ڈاكٹر عبد المنان محمد شفىق مكى
آئینِ ہند دنیا کے طویل ترین اور جامع ترین تحریری دساتیر میں شمار ہوتا
ہے۔ یہ صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ ہندوستان کی روح، فکر اور اجتماعی نصب
العین کا آئینہ دار ہے۔ 26 جنوری 1950 کو نافذ ہونے والا یہ آئین ملک کے
کروڑوں شہریوں کے حقوق، فرائض، آزادی اور مساوات کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اس کی
تشکیل میں ہندوستان کی تہذیبی کثرت، تاریخی تجربات اور جمہوری اقدار کو بھرپور طور
پر پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اسى طرح اس کی تشکیل سے
قبل، دستور سازوں نے دنیا کے مختلف ممالک کے آئینوں اور گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ
1935ء کے عملی اثرات کا گہرا مطالعہ کیا ۔ انہوں نے
آزادانہ طور پر دنیا کے بہت سے ممالک کے آئین سے مناسب دفعات مستعار لیں۔ ذیل میں آئینِ ہند کی نمایاں خصوصیات بیان کی جا رہی
ہیں:
دنیا کا سب سے طویل تحریری اور جامع آئین:
آئینِ ہند ایک تحریری آئین ہے، جو مختلف ابواب اور دفعات پر مشتمل
ہے۔ اس میں ریاست، حکومت، عدلیہ، مقننہ، شہری حقوق، فرائض اور پالیسی اصول سب کو
واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یہی جامعیت اسے دنیا کے مضبوط ترین دساتیر میں شامل
کرتی ہے۔
دساتیر کو عموماً تحریری (جیسے امریکی آئین) اور غیر تحریری (جیسے برطانوی
آئین) میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ آئینِ ہند دنیا کے تمام تحریری آئینوں میں سب سے
طویل ہے۔ یہ ایک نہایت جامع، مفصل اور وضاحتی دستاویز ہے۔
ہندوستانی آئین اصل میں 395 آرٹیکلز پر مشتمل تھا جسے 22 حصوں اور 9 شیڈولز میں
تقسیم کیا گیا تھا۔ فی الحال، یہ ایک تمہید اور 450/دفعات پر مشتمل ہےجن کو 24 حصوں اور 12 شیڈولز میں تقسیم کیا گیا ہے۔
جمہوری نظام کی بنیاد اور پارلیمانی
طرزِ حکومت:
آئینِ ہند ہندوستان کو ایک جمہوری جمہوریہ قرار دیتا ہے، جہاں
اقتدار کا اصل سرچشمہ عوام ہیں۔ عوام بالغ رائے دہی کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب
کرتے ہیں۔ ذات، مذہب، زبان، جنس یا دولت کی بنیاد پر ووٹ کے حق میں کوئی امتیاز
نہیں رکھا گیا، جو جمہوریت کی روح ہے۔
آئىن كے مطابق حکومت وہ سیاسی جماعت تشکیل دیتی ہے جو مقننہ میں سب سے زیادہ نشستیں
جیتتی ہے۔ اس طرزِ حکومت کو ویسٹ منسٹر ماڈل بھی کہا جاتا ہے۔
ہندوستان کے آئین نے امریکی صدارتی نظام حکومت کے بجائے برطانوی پارلیمانی نظام
حکومت کا انتخاب کیا ہے۔ پارلیمانی نظام،
مقننہ (Legislature) اور انتظامیہ (Executive)
کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کے اصول پر مبنی ہے جبکہ صدارتی نظام ان
دو اداروں کے درمیان اختیارات کی علیحدگی کے
نظریے پر مبنی ہوتا ہے۔
بنیادی حقوق (Fundamental
Rights)
آئین کی سب سے بڑی خوبی بنیادی حقوق ہیں، جو شہریوں کی آزادی اور
وقار کی ضمانت دیتے ہیں۔ آئىن کا حصہ 3 تمام شہریوں کو چھ بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے ، جیسے:
(ا) مساوات کا حق (دفعات 14 -18)؛
(ب) آزادی کا حق (دفعات 19-22)؛
(ج) استحصال کے خلاف حق (دفعات 23-24)؛
(د) مذہب کی آزادی کا حق (دفعات 25-28)؛
(ہ) ثقافتی اور تعلیمی حقوق (دفعات 29-30)؛
(و) آئینی چارہ جوئی کا حق (دفعہ 32)
یہ بنیادی حقوق سیاسی جمہوریت کے تصور کو فروغ دیتے ہیں ، ریاستی جبر کے
خلاف ایک مضبوط ڈھال ہیں ، انتظامیہ کی آمریت اور مقننہ کے من مانے قوانین پر قدغن
لگاتے ہیں اور عدلیہ ان کی نگہبان ہے۔
سیکولر (غیر مذہبی) رىاست
سىكولرزم ىا سیکولر مزاج
آئینِ ہند کا ایک نمایاں وصف ہے اور ىہ انڈىا كو اىك سىكولر رىاست قرار دىتا ہے لہذا، یہ کسی خاص مذہب
کو ہندوستانی ریاست کے سرکاری مذہب کے طور پر قبول نہىں كرتا ہے اور نہ ہى ریاست
کسی ایک مذہب کی سرپرستی کرتی بلکہ تمام مذاہب کو برابر احترام دیتی ہے۔ ہر شہری
کو اپنے مذہب پر عمل، تبلیغ اور فروغ کی مکمل آزادی حاصل ہے۔
42ویں ترمیمی ایکٹ، 1976 کے ذریعے ہندوستانی آئین کی تمہید میں 'سیکولر' کی اصطلاح
شامل کی گئی تھی۔ آئین کے دفعات 25-28 سیکولرازم کے اس تصور کو ٹھوس شکل دیتے ہیں۔
سماجی انصاف اور مساوات:
آئینِ ہند سماجی انصاف پر خاص زور دیتا ہے۔ پسماندہ طبقات، درج فہرست ذاتوں (SC)، درج فہرست
قبائل (ST) اور دیگر کمزور طبقات کے لیے تحفظات (Reservation) کا انتظام کیا گیا
ہے تاکہ صدیوں کی ناانصافی کا ازالہ ہو سکے۔
ریاستی پالیسی کے رہنما اصول(Directive
Principles)
ریاستی پالیسی کے رہنما اصول، جو آئین کے ایک
حصے میں شامل ہیں، ریاست کو ملک کی حکمرانی میں اختیار کیے جانے والے اہداف اور
مقاصد کی نشاندہی کرتے ہیں۔ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر کے مطابق:“ریاستی پالیسی کے رہنما اصول آئینِ ہند کی ایک انوکھی
خصوصیت ہیں۔”
ان رہنما اصولوں
کو تین بڑی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
- اشتراکی
(Socialistic)
- گاندھیائی
(Gandhian)
- آزاد خیال و فکری
(Liberal-Intellectual)
ىہ رہنما اصولِ ریاستی پالیسی اگرچہ عدالت میں قابلِ نفاذ نہیں، مگر یہ
حکومت کو ایک فلاحی ریاست قائم کرنے کی سمت رہنمائی کرتے ہیں، جیسے:
- غربت کا خاتمہ • تعلیم و صحت کی فراہمی
- مزدوروں کے حقوق • سماجی و اقتصادی
مساوات
ایک مضبوط مرکزیت کے رجحان کے ساتھ ایک فیڈریشن(وفاقی نظام)
آئین میں 'فیڈریشن' کی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی ہے۔ آرٹیکل 1 بیان کرتا ہے کہ
ہندوستان "ریاستوں کا اتحاد ہے"، جس کا مطلب دو چیزوں پر ہے: پہلی - ہندوستانی
فیڈریشن ریاستوں کے معاہدے کا نتیجہ نہیں ہے، اور دوم - کسی بھی ریاست کو وفاق سے علیحدگی
کا حق نہیں ہے۔ ہندوستان کا آئین وفاقی نظام حکومت قائم کرتا ہے۔ اس میں وفاق کی تمام
معمول کی خصوصیات ہیں، یعنی دو حکومتیں، اختیارات کی تقسیم، تحریری آئین، آئین کی بالادستی،
آئین کی سختی، آزاد عدلیہ، اور دو ایوانوں پر مشتمل مقننہ ۔
الغرض آئینِ ہند ایک وفاقی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے، جس میں مرکز اور
ریاستوں کے اختیارات واضح ہیں، لیکن قومی اتحاد اور سالمیت کے لیے مرکز کو مضبوط
رکھا گیا ہے۔ یہی توازن ہندوستان جیسے متنوع ملک کے لیے ناگزیر ہے۔
بالغ رائے دہی:
ہندوستان میں، ہر شخص، مرد یا عورت، جو 18 سال کی عمر کو پہنچ چکا ہے، پارلیمنٹ
یا ریاستی قانون ساز اداروں کے انتخابات میں ووٹ دینے کا حقدار ہے۔ اصل میں یہ عمر
کی حد 21 سال تھی لیکن 61 ویں ترمیمی ایکٹ 1988 کے بعد اسے کم کر کے 18 سال کر دیا
گیا۔
تنہا شہریت:
زیادہ تر فیڈریشنوں میں، لوگوں کے پاس دوہری شہریت، یونین کی شہریت، اور یونین
بنانے والی متعدد ریاستوں میں سے ایک کی شہریت ہوتى ہے۔ ہر شہری ہندوستان کا شہری ہے اور شہریت کے یکساں
حقوق حاصل کرتا ہے چاہے وہ کسی بھی ریاست میں رہتا ہو۔
آزاد اور مضبوط عدلیہ:
افراد کے درمیان، یونین اور ریاست کے درمیان، یونین/ریاست اور افراد کے درمیان،
یونین اور ریاستوں کے درمیان، یا ریاستوں کے درمیان تنازعات کے غیر جانبدارانہ فیصلے
کے لیے عدلیہ کی آزادی ضروری ہے۔ لہذا آئین ایک آزاد
عدلیہ کی ضمانت دیتا ہے، جو آئین کی محافظ ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کو
یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ آئین سے متصادم کسی بھی قانون یا سرکاری اقدام کو کالعدم
قرار دے سکیں۔
واضح رہے كہ سپریم کورٹ ملک کے
متحدہ و مربوط عدالتی نظام میں سرفہرست
اور سب سے اعلى عدالت ہے۔ اس کے نیچے ریاستی
سطح پر ہائی کورٹس ہیں۔ عدالتوں کا یہ واحد نظام مرکزی قوانین کے ساتھ ساتھ ریاستی
قوانین دونوں کو نافذ کرتا ہے۔
سپریم کورٹ آف انڈیا ایک وفاقی عدالت، اپیل کی اعلیٰ ترین عدالت، شہریوں کے بنیادی
حقوق کی ضامن، اور آئین کی محافظ ہے۔
سختی اور لچک کا انوکھا امتزاج:
آئینِ ہند نہ مکمل طور پر سخت ہے اور نہ ہی مکمل طور پر لچکدار، بلکہ دونوں
کا حسین امتزاج ہے اور ایک متوازن آئین ہے ۔ سخت آئین وہ ہوتا ہے جس میں ترمیم کے لیے ایک خاص طریقہ کار کی ضرورت ہوتی ہے،
جب کہ لچکدار آئین وہ ہوتا ہے جس میں عام قوانین جس طرح بنائے جاتے ہىں اسى طرح ان
مىں ترمیم کی جاسکتی ہے۔
آئین کی بعض دفعات میں ترمیم کرنا مشکل ہے، جبکہ بعض میں آسانی سے ترمیم کی
جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اختیارات کی وفاقی تقسیم ایک سخت (Rigid) شق ہے، جس میں ترمیم کے لیے خاص طریقۂ کار درکار ہوتا
ہے، جبکہ انتظامی اور معاشی دفعات لچکدار ہیں اور ان میں سادہ اکثریت کے ذریعے
ترمیم کی جا سکتی ہے۔
لہذا وقت اور حالات کے مطابق آئىن ہند میں ترمیم کی جا سکتی ہے، لیکن اس کی بنیادی
ساخت (Basic Structure) کو چھیڑا نہیں جا
سکتا، جیسا کہ سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے۔
بنیادی فرائض:
آئین شہریوں کو صرف حقوق نہیں
دیتا بلکہ بنیادی فرائض بھی عائد کرتا ہے۔ اس كے
لىے 42 ویں آئینی ترمیمی ایکٹ کے ذریعے آئین میں حصہ 4 الف شامل کیا گیا، جس میں شہریوں کے بنیادی فرائض بیان کیے
گئے ہیں۔ جیسے:
آئین کی پاسداری
· قومی اتحاد کا تحفظ
· عوامی املاک کی حفاظت
· سائنسی فکر اور رواداری کا فروغ
ابتدا میں دفعہ 51A کی شق (الف) سے (ج) تک 10 فرائض شامل تھے۔بعد ازاں 86ویں آئینی ترمیمی ایکٹ 2002ء کے ذریعے شق (ک) شامل کی
گئی، جس میں والدین/سرپرستوں پر ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ یہ فرائض شہری شعور کو بیدار کرتے ہیں۔
اختیارات کی تقسیم:
اختیارات کی تقسیم کا نظریہ پہلى بار مشہور قانون دان مونٹیسکیو نے اپنی کتاب Esprit des Lois میں پیش کیا۔اس نظریے کے مطابق حکومت کے تینوں اداروں:مقننہ ، انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات ایک دوسرے سے الگ ہونے چاہئیں
تاکہ طاقت کا غلط استعمال نہ ہو۔
آئین ہند پارلیمانی خودمختاری اور عدالتی
بالادستی کو یکجا کرتا ہے، جس کے نتیجے میں
قانون سازی کے اختیار اور قوانین کی تشریح کے عدالتی اختیار کے درمیان توازن قائم
رہتا ہے۔
نتیجہ
آئینِ ہند محض دفعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ دستاویز ہے جو
آزادی، مساوات، انصاف اور بھائی چارے پر مبنی معاشرے کی تشکیل کا ضامن ہے۔ اس کی
خوبیاں اور خصوصیات ہندوستان کو ایک جمہوری، سیکولر اور فلاحی ریاست بناتی ہیں۔
موجودہ دور میں آئین کی حفاظت، اس پر عمل درآمد اور اس کی روح کو زندہ رکھنا ہر
شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
0 التعليقات: