سحرى كے فىوض و بركات

 

سحرى كے فىوض و بركات

ابو مىمونہ

حدىث: عن أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً ۔

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سحری کیا کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔

تخرىج:  بخاري /1923، ومسلم /  1095ىہ حدىث حضرت ابو ہرىرہ سے بھى مروى ہے، دىكھىے : النسائي /2147، وأحمد /8885   ، علامہ البانى نے اس كے بارے مىں كہا ہے: صحيح موقوف والمرفوع أصح  ىعنى صحىح موقوف ہے لىكن مرفوع ہونا زىادہ صحىح ہے ، صحيح النسائي /2147۔

معانى كلمات:

تسحروا:  ىہ س ح ر سے فعل امر ہے ، معنى ہے سحرى كھاؤ۔

السحور: (سین پر زبر کے ساتھ)  سحور" اس کھانے کو کہتے ہیں جو سحر کے وقت کھایا جاتا ہے، اور سحر رات كا وہ آخرى  وقت ہے جو صبحِ صادق طلوع ہونے سے ذرا پہلے ہوتا ہے۔ اور السُّحور (سین پر پیش کے ساتھ) سحری کھانے کے عمل کو کہتے ہیں۔ اور  سحری کا نام ہی اس لیے رکھا گیا ہے کہ وہ “سحر” کے وقت یعنی رات کے آخری حصے میں ہوتی ہے۔

بركة:  زىادتى ،بڑھوترى ،  سعادت،  خوش نصىبى جمع بركات۔

شرح:

بركت كى صفت كسى بھى مہىنہ پر اس طرح  صادق نہیں آتی  ہے جس طرح ماہ رمضان پر “برکت” کی صفت صادق آتی ہے؛ کیونکہ یہ صفت ہر پہلو سے اس پر منطبق ہوتی ہے۔كىونكہ اگر برکت کی حقیقت یہ ہے کہ وہ “زیادتی اور نشوونما” ہے، تو اس اعتبار سے رمضان وقتوں میں برکت ہے، اعمال میں برکت ہے، اجر و ثواب میں برکت ہے۔اور اسی برکت کے متعدد پہلوؤں میں سے ایک وہ ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سحری کی نعمت کی صورت میں اپنے بندوں پر فضل فرمایا ہے۔(موقع اسلام وىب: المقالات ، فضل السحور، نمبر 178085 ، تارىخ نشر: 29-6-2012ع )

 اور ہمارے نبی کریم ﷺ نے دنیا اور آخرت کے بھلائی کے کسی دروازے کو نہیں چھوڑا مگر یہ کہ اپنی امت کو اس کی طرف رہنمائی فرمائی اور اس کی ترغیب دی۔اور اس حدیث میں نبی ﷺ ہر اس شخص کو جو روزہ رکھنا چاہے، فجر سے پہلے سحری کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور اس کا حکم دیتے ہوئے فرماتے ہیں: تَسَحَّرُواسحری کیا کرو”، یعنی سحری کا کھانا کھاؤ۔

"سحور" اس کھانے کو کہتے ہیں جو سحر کے وقت کھایا جاتا ہے، اور سحر وہ وقت ہے جو صبحِ صادق طلوع ہونے سے ذرا پہلے ہوتا ہے — خواہ رمضان کے فرض روزے ہوں یا نفلی روزہ رکھنے کا ارادہ ہو۔

پھر آپ ﷺ فرماتے ہیں:«فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً»بے شک سحری میں برکت ہے۔یعنی اس میں بڑھوتری، خیر اور افزونی پائی جاتی ہے۔ اور سحری کی برکت متعدد جہات سے حاصل ہوتی ہے۔(موقع الدرر السنىة، الموسوعة الحدىثىة، مذكورہ حدىث كى شرح)

سحری کی بركات و فضائل :

یہ حدیث اس امر کی نہایت واضح نشاندہی کرتی ہے کہ سحری کا کھانا بے شمار برکتوں اور فضائل کا حامل ہے، خواہ وہ امورِ دنیا سے متعلق ہوں یا امورِ آخرت سے وابستہ ہوں۔ چند اہم بركات و فضائل كا ذكر ذىل مىں كىا جا رہا ہے:

سحرى كى پہلى بركت: سنت نبوى كى پىروى :

اس عبادت کی پہلی برکت یہ ہے کہ مسلمان اسے سنت کی پیروی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں انجام دیتا ہے، کیونکہ آپ ﷺ اس پر مداومت فرمایا کرتے تھے۔(موقع اسلام وىب: المقالات ، فضل السحور) پس جب سحری کرنے والا اپنی سحری کے ذریعے نبی کریم ﷺ کے حکم کی تعمیل اور آپ کے عمل کی اقتداء کی نیت کرتا ہے تو اس کی سحری عبادت بن جاتی ہے، اور اسے اس نیت کی وجہ سے اجر حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح جب روزہ دار اپنے کھانے پینے سے اپنے جسم کو روزہ اور قیام پر مضبوط بنانے کی نیت کرتا ہے تو وہ اس پر بھی ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔(موقع الاسلام سؤال و جواب:المقالات،  مذكورہ حدىث كى شرح، تارىخ:22-1-2009ع)

اسی کی طرف احادیث اشارہ کرتی ہیں۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:“ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی، پھر آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ان سے پوچھا گیا:“اذان اور سحری کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟انہوں نے فرمایا:“پچاس آیات پڑھنے کے بقدر۔ (بخاري )

ابن ابی جمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

نبی کریم اپنی امت کے لیے جو چیز زیادہ سہل اور مناسب ہوتی، اسی پر عمل كرتے  تھے؛ کیونکہ اگر آپ سحری نہ کرتے تو لوگ بھی آپ کی پیروی میں اسے ترک کر دیتے، اور اس سے بعض لوگوں پر مشقت واقع ہوتی۔اور اگر آپ رات کے عین درمیان سحری فرماتے تو یہ بھی بعض لوگوں پر دشوار ہوتا، خاص طور پر ان پر جن پر نیند غالب آ جاتی ہے، کیونکہ اس صورت میں فجر کی نماز کے ترک تک نوبت پہنچ سکتی تھی، یا پھر انہیں رات بھر جاگ کر مجاہدہ کرنا پڑتا۔(موقع اسلام وىب: المقالات ، فضل السحور)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس عبادت پر حرص اس قدر تھا کہ آپ کثرت سے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی یاد دہانی کراتے، انہیں اس کے کرنے کی دعوت دیتے، اور وقتاً فوقتاً اس کی برکتوں اور فضائل کی طرف متوجہ فرماتے، تا کہ یہ عمل ان کے اذہان میں راسخ ہوجائے  اور وہ اسے ترک نہ كرىں ۔

اس کی وضاحت حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:رسول اللہ نے مجھے رمضان میں سحری کے لیے بلایا اور فرمایا: آؤ اس بابرکت ناشتہ کی طرف!”(ابو داؤد و نسائى)

حضرت عبد اللہ بن حارث سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے بیان کیا:میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ سحری فرما رہے تھے، تو آپ نے فرمایا:“یہ ایک برکت ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمائی ہے، لہٰذا اسے ترک نہ کرو۔( سنن نسائى)

اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:“برکت تین چیزوں میں ہے: جماعت میں، ثرید میں، اور سحری میں۔ (المعجم الكبير للطبراني )

اسی طرح حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا: سحری برکت ہے، لہٰذا اسے ترک نہ کرو، اگرچہ تم میں سے کوئی ایک گھونٹ پانی ہی کیوں نہ پی لے۔(مسند احمد) (موقع اسلام وىب: المقالات ، فضل السحور)

معلوم ہوا كہ سحرى كى  ایک عظیم برکت یہ ہے کہ اس میں سنت کی پیروی ہوتی ہے اور آپ كى اقتدا سے سحرى عبادت بن جاتى ہے۔ اور  سحری کے کھانے پر خصوصی تاکید اسی لیے فرمائی گئی ہے کہ یہ وقت عموماً لوگوں کے سونے کا ہوتا ہے۔ چنانچہ بسا اوقات نیند اور اس کی لذت انہیں اس اہم کھانے کی قدر و اہمیت سے غافل کر دیتی ہے، اور اگر وہ اسے ترک کر دیں تو اس کا چھوڑ دینا دن کے اوقات میں ان کی مصروفیات اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کمزوری اور سستی کا باعث بن جاتا ہے۔(موقع الدرر السنىہ، الموسوعہ الحدىثىہ، شرح  مذكورہ حدىث)

سحری کی دوسری برکت: اہل كتاب ىعنى ىہود و نصارى كى مخالفت :

سحری کی دوسری برکت اور فضیلت یہ ہے کہ اس میں اہلِ کتاب کی مخالفت ہے، جو اس الٰہی عطیے سے محروم رکھے گئے تھے اور مسلمان کو ان کی مشابہت سے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ : فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحُورِ   ىعنى ہمارے روزے اور اہلِ کتاب کے روزے کے درمیان فرق سحری کا کھانا ہے۔( صحيح مسلم )

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ لوگ ان اوقات میں بطورِ عبادت کھانا نہیں کھاتے تھے۔

امام خطّابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اہلِ کتاب کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ افطار کے بعد سو جاتے تو انہیں دوبارہ کھانے پینے کی اجازت نہ ہوتی تھی، اور ابتدائے اسلام میں بھی حکم اسی طرح تھا، پھر اللہ عزوجل نے اسے منسوخ فرما دیا اور فجر تک کھانے پینے کی اجازت عطا فرمائی، جیسا کہ اس کے ارشاد میں ہے:{اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے فجر کے وقت سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے نمایاں ہو جائے} (بقرہ: 187) (موقع اسلام وىب: المقالات ، فضل السحور)

تیسری برکت: طاقت و قوت اور نشاط كا سبب :

سحری کی تیسری برکت یہ ہے کہ وہ بندے کو عبادت کے لیے قوت فراہم کرتی ہے اور اس کی نشاط میں اضافہ کرتی ہے، اور دن کے اوقات میں نماز، تلاوتِ قرآن اور ذکر وغیرہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مددگار بنتی ہے۔ کیونکہ عام طور پر انسان کو کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ایک محسوس اور تجربہ شدہ حقیقت ہے كہ  بھوکا شخص عبادت میں سستی محسوس کرتا ہے، جیسے وہ اپنے روزمرہ کے کاموں میں سستی محسوس کرتا ہے ۔

اور اگر سحری ترک کر دی جائے تو بعض لوگوں کے لیے — جو طویل مدت تک بھوکے رہنے کی طاقت نہیں رکھتے — مشقت پیدا ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ وہ بے ہوش بھی ہو سکتے ہیں، اور یہ صورتِ حال رمضان میں روزہ توڑنے تک پہنچا سکتی ہے۔

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور پر مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: لا ضرر ولا ضرار نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ دوسرے کو نقصان پہنچاؤ۔اسے مسند أحمد اور سنن ابن ماجه نے روایت کیا ہے، اور سنن الدارقطني میں یہ اضافہ بھی ہے:“جو دوسروں پر سختی کرے گا اللہ اس پر سختی کرے گا۔

شاید یہی وہ سبب ہے جس کی بنا پر سحری کو مؤخر کرنا مشروع کیا گیا، تاکہ نفس کو پوری طرح تازگی اور توانائی حاصل ہو سکے۔چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ افطار میں جلدی کرتے اور سحری میں تاخیر کرتے تھے، اور فرماتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔( سنن النسائي )

اور حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سحری کرتا، پھر جلدی کرتا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز پا سکوں۔( صحيح البخاري )

یہ روایت سحری کو مؤخر کرنے پر دلالت کرتی ہے، یہاں تک کہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ سحری کے بعدنبى كرىم كے ساتھ نماز ادا كرنے کے لیے  تیزی سے جاتے تھے، اس اندیشے سے کہ کہیں نماز کا کوئی حصہ فوت نہ ہو جائے۔(موقع اسلام وىب: المقالات ، فضل السحور)

چوتھی برکت: وقت قبولىت دعاء ذكر و دعاء كا موقع ملنا:

سحری کی چوتھی برکت یہ ہے کہ اس مبارك  وقت مىں  بیداری نصیب ہوتی ہے جس میں رب تبارک و تعالیٰ اپنی شان کے لائق نزول کے ساتھ آسمانِ دنیا پر تشریف لاتے ہیں ىعنى  انسان رات کے آخری حصے میں بیدار ہوتا ہے، جو  ذکر، دعا اور نماز کا وقت  ہوتاہے، اور قبولیت کا زىادہ امكان ہوتا  ہے،  اور اللہ عزوجل  فرماتا ہے :

ہے کوئی مانگنے والا کہ اسے عطا کیا جائے؟

ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے؟

ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا کہ اسے بخش دیا جائے؟

یہ سلسلہ طلوعِ فجر تک جاری رہتا ہے، جیسا کہ صحيح مسلم میں وارد ہے۔

اور ایسے مبارک اوقات کو صالحین ذکر، تسبیح اور استغفار سے معمور رکھتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

{اور سحری کے وقت استغفار کرنے والے} (آل عمران: 17) اور ایسے بابرکت اوقات مىں  قبولیت كا زىادہ امكان ہوتا ہے ۔(موقع اسلام وىب: المقالات ، فضل السحور)

پانچویں برکت: اللہ تعالى كى رحمت و شفقت كو ىاد كرنا:

سحری کی پانچویں برکت یہ ہے کہ اس میں بندہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت کو یاد کرتا ہے؛ کیونکہ اگر اللہ چاہتا تو انہیں وصال (یعنی بغیر افطار کے مسلسل روزہ) ىا اىك ماہ سے زائد دو تىن ماہ مسلسل روزہ ركھنے کا حکم دے دیتا، جس میں ان پر سخت مشقت ہوتی ۔اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مظاہر اس کے تمام تشریعی احکام، قوانین اور تقدیروں میں نمایاں ہیں۔(موقع اسلام وىب: المقالات ، فضل السحور)

چھٹی برکت:  رحمت و مغفرت كا حصول :

سحری کی چھٹی برکت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ  بندہ پر رحمت نازل كرتا ہے اور فرشتے اس كے لىے مغفرت طلب كرتے ہىں ۔اس فضیلت پر حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ إن الله وملائكتة يصلون على المتسحّرينبے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کرنے والوں پر درود بھیجتے ہیں۔اسے مسند أحمد نے روایت کیا ہے۔(موقع اسلام وىب: المقالات ، فضل السحور)

ساتوىں بركت:  نماز فجر كى باجماعت ادائىگى :

سحری کی برکتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے فجر کی نماز جماعت کے ساتھ اور اس کے افضل وقت میں ادا ہوتی ہے۔ اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ رمضان میں فجر کی نماز میں نمازیوں کی تعداد دوسرے مہینوں سے زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ وہ سحری کے لیے اٹھے ہوتے ہیں۔(موقع الاسلام سؤال و جواب:المقالات،  مذكورہ حدىث كى شرح)

آٹھوىں بركت: روزہ مىں عدم  مشقت :

سحری کی برکتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے سبب روزے کی مشقت سحری کرنے والے پر ہلکی ہو جاتی ہے، جس سے اس میں زیادہ روزے رکھنے کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یوں وہ روزہ رکھنے کا شوق رکھتا ہے اور اس سے تنگ دلی محسوس نہیں کرتا۔۔(موقع الاسلام سؤال و جواب:المقالات،  مذكورہ حدىث كى شرح)

1.    نوىں بركت: بدخلقی اور چڑچڑے پن کو دفع کرنا:

سحری کی برکتوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اس بدخلقی کو دفع کرتی ہے جو بھوک کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ جو شخص سحری کرتا ہے وہ خوش مزاج، پاکیزہ نفس اور حسنِ سلوک والا ہوتا ہے۔(موقع الاسلام سؤال و جواب:المقالات،  مذكورہ حدىث كى شرح)

دسوىں بركت: روزہ كى نىت  كى تلافى :

                                                                                                                                                                    اس شخص کے لیے نیتِ صوم کی تدارک و تلافى  کا موقع مل جانا جس نے سونے سے پہلے روزے کی نیت کرنا بھلا دیا ہو۔(موقع الدرر السنىہ، الموسوعہ الحدىثىہ، شرح  مذكورہ حدىث)

لہٰذا روزہ دار کو چاہیے کہ وہ سحری کا اہتمام کرے اور اسے نیند کے غلبہ یا کسی اور سبب سے ترک نہ کرے۔ اور جب اسے سحری کے لیے جگایا جائے تو وہ نرم خو، خوش طبع اور کشادہ دل ہو، رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل پر مسرور ہو، اور خیر و برکت کا حریص ہو۔

 اس لیے کہ ہمارے نبی ﷺ نے سحری پر زور دیا ہے، اس کا حکم فرمایا ہے، اسے مسلمانوں کے روزے کی علامت بتاىا ہے  اور مسلمانوں و  اہلِ کتاب کے روزے كے درمىان  فرق قرار دیا ہے، اور اسے چھوڑنے سے منع فرمایا ہے۔۔(موقع الاسلام سؤال و جواب:المقالات،  مذكورہ حدىث كى شرح)

سحری میں بہترین چیز:

سحری اس کم سے کم چیز سے بھی حاصل ہو جاتی ہے جو انسان کھانے یا پینے میں لے لے، اور یہ کسی مخصوص کھانے کے ساتھ خاص نہیں ہے۔

اور مؤمن کے لیے افضل اور  بہترین سحری کھجور ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نِعْمَ سَحُورُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ
مؤمن کی بہترین سحری کھجور ہے۔( سنن أبي داود  / 2345  نے روایت کیا ہے، اور محمد ناصر الدين الألباني نے اپنی کتاب صحيح أبي داود میں اسے صحیح قرار دیا ہے)

اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«السُّحُورُ أَكْلَةٌ بَرَكَةٌ فَلَا تَدَعُوهُ، وَلَوْ أَنْ يَجْرَعَ أَحَدُكُمْ جَرْعَةً مِنْ مَاءٍ، فَإِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الْمُتَسَحِّرِينَ»

سحری برکت والی غذا ہے، اسے ترک نہ کرو، اگرچہ تم میں سے کوئی ایک گھونٹ پانی ہی کیوں نہ پی لے۔ بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کرنے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔(مسند أحمد/ (11003  ، اور محمد ناصر الدين الألباني نے صحيح الجامع (3683) میں اسے حسن قرار دیا ہے۔ (موقع الاسلام سؤال و جواب:المقالات،  مذكورہ حدىث كى شرح)

اور اس سنت کی پیروی سے حاصل ہونے والے اجر کے علاوہ، کھجور کی غذائی قدر بھی نہایت بلند ہے۔ یہ جسم کو قوت بخشتی ہے اور پورے دن روزے کی مشقت برداشت کرنے میں مدد دیتی ہے، جیسا کہ اطباء كا قول ہے ۔(موقع اسلام وىب: المقالات ، فضل السحور)

سحرى كے بعض دىگر مسائل و احكام:

سحری کرنا سنت ہے:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:«تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً»سحری کیا کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ روزہ دار کو سحری کا حکم دیا گیا ہے، کیونکہ اس میں بہت زیادہ خیر اور عظیم دینی و دنیاوی برکت پائی جاتی ہے۔آپ ﷺ کا “برکت” کا ذکر فرمانا سحری پر ابھارنے اور اس کی ترغیب دینے کے باب سے ہے، یعنی اس میں رغبت دلانے کی تاکید ہے۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:«مَنْ أَرَادَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَتَسَحَّرْ بِشَيْءٍ»
جو شخص روزہ رکھنا چاہے وہ کسی چیز کے ساتھ سحری ضرور کرے۔(اسے مسند أحمد (14533) نے روایت کیا ہے، اور محمد ناصر الدين الألباني نے اسے اپنی کتاب السلسلة الصحيحة (2309) میں صحیح قرار دیا ہے)۔(موقع الاسلام سؤال و جواب:المقالات،  مذكورہ حدىث كى شرح)

حکم کی نوعیت

اس حدیث میں وارد ہونے والا امر (یعنی “فليتسحر”) استحباب کے لیے ہے، وجوب کے لیے نہیں۔اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے وصال فرمایا اور صحابہ کرامؓ نے بھی آپ کے ساتھ وصال کیا۔

وصال” سے مراد یہ ہے کہ آدمی دو یا اس سے زیادہ دن مسلسل روزہ رکھے، اس طرح کہ دن کے ساتھ رات کو بھی روزے میں شامل کر لے اور افطار نہ کرے۔

اگر سحری واجب ہوتی تو وصال ممکن نہ ہوتا، اس سے معلوم ہوا کہ سحری مستحب اور مؤکد سنت ہے، واجب نہیں۔۔(موقع الاسلام سؤال و جواب:المقالات،  مذكورہ حدىث كى شرح)

سحری کا افضل وقت

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قُلْتُ كَمْ كَانَ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالسَّحُورِ قَالَ قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً  ہم نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ سحری کی، پھر آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ میں نے عرض کیا: اذان اور سحری کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ حضرت زىد نے فرمایا: پچاس آیات پڑھنے کے بقدر۔(بخارى /1921 و مسلم /1097)

یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سحری کو فجر سے کچھ پہلے تک مؤخر کرنا مستحب ہے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ جب اپنی سحری سے فارغ ہوئے اور نماز میں داخل ہوئے، تو ان دونوں ىعنى سحرى و نماز  کے درمیان اتنا وقت تھا جتنا ایک شخص درمیانی رفتار سے (نہ بہت تیز اور نہ بہت آہستہ) قرآنِ کریم کی پچاس آیات تلاوت کرے۔

یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نماز کا وقت، وقتِ امساک کے بہت قریب تھا۔

یہاں “اذان” سے مراد اقامت ہے، اسے اذان اس لیے کہا گیا کہ وہ نماز کے لیے کھڑے ہونے کی اطلاع ہوتی ہے۔

اور صحيح البخاري (576) میں وارد ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ — جو اس حدیث کے راوی ہیں — سے پوچھا گیا:“ان دونوں (نبی ﷺ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ) کے سحری سے فارغ ہونے اور نماز میں داخل ہونے کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟انہوں نے فرمایا:“اتنا کہ ایک شخص پچاس آیات پڑھ لے۔(موقع الاسلام سؤال و جواب:المقالات،  مذكورہ حدىث كى شرح)

آدھی رات میں سحری کرنا

آدھی رات کے بعد سحری کرنا جائز تو ہے، لیکن یہ سنت کے خلاف ہے، کیونکہ سحری کا نام ہی اس لیے رکھا گیا ہے کہ وہ “سحر” کے وقت یعنی رات کے آخری حصے میں ہوتی ہے۔

اگر کوئی شخص آدھی رات کو سحری کرے تو ممکن ہے کہ نیند کے غلبہ کی وجہ سے فجر کی نماز ہی فوت ہو جائے۔

مزید برآں، سحری کھانے میں تاخیر روزہ دار کے لیے زیادہ مفىد ، نفع بخش اور توانائی کے لیے زیادہ سازگار ہے، کیونکہ سحری کا ایک مقصد روزہ کے لیے جسم کو تقویت دینا اور اس کی قوتِ حیات کو برقرار رکھنا ہے۔ اس لیے اس میں تاخیر کرنا ہی عقلمندی ہے۔ روزہ دار کو اس نبوی ادب  پر عمل کرنا چاہیے اور سحری کھانے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔(موقع الاسلام سؤال و جواب:المقالات،  مذكورہ حدىث كى شرح)

سحری میں اعتدال:

روزے کے آداب میں سے — جن کی تصریح اہلِ علم نے کی ہے — یہ بھی ہے کہ روزہ دار سحری کے کھانے میں اسراف نہ کرے، كہ وہ  اپنا پیٹ خوب  کھانے سے بھر لے، بلکہ بقدرِ ضرورت کھائے۔

اس لیے کہ انسان نے اپنے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا۔

جب کوئی شخص سحر کے وقت حد سے زیادہ کھا لے تو وہ قریب دوپہر تک اپنے آپ سے صحیح فائدہ نہیں اٹھا پاتا، کیونکہ کثرتِ طعام سستی اور کاہلی پیدا کرتی ہے۔

اور نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد میں: "نعم سحور المؤمن التمر مؤمن کی بہترین سحری کھجور ہے"اس معنی کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ کھجور اپنی بلند غذائی قدر کے ساتھ معدے پر ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذا ہے۔اور جب پیٹ بھر کر کھانے کے ساتھ رات بھر جاگنا اور دن بھر سونا جمع ہو جائے، تو روزے کا اصل مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔واللہ المستعان۔(موقع الاسلام سؤال و جواب:المقالات،  مذكورہ حدىث كى شرح)

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ دنىا كے تمام مسلمانوں كوسحرى كے فوائد و فضائل كو جاننے كى توفىق دےاور  سنت كے مطابق سحرى كرنے كى توفىق عطا فرمائے ۔آمىن

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: