آئىن ہند : درپىش چىلنجز اور ہمارى ذمہ دارىاں

 

آئىن ہند : درپىش چىلنجز اور ہمارى ذمہ دارىاں

چىف اىڈىٹر

26 /جنوری 2026ع كى مناسبت سے “آئینِ ہند نمبر” کی اشاعت محض ایک رسمی عمل نہیں بلکہ قومی شعور کی تجدید ہے۔ یہ لمحہ ہمیں اس دستاویز کی یاد دہانی کراتا ہے جو آزادی کی مشترکہ جدوجہد کا ثمر اور ہندوستان کے اجتماعی ضمیر کی آواز ہے۔ ہم اس موقع پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اُن اہلِ قلم کے ممنون ہیں جن کی فکری کاوشوں سے اس شمارہ كى اشاعت ہوئى ۔

یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ ہندوستان کی آزادی تمام قوموں کی مشترکہ قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ اسی مشترکہ شعور کی عملی صورت آئینِ ہند ہے، جسے دستور ساز اسمبلی نے غیر معمولی بصیرت، وسعتِ نظر اور دور اندیشی کے ساتھ مرتب کیا۔ اسی لیے یہ آئین کسی ایک طبقے یا مذہب کی نہیں، بلکہ تمام باشندگانِ وطن کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے۔

آئینِ ہند دنیا کا طویل ترین تحریری دستور ہے، مگر اس کی اصل طاقت طوالت نہیں بلکہ توازن ہے: سختی اور لچک کا امتزاج، وفاقی ڈھانچے میں وحدانی ہم آہنگی، پارلیمانی خودمختاری کے ساتھ عدالتی بالادستی، قانون کی حکمرانی، اور ایک آزاد و مربوط عدلیہ۔ اس کے بنیادی حقوق بلا امتیاز سب کے لیے ہیں، اور اقلیتوں کو مذہبی آزادی، تشخص کے تحفظ اور تعلیمی اداروں کے قیام و انتظام کا مکمل حق حاصل ہے۔ یہی وہ قدریں ہیں جو ایک متنوع سماج کو مضبوط قوم بناتی ہیں۔

آئین کا دیباچہ اس پورے نظام کا نچوڑ ہے—انصاف، آزادی، مساوات اور اخوت کا عہد۔ یہی عہد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سیکولرزم محض لفظ نہیں، بلکہ عملی انصاف اور باہمی احترام کا نام ہے۔

آئین کے سلسلے میں موجودہ دور کے اہم مسائل

اوّل: آئین پر عمل درآمد کی کمزوری

یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ آئینِ ہند کی متعدد شقیں کتابوں اور تقاریر تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ عملی سطح پر آئینی اصولوں، خصوصاً مساوات، عدلِ اجتماعی اور بنیادی حقوق کے نفاذ میں کمزوری دکھائی دیتی ہے۔ قوانین کی موجودگی کے باوجود ان پر غیر جانبدار اور یکساں عمل نہ ہونا آئینی روح کو مجروح کرتا ہے اور عوام کے اعتماد کو کمزور بناتا ہے۔

دوم: آئینی اقدار سے انحراف

آئین کا اصل مقصد صرف نظم و نسق قائم کرنا نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور انسانی سماج کی تشکیل بھی ہے۔ جب سیاست، طاقت یا اکثریتی دباؤ آئینی حدود سے تجاوز کرنے لگے، جب مذہب، زبان یا نسل کی بنیاد پر تفریق کو فروغ دیا جائے، تو یہ آئینی اقدار—سیکولرزم، اخوت، انصاف اور رواداری—سے صریح انحراف کے مترادف ہوتا ہے۔

سوم: موجودہ دور کے چیلنجز اور خطرات

عصرِ حاضر میں آئینِ ہند کو کئی نئے اور پیچیدہ چیلنجز درپیش ہیں، جن میں فرقہ وارانہ کشیدگی، نفرت انگیز بیانیہ، جمہوری اداروں پر دباؤ، اظہارِ رائے کی محدود ہوتی آزادی، اور شہری حقوق کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے چینی شامل ہیں۔ ڈیجیٹل دور میں غلط معلومات، سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور عوامی جذبات کی سیاست نے بھی آئینی توازن کو متاثر کیا ہے۔

موجودہ دور میں آئینِ ہند کو جن خطرات کا سامنا ہے وہ کسی ایک سمت یا طبقے تک محدود نہیں۔ آئینی اداروں کو کمزور کرنے کی کوششیں، قانون کی غیر مساوی تعبیر، اکثریت کے نام پر اقلیتوں کے حقوق سے چشم پوشی اور جمہوری اقدار کی تدریجی کمزوری ایسے عوامل ہیں جو آئین کی روح کے لیے سنجیدہ خطرہ بن چکے ہیں۔ آئین صرف دفعات کا مجموعہ نہیں بلکہ باہمی اعتماد، عدل اور انسانی وقار کا عہد ہے؛ جب یہ عہد مجروح ہوتا ہے تو پورا سماج عدمِ توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔

اور ىہ بات حتمى اور ىقىنى ہے  كہ ماضى اور حاضر مىں آئىن ہند كا سب سے بڑا  مخالف، دشمن اورشدىد  خطرہ آر اىس اىس اور اس كى سىاسى تنظىم  جن سنگھ  اور فى الحال بى جى پى تھى اور ہے جو اس كو روزآنہ پامال كر رہے ہىں اور ان كى سچى نىت اور پختہ ارادہ  اس كو بدلنے كاہے جىسا كہ اس كا اظہار اس كے كئى لىڈروں مثلا: اننت کمار ہیگڑے Anantkumar ،Hegde دیا کماری Diya Kumari، ارون گوویل    (Arun Govil وغىرہ نے لوك سبھا جنرل الىكشن 2024ع كے موقع پر علانىہ طور پر  كىا تھا ۔

ہمارى ذمہ داریاں

ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ آئین کو محض تاریخی ورثہ نہ سمجھا جائے بلکہ ایک زندہ دستاویز کے طور پر اپنایا جائے۔ اس کی حفاظت صرف عدالتوں یا آئینی اداروں کی نہیں، بلکہ ہر شہری، ہر ادارے اور ہر اہلِ قلم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آئین پر مضبوطی سے عمل ہی ہندوستان کی وحدت، جمہوریت اور مستقبل کی ضمانت ہے۔

ان  نازک حالات میں مسلمانوں سمیت تمام شہریوں کی آئینی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم آئین کو سمجھیں، اس کے بنیادی اصولوں پر عمل کریں، اور اختلاف کے باوجود قانون کی بالادستی کو مقدم رکھیں۔ شہری آزادیوں کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ ہو، مذہبی و سماجی تشخص کے اظہار میں آئینی حدود کا احترام کیا جائے، اور ہر سطح پر انصاف، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔ آئین کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب ہر شہری اسے اپنی ذمہ داری سمجھے، کیونکہ آئین کی بقا ہی ہندوستان کی جمہوریت، وحدت اور پائیدار مستقبل کی ضمانت ہے۔

اختلافِ رائے جمہوریت کی روح ہے، مگر قانون کی بالادستی اس کی حد۔ ہمیں آئین کو کتاب سے آگے بڑھا کر عمل میں ڈھالنا ہوگا—تعصب کے مقابلے میں مساوات، نفرت کے مقابلے میں ہم آہنگی، اور طاقت کے مقابلے میں قانون۔

خلاصہ یہ کہ آئینِ ہند ہندوستان کی روح، اس کی دھڑکن اور اس کے مستقبل کی ضمانت ہے۔ اسی میں امن و امان، برابری، انسانی وقار اور قومی یکجہتی کا تحفظ مضمر ہے۔ آئیں، ہم سب مل کر اس عہد کی تجدید کریں کہ آئین کو سمجھیں گے بھی اور اس پر عمل بھی کریں گے۔

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ ہمارے وطن عزىز كو امن و امان كا گہوارہ بنائے ، اسے ہر مىدان مىں خوب  ترقى  عطا فرمائے اور اسے حاسدىن كے حسد اور اشرار كے شر سے محفوظ ركھے ۔ آمىن

خصوصی شمارہ پر اىك نظر  :

الحمد للہ "آئىن ہند نمبر " یہ مجلہ کا 10/ واں خصوصی شمارہ  ہے۔ در اصل گذشتہ جنورى مىں ہى ىہ خصوصى شمارہ نكالنے كا ارادہ تھا لىكن اس وقت ىہ ارادہ بعض وجوہات خصوصا وقت كى قلت كى وجہ سے چھوڑنا پڑا ۔لىكن الحمد للہ اس سال ىہ خواب شرمندہ تعبىر ہوا اور ىہ اہم خصوصى شمارہ منظر عام پر آىا ۔ ہم سب اس پر اللہ سبحانہ و تعالى كے شكر گذار ہىں ۔

اس خصوصى شمارہ كى اشاعت كا اہم مقصد اردو داں طبقہ خصوصا علماء و طلباء  مدارس مىں آئىن كے تئىں بىدارى پىدا كرنا،اس كى اہمىت و ضرورت، حاجت و افادىت سے آگاہ كرنا،  حقوق و واجبات سے واقف كرانا ، اس كى خصوصىات و خوبىوں پر روشنى ڈالنا، اس كو درپىش خطرات كا بىان كرنا  اور  اس كے تحفظ مىں كردار ادا كرنا ہے۔

اللہ كے فضل و كرم سے حالات كے اعتبار سے  ملكى تناظر مىں  ىہ اىك اہم و مفىد   شمارہ  ہےجو وقت كا اہم تقاضا اور اس كى ضرورت ہے  ۔ یہ ہر ہندوستانى کے لیے ایک بیش قیمتی ہدیہ و انمول تحفہ ہے ۔یہ اردو میں آئىن ہند کے موضوع پر  ایک مختصر عمدہ كتاب  ہے جو 185/ صفحات اور اردو و انگلش نیز نثر و نظم سمیت 27/ مضامین  پر مشتمل ہے ۔راقم سطور کے کل 9/موضوعات اس میں شامل ہیں  اور اس کے قلم کاروں میں  مشہور و نامی گرامی اصحاب علم و فضل  شامل ہیں ۔

 راقم سطور نے  پہلے آئىن ہند سے متعلق تقرىبا  50/ موضوعات کی  اىك فہرست تیار  كى ، بعد ازاں محدود پىمانہ پر صرف 14/افراد سے مختلف موضوعات پر لكھنے كى گذارش كى  كىونكہ ىہ كوئى دىنى موضوع نہىں تھا اور مجھے اندازہ تھا كہ مىرے متعارفىن و احباب جن كا تعلق عموما دىنى تخصص سے ہے وہ اس مىں دلچسپى نہىں لىں گے اور اپنى بے رغبتى كا اظہار كرىں گے ۔

علاوہ ازىں فىس بك پر بھى اعلان كىا گىا اور كئى گروپ مىں پىغام شىئر كىا گىا۔ كچھ دىگر احباب كے ذرىعہ مختلف لوگوں سےرابطہ كىا  گىا ۔ مجلہ اصلاح و ترقى كے دسمبر 2025ع كے شمارہ مىں بھى اس كا اعلان كىا گىا،     احباب و علماء کرام کو  واٹسپ پیغام کے ذریعہ کئی بار یاد دہانی کرائی گئی اور کئی ایک سے پرسنل گفتگو بھی  كئى بار ہوئی ۔

لىكن نتىجہ وہى ڈھاك كے تىن پات۔ وہى ہوا جس كا ڈر تھا صرف 6/افراد نے مضامىن لكھے اس لىے مجبورا انٹرنٹ كا رخ كرنا پڑا اور وہاں سے ہم نے كل اىك درجن   مضامىن منتخب كىے تاكہ زىادہ سے زىادہ  مختلف موضوعات كا احاطہ ہو اور  جو خلا و كمى ہے اس كوممكنہ حد تك  پورا كىا جا سكے۔پھر بھى بہت سارے موضوعات ہىں  جو تشنہ ہىں ۔اس كا ہمىں اعتراف ہے  اور اس مناسبت سے وسائل و سرماىہ كى كمى كا شدت سے احساس ہو رہا ہے كىونكہ اس كے بغىر كسى بھى منصوبہ كو بحسن و خوبى پاىہ تكمىل تك پہنچانا ممكن نہىں ہے۔ اللہ تعالى مدد فرمائے۔ آمىن

اللہ تعالى سے دعا ہے کہ وہ اس خصوصی شمارہ  کو قبول فرمائے ،اسے خواص و عوام میں مقبول بنائے اور اس سے وابستہ تمام افراد کے لیے صدقہ جاریہ  اور نجات کا ذریعہ بنائے ۔ آمین 

 

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: