توحید: فلاح دارین کی گارنٹی
حدیث:عن طارق بن عبد الله المحاربي ـ رضي الله عنه ـ قال: رأيتُ رسول الله ـ صلى الله عليه وعلى آله وسلم ـ بسوق ذی المجاز و انا فی بیاعۃ ابیعہا, قال: فمرَّ وعليهِ جبۃ لہ حمراءُ وهو ینادی باعلى صوتہ: يا أيُّها النَّاس قولوا لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ تُفلِحوا، ورجلٌ يتَّبعُهُ يرميهِ بالحجارة قَد أدْمَى كَعبَيهِ وعُرقوبَيه وهو يقول: يا أيُّها النَّاسُ لا تُطيعوهُ فإنَّهُ كذَّاب، فقُلتُ: مَن هذا؟، قالوا: ھذا غُلام بَني عبدِ المطَّلب ، فقُلتُ: مَن هذا الَّذي يتبعه يرميه بالحجارة؟، قالوا: هذا عمه عبدُ العُزَّى و ھو أبو لهب.
تخریج: مسند أحمد / 16023,
9004 , 23191 ، والحاكم في المستدرك على الصحيحين : 39 ، صحیح ابن حبان :6562,
سنن دار قطنی /2976, اس کی سند صحیح ہے
اور یہ مختلف کتابوں میں مختلف راویوں
سے الفاظ کے اختلاف کے ساتھ مطول و مختصر
طور پر مذکور ہے۔ )
معانی
کلمات:
بیاعۃ:(ب
پر کسرہ و ی پر فتحہ) سامان فروختنی, بیچا جانے والا سامان ج بیاعات
جبۃ:
چوغہ, کپڑوں کے اوپر پہنا جانے والا ڈھیلا اوپری
لباس , ج جبب و جباب
یتبع:
یہ تبع سے فعل مضارع ہے , معنى پیچھے چلنا, ساتھ چلنا ہے, اتبع الشئی : پیروی
کرنا, نشان قدم پر چلنا ۔
ادمى:خون
نکالنا و بہانا, کہا جاتا ہے ادمى الولد یعنی بچے کو مارا یہاں تک کہ اس سے خون
بہنے لگا۔ادمى الجرح یعنی زخم سے خون نکالا۔
کعب:یہ
کئی معانی کے لیے مستعمل ہے۔ ہر بلند و مرتفع چیز, شرف و عظمت , کہا جاتا ہے: اعلى اللہ کعبہم اللہ ان کی شان
کو بلند کرے , و ذہب کعبہم یعنی ان کی عزت تباہ ہوگئی, و رجل عالی الکعب بلند
مرتبہ آدمی, مربع جسم, ہڈیوں کا جوڑ, قدم کے اوپر ابھری ہوئی ہڈی , ٹخنہ ج کعاب,
کعوب و اکعب
عرقوب:کونچ, ایڑی کے اوپر کا پٹھا, وادی کا موڑ,
گھماؤ, , تنگ پہاڑی راستہ, حیلہ, ج
عراقیب, عراقیب الامور : مشکل کام,
مواعیدہ مواعید عرقوب , یہ مضرب المثل ہے جب کوئی وعدہ خلافی کرتا ہے تو
بولا جاتا ہے , در اصل عرقوب ایک شخص کا
نام ہے جو جھوٹ اور وعدہ خلافی میں ضرب المثل تھا۔(موقع المعانی و
مصباح اللغات)
ترجمہ: حضرت
طارق بن عبد اللہ محاربی کی روایت ہے ان کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اللہ کو ذو
المجاز بازار میں دیکھا اس حال میں کہ میں
وہاں اپنا سامان فروخت کر رہا تھا ۔راوی
کا کہنا ہے کہ آپ کا گذر ہوا اور آپ سرخ چوغہ زیب تن کیے ہوئے تھے, اور
بآواز بلند کہہ رہے تھے : اے لوگو!
لا الہ الا اللہ کہو کامیاب رہوگے , اور ایک آدمی
آپ کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے آپ کو پتھر سے مار رہا تھا , اس نے آپ کے
ٹخنوں و پٹھوں کو زخمی کردیا اور وہ کہہ رہا تھا : اے لوگو! اس کی بات مت مانو
کیونکہ یہ جھوٹا ہے ۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ان کا جواب تھا کہ یہ
بنو عبد المطلب کا لڑکا ہے ۔ پھر میں نے
سوال کیا کہ یہ کون ہے جو آپ کے پیچھے
پیچھے آپ کو پتھر سے مار رہا ہے ۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ عبد العزى یعنی ابو لہب ہے ۔
شرح:یہ مبارک
حدیث ان احادیث میں سے ایک ہے جن سے توحید
و کلمہ توحید کی اہمیت, فضیلت, افادیت, حاجت, شان و عظمت اور مقام و مرتبہ کا علم ہوتا ہے۔اس کے علاوہ اس میں اور بھی
دوسرے اہم فوائد و مسائل ہیں جن کا اختصار کے ساتھ آئندہ ذکر کیا جائے گا۔
توحید
: فلاح دارین کی گارنٹی :
درج
بالا حدیث میں نبی کریم زمانہ جاہلیت کے تین مشہور بازاروں میں سے ایک بازار
ذو المجاز میں دین حق کی دعوت دیتے ہوئے لوگوں سے کہہ رہے ہیں
کہ لا الہ الا اللہ یعنی اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے کا اقرار کرو
اور صرف اسی کی عبادت کرو تو تم کو کامیابی ملے گی ۔ یہ واقعہ مدینہ ہجرت کرنے سے پہلے کا ہے ۔
یہاں
یہ دھیان رہے کہ کلمہ توحید کو کہنے کا
مطلب صرف زبان سے اس کلمہ کا اقرار و اعتراف کرنا نہیں ہے بلکہ ساتھ ہی دل سے تصدیق بھی ضروری ہےکیونکہ ظاہر و باطن میں
مماثلت و مشابہت کا پایاجانا اور دونوں کا یکساں ہونا ضروری و لازمی ہے ۔ اگر دونوں میں یکسانیت نہیں ہے بلکہ
اختلاف ہے تو ایسا شخص ہرگز مسلمان نہیں ہے بلکہ وہ منافق ہے ۔
اسی طرح لا الہ الا اللہ کی گواہی دینے اور اس
کا اعتراف و تصدیق کرنے کے بعد عمل کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ ایمان میں عمل بھی
داخل ہے اور اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں
ہوتا ہے ۔ اسی لیے علماء کا کہنا ہے کہ ہر شخص کا ایمان کم اور زیادہ ہوتا ہے اور جو مسلمان جس
قدر و جتنا اسلام پر عمل کرتا ہے اسی قدر اس کا ایمان زیادہ ہوتا ہے اور افضل و بہتر ہوتا ہے اور جو مسلمان جس قدر یا
جتنا اسلام پر عمل نہیں کرتا ہے اسی کے
بقدر اس کا ایمان کم ہوتا ہے اور وہ مجرم, فاسق و فاجر ہوتا ہے ۔
اور
یہ اعتراف و اقرار تینوں اقسام کی توحید:
ربوبیت, الوہیت و اسماء و صفات کو شامل ہے جن کی تعریف اس شمارہ کے پہلے باب میں دیکھ سکتے ہیں ۔اسی طرح اس کی
عظمت, فضیلت, اہمیت, افادیت, مقام و مرتبہ وغیرہ کو بھی اسی شمارہ کے مختلف مضامین
میں مطالعہ کرسکتے ہیں ۔ لہذا ان سب کو یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔بس
یہاں اتنا ذکر کردینا کافی ہے جیسا کہ حدیث میں آپ نے خبر دی ہے کہ تفلحوا یعنی کلمہ توحید کا اقرار کرنے سے
کامیابی ملے گی ۔مطلب ہے کہ اس کلمہ توحید
کا اخلاص کے ساتھ اعتراف و اقرار اور اس
کے تقاضوں کے مطابق عمل کا میابی کی گارنٹی ہے اور یہ کامیابی دونوں دنیا کے لیے
ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے ۔ اور یہ
ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ جب عرب ایمان لائے اور اس کے تقاضوں کو پورا کیا تو
ان کو بہت ہی کم مدت میں دنیا میں زبردست
کامیابی حاصل ہوئی اور عرب و عجم ان کے تابعدار و فرماں بردار بن گئے اور ان کو
دنیا کے ایک بڑے حصے پر سیادت و قیادت ملی ۔اور آخرت میں بھی کامیابی یقینی ہے ان
شاء اللہ ۔
دعوت
توحید کا طریقہ:
ایک
اہم چیز جس پر اس حدیث سے روشنی پڑتی
ہے وہ آپ کی توحید کی دعوت دینے کا طریقہ ہے ۔ آپ نے
صرف کلمہ توحید کی دعوت نہیں دی بلکہ اس کے فائدہ کو بھی بتایا کہ اس توحید کو اپنانے و اس پر عمل کرنے سے
کامیابی ملے گی ۔بلکہ بعض دیگر روایات میں مزید فوائد کا ذکر ہے جیسے :تملکوا بہا
العرب و تدین لکم بہا العجم.... (زاد المعاد) یعنی اس سے تم عرب و عجم کے مالک بن جاؤ گے اور تم
کو ان کی قیادت و سیادت مل جائے گی اور وہ تمہارے تابع ہوجائیں گےوغیرہ ۔
تو
اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی انسان اسی
وقت کسی چیز کی طرف متوجہ ہوتا ہے, اس پر دھیان دیتا ہے , اس کو بغور سماعت کرتا
ہے , اس کا دل و دماغ اس سے مطمئن ہوتا ہے اور اس کو قبول کرنے و اپنانے کے لیے تیار ہوتا
ہے جب وہ اس کے فائدہ کو جانتا ہے ۔مان لیجیے کہ
اگر کسی انسان کو کسی انتہائی اہم
چیز کی دعوت دی جاتی ہے لیکن اس کے فوائد کو اجاگر نہیں کیا جاتا ہے۔ تو وہ
اس کی طرف توجہ نہیں دے گاقبول کرنا تو دور کی بات
ہے ۔
لہذا
ایک داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ جب بھی کسی چھوٹی یا بڑی , معمولی یا عظیم چیز کی کسی کو دعوت تو اس کے فوائد کو
ضرور بتائے اور اس کے منافع کو واضح کرے اور اس کے مضرات و
نقصانات سے آگاہ کرے تاکہ اس کی دعوت
زیادہ سود مند و نفع بخش ہو اور اس کے بہتر نتائج برآمد ہوں ۔
ایک
شبہ و اس کا ازالہ :
یہاں
ایک شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے
صرف" لا الہ الا اللہ" کی دعوت کیوں دی اور صرف اس کا اعتراف کرنے کو کیوں کہا ؟آپ نے محمد رسول
اللہ کی تبلیغ ساتھ میں کیوں نہیں کی ؟
تو
اس کا جواب یہ ہے کہ جب کوئی شخص آپ کے
بتائے ہوئے طریقے کے مطابق" لا الہ الا اللہ " کا اعتراف کرے گا تو وہ
یقینی و خود کار طور پر محمد رسول اللہ کا
بھی اعتراف کرے گا ۔یعنی پہلے کا اعتراف
دوسرے کے اعتراف کو مستلزم ہے ۔
علاوہ
ازیں آپ اللہ کے رسول اور اس کے بندے تھے
اور بلا شبہ اللہ کا حق رسول کے حق سے پہلے ہوتا ہے , لہذا پہلے اللہ کی طرف دعوت دینا ضروری ہے, پہلے اس کی تعریف اور اس کی ذات, اسماء و صفات سے لوگوں کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔ اس لیے آپ
نے پہلے صرف لا الہ کی دعوت دی اور اس کی
طرف لوگوں کو متوجہ کیا ۔
اس
کا تیسرا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ کفار یہ
جاننے کے باوجود کہ آپ رسول برحق, صادق و
امین ہیں آپ کو رسول ماننے کے لیے تیار نہیں تھے, اور اس سے وہ بھڑک جاتے تھے لہذا
آپ نے ایک بھرے بازار و مجمع میں اس کا اعلان مناسب نہیں سمجھا ۔ اور اس کی واضح و
صریح دلیل صلح حدیبیہ کا واقعہ ہےجو بعد
نبوت ایک طویل عرصہ گذرنے کے بعد 6ھ میں پیش آیا
یعنی آپ کی بعثت کو تقریبا 19/سال
ہوچکے تھے۔اس کے باوجود جب صلح نامہ
پر محمد رسول اللہ لکھا گیا تو کفار مکہ
نے کہا کہ ہم آپ کو رسول نہیں تسلیم کرتے ہیں ۔ اگر ہم آپ کو رسول تسلیم کرتے تو
پھر ہمارے اور آپ کے درمیان جھگڑا نہیں ہوتا آپ باسمک اللہم لکھیے ۔ لہذا آپ کے حکم سے رسول اللہ کا لفظ مٹایا
گیا بلکہ آپ نے خود مٹایا اور باسمک اللہم لکھا گیا ۔جب کہ اس کے برعکس وہ اللہ کو اپنا رب مانتے تھے , اس کو اپنا رازق, خالق و مالک وغیرہ تسلیم کرتے تھے جیسا کہ قرآن میں اس کا ذکر متعدد آیات میں
موجود ہے لیکن ان کا اپنا طریقہ تھا جس پر
وہ کاربند تھے ۔اس کا مطلب ہے کہ وہ اللہ پر ایمان رکھتے تھے اور اس کی ذات سے
وہ اپنے
طریقہ پر واقف تھے ۔
چنانچہ
پہلے اللہ کی طرف دعوت دینا اور اس کے
بارے میں سمجھانا اور قائل کرنا زیادہ
آسان و سہل تھا اس لیے آپ نے اسی سے آغاز
کیا ۔اب اگر وہ رسول اللہ کے مطابق اللہ پر ایمان لے آتے ہیں توآپ
پر ضرور ایمان لے آئیں گے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ۔
دعوت
و تبلیغ , ہدایت و رہنمائی کا شدید جذبہ :
ایک
اور اہم چیز جس کا اس حدیث سے پتہ چلتا ہے وہ
آپ کا دعوت و تبلیغ اور
انسانیت کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ازحد
متفکر ہونا,اس کی بابت بہت زیادہ سوچنا
اور ان کے ایمان نہ لانے پر انتہائی رنج و
غم میں مبتلا ہونا ہے,نیز دعوت
کے لیے زمانہ کے مطابق ہرقسم کے دعوتی
وسائل و ذرائع کو استعمال کرنا اور
اس کی راہ میں ہر طرح کی مشقت و پریشانی کو جھیلنا ہے اوراس پر صبر کرنا ہے ۔
تصور
کیجیے کہ آپ کو انسانیت کی ہدایت و رہنمائی کی
کس قدر فکر تھی اور دعوت و تبلیغ کی کتنی شدید خواہش ,شوق , تڑپ ,
لگن اور سچا جذبہ تھا کہ دشمنوں کی
طرف سے بارہا نشانہ بنانے اور ستائے جانے کے باوجود بازاروں, گھاٹیوں ,
وادیوں, بستیوں و محلوں وغیرہ
میں جاکر لوگوں سے ملاقات کرتے , علانیہ طور پر دین حق کی دعوت دیتے اور
اللہ کی طرف بلاتے تھے ۔ اس حدیث میں جس بازار کا ذکر ہوا ہے وہ ذو المجاز ہے جو
منی کے قریب واقع ہے , جہاں موسم حج میں بہت بڑا بازار لگتا تھا اور پورے جزیرہ
عرب سے لوگ اس میں شریک ہوتے تھے اور
انسانوں کا بہت بڑا مجمع ہوتا تھا ۔ یہ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد تک دعوت کو
پہنچانے کا ایک بہت زریں و سنہری موقع ہوتا تھا
اور آپ کے لیے اس موقع کو ضائع کردینا کسی طرح ممکن نہیں تھا ۔لہذا
کسی مصیبت و پریشانی کی پرواہ کیے ہوئے
بغیر آپ موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اس
بازار میں تشریف لے گئے اور لوگوں کو دین
حق کی دعوت دی ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ ابو لہب جو رشتہ میں آپ کا چچا
تھا لیکن دعوت اسلام و رسول برحق کا کٹر و جانی دشمن تھا ۔ وہ آپ کے پیچھے پیچھے
چل رہا تھا , لوگوں کو آپ کی بات سننے سے
روک رہا تھا , آپ پر بددین اور جھوٹا ہونے کا الزام لگاتے ہوئے آپ کی اطاعت
سے منع کرر رہا تھا ۔لیکن اس بد بخت
نے اسی پر کفایت نہیں کی بلکہ وہ آپ کو پتھر سے ما ررہا تھا ۔ راوی کا کہنا ہے کہ اس نے پتھر مار مار کے آپ
کے مبارک پیروں کو زخمی کردیا جن سے خون بہہ رہا تھا لیکن ان سب کے کے باوجود آپ دعوت و تبلیغ , ہدایت و رہنمائی
سے باز نہیں آئے , آپ کی ہمت و عزیمت نے جواب نہیں دیا بلکہ
آپ جمے و ڈتے رہے ۔اسی سے آپ میں انسانیت
کی فلاح و بہبود کے لیے شدید تڑپ , دھن ,
لگن و جذبہ کا پتہ چلتا ہے ۔ یہ
بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انتہائی فکر مند تھےاور اس کے لیے رنج و غم میں مبتلا رہتے تھے اور اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کی خاطر ہر قسم کی جسمانی, معنوی , ظاہری و باطنی
مشقتوں و پریشانیوں کو جھیلنے کے لیے ہمیشہ تیار
رہتے تھے ۔ یقینا آپ ہمیشہ سب کی بھلائی چاہتے تھے ,کبھی کسی کی
برائی کے بارے میں سوچا تک نہیں ۔ سچ ہے کہ آپ واقعتا رحمۃ للعالمین ہیں اور آپ جیسا دنیا میں کوئی نہیں ہے ۔
اللہ
تعالى نے آپ کے اس تڑپ , شوق و جذبہ کا ذکر کلام پاک میں خود کیا ہے ۔ فرمان الہی ہے: فلعلک باخع نفسک على
آثارھم ان لم یؤمنوا بہذا الحدیث اسفا(کہف/6) شاید آپ ان کے
پیچھے غم کے مارے اپنی جان ہلاک کردیں گے
اگر یہ اس بات پر ایمان نہ لائے ۔ ایک دوسری آیت میں ہے: لعلک باخع نفسک الا
یکونوا مؤمنین (شعراء/3) شاید آپ
اپنی جان ہلاک کردیں گے اگر وہ ایمان نہیں لاتے ہیں ۔
کفار
کے ایمان لانے کی جتنی شدید خواہش آپ رکھتے تھے اور ان کے ایمان نہ لانے سے جو سخت
تکلیف ہوتی تھی ,آپ کو انسانیت سے جو سچی
ہمدردی اور ان کی ہدایت کے لیے جو سخت
تڑپ تھی , ان آیتوں میں آپ کی اسی
کیفیت, حالت اور جذبے کا اظہار ہے۔ بلا
شبہ آپ لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اس
قدر فکر مند اور پریشان رہتے تھے اور برابر
رنج و الم , غم و حزن میں ڈوبے رہتے
تھے کہ لگتا تھا کہ آپ اسی سے ہلاک
ہوجائیں گے ۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ حقیقی و صادق رسول تھے ۔
بلا
شبہ یہی جذبہ, خواہش و تڑپ صحابہ کرام اور
قرون اولى کے با عمل مسلمانوں میں تھا جس
سے اسلام دنیا کے ایک بڑے خطے میں پھیل گیا اور بہت زیادہ تعداد میں لوگ دین میں
داخل ہوئے لیکن بعد کے ادوار میں جس قدر مسلمان دین سے دور ہوتے گئے, ان کے اندر عمل میں کمی آتی گئی اور بے عملی بڑھتی گئی اسی قدر ان کے اندر یہ شوق و جذبہ سرد پڑتا گیا اور اسلام کی نشر و اشاعت
بھی کم ہوتی گئی ۔ میرا ماننا ہے کہ اگر آج بھی مسلمانوں میں دعوت و تبلیغ کے بارے
میں قرون اولى کے مسلمانوں جیسا جذبہ و شوق , دھن و لگن پیدا ہوجائے اور وہ
باعمل بن جائیں اور اپنے کردار سے اسلام کی تعلیم دیں تو لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوں گےاور کافروں کی تعداد میں کافی کمی واقع
ہوسکتی ہے ۔تاریخ اس پر شاہد عدل ہے کیونکہ پہلی صدی ہجری کے آخر تک مسلمان جہاں کہیں بھی گئے وہاں کے تقریبا
تمام باشندوں نے اسلام کو قبول کرلیا اور مسلمانوں کی زبان ,
تہذیب وثقافت کو اپنا لیا لیکن اس کے بعد
کے اداوار میں یہ چیز مفقود نظر آتی ہے اور یہ اثرات نہیں پائے جاتے ہیں ۔
اس
حدیث سےبازاروں , میلوں و ٹھیلوں میں دعوت و تبلیغ کرنے نیز بیع و شراء , خرید و فروخت اور اس کے لیے جد و
جہد , بھاگ دوڑ کرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔روزی کمانے کی فضیلت کا علم ہوتا ہے
اور اس کے لیے کوئی بھی جائز وسیلہ اختیار کیا جا سکتا ہے ۔
دعوت
دین : راہ مشقت و پریشانی :
اس
سے یہ بھی علم ہوتا ہے کہ دنیا کے کسی بھی
زمانہ و علاقہ میں, کسی بھی خطہ اور گوشہ میں کسی بھی داعی کے لیے
برحق دین کی دعوت دینا, اس کی
تبلیغ کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا
آسان اور سہل کام نہیں ہے بلکہ یہ
ایک بہت ہی مشکل و خطرناک عمل ہے, نوع بنوع
مشقت و پریشانی, تکلیف و رنج اٹھانے
کا کام ہے جس کے لیے جان کی قربانی بھی دینی پڑ سکتی ہے ۔ یہ بھی دھیان رہے
کہ دعوت دین حق کی مخالفت و مزاحمت صرف دشمن یا
بیگانے ہی نہیں بلکہ اپنے بہت ہی
قریبی دوست و رشتہ دار بھی کرتے ہیں جو
داعی کے شب و روز سے واقف ہوتے ہیں اور داعی نے جن کے درمیان اپنی پوری زندگی
گذاری ہوتی ہے۔ اور جب حق کی مخالفت و دشمنی پنے اعزہ و اقرباء کرتے ہیں تو تکلیف و مشقت اور زیادہ ہوتی ہے۔ ایک عربی شاعر کہتا
ہے:
و ظلم ذوی القربی اشد مضاضۃ **** على
النفس من وقع الحسام المہند
قرابتداروں کا ظلم نفس پر تیز ہندوستانی تلوار کے وار سے زیادہ
تکلیف دہ ہوتی ہے ۔
اور
یہ مشقت و پریشانی ,تکلیف و مصیبت صرف جسمانی
و بدنی نہیں ہوتی ہے بلکہ روحانی و
معنوی بھی ہوتی ہے۔ داعی پر طرح
طرح کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں اور اس کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جیسا
کہ آپ کے ساتھ کیا گیا ۔ عوام کو اس کے
بارے میں غلط جانکاری دی جاتی ہے اور ان کو بہلایا و پھسلایا جاتا ہے ۔
خلاصہ
کلام یہ ہے کہ اس حدیث سے جہاں ایک طرف اقرار توحید کی اہمیت و فضیلت, شان و عظمت,
مقام و مرتبہ کا علم ہوتا ہے , اور یہ پتہ
چلتا ہے کہ وہ فلاح دارین کی ضمانت اور گارنٹی ہے وہیں دوسری طرف اس سے دعوت و
تبلیغ کا طریقہ , اس کے لیے محنت و جد و جہد کرنے اور مشقت و پریشانی جھیلنے وغیرہ کا بھی علم ہوتا ہے ۔
اللہ
تعالى سے دعا ہے کہ وہ دنیا کے ہر داعی کو حق بات کہنے, اس کی دعوت دینے اور راہ
حق کی بابت ہر مصیبت و پریشانی کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
0 التعليقات: