نظام و قانون كا احترام اور پاسدارى

 

نظام و قانون كا احترام اور پاسدارى

 ابو مىمونہ

آىت: ﴿ وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ﴾  ﴿ فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ۖ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ﴾ (بقرہ/35-36)

ترجمہ:

 اور ہم نے كہا كہ  اے آدم تم اور تمہارى بىوى دونوں جنت مىں رہو اور اس سے بفراغت جو چاہو كھاؤ  لىكن اس درخت كے قرىب مت جانا ورنہ ظالموں مىں سے ہوگے۔لىكن شىطان نے ان كو بہكا  دىا  اور جس مىں وہ تھے  وہاں سے نكلوا ہى دىا ، اور ہم نے حكم دىا كہ اب تم سب اتر جاؤ ، تم اىك دوسرے كے دشمن ہو اور اىك وقت مقرر تك تمہارے لىے زمىن مىں ٹہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے۔

معانى كلمات:

اسكن: فعل سكن   سے امر ہےاور ىہ كئى معانى كے لىے استعمال  ہوتا ہے مثلا: ٹھہر کر رہنا اور مستقل قیام اختیار کرنا، كسى چىز كى حركت كا رك جانا، خاموش ہونا ، كسى حرف كا ساكن ہونا، چىن و سكون ہونا وغىرہ۔

زوج: جوڑا ىعنى  ہم جنس دو چىزىں ىا اىك دوسرے كى ضد دو چىزىں  جىسے ترو خشك ، نر و مادہ، فرمان الہى ہے:  قلنا احمل فىہا من كل زوجىن اثنىن (ہود/40)  ہم نے كہا كہ اس ىعنى كشتى مىں ہر قسم كے جانوروں كا جوڑا ىعنى دو ( جانور اىك نر اور اىك مادہ)  سواركر لے  ، ہم پلہ، جوڑى دار، مشابہ و مماثل، قسم ، نوع و صنف اللہ كا فرمان ہے:   و انبتت من كل زوج بہىج(خج/5)  اور اس نے ہر قسم كے خوش منظر و رونق دار پودے اگائے  ، جمع ازواج ، اس کا اطلاق شوہر  اور بىوى  دونوں پر ہوتا ہے، اور یہاں اس سے مراد حوّا ہیں، کیونکہ عرب بىوى  کے لیے بھی لفظ زوج استعمال کرتے ہیں اور شاذ ہی زوجہ کہتے ہیں۔

الجنة: جنت ہر اس باغ کو کہتے ہیں جس میں گھنے درخت ہوں، شاخیں ایک دوسرے میں گتھی ہوں، جو اپنے نیچے کی چیز کو سایہ دے اور چھپا لے۔ یہ لفظ جن سے ماخوذ ہے اور  مصدر ہے ، جس کے معنی کسی چیز کو حواس سے اوجھل کرنا ہیں۔اس كا اىك اور معنى نعمت ہے ، بولا جاتا ہے : ىعىش فى جنة اى نعىم ، آخرت مىں نعمتوں كا گھر جمع جنات و جنان

رغدا: کہا جاتا ہے: رغد عیش القوم یعنی قوم کی زندگی کشادہ اور خوشگوار ہو گئی، اور أرغد القوم یعنی وہ خوشحال ہو گئے اور ان کا رزق وسیع ہو گیا۔ہو فى رغد من العىش اى فى رزق واسع  وہ آسودہ زندگى گذار رہا ہے ، عىش رغد : عىش طىب واسع  فراخ و آرام دہ زندگى ، آسودہ حالى ۔

تقربا:  اس كا مادہ قرب ہے  اور معنى نزدىك ہونا ہے ، كہا جاتا ہے قرب الشئى اى دنا منہ اس سے قرىب و نزدىك ہوا،  اور كسى چىز سے سختى سے روكنے كے لىے لا تقربہ بولا جاتا ہے ۔ اس كا دوسرا معنى جماع كرنا ہے كہا جاتا ہے :قرب الرجل زوجتہ اى جامعہا ىعنى اس سے جماع كىا اور قرآن مىں ہے و لا تقربوہن حتى ىطہرن (بقرہ/222) اور ان سے ہمبسترى مت كرو تا آنكہ وہ پاك ہوجائىں۔

الشجرة:  درخت، پىڑ، نسل ، كہا جاتا ہے: ہو من شجرة طىبة : وہ اچھى نسل كا ہے  جمع اشجار و شجر ، اسى سے شجرة النسب و العائلہ ہے ىعنى نسب نامہ، شجرہ نسب  ۔

أزل: ىہ زل  سے ماخوذ ہے، جو اِزلاق (پھسلانا) کے معنی میں آتا ہے۔ کہا جاتا ہے: زلّ یزلّ زلًّا و زللًا، یعنی وہ کیچڑ میں یا گفتگو میں پھسل گیا۔ اس کی اسم زلّة ہے۔اور أزله غیره یا استزله کا مطلب ہے: اس نے دوسرے کو پھسلا دیا، پھسلانا ، لغزش كرانا۔یہاں لفظ کو اپنے لازم معنی، یعنی دور کر دینے اور ہٹا دینے کے مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے۔

 

 اھبطوا: ھبط سے فعل امر ہے، اس  کے معنی ہیں: اوپر سے نیچے اترنا، جو صعود (چڑھنے) کی ضد ہے۔ کہا جاتا ہے: هبط يهبِط ويهبُط یعنی بلندی سے پستی کی طرف اترا۔انحطاط، تنزل . ناكامى كے معنى مىں بھى آتا ہے ۔

عدو:  دشمن ، عداوت کے معنی ہیں: دلوں میں ایک دوسرے سے بیگانگی اور نفرت ہونا۔جمع اعداء

مستقر: سے مراد ٹھہرنے اور قیام کی جگہ ہے، جو بے چینی اور اضطراب کے مقابل ہے۔جائے قىام، مركز، وقت مقرر، لكل نبا مستقر ىعنى ہر خبر كا اىك وقت مقرر ہے۔

متاع: ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے فائدہ اٹھایا جائے، جیسے کھانا، پینا، لباس، زندگی، انس وغیرہ۔ یہ لفظ متع النهار سے ماخوذ ہے، یعنی دن کا بلند ہونا، اور طویل مدت تک فائدہ اٹھانے کے معنی میں بھی آتا ہے۔

حین: وقت، مدت، وقت کے اس حصے کو کہتے ہیں جوكسى حد سے  متعین نہ ہو، اور یہاں اس سے مراد موت کا وقت یا قیامت کا دن ہے، جمع أحىان ۔( الوسىط للطنطاوى و موقع معجم المعانى )

تفسىر:

پہلے ان آىتوں  كى مختصر تفسىر بىان كى جاتى ہے اس كے بعدمذكورہ  بالا عنوان كى وضاحت كى جائے گى۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان: { وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ }،، یہ اس كے قول: و اذ قلنا للملائكة   الخ پر معطوف ہے: {اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا…} یعنی جب ہم نے فرشتوں کو آدم کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا، اس کے بعد ہم نے کہا: اے آدم! تم اور تمہاری زوجہ جنت میں سکونت اختیار کرو۔ یہ وہ عزت و تکریم ہے جس سے اللہ نے آدم کو نوازا، اس عزت کے بعد جو فرشتوں کے ذریعہ تعظیم و اکرام کی صورت میں اسے عطا کی گئی تھی۔ (الوسىط للطنطاوى) یہ حضرت آدم علیہ السلام کی تیسری فضیلت ہے جو جنت کو ان کا مسکن بنا کر عطا کی گئی۔(تفسىر احسن البىان)

اہلِ سنت کے جمہور کا یہ قول ہے کہ یہاں جنت سے مراد وہی دارِ ثواب ہے جسے اللہ نے قیامت کے دن مومنوں کے لیے تیار فرمایا ہے، کیونکہ اطلاق کے وقت یہی مفہوم ذہن میں آتا ہے۔

جبکہ معتزلہ کے جمہور علماء کی رائے ہے کہ یہاں جنت سے مراد زمین کے کسی بلند مقام پر واقع ایک باغ ہے، جسے اللہ نے آدم اور ان کی زوجہ كے رہنے كے  لیے بناىا  تھا۔ اس کے مقام میں اختلاف ہے؛ بعض نے فلسطین کہا اور بعض نے کسی اور جگہ کا ذکر کیا ہے۔( الوسىط للطنطاوى)

راقم سطور كے نزدىك ظاہر ہے كہ اہل سنت كا قول درست ہے جب كہ  معتزلہ كا قول سراسر غلط ہے كىونكہ  اللہ نے  آىت نمبر 36  مىں ولكم فى الارض كا لفظ استعمال كىا ہے، اسى طرح سورہ اعراف كى آىت نمبر 24 مىں ہے۔اب اگر وہ جنت زمىن ہى كے كسى اونچے مقام پر ہوتى تو اللہ تعالى ہر گز زمىن كا لفظ نہىں استعمال كرتا  كىونكہ وہ پہلے سے ہى زمىن پر موجود تھے ۔ اس كے علاوہ قرآن و حدىث مىں ىہ كہىں نہىں آىا ہے كہ وہ جنت زمىن پر تھى ۔امام قرطبى نے اس پر تفصىل سے روشنى ڈالى ہے ، انہوں نے لكھا ہے كہ اللہ تعالى نے الجنة  ىعنى ال كے ساتھ فرماىا ہے جس كا مطلب ہى جنة الخلد ہے اور بتاىا ہے كہ اس پر اہل سنت كا اتفاق ہے۔ (دىكھىے تفسىر قرطبى)  

جنت میں سکونت کے حکم کے مخاطب آدم اور حوّا دونوں ہیں، مگر اسلوبِ کلام میں خطاب آدم سے کیا گیا اور ان کی زوجہ کو ان پر عطف کیا گیا، کیونکہ اصل مخاطب آدم ہیں اور زوجہ ان کے تابع ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ انہیں جنت کے پھل کھانے کی وسیع اجازت دی گئی، چنانچہ فرمایا: {اور تم دونوں اس میں سے جہاں چاہو خوش دلی کے ساتھ کھاؤ} یعنی جنت کے کھانوں اور پھلوں میں سے جس جگہ چاہو، رغبت اور خوشگوارى ىا  فراوانی کے ساتھ کھاؤ۔

آیت میں {منها} کی ضمیر جنت کی طرف لوٹتی ہے، اور جنت سے کھانے کا مطلب اس کے کھانوں اور پھلوں سے کھانا ہے، كىونكہ جنت مىں پھلوں كا پاىا  جانا لازم ہے جو كھانے  سے مقصود ہىں ۔( الوسىط للطنطاوى)

پھر اللہ تعالیٰ نے  واضح كىا ہے كہ اس نے انہیں ایک خاص درخت سےكے  کھانے سے منع كىا لہذا  فرمایا: {اور اس درخت کے قریب نہ جانا، ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے}۔

قرب کے معنی نزدیک جانا ہیں، اور اصل ممانعت درخت کے پھل کھانے کی ہے۔ قرىب نہ جانے کی ممانعت میں مبالغہ ہے، تاکہ کھانے تک پہنچنے کے تمام اسباب بند ہو جائیں كىونكہ كسى چىز سے قرىب ہونے سے منع كرنے مىں اس مىں واقع ہونے كے ہر ذرىعہ كو ختم كردىنا ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  و لا تقربوا الزنا (اسراء /32) {اور زنا کے قریب نہ جاؤ}،، یعنی زنا کے قریب جانے سے منع کیا تاکہ اس کے ارتکاب کا راستہ ہی بند ہو جائے جو اس سے قربت ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے درخت سے نہ بچنے کو ظلم قرار دیا: {فتكونا من الظالمين}، اور واقعی انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، کیونکہ اس درخت سے کھانے کے نتیجے میں وہ جنت سے نکال دیے گئے، جہاں وہ خوشگوار زندگی بسر کر رہے تھے۔(الوسىط للطنطاوى)  اور ىہ اس بات کی بھى  دلیل ہے کہ یہ نہی تحریم کے لیے ہے، کیونکہ اس پر ظلم کو مرتب کیا گیا ہے۔(تفسىر سعدى)

اور اللہ تعالى  نے اس بات پر زور دیا کہ درخت کا پھل کھانے سے پرہیز نہ کرنا ظلم ہوگا ، اس لىے  فرمایا: پھر تو ظالموں میں سے ہو گا۔  اور واقعى  انہوں نے اس میں سے کھا کر اپنى جانوں پر  ظلم کیا کیونکہ اس درخت سے کھانے کے نتیجے میں وہ جنت سے نکال دیے گئے، جہاں وہ خوشگوار زندگی بسر کر رہے تھےاور اطمینان سے رہتے تھے۔

علماء نے اس درخت کے نام اور نوع کے بارے میں بہت گفتگو کی ہے؛ کسی نے کہا وہ انجیر تھا، کسی نے کہا گیہوں کی بالی تھی، اور کسی نے کہا انگور تھا وغیرہ۔ مگر قرآن نے اس کی نوعیت بیان نہیں کی، جیسا کہ اس کا طریقہ ہے کہ جن باتوں کا قصے کے مقصد سے کوئی تعلق نہ ہو، انہیں ذکر نہیں کرتا۔( الوسىط للطنطاوى)

امام ابن جریر طبری نے اس سلسلے میں نہایت عمدہ بات کہی ہے:

"درست بات یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم اور ان کی زوجہ کو جنت کے درختوں میں سے ایک خاص درخت سے منع فرمایا تھا، باقی درختوں سے نہیں، پھر انہوں نے اسی سے کھایا۔ ہمیں یقین کے ساتھ معلوم نہیں کہ وہ کون سا درخت تھا، کیونکہ اللہ نے نہ قرآن میں اور نہ صحیح سنت میں اس کی کوئی دلیل بیان کی ہے۔ کہا گیا ہے کہ وہ گیہوں کا درخت تھا، اور کہا گیا ہے کہ وہ انگور کا درخت تھا۔ مگر یہ ایسا علم ہے کہ اگر کسی کو حاصل ہو بھی جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں، اور اگر کوئی اس سے ناواقف رہے تو اس کا کوئی نقصان نہیں۔(تفسىر طبرى)

اس کے بعد قرآن نے یہ بیان کیا کہ آدمؑ سے کون سی لغزش سرزد ہوئی۔ چنانچہ فرمایا:

﴿فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ﴾یعنی شیطان نے ان دونوں کو اس (جنت) سے پھسلا دیا اور انہیں اس حالت سے نکال باہر کیا جس میں وہ تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان نے انہیں جنت سے دور کر دیا، حالانکہ وہ ان کے سامنے قسمیں کھا کھا کر یہ ظاہر کرتا تھا کہ وہ ان کا خیر خواہ ہے۔

اور ایک قراءت میں ﴿فَأَزَالَهُمَا﴾ بھی پڑھا گیا ہے، یعنی اس نے ان دونوں کو ہٹا دیا، جو اِزالة سے ہے۔ کہا جاتا ہے: أزلت الشيء عن مكانه إزالة یعنی میں نے کسی چیز کو اس کی جگہ سے ہٹا دیا اور دور کر دیا۔

پھر یہی لفظ گناہ کے ارتکاب کے لیے بھی مجازی طور پر استعمال ہونے لگا، جیسے غلط رائے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

آیت میں ﴿عَنْهَا﴾ کی ضمیر درخت کی طرف لوٹتی ہے، یعنی شیطان نے ان دونوں کو درخت کے سبب لغزش میں ڈالا، درخت کی وجہ سے انہیں پھسلا دیا۔

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ﴾ اس بات پر زیادہ بلیغ دلالت کرتا ہے کہ وہ کن عظیم نعمتوں میں رہ رہے تھے، بنسبت اس کے کہ یوں کہا جاتا: “انہیں نعمتوں سے نکال دیا” یا “جنت سے نکال دیا”۔ کیونکہ بلاغت کا ایک اسلوب یہ ہے کہ کسی عظیم چیز کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے اسے مبہم لفظ میں بیان کیا جائے، جیسا کہ یہاں کیا گیا ہے،تاکہ سننے والے کا ذہن اس کی عظمت اور کمال کے تصور میں آخری حد تک پہنچ جائے۔( الوسىط للطنطاوى)

اور آیت میں ان کے جنت سے نکالے جانے کی نسبت شیطان کی طرف کرنا — ﴿فَأَخْرَجَهُمَا﴾ — اس قبیل سے ہے کہ فعل کی نسبت اس سبب کی طرف کر دی جائے جس کے ذریعے وہ واقع ہوا۔ کیونکہ درخت سے ان کا کھانا، جس کے نتیجے میں انہیں جنت سے نکالا گیا، دراصل شیطان کے وسوسے کی وجہ سے ہوا تھا۔(الوسىط للطنطاوى) اور سورہ اعراف آىت نمبر 22  مىں ہے كہ اس معصىت كا اثر ىہ ہوا كہ ان  كے ستر اىك دوسرے كے سامنے كھل گئے  اور وہ اس كو جنت كے پتوں سے ڈھكنے لگے ۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ﴾اس خطاب میں آدمؑ، حواؑ اور ان کی اولاد سب شامل ہیں۔یعنی ہم نے آدم، حوا اور شیطان سے کہا: تم سب زمین پر اتر جاؤ، اس حال میں کہ تم ایک دوسرےسے نفرت كرو گے اور باہم بغض ركھو گے   اور  ایک دوسرے پر زیادتی کرو گے۔(الوسىط للطنطاوى ) اس سے   مراد آدم علیہ السلام اور شیطان ہیں ، یا یہ مطلب ہے کہ بنی آدم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔(تفسىر احسن البىان)

شیطان کی آدم سے دشمنی حسد اور تکبر سے پیدا ہوئی، جب اسے سجدے کا حکم دیا گیا تو اس نے انکار کیا اور کہا: میں اس سے بہتر ہوں۔

اور آدم اور ان کی اولاد کی شیطان سے دشمنی اس وجہ سے ہے کہ وہ وسوسوں اور ترغیب کے ذریعے انہیں بہکاتا ہے۔اس کریم جملے میں آدم اور ان کی اولاد کے لیے ہدایت ہے اور شیطان کے نقشِ قدم پر چلنے سے ممانعت ہے، کیونکہ وہ ان کا دشمن ہے، اور دشمن کا شیوہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ﴾(فاطر/6) درحقىقت شىطان تمہارا دشمن ہے اس لىے تم بھى اسے اپنا دشمن جانو ، وہ اپنے گروہ كو اپنى راہ پر صرف اس لىے بلا رہا ہے  كہ وہ سب جہنم مىں داخل ہوجائىں۔ ( الوسىط للطنطاوى)

واضح رہے جىسا كہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آدمؑ کو جنت سے نکالنے کی حکمت دنیا کو آباد کرنا تھی اور
اللہ تعالیٰ کا آدمؑ کو جنت سے نکالنا اور وہاں سے زمین پر اتارنا سزا کے طور پر نہیں تھا؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں توبہ کے بعد زمین پر اتارا، جبکہ وہ ان کی توبہ قبول فرما چکا تھا۔بلکہ انہیں اتارنا یا تو تربیت و تادیب کے لیے تھا، یا آزمائش کو سخت کرنے کے لیے۔

اور آدمؑ کے زمین پر اتارے جانے اور وہاں بسائے جانے کی اصل اور درست وجہ وہی ہے جو ازلی حکمت سے ظاہر ہے، اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں ان کی نسل پھیلانی تھی تاکہ انہیں مکلف بنائے، ان کا امتحان لے، اور اس کے نتیجے میں ان کے اخروی ثواب و عذاب کو مرتب کرے؛ کیونکہ جنت اور جہنم دارِ تکلیف نہیں ہیں۔

چنانچہ وہ ایک کھانا (درخت سے کھانا) جنت سے اتارے جانے کا سبب بنا، اور اللہ کو اختیار ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔(تفسىر قرطبى)

ان آىتوں سے واضح طور پر معلوم ہوتا   ہے كہ ہر انسان كے لىے خواہ وہ رسول ہو ىا نبى ، ولى ہو ىا بادشاہ ، غرىب ہو ىا امىر ،  خواہ وہ  كوئى بھى  ہو ربانى قوانىن و  الہى نظام كا احترام و پاسدارى ضرورى ہے، كوئى بھى ان قوانىن سے بالا تر نہىں ہے،  اور اس كى مخالفت و حكم عدولى كا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ پہلے شىطان نے اللہ كى حكم عدولى كى اور اس پر مصر رہا  تو وہ جنت سے نكالا گىا ، راندہ درگاہ ہوا اور اس پر  ہمىشہ كے لىے اللہ كى لعنت ہوئى ۔ حضرت آدم علىہ السلام سے  بھى بتقاضائے بشرىت  غىر شعورى و غىر ارادى طور پر اىك لغزش ہوئى جس كے نتىجے مىں  وہ جنت اور جنتى لباس  سے محروم ہوئے  اور اللہ تعالى نے ان كو زمىن پر بھىج دىا ۔ (راقم)

پھر آیت کے آخر میں فرمایا:﴿وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ﴾

پس معنی یہ ہوا:تم سب  زمین پر اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں رہنے اور ٹھہرنے کی جگہ ہے،اور تم وہاں زندگی کے فائدے اٹھاؤ گے یہاں تک کہ تمہیں موت آ جائے۔

جو شخص ہمیشہ اس بات کو یاد رکھے کہ زمین میں اس کا قیام اور اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا ایک دن ختم ہو جائے گا، اور اسے معلوم نہیں کہ وہ وقت کب آ پہنچے گا، تو اس کا حال یہ ہونا چاہیے کہ وہ دنیا کی بھلائیوں سے فائدہ اٹھائے اور اس مىں اچھى زندگى سے لطف اندوز ہو ، مگر ساتھ ہی اللہ کی رضا کے لیے عمل میں مشغول رہے، جہاں تک ممکن ہو،اور دل و زبان سے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے، اور اسے اس زندگى كى لذتوں  اور اس کی ظاہری آرائش  مىں سے كوئى بھى مشغولىت شکر سے مشغول  نہ کر دے( الوسىط للطنطاوى)۔

ان آىتوں كى تفسىر كے بعد اب موضوع كى مزيد  وضاحت كى جاتى ہے ۔

نظام و قانون كا احترام اور پاسدارى

درج بالا آىات سےبالكل  واضح ہے كہ دنىا و  خاص طور سے آخرت مىں كامىابى كے لىے  بلا شبہ ہر  انسان كے لىے ضرورى ہے كہ وہ اللہ كے قوانىن كى اتباع كرے ،اس كى شرىعت كو بروئے كار لائے اور  اس  كے احكام كى مخالفت  و نافرمانى سے بچے ۔ اسى لىے اللہ تعالى نے حضرت  آدم علىہ السلام كو زمىن پر نازل كرتے وقت  اسى جگہ  آگے فرماىا:قلنا اھبطوا منھا جمىعا فاما ىا تىنكم منى ھدى فمن تبع ھداى فلا خوف علىہم و لا ھم ىحزنزن ، والذىن كفروا و كذبوا بآىاتنا أولئك اصحاب النار ھم فىھا خالدون (بقرہ/38-39)   ۔ ىہاں  حضرت آدم علیہ السلام کے واسطے سے تمام بنو آدم کو جنت کا یہ راستہ بتا ىا جا رہا ہے کہ انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے میری ہدایت ( زندگی گزارنے کے احکام و ضابطے) تم تک پہنچے گی، جو اس کو قبول کرے گا وہ جنت کا مستحق اور بصورت دیگر عذاب الہی کا سزاوار ہو گا۔ جس طرح دوسرے مقام پر ہے، ﴿ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُ وَلَا يَشْقَى ) - ( طہ /۱۲۳) جس نے میری ہدایت کی پیروی کی، پس وہ (دنیا میں) گمراہ ہو گا اور نہ (آخرت میں) بدبخت۔ (تفسىر ابن کثیر)

معلوم ہوا كہ   در حقىقت اىك انسان كى نجات صرف اللہ كى ہداىت كو اپنانے اور اس كے قوانىن و نظام كو نافذ كرنے اور اس كى عدم مخالفت  مىں ہے۔ اس كے علاوہ اور كوئى راستہ نہىں ہے۔ لىكن اب سوال ىہ پىدا ہوتا ہے كہ ىہ حكم الہى قوانىن و ربانى نظام كے بارے مىں ہے لىكن انسانوں كے وضع كردہ دنىاوى قوانىن  و نظام كے بارے مىں كىا حكم ہے جن كا تعلق دىن و شرىعت سے  نہىں ہے جىسے  ٹرىفك ، مدارس  و تعلىم ، طباعت و صحافت  ، مواصلات ، صحت و نظافت وغىرہ كے ادارتى و انتظامى قوانىن و نظام  جن كا ذكر كتاب و سنت مىں نہىں ہے كىونكہ ان كا وجود اس زمانے مىں نہىں تھا  ؟ كىا ان كى پابندى كرنا اور ان  پر بھى عمل كرنا ضرورى ہے ؟ اس كے بارے مىں شرعى و  دىنى نقطہ نظر كىا ہے؟

موقع و محل  كى مناسبت سے اس كى بھى مختصر وضاحت كردى جاتى ہے كىونكہ بعض لوگ اس بابت تذبذب و تردد  كا شكار رہتے ہىں تاكہ ىہ  موضوع اس  ناحىہ سے مكمل ہوجائے اور ىہ ضرورى  پہلو بھى قارئىن كے سامنے واضح طور پر آجائے اور كسى قسم كا  تردد و تذبذب اور شك و شبہ باقى نہ رہے ۔

حضرات گرامى :

جب ہم غور كرتے ہىں  تو ىہ بات سمجھنے مىں زىادہ دىر نہىں لگتى ہے کہ اللہ کی تخلیق کردہ یہ کائنات روز اول سے  کسی آئین  و نظام کے مطابق ہی چل رہی ہے ۔اس كى ہر چىز اپنى تخلىق سے لے كر آج تك  اپنے اپنے مدار میں اپنے فرائض پورے نظم و ضبط سے ادا کر رہی ہے ۔ اسى كے مثل اللہ تعالى نے انسان كو اس كى تخلىق ہى سے قانون و نظام كا  پابند بناىا  اور ىہ پىغام دىا كہ اشرف المخلوقات  انسان بھى  اس كے نظام و قانون كا پابندہے اور اس كى پىروى ہى مىں  اس كى كامىابى اور اس كى مخالفت مىں اس كى ناكامى  ہے ۔غرضىكہ دنىا كى ہر چىز قانون و نظام كے ماتحت اور اس كى پابند ہے اور انسان كو ىہى پىغام دىتا ہے كہ قانون و نظام كى پابندى ہى درحقىقت اصل  كامىابى ہے اور اسى سے نظم و ترتىب قائم رہتا ہےاور خلل اور بگاڑ سے  محفوظ رہتا ہے  ۔

جس طرح کائنات بغیر آئین  و نظام کے نہیں چل سکتی  اسی طرح دنیا کی کوئی ریاست و حكومت ، كوئى ملك ىا خطہ بنا آئىن ، قانون و نظام كے نہىں چل سكتا ہے اور نہ ہى كامىاب ہو سكتا ہے بلكہ تباہى و بربادى، ہنگامہ و شورش اس كا مقدر ہوگى اور امن و ضبط مفقود ہوگا  ۔اور وہ اىك ناكام رىاست و حكومت ہوگى۔لہذا ہر زمانہ  و علاقہ مىں  نئے پىدا شدہ حالات و مسائل  كے اعتبار سے جدىد قوانىن و ضوابط كا وضع كرنا ضرورى ہے  ۔ اسى طرح  ان كا احترام اور پاسدارى كرنا بھى ضرورى ہے جب تك كوئى بھى قانون اسلامى و شرعى قانون كے خلاف نہىں ہے ۔

كىونكہ اسلام میں قانون کا احترام ایک بنیادی دینی فریضہ ہے، جو اللہ کی حاکمیت اور اس کے احکامات کی اطاعت سے جڑتا ہے، جہاں ریاست کے بنائے گئے قوانین کی پابندی کو بھی عبادت سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ عدل و انصاف اور معاشرتی امن قائم کرنے کے لیے ہوتے ہیں؛ مسلم شریعت میں عدل و مساوات، شہریوں کے حقوق کی حفاظت اور حکمرانوں پر ذمہ داری کا تصور موجود ہے، اور مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ملک کے آئین و قانون کی پاسداری کریں، جیسا کہ قرآن اور سنت میں حکم ہے، تاکہ معاشرے میں نظم و ضبط اور امن قائم ہو سکے۔

قانون کی اطاعت پر اسلامی تعلیمات:

   "اولوا الامر" کی اطاعت: سورہ النساء  كى آىت نمبر 59 میں اللہ تعالیٰ نے "اولوا الامر" کی اطاعت کا حکم دیا ہے، جس میں حکمران بھی شامل ہیں.(تفسىر طبرى، ابن كثىر، سعدى، احسن البىان )  جو شرىعت كے احكام كو نافذ كرتے ہىں ىا امت كے اجتماعى مصالح كا انتظام اور نگہداشت كرتے ہىں۔

   عدل و انصاف کی اہمیت: اسلام میں عدل (Justice) کو بہت اہمیت دی گئی ہے، اور قانون کا مقصد ہی عدل قائم کرنا ہے، چاہے وہ ریاست کا قانون ہو یا شرعی قانون.

   معاشرتی امن: قوانین کی پاسداری معاشرے میں امن، سکون اور بہتر تعلقات قائم کرنے میں مدد دیتی ہے، جو اسلام کا بنیادی تقاضا ہے.

ریاستی قوانین کا احترام:اسلامی اصولوں کے مطابق، جو ملک کے آئین اور قوانین عادلانہ ہوں اور اسلامی تعلیمات کے منافی نہ ہوں، ان کی پابندی ضروری ہے، کیونکہ یہ نظم و نسق اور خیرِ عامہ کے لیے ہوتے ہیں.

 غرضىكہ اسلام میں قانون کا احترام صرف ایک سماجی عمل نہیں، بلکہ ایک مذہبی فریضہ ہے، جس کا تعلق اللہ سے وفاداری اور معاشرے سے ذمہ داری دونوں سے ہے، اور مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اللہ کے قانون کے ساتھ ساتھ ملک کے عادلانہ قوانین کا بھی احترام کرے.

اب آئىے جانتے ہىں كہ قانون کی پاسداری کیوں ضروری ہے اور اس كى اہمىت و فوائد كىا ہىں ؟

قانون کی پاسداری کی اہمىت ، ضرورت و  فوائد:

مہذب و منظم  معاشرے کی بنیاد:  قانون کی پاسداری یہ کسی بھی مہذب و منظم  معاشرے کی بنیاد ہے جو امن، انصاف اور سماجی برابری کو یقینی بناتی ہے۔

   امن و امان کا قیام: جب شہری قوانین (جیسے ٹریفک، مواصلات و صحت  قوانین وغىرہ  ) کی پیروی کرتے ہیں، تو معاشرے میں افراتفری کم ہوتی ہے اور جان و مال کا تحفظ یقینی ہوتا ہے۔

   انصاف کی فراہمی: قانون کی نظر میں سب کی برابری سے کمزور طبقات کو طاقتور کے ظلم سے تحفظ ملتا ہے۔

   معاشرتی نظم و ضبط: قانون کی پاسداری سماجی انتشار کو روکتا ہے اور سب کے لیے ایک منظم ماحول فراہم کرتا ہے۔ یہ شہریوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے اور اداروں پر عوام کا اعتماد بحال رکھتا ہے ۔اس کے ذریعے ہی ایک محفوظ اور بہتر معاشرتی نظام قائم ہوتا ہے جہاں ہر فرد اپنے حقوق کا احترام اور تحفظ محسوس کرتا ہے.

   تحفظ اور سلامتی: یہ شہریوں کو حادثات اور نقصانات سے بچاتا ہے، جیسا کہ ٹریفک قوانین پر عمل کرکے جان و مال کا تحفظ ہوتا ہے.

   ذمہ دار شہری کی پہچان: قانون کی پاسداری کرنا ایک اچھے اور ذمہ دار شہری کا فرض ہے اور  آپ کے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت ہے ، جو معاشرے کی بہتری میں مدد دیتا ہے.  

   اچھی زندگی: قانون کی پابندی ذاتی زندگی کو بھی منظم بناتی ہے اور بے ترتیبی سے بچاتی ہے۔وغىرہ

معلوم ہوا كہ اىك مسلمان كے لىے جس طرح شرعى و دىنى قوانىن و نظام كى پابندى اور اس پر عمل كرنا ضرورى ہے اسى طرح اسلامى نقطہ نظر سے  حالات و مسائل كے اعتبار سے عوام كى مصلحت و مفاد كے لىے   ملك و حكومت كى طرف سے بنائےگئے   دنىاوى قوانىن و  نظام كى بھى پابندى اور اس پر عمل كرنا ضرورى ہے اور  دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دینی چاہیے۔ تاكہ نظم و نسق قائم رہے اور ہر اىك كى ضرورت پورى ہوتى رہے اور زندگى كى گاڑى آگے كى طرف رواں دواں رہے ۔

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ دنىا كے تمام مسلمانوں كو دىنى و دنىاوى ہر قسم كے قوانىن كى پابندى كرنے كى توفىق عطا فرمائے ۔ آمىن  و ما علىنا الا البلاغ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمىن ۔

 

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: