اسلام مىں قانونى مساوات
ابو مىمونہ
حدىث: عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي
سَرَقَتْ , فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ, فَقَالُوا: مَنْ
يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ
فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ: " أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ
مِنْ حُدُودِ اللَّهِ " , ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ , فَقَالَ ﷺ : "
إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ , أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ
فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ , وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا
عَلَيْهِ الْحَدَّ , وَايْمُ اللَّهِ , لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا "
وفي رواية مسلم/ 1688: ثم أمر بتلك
المرأة التي سرقت، فقطعت يدها. قال عروة: قالت عائشة: فحسنت توبتها بعد، وتزوجت،
وكانت تأتيني بعد ذلك فأرفع حاجتها إلى رسول الله ﷺ.
تخریج : صحیح البخاری/الشہادات 8 /2648)،
والأنبیاء 54 /3475)، وفضائل الصحابة 18 /3732)، والمغازي 53 /4304)، والحدود 11 /6787)،
و12 /6788) و14 /6800)، صحیح مسلم/الحدود 2 /1688)، سنن ابی داود/ الحدود 4 /4373)،
سنن النسائی/قطع السارق 6 /4906)، سنن ابن ماجہ/الحدود 6 /4547)، (تحفة الأشراف:
16578)، و مسند احمد 6/162)، وسنن الدارمی/الحدود 5 (2348) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة/ (2547
ترجمہ:ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
قبیلہ قریش اپنى اىك شاخ بنو مخزوم
کی ایک عورت کے بارے میں جس نے چوری کی تھی، کافی فکرمند و رنجىدہ ہوئے، وہ کہنے لگے: اس كى بابت رسول اللہ ﷺ سے کون گفتگو کرے گا؟ لوگوں نے جواب دیا: رسول
اللہ ﷺ کے چہیتے اسامہ
بن زید کے علاوہ کون اس کی ہمت کر سکتا
ہے؟ چنانچہ اسامہ نے آپ ﷺ سے گفتگو کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر
رہے ہو؟“ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور
خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:لوگو! تم سے پہلے کے لوگوں كو اس چىز نے ہلاك كردىا کہ جب کوئی اعلیٰ خاندان کا شخص چوری کرتا تو
اسے چھوڑ دیتے، اور جب کمزور حال شخص چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے، اللہ کی
قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اس کا (بھی) ہاتھ کاٹ دیتا۔
اور مسلم كى رواىت /1688 مىں آىا ہے كہ
پھر آپ ﷺ نے اُس عورت کے بارے میں حکم دیا جس نے چوری کی
تھی، چنانچہ اُس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔عروہ کہتے ہیں: عائشہؓ نے فرمایا کہ اس کے
بعد اُس کی توبہ بہت اچھی ہو گئی، اس نے نکاح کر لیا، اور اس کے بعد وہ میرے پاس
آیا کرتی تھی، تو میں اس کی ضرورت (یا درخواست) رسول اللہ ﷺ تک پہنچا دیا کرتی
تھی۔
شرح:
اہل علم اس بات سے بخوبى واقف ہىں اور اہل سنت و
الجماعت كا ىہ متفقہ عقىدہ ہے كہ اصحاب
نبى گناہوں اور غلطىوں سے معصوم و محفوظ نہىں ہىں ، وہ بھى بشر ہىں اور انسانى
فطرت كے تقاضے نىز اللہ تعالى كى مصلحت و حكمت كے تحت بعض اصحاب كرام سے كچھ
لغزشىں و غلطىاں ہوئى ہىں لىكن وہ ان غلطىوں پر قائم نہىں رہتے ہىں بلكہ فورا توبہ
كرتے ہىں اور اپنے آپ كو حد كے لىے پىش كردىتے ہىں تاكہ قىامت كے دن ان كا مؤاخذہ
نہ ہو اور وہ عذاب اخروى سے نجات پاجائىں
۔
مذكورہ حدىث مىں بھى اىك صحابىہ كا واقعہ بىان كىا گىا ہے جس سے اىك بڑى غلطى
ہوئى ، جس كا تعلق بنو مخزوم سے تھا جو قرىش كا اىك با اثر قبىلہ تھا ۔لىكن اس غلطى مىں بہت سارى حكمتىں و مصلحتىں ،
دروس و اسباق پوشىدہ ہىں اور متعدد
انتہائى اہم فوائد و مسائل ہىں جن كا ذكر
نىچے آرہا ہے۔
صحابىہ كى مختصر تعرىف :
اس صحابىہ کا نام فاطمہ بنت
اسود بن عبدالاسد تھا جو ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے فوت ہونے والے شہید
خاوند ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی بھتیجی تھی۔یہ ابوسلمہ ام المومنین ام سلمہ کے
پہلے شوہر تھے۔ ان کا باپ اسود بن اسد
غزوۂ بدر میں قتل ہوا تھا۔(موقع : موسوعة
القرآن و الحدىث، سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث نمبر: 2547) اور ىہ تارىخ كى پہلى مسلمان خاتون ہىں جن پر
چورى كى حد جارى كى گئى۔(وىكىبىدىا: فاطمة بنت الاسود)
صحابىہ كى غلطى :
انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے ایک چادر چرالی تھی جیسا کہ
ابن ماجہ کی روایت میں اس کی صراحت مذکور ہے اور ابن سعدکی روایت میں فتح مكہ كے
وقت زیور چرانا مذکورہے۔ممکن ہے کہ ہر دو
چیزیں چرائی ہوں۔ (موقع: موسوعة القرآن و الحدىث
، صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث نمبر: 2648)ان کی یہ عادت بھی تھی جىسا كہ بعض رواىات مىں ہے کہ جب کسی سے کوئی سامان ضرورت پڑنے پر لے لیتی
تو پھر اس سے مکر جاتی (موقع موسوعة
القرآن و الحدىث، سنن ترمذي ،مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث نمبر: 1430)اسى روایت سے امام احمد‘ امام اسحق رحمہما اللہ اور
ظاہریہ نے استدلال کیا ہے کہ جو عاریتاً چیز لے کر انکار کرے اس کا ہاتھ کاٹنا
واجب ہے مگر جمہور کی رائے ہے کہ انکار پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ مخزومیہ
خاتون کا قصہ کئی سندوں سے مروی ہے۔
اکثر روایات میں ہے کہ وہ چوری کرتی تھی اور بعض میں یہاں تک صراحت ہے کہ
اس نے نبی ﷺ کے گھر سے چادر
چوری کی تھی‘ چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم چوری کی وجہ سے تھا۔ رہا اس کے
عاریتاً لے کر انکار کرنے کا ذکر تو وہ اس کی عادت تھی اور اپنی اسی عادت کی بنا
پر وہ اس طرح معروف و مشہور تھی‘ جیسے وہ قبىلہ مخزوم سے ہونے کی وجہ سے مخزومیہ مشہور تھی‘ اس لیے یہ
مفہوم قطعاً نہیں کہ اس کے لیے ہاتھ كاٹنے کی سزا کا حکم عاریتاً لی ہوئی چیز کے انکار
کرنے کی وجہ سے تھا۔ (موقع: موسوعة القرآن و
الحدىث، بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث نمبر: 1056)
علاوہ ازىں بعض كے نزدىك چوری کا واقعہ بنو مخزوم کی ایک دوسرى عورت ام
عمرو بنت سفیان کا بھی ہے جو حجۃ الوداع کے موقعہ پر پیش آیا،اس کا بھی آپ صلی
اللہ علیہ وسلم كے حكم سے ہاتھ کاٹ دیا گىا
تھا،اس لیے وہ واقعہ الگ ہے۔(موقع : موسوعة
القرآن و الحدىث، تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث نمبر: 4410)
قرىش كى پرىشانى اور سفارش :
قرىش كى پرىشانى اور فكر مندى كى وجہ ىہ تھى
كہ چورى كرنے والى عورت بنو مخزوم
مىں سے تھى جو قریش کے قبیلوں
میں سے ایک شاخ ہے ، اور وہ اس معزز قبیلے کے معززین میں شمار ہوتے تھے، اسی لیے
انہیں قریش کی ریحانہ (گلِ سرسبد) کہا جاتا تھا۔ اور قریش کے اس باوقار اور قدیم خاندان سے تعلق ركھنے كى وجہ سے
وہ عورت معزز حیثیت کی حامل تھی ۔(موقع: موسوعة
الاحادىث النبوىة، مذكورہ حدىث كى شرح)
اس كے علاوہ دور جاہلیت میں
بھی چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا تھا۔ اور اسلام نے اس سزا كو برقرار ركھا اور ان كو معلوم تھا كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
حد قائم کرنے میں کوئی رو رعایت نہیں فرمائیں گے ، آپ ضرور با ضرور حد كو نافذ كرنے اور اس كا
ہاتھ كاٹنے كا حكم دىں گے ۔ اس لىے قریش کو اس عورت اور اس پر نافذ ہونے والے اس
حکم کی بڑی فکر لاحق ہوئی اور وہ كافى
پرىشان ہوئے ۔(موقع: موسوعة القرآن و الحدىث، تحفۃ المسلم شرح صحیح
مسلم، حدیث نمبر: 4410)
چنانچہ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا
اور پہلے ان کے خاندان نے چالیس اوقیے
چاندی بطور فدیہ دینے کی پیش کش کی لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے فرمایا:”اس پر حد کا قائم ہونا بہتر
ہے۔ پھر انہوں نے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کی پناہ لی اور ان سے
سفارش کی اپیل کی، چنانچہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی:اللہ کے رسول! اسے معاف کر دیں۔یہ میری پھوپھی ہے۔رسول
اللہ ن ﷺ ے ان کی سفارش کو
بھی مسترد کر دیا آخرکار انھوں نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا، لیکن
رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلے میں
کسی کی سفارش قبول نہ کی بلکہ آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اٹھو
اور اس کا ہاتھ کاٹ دو، چنانچہ انھوں نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا، اس نے عرض کی:اللہ کے رسول! میرے لیے توبہ
کا دروازہ بند تو نہیں ہوا؟ تو آپ نے فرمایا:”آج تو اس غلطی سے یوں پاک ہو چکی ہے گویا آج ہی تجھے
تیری ماں نے جنم دیا ہے۔“ چنانچہ اس نے توبہ کی اور بنو سلیم کے ایک آدمی سے نکاح
کر لیا۔( موقع: موسوعة
القرآن و الحدىث، هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث نمبر:
6788)
حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ اس کے بعد اُس کی توبہ بہت اچھی ہو گئی، اس نے
نکاح کر لیا، اور اس کے بعد وہ میرے پاس آیا کرتی تھی، تو میں اس کی ضرورت (یا
درخواست) رسول اللہ ﷺ تک پہنچا دیا کرتی تھی۔
اسامہ بن زىد اور ان كے انتخاب كى
وجہ:
حضرت زید بن حارثہ كى پرورش نبى
كرىم نے كى تھى اور وہ رسول اللہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔جنھیں رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا۔
بعد میں اللہ تعالیٰ نے منہ بولا بیٹا بنانے سے منع فرما دیا۔حضرت اسامہ ان
کے بیٹے تھے اور رسول اللہ ان سے بہت محبت کرتے تھے۔آپ کو لوگ حب بن حب یعنی محبوب بن محبوب کہا کرتے
تھے کیونکہ ان دونوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص محبت تھی لیکن اللہ
تعالیٰ کی محبت پر غالب نہ تھی اسى وجہ سے
ان كى سفارش قبول نہ كى گئى ۔
ان کی والدہ ماجدہ اُم ایمن ؓ رسول اللہ کی آزاد کردہ ہیں اور ان کی گودمیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پرورش پائی تھی۔
اس حدیث میں حضرت اسامہ ؓ کی عظیم فضیلت اور قدر و منزلت كا بىان ہے کہ وہ نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے محبوب تھے بلکہ لوگوں میں بھی محبوب سمجھے جاتے تھے۔لہذا قریش نے دربار نبوی میں آپ کو سفارش کا اہل پایا
چنانچہ انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آپ کے محبوب حضرت
اسامہ بن زید ؓ کے علاوہ کوئی دوسرا شخص سفارش کی جرات نہیں کرے گا۔۔(موقع: موسوعة القرآن و الحدىث، هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث نمبر: 3733)
بعض كا كہنا ہے كہ حضرت اسامہ کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت مىں سفارش
کرنے کے لیے اس لیے منتخب کیا گیا ہے کہ وہ کمسن بچے تھےاس لیے خیال تھا کہ رسول
اللہ ﷺ نے سفارش نہ بھی
مانی تو اسامہ سے ناراض نہیں ہوں گئے کیونکہ وہ بچے تھے۔(موقع موسوعة
القرآن و الحدىث،
سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ
نمبر: 2547)
سابقہ اقوام كے ہلاكت و بربادى كى اىك اہم وجہ :
نبى كرىم نے نہ صرف حضرت اسامہ كى سفارش كو سختى سے رد كردىا بلكہ ان كو تنبىہ
بھى كى اور غصہ ہو كر فرماىا :
اتشفع فى حد من حدود اللہ ىعنى سفارش مت كرو، اىسا كرنا برائى ہے ۔ ساتھ ہى اس كا
سبب بھى واضح كردىا كہ گزشتہ قوموں کی
ہلاکت کا ایک اہم سبب ان میں رائج طبقاتی امتیاز ، اونچ نىچ كى تفرىق اور معزز و غىر معزز مىں فر ق كرنا تھا جن سے اسلام
نے سختی کے ساتھ روکا ہے تاكہ اسامہ كے
ساتھ تمام مسلمانوں كو اس كى حكمت و راز كا علم ہوجائے ، وہ
سب مطمئن ہوجائىں ، اسلام كے اس اصول كو مضبوطى سے اپنائىں اور ہلاكت و بربادى سے
محفوظ رہىں ۔
پھر مزید زور اور تاکید کے لیے فرمایا دنیا میں محبوب
شخصیت اور میری لخت جگر،فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی بالفرض حال یہ حرکت کر بیٹھتی تو
میں قانون میں لچک اس کی خاطر بھی پیدا نہ کرتا اور اس كو بھى سزا دىتا۔
اس حدىث مىں ہلاکت سے مراد اخروی ہلاکت بھی ہوسکتی ہے اور دنیوی بھی
کیونکہ حدود کا نفاذ نہ کرنے سے جرائم بڑھتے ہیں اور جرائم کی کثرت قوموں کی تباہی
کا باعث بنتی ہے نیز نافرمانی سے عذاب بھی آتا ہے۔(موقع: موسوعہ القرآن و الحدىث، سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث نمبر:
4901)
حدود و قوانىن مىں سب برابر ہىں:
ىہ حدىث اس بات كى واضح دلىل ہے كہ
اسلام مىں قانونى مساوات ہے اور قانون معاشرے کے سب افراد کے لئے برابر ہے ۔اور
حدود کے نفاذ میں کسی کی رعایت نہیں جائز نہیں ہے ۔قانون کے نفاذ میں امىرى و
غرىبى ، شاہ و گدا، عالم جاہل، رنگ و نسل،
زبان و علاقہ ، جاہ و منصب وغىرہ کا فرق
کرنا اللہ کے غضب کا موجب ہے کیونکہ اس سے قانون کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ اس حدیث
سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدود قائم کرنے میں کسی
قسم کی مداہنت نہیں کرتے تھے۔اور نہ کسی کا لحاظ ہی رکھتے تھے۔(موقع: موسوعة القرآن و الحدىث، هداية القاري شرح
صحيح بخاري، اردو، حدیث نمبر: 3733)
حدود مىں سفارش قبول نہىں :
درج بالا حدىث اور دىگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حدود میں سفارش کرنا
یا سفارش کرانا دونوں حرام ہیں بشرطیکہ معاملہ عدالت یا حکام بالا تک پہنچ چکا ہو۔جمہور
علماء كا كہنا ہے كہ واقعہ جب عدالت میں پیش ہو جائے تو پھر حد کو روکنے کے لیے
سفارش کرنا جائز نہیں ہے،ہاں اگر کوئی ایسا آدمی ہو جو عادی مجرم نہ ہو یا لوگوں
کو تنگ کرنا اس کی عادت نہ ہو تو اس کے حق میں عدالت میں مقدمہ جانے سے پہلے پہلے
سفارش کی جا سکتی ہے۔(تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4410،هداية القاري شرح
صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3475)
بہرحال اس امر پر امت کا اجماع ہے کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہوتو کسی
کو اس کے متعلق سفارش نہیں کرنی چاہیے۔اگر کوئی سفارش کرتا ہے تو حاکم وقت کو
چاہیے کہ وہ سختی سے اسے رد کر دے اور اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم کرے۔( موقع: موسوعة القرآن و الحدىث، هداية القاري شرح صحيح بخاري،
اردو، حدیث نمبر: 6788)
چورى كى سزا:
اس سے یہ مسئلہ
بھی ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح چوری کرنے والے مرد کا ہاتھ کاٹا جاسکتا ہے اسی طرح
چوری کرنے والی عورت کا ہاتھ بھی کاٹا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم نے تو مکمل صراحت کے
ساتھ چور مرد اور چور عورت کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے۔ (المائدة:5: 38) واضح رہے كہ چور کا ہاتھ کاٹنا شریعت موسوی میں
بھی تھا۔اب اگر کوئی اسے وحشیانہ سزا کہتا ہےتو وہ خود وحشی ہے اور جو کوئی مسلمان
ہو کر اس سزا کو خلاف تہذیب کہے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔(موقع: موسوعة القرآن و الحدىث، صحیح بخاری شرح از
مولانا داود راز، حدیث نمبر: 3475)
چور كا توبہ :
چوری کرنے سے انسان کی ظاہری حیثیت مجروح ہو جاتی ہے اور وہ گواہی دینے کے
قابل نہیں رہتا، لیکن چور جب توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لے تو اس سے چوری کا دھبہ
دور ہو جاتا ہے، پھر اس کی گواہی مسترد نہیں کی جاتی۔
امام بخاری ؒ نے تہمت لگانے والے کو چور سے ملایا ہے
کیونکہ ان کے نزدیک دونوں میں کوئی فرق نہیں۔(هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث نمبر: 2648)
امام طحاوی ؒ نے لکھا ہے:چور جب چوری کے بعد توبہ کر لے تو اس کی گواہی قبول کرنے
پر علماء کا اتفاق ہے، نیز چور کا ہاتھ کاٹ دینا ہی اس کی توبہ ہے۔جب ہاتھ کٹ گیا
تو معلوم ہوا کہ اس کی توبہ قبول ہوئی، لہذا گواہی بھی قبول ہو گی، توبہ اور سزا کے
بعد گناہ ختم ہو جاتا ہے۔واللہ أعلم (هداية
القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث نمبر: 2648)
فاطمہ بنت محمدكے خاص كرنے كى وجہ :
سوال ىہ پىدا ہوتا ہے كہ آپ نے اپنى بىٹى كا ذكرہى كىوں كىا، كسى دوسرے شخص كى بىٹى كا تذكرہ كىوں
نہىں كىا۔تو اس كے بارے مىں اہل علم كا كہنا ہے كہ :
نبی اکرم كا ارشاد کہ ”اگر محمد کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی“، یہ بالفرض والتقدیر ہے، ورنہ فاطمہ رضی الله عنہا کی شان اس سے
کہیں عظیم تر ہے کہ وہ ایسی کسی غلطی میں مبتلا ہوں، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ
نے سارے اہل بیت کی عفت و طہارت کی خبر دی ہے "إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم
تطهيرا" (الأحزاب: ۳۳) فاطمہ رضی الله
عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آپ کے اہل خانہ میں سب سے زیادہ عزیز
تھیں اسی لیے ان کے ذریعہ مثال بیان کی گئی۔(موقع :موسوعة القرآن والحدىث، سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ
نمبر: 1430)
اس كے علاوہ راقم كى نظر مىں ىہ مثال دىنا ضرورى تھا كىونكہ آپ امت كے لىے اسوہ و نمونہ
ہىں اور كوئى ىہ نہ كہہ سكے كہ آپ اپنے
اہل خانہ پر حد نافذ نہىں كر سكتے ہىں ۔آپ نے ىہ مثال دے كر واضح كردىا كہ قانون
كے سامنے سب برابر ہىں خواہ وہ مىرى بىٹى ہى كىوں نہ ہو۔
مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بہت زیادہ قدر و منزلت کی حامل تھیں، تاہم یہ
بھی واضح ہوتا ہے کہ حدود اللہ کے قائم کرنے میں نہ تو کسی کی محبت کو خاطر میں
لایا جاسکتا ہے اور نہ کسی کی سفارش ہی قبول کی جاسکتی ہے۔ واللہ أعلم
كچھ دىگر فوائد و مسائل:
جس غلطی میں متعدد افراد شریک ہوں اس کی شناعت سب کے
سامنے ذکر کر دینی چاہیے تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی تنبیہ ہو۔
اپنی بات میں قسم کھانا جائزہے اگرچہ کسی کو اس پر شک نہ ہو البتہ بلاضرورت
قسم کھانا مکروہ ہے۔
اور جھوٹی قسم کھانا حرام اور بڑا گناہ ہے۔(سنن ابن ماجہ شرح
از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2547)
حق کو واضح کرنے، بیان کرنے اور مؤکد کرنے کے لیے کلام میں مبالغہ، تشبیہ
اور تمثیل کا جواز ہے۔
اللہ تعالیٰ کے حقوق میں معززین کے ساتھ جانبداری کے معاملے کی سنگینی اور
اس کی سختی۔
گزشتہ امتوں کے حالات سے عبرت حاصل کرنا، خصوصاً ان سے جنہوں نے شارع (اللہ
و رسول) کے حکم کی مخالفت کی۔
حدِ سرقہ میں عورتوں کا مردوں کے ساتھ شامل ہونا (یعنی حکم دونوں پر یکساں
لاگو ہونا)۔
کسی حدیث کی تمام اسانید کو تفصیلا بیان کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ
واقعے کی تمام تفصیلات سامنے آجاتی ہیں، کوئی ابہام باقی نہیں رہتا۔
حدىث كى شرح كے بعد اب" اسلام مىں قانونى مساوات اصول" كى مزىد وضاحت كى جاتى ہے جو درج بالا حدىث كو
اختىار كرنے كا مقصد ہے تاكہ ىہ پہلو اور
زىادہ روشن ہوجائے اور قارى كى تشنگى دور
ہوجائے ۔
بلا شبہ شریعت کے اصول اور احکام ظلم و زىادتى، کمی اور نقص، خواہشِ نفس كى پىروى اور ہر قسم كے خلل سے پاک ہیں؛ اس لیے کہ ان کا بنانے والا اللہ
تعالیٰ ہے، اور اللہ کمالِ مطلق کا مالک ہے جو اس کی ذات کے لوازم میں سے ہے۔ اس
کے برعکس وضعی قوانین ان معانی سے خالی نہیں ہوتے، کیونکہ وہ انسان کی طرف سے صادر
ہوتے ہیں، اور انسان جہالت، ظلم، نقص اور خواہشِ نفس وغیرہ سے خالی نہیں ہوتا۔(المدخل لدراسة الشرىعة الاسلامىة، عبد الكرىم زىدان،
خصائص الشرىعة الاسلامىة)ا س دعوى کی صداقت کے لیے صرف اسلام مىں قانونى
مساوات كا اصول ہى كا فى ہےجس كى تشرىح آگے آرہى ہے۔
اسلام سے پہلے قانونى مساوات كى حالت:
اسلام سے پہلے قانونى و انسانى مساوات کا تصور محض ایک خواب تھا۔ انسانیت ٹکڑوں
میں بٹی ہوئی تھی، اور ہر ٹکڑا دوسرے کو روندنے میں عار محسوس نہیں کرتا تھا۔ ہر
جگہ اور ہر قوم مىں نسلی اور خاندانی امتیاز، طبقاتی نظام ، غلامی ، دولت اور طاقت کی بنیاد پر تفریق، عورت کی بے قدری اور مذہبی اور نسلی تعصب رواج پذىر تھا ۔
دنیا میں قانون طاقت ور کے لیے ڈھال تھا،کمزور کے لیے تلواراور اشرافیہ کے
لیے استثنا (Privilege)قانون انسان کے تحفظ کے بجائے انسان کے استحصال کا ذریعہ
بن چکا تھا۔
قانونی مساوات ایک ناپید تصور تھا۔ قانون نہ آفاقی تھا، نہ غیر جانبدار اور
نہ ہی اخلاقی بنیادوں پر قائم۔ انسان کی حیثیت قانون میں انسان ہونے سے نہیں بلکہ
طبقے، طاقت اور نسب سے متعین ہوتی تھی۔
ىہاں ىہ چىز قابل ذكر ہے كہ ىہ حالت كسى مخصوص قوم ىا تہذىب ىا كسى خاص علاقہ و خطہ كى نہىں تھى
بلكہ ىہ اىك عمومى مشترك صورت حال تھى جو عرب و عجم ، اىشىا و افرىقہ ہر جگہ و ہر قوم مىں رائج تھى ۔
مساوات كا مطلب:
مساوات کا مطلب ہے " برابرى"سارے انسانوں کے حقوق برابر ہیں ، ان
کا اپنا مقام ہے اور ان کے لیےیکساں مواقع فراہم ہیں، کوئی شخص اپنے خاندان،
قبیلہ، وغیرہ کی وجہ سے الگ نہیں ہے بلکہ سارے لوگ ایک ہی ہیں، اسلام
لوگوں کے درمیان ان کی نسل، رنگ، لباس، زبان کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں کرتا، اگر
فرق کرتا ہے تو بس ان کے تقوی اور پرہیزگاری کے اعتبار سے۔
قانون کے سامنے مساوات سے مراد یہ
ہے کہ تمام افراد عمومی حقوق اور فرائض میں ایک دوسرے کے برابر ہوں، اور ان کے
درمیان جنس، نسل، زبان، دین یا عقیدے کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہ کیا جائے۔ اس طرح
ہر شخص کو وہی حقوق حاصل ہوں جن سے دوسرے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں، اور وہی ذمہ
داریاں اور قانونی پابندیاں اس پر عائد ہوں جو قانون تمام افراد پر نافذ کرتا ہے۔ (اسلام وىب : المكتبة الاسلامىة ، وثيقة المدينة (المضمون والدلالة) أحمد
قائد الشعيبي المبحث الثالث: مساواة الجميع أمام القانون،)
مساوات کا اصول درحقیقت ایک عظیم اصول ہے۔جس کے مظاہر میں سے ایک یہ ہے کہ
قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔ یہ مساوات سب کو شامل ہے: ریاست کے سربراہ سے لے کر
اسلامی ریاست کے سب سے عام شہری تک۔کسی کو کوئی خصوصی امتیاز حاصل نہیں، بلکہ
قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔
لہٰذا یہ اصول ہر زمانے اور ہر جگہ کے لیے موزوں ہے، اور کسی بھی ایسی
جماعت میں — جو اعلیٰ درجے تک پہنچ جائے — یہ اصول کبھی معطل یا غیر مؤثر نہیں
ہوتا۔(عبد الكريم زيدان:
المدخل لدراسة الشريعة الاسلامية، مبادئ الشرىعة و طبىعة احكامہا، مبدأ المساواة)
اسلام ہمیشہ سے مساوات انسانی کا علمبردار رہا ہے اور اس مىں مساوات پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اسلام
نے انسان کو بغیر رنگ، نسل، مذہب کے یکساں حقوق دینے کا نظریہ دیا، اسلام نے لوگوں
کو بتایا چونکہ تخلیق کے اعتبار سے سب برابر ہیں لہذا سب کو ایک جیسے حقوق حاصل
ہونے چاہیں۔ اسلام نے ہی انسانیت کو روشناس کروایا کہ بنیادی انسانی ضروریات
ہر کسی کو بغیر رنگ، نسل اور جنس میں امتیاز کیے بغیر برابر ملنی چاہیے۔
مساوات كى تعرىف اور اس كى بابت اسلامى و مغربى نظرىات كى معرفت كے لىے
مىرے وىب سائٹdrmannan.com پر ىا گوگل
سرچ كركے مىرے مضمون "امامت مىں
مساوات" كا مطالعہ كىجىے۔
قانونى مساوات :
قانون کے سامنے مساوات، یا قانونی مساوات، ایک ایسی اصطلاح ہے جو سورج اور
چاند کی طرح ہر جگہ پھیل چکی ہے، اس کا بہت چرچا کیا جاتا ہے اور اس پر فخر بھی
کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ اسے جدید مغربی تہذیب کی عطا قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ
حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلے جس نے اس کا نعرہ بلند کیا، اس کی دعوت دی، اسے عملی
زندگی میں نافذ کیا، اس کی بنیادیں مضبوط کیں اور معاشرے کے گوشے گوشے میں اس کے
سائے پھیلائے، وہ اسلام ہے اور نبیِ اسلام حضرت محمد ﷺ ہیں۔( موقع الجامعة الاسلامىة دار
العلوم دىوبند، الہند، المقالات و البحوث
،المساواة أمام القانون: محمد عارف جمیل قاسمی مبارکپوری،ماہنامہ الداعی،
شعبان 1444ھ / مارچ 2023ءشمارہ: 8، سال: 47)
اسلامى شرىعت رنگ، جنس یا زبان کے فرق سے قطع نظر لوگوں کے
درمیان مساوات کا اصول لے كر آىا ۔ سطور بالا مىں
مذكور قبل اسلام مساوات كا وہ تاریک پس منظر تھا جس میں اسلام نے پہلی
مرتبہ یہ اصول پیش کیا اور یہ انقلابی
اعلان کیاكہ انسانوں کے درمیان فضیلت کی
بنیاد نیک عمل اور وہ خیر ہے جو فرد پیش
کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:: يا ايها الناس انا خلقناكم من ذكر و انثى و جعلناكم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اكرمكم
عند الله اتقاكم (حجرّات/13) اے لوگو! ہم نے تم كو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا
کیا، اور ہم نے تم كو مختلف قوموں و قبائل مىں تقسىم كردىا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے
نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز اور باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔
یہ بنىادى اصول شریعت اس زمانے میں
لے کر آئی جب نسلی اور قبائلی تعصب معاشرے کی بنیاد اور
لوگوں میں امتیاز اور فضیلت کی بنیاد تھی۔ اس درست ، عادل اور مضبوط اصول کو نافذ کیا گیا تو
عصبیت کی جڑیں اکھڑ گئیں، اور رنگ یا نسل کی بنیاد پر کوئی امتیاز باقی نہ رہا۔
“کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں، مگر تقویٰ کی
بنا پر۔” جىسا كہ نبى
كرىم نے فرماىا۔
یوں سب لوگ قانون کے سامنے برابر ہو گئے۔اسى لىے رسول اللہ ﷺ نے عدالت اور
شریعت کے سامنے لوگوں میں امتیاز برتنے کی کوششوں کی سختی سے مذمت فرمائی۔ چنانچہ
آپ نے فرمایا:
تم سے پہلے لوگوں کو اسی چیز نے ہلاک کیا کہ جب ان میں کوئی معزز شخص چوری
کرتا تو اسے چھوڑ دیتے، اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے۔
یہاں تک کہ جب اس معاملے میں سفارش
کی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“اللہ کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو
میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔”
اس اصول کا نفاذ اس قدر باریک بینی سے ہوا کہ نبی ﷺ نے اس شخص پر نکیر
فرمائی جس نے ایک غیر عرب مسلمان سے کہا: “اے کالی عورت کے بیٹے!” اور اسے جاہلیت
کی باقیات اور نسب و نسل پر فخر قرار دیا۔(المدخل لدراسة الشرىعة الاسلامىة، عبد الكرىم زىدان، خصائص الشرىعة
الاسلامىة)
یوں اسلام نے پہلی بار بنی نوعِ انسان کو نسل، رنگ، مال اور طاقت کی غلامی
سے نکال کر انسانی مساوات کی بنیاد پر کھڑا کیا۔ اور قانون کو بادشاہ، غلام، مرد، عورت، عرب و عجم سب کے لیے یکساں بنا کر
انسانی تاریخ میں ایک حقیقی قانونی انقلاب برپا کیا۔
درحقیقت انسانیت نے حقیقی قانونی مساوات صرف اسلام کے سایے میں ہی دیکھی
ہے، اور اسلام کی انہیں روشن، واضح اور صاف ہدایات و تعلیمات کے تحت—جن کی رات بھی
دن کی طرح روشن ہے اور جن سے صرف ہلاک ہونے والا ہی انحراف کرتا ہے۔( موقع الجامعة
الاسلامىة دار العلوم دىوبند، المساواة أمام القانون: محمد عارف جمیل قاسمی مبارکپوری)
رسول اللہ ﷺ اس قانونی مساوات کو ہر چھوٹے بڑے معاملے میں نافذ فرماتے تھے،
حتیٰ کہ اپنی ذات، اپنے اہلِ خانہ اور اپنے قریبی عزیزوں کے بارے میں بھی۔ حدیث
اور تاریخ کے مصادر ہمیں بہت سے ایسے واقعات بتاتے ہیں جن میں نبی کریم ﷺ نے خود
کو بھی قصاص کے لیے پیش فرمایا، تاكہ اس كا حقدار آپ سے قصاص لے ۔
یوں آپ ﷺ خود، آپ کے اہلِ بیت اور آپ کے قریبی رشتہ دار،
سب سے پہلے اور بہترین نمونہ تھے اللہ کے قوانین کی پیروی اور ان کے عملی نفاذ
کا—اور ان احکام کی زندہ تصویر تھے، ان کی نہایت باریک اور واضح ترین صورتوں میں۔
یہ وہ گھرانہ ہے جو مسلمانوں اور اسلام کے لیے ہمیشہ نمایاں مثال رہا ہے اور رہے
گا، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو۔
پس فاطمہ بنت محمد ﷺ — جو قوم کے اشرف ترین اور ان كے سردار کی بیٹی ہیں — اور فاطمہ بنت اسود
مخزومیہ، دونوں اللہ کے قانون کے سامنے برابر ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ کی بیٹی
اور رعایا کے کسی عام آدمی کی بیٹی میں کوئی فرق نہیں۔
لہٰذا جب سزا ثابت ہو جائے تو اس کا نافذ کرنا لازم ہوتا ہے، اور وہ سزا
اسی شخص پر جاری کی جائے گی جس پر جرم ثابت ہو، خواہ وہ غریب ہو یا امیر، شریف ہو
یا کمزور، قریبی ہو یا اجنبی،بنا كسى تفرىق كے ۔
نبی کریم ﷺ کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ شرعی حد اور سزا کو اپنے سب سے
محبوب لوگوں سے بھی ٹال دیں، جب ان پر جرم ثابت ہو جائے اور سزا واجب ہو جائے۔
کیا یہ عدل کی انتہا اور اسلامی شریعت و احکام میں لوگوں کے درمیان کامل
مساوات کی انتہائى كوشش و اعلیٰ مثال
نہیں؟
اسلام میں کسی کو بھی شرعی قوانین اور سزاؤں سے استثنا حاصل نہیں، بلکہ ہر
شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ یہی اصول انسانی معاشرے میں امن کے قیام اور اس
کی مضبوط بنیادوں کی اصل بنیاد ہے، اور اسی عدل پر آسمان و زمین قائم ہیں۔
یہی وہ جاوداں وصیت ہے جسے ہمارے نبی محمد ﷺ نے، بلکہ ہر اس نبی نے جو اللہ
تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا، پوری انسانیت کے سامنے پیش کیا۔
اسى كے مثل خلفائے راشدینؓ نے بھی نبی کریم ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے اللہ کے
قانون اور اس کی سزاؤں کے معاملے میں لوگوں کے درمیان مکمل مساوات قائم رکھی۔
انہوں نے اسلامی قوانین اور شرعی فرائض میں حاکم و محکوم، حاکم اور رعایا کے
درمیان کوئی فرق نہیں کیا، بلکہ بغیر کسی امتیاز اور تفریق کے—طبقوں، گروہوں اور
نسلوں کی بنیاد پر—ان قوانین کو نافذ کیا۔ انہوں نے تمام لوگوں کو قانونِ اسلام کے
اقتدار کے تابع کر دیا، ایسا قانون جس نے کسی کو یہ اجازت نہیں دی کہ وہ اپنے لیے
کوئی ایسی خصوصیت یا حق کا دعویٰ کرے جو دوسروں کو حاصل نہ ہو۔( موقع الجامعة
الاسلامىة دار العلوم دىوبند، المساواة أمام القانون: محمد عارف جمیل قاسمی مبارکپوری)
مذہبی اور سیاسی اقلیتوں کے ساتھ عدل:
اسی طرح مدینہ میں قائم ہونے والی نئی ریاست کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے
ایک یہ تھی کہ اس نے نسلی تفریق اور تمام معاہد فریقوں کے درمیان حقوق اور عمومی
فرائض میں امتیاز کو ختم کر دیا۔ چنانچہ یہودیوں اور مشرکوں کو وہی حقوق حاصل تھے
جو مسلمانوں کو حاصل تھے، اور ان پر وہی فرائض عائد تھے جو مسلمانوں پر تھے، سوائے
ان امور کے جو ان کے دین سے متعلق تھے۔ اس لیے ان پر ان امور میں حد قائم نہیں کی
جاتی تھی جنہیں وہ حرام نہیں سمجھتے تھے، اور نہ ہی انہیں ان کے تہواروں کے
معاملات میں عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا تھا۔ یہ تمام معانی ریاست کے “دستور” میں
نمایاں طور پر موجود ہیں۔(موقع اسلام وىب :
أحمد الشعيبي: مساواة الجميع أمام القانون)
ىہاں اس نکتے کو خاص طور پر اُن
لوگوں کے دعووں کے جواب کے لیے پیش كىا جا رہا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اسلامی شریعت کے تحت حکومت
میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت ممکن نہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے اقلیتوں
کے حقوق کی ضمانت دینے میں، واضح، صرىح اور
بعض اوقات حقیقت پسندانہ طور پر ضرورت سے زیادہ روادار ہے۔وہ حقوق میں مسلمانوں کے
برابر ہیں، لیکن تمام فرائض کے پابند نہیں ہیں۔ انہیں ان کے دین کے ساتھ چھوڑ دیا
جاتا ہے، وہ اپنے مذاہب اور رسومات پر عمل
کرنے میں آزاد ہیں اور ان میں سے کسی کو زبردستی اسلام میں داخل کرنا حرام ہے۔ ان
کے افراد، املاک، عزت یا عبادت گاہوں پر حملہ کرنا بھی حرام ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ألا من ظلم معاهداً، أو نقصه حقه، أو كلفه فوق
طاقته، أو أخذ منه شيئاً بغير طيب نفس، فأنا خصمه يوم القيامة» ىعنى سن لو جس نے کسی معاہد ( عہد و پىمان والا غیر مسلم )پر ظلم کیا،
یا اس کے حقوق میں کمی کی، یا اس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالا، یا اس سے اس
کی رضامندی کے بغیر کچھ لیا تو قیامت کے دن میں خود اس کا فرىق مخالف ہوں گا۔ (موقع المكتبة الشاملة :كتاب الفقه الإسلامي وأدلته لوهبة الزحيلي، العدل : العدل مع الاقلىات الدىنىة و السىاسىة )
موجودہ دور مىں قانونى مساوات كى حالت:
دور حاضر مىں دنىا كے تمام ممالك
مىں آئىنى اعتبار سے قانونى مساوات كا
اصول نافذ ہے اور ہر ملك كا دعوى ہے كہ وہ اس كا پابند ہے لىكن بغور جائزہ لىنے سے
معاملہ اس كے بالكل برعكس نظر آتا ہے۔اگر چہ زمانہ جاہلىت جىسى حالت نہىں ہے لىكن
معاملہ بہت ہى سنگىن ہے خصوصا ہمارے وطن عزىز ہندوستان مىں ۔ ىہاں پر بھى اگرچہ
قانون كے سامنے سب برابر ہىں لىكن عملى طور پر حقىقت مىں اىسا نہىں ہے۔ اس كى سب
سے واضح مثال آر اىس اىس ہے جو سوسال پرانى تنظىم ہے لىكن اس كا رجسٹرىشن اب تك
نہىں ہوا ہے اور نہ ہى وہ اپنا حساب و كتاب ركھتى ہے ۔ جب كہ انڈىن قانون كے
اعتبار سے چھوٹى سے چھوٹى تنظىم كے لىے رجسٹرىشن كرانا ، اس كا حساب كتاب ركھنا
اور آئى ٹى آر فائل كرنا قانونا ضرورى ہے
لىكن آر اىس اىس اپنے كو آئىن و قانون
سب سے بالا تر سمجھتى ہے۔
ىہاں ىوپى كے وزىر اعلى نے خود ہى اپنے خلاف مقدمات كو واپس لے لىا، اسى
طرح سابق چىف جسٹس رنجن گگوئى نے اپرىل 2019ع مىں اىك عورت كے ذرىعہ ان پر دائر جنسى ہراسانى كے مقدمہ كى سماعت خود كى اور خود ہى اپنے كو برى
قرار دىا ۔
ىہاں بہت سارے قىدىوں خصوصا مسلمانوں
كو بنا جرم كے جىل مىں ڈال دىا جاتا ہے جىسے عمر خالد و گلفشاں فاطمہ
وغىرہ اور پانچ سال تك ان كے خلاف مقدمہ
بھى دائر نہىں كىا جاتا ہے۔مسلمانوں كے خلاف كاروائى بہت جلدى كى جاتى ہے اور
انتہاپسند ہندؤوں كو خوش كرنے اور ووٹ بىنك مضبوط كرنے كے لىے ان كے گھروں ،
مساجد و مدارس پر بلڈوزر بہت جلدى چلادىا
جاتا ہے جىسا كہ اگست 2024ع مىں چھتر پور
، مدھىہ پردىش مىں حاجى شہزاد على كا گھر فساد كے دوسرے دن بلڈوز كر دىا گىا اور
حد تو ىہ ہے كہ اس مىں موجود كاروں كو بھى تہس نہس كر دىا گىا۔ اور آج 14/جنورى
2026 كى خبر ہے كہ مدھىہ پردىش كے بىتول
ضلع كے ڈھابہ گاؤں كے اىك ذاتى اسكول
كو مدرسہ كا الزام لگا كر گرادىا گىا جب كہ ىہ اسكول نعىم نے خود اپنى زمىن
پر 20/لاكھ روپئے مىں تعمىر كى تھى اور وہ اس كى منظورى لىنے كى كاروائى كر رہا
تھا ۔ وغىرہ
اس كے علاوہ جو بڑے بڑے سىاسى نىتا ہىں خصوصا حكمراں پارٹى كے قانون ان كے
خلاف كاروائى كرنے مىں اپنے كو عاجز پاتا ہے جىسے
برج بھوشن تىوارى جن پرجنسى ہراسانى كا
الزامات و پاسكو اىكٹ لگنے كے باوجود كوئى كاروائى نہىں ہوئى ۔بلكہ بھاجبا
اپنے مجرم نىتاؤں كے ساتھ كھڑى نظر آتى ہےاور بنا كسى شرم و حىا كے ان كى حماىت
كرتى ہے ۔
بىن الاقوامى طور پر دىكھا جائے تو قدرے اختلاف كے ساتھ حالات تقرىبا ىكساں
ہىں ۔ 3/جنورى 2026ع كى بات ہے كہ امرىكى
صدر ٹرمپ نے بىن الاقوامى قوانىن كى دھجىاں اڑاتے ہوئے وىنزوىلا كے صدر نكولاس
مادرو و اس كى بىوى كو گرفتار كر
لىا۔ اس سے پہلے 2014ع مىں روس نے ىوكرىن كے جزىرہ كرىمىا پر زبردستى قبضہ كر لىا اور پھر فرورى 2022ع مىں ىوكرىن پر جنگ تھوپ دى جو اب تك جارى ہے۔
اسى طرح عراقى صدر صدام حسىن نے اگست
1990ع مىں كوىت پرجارحانہ حملہ كركے اس پر
قبضہ كرلىا۔ وغىرہ
اكتوبر 2023ع مىں حماس كے اسرائىل پر حملہ كے بعد اسرائىل نے انسانى، اخلاقى ، ملكى و بىن الاقوامى قوانىن كى دھجىاں اڑاتے ہوئے جو
كچھ غزہ ، فلسطىن مىں اب تك كىا ہے اور كر رہا ہے وہ سب كے سامنے ہے۔اس نے انتہائى بے
شرمى و بے حىائى كے ساتھ تمام انسانى
قدروں كو پامال كىا اور غزہ كے معصوم و نہتے افراد كو نشانہ بناىا اور اس كو
ملىامىٹ كردىا ۔ اب تك تقرىبا
72/ہزار فلسطىنى شہىد ہوئے ہىں جن مىں
بچوں كى تعداد تقرىبا 19/ہزار اور عورتوں كى تعداد تقرىبا 12400 ہے ۔ تارىخ مىں اس قسم كے قتل عام
كى مثالىں كم ہى ملتى ہىں ۔
ىہ چند قومى و بىن الاقوامى مثالىں ہىں ورنہ اس قسم كے سىكڑوں واقعات ہىں جن كو ىہاں بطور
مثال پىش كىا جا سكتا ہے لىكن موضوع مزىد طوالت كا متحمل نہىں ہے ۔تقرىبا دنىا كے
تمام ممالك مىں كچھ كو چھوڑ كر ىہ اىك عام بات ہے اور پورى دنىا مىں عملا اىسا ہى ہوتا ہے۔سىاسى اثر و رسوخ اور طاقت و قوت ركھنے والے افراد و ممالك قوانىن كا غلط استعمال كرتے ہىں اور قانونى
مساوات كے اپنے ہى آئىنى دعوى كو اپنے ہى
اعمال اور كرتوتوں سے جھٹلاتے ہىں ۔
ىہ اىك مسلمہ حقىقت ہے كہ دور
حاضر میں بھی بہت سی ریاستیں اسلام كے
قانونى مساوات كے عادلانہ اصول کو
صحیح طور پر حاصل کرنے اور اس پر درست انداز میں عمل کرنے میں ناکام رہیں۔مثلا: امریکہ - جو اپنے كو اخوت و مساوات، جمہورىت و حرىت كا
چمپىن بتاتا ہے اور دنىا مىں اس كا
ڈھنڈورا پىٹتا ہے- میں اب بھی شہریوں کے
درمیان رنگ اور جنس کی بنیاد پر فرق موجود ہے۔ سفید فام شخص کو سیاہ فام
شخص کے مقابلے میں بلند تر مقام اور زیادہ حیثیت حاصل ہے، اور قانون کے سامنے
دونوں کے درمیان نہ مکمل مساوات ہے اور نہ ہی حقوق سے یکساں طور پر استفادہ كا حق —حالانکہ
دونوں امریکی شہریت رکھتے ہىں ۔
بلکہ قانون خود اس امتیاز کی حفاظت کرتا اور اسے تسلیم کرتا ہے۔
مزید یہ کہ امریکہ کی بعض ریاستوں کے دساتیر میں ایسے عجیب و غریب احکام پائے جاتے
ہیں جنہیں نہ انسانی ضمیر قبول کرتا ہے اور نہ ہی کوئی سلیم العقل انہیں درست
مانتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ حکم کہ کسی سفید فام اور کسی سیاہ فام (زنجي)
کے درمیان نکاح باطل سمجھا جائے۔ نیز یہ بھی کہ جو شخص ایسی کسی تحریر کو
چھاپے، شائع کرے یا تقسیم کرے جس میں عوام کو سماجی مساوات یا سفید و
سیاہ کے درمیان شادی کی ترغیب دی گئی ہو، یا عوام کے سامنے اس کے حق میں دلائل
پیش کیے جائیں، یا محض اس سلسلے میں کوئی تجویز دی جائے—تو ایسے شخص کا عمل جرم
شمار ہوگا، جس پر قانون کے تحت پانچ سو ڈالر تک جرمانہ یا چھ ماہ تک قید
یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔( زىدان:
المدخل لدراسة الشرىعة ، خصائص الشرىعة ،
المساواة)
ىہ آج كے دور مىں دنىا كے سب سے زىادہ ترقى ىافتہ، طاقتور، تعلىم ىافتہ ملك
كى حالت ہے تو بقىہ ممالك كى حالت كا
اندازہ بھى اس سے بہت حد تك لگاىا جا سكتا ہے۔ سچ ہے كہ اسلام ہى دنىا
كا واحد سچا مذہب ہے جوسراپا
انسانىت اور اس كا سچا ہمدرد و خىر خواہ ہے اور ىہ عظىم اصول اس
كى صداقت و سچائى كى دلىلوں مىں سے اىك
زبردست قطعى دلىل ہے۔
اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ دنىا كے تمام حكمرانوں خصوصا مسلمانوں كو اسلام
كے عظىم اصول قانونى مساوات پر عمل كرنے كى توفىق عطا فرمائے تاكہ ہر اىك كے ساتھ
عدل و انصاف ہو اور اس كا كا بول بالا
ہو۔و ما علىنا الا البلاغ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمىن ۔
0 التعليقات: