ظلم کی سیاست
اور ریاستی زوال :مذہب، اخلاق اور تاریخ کی روشنی میں
چىف
اىڈىٹر
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ظلم دنیا کے ہر دین، ہر تہذیب اور ہر
اخلاقی نظام میں ایک مذموم اور قابلِ نفرت عمل سمجھا جاتا ہے۔ کوئی مذہب، کوئی
نظریہ اور کوئی مہذب معاشرہ ظلم کی حمایت نہیں کرتا، کیونکہ ظلم کے اثرات صرف فرد
تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے، ریاست اور حکومت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے
ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم اللہ کے غضب، اخلاقی انحطاط اور بالآخر حکومتوں کے زوال
کا سبب بنتا ہے۔
اسلام میں ظلم کی ممانعت نہایت واضح اور غیر مبہم ہے۔ اسلام ہر حال میں عدل
کا حکم دیتا ہے، خواہ معاملہ اپنے اور بیگانے کا ہو، مسلمان اور غیر مسلم کا ہو،
طاقتور اور کمزور کا ہو، حتیٰ کہ جانوروں پر بھی ظلم سے منع کیا گیا ہے۔ اسلامی
تعلیمات میں اس باب میں کسی قسم کی تاویل یا گنجائش موجود نہیں۔
اسی طرح یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ہندو مذہب اپنی اصل
تعلیمات میں ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف ہے۔ اہنسا (عدمِ تشدد)، دھرم (عدل و
انصاف)، رحم اور کمزوروں کے تحفظ جیسے اصول ہندو مذہب کی اخلاقی بنیاد ہیں۔
مہابھارت میں صاف طور پر کہا گیا ہے:
:अहिंसा परमॊ धर्मः"اہنسا (عدمِ تشدد)
سب سے بڑا دھرم ہے"(مہابھارت، شانتِ پرو) یعنی تشدد، جبر اور ظلم کسی بھی صورت میں
قابلِ قبول نہیں۔ اور اس میں واضح تنبیہ کی گئی ہے کہ:"جو شخص ظلم کرتا ہے، وہ آخرکار خود اپنے ہی ظلم کی آگ
میں جل کر تباہ ہو جاتا ہے۔"
اسی طرح بھگود گیتا حکمرانوں کو یہ تعلیم دیتی ہے کہ ان کا اصل فرض دھرم
یعنی انصاف اور حق کا قیام ہے، نہ کہ تعصب یا نفرت کو فروغ دینا:"جب دھرم کمزور
پڑتا ہے اور ادھرم بڑھتا ہے، تو اس کا انجام تباہی ہوتا ہے"
(بھگود گیتا 4:7)
ظلم کا انجام — ہندو مذہبی تعلیمات کی روشنی میں
ہندو مذہبی متون میں ظلم کے انجام سے متعلق سخت تنبیہ موجود ہے۔منوسمرتی
میں آیا ہے:"جو شخص ظلم کرتا ہے، وہ آخرکار خود اپنے ہی اعمال کے سبب
ہلاک ہوتا ہے"(منوسمرتی
8:15) اىك دوسرى جگہ ہے :"ظالم خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، انجام کار زوال
اور رسوائی اس کا مقدر بنتی ہے۔"
اسی طرح مہابھارت میں طاقتور حکمرانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ:
"طاقت کا غلط استعمال سلطنتوں کے زوال اور حکمرانوں کی
رسوائی کا سبب بنتا ہے"(مہابھارت، راج دھرم پروا)
یہ تعلیمات اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتی ہیں کہ ظلم وقتی طور پر طاقت
دے سکتا ہے، مگر انجام کار تباہی اور عبرت مقدر بنتی ہے۔
ہندو روایت میں یہ بات بار بار دہرائی گئی ہے کہ:طاقت کا غلط استعمال سلطنتوں کو گرا دیتا ہے، خاندانوں
کو برباد کر دیتا ہے، اور حکمرانوں کو تاریخ میں عبرت کا نشان بنا دیتا ہے۔
ہندو مفکر اور روحانی رہنما سوامی وویکانند فرماتے ہیں:"جو کمزوروں کو
دباتا ہے، وہ دراصل اپنے ہی زوال کی بنیاد رکھتا ہے۔"(Complete Works of Swami Vivekananda)
مہاتما گاندھی، جنہوں نے ہندو اخلاقیات سے رہنمائی لی، بار بار کہتے تھے کہ
تشدد اور ظلم کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔
یہ ا قوال و تعلىمات تمام ہندؤوں اور بالخصوص آج کی سیاسی قیادت کے
لیے ایک واضح اخلاقی پیغام ہے کہ کمزور طبقات پر ظلم نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ
خودکشی کے مترادف ہے۔
معلوم ہوا كہ ہندو مذہب بھى ظلم و ستم
، جبرو تشدد كا حامى نہىں ہے بلكہ اس كا
شدىد ترىن مخالف ہے اور اس مىں اس كے لىے كوئى جگہ نہىں ہے ۔ لىكن سوال ىہ ہے كہ جب برسر اقتدار پارٹى اور
اس كے كاركنان حقىقى ہندو ہونے كا دعوى كرتے
ہىں ، اپنے كو ہندو مذہب كا سچا پىروكار بتاتے
ہىں اور ىہ كہتے ہوئے نہىں تھكتے ہىں كہ
اصلى ہندو وہى ہىں ۔تو پھر ان كے دور حكومت مىں مسلمانوں ، دلتوں اور پچھڑوں كو مظالم كا نشانہ كىوں بناىا جا رہا ہے؟ ان كے
ساتھ نا انصافى كىوں ہو رہى ہے؟ بلكہ اس
امر مىں كوئى شبہ نہىں كہ ان پر بے انتہاء ظلم
ہو رہا ہے اور اس كى ہر حد پار ہوچكى ہے ۔
اس پر مستزاد یہ کہ یہ ظلم و ستم، ناانصافی اور جبر سرکاری سرپرستی میں
کھلے عام ہو رہا ہے۔ حکومت اس کو بڑھاوا دیتی ہے اور خود بھی ظلم میں شامل ہے، اور
مسلمانوں کو خاص طور سے نشانہ بناتی ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی میں مسلمانوں کے
خلاف نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اعلیٰ سطح کی سیاسی قیادت کی جانب سے ایسے
بیانات سامنے آئے ہیں جنہیں حقائق سے متصادم قرار دیا گیا، اور جنہوں نے مسلمانوں
کے خلاف غلط فہمیوں کو مزید ہوا دی۔ پورے سماج و معاشرے میں نفرت کا زہر مکمل طور
پر گھول دیا گیا ہے، ہندو نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نفرت میں شرابور ہے۔ میڈیا
بھی حکومت کے ساتھ شامل ہے۔ ظلم و ستم، جبر و تشدد کے واقعات کی کثرت ہے اور
مثالوں کی بھرمار ہے، جن کو یہاں تفصیل سے بیان کرنا ممکن نہیں ہے، لیکن ”ما لا
یدرک کلہ لا یترک جلہ“ کے تحت بطورِ دلیل و ثبوت چند مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں۔
مسلمانوں پر ظلم کی واضح ترین مثالىں:
سماج وادی پارٹی کے لیڈر عبد المعید خاں پر اىك
نابالغ لڑكى پر زنا كا جھوٹا
الزام لگانا اور پھر بغیر کورٹ کے فیصلے کے ان کے گھر اور بیکری کو گرا دینا، جب
کہ 26/جنورى 2026ع كو کورٹ نے انہیں بری کر دیا ہے۔ىہ معاملہ اگست 2024ع كا ہے،
لڑكى كى ماں نے قبول كىا ہے كہ اس نے سىاسى دباؤ كے تحت عبد المعىد خاں كا نام درج
كراىا۔
الٰہ آباد میں اىك سماجى كاركن محمد جاوىدكا مکان جون 2022ع مىں جھوٹا الزام لگا كر گرا دىا
گىا ، جب کہ وہ مکان ان کی بیوی کے نام پر تھا، کورٹ نے انہیں بھی بری کر دیا ہے۔
سنبھل کی فرحانہ نامى ایک عورت کو پولس پر پتھراؤ كے الزام مىں نومبر
2024ع مىں بغیر کسی گواہ اور دلیل کے
گرفتار كىا گىا ۔ جس كو ایک مقامی عدالت نے 20 فروری 2025 کو ثبوت نہ
ہونے کی وجہ سے بری كردىا ۔
مارچ 2025ع مىں بطور پر امن
احتجاج مظفر نگر ىوپى مىں مسلمانوں نے رمضان كے آخرى جمعہ كو كالى پٹى
بانڈھ كر نماز ادا كى ، جس كى وجہ سے مقامی
انتظامیہ/مجسٹریٹ نے تقریباً 24 سے 300 افراد کو نوٹس جاری کیے، جنہیں عدالت
میں پیش ہونے اور امن برقرار رکھنے کے لیے ضمانت (surety
bonds) دینے کا کہا گیا — ہر فرد کو تقریباً ₹2 لاکھ کا بانڈ جمع کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
جنورى 2026ع مىں برىلى كے محمد گنج گاؤں
مىں اىك ذاتى گھر مىں نماز ادا
كرنے پر مسلمانوں كے خلاف اىف آئى آر درج كركے ان سب كو گرفتار كر لىا گىا۔وغىرہ
یہ چند واقعات مُشتے از خروارے(ڈھیر میں سے صرف ایک مٹھی) ہیں، ورنہ
واقعات بے شمار ہىں ۔
مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہا پسند تنظیمیں روزانہ ہنگامہ کرتی رہتی ہیں اور
کہیں نہ کہیں روزانہ کوئی نہ کوئی بے کار کا ایشو اٹھاتی رہتی ہیں۔ ان کا اصل مقصد
مسلمانوں کو بے کار کے کاموں میں الجھائے رکھنا ہوتا ہے، مثلاً:مسجد كے نىچے مندر
تلاش كرنے كا مسئلہ، مدھیہ پردیش كے شہر
دھار مىں كمال مولا عیدگاہ کا مسئلہ،
راجستھان كے جے پور كے علاقے پرتاپ نگر میں
قبرستان کا مسئلہ جو 26/جنورى 2026ع كا ہے ، نام بدلنے کا مسئلہ، دھرم بدلنے کا
مسئلہ اور لو جہاد وغیرہ۔
مذکورہ بالا مثالوں سے واضح ہے کہ وطنِ عزیز میں مسلمان خاص طور سے مظالم
اور ناانصافیوں کا شکار ہیں، اور یہ اس کے واضح و روشن دلائل ہیں۔ اب اس امر کو
زیادہ بیان کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے، کیونکہ اب تو ہندوستانی مسلمانوں پر ظلم و
ستم کی بازگشت پوری دنیا میں ہو رہی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے جس کو نظر انداز
کرنا ممکن نہیں کہ ان کے مظالم کا شکار ہر وہ طبقہ اور جماعت ہے جو ان کے افکار و
نظریات کا حامل نہیں ہے، خواہ وہ ہندو ہی کیوں نہ ہو۔
معلوم ہوا کہ اگر آر ایس ایس یا بی جے پی اور اس کے ہمنوا حقیقت میں ہندو
مذہب کے حقیقی پیروکار ہوتے، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے، تو وہ ہرگز کمزوروں پر ظلم
نہ کرتے، انہیں تنگ و پریشان نہ کرتے، ان کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلا کر انہیں بدنام
نہ کرتے، اور واضح طور پر مسلمانوں پر ظلم و ستم نہ کرتے۔
لہٰذا یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ ان کا ہندو ہونے کا دعویٰ جھوٹا ہے، یہ
محض دکھاوا ہے اور ہندو مذہب ان سے بری ہے۔ ان کے ظلم و ستم کی وجہ ہندو مذہب نہیں
بلکہ ہندوتوا ہے، جس کے یہ پیروکار ہیں اور جس کا اپنا ایک مخصوص انتہاپسندانہ
نظریہ ہے۔ ہندوتوا دراصل محض ایک مذہبی شناخت نہیں، بلکہ ایک ایسا سیاسی و نظریاتی
تصور ہے جو ہندوستان کو صرف ہندو اکثریت کی ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے، اور
اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کو مشکوک اور ثانوی حیثیت دینے کی کوشش کرتا ہے، اور ان
پر ہر قسم کے مظالم کو روا رکھتا ہے۔ وہی دراصل ہر قسم کے ظلم و ستم کا سرچشمہ ہے۔
ہندوتوا اور ہندو دھرم کا فرق — ظلم کا اصل منبع
یہ بات واضح رہنی چاہیے كہ ہندوتوا اور ہندو مذہب ایک نہیں۔ ہندو
مذہب ایک روحانی اور اخلاقی روایت ہے، عدل اور رحم كا علمبردار ہے ، اس مىں روادارى
اور ہمدردى ہے ، ظلم کا حامی نہیں، بلکہ ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کی دعوت
دیتا ہے۔
اس کے برعکس، ہندوتوا ایک سیاسی متعصب اور انتہا پسند نظریہ بن چکا ہےجو اکثر برتری، تفریق اور دشمنی کی بنیاد پر
سیاست کرتا ہے۔ مذہب کو نفرت اور اقتدار
کے لیے استعمال کرتا ہے۔
یہ نظریہ برتری اور تفریق کی بنیاد پر پروان چڑھتا ہے، جہاں ایک طبقے کو
اصل وارث اور دوسرے کو اجنبی یا باہر سے آیا ہوا قرار دیا جاتا ہے۔ یہی سوچ آگے چل
کر تعصب، نفرت، اور ظلم کو جنم دیتی ہے۔ جب کسی قوم یا مذہب کو کم تر سمجھا
جائے، تو اس کے خلاف ناانصافی کو جائز سمجھنے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔
ہندوتوا سیاست نے مذہب کو ووٹ بینک اور اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیا
ہے۔ عوام کے جذبات کو بھڑکا کر مسلمانوں کو خوف اور خطرے کی علامت بنا کر پیش کیا
جاتا ہے، جس سے سماج میں بداعتمادی اور نفرت پھیلتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے
کہ بعض قوانین، انتظامی فیصلے، اور سماجی رویّے مسلمانوں کے خلاف جھکاؤ اختیار کر
لیتے ہیں۔
مزید برآں، بعض میڈیا ادارے اور انتہا پسند عناصر اس نظریے کو ہوا دے کر
مسلمانوں کی شبیہ کو بگاڑنے میں کردار ادا کرتے ہیں، جس سے عام لوگوں کے دلوں میں
غلط فہمیاں اور دشمنی پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح ظلم صرف انفرادی نہیں رہتا بلکہ اداراتی
اور سماجی سطح تک پہنچ جاتا ہے۔
معلوم ہوا كہ آج ہندوستان میں اقلىتوں ، دلتوں اور خصوصا مسلمانوں کو جن مشکلات، ناانصافیوں اور مظالم کا
سامنا ہے، ان کی ایک بڑی و اہم وجہ ہندوتوا
کا انتہا پسند نظریہ ہے۔
ہندوتوا كےاعمال كا جائزہ: ہندو مذہب كى روشنى مىں :
جو لوگ ہندو دھرم کے نام پر نفرت،
تعصب یا جبر کو فروغ دیتے ہیں اور مسلمانوں یا کسی بھی اقلیت پر ظلم کرتے ہیں، وہ
دراصل دھرم نہیں بلکہ ادھرم کی خدمت کر رہے ہیں۔
مسلمانوں یا کسی بھی اقلیت کو "دشمن" ىا "غىر" ثابت كرنا یا "خطرہ" بنا کر پیش کرنا،
نفرت کو ہوا دینا، تاریخ کو نفرت کے لیے استعمال کرنا، قانون کو تعصب کا ذریعہ اور
امتیاز کا ہتھیار بنانا اور مذہب كى سىاست
كرنا ىعنى اس كو كرسى اقتدار تك پہنچنے كا ذرىعہ بنانا — یہ سب ہندو دھرم کی
اصل روح کے خلاف ہےاور یہ سب ادھرم (ناانصافی) ہیں، نہ کہ دھرم۔
اگر کسی نظریے یا حکومت کے نتیجے میں کسی مخصوص مذہبی طبقے کو نشانہ بنایا
جا رہا ہو، تو یہ نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ خود ہندو مذہب کی توہین بھی ہے۔
جو بھی حکومت یا نظریہ مذہب کے نام پر نفرت پھىلاتا ہے ، امتیاز اور ظلم کو فروغ دیتا
ہے، وہ دراصل ہندو مذہب کی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر رہا ہے۔وہ نہ صرف
اقلیتوں پر ظلم کرتا ہے بلکہ اپنی اخلاقی بنیاد کو بھی کھو دیتا ہے۔
حکومت کے لیے ایک اخلاقی انتباہ:
موجودہ حکومت سے اخلاقی مطالبہ ہے
کہ وہ ہندو دھرم کے اصل اقدار کو سامنے رکھے — جن میں رحم، انصاف، رواداری،
اور سب کے لیے مساوی سلوک شامل ہے۔ اگر کسی بھی سرکاری پالیسی یا عوامی بیانیے سے
مسلمانوں یا کسی بھی اقلیت کو نقصان پہنچ رہا ہے، تو یہ نہ صرف ہندوستان کے آئین
کے خلاف ہے بلکہ ہندو مذہب کی روح کے بھی خلاف ہے۔
حکومت اگر واقعی خود کو ہندو اقدار کی نمائندہ سمجھتی ہے، تو اسے چاہیے کہ اہنسا،
انصاف اور مساوات کو عملی پالیسی کا حصہ بنائے۔ کسی بھی شہری کے ساتھ اس کے
مذہب کی بنیاد پر ناانصافی کرنا ادھرم ہے، اور ہندو مذہب ادھرم کی حمایت
نہیں بلکہ اس کی مخالفت کرتا ہے۔ طاقتور کا فرض کمزور کو دبانا نہیں بلکہ اس کی
حفاظت کرنا ہے — یہی مہابھارت اور قدیم ہندو اخلاقیات کا واضح پیغام ہے۔
اگر ہندوستان کو واقعی ایک مضبوط، باوقار اور متحد قوم بنانا ہےتو اس کی
بنیاد نفرت نہیں بلکہ انصاف، رواداری اور اخلاق پر ہونی چاہیے۔ ہندو مذہب
کی سچی تعلیمات یہی تقاضا کرتی ہیں کہ ہر انسان کو عزت، تحفظ اور مساوی حقوق حاصل
ہوں — خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔
اسى كے مثل اس کی بنیاد نفرت،
تعصب اور ظلم کے بجائے انصاف، اہنسا اور رواداری پر رکھنی ہوگی۔ یہی ہندو مذہب
کی اصل تعلیم ہے، یہی ہندوستان کی تہذیبی روح ہے، اور یہی پائیدار قومی ترقی کا
واحد راستہ ہے۔
ظلم كا انجام: حکومت کے لیے کھلی تنبیہ
كسى بھى حکومت کو یہ سمجھ لینا
چاہیے کہ:ظلم دیرپا نہیں ہوتا،ہر ظالم کو کبھی نہ کبھی سزا ملتی ہے اور وہ اپنے حتمى
انجام كو پہنچتا ہے ، قومیں نفرت سے نہیں، انصاف سے مضبوط بنتی ہیں اور ترقى كرتى
ہىں ، طاقت کا غلط استعمال ریاستوں اور
حکومتوں کے زوال کا سبب بنتا ہے،اور جو
حکمران ظلم کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں، وہ تاریخ میں رسوائی کے ساتھ یاد رکھے جاتے
ہیں
ہندو دھرم کے مطابق ظلم اور ادھرم
کا انجام تباہی ہے — چاہے وہ فرد کرے، جماعت کرے یا حکومت۔
جو حکومت ہندو مذہب کے نام پر ظلم کی حمایت کرے گی،وہ دھرم کی نہیں بلکہ
ادھرم کی نمائندہ سمجھی جائے گی۔اور تاریخ گواہ ہے کہ:ادھرم پر قائم طاقت آخرکار ٹوٹ جاتی ہے، اور ظالم عبرت
کی مثال بن جاتا ہے۔
تاریخ کا اٹل قانون:
یہ صرف مذہبی یا اخلاقی وعظ نہیں، بلکہ تاریخ کا اٹل قانون بھی ہے کہ ظلم پر قائم طاقت دیرپا نہیں
ہوتی۔ سلطنتیں، حکومتیں اور طاقتور حکمران اس وقت تاریخ کا حصہ بن گئے جب
انہوں نے عدل کے بجائے جبر اور نفرت کو اپنا ہتھیار بنایا۔
ہندو مفکر سوامی وویکانند نے خبردار کیا تھا:"جو کمزوروں کو دباتا ہے، وہ دراصل اپنے ہی زوال کی بنیاد
رکھتا ہے۔"
یہ قول آج کی سیاسی قیادت کے لیے ایک آئینہ ہے، جس میں وہ اپنا انجام دیکھ
سکتی ہے اگر طاقت کا استعمال انصاف کے بجائے امتیاز کے لیے کیا گیا۔
حکومت اور تمام ذمہ دار حلقوں کے لیے یہ ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر
واقعی ہندو اقدار، قومی وقار اور ہندوستانی تہذیب کا احترام مقصود ہے، تو ظلم،
امتیاز اور نفرت کی سیاست سے باز آنا ناگزیر ہے۔
آخر میں یہ حقیقت دو ٹوک انداز میں کہی جا سکتی ہے کہ ہندوستان کا مستقبل
نفرت، انتقام اور ظلم میں نہیں بلکہ انصاف، مساوات اور باہمی احترام میں محفوظ ہے۔
اگر طاقت کا رخ عدل کی طرف نہ موڑا گیا تو خطرہ صرف اقلیتوں کو نہیں بلکہ ملک کے
اخلاقی، سیاسی اور تاریخی وقار کو بھی لاحق ہو سکتا ہے۔تاریخ، مذہب اور اخلاق
تینوں کا فیصلہ ایک ہی ہے:ظالم بالآخر
تباہ ہوتا ہے، سلطنت و حكومت ختم ہوتى ہے ، اور عدل اختیار کرنے والا ہی سرخرو و كامىاب ہوتا ہے۔اور اس كى حكومت پائىدار، مضبوط
اور دىرپا ہوتى ہے ۔
0 التعليقات: