتتاح وغىرہ مىں زىادہ دلچسپى لىتى  ہے ۔اس كى سب سے روشن مثال25/نومبر 2025ع كو مذہبى لىڈروں كو نظر اندازكر كے  مودى  كے ذرىعہ  از خود  رام مندر پر مذہبى جھنڈا لہرانا  اور گوا مىں 28/نومبر كو  77/فٹ لمبى  رام مورتى كا افتتاح كرنا ہے وغىرہ ۔ ىعنى  وزىر اعظم اىك ہندو پجارى كا كام كر رہا ہے۔

  اگر كسى كو ىہ سىكھنا ہے كہ دھرم كى تجارت كىسے كى جاتى ہےاور لوگوں كو اس كے نام پر كس طرح ورغلاىا و بىوقوف بناىا جاتا ہے  تو اسے بى جى پى سے سىكھنے كى ضرورت ہے كىونكہ  اس معاملے مىں پورى دنىا مىں  اس سے بڑا گرو كوئى اور نہىں ہے۔

خىر ىہ اىك اىسا موضوع ہے جس پر اىك مكمل كتاب تمام دلائل و براہىن كو ىكجا كركے  تحرىر كى جا سكتى ہےبلكہ ان مىں سے ہر اىك موضوع پر اىك مستقل كتاب تىار ہو سكتى ہے  ۔ ىہاں بہت زىادہ تفصىل ممكن نہىں ہے ، خلاصہ كلام ىہ ہے كہ ملك پر آر اىس اىس نے مكمل طور سے قبضہ كر لىا ہے ۔ملك كا آئىن خطرہ مىں ہے ، اس كو  بدلنے كى كوشش جارى ہے ، الىكشن كمىشن، مىڈىا، سپرىم كورٹ سمىت تمام آئىنى ادارے آر اىس اىس كے اڈے ہىں ، وزىر اعظم كے سلوك و برتاؤ مىں  دوسرے مذاہب والوں سے نفرت و تفرىق روز روشن كى طرح واضح ہے، آر اىس اىس كے افكار و نظرىات پر ملك كى تعمىر ہو رہى ہے اور اس كو دوسروں پر زبردستى تھوپا جا رہا ہے ، مسلمانوں كو خاص طور سے نشانہ بناىا جا رہاہے، ان كے املاك كو نقصان پہنچاىا جا رہا ہے    ، آر اىس اىس كے تربىت ىافتہ افراد ہر جگہ موجود ہىں جو اس كے  منو وادى اىجنڈوں كو نافذ كر رہے ہىں اور ملك غىر علانىہ طور پر ہندو راشٹر بن چكا ہے ۔

 مذکورہ بالا حقائق اور مثالیں آج کے ہندوستان کی مجموعی صورتِ حال کا نہایت تشویشناک و خطرناك  نقشہ پیش کرتی ہیں۔ کسی جمہوری ملک میں حکومت، آئینی اداروں، میڈیا، عدلیہ اور انتظامیہ کا توازن ہی قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہندوستان میں یہ توازن تیزی سے بگڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ حکمران جماعت کی نظریاتی وابستگی نے ریاستی اداروں کو غیر جانبداری سے دور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اقلیتیں، دلت، قبائل اور کمزور طبقات اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

یہ صورتِ حال نہ صرف ملک کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ہندوستان کی جمہوری ساکھ کو متاثر کر رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے باشعور شہری حالات کی سنگینی کو سمجھیں، آئینی قدروں کا دفاع کریں، اور نفرت و انتہا پسندی کے مقابل انصاف، مساوات اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔ ورنہ شاعر کا یہ انتباہ حقیقت بن سکتا ہے

:نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستان والو! وما علىنا الا البلاغ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمىن۔

السابق
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: