دعوت توحید:تمام انبیاء کی دعوت کی بنیاد ومحور

 

                دعوت توحید:تمام  انبیاء کی دعوت کی بنیاد ومحور

                      اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو  اپنی وحدانیت اور اپنی بندگی کی طرف دعوت دینے کے لیے ہر زمانے و ہر علاقے  میں  انبیا کرامؑ کو مبعوث فرمایا۔ جب بھی دنیا میں توحید و   نظام حق و عدل درہم برہم ہوتا , زمین شرک و  فساد, ظلم و جور  کا گہوارہ بنتی اور کفر و شرک اور جہالت عروج پر پہنچ جاتے،  تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت و فضل و کرم سے اپنے خاص،مقرب اور منتخب بندوں کو دنیاے انسانیت کی طرف مبعوث فرماتا، تاکہ بنی  نوع انسان کو غیر اللہ کی بندگی اور کفرو شرک سے نکال کے اللہ کی وحدانیت اور ا س کی بندگی کی طرف دعوت دیں ۔

انبیاء کی تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت آدم ؑسے نبی آخرالزماں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیا کرامؑ نے اپنی دعوت کا آغاز توحید، شرک كا انكار  اور کسی بھی قسم کی بت پرستی کے رد سے کیا۔  اور یہ وہ بنیادی و مرکزی  کا م ہے جسے تمام انبیا کرامؑ نے اپنا مشن بنایا۔ کتاب وسنت کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہرپیغمبرؑ نے اللہ کی بندگی، اصلاح عقیدہ اور تمام عبادتوںکو اللہ کے لیے خالص کرنے اور شرک سے اجتناب کرنے کو اپنی دعوت کا مرکز و محور قراردیا اور ہر ایک  نے اپنی اپنی قوم کو سب سے پہلے توحید ہی کی دعوت پیش کی كيونکہ درحقیقت انسانی معاشروں میں کوئی بھی اصلاح اس دعوت کے بغیر ممکن نہیں۔

اور بلا شبہ توحید کی دعوت تمام انبیاء و رسلؑ کا مشترکہ مشن تھا, ہر نبی نے پہلے اپنی قوم کو توحید کی طرف بلایااس کے بعد اس کو  دیگربرائیوں سے روکنےکی کوشش کی, تمام انبیاء علیہم السلام نے اپنی قوموں کے لوگوں کو صحیح راہ  کی طرف لانے کے لیے توحید کے مشترکہ نکتے پر جمع ہونے کی دعوت دی۔ انہوں  نے توحید کی آفاقی دعوت کو نکتہ مشترکہ کے طور پر اجاگر کرکے بنی نوع انسان  کواس پر مجتمع ہونے کی بھی دعوت پیش کی ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے  تمام انبیاء علیہم السلام کو متعدد تعلیمات و ہدایات کے ساتھ مبعوث کیا, ان کی شریعتیں  الگ اور جدا تھیں لیکن ان کے دین کی اصل ایک تھی , اور  ان سب  کی اولین و بنیادی  دعوت اور سب سے پہلا پیغام و مشن بالاتفاق اللہ تعالیٰ کی توحید کا اعلان اور تمام معبودان باطلہ سے برأت کا اظہار تھا۔

 اس کی دلیل اللہ تعالى کا یہ فرمان  ہے :{وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِيٓ إِلَيۡهِ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعۡبُدُونِ ٢٥} (انبياء/25) اور ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے پس تم سب میری ہی عبادت کرو ۔

 اس آیت میں یہ  وضاحت ہے کہ تمام انبیاء کو دعوت توحید کے ساتھ بھیجاگیا ہے ۔اسی معنى اور مفہوم کی اور بھی آیتیں ہیں جن میں سے چند یہ ہیں :--

{وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِي كُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱجۡتَنِبُواْ ٱلطَّٰغُوتَۖ} (نحل/36) اور یقینا ہم نے ہر قوم  میں ایک رسول بھیجا  کہ صرف اللہ کی عبادت کرو  اور طاغوت یعنی اس کے سوا کے تمام معبودوں  سے بچو ۔

{وَسۡ‍َٔلۡ مَنۡ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ مِن رُّسُلِنَآ أَجَعَلۡنَا مِن دُونِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ءَالِهَةٗ يُعۡبَدُونَ ٤٥} (زخرف/45) اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ان سے پوچھ لیجیے کہ کیا ہم نے رحمان کے علاوہ اور بھی معبود بنائے تھے جن کی عبادت کی جائے ۔

{ يُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ بِالْرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ أَنْ أَنذِرُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاتَّقُونِ} ) نحل: 2(  وہ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے فرشتوں کو وحی کے ساتھ بھیجتا ہے  کہ تم لوگوں کو آگاہ کردو  کہ میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے , پس تم لوگ مجھ سے خوف کھاؤ۔

احادیث  میں بھی اس امر  کا ذکر ہے جن میں سے ایک  حدیث یہ ہے: الانبیاء اخوۃ لعلات, امہاتہم شتی و دینہم واحد, وانی اولى الناس بعیسی بن مریم (بخاری/3443, مسلم/2365, ابوداؤد/4324, مسند احمد/9630, یہ حدیث مختلف کتابوں میں مختلف الفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہے ) یعنی تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں  جن کی مائیں مختلف ہیں اور دین ایک ہے , اور میں لوگوں میں عیسى بن مریم سے  سب سے زیادہ  قریب ہوں ۔علاتی بھائی کا مطلب ہے کہ ان کے باپ ایک ہیں اور مائیں الگ الگ ہیں ۔ مراد یہ ہے کہ ان سب کی شریعتیں اصول و ضوابط کے اعتبار سے ایک ہیں, آپس میں متفق ہیں اگر چہ فروع میں  باعتبار زمانہ و عموم و خصوص ان میں اختلاف ہے ۔

یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ تمام انبیاء کا اصل دین توحید ہے جس کی طرف ہر نبی و رسول نے سب سے پہلے دعوت دی ہے ۔

بلا شبہ مذکورہ بالا  آیات  و حدیث سے سے اجمالی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ہرنبی و رسول  کو توحید کے ساتھ مبعوث  کیا گیا  اور تمام پیغمبر اسی کا پیغام لے کر آئے ہیں اور  توحید ہی  تمام  انبیاء و رسولوں کی دعوت رہی  ہے۔شرك  کی دعوت کبھی بھی نہیں دی گئی ہے اور نہ یہ کسی دین و ملت میں جائز رہا ہے ۔اورجو شخص انبیاء اور رسولوں کے احوال  پر ان کے اقوام کی دعوت کی بابت  غور و فکر کرے گا، تو  یہ پائے گا کہ ان کی دعوت کی بنیاد توحید ہے۔قرآن و احاديث سے اس کے دلائل درج ذیل ہیں :

سب سےپہلے رسول حضرت  نوح علیہ السلام کی دعوت تھی جیسا کہ اللہ تعالى کا فرمان ہے کہ آپ نے اپنی قوم سے کہا:َ{یا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ } (اعراف/59) اے میری قوم صرف اللہ کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔

ابراہیم نے اپنی قوم کو دعوت دی : {وَإِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ} (عنكبوت /16) اور ابراہیم کو یاد کیجیے جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کا تقوی اختیار کرو , یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم کو علم ہے ۔

اور حضرت ہود نے اپنی قوم سے کہا: { يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ} (اعراف/65) اے میری قوم صرف اللہ کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔

اور حضرت صالح  نے اپنی قوم سے کہا: {يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ} (اعراف/73). اے میری قوم صرف اللہ کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔

اور حضر ت شعیب نے اپنی قوم سے کہا:{ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ} (اعراف/85) اے میری قوم صرف اللہ کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔

اور حضرت عیسى  نے اپنی قوم سے کہا:{ إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ } (آل عمران/51) بلا شبہ میرا و تمہارا رب اللہ ہے لہذا صرف اسی کی عبادت کرو , یہی سیدھی راہ ہے ۔

اللہ کے بندے اور اس کے رسول حضرت عیسى کی دعوت تھی :ارشاد ربانی ہے:{وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ} (مائدة/72) اور حضرت عیسى نے فرمایا کہ اے بنو اسرائیل صرف اللہ کی عبادت کرو جو میرا و تمہارا رب ہے , یقینا جو اللہ کے ساتھ شرک کرے گا تو اللہ نے اس کے اوپر جنت کو حرام کردیا ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی مد گار نہیں ہے ۔

حضرت یعقوب کی دعوت تھی: {أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ} (بقرة/133)كيا تم حضرت یعقوب کی وفات کے وقت موجود تھے جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ تم لوگ میرے بعد کس کی عبادت کروگے تو ان کا جواب تھا کہ ہم آپ کے معبود و آپ کے آباء و اجداد  ابراہیم, اسماعیل و اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو ایک ہی معبود ہے اور ہ ماس کے اطاعت کرنے والے ہیں ۔

حضرت یوسف کی دعوت تھی  فرمان باری تعالى ہے: { إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ} (يوسف/40) حکومت صرف اللہ کی ہے , اس کا حکم ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو, یہی درست دین ہے اور لیکن زیادہ تر لوگ نہیں جانتے ہیں ۔

اور سابقہ تمام انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام ہی کی طرح رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنی دعوت کا آغاز عقیدۂ توحید ہی سے کیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: { قُلْ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَاْ الَّذِيْ لَه مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُحْيٖ وَيُمِيْتُ} (اعراف:۱۵۸) ’’آپ کہئے کہ اے لوگو! میں تم سب کے لیے اس اللہ کا رسول ہوں جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے‘‘۔

اور سورہ کافرون میں ہے:{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ (1) لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ (2) وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (3) وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَا عَبَدْتُمْ (4) وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ (5) لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ (6) } (كافرون/1-6) آپ کہہ دیجیے  کہ اے کافرو!جس کی تم عبادت کرتے ہو اس کی عبادت میں نہیں کرتا ہوں ,  اور جس کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم لوگ عبادت نہیں کرتے ہو , اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے, اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں , تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے ۔

علاوہ ازیں  یہ حدیث بھی دلیل ہے کہ سب سے پہلے آپ نے توحید کی دعوت دی ہے اور دعوت توحید ہر دعوت پر مقدم ہے ۔

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال : " لما بعث النبي صلى الله عليه وسلم معاذ بن جبل إلى نحو أهل اليمن قال له: «إنك تقدم على قوم من أهل الكتاب، فليكن أول ما تدعوهم إلى أن يوحدوا الله تعالى، فإذا عرفوا ذلك، فأخبرهم أن الله قد فرض عليهم خمس صلوات في يومهم وليلتهم، فإذا صلوا، فأخبرهم أن الله افترض عليهم زكاة في أموالهم، تؤخذ من غنيهم فترد على فقيرهم، فإذا أقروا بذلك فخذ منهم، وتوق كرائم أموال الناس»(بخاري/كتاب التوحيد/ 7372)

حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ہے ان کا کہنا ہے  کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن  والوں کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا کہ تم اہل کتاب میں سے ایک قوم کے پاس جا رہے ہو۔ اس لیے سب سے پہلے انہیں اس کی دعوت دینا کہ وہ اللہ کو ایک مانیں (اور میری رسالت کو مانیں) جب وہ اسے جان  لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ نے ایک دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ نماز پڑھنے لگیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں زکوٰۃ فرض کی ہے، جو ان کے مالدار  سے لی جائے گی اور ان کے غریب کو   دی جائے گی۔ جب وہ اس کا بھی اقرار کر لیں تو ان سے زکوٰۃ لینا اور لوگوں کے عمدہ مال لینے سے پرہیز کرنا۔

مذکورہ بالا سطور سے قطعی طور پر  ثابت ہوتا ہے  کہ توحید انبیاء علیہم السلام کی دعوت کی کلید ہے۔ یہ پہلی  چیز ہے جس کے ساتھ انسان اسلام میں داخل ہوتا ہے اور آخری چیز جس کے ساتھ وہ اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔ یہ پہلا اور آخری فرض ہے۔۔(ربیع بن ہادی عمیر مدخلی: منهج الأنبياء في الدعوة إلى الله فيه الحكمة والعقل.)

تمام رسولوں صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی حقیقت کو سمجھا اور سب اسی کے ساتھ بھیجے گئے۔ سب نے ایک الله  کی عبادت کی طرف بلایا۔ انہوں نے  اس  حق کی طرف بلایا جو انہیں موصول ہوا اور انہیں اس کی پیروی کا حکم دیا گیا جیسا کہ انہیں اس کے پہنچانے کا حکم دیا گیا تھا۔ اور ان  سب نے اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی ادا کیا ۔

اے مسلمانو! یہ قرآن پاک اور سنت نبوی میں انبیاء و رسولوں کا منہج  و طریقہ ہے جو روز روشن کی طرح واضح ہے۔ یہ توحید کی خالص دعوت، شرک کے خلاف تنبیہ، اس کے پیروکاروں سےبرأت   کا اظہار  اور حکمرانوں کے ظلم و  جبر پر  صبر کرنا ہے۔

اس لیے آپ کی دعوت خالص توحید کی دعوت ہونی چائیے ، اور ہر قسم کے بڑے اور چھوٹے شرک سے  تنبیہ كرنا  اور اس کے ماننے والوں سے برأت  كا اظہار  ہو، چاہے وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ اور  بگڑے ہوئے عقائد اور طریقوں کو درست کرنا  اور انبیاء و رسولوں کی راہ پر  پر چلنے کی دعوت ہو۔(ربیع بن ہادی عمیر مدخلی: منهج الأنبياء في الدعوة إلى الله فيه الحكمة والعقل.)

الله عزوجل  سے دعا ہے کہ وہ دنیا کے تمام مسلمانوں  کو منہج انبیاء و ان کی راہ کو سمجھنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

 

 

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: