ماہ شعبان كى اہمىت و فضىلت

 

ماہ شعبان كى اہمىت و فضىلت

 ابو مىمونہ

حديث: عن اسامة بن زيد قال: قلتُ :  يا رسولَ اللَّهِ، لم أَرَك تَصومُ شَهْرًا منَ الشُّهورِ ما تصومُ من شعبانَ؟ قال: ذلِكَ شَهْرٌ يَغفُلُ النَّاسُ عنهُ بينَ رجبٍ ورمضانَ، وَهوَ شَهْرٌ تُرفَعُ فيهِ الأعمالُ إلى ربِّ العالمينَ، فأحبُّ أن يُرفَعَ عمَلي وأَنا صائمٌ

تخرىج: نسائى/2357 ، الفاظ نسائى كے ہىں ، احمد/21753، صحىح نسائى مىں علامہ البانى نے اس كو حسن قرار دىا ہے۔

ترجمہ:حضرت اسامہ بن زىد كى رواىت ہے ان كا كہنا ہے كہ مىں نے آپ سے عرض كىا : اے رسول اللہ ﷺ  مىں نے جس قدر ماہ شعبان مىں آپ كو روزہ ركھتے ہوئے دىكھا ہے اس قدر كسى اور مہىنے مىں نہىں دىكھا ہے ۔ نبی کریم ﷺ  نے جواب دىا كہ  رجب اور رمضان کے درمیان اس مہینے سے لوگ غافل ہوتے ہیں حالانکہ اس مہینے میں رب العالمین کے سامنے اعمال پیش کئے جاتے ہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ جب میرے اعمال پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔ 

شرح:

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم رسولِ اللہ ﷺ کی عبادات، معاملات بلکہ آپ کی پوری زندگی پر گہری نظر رکھتے تھے، اور انہی میں سے ایک چىز  آپ ﷺ کے روزوں کی نگرانی بھی تھی، خواہ وہ فرض ہوں یا نفل، تاکہ وہ آپ ﷺ سے سیکھ سکیں۔

اس حدیث میں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو کسی بھی مہینے میں اتنے نفلی روزے رکھتے نہیں دیکھتا جتنے آپ ﷺ شعبان میں رکھتے ہیں؟ یعنی آپ سال کے کسی اور مہینے کے مقابلے میں شعبان میں زیادہ نفلی روزے رکھتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شعبان میں روزے رکھنے کے بارے میں صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت وارد ہے، وہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے روزے رکھتے کہ ہم کہتے: اب آپ افطار ہی نہیں کریں گے، اور اتنا افطار کرتے کہ ہم کہتے: اب آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے علاوہ کسی اور مہینے کے پورے روزے رکھتے نہیں دیکھا، اور میں نے آپ کو شعبان کے علاوہ کسی اور مہینے میں اتنے زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا۔

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے روزوں کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: یہ ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غافل رہتے ہیں، جو رجب اور رمضان کے درمیان واقع ہے۔ یعنی لوگ ان دونوں مہینوں میں عبادت کی کثرت کی وجہ سے اس مہینے سے غفلت برتتے ہیں۔ اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں اعمال رب العالمین کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں۔ یعنی بنی آدم کے تمام اعمال، چاہے خیر ہوں یا شر، اطاعت ہوں یا معصیت، اللہ رب العالمین کے حضور پیش کیے جاتے ہیں۔ اس لیے مناسب ہے کہ اس مہینے میں اعمال صالح ہوں۔ اور میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس حال میں پىش كىا جائے  کہ میں روزے سے ہوں۔ یعنی كىونكہ  روزہ اللہ کے نزدیک اس كے بندوں كے  بہترین و افضل  عبادات میں سے ہے، یا یہ کہ نیک اعمال کے ساتھ روزہ شامل ہو جائے تو ان کا مرتبہ بلند ہو جاتا ہے اور ان کا خلوص اللہ عزوجل کے لیے ثابت ہوجاتا ہے۔(موقع الدرر السنىة، الموسوعة الحدىثىة، مذكورہ حدىث كى شرح)

گوىا كہ آپ ہر مسلمان سے ىہ كہنا چاہتے ہىں  : اے مسلم! تمہارے لیے یہ مناسب نہیں کہ تم اللہ سے غافل ہو جاؤ اُس وقت جب لوگ غفلت میں ہوں، بلکہ لازم ہے کہ تم اپنے ربّ — سبحانہ وتعالیٰ — کے لیے ہمیشہ بیدار اور ہوشیار رہو، غافل نہ بنو۔ تم لوگوں کے بھاگنے کے وقت اللہ کی طرف بڑھنے والے ہو، تم   اُن کے بخل اور حرص كى حالت  میں صدقہ کرنے والے ہو، تم اُن کے سونے کے وقت قیام کرنے والے ہو، تم لوگوں کی دوری اور غفلت کے عالم میں اللہ کا ذکر کرنے والے ہو، اور تم اُن کے نماز ضائع کرنے کے وقت اپنی نماز کی حفاظت کرنے والے ہو۔

ہمارے نبی کریم ﷺ اپنے اس ارشاد کے ذریعے تمام لوگوں کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ لوگوں کی غفلت کے اوقات کو اطاعتِ الٰہی سے آباد کرنا کتنی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی طریقہ ہمارے سلفِ صالحین کا تھا؛ چنانچہ وہ عشاء اور فجر کے درمیان کے وقت کو نماز کے ذریعے زندہ رکھنے کو پسند کرتے تھے، اور کہتے تھے: یہ وہ گھڑی ہے جس میں لوگ اللہ کی اطاعت سے غافل ہو جاتے ہیں۔(موقع : شبكة الالوكة، شعبان شهر يغفل الناس عنه،د. محمد جمعة الحلبوسي)

کہا گیا ہے کہ شعبان میں جن اعمال کے اپىش كىے  جانے کا ذکر ہے، اس سے مراد سال بھر کے اعمال ہیں۔ اور صحیحین میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے پاس رات کے اعمال دن کے اعمال سے پہلے، اور دن کے اعمال رات کے اعمال سے پہلےپىش كىے  جاتے ہیں۔ نیز ہفتے کے اعمال پیر اور جمعرات کے دن پیش کیے جاتے ہیں، جیسا کہ ابو داود اور نسائی کی روایت میں بھی آیا ہے۔ بعض اہلِ علم نے کہا ہے کہ اس میں سال بھر کے اعمال کا اجمالی طور پر پیش ہونا بھی شامل ہے، اور دنوں یا ہفتوں کے اعمال کا تفصیلی طور پر پیش ہونا بھی، یا اس کے برعکس۔ گویا اعمال بار بار مختلف انداز سے پیش کیے جاتے ہیں، اور ہر پیشی میں ایک حکمت ہے، جسے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے ظاہر فرماتا ہے، یا اپنے پاس ہی محفوظ رکھتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ پر بندوں  كا كوئى بھى عمل مخفی نہیں ہوتا ہے ۔

اور اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ماہِ شعبان ان مہینوں میں سے ہے جن میں روزہ رکھنے کی خاص ترغیب دی گئی ہے۔(موقع الدرر السنىة ,  الموسوعة الحديثية, مذكورہ حدىث كى شرح  )

شرح كے بعد اس حدىث كى مناسبت سے  ماہ شعبان سے متعلق  چند مزىد اہم  مسائل  ىہاں درج كىے  جا رہے ہىں تاكہ موضوع  اور زىادہ واضح و مكمل ہوجائے اور اس كے مختلف پہلو اجاگر ہوجائىں۔

ماہِ شعبان کا یہ نام کیوں رکھا گیا؟

شعبان ایک مہینے کا نام ہے، اور اسے یہ نام اس لیے دیا گیا کہ عرب اس مہینے میں پانی کی تلاش کے لیے مختلف سمتوں میں پھیل جایا کرتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس مہینے میں حملوں  کے لیے منتشر ہوتے تھے، اور ایک قول یہ ہے کہ یہ مہینہ رجب اور رمضان کے درمیان ظاہر ہوتا ہے (یعنی شاخ کی طرح نکلتا ہے)، اسی وجہ سے اسے شعبان کہا گیا۔ اس کی جمع شعبانات اور شعابین آتی ہے۔(موقع : الاسلام سؤال و جواب، المقالات¸فضل شہر شعبان، 24-1-2018)

شعبان میں روزہ رکھنا:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:رسول اللہ ﷺ اتنے روزے رکھتے کہ ہم کہتے: آپ افطار ہی نہیں کریں گے، اور اتنا افطار کرتے کہ ہم کہتے: آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔ اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو رمضان کے علاوہ کسی اور مہینے کے پورے روزے رکھتے نہیں دیکھا، اور میں نے آپ کو شعبان کے علاوہ کسی اور مہینے میں اتنے زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا۔(بخاری: 1833، مسلم: 1956)

اور مسلم ہی کی ایک روایت (1957) میں ہے:آپ پورا شعبان روزہ رکھتے تھے، یعنی شعبان میں بہت کم دن روزہ  چھوڑتے تھے۔

علماء کی ایک جماعت ، جن میں امام ابن المبارک وغیرہ شامل ہیں، نے اس بات كو راجح قرار دىا ہے  کہ نبی ﷺ نے شعبان کے پورے روزے نہیں رکھے، بلکہ اس کے اکثر دنوں میں روزہ رکھا۔ اس کی تائید صحیح مسلم (1954) کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے ہوتی ہے، وہ فرماتی ہیں: ما علمته - تعني النبي صلى الله عليه وسلم - صام شهراً كله إلا رمضان: میں نہیں جانتی کہ نبی ﷺ نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں۔

اور مسلم ہی کی ایک اور روایت (1955) میں حضرت عائشہ سے مروى  ہے: ما رأيته صام شهراً كاملاً منذ قدم المدينة إلا أن يكون رمضانمیں نے نبی ﷺ کو مدینہ تشریف لانے کے بعد رمضان کے سوا کسی مہینے کے مکمل روزے رکھتے نہیں دیکھا۔

صحیحین میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ما صام رسول الله صلى الله عليه وسلم شهراً كاملاً غير رمضان. کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے سوا کسی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے۔(بخاری: 1971، مسلم: 1157) اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ رمضان کے علاوہ پورا مہینہ روزہ رکھنے کو ناپسند کرتے تھے۔

حضرت ابنِ حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:نبی کریم ﷺ کا شعبان میں نفلى  روزہ رکھنا دوسرے مہینوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا تھا، بلکہ آپ ﷺ شعبان کے اکثر دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے۔(موقع : الاسلام سؤال و جواب، المقالات¸فضل شہر شعبان، 24-1-2018)

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو کسی مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھتا جتنے آپ شعبان میں رکھتے ہیں؟

آپ ﷺ نے جواب دىا :"یہ وہ مہینہ ہے جس  مىں لوگ اس سے  غافل رہتے ہیں، جو رجب اور رمضان کے درمیان ہے، اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں اعمال رب العالمین کے حضور پىش كىے  جاتے ہیں، اور میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس حال میں پیش کیا جائے کہ میں روزے سے ہوں۔"(نسائی، صحیح الترغیب والترہیب: ص 425)

اور ابو داود (2076) کی روایت میں ہے:رسول اللہ ﷺ کو شعبان مىں روزہ ركھنا  سب سے زیادہ پسندیدہ تھا، پھر آپ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے۔(اسے امام البانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے،صحیح سنن ابی داود: 2/461)

امام ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

شعبان کا روزہ حرمت والے مہینوں کے روزوں سے افضل ہے، اور سب سے بہترین نفلی روزہ وہ ہے جو رمضان کے قریب ہو، خواہ رمضان سے پہلے ہو یا بعد میں۔  اور روزوں میں اس کی حیثیت فرض نمازوں سے پہلے اور بعد والی سنتوں کی طرح ہے جن  سے فرض نمازوں کی کمی پوری ہوتى  ہے۔ اسی طرح رمضان سے پہلے اور بعد کے روزے بھی رمضان کی کمی کی تلافی کرتے ہیں۔ جس طرح سننِ رواتب عام نفلی نماز سے افضل ہیں، اسی طرح رمضان سے پہلے اور بعد کے روزے بھی دور کے نفلی روزوں سے افضل ہیں۔

نبی ﷺ کا فرمان:"شعبان وہ مہینہ ہے جس سے لوگ رجب اور رمضان کے درمیان غافل رہتے ہیں"
اس  بات كى طرف اشارہ کرتا ہے کہ چونکہ یہ دو عظیم مہینوں سے گھرا ہوا ہے —ایک حرمت والا مہینہ اور دوسرا روزوں کا مہینہ—اس لیے لوگ انہی میں مشغول ہو جاتے ہیں اور شعبان سے غفلت برتتے ہیں۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ رجب کا روزہ شعبان سے افضل ہے کیونکہ رجب حرمت والا مہینہ ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔(موقع : الاسلام سؤال و جواب، المقالات¸فضل شہر شعبان، 24-1-2018)

غفلت کے وقت عبادت کی فضیلت:

    گزشتہ حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بعض اوقات جن زمانوں، مقامات یا اشخاص کی فضیلت مشہور ہو جاتی ہے، ممکن ہے کہ ان کے علاوہ کوئی اور وقت یا حالت اس سے بھی زیادہ افضل ہو۔ اس حدیث میں اس بات کی دلیل بھی ہے کہ لوگوں کی غفلت کے اوقات کو اطاعت و عبادت سے آباد کرنا مستحب ہے۔ اسی بنا پر سلف صالحین میں سے ایک جماعت مغرب اور عشاء کے درمیان نماز کے ذریعے عبادت کو پسند کرتی تھی اور کہا کرتی تھی کہ یہ غفلت کا وقت ہے۔ اسی طرح بازار میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا بھی مستحب ہے، کیونکہ یہ اہلِ غفلت کے درمیان، غفلت کی جگہ میں کیا جانے والا ذکر ہے۔

غفلت کے اوقات کو عبادت سے زندہ رکھنے کے کئی فائدے ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں:

1-اس میں عمل زیادہ پوشیدہ ہوتا ہے، اور نفل عبادات کو چھپا کر ادا کرنا افضل ہے، خصوصاً روزہ، کیونکہ وہ بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک راز ہوتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ روزے میں ریاکاری نہیں ہوتی۔ بعض سلف کئی سال تک مسلسل روزے رکھتے تھے مگر کسی کو خبر نہ ہوتی۔ وہ گھر سے بازار جاتے، اپنے ساتھ دو روٹیاں لے جاتے، انہیں صدقہ کر دیتے اور خود روزہ رکھتے۔ گھر والے سمجھتے کہ انہوں نے وہ روٹیاں کھا لیں اور بازار والے سمجھتے کہ انہوں نے گھر میں کھانا کھا لیا۔

سلف صالحین روزہ رکھنے والے کے لیے یہ بھی پسند کرتے تھے کہ وہ اپنے روزے کو كسى چىز سے  چھپانے کا اہتمام کرے۔ چنانچہ حضرت ابنِ مسعودؓ سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا:“جب تم روزے کی حالت میں صبح کرو تو تیل لگائے ہوئے نظر آؤ۔ اور قتادہ رحمہ اللہ کہتے تھے:"روزہ دار کے لیے مستحب ہے کہ وہ تیل لگائے تاکہ روزے کی خشکی اور گرد اس سے دور ہو جائے۔"(موقع : الاسلام سؤال و جواب، المقالات¸فضل شہر شعبان)

     2-اسى طرح غفلت کے اوقات میں نیک عمل کرنا نفس پر زیادہ بھاری ہوتا ہے، اور اعمال کی ا فضیلت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ نفس پر بھارى و  دشوار ہوں۔ کیونکہ جب کسی عمل میں شریک ہونے والے زیادہ ہوں تو وہ آسان ہو جاتا ہے، اور جب غفلت عام ہو تو بیدار لوگوں پر عمل کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔
صحیح مسلم (2984) میں حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"
فتنوں کے زمانے میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کے برابر ہے۔"یعنی فتنوں کے وقت عبادت اس لیے عظیم ہے کہ لوگ اپنی خواہشات کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور حق پر قائم رہنے والا شخص ایک مشکل کام انجام دیتا ہے۔

ماہِ شعبان میں نبی ﷺ کے زیادہ روزے رکھنے کی وجہ:

اہلِ علم نے نبی کریم ﷺ کے شعبان میں زیادہ روزے رکھنے کی کئی وجوہات بیان کی ہیں:

(1) آپ ﷺ کبھی سفر یا کسی اور وجہ سے ہر مہینے کے تین روزے نہ رکھ پاتے، تو وہ جمع ہو جاتے اور آپ شعبان میں ان کی قضا کرتے۔ اور نبی ﷺ کا معمول تھا کہ جب کوئی نفل عبادت شروع کرتے تو اسے برقرار رکھتے، اور اگر کبھی چھوٹ جاتی تو اس کی قضا کرتے تھے۔

(2) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ نبی ﷺ کی ازواجِ مطہرات رمضان کے جو روزے ان پر باقی ہوتے تھے وہ شعبان میں قضا کرتی تھیں، اسی وجہ سے آپ ﷺ بھی اس مہینے میں روزہ رکھتے تھے۔لیکن یہ بات اس روایت کے خلاف ہے جو حضرت عائشہؓ سے منقول ہے کہ وہ رمضان کے قضا روزے شعبان تک مؤخر کر دیا کرتی تھیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مصروفیت کی وجہ سے وہ روزہ نہ رکھ پاتی تھیں۔

 (3) اور ىہ بھى كہا گىا ہے  کہ شعبان وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل رہتے ہیں۔ اور یہی قول زیادہ راجح ہے، جیسا کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے:"یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ رجب اور رمضان کے درمیان غافل رہتے ہیں۔"(نسائی، صحیح الترغیب والترہیب: ص 425) (موقع : الاسلام سؤال و جواب، المقالات¸فضل شہر شعبان، 24-1-2018)

شعبان میں فرض روزوں کی قضا اور نفلی روزےركھنا:

اگر شعبان شروع ہونے پر نبی ﷺ کے ذمہ نفلی روزے باقی ہوتے تو آپ انہیں شعبان ہی میں ادا فرما لیتے، تاکہ رمضان سے پہلے اپنے نفلی روزے مکمل کر لیں، جیسا کہ اگر نماز کی سنن یا تہجد فوت ہو جاتی تو اس کی بھی قضا کرتے تھے۔ اسی موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی آپ کے نفلی روزوں کی قضا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رمضان کے فرض روزوں کی قضا کر لیا کرتی تھیں، کیونکہ وہ حیض کی وجہ سے رمضان میں روزہ نہ رکھ پاتی تھیں، جب كہ دوسرے مہینوں میں  وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت مىں مصروف ہوتى تھىں جس كى وجہ سے روزہ نہىں ركھ پاتى  تھىں ۔(موقع : الاسلام سؤال و جواب، المقالات¸فضل شہر شعبان، 24-1-2018)

اس بات پر توجہ ضروری ہے کہ جس شخص کے ذمہ پچھلے رمضان کے روزے باقی ہوں، اس پر لازم ہے کہ آنے والے رمضان سے پہلے پہلے ان کی قضا کر لے۔ بغیر کسی عذر کے اگلے رمضان تک مؤخر کرنا جائز نہیں۔ ہاں، اگر کوئی مستقل عذر ہو (مثلاً دونوں رمضانوں کے درمیان مسلسل بیماری)، تو تاخیر کی گنجائش ہے۔ اور جو شخص قضا پر قادر ہونے کے باوجود رمضان آنے تک قضا نہ کرے، تو اس پر قضا کے ساتھ توبہ لازم ہے، اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانا بھی واجب ہے۔ یہ امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔

شعبان کے آخری ایام میں روزہ:

حضرت عمران بن حصینؓ سے صحیحین (بخاری و مسلم) میں روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص سے پوچھا:’’کیا تم نے اس مہینے کے سِرار (آخری دنوں) میں کچھ روزے رکھے ہیں؟‘‘

اس نے جواب دىا : نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم افطار کرو تو دو دن کے روزے رکھ لینا۔‘‘

اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: میرا گمان ہے کہ اس سے رمضان مراد ہے۔جبکہ مسلم کی روایت میں ہے: ’’کیا تم نے شعبان کے سِرار میں کچھ روزے رکھے ہیں؟‘‘( بخاری (4/200) اور مسلم (حدیث نمبر: 1161) ۔

سرار کی تفسیر میں اختلاف ہے، لیکن مشہور یہی ہے کہ اس سے مراد مہینے کے آخری دن ہیں۔ اسے سرار اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان دنوں میں چاند چھپ جاتا ہے۔ لفظ سرار سین کے کسرہ اور فتحہ دونوں کے ساتھ آتا ہے، اگرچہ فتحہ زیادہ فصیح ہے۔(موقع : الاسلام سؤال و جواب، المقالات¸فضل شہر شعبان، 24-1-2018)

اگر کوئی یہ کہے کہ صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
"
رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، الا یہ کہ کسی کا معمول  كا روزہ ہو تو وہ رکھ سکتا ہے۔"(بخاری: 1983، مسلم: 1082)

تو پھر ترغیب والی حدیث اور ممانعت والی حدیث میں تطبیق کیسے دی جائے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ بہت سے علماء اور اکثر شارحینِ حدیث کے نزدیک وہ شخص جس سے نبی ﷺ نے سوال کیا تھا، آپ ﷺ جانتے تھے کہ اس کا معمول تھا کہ وہ اس وقت روزہ رکھتا ہے، یا اس نے نذر مانی تھی، اسی لیے آپ ﷺ نے اسے روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ اس مسئلے میں دیگر اقوال بھی ذکر کیے گئے ہیں۔

شعبان کے آخری ایام میں روزہ رکھنے کی تین حالتیں:

. خلاصۂ کلام یہ ہے کہ شعبان کے آخری ایام میں روزہ رکھنے کی تین حالتیں ہیں:

(1) اگر رمضان کے آنے کے احتمال اور احتیاط کے طور پر رمضان کی نیت سے روزہ رکھا جائے، تو یہ حرام ہے۔

(2) اگر نذر، رمضان کے قضا روزے، یا کفارے وغیرہ کی نیت سے روزہ رکھا جائے، تو جمہور علماء نے اسے جائز قرار دیا ہے۔

(3) اگر مطلق نفلی روزے کی نیت سے رکھا جائے، تو ان علماء کے نزدیک مکروہ ہے جنہوں نے شعبان اور رمضان کے درمیان افطار کے ذریعے فصل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان میں حسن بصری رحمہ اللہ بھی شامل ہیں، اگرچہ وہ ایسے روزے کو بھی مکروہ کہتے تھے جو آدمی کی عادت کے مطابق ہو۔ جبکہ امام مالک رحمہ اللہ اور ان کے موافقین نے اس کی اجازت دی ہے۔ امام شافعی، امام اوزاعی، امام احمد اور دیگر ائمہ نے اس میں تفصیل کی ہے کہ اگر وہ روزہ انسان کی عادت کے مطابق ہو تو جائز ہے، اور اگر عادت کے مطابق نہ ہو تو مكروہ ہے۔

خلاصہ یہ کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث پر بہت سے علماء كا عمل  ہے، اور ان کے نزدیک اس شخص کے لیے رمضان سے ایک یا دو دن پہلے نفلی روزہ رکھنا مکروہ ہے جس کی پہلے سے روزہ رکھنے کی عادت نہ ہو، اور جس نے شعبان میں اس سے پہلے اس كے آخر تك  متصل روزے نہ رکھے ہوں۔(موقع : الاسلام سؤال و جواب، المقالات¸فضل شہر شعبان، 24-1-2018)

رمضان سے فوراً پہلے روزہ مکروہ کیوں ہے؟

اگر کوئی سوال کرے کہ رمضان سے بالکل پہلے (اس شخص کے لیے جس کی پہلے سے روزے کی عادت نہ ہو) روزہ   ركھنا مکروہ کیوں ہے؟ پس اس کا جواب یہ ہے کہ اس كے كئى اسباب ہىں ، جن میں سے  چند ىہ ہىں :

پہلا سبب:تاکہ رمضان کے روزوں میں کوئی ایسی چیز شامل نہ کر دی جائے جو اس میں سے نہیں ہے اور اس مىں اضافہ  و زىادتى ہوجائے ، جیسا کہ اسی معنی کی بنا پر عید کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے؛ اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہی صورت حال پیش نہ آ جائے جس میں اہلِ کتاب اپنے روزوں کے معاملے میں مبتلا ہو گئے تھے کہ انہوں نے اپنی آرا اور خواہشات کی بنیاد پر اس میں اضافہ کر لیا۔

اسی وجہ سے یومِ شک کا روزہ رکھنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ حضرت عمارؓ کہتے ہیں: جس نے یومِ شک کا روزہ رکھا اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔

یومِ شک وہ دن ہے جس میں یہ شبہ ہو کہ آیا وہ رمضان کا دن ہے یا نہیں۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جس میں ہلال دیکھے جانے کی خبر  كسى ایسے شخص کی طرف سے دی جائے جس کی گواہی قبول نہ کی گئی ہو۔رہا یومِ غیم (بادل چھایا ہوا دن) تو بعض علماء نے اسے بھی یومِ شک قرار دیا ہے اور اس کے روزے سے منع کیا ہے، اور یہی اکثر اہلِ علم کا قول ہے۔

دوسرا سبب:  فرض روزوں اور نفلی روزوں کے درمیان فرق اور فصل قائم رکھی جائے، کیونکہ فرائض اور نوافل کے درمیان فصل کرنا بذاتِ خود شریعت میں مشروع ہے۔ اسی وجہ سے عید کے دن روزہ رکھنا حرام قرار دیا گیا ہے۔
اور نبی کریم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کسی فرض نماز کو دوسری نماز کے ساتھ اس طرح ملا دیا جائے کہ ان کے درمیان سلام یا گفتگو کے ذریعے فصل نہ کی جائے۔خصوصاً فجر کی سنتیں فرض نماز سے پہلے ، جن کے بارے میں یہ مشروع ہے کہ انہیں فرض نماز سے الگ رکھا جائے؛ اسی لیے ان سنتوں کو گھر میں ادا کرنا اور ان کے بعد تھوڑی دیر لیٹنا بھی مشروع قرار دیا گیا ہے۔

اور جب نبی ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ فجر کی نماز قائم ہو چکی ہے اور وہ پھر بھی نماز پڑھ رہا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا:"کیا فجر چار رکعت ہے؟"(بخاری: 663)

اور بسا اوقات بعض جاہل لوگ یہ گمان کر لیتے ہیں کہ رمضان سے پہلے افطار (یعنی روزہ نہ رکھنے) کا مقصد کھانے پینے سے خوب فائدہ اٹھانا ہے، تاکہ نفس اپنی خواہشات کا حصہ لے لے، اس سے پہلے کہ روزے کے ذریعے اسے ان سے روک دیا جائے۔حالاں کہ یہ گمان سراسر غلط اور جہالت پر مبنی ہے۔اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔(موقع : الاسلام سؤال و جواب، المقالات¸فضل شہر شعبان، 24-1-2018)

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ دنىا كے تمام مسلمانوں كو نبى كرىم كى اقتدا مىں ماہ شعبان مىں زىادہ سے زىادہ روزہ ركھنے  اور عبادت كرنے كى توفىق دے اور غفلت سے محفوظ ركھے۔ آمىن

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: