آئینِ ہند : پس منظر اور ارتقائی مراحل

 

آئینِ ہند :  پس منظر اور ارتقائی مراحل

ڈاكٹر عبد المنان محمد شفىق مكى

آئىن ہند كے بارے مىں  انتہائى بنىادى و  ضرورى معلومات تارىخى اعتبار سے ترتىب وار اس مضمون مىں فراہم كى گئى ہىں  جن سے ہمىں اس كے مختلف مراحل كو جاننے مىں آسانى ہوتى ہے اور اس كو تىار كرنے  مىں كى گئى جد و جہد و محنت كا علم ہوتا ہے۔اس  مىں قدىم و جدىد دونوں معلومات دى گئى  ہىں  جو  ىكجا طور پر مشكل سے كہىں آپ كو دستىاب ہوگى۔     پہلے مجلس دستور ساز تشكىل دى گئى  اس كے بعد ڈرافٹنگ كمىٹى كے ذرىعہ آئىن تىار كىا گىا ۔اس لىے پہلے مجلس دستور ساز پھر آئىن ہند پر روشنى ڈالى جا رہى ہے۔ 

مجلس دستور ساز  :

گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء آئینِ ہند کی بنیادوں میں سب سے اہم  ہے  كىونكہ اس سے  بھارت مىں صوبائی خودمختاری قائم ہوئى  اور اسمبلىاں وجود مىں  آئىں۔

مجلس دستور ساز کے ارکان کو بھارتى صوبائی اسبملیوں کے منتخب ارکان نے منتخب کیا۔

جولائى 1946 ع مىں اس كے  تشكىل  كا آغاز ہوا اور مرحلہ وار، مختلف تاریخوں میں تمام صوبائى اسمبلىوں مىں انتخابات ہوئے ۔

9/دسمبر 1946 ع كو اس كا پہلا باقاعدہ اجلاس منعقد ہوا۔ یہی تاریخ عملاً دستور ساز اسمبلی کے قیام اور آغاز کی علامت مانی جاتی ہے۔

آزادى سے پہلے اس كے كل اركان كى تعداد 389/ تھى جن مىں برطانوى صوبوں كے ممبران كى تعداد 296 اور دىسى رىاستوں كے ممبر ان كى تعداد 93/تھى۔

آزادى كے بعدبھارت  كے  دستور ساز اسمبلى كے اركان كى تعداد 299/تھى جنہوں نے آئینِ ہند مرتب کیا۔

آزادى كے بعد دستور ساز اسمبلى مىں مسلمانوں كى  كل تعداد 35/تھى۔

مجلس دستور ساز کا خرچ تقریباً 6.3 کروڑ ( 63 ملین) بتایا گیا ہے۔

آئىن ہند :

ایک سول ملازم ، بین الاقوامی عدالت انصاف کے پہلے بھارتی جج اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے صدر  بینگل نرسنگ راؤ     (Benegal Narsing Rau)   جولائى 1946 ع ء میں مجلس کے قانونی مشیر(Constitutional Adviser) منتخب کیے گئے۔انھوں نے دنیا کے مختلف ممالک (امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آئرلینڈ وغیرہ) کے آئینوں کا مطالعہ کیا اور فروری 1947ء میں ابتدائی مسودہ (Initial Draft) تیار کیا۔ وہ آئینِ ہند کے ابتدائی مسودے کے معمار اور فکری بنیاد فراہم کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔

15/اگست 1947 کو ہمارے ملک کو آزادی ملى  لیکن ملک کا اپنا قانون نہ ہونے کی وجہ سے ”حکومت ہند ایکٹ 1935“ کے مطابق ہی نظام چلا۔ موجودہ آئین کے کئی ابواب اسی ایکٹ سے ماخوذ ہیں۔

29 اگست 1947 کو ملک کا دستور تیار کرنے کے لئے 7 رکنی ایک ڈرافٹنگ كمیٹی تشکیل دی گئی جس كے صدر  ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر تھے  ۔

آئینِ ہند کی ڈرافٹنگ کمیٹی کے ساتوں اراکین کے نام تھے :

ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر( Dr. B. R. Ambedkar)

ناندو لال گوپالسوامی آیئنگرN. Gopalaswami Ayyangar

الّادی کرشنسوامی ائیرAlladi Krishnaswamy Iyer

کنہیا لال منشی (کے۔ ایم۔ منشی)K. M. Munshi

محمد سعد اللہ Mohammad Saadullah

بی۔ ایل۔ مِتّر B. L. Mitter

این۔ مادھَو راؤN. Madhava Rau     (بی۔ ایل۔ مِتّر کے استعفیٰ کے بعد شامل ہوئے)

آئین ہند کی مجلس مسودہ سازی کے صدر بھیم راؤ رام جی امبیڈکر کو عموماً اس کا معمار اعظم کہا جاتا ہے۔

بىنگل نرسنگ راؤ كا   تىار كردہ مسودہ ڈرافٹنگ کمیٹی (جس کے چیئرمین ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر تھے) کے حوالے کیا گیا  جس  نے اسی مسودے کو بنیاد بنا کر حتمی آئین مرتب کیا۔ حتمی تدوین اور قانونی زبان ڈاکٹر امبیڈکر اور ڈرافٹنگ کمیٹی ہى  کا ہے۔

4 نومبر 1948ء کو کمیٹی نے مجلس کو نظر ثانی شدہ مسودہ پیش کیا۔مسودہ پر غور کرتے ہوئے مجلس نے اس میں ہوئی 7,635 ترامیم میں سے 2,473 ترامیم کر رد کر دیا۔

دستور ساز اسمبلی کے کل 11 سیشن (Sessions) ہوئے یہ سیشن 9 دسمبر 1946 سے 24 جنوری 1950 تک منعقد ہوئے اسمبلی نے مجموعی طور پر 165 دن تک اجلاس کیے۔

  26 نومبر 1949 کو دستور ساز اسمبلی نے بحث ومباحثہ اور اس میں متعدد تبدیلیوں کے بعد ملک کے آئین کو منظوری دی  ۔

24 جنوری 1950 ع كو مجلس کا حتمی اجلاس منعقد ہوا۔ تمام ارکان سے آئین کے دونوں نسخوں (ایک ہندی، ایک انگریزی) پر دستخط کیے۔

26 جنوری 1950 کو ہندوستان کا اپنا قانون پورے ملک میں نافذ ہوگیا۔۔ ہندوستان ایک جمہوری، خودمختار، جمہوریہ قرار پایا۔

آئینِ ہند ایک تحریری آئین ہے جو دنیا کے تمام تحریری آئینوں میں سب سے طویل ہے  اور کسی بھی آزاد ملک کا سب سے بڑا دستور ہے۔

آئینِ ہند تقریباً 145,000 الفاظ پر مشتمل تھا جب اسے پہلی بار اپنایا گیا تھا ، جو دنیا کے تحریری آئینوں میں سب سے بڑا  شمار کیا جاتا ہے۔

ہندوستانی آئین اصل میں نفاذ کے وقت 395 دفعات (Articles) پر مشتمل تھا، جو 22 حصوں اور 8 شیڈولز میں منقسم تھا۔ موجودہ صورت میں آئین ایک تمہید، تقریباً 448–450 دفعات، 25 حصوں اور 12 شیڈولز پر مشتمل ہے۔

26 نومبر کو یومِ آئین کے طور پر منایا جاتا ہے، جبکہ 26 جنوری یومِ جمہوریہ ہے۔

آئین کو بننے میں كل 2 سال 11 ماہ اور 18دن لگے ۔

 اصلی نسخہ ہاتھ سے لکھا ہوا ہے ۔

 اس کی طباعت دہرہ دون میں ہوئی اور سروے آف انڈیا نے فوٹو لتھروگرافی کی۔

 اصلی نسخہ کے پروڈکشن میں پانچ برس لگ گئے۔

 آئین کا اصلی نسخہ سنسد بھون نئی دہلی میں ہیلیم سے بھرے ڈبے میں محفوظ رکھا گیا ہے۔

آئینِ ہند میں اب تک کل 106 آئینی ترامیم ہو چکی ہیں۔پہلی ترمیم 1951 ع مىں ہوئى جب كہ تازہ ترین ترمیم: 106ویں آئینی ترمیم(2023) مىں ہوئى  جسے ناری شکتی وندن ادھی نیم کہا جاتا ہے، اور اس کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33٪ ریزرویشن کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

ىہ ہے آئىن ہند كا مختصر پس منظر اور اس كے ارتقائى مراحل كى روداد  جس كے تىار كرنے مىں ہمارے اسلاف نے بھى حصہ لىا ہے۔ اب اس كى حفاظت كرنا ہم سب كى ذمہ دارى ہے تاكہ ملك مىں امن و امان برقرار رہے اور ہر اىك اپنے حقوق سے مستفىد ہوتا رہے ۔ 

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: