رمضان و اعتكاف كے بعض مسائل

 

رمضان و اعتكاف كے بعض مسائل

                                        ابو مىمونہ

آيت: ﴿ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمْ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنْ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنْ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ﴾ (الْبَقَرَةِ: 187)

ترجمہ: تمہارے لىے روزہ كى رات مىں تمہارى عورتوں سے ہمبسترى كو حلال كىا گىا،  وہ تمہارے لىے لباس ہىں اور تم ان كے لىے لباس ہو ،  اللہ كو معلوم ہے كہ تم اپنے آپ سے خىانت كر رہے تھے ، مگر اس نے تمہارى توبہ قبول كركے تم كو معاف كردىا، اب تم ان سے ہمبسترى كرو اور جو اللہ نے تمہارے لىے لكھ دىا ہے اس كو طلب كرو، اور كھاؤ پىو ىہاں تك كہ صبح كا سفىد دھاگا سىاہ دھاگے سے واضح ہوجائے ، پھر رات تك اپنا روزہ پورا كرو  اور ان سے مباشرت نہ كرو اس حال مىں كہ تم مساجد مىں اعتكاف مىں ہو۔ ىہ اللہ تعالى كى حدود ہىں لہذا ان كے قرىب بھى مت جانا، اسى طرح اللہ تعالى اپنى آىتىں لوگوں كے لىے بىان كرتا ہے تاكہ وہ بچىں۔

معانى كلمات:

الرفث: رفث" اصل میں فحش کلام کو کہتے ہیں، اور خاص طور پر جماع کے وقت عورتوں سے متعلق گفتگو کو۔ بعد میں یہ لفظ بطور کنایہ مباشرت (جماع) کے لیے استعمال ہونے لگا، کیونکہ عموماً یہ کلام اسی کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔ عرب کہتے ہیں: رَفَثَ فِي كَلَامِهِ (نصر، فرح اور کرم کے ابواب کی طرح)، اور أَرْفَثَ — یعنی اس نے اپنی گفتگو میں فحش بات کی۔آیت میں "رفث" سے مراد جماع اور مباشرت ہے۔

تختانون:اختان سے ماخوذ ہے ، كہا جاتا ہے: اختان نفسہ اى خانہا و ظلمہا ظلما شدىدا ، غدر بھا و لم ىخلص لہا ىعنى اس كى خىانت كى اور اس پر سخت ظلم كىا ، اس كے ساتھ غدارى كى اور اس كے ساتھ اخلاص نہىں كىا۔

فالآن: لفظ "فالآن" دراصل اس وقت کے لیے بولا جاتا ہے جس میں انسان موجود ہو۔ کبھی یہ اپنے قریب ماضی کے لیے بھی آتا ہے، اور کبھی قریب الوقوع مستقبل کے لیے، جسے موجودہ وقت کے قائم مقام سمجھ کر تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہاں یہی آخری معنی مراد ہے۔

باشروھن: ﴿ بَاشِرُوهُنَّ ﴾"مباشرت" سے نکلا ہے، اور اس کا اصل معنی ہے: جلد کا جلد سے مل جانا۔ قرآنِ کریم نے اسے بطور کنایہ جماع کے لیے استعمال کیا ہے، کیونکہ جماع میں یہ کیفیت لازماً پائی جاتی ہے۔

ابتغوا: "ىہ فعل امر ہے معنى ہے : تم طلب کرو۔

ىتبىن: واضح ہوجائے ، نماىاں و ظاہر ہوجائے ۔

الخىط الابىض: سفىد دھاگا ىعنى صبح صادق  كى دھارى

الخىط الاسود: كا لا دھاگا ىعنى سىاہى شب كى دھارى

الفجر: "فجر" کا اصل معنی ہے شگاف کرنا اور چیر دینا۔ اسی بنا پر رات کے آخری حصے میں "فجر" اس وقت کو کہتے ہیں جب صبح کی روشنی رات کی تاریکی کو چیرتی ہوئی نمودار ہوتی ہے۔

عاكفون:اعتکاف کے لغوی معنی ہیں: کسی چیز کو لازم پکڑ لینا اور اس پر جم جانا۔ کہا جاتا ہے: عَكَفَ عَلَى الشَّيْءِ یعنی وہ اس چیز پر متوجہ ہو کر اس کا پابند ہو گیا۔

حدود: حد کی جمع ہے، اور لغت میں حد اس رکاوٹ کو کہتے ہیں جو دو متقابل چیزوں کے درمیان حائل ہو تاکہ ایک دوسرے میں داخل نہ ہو سکے۔

تقربوھا:اس كے  قرىب  مت جاؤ ۔( موقع المعانى و الوسىط للطنطاوى)

تفسىر:

 ماہ رمضان اور اس كے روزہ سے متعلق قرآن مجىد كى سورہ بقرہ  مىں كل چار بنىادى  آىتىں (183-185 ، 187) ہىں   اور ان كے درمىان اىك آىت 186 دعا سے متعلق ہے جس مىں اس كا مؤثر بىان ہے ۔ اس کے بعد قرآنِ کریم دوبارہ روزے کے احکام اور اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر اس رحمت کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو اس نے ان کے لیے شریعت میں رکھی ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: :( أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصيام الرفث إلى نِسَآئِكُمْ . . . )"تمہارے لیے روزوں کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا ہے۔(الوسىط للطنطاوى)

  ہمارے پروردگار — جو اپنے بندوں پر نہایت مہربان اور ان کے حالات سے پوری طرح باخبر ہے — نے روزے کی حالت میں مسلمانوں کو ایک رخصت عطا فرمائی۔ چنانچہ اُس حکم کو منسوخ کر دیا جو اسلام کے ابتدائی دور میں نافذ تھا۔ اس وقت صورتِ حال یہ تھی کہ جب کوئی روزہ دار افطار کرتا تو اسے کھانے، پینے اور ازدواجی تعلق کی اجازت صرف عشاء کی نماز تک یا اس سے پہلے سونے تک ہوتی تھی۔ اگر کوئی شخص  اس سے پہلے سو جاتا یا عشاء کی نماز ادا کر لیتا تو پھر اگلی رات تک اس پر کھانا، پینا اور بیوی سے تعلق قائم کرنا حرام ہو جاتا تھا۔

اس حکم کی وجہ سے صحابۂ کرامؓ کو شدید مشقت پیش آئی، تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے آسانی اور تخفیف نازل فرمائی۔(موقع ملتقى الخطباء: احل لكم ليلة الصيام الرفث الى نسائكم،  د. محمود بن احمد الدوسري،  تارىخ اشاعت: 26-3-2024ع )

شان نزول:

اس آیت کے نزول کی وجہ وہ سخت مشقت  اور شدىد دشوارى ہے جو بعض صحابہ کو رات مىں سونے كى وجہ سے  كھانا   نہ کھانے کی وجہ سے پیش آئی اور وہ گناہ جو ان میں سے بعض سے  رات کو اپنی بیویوں سے جماع کرنے سے سرزد ہوا جو عشاء کی نماز پڑھنے یا اس  سے پہلے سو جانے سے ان پر حرام تھا۔

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے جب کوئی روزہ دار ہوتا اور افطار کا وقت آ جاتا، پھر وہ افطار سے پہلے سو جاتا تو وہ نہ اس رات کچھ کھاتا اور نہ اگلے دن شام تک کھا سکتا تھا۔

اور حضرت قیس بن صرمہ انصاری رضی اللہ عنہ روزہ سے تھے۔ افطار کے وقت اپنی اہلیہ کے پاس آئے اور پوچھا: “کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟” انہوں نے کہا: “نہیں، لیکن میں آپ کے لیے تلاش کرتی ہوں۔” وہ دن بھر محنت مزدوری کرتے رہے تھے، اس لیے آنکھ لگ گئی۔ جب ان کی اہلیہ واپس آئیں اور انہیں سویا ہوا دیکھا تو کہا: “آپ تو محروم رہ گئے!”اگلے دن دوپہر تک ان پر غشی طاری ہو گئی۔ اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی:﴿ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ ﴾“روزے کی راتوں میں تمہارے لیے اپنی بیویوں سے مباشرت حلال کر دی گئی ہے۔”صحابہؓ اس پر بے حد خوش ہوئے۔ اور یہ آیت بھی نازل ہوئی:

﴿ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ ﴾ اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے نمایاں ہو جائے (یعنی صبح صادق طلوع ہو جائے) ۔( بخارى)

ایک اور روایت میں حضرت براءؓ فرماتے ہیں: جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو لوگ پورے مہینے بیویوں سے دور رہتے تھے، لیکن بعض لوگ اپنی نفسوں  سے خیانت کر بیٹھتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

﴿ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ ﴾ اللہ جانتا تھا کہ تم اپنی نفسوں سے خیانت کر رہے تھے، سو اس نے تمہاری توبہ قبول کر لی اور تمہیں معاف کر دیا۔(بخارى)یعنی: تم رمضان کی راتوں میں مباشرت کر کے اپنے  نفسوں كى خىانت كرتے ہو  اور اس پر ظلم كرتے ہو ، جب کہ تمہیں اس سے منع کیا گیا ہے، اور تم اپنے اعمال سے اپنے اجر کو کم کر رہے ہو۔(موقع ملتقى الخطباء: احل لكم ليلة الصيام ....،  د. محمود الدوسري)

شان نزول كا بىان  ختم ہوا ۔ اب دوبارہ تفسىر كى طرف لوٹتے ہىں ۔

اللہ تعالى كا فرمان: ﴿ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ ﴾

 میاں بیوی کے درمیان ازدواجی امور سے متعلق ایسی گفتگو کا جواز ہے جسے عام لوگوں کے سامنے بیان کرنے میں حیا محسوس کی جاتی ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 2﴿ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ ﴾اور "رفث" میں وہ گفتگو بھی شامل ہے جو جماع اور شہوت سے متعلق ہو۔(موقع ملتقى الخطباء: احل لكم ليلة الصيام ....،  د. محمود الدوسري)

یہ لفظ یہاں "إلى" کے ساتھ متعدی ہوا ہے، حالانکہ عام استعمال میں کہا جاتا ہے: رفث بالمرأة (عورت کے ساتھ مباشرت کی)۔ یہاں "إلى" اس لیے لایا گیا ہے کہ اس میں "إفضاء" (باہمی اختلاط و قربت) کا مفہوم شامل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے:﴿ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ ﴾لہٰذا معنی یہ ہے کہ اللہ نے تمہارے لیے روزوں کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانے، ان سے قربت اور مباشرت کو حلال کر دیا ہے۔(الوسىط للطنطاوى)

 اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:﴿ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ﴾ درحقیقت روزوں کی راتوں میں عورتوں سے مباشرت کے جواز کی حکمت اور سبب کو بیان کرنے کے لیے آیا ہے۔ میاں بیوی میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے لباس اور پردہ ہے؛ وہ اسے حفاظت اور عفت فراہم کرتا ہے۔

اس لیے کہ میاں بیوی میں سے ہر ایک دوسرے سے سکون پاتا ہے، اور باہمی قربت اس درجہ کی ہوتی ہے کہ گویا وہ لباس کی طرح ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے ہیں۔ عرب عورت کو "لباس" بھی کہا کرتے تھے۔ ایسی حالت میں مباشرت کے اسباب قوی ہو جاتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر مہربانی فرماتے ہوئے اسے روزے کی راتوں میں جائز قرار دیا۔

الراغب الأصفهاني فرماتے ہیں:

"لباس کو زوج (شوہر یا بیوی) سے کنایہ کیا گیا ہے، کیونکہ وہ اپنے نفس اور اپنے شریکِ حیات کے لیے پردہ ہوتا ہے، تاکہ ان سے کوئی عیب ظاہر نہ ہو، جیسے لباس انسان کو برہنگی سے بچاتا اور اس کے عیوب کو ڈھانپتا ہے۔"

اورزمخشري (صاحبِ کشاف) فرماتے ہیں:

اگر تم پوچھو کہ ﴿ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ ﴾ کا یہاں کیا محل ہے؟ تو میں کہوں گا: یہ استئناف ہے، جو اباحت کی علت و سبب کو بیان کر رہا ہے۔ یعنی جب تمہارے اور ان کے درمیان اس قدر اختلاط اور قربت ہے تو تمہارے لیے ان سے صبر کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور ان سے اجتناب دشوار ہوتا ہے، اسی لیے تمہیں ان سے مباشرت کی رخصت دی گئی۔

اس قرآنی تعبیر میں جو لطافت، حیا، بلاغت اور بلند پایہ تصویری حسن ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ مرد اور اس کی بیوی کے درمیان گہری وابستگی، محبت، شدتِ اتصال اور باہمی پردہ پوشی کو نہایت پاکیزہ اور مہذب انداز میں بیان کرتی ہے۔(الوسىط للطنطاوى)

اللہ تعالى كا قول ﴿ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ ﴾ اس بات كى دلىل ہے كہ گناہ کرنا دراصل اپنے آپ سے خیانت کرنا ہے ۔

﴿ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ﴾ اللہ نے تمہارے لیے وہ امر وسیع کر دیا جو پہلے گناہ کا موجب تھا اگر اس مىں وسعت نہ دى جاتى ۔ یہ نسخ تمہارے حق میں رحمت ثابت ہوا؛ کیونکہ اگر یہ تخفیف نہ ہوتی تو بہت سے لوگ حرام کے مرتکب ہو جاتے۔

﴿ وَعَفَا عَنْكُمْ ﴾اس نے تمہارے گناہ مٹا دیے اور جو كچھ تم سے واقع ہوا اس سے درگذر فرماىا  اور تمہیں سزا نہیں دی۔

﴿ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ ﴾ اب تم اپنی بیویوں سے مباشرت کرو — یہ حکم اباحت کے لیے ہے، کیونکہ ممانعت کے بعد آیا ہے۔ مباشرت سے مراد جماع ہے كىونكہ اس مىں مرد و عورت كے جلد آپس مىں مل جاتے ہىں ۔

﴿ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ ﴾یعنی: (راتوں میں) ازدواجی تعلق کے ذریعے اُس چیز کو طلب کرو جو اللہ نے تمہارے لیے مقدر کر دی ہے اور تمہارے حصے میں اولاد میں سے جو کچھ لکھ دیا ہے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرو۔(ملتقى الخطباء: الدوسرى) پچھلے حکم کی مزید تاکید ہے۔(الوسىط للطنطاوى)اور ساتھ ہی یہ بھی کہ رمضان کی راتوں میں عبادت پر حرص و شوق رکھتے ہوئے اجر و ثواب کو بھی تلاش کرو۔(ملتقى الخطباء: الدوسرى)

مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہارے لیے رمضان کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانے اور ان سے قربت اختیار کرنے کو حلال کر دیا، حالانکہ اس سے پہلے یہ تم پر حرام تھا۔ یہ ہماری طرف سے فضل اور تم پر رحمت ہے۔ پس اب تم ان سے مباشرت کرو اور اس مباشرت کے پسِ پشت اُس چیز کو طلب کرو جو اللہ نے تمہارے لیے مقدر کی ہے — یعنی نیک اولاد، اور حرام کاموں سے بچتے ہوئے پاکدامنی اختیار کرنا۔

اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نکاح کو اس لیے مشروع کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعے نسل کی افزائش ہو، تاکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق نوعِ انسانی کا بقا قائم رہے، اور انسان خود کو زنا جیسے فحش گناہ میں مبتلا ہونے سے محفوظ رکھ سکے۔(الوسىط للطنطاوى)

اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت کا مظہر یہ ہے کہ اس نے ان پر آسانی فرمائی اور روزوں کی راتوں میں فجر طلوع ہونے تک بیوی سے تعلق، کھانے اور پینے کو جائز قرار دیا۔ یہ پہلے کے زیادہ سخت حکم سے ہلکے اور آسان حکم کی طرف تبدیلی (نسخ) ہے۔(موقع ملتقى الخطباء: احل لكم ليلة الصيام ....،  د. محمود الدوسري،  تارىخ اشاعت: 26-3-2024ع )

﴿ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الفجر ﴾

جىسا كہ اوپر بىان كىا گىا كہ شروع اسلام مىں كھانے پىنے اور ازدواجى تعلق كا وقت بہت ہى مختصر و محدود تھا جس سے كافى مشقت و پرىشانى ہوتى تھى ، لہذا اس آىت كے ذرىعہ سابقہ حكم كو منسوخ   كركے  پورى رات صبح صادق سے پہلے  تك ان امور كى اجازت دى گئى جس سے كافى سہولت ہوئى ۔

صحیح روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں موجود الفاظ ﴿ مِنَ الفجر ﴾ پہلے نازل نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کا نزول سابقہ جملوں کے بعد ہوا۔

چنانچہ صحیح البخاری اور صحیح مسلم میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:﴿ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ ﴾

تو بعض لوگ  جن كا ارادہ روزہ ركھنے كا ہوتا  وہ اپنے پاؤں میں ایک سفید اور ایک سیاہ دھاگا باندھ لیتے، اور اس وقت تک کھاتے رہتے جب تک انہیں دونوں دھاگوں میں فرق نظر نہ آ جاتا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ﴿ مِنَ الفجر ﴾ کے الفاظ نازل فرمائے، تب انہیں معلوم ہوا کہ اس سے مراد رات اور دن کی سفیدی و سیاہی ہے۔

اسی طرح حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے ایک سفید اور ایک سیاہ رسی لی اور انہیں اپنے تکیے کے نیچے رکھ لیا، اور رات میں انہیں دیکھتا رہا مگر مجھے فرق واضح نہ ہوا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:"اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے۔"پھر ﴿ مِنَ الفجر ﴾ کے الفاظ نازل ہوئے۔(الوسىط للطنطاوى)

دن کی سفیدی اور رات کی سیاہی کو سفید اور سیاہ دھاگے سے اس لیے تشبیہ دی گئی ہے کہ افق میں پھیلنے والی فجر کی ابتدائی روشنی اور اس کے ساتھ باقی رہنے والی مدھم تاریکی ایک لمبے کھنچے ہوئے دھاگے کی مانند دکھائی دیتی ہے۔

آیت میں ﴿ حَتَّى يَتَبَيَّنَ ﴾ (یہاں "تفعّل" کا صیغہ) استعمال کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ محض گمان کافی نہیں، بلکہ واضح اور یقینی طور پر فجر کا ظاہر ہونا ضروری ہے۔

چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"تمہیں بلال کی اذان یا یہ سفیدی دھوکے میں نہ ڈالے، جب تک کہ فجر ظاہر نہ ہو جائے — یا فرمایا — جب تک فجر شگافتہ ہو کر نمودار نہ ہو جائے۔"

اور اللہ كا قول ﴿ مِنَ الفجر ﴾"الخيط الأبيض" کی وضاحت کے لیے آیا ہے۔ سیاہ دھاگے کی الگ وضاحت نہیں کی گئی، کیونکہ ایک کی وضاحت دوسرے کی وضاحت کو بھی شامل ہے۔(الوسىط للطنطاوى)

اللہ تعالى كا قول:﴿ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمْ ﴾

اس بات كى دلىل ہے كہ جو شخص طلوعِ فجر کے بارے میں شک کی حالت میں کھا پی لے یا ازدواجی تعلق قائم کر لے تو اس پر کچھ لازم نہیں؛ کیونکہ اس کے لیے فجر واضح نہیں ہوئی تھی، جیسا کہ فرمایا:﴿ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمْ ﴾ اصل حکم رات کے باقی رہنے کا ہے، اور یقین شک سے زائل نہیں ہوتا۔

اللہ تعالى كا فرمان:﴿ثم  أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ﴾ سے معلوم ہوتا ہے :

جو شخص غروبِ آفتاب کے بارے میں شک کرتے ہوئے کھا پی لے یا جماع کر لے تو اس پر قضا لازم ہوگی؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ﴾ اور اصل حکم دن کے باقی رہنے کا ہے۔

 جو شخص فجر سے پہلے بیوی سے تعلق میں ہو اور اسی حالت میں فجر طلوع ہو جائے، اور وہ فوراً الگ ہو جائے، تو اس کا روزہ درست ہے اگرچہ وہ جنابت کی حالت میں دن میں داخل ہوا ہو۔ اس کی جنابت روزے کو نقصان نہیں دیتی۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ ﷺ جماع کی وجہ سے (احتلام کی وجہ سے نہیں) جنبی حالت میں صبح کرتے، پھر روزہ رکھتے۔ (بخاری)

اسی طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جماع کی وجہ سے جنبی حالت میں صبح کرتے، پھر نہ افطار کرتے اور نہ قضا کرتے۔ (صحیح مسلم)

اللہ تعالى كا فرمان:﴿ثم  أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ﴾ سے معلوم ہوتا ہے :

 وصال (مسلسل کئی دن بغیر افطار کیے روزہ رکھنا) حرام ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ﴾ اور رات ہوتے ہى (سورج غروب ہونے كے فورا بعد) روزہ افطار كرلو، تاخىر مت كرو ۔ جىسا كہ حدىث مىں بھى روزہ جلد افطار كرنے كى تاكىد اور فضىلت آئى ہے  : لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ"لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔" (بخارى و مسلم )

سحری کھانا مستحب ہے؛ کیونکہ وہ روزے میں مددگار ہے، اس میں برکت ہے، اہلِ کتاب کی مخالفت ہے، نمازِ فجر کے لیے بیدار ہونے میں معاون ہے، اور اللہ اور اس کے فرشتے سحری کرنے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔(موقع ملتقى الخطباء: احل لكم ليلة الصيام ....،  د. محمود الدوسري)

اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ و انتم عاكفون فى المساجد ﴾ (اور تم ان سے مباشرت نہ کرو) — اگر یہ مطلق طور پر آتا تو اس سے یہ گمان ہو سکتا تھا کہ معتکف بھی روزہ دار کی طرح ہے، یعنی وہ دن میں تو مباشرت نہ کرے مگر رات میں کر سکتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس جملے کے ذریعے واضح فرما دیا کہ معتکف پر عورتوں سے مباشرت رات اور دن دونوں میں حرام ہے۔(الوسىط للطنطاوى)

اعتکاف کے لغوی معنی ہیں: کسی چیز کو لازم پکڑ لینا اور اس پر جم جانا۔ کہا جاتا ہے: عَكَفَ عَلَى الشَّيْءِ یعنی وہ اس چیز پر متوجہ ہو کر اس کا پابند ہو گیا۔ایک شاعر كا كہنا ہے:

وظلَّ بناتُ الليلِ حولي عُكَّفاً*****عُكوفَ البواكي بينهنَّ صريعُ

یعنی رات کی بیٹیاں — ستارے — میرے گرد اس طرح ٹھہرے رہے جیسے ماتم کرنے والی عورتیں کسی مقتول کے گرد جمع ہوں۔

چونکہ معتکف اپنے اعتکاف کی مدت میں اللہ کی اطاعت کے عمل کو لازم پکڑ لیتا ہے، اس لیے اسے یہ نام دیا گیا۔

شرعی اصطلاح میں اعتکاف کا مطلب ہے:

مخصوص وقت میں، مخصوص شرط کے ساتھ، مخصوص جگہ میں، ایک خاص عبادت کو لازم پکڑ لینا۔

علماء کا اس پر اجماع ہے کہ اعتکاف فرض نہیں ہے بلکہ نیکیوں میں سے ایک نیکی اور نفلی عبادت ہے، جس پر رسول اللہ ﷺ، آپ کے صحابہ اور ازواجِ مطہرات نے عمل کیا۔ البتہ اگر کوئی شخص اسے اپنے اوپر لازم کر لے (نذر کے طور پر) تو پھر اس کی پابندی ضروری ہو جاتی ہے۔

اور جس شخص کو یہ اندیشہ ہو کہ وہ اس کے حقوق ادا نہ کر سکے گا، اس کے لیے اعتکاف میں داخل ہونا مکروہ ہے۔(تفسىر قرطبى )

علماء کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ اعتکاف صرف مسجد میں ہی ہوگا۔ البتہ آیتِ کریمہ میں ﴿ فِي الْمَسَاجِدِ ﴾ سے کون سی مساجد مراد ہیں، اس میں اختلاف ہے:

      بعض کے نزدیک اس سے وہ خاص مساجد مراد ہیں جو کسی نبی نے تعمیر کی ہوں، جیسے مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی اور بیت المقدس۔

      بعض کہتے ہیں کہ اعتکاف صرف اس مسجد میں ہوگا جہاں جمعہ قائم ہوتا ہو۔

      اور بعض کے نزدیک ہر مسجد میں اعتکاف جائز ہے۔(تفسىر قرطبى و الوسىط للطنطاوى)

خلاصہ كلام ىہ كہ  اعتکاف کی مشروعیت ثابت ہے، اور وہ ہر اُس مسجد میں درست ہے جہاں باجماعت نماز ادا کی جاتی ہو۔ یہ صرف تین مساجد کے ساتھ خاص نہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فِي الْمَسَاجِدِ ﴾(مساجد میں)۔

رہا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت:"اعتکاف صرف تین مساجد میں ہے"

تو یہ روایت صحیح ہے اور اسے امام بیہقی نے نقل کیا ہے؛ لیکن اس سے مراد کامل اور افضل اعتکاف ہے (یعنی ان مساجد میں اعتکاف کا درجہ زیادہ کامل ہے)۔ (موقع ملتقى الخطباء: احل لكم ليلة الصيام ....،  د. محمود الدوسري)

حالتِ اعتکاف میں جماع اور اس کے مقدمات (شہوانی تعلقات) سے منع کیا گیا ہے، اور یہ اعتکاف کو باطل کر دیتے ہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ ﴾

لہٰذا معتکف کے لیے جائز نہیں کہ وہ شہوت کے ساتھ اپنی بیوی سے مباشرت کرے، نہ مسجد میں اور نہ باہر؛ حتیٰ کہ اگر وہ اعتکاف کے دوران کسی ضرورت سے گھر جائے تب بھی ایسا کرنا اعتکاف کو باطل کر دے گا۔

رمضان کے علاوہ ایام میں بھی اعتکاف کی حالت میں روزہ رکھنا مستحب ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اعتکاف کا ذکر روزے کی آیات کے ضمن میں فرمایا ہے۔(موقع ملتقى الخطباء: احل لكم ليلة الصيام ....،  د. محمود الدوسري)

عورتوں كے لىے بھى اعتكاف كرنا جائز و شرعى عمل ہے لىكن ان كا بھى اعتكاف مسجد مىں ہى ہوگا۔ازواج مطہرات نے بھى مسجد مىں اعتكاف كىا ہے ۔اس لىے عورتوں كا اپنے گھروں مىں اعتكاف كرنا صحىح نہىں ہے ۔ البتہ مسجد مىں ان كے لىے ہر چىز كا مردوں سے الگ انتظام كرنا ضرورى ہے تاكہ مردوں سے كسى قسم كا اختلاط نہ ہو، جب تك مسجد مىں معقول، محفوظ اور مردوں سے بالكل الگ انتظام نہ ہو عورتوں كو مسجد مىں اعتكاف كرنے كى اجازت نہىں دىنى چائىے اور عورتوں كو بھى اس پر اصرار نہىں كرنا چائىے ۔ ىہ اىك نفلى عبادت ہى ہے ، جب تك پورى طرح حفاظت نہ ہو اس نفلى عبادت سے گرىز بہتر ہے ۔ فقہ كا اصول ہے: درء المفاسد اولى من جلب المصالح ىعنى مفاسد كا دور كرنا مصالح كے حصول كے مقابلے مىں اولى و بہتر ہے ۔ (تفسىر احسن البىان)

اللہ تعالیٰ کے فرمان:﴿ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا ﴾ میں "تِلْكَ" سے اشارہ ان احکام کی طرف ہے جن کا پہلے بیان ہو چکا — یعنی کچھ کا واجب ہونا، کچھ کا حرام ہونا اور کچھ کا جائز ہونا۔

"حدود" حد کی جمع ہے، اور لغت میں حد اس رکاوٹ کو کہتے ہیں جو دو متقابل چیزوں کے درمیان حائل ہو تاکہ ایک دوسرے میں داخل نہ ہو سکے۔اسی سے لوہے کو "حدید" کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ ہتھیار کو جسم تک پہنچنے سے روکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ احکام کو "حدود" اس لیے کہا گیا کہ وہ حق اور باطل کے درمیان حدِ فاصل ہیں۔

یعنی: وہ احكام جن كو ہم نے تمہارے لىے مقرر كىا ہے جىسے :  روزہ فرض کرنا، دن میں کھانے پینے اور جماع کو حرام قرار دینا، اور رات میں ان چیزوں کو جائز کرنا — یہ سب اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں، جن کی خلاف ورزى یا تجاوز تمہارے لیے جائز نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ان احکام کی مخالفت سے روکنے کے لیے فرمایا:﴿ فَلَا تَقْرَبُوهَا ﴾(ان کے قریب بھی نہ جاؤ

یہ اندازِ بیان ان احكام كى  مخالفت سے  تنبىہ مىں بطور مبالغہ ہے ، کیونکہ جب کسی چیز کے قریب جانے سے منع کر دیا جائے تو خود اس کے ارتکاب سے تو بدرجۂ اولیٰ منع ہو جاتا ہے۔

یہ آیت اپنے اس اسلوب سے اس بات کی رہنمائی بھی کرتی ہے کہ انسان شبہ والی چیزوں سے بھی بچے، اور ان امور سے بھی دور رہے جو عموماً حرام میں مبتلا ہونے کا سبب بنتے ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیتِ کریمہ کو اپنے اس فرمان پر ختم فرمایا:﴿ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ﴾

یعنی: جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس جامع اور واضح بیان کے ذریعے اپنی وہ حدود کھول کر بیان کر دیں جن کی پابندی کا اس نے تمہیں حکم دیا اور جن کی مخالفت سے منع فرمایا، اسی طرح وہ تمہارے لیے اپنی آیات — یعنی اپنی دلیلیں اور حجتیں — واضح کرتا ہے، تاکہ تم اپنے آپ کو ان کاموں سے بچاؤ جو تمہیں عذاب تک پہنچا سکتے ہیں، اور تم ان لوگوں میں شامل ہو جاؤ جن سے اللہ راضی ہو اور جو اللہ سے راضی ہوں۔

اس طرح یہ آیتِ کریمہ روزے کے بیان کو اس انداز میں مکمل کرتی ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر شفقت، ان کے مصالح و منافع کی رعایت اور ان پر اس کی مہربانی کے مظاہر نمایاں ہیں۔ اس کا اسلوب نہایت بلیغ ہے، جس میں ترغیب و ترہیب، اباحت و تحریم اور ہدایت و رہنمائی کے مختلف پہلو یکجا ہو گئے ہیں، تاکہ انسان اپنے دین و دنیا دونوں میں کامیابی حاصل کر سکے۔

قرآنِ کریم نے جب روزے اور اس سے متعلقہ احکام کا بیان مکمل کر لیا تو اس کے بعد حرام مال کھانے سے منع فرمایا، کیونکہ حرام کمائی عبادات — جیسے روزہ، اعتکاف اور دعا — کی قبولیت میں رکاوٹ بنتی ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:﴿ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ ... ﴾اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ، اور نہ ہی اسے حاکموں تک پہنچاؤ [رشوت کے طور پر] …(الوسىط للطنطاوى)

 صاحب بىان كا كہنا ہے كہ روزہ اس لیے فرض کیا گیا ہے اور یہ سارے احکام تمہیں اسی لیے دیے جا رہے ہیں تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہوجائے اور تقویٰ کا لٹمس ٹیسٹ ہے اکل حلال۔ اگر یہ نہیں ہے تو کوئی نیکی نیکی نہیں ہے۔(بىان القرآن)

بلا شبہ مومن کی زندگی ایک قسم کی روزہ دار زندگی ہے۔ اس کو ساری عمر کچھ چیزوں سے ’’افطار‘‘ کرنا ہے اور کچھ چیزوں سے مستقل طور پر’’روزہ‘‘ رکھ لینا ہے۔ رمضان کا مہینہ اسی کی تربیت ہے۔ پھر روزہ کی محتاط زندگی اور اس کا پُرمشقت عمل یہ سبق دیتاہے کہ اللہ کا عبادت گزار بندہ وہ ہے جو تقویٰ کی سطح پر اللہ کی عبادت کررہا ہو۔ اللہ کو پکارنے والا صرف وہ ہے جو قربانیوں کی سطح پر اللہ کی نزدیکی حاصل کرے۔(تذكىر القرآن)

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ ہر مسلمان كو رمضان كے تقاضوں كو پورا كرنے اور اس كے تمام حقوق كو ادا كرنے كى توفىق عطا فرمائے اور اس كے  مقر ر كردہ حدودكى پابندى كى توفىق دے۔ آمىن

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: