اللہ تعالى كى سنت استدراج

 

اللہ تعالى كى سنت استدراج

(استدراج :مہلت دے کر آہستہ آہستہ گرفت کرنا)

ابو مىمونہ

آىات:        وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمۡ يَتَضَرَّعُوۡنَ ‏  فَلَوۡلَاۤ اِذۡ جَآءَهُمۡ بَاۡسُنَا تَضَرَّعُوۡا وَلٰـكِنۡ قَسَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏  فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ اَبۡوَابَ كُلِّ شَىۡءٍ ؕ حَتّٰٓى اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً فَاِذَا هُمۡ مُّبۡلِسُوۡنَ‏  فَقُطِعَ دَابِرُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ؕ وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏ (انعام 42-45)

ترجمہ: اور  ہم نے آپ سے پہلے بہت سى قوموں كى طرف رسول بھىجے  پھر ہم نے  ان كو مصائب و تكلىفوں مىں گرفتار كىا تاکہ وہ عاجزی کریں۔لہذا جب ہمارى طرف سے ان پر سختى ہوئى  تو انہوں نے عاجزى كىوں نہىں اختىار كى لیکن ان کے دل تو سخت ہوچکے تھے اور شیطان نے ان كے لىے ان كے اعمال كو خوبصورت بنا دىا۔ جب  وہ اس نصیحت کو جو ان کو کی گئی تھی بھول گئے  تو ہم نے ان پر ہرچیز کے دروازوں كو  کھول دىا یہاں تک کہ جب وہ اترانے لگے ان چیزوں پر جو انہیں عطا كى گئى  تھیں تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا پھر وہ بالکل مایوس ہوگئے ۔ اس طرح  جڑ کاٹ دی گئی اس قوم کی جس نے ظلم (کفر و شرک) کی روش اختیار کی تھی اور ہر قسم كى  تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام عالم  کا پروردگار ہے۔

معانى كلمات:

باساء : سختى،  مشقت، عذاب، فقر، مصيبت، فاقہ،  قحط، آزمائش وغىرہ

ضراء :  سختى، مصىبت، فقر و فاقہ، تكلىف كى حالت، دائمى بىمارى۔سراء كا ضد ہے۔

ىتضرعون: ىہ تضرع سے فعل مضارع ہے ، تضرع الى اللہ: ابتھل اللہ سے گڑگڑا كر دعا كرنا، ¸تضرع الىہ و لہ: تذلل و خضع  معنى ذلىل ہونا،  گڑكڑانا و عاجزى كرنا ہے۔

قست:  ىہ قسا سے ہے ، سخت و درشت ہونا ، قسا اللىل : رات كا تارىك ہونا ، قسا الدرہم : درہم كھوٹا ہونا۔

فرحوا: اس كا اصل فرح ہے ۔معنى راضى ہونا ہے،   فرح بالشئى:  خوش ہونا، اكڑنا ، اترانا۔

اوتوا: ىہ آتى سے فعل ماضى مجہول ہے،  اىك معنى ہے دىنا،  دوسرا معنى ہے موافقت كرنا، بولا جاتا ہے: آتى فلانا على الامر اى وافقہ اس كى موافقت كى ، منظورى دى، بدلہ دىنا بھى اس كا معنى ہے آتاہ اى جازاہ۔

 بغتة: اچانك، ىكاىك، لاعلمى مىں، بلا توقع، بے خبرى مىں ج بغتات

  مبلسون: ىہ ابلس سے اسم فاعل ہے، اس كا اىك معنى ماىوس ہونا ہے۔حىرت ىا عدم دلىل كى وجہ سے خاموش ہوجانا، حىرت زدہ ہونا اور غمگىن ہونا  وغىرہ

 دابر:تابع، ہر چىز كا اخىر، آخر ، بولا جاتا ہے: قطع اللہ دابرھم: اللہ تعالى ان كو اول سے آخر تك نىست و نابود كردے، مابقى فى الكنانة الا الدابر : تركش مىں صرف آخرى تىر باقى ہے، اصل ، جڑ، گزرا ہوا، دم ج دوابر(موقع المعانى و مصباح اللغات )

تفسىر:

ان سے پہلے كى آىتوں مىں اللہ تعالى نے كفار و مشركىن كا  اس  پر اىمان نہ لانے و اس كے رسول  كو جھٹلانے كا تذكرہ كىا ہے ، اس كے بعد اللہ تعالى نے   نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے اور گزشتہ امتوں کے احوال بیان کرتے ہوئے  فرمایا:وَلَقَدْ أَرْسَلْنا إِلى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَأَخَذْناهُمْ بِالْبَأْساءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ۔

البأساء سے مراد سخت مشقت، شدید فقر و تنگ دستی، اور وہ عمومى  بحران ہیں جو جنگوں اور مصیبتوں کی وجہ سے قوموں کو گھیر لیتے ہیں۔اور الضراء ان بیماریوں اور جسمانی و نفسیاتی تکالیف کو کہتے ہیں جو افراد اور قوموں کو لاحق ہوتی ہیں۔

مطلب یہ ہے کہ اے محمد ﷺ! ہم نے آپ سے پہلے بھی مختلف قوموں کی طرف رسول بھیجے۔ وہ قومیں شرک اور انکار میں آپ کی قوم سے بھی زیادہ سرکش تھیں، لہٰذا ہم نے انہیں سخت فقر، تکلیف دہ آزمائشوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا، تاکہ وہ عاجزی اختیار کریں اور اپنے کفر و شرک سے باز آ جائیں۔(الوسىط للطنطاوى)

یہ آیتِ کریمہ دراصل ایک ایسے نفسیاتی علاج کی تصویر پیش کرتی ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ان قوموں کی اصلاح فرماتا ہے جو اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتی اور اس کے انبیاء کی تکذیب کرتی ہیں۔ کیونکہ تكالىف و مصائب ا     ن  نفسوں کے لیے بیداری کا ذریعہ بن سکتی ہیں جو دنیا کی زیب و زینت اور لذتوں سے دھوكا مىں پڑ جاتے  ہیں—بشرطیکہ وہ اصلاح کے قابل ہوں۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ وہ قومیں ان مصیبتوں سے بھی عبرت حاصل نہ کر سکیں، چنانچہ ارشاد ہوا:فَلَوْلا إِذْ جاءَهُمْ بَأْسُنا تَضَرَّعُوا، وَلكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ، وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ ما كانُوا يَعْمَلُونَ۔

یہاں فلولا نفی کے لیے ہے، یعنی جس وقت  ان پر ہمارا عذاب آیا تو وہ نہ ڈرے  اور نہ ہی عاجزی اختیار کی۔
اور بعض اہلِ علم کے نزدیک یہ ھلا كے معنى مىں  حث و ترغیب کے لىے  ہے، یعنی: جس وقت  ان پر ہمارا عذاب آیا تو وہ توبہ کرتے ہوئے ہماری طرف کیوں نہ رجوع ہوئے؟(الوسىط للطنطاوى)

صاحبِ کشاف  نے  اختىار كىا  ہے كہ وہ نفى كے لىے ہے ،  اس لىے ان كا كہنا ہے : فلولا اذ ... كا معنى تضرع كى نفى اور انكار ہے یعنی وہ عذاب کے وقت بھی عاجزی نہ کر سکے۔لىكن ىہاں پر لولا كا استعمال كركے ىہ بتاىا گىا  ہے  کہ ان کے پاس تضرع نہ کرنے کا کوئی عذر نہ تھا، سوائے ان کی ضد، دلوں کی سختی، اور اپنے اعمال پر فخر کے—جنہیں شیطان نے ان کے لیے خوشنما بنا دیا تھا۔

پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ دو چیزیں ایسی تھیں جنہوں نے انہیں مصائب كے نزول كے وقت بھى  توبہ اور عاجزی سے روک دیا:

پہلی چیز: ان کے دلوں کی سختی— اور اللہ تعالى نے اس پہلى چىز كے بارے مىں فرماىا: و لكن قست قلوبھم یعنی ان کے دل سخت، بے حس اور پتھر  كى طرح ہوگئے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہو گئے تھے۔

دوسری چیز: شیطان کا ان کے برے اعمال کو آراستہ کرنا—وہ انہیں یہ باور کراتا تھا کہ ان کا کفر، شرک اور نافرمانی ہی درست راستہ ہے، اور انبیاء کی تعلیمات اس لیے قابلِ قبول نہیں کہ وہ ان کے آباؤ اجداد کے طریقے کے خلاف ہیں۔

یہی دو اسباب تھے جنہوں نے انہیں اللہ کے حضور جھکنے اور اس کی طرف رجوع کرنے سے محروم رکھا۔(الوسىط للطنطاوى)

در اصل قو میں جب اخلاق و کردار کی پستی میں مبتلا ہو کر اپنے دلوں کو زنگ آلود کر لیتی ہیں تو اس وقت اللہ کے عذاب بھی انہىں خواب غفلت سے بیدار کرنے اور جھنجھوڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔ پھر ان کے ہاتھ طلب مغفرت کے لیے اللہ کےسامنے  نہیں اٹھتے، ان کے دل اس کی بارگاہ میں نہیں جھکتے اور ان کے رخ اصلاح کی طرف نہیں مڑتے۔ بلکہ اپنی بد اعمالیوں پر تاویلات و توجیہات کے حسین غلاف چڑھا کر اپنے دل کو مطمئن کر لیتی ہیں۔ اس آیت میں ایسی ہی قوموں کا كر داربیان کیاگیا ہے جسے شیطان نے ان کے لیے خوبصورت بنا دیا ہوتا ہے۔(تفسىر احسن البىان)

اس آىت سے واضح  ہے  كہ آدمی کے سامنے ایک حق آتا ہے اور وہ اس کو نہیں مانتا تو اللہ اس کو فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس کو مالی نقصان اور جسمانی تکلیف کی صورت میں کچھ جھٹکے دیتا ہے، تاکہ اس کی سوچنے کی صلاحیت بیدار ہو اور وہ اپنے رویہ کے بارے میں نظر ثانی کرے۔ زندگی کے حوادث محض حوادث نہیں ہیں، وہ اللہ کے بھیجے ہوئے محسوس پیغامات ہیں جو اس لیے آتے ہیں تاکہ غفلت میں سوئے ہوئے انسان کو جگائیں۔ مگر آدمی اکثر ان چیزوں سے نصیحت نہیں لیتا۔ وہ یہ کہہ کر اپنے کو مطمئن کرلیتا ہے کہ یہ تو اتار چڑھاؤ کے واقعات ہیں اور اس قسم کے اتار چڑھاؤ زندگی میں آتے ہی رہتے ہیں۔ اس طرح ہر موقع پر شیطان کوئی خوش نما توجیہہ پیش کرکے آدمی کے ذہن کو نصیحت کے بجائے غفلت کی طرف پھیر دیتا ہے۔ آدمی جب بار بار ایسا کرتاہے تو حق وباطل اور صحیح وغلط کے بارے میں اس کے دل کی حساسیت ختم ہوجاتی ہے۔ وہ قساوت (بے حسی) کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔(تذكىر القرآن)

پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے انہیں سختیوں کے ذریعے آزمائش میں ڈالنے کے بعد نعمتوں کے ذریعے بھی آزمایا، مگر وہ باز نہ آئے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّىٰ إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ۔

یعنی جب انہوں نے ان نصیحتوں اور تنبیہات سے منہ موڑ لیا جو رسولوں نے انہیں پہنچائیں، تو ہم نے ان پر ہر قسم کی نعمتوں، رزق، قوت اور اقتدار کے دروازے کھول دیے۔ یہاں تک کہ جب وہ ان عطا کردہ چیزوں پر اترانے اور غرور کرنے لگے تو ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا، اور وہ نجات سے مایوس اور حسرت زدہ ہو کر رہ گئے۔

آیت میں ( فَلَمَّا نَسُواْ ) کی “فاء” ان کے اعمال کی تفصیل اور ان کے کفر کے قریب اور دور کے انجام کو واضح کرنے کے لیے ہے۔

اور یہاں نسیان سے مراد حقىقى بھول جانا نہیں بلکہ اعراض اور ترک کرنا ہے؛ یعنی انہوں نے رسولوں کی لائی ہوئی ہدایت كو چھوڑ دىا ، یہاں تک کہ وہ اسے بھول  گئے ، یا  انہوں نے اس سے عبرت اور نصىحت نہ حاصل كركے اس كو بھلا ئى ہوئى چىز بنادىا کیونکہ وہ اپنے کفر پر اڑے رہے اور اپنے اسلاف کی اندھی تقلید پر جمے رہے۔(الوسىط للطنطاوى)

اللہ تعالیٰ کے قول : ( فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ ) کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے کہ انہیں بھولنے پر کیوں ملامت کی گئی، حالانکہ بھول جانا تو ان  كا عمل نہىں اور نہ اس پر ان كا اختىار  ہے ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں “نَسُوا” كا معنى  “جس چىز كى نصىحت ان كو كى گئى تھى اس كا چھوڑ دىنا ہے ، جیسا کہ ابن عباسؓ اور ابن جریجؒ نے کہا، اور یہی ابو علی کا قول ہے؛ کیونکہ جو شخص کسی چیز کو اعراض کرتے ہوئے ترک کر دے وہ اسے گویا بھولی ہوئی چیز کے درجے میں لے آتا ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے: اس نے اسے بھلا دیا، یعنی اسے چھوڑ دیا۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ انہوں نے خود کو بھول جانے کے اسباب میں ڈال دیا، اس لیے ان کی مذمت درست ہوئی؛ جیسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کے اسباب اختیار کرنے پر ملامت جائز ہے۔(تفسىر قرطبى)

اور اللہ تعالى كا اس قول سے تعبىر كرنا   {فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ} اس بات کی بلیغ تصویر کشی کرتا ہے کہ دنیا  اپنى تمام سمتوں سے اپنی ہر طرح کی نعمتوں  اور اپنی پوری قوت اور کشش کے ساتھ ان پر متوجہ ہوگئى ؛ یہ نعمتوں کے ذریعے آزمائش تھی، اس سے پہلے انہیں سختی اور تنگی کے ذریعے آزمایا گیا تھا۔(الوسىط للطنطاوى)

( حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا ) یعنی وہ مست و مگن ہوكر  اترانے لگے، سرکشی کرنے لگے، اپنے آپ پر فخر کرنے لگے اور گمان کرنے لگے کہ یہ عطا کبھی ختم نہیں ہوگی اور یہ اللہ کی رضا کی علامت ہے۔(تفسىر قرطبى)

اللہ تعالیٰ نے نعمت دینے کو ( بِمَا أُوتُوا ) (مجہول کے صیغے) میں بیان فرمایا، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ سب  صرف ان کے اپنے علم اور طاقت کا نتیجہ ہے، جیسے اس سے   پہلے  قارون نے کہا تھا: ( إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي )۔
جبکہ پکڑنے کو اپنی طرف منسوب كىا  اور  فرمایا: ( أَخَذْنَاهُمْ ) کیونکہ وہ تخلیق اور وجود کو اللہ ہی کی طرف منسوب کرتے تھے اور اس كے منكر نہىں تھے۔(الوسىط للطنطاوى)

( أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً ) یعنی ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا،  ىعنى  ہم نے ان كو جڑ سے مٹا دیا اور سختی سے گرفت کی۔ “بغتة” کا مطلب ہے یکایک اور  وہ  غفلت مىں  اور بغیر کسی پیشگی علامت کے پکڑ لینا ہے ؛ جب انسان غفلت اور بے خبری میں ہو اور اچانک پکڑا جائے تو یہی “بغتة” ہے، اور سب سے زیادہ سخت وہ چیز ہوتی ہے جو اچانک آ جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو نصیحت پہلے کی گئی تھی اور انہوں نے اس سے اعراض کیا وہی دراصل تنبیہ تھی اور وہى علامت و نشانى كے قائم مقام ہے ۔ واللہ اعلم۔

 بغتة” مصدر ہے جو حال کے معنی میں آیا ہے،  پس یہ سب اللہ کی طرف سے استدراج تھا، جیسا کہ فرمایا: ( وَأُمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ)۔ ہم اللہ کے غضب اور اس کی خفیہ تدبیر سے پناہ مانگتے ہیں۔(تفسىر قرطبى)

اور ان کی گرفت اچانک اس لىے  ہوئی كىونكہ عذاب کی سب سے سخت شكل یہی ہے کہ كسى كو بے خبری، غفلت اور اطمینان کی حالت میں اچانک پکڑا جائے، تاکہ ان کی سزا زیادہ سخت ، انتہائى ہولناك اور ان کی مصیبت زیادہ عظیم ہو۔(تفسىر سعدى) یعنی ہم نے انہیں عذابِ استیصال کے ساتھ اس حال میں پکڑا کہ ہم نے انہیں اچانک آ لیا۔یا  اس حال مىں  کہ وہ خود یکایک گرفت میں آ گئے؛ کیونکہ عذاب نے انہیں بے خبری میں، بغیر کسی مہلت کے، اچانک آ لیا۔(الوسىط للطنطاوى)

بعض علماء نے کہا: اللہ اس بندے پر رحم کرے جو اس آیت میں غور و فكر  کرے: ( حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً )۔محمد بن النضر الحارثی نے کہا: ان لوگوں کو بیس سال کی مہلت دی گئی۔(تفسىر قرطبى)

ىہاں ىہ بات قابل غور ہے كہ جب آدمی اللہ کی طرف سے آئی ہوئی تنبیہات کو نظر انداز کردے تو اس کے بعد اس کے بارے میں اللہ کا انداز بدل جاتا ہے۔ اب اس کے لیے اللہ كا  فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر آسانیوں اور کامیابیوں کے دروازے کھولے جائیں۔ اس پر خوش حالی کی بارش کی جائے۔ اس کی عزت ومقبولیت میں اضافہ کیا جائے۔ یہ درحقیقت ایک سزا ہے، جو اس لیے ہوتی ہے تاکہ آدمی مطمئن ہو کر اپنی بے حسی کو اور بڑھالے، وہ حق کو نظرانداز کرنے میں اور زیادہ ڈھیٹ ہوجائے اور اس طرح اللہ کی سزا کا استحقاق اس کے لیے پوری طرح ثابت ہوجائے۔ جب یہ مقصد حاصل ہوجائے تو اس کے بعد اچانک اس پر اللہ كا  عذاب ٹوٹ پڑتا ہے۔ اس کو دنیوی زندگی سے محروم کرکے آخرت کی عدالت میں حاضر کردیا جاتاہے تاکہ اس کی سرکشی کی سزا میں اس کے لیے جہنم کا فیصلہ ہو۔(تذكىر القرآن)

اللہ تعالى كا قول: فاذا ھم مبلسون،  مبلس وہ ہے جو دنگ رہ جائے، غمگین ہو اور خیر سے ناامید ہو، جو اپنے ساتھ پیش آنے والی برے صورتحال کی شدت سے كوئى  جواب نہ پا سکے۔

شاعر عجاج نے کہا:

اے ساتھی! کیا تم اس مٹے ہوئے نشان کو پہچانتے ہو؟

اس نے کہا: ہاں، میں اسے پہچانتا ہوں اور (حیرت سے) گم صم ہو گیا۔

یعنی جو کچھ اس نے دیکھا اس کی ہولناکی سے حیران رہ گیا۔ اسی سے “ابلیس” کا نام نکلا ہے۔ کہا جاتا ہے: اَبلس الرجل یعنی آدمی خاموش ہوگیا ۔اور کہا جاتا ہے: أبلست الناقة یعنی اونٹنی مُبلاس ہوگئی، جب وہ سخت ضَبْعَہ (شدید شہوت یا جفتی کی خواہش) کی وجہ سے آواز نہ نکالے۔اور ضبعت الناقة تضبع ضبعةً وضبعاً اس وقت کہا جاتا ہے جب اونٹنی نر کی خواہش کرنے لگے۔(تفسىر قرطبى)

اور (فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ) میں "إذا" فجائیہ ہے (یعنی اچانک ہونے پر دلالت کرتی ہے)، اور مُبلِس اس شخص کو کہتے ہیں جو حیران و ششدر، غم زدہ اور خیر سے مایوس ہو ، اور جسے اپنی بدحالی کی شدت سے کوئی جواب نہ سوجھے۔(الوسىط للطنطاوى)

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ كى  روایت کہ نبی ﷺ نے ارشاد  فرمایا : " وإذا رأيت الله يعطى العبد من الدنيا على معاصيه ما يحب فإنما هو استدراج " ، ثم تلا قوله - تعالى - { فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ } . . الاية(احمد/17311،  الطبرانى فى الكبىر /913 و الاوسط 9272، سلسلة الاحادىث الصحىحة /413 و مشكاة المصابىح /5201)  جب تم دیکھو کہ اللہ کسی بندے کو اس کی نافرمانیوں کے باوجود دنیا کی پسندیدہ چیزیں دے رہا ہے تو یہ دراصل استدراج ہے۔پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ  الآیة۔( تفسىر قرطبى و الوسىط للطنطاوى)

حسن بصریؒ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جس شخص پر دنیا کشادہ کر دی گئی اور وہ اس بات سے نہ ڈرا کہ شاید اس کے ساتھ خفیہ تدبیر ہو رہی ہے تو اس کا عمل کمزور اور اس کی رائے ناقص ہے؛ اور جس سے دنیا روک لی گئی اور اس نے یہ نہ سمجھا کہ شاید یہ اس کے لیے بہتر ہے تو اس کا عمل بھی ناقص اور اس کی رائے بھی کمزور ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:فَقُطِعَ دابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ۔الدابر سے مراد آخری ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان قوموں کو ان کے ظلم و فجور کی وجہ سے جڑ سے مٹا دیا اور ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔(الوسىط للطنطاوى)

اس میں خدا فراموش قوموں کی بابت اللہ تعالی بیان فرماتا ہے کہ ہم بعض دفعہ وقتی طور پر ایسی قوموں پر دنیا کی آسائشوں  اور فراوانىوں كے دروازے كھول  دیتے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ اس میں خوب مگن ہو جاتی ہیں اور اپنی مادى خوش حالی و ترقی پر اترانے لگ جاتی ہیں تو پھر ہم اچانک انہیں اپنے مؤاخذے کی گرفت میں لے لیتے ہیں اور ان کی جڑ ہی کاٹ کر رکھ دیتے ہیں۔

قرآن کریم کی اس آیت اور حضرت عقبہ كى حدیث سے معلوم ہوا کہ دنیوی ترقی اور خوش حالی اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ جس فرد یا قوم کو یہ حاصل ہو تو وہ اللہ کی چہیتی ہے اور اللہ تعالی اس سے خوش ہے، جیسا کہ بعض لوگ ایسا سمجھتے ہیں بلکہ بعض تو انہیں أن الْأَرْضَ يَرْثَهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ(  انبىاء/  105)کا مصداق قرار دے کر انہیں اللہ کے نیک بندے " تک قرار دیتے ہیں۔ ایسا سمجھنا  اور کہنا غلط ہے، گمراہ قوموں یا افراد کی دنیوی خوش حالی ابتلا اور مہلت کے طور پر ہے نہ کہ یہ ان کے کفر و معاصی کا صلہ ہے۔(تفسىر احسن البىان)

اور الحمد للہ رب العالمین میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے رسولوں اور اپنے نیک بندوں کو ان کے دشمنوں پر غالب فرمایا۔اس آیت کے آخر میں وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ کہہ کر ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ظالموں کا خاتمہ بھی ایک عظیم نعمت ہے، جس پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنا لازم ہے۔(الوسىط للطنطاوى)

یہ دنیا اللہ کی دنیا ہے۔ یہاںہر قسم کی بڑائی اور تعریف کا حق صرف ایک ذات کے لیے ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص اللہ کی طرف سے آئے ہوئے حق کو نظر انداز کردیتاہے تو وہ دراصل اللہ کی ناقدری کرتاہے۔ وہ اللہ کی عظمتوں کی دنیامیں اپنی عظمت قائم کرنا چاہتاہے۔ وہ ایسا ظلم کرتاہے جس سے بڑا کوئی ظلم نہیں۔ وہ اس اللہ کے سامنے گستاخی کرتاہے جس کے سامنے عجز کے سوا کوئی اور رویہ کسی انسان کے لیے درست نہیں۔(تذكىر القرآن)

آخر مىں اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ دنىا كے ہر مسلمان مرد و عورت كو ہر قسم كے دنىاوى و اخروى فتنہ سے محفوظ ركھے اور اس كا خاتمہ اىمان پر ہو ۔ آمىن و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العا لمىن۔

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: