توحید: اللہ کا بندوں پر ایک اہم و بنیادی حق
جس طرح اللہ جل جلالہ نے اپنی کتاب میں جا
بجا مختلف نرالے اسالیب, بہترین پیرایوں و عمدہ مثالوں کے ذریعہ انسانوں
کی بھلائی و بہبود کے لیے توحید کی وضاحت
کی ہے , اس کو متعدد شکلوں و صورتوں میں
بیان کیا ہے اور اس کو اپنانے کی تاکید کی ہے ۔ اسی طرح احادیث میں نبی
کریم نے بھی اس کی اہمیت, فضیلت, ضرورت , افادیت کو مختلف شکلوں و صورتوں میں
انتہائی بہترین انداز میں بہت ساری احادیث میں مکمل طور سے واضح کیا ہے , اور اس کو بندوں پر اللہ کا
واجبی و بنیادی حق قرار دیا ہے, فلاح دارین کے لیے اس کو اپنانے کی تاکید کی ہے ۔اس بارے میں احادیث کی کثرت ہےانہیں میں سے
ایک درج ذیل حدیث حضرت معاذ بن جبل
کی ہے
جس میں دو اہم حقوق :" اللہ کا حق
بندوں پر اور بندوں کا حق اللہ پر
" کی وضاحت کی گئی ہے ۔آئیے اسی حدیث کی روشنی میں ان دونوں حقوق کو تفصیل سے
جانتے اور سمجھتے ہیں ۔
برادران اسلام: جلیل القدر صحابی حضرت معاذ بن
جبل کی روایت ہے:
عَن معَاذ بن جبل رَضِي
الله عَنهُ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم على
حمَار يُقَال لَهُ عفير فَقَالَ يَا معَاذ هَل تَدْرِي حَقُّ اللَّهِ عَلَى
عِبَادِهِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ؟ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ
أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا
يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ
مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُبَشِّرُ
بِهِ النَّاسَ قَالَ لَا تُبَشِّرُهُمْ فَيَتَّكِلُوا۔
تخریج: بخاري /2856, 7373، مسلم /144, 145, ترمذی/2643, ابن
ماجہ/4296 روایات میں معمولی اختلاف کے ساتھ ۔
حدیث میں وارد
چند الفاظ کے معانی مندرجہ ذیل ہیں
:
ردف : (ر پر کسرہ و د مجزوم ), جمع ارداف , سوار کے
پیچھے سوار, تابع , ہر چیز کا پچھلا حصہ, سرین وغیرہ , ردف صاحبہ اى رکب خلفہ یعنی
اس کے پیچھے سوار ہوا۔ردف لہ امر ای دہمہ یعنی کسی چیز کا اچانک پیش آنا ۔(موقع المعانی)
الحق: موجود چیز کو حق کہتے ہیں،اس لیے سچ،صدق کو بھی حق کہتے ہیں،کیونکہ وہ موجود ہے اور حق ہر اس چیز کو کہتے
ہیں جس کا کرنا لازم اور ضروری ہے،اس لیے
فرائض جن کی ادائیگی ضروری ہے یا قرض جس کا ادا کرنا لازم ہے اس کو بھی حق کہتے
ہیں۔
اللہ
کا بندوں پر حق ہے،کا معنی یہ ہے:کہ بندہ پر اس کام
کا کرنا لازم اور واجب ہے۔اور بندوں کا اللہ پر حق ہے کا معنی یہ ہے کہ اس چیز کا
پایا جانا قطعی اور یقینی ہے،یہ معنی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ پر اس کا کرنا لازم
واجب ہے۔(موقع : اسلامک اردو بکس .کام , تحفۃ
المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 144)
ترجمہ:
حضرت معاذ بن جبل کی روایت ہے وہ فرماتے
ہیں کہ میں عفیر نامی
ایک گدھے پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ
اللہ تعالیٰ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے؟“ میں نے جواب
دیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ
جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلا شبہ اللہ
کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ
ٹھہرائیں اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو
شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے عذاب نہ دے۔ میں نے کہا اے رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے
دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو ورنہ وہ اسی پر اعتماد کر بیٹھیں گے۔ (اور نیک اعمال سے غافل ہو
جائیں گے)۔
حضرات گرامی :
یہ حدیث مختلف احادیث کتب میں طوالت و اختصار کے
ساتھ متعدد الفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہے جن
سے بہت سارے احکام و مسائل, فضائل و فوائد
کا علم ہوتا ہے ۔اس مختصر مضمون میں ان سب پر گفتگو کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ان میں
سے چند اہم چیزوں کی طرف یہاں اشارہ کیا جاتا ہے جن میں سر فہرست
اہم ترین دو حقوق ہیں , ایک اللہ کا حق بندوں پر اور دوسرا بندوں کا حق اللہ پر, ان دونوں کا اس
حدیث میں بیان و ذکر ہے اور
یہی دونوں اس حدیث کا بنیادی و مرکزی نقاط ہیں ۔اور
یقینی طور پر کسی بھی انسان کے لیے
دنیا اور آخرت میں نجات کا راستہ
اللہ کے اسی عظیم حق: صرف اللہ کی عبادت کرنے، اور اس کے ساتھ اس کی عبادت میں کسی
کو ہرگز شریک نہ کرنے پر شروع اور ختم ہوتا
ہے(موقع الدرر السنیۃ: شرح حدیث ...)
جس کی وضاحت نیچے کی جا رہی ہے ۔
پہلا
حق: بندوں پر اللہ
تعالیٰ کا حق
یقینا
اللہ تعالى کے اپنے بندوں پر بہت سارے حقوق ہیں جیسے اس پر ایمان لانا, اس کی
اطاعت و اتباع کرنا, اس کی شریعت پر عمل کرنا, اس سے محبت کرنا, اس کے دین کی نشر
و اشاعت کرنا وغیرہ ۔اس حدیث میں اللہ
تعالیٰ کےبہت سارے حقوق میں سے ایک اہم , عظیم و اساسی حق کی وضاحت مقصود ہے جو اس کے بندوں پر عائد
ہوتا ہے اور وہ ہے شرک سے دور رہتے ہوئے اس کی عبادت کرنا۔اس عبادت سے مراد ہر وہ
کام ہے جس سے اللہ تعالیٰ خوش ہو۔دوسرے الفاظ میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجاآوری
اور اس کے منع کردہ کاموں سے بچنا اس کی عبادت ہے۔
(موقع : اسلامک اردو بکس .کام ,هدایۃ القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ
نمبر: 7373)اور ضروری ہے کہ اس کی عبادت قرآن و حدیث کے مطابق کی جائے۔
اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے تمام احکامات پر عمل کیا جائے۔ اگر اعمال
صالحہ کو ترک کر کے اور کتاب و سنت سے ہٹ کر کوئی عبادت کی جائے تو اللہ کے ہاں اس
کا کوئی وزن نہیں ہے، جیسا کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے۔(
موقع : اسلامک اردو بکس .کام ,اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ
نمبر: 24)
یقینا
ایک انسان پر اللہ کا ایک بڑا و بنیادی حق
یہی ہے کہ وہ صرف اللہ ہی کی عبادت کرے اور ہر قسم کے شرک سے مکمل اجتناب کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں کا خالق, رازق , مالک اور
منعم ہے۔اس لئے بندوں پر لازمی فرض ہےکہ
صرف اسی کی عبادت کریں ۔
انسان
کو چاہیے کہ وہ کسی ذاتی غرض اور دنیوی فائدے کے پیش نظر اپنے خالق حقیقی کی
مخالفت نہ کرے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بندوں پر اللہ تعالیٰ کے
حقوق کی وضاحت کر دی ہے۔
انسان
کو چاہیے کہ وہ ان سے بال برابر بھی انحراف نہ کرے۔
(موقع : اسلامک اردو بکس .کام,هدایۃ القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر:
7373)
یہ
دین اسلام کا انتہائی اہم مسئلہ اور
بنیادی عقیدہ ہے۔ اس عظیم الشان عقیدے پر اہل توحید ساری زندگی ثابت قدم رہتے ہیں
اور ہر وقت اپنی جان قربان کرنے کے لئے
تیار رہتے ہیں۔(اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح،
حدیث/صفحہ نمبر: 24)
دوسرا
حق: اللہ تعالیٰ پر
بندوں کا حق
دوسرا
حق جس کی توضیح اس حدیث میں کی گئی ہے وہ بندوں
کا حق اللہ پر ہے کہ وہ اپنے توحید پرست شرک نہ کرنے والےبندوں کو عذاب نہیں دے گا۔یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے وعدہ
ہےلیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ شرک کے علاوہ خواہ کوئی بھی گناہ کریں اس کی سزا ان کو نہیں
ملے گی بلکہ اس کا مطلب ہے کہ اگر بعض موحدین کو ان کے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں
داخل کیا گیا تو بعد میں ایک دن اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے انہیں جہنم سے نکال
کر ابدی جنت میں داخل فرمائے گا۔۔(اضواء المصابیح فی
تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 24) شرک نہ کرنے والے
کو عذاب نہ دینے سے مراد دائمی عذاب نہ دینا ہے ورنہ دوسرے گناہوں کی سزا قبر میں,
قیامت کے دن اور جہنم میں ملےگی۔۔(
موقع : اسلامک اردو بکس .کام ,سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد،
حدیث/صفحہ نمبر: 4296)
عبادت
کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کےساتھ شرک نہ کرنا توحید الوہیت ہے۔مشرکین اس سے انکار
کرتے تھے۔یہی وہ حق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر واجب قرار دیا ہے۔
جب
بندے اس کی بجاآوری کریں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں جہنم سے بری کرکے جنت میں داخل
فرمائے گا۔
حق
کا معنى و مفہوم :
یہاں
پر حق کا مفہوم بھی جان لینا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اللہ کے ذمے قطعاً کسی کا
کوئی حق نہیں ہے ۔اللہ نے بندوں کا جو حق اپنے ذمے لیا ہے تو اس کے ذمے اس کے
بندوں کا یہ حق محض اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے یہ حق اللہ نے خود اپنی رحمت سے
اپنے ذمے لے لیا ہے۔( موقع : اسلامک اردو بکس .کام ,سنن
ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4296)
یہ
بھی واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذمے بندوں کے حقوق بندوں کی بجاآوری کا عوض نہیں
ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل وکرم سے انھیں اپنے ذمے لیا ہے جیسا کہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے: کتب ربکم على نفسہ الرحمۃ ( الأنعام:
54) تمہارے رب نے اپنے آپ پر رحمت کرنا لازم کرلیاہے۔
نیز
فرمایا:وکان حقا علینا
نصر المؤمنین( الروم:
47) اہل ایمان کی
مدد کرنا ہمارے ذمے ہے۔
حدیث
قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:یا عبادی انی حرمت الظلم على نفسی و جعلتہ
بینکم محرما فلا تظالموا )صحیح مسلم، البر والصلۃ، حدیث: 2577,
6572) میرے بندو! میں نے بلا شبہ خود پر ظلم حرام قرار دیا ہے
اور تمہارے درمیان بھی اسے حرام کرتا ہوں، لہذا تم کسی پر ظلم نہ کیا کرو۔
(موقع : اسلامک اردو بکس .کا, هدایۃ القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر:
7373)
دیگر
فوائد و مسائل:
اس
حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہر
انسان کو چاہئے کہ اپنے سے افضل انسان کا کماحقہ احترام کرے۔ تمام معاملات میں
اپنے آپ کو اس سے برتر ثابت کرنے کے بجائے، اسے اپنے آپ پر ترجیح دے۔ سیدنا معاذ
بن جبل رضی اللہ عنہ سواری پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے
تھے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ہر مسلمان پر، چاہے وہ عوام میں سے ہو یا طلباء
میں سے، یہ لازم ہے کہ علمائے حق کا احترام و ادب کرے۔۔(اضواء
المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 24)
اس
حدیث سے تعلیم دینے کا طریقہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اہم چیز بتانے سےپہلے سوال
کیا جائے تاکہ سامع مکمل طور سے اس کی طرف متوجہ ہوجائے اور پھر جواب دیا جائے ۔
اس
سے نبی کریم کا اپنے اصحاب کے ساتھ سلوک و برتاؤ , تواضع , عدم تکبر اور اعلى اخلاق کا بھی علم
ہوتا ہے کہ آپ نے حضرت معاذ کو اپنے پیچھے سوار کیا جو آپ سے چھوٹے اور بہت ہی کم درجہ کے ۔اس میں امت کے قائدین و رہبران کے
لیے سبق ہے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ کس طرح پیش آئیں اور ان کے ساتھ کیسا معاملہ
کریں ۔
یہاں
یہ تنبیہ کرنا بہت ضروری ہے کہ اس حدیث کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ لوگ نیک اعمال
کرنا چھوڑ دیں بلکہ نیک اعمال کا ادا کرنا اور برائیوں سے بچنا ہر مسلمان پر فرض
ہے ۔اسلام میں نیک اعمال کو ترک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ اس کی بہت زیادہ
اہمیت و فضیلت ہے اوراسی لیے اس کو ایمان
کے ساتھ قرآن و حدیث میں بار بار جوڑا گیا
ہے ۔ علماء نے ایمان کو دنیا کی سب سے بڑی نعمت اور عمل صالح کو دنیا کی دوسری سب
سے بڑی نعمت قرار دیا ہے ۔اور اس کے بغیر
دنیا میں کامیابی و کامرانی کا حصول ناممکن ہے ۔خود ہمارے نبی , صحابہ کرام اور
اسلاف سب اسلام پر عمل کرنے والے تھے اسی لیے دنیا میں کامیاب تھے لیکن جب دور
حاضر کے مسلمان بے عمل و بد عمل ہوگئے تو دنیا میں ذلیل و خوار ہوگئے اور پستی و
غلامی ان کا مقدر بن گئی ۔
نیک
اعمال کی مزید اہمیت و فضیلت اور اس کے
اثرات و نتائج کو تفصیل سے جاننے کےلیے میرے
4/ مضامین:اسلا م میں عمل صالح کی از حداہمیت و فضیلت, فوائد و نتائج, ایمان
و عمل صالح کا ایک ساتھ ذکر: دلالت و مفہوم, دنیا کی دوسری سب سے عظیم نعمت: صالح عمل
کو انجام دینا اور عمل صالح کے بےشمار فوائد
وثمرات, نتائج و أثرات کا میری ویب سائٹ drmannan.com پر مطالعہ کریں ۔
اسی وجہ
سے اسے عوام الناس کے سامنے بیان کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ لوگوں کی
غلط فہمی، فتنے اور دیگر مضر اثرات کے خوف کی وجہ سے بعض نصوص صحیحہ کا عام لوگوں
کے سامنے بیان نہ کرنا ہی بہتر ہے اور اگر بیان کیا جائے تو ان کی صحیح تشریح اور
مفہوم بھی سمجھا دینا چاہئے۔۔(اضواء المصابیح فی
تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 24)
ایک
اعتراض و اس کا جواب:
یہاں
ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
ممانعت کے باوجود یہ حدیث کیوں بیان کی ؟
اس
کا جواب یہ ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت گناہ کے خوف سے
یہ حدیث بیان فرما دی تھی۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: من كتم علماً الجمہ اللہ یوم القیامۃ بلجام من نار ۔( ترغیب و ترہیب/1/97, ابن
حبان/96,حاکم/346)۔ یعنی جو شخص علم چھپائے گا اسے قیامت
کے دن آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔
علماء
کرام نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث چند
خاص لوگوں کے سامنے بیان کی تھی، اور حدیث میں ممانعت عام لوگوں کے سامنے بیان
کرنے کی ہے، یا یہ کہ ممانعت تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے۔ والله
اعلم۔(اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ
نمبر: 24)
دور
حاضر کے مسلمانوں کی حالت:
صدافسوس
کہ دور حاضر میں نام نہاد
مسلمانوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ ساتھ اولیاء,
صلحاء اور بزرگوں کی بندگی بھی کرتے ہیں۔آج
پوری دنیا میں مسلمانوں کی غالب اکثریت توحید سے غافل اور شرک و بدعت میں مبتلاہے
, جب کہ توحید سب سے بڑی عبادت اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے ۔ مزاروں اور درگاہوں کی
کثرت ہے اور مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ وہ اصل دین کو چھوڑ کے رسوم و رواج, عادات
و تقالید اور اوہام و خرافات میں گرفتار ہیں اور اسی کو اصل دین سمجھتے ہیں ۔
مسلمان مشرکین پجاریوں نے غیر مسلموں کی
طرح قبروں و مزاروں کو پیٹ پالنے کا دھندہ
بنا لیا ہے ۔ خود گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں اور ان کی دنیا و
آخرت تباہ و برباد کر رہے ہیں ۔
کتنے مسلمان ہیں جو قرآن مجید پڑھنے کے باوجود اندھے ہو
کر شرکیہ کاموں میں گرفتار ہیں بلکہ بت پرستوں سے بھی آگے بڑھے ہوئے ہیں۔جو قبروں
میں دفن شدہ بزرگوں سے حاجات طلب کرتے‘ دور دراز سے ان کی دہائی دیتے اور ان کے
ناموں کی نذر نیاز کرتے ہیں بلکہ بعض نام نہاد مسلمان
تو قبروں کوسجدہ بھی کرتے ہیں۔اور
ایسے ایسے غلط اعتقادات بزرگوں کے بارے میں رکھتے ہیں جو اعتقاد کھلے ہوئے شرکیہ
اعتقادہیں اور جو بت پرستوں کو ہی زیب دیتے ہیں مگر نام نہاد مسلمانوں نے اسلام کو
برباد کردیا ہے۔ اللہ تعالى ان کو سیدھی راہ کی توفیق دے ۔ توحید و شرک کی تفصیلات
کے لئے تقویۃ الایمان, کتاب التوحید یا کسی بھی توحید کی کتاب کا مطالعہ کا مطالعہ نہایت اہم اور ضروری ہے۔(صحیح
بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2856,هدایۃ القاري شرح صحيح بخاري،
اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7373)
آخر
میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ پوری
دنیا کے تمام مسلمانوں کو توحید و شرک کی صحیح سمجھ عطا فرمائے, توحید پر عمل کرنے
والا , شرک سے نفرت کرنے والا بنائے اور دارین میں کامیابی عطا فرمائے ۔ آمین ۔
0 التعليقات: