حج و عمرہ میں فدیہ و قربانی کا وجوب

 

                 حج و عمرہ  میں فدیہ و قربانی کا وجوب  

آیت: {وَأَتِمُّواْ ٱلۡحَجَّ وَٱلۡعُمۡرَةَ لِلَّهِۚ فَإِنۡ أُحۡصِرۡتُمۡ فَمَا ٱسۡتَيۡسَرَ مِنَ ٱلۡهَدۡيِۖ وَلَا تَحۡلِقُواْ رُءُوسَكُمۡ حَتَّىٰ يَبۡلُغَ ٱلۡهَدۡيُ مَحِلَّهُۥۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوۡ بِهِۦٓ أَذٗى مِّن رَّأۡسِهِۦ فَفِدۡيَةٞ مِّن صِيَامٍ أَوۡ صَدَقَةٍ أَوۡ نُسُكٖۚ فَإِذَآ أَمِنتُمۡ فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلۡعُمۡرَةِ إِلَى ٱلۡحَجِّ فَمَا ٱسۡتَيۡسَرَ مِنَ ٱلۡهَدۡيِۚ فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٖ فِي ٱلۡحَجِّ وَسَبۡعَةٍ إِذَا رَجَعۡتُمۡۗ تِلۡكَ عَشَرَةٞ كَامِلَةٞۗ ذَٰلِكَ لِمَن لَّمۡ يَكُنۡ أَهۡلُهُۥ حَاضِرِي ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ١٩٦} (بقرہ/196)

معانی کلمات:

    حج, عمرہ, احصار , استیسر , ہدی  و محل کے معانی جاننے  کے لیے اصلاح و ترقی کا جولائی 2023 ع کا شمارہ دیکھیے۔

    فدیہ:یہ فدى سے بنا ہے , وہ  مال جو کسی کو چھڑانے کے لیے دیا جائے , تاوان جمع فدى و فدیات ہے ۔یہ کسی عمدہ و عظیم چیز کا عوض ہوتا ہے اور بلا شبہ ممنوعات حج و عمرہ ایسے امور ہیں جن کی جلالت و عظمت شان مسلم ہے ۔

   نسک: یہ نسیکہ کی جمع ہے اور وہ ذبیحہ ہے جس کو بندہ اللہ کے لیے ذبح کرتا ہے , اور یہ اونٹ , گائے  و بکری میں سے ہوتا ہے ۔اس کی جمع نسائک بھی ہے, اسی سے منسک ہے جو نسک کا اسم مصدر ہے , اس کا ایک معنى اطاعت و عبادت کا بھی ہے , اسی سے اللہ تعالى کا قول ہے  و ارنا مناسکنا (بقرہ/128) یعنی تو ہم کو ہماری عبادات بتا دے۔ایک اور معنی عابد و زاہد ہونا ہے , کہا جاتا ہے : نسک الرجل یعنی آدمی زاہد و عابد ہوگیا ۔اس کا ایک معنى دھونا بھی ہوتا ہے, بولا جاتا ہے: نسک ثوبہ اى غسلہ یعنی اس نے اپنے کپڑے کو دھلا, تو گویا کہ ایک عابد و زاہد شخص اپنے نفس کو عبادت کے ذریعہ گناہوں کے میل کچیل سے صاف کرلیتا ہے, اور کہا جاتا ہے کہ نسک چاندی کا ڈھالا ہوا ٹکڑا جو ہر گندگی سے پاک و صاف ہوتا ہے  , تو ہر سبیکہ نسیکہ ہے تو گویا کہ ہر عابد أپنے نفس کو گناہوں کی گندگی سے صاف کر لیتا ہے ۔

   تمتع:اس کا اصل متع ہے جو کئی معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے, اس کا لفظی معنی امام رازی کے بقول تلذذ یعنی لذت حاصل کرنا  و لطف اندوز ہونا ہے , بولا جاتا ہے: تمتع بالشئی اذا تلذذ بہ  یعنی اس نے اس چیز سے فائدہ اٹھایا  جب کہ اس نے اس لذت حاصل کی ہو ,  اور ہر وہ چیز جس سے فائدہ اٹھایا جائے  متاع ہے , اس کی اصل ان کے قول حبل ماتع سے ہے جس کا معنى طویل ہے اور جس کے ساتھ کسی چیز کی لمبی صحبت ہو اور  کوئی چیز کسی کے ساتھ  طویل مدت تک رہے تو وہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور  لطف اندوز ہوتا ہے۔

     اور اس آیت میں تمتع سے مراد شرعی حج تمتع ہے , اور وہ  یہ ہے کہ ایک مسلمان حج کے مہینوں میں ایک ہی سال میں حج و عمرہ کے درمیان جمع کرے ۔ یعنی پہلے عمرہ کرے پھر حج کرے ۔اسی کو حج تمتع کہا جاتا ہے  کیونکہ اس میں محرم کے لیے  روحانی و جسمانی   دونوں لذت ہے,  کیونکہ وہ پہلے عمرہ کرتا ہے , اس کے ارکان و افعال کو ادا کرتا , اور بلا شبہ یہ روحانی لذت ہے , اس کے بعد وہ حلال ہوتا ہے , اب اس کے لیے حج کا احرام باندھنے تک  عورتوں سے مباشرت و جماع اور خوشبو کا استعمال کرنا جائز ہوجاتا ہے , اور یہ یقینا جسمانی لذت و لطف ہے ۔(الوسیط للطنطاوی و المعجم الوسیط و مصباح اللغات)

   ترجمہ: اور اللہ کے لیے حج و عمرہ کو مکمل کرو,  اور اگر کوئی رکاوٹ پیش آجائے تو جو  ہدى  میسر ہو اس  کو ذبح کرو, اور اپنا سر نہ  منڈاؤ یہاں تک کہ قربانی اپنی جگہ پر پہنچ جائے ۔ البتہ تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (جس کی وجہ سے سر منڈالے)تو اس کے اوپر روزہ رکھنے, یا صدقہ کرنے یا ایک ذبیحہ (دم)کرنے کا فدیہ ہے ۔ اب اگر تم مامون ہوجاؤ (اور حج سے پہلے مکہ پہنچ جاؤ)  تو جو شخص حج کا زمانہ آنے تک عمرہ کا فائدہ اٹھائے  تو  اسے جو قربانی میسر ہو وہ کر ڈالے , اور اگر قربانی کی طاقت نہ ہو تو وہ تین دن کا روزہ حج میں  اور سات دن کا روزہ گھر واپسی کے بعد رکھ لے۔ یہ کل دس روزے ہوئے ۔یہ حکم ان کے لیے ہے جو مسجد حرام یعنی مکہ کے رہنے والے نہ ہوں,  اور اللہ تعالى کا تقوى اختیار کرو اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۔

تفسیر: اس طویل آیت میں اللہ تعالى نے حج و عمرہ کے مندرجہ ذیل  مسائل بیان کیے ہیں :---

      حج و عمرہ شروع کرنے کے بعد اس  کا پورا کرنا ضروری ہے ۔

ادائیگی حج و عمرہ میں رکاوٹ کا مسئلہ

بعض ممنوعات احرام اور اس کا فدیہ

حج تمتع میں قربانی ضروری ہے   اوراگر قربانی میسر نہیں ہے تو دس دن کا روزہ رکھنا ہے ۔

اہل مکہ اگر تمتع کرتے ہیں تو ان پر قربانی نہیں ہے ۔

 ان میں سے پہلے دو مسائل کے بارے میں اصلاح و ترقی کے جولائی 2023ع کے شمارہ میں  تفصیل سے لکھا جا چکا ہے , اب بقیہ چار مسائل کی وضاحت کی جا رہی ہے ۔

حج و عمرہ کی نیت کرلینے کے بعد بہت سارے جائز امور ناجائز ہوجاتے ہیں اور ایک محرم کے لیے ان کا انجام دینا گناہ ہوجاتا ہے ۔ انہیں کو شریعت کی اصطلاح میں ممنوعات احرام کہا جاتا ہے جن میں سے ایک حلق کرانا یا  تقصیر ہے , اور یہ  کل دس ہیں جو درج ذیل ہیں  :--

مرد کے لیے سلا ہوا کپڑا  پہننا,  مرد کا سر اور عورت کا چہرہ ڈھانکنا, عذر کے باوجود سر اور جسم کا بال کاٹنا,  ناخن تراشنا,  بدن یا کپڑے میں خوشبو لگانا  یا اس کو بالقصد سونگھنا,  خشکی کا شکار کرنا, حرم کے درخت کاٹنا, شرمگاہ کے علاوہ عورت کے بقیہ جسم سے لطف اندوز ہونا, جماع یعنی میاں بیوی  کا ہمبستر ہونا,  نکاح کرنا ۔

اللہ تعالى نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ حالت احرام میں سر کا بال  منڈانا جائز نہیں ہے  اب یہ واضح کر رہا ہے کہ کن حالات میں محرم کے لیے بحالت احرام سر کا بال منڈانا جائز ہے ۔ اس لیے فرمایا: فمن کان منکم مریضا ... یعنی حالت احرام میں اگر کسی کو ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے وہ حلق کے لیے مجبور ہے یا اس کے سر میں کسی قسم کی تکلیف ہے مثلا  پھوڑا پھنسی یا تکلیف دہ کیڑے مکوڑے ہیں  اب اگر وہ حلق کراتا ہے تو اس کو روزہ رکھنے یا صدقہ کرنے یا ذبح کرنے کا  فدیہ دینا ہے ۔

اور یہاں اللہ تعالى نے کفارہ کے بجائے فدیہ کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ جس کو بیماری ہوگئی یا سر میں کوئی تکلیف ہوگئی تو اس میں اس کا کوئی دخل نہیں ہے اور نہ اس نے کوئی گناہ کیا ہے کہ اس کا کفارہ ادا کرے ۔(الوسیط للطنطاوی)

اس کے بعد جنس فدیہ کا بیان ہے  اور نبی کریم نے اس فدیہ کی مقدار کو متعین کردیا ہےجیسا کہ حضرت کعب بن عجرہ انصاری کی روایت میں ہے کہ آپ نے ان کو سرکا بال حلق کرانے  پر فدیہ ادا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: کیا تم بکری ذبح کرنے کی طاقت رکھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں , اس پر آپ گویا ہوئے کہ پھر تین دن کا روزہ رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ , ہر مسکین کو آدھا صاع یعنی تقریبا  ڈیڑھ کلو  غلہ دو  اور اپنا سر حلق کرالو ۔ حضرت کعب کا کہنا ہے کہ یہ میرے بارے میں خصوصی طور پر نازل ہوئی ہے لیکن یہ سب کے لیے عام ہے ۔

اس حدیث میں نبی کریم نے فدیہ کے مقدار کو بیان کردیا ہے , لہذا اکثر علماء کا کہنا ہے کہ اس قسم کے عذر کی وجہ سے اس مقام پر محرم کو اختیار ہے , خواہ وہ روزہ رکھے یا صدقہ کرے یا بکری ذبح کرکے مسکینوں پر تقسیم کردے ۔

علامہ ابن کثیر کا کہنا ہے : قرآن مجید نے رخصت کے بیان میں آسان   کے ترتیب کی رعایت کی ہے , اور جب پیارے نبی نے کعب بن عجرہ کو حکم دیا تو ان کو پہلے افضل کی طرف رہنمائی کی  اور کہا کہ کیا تم بکری ذبح کر سکتے ہو؟ لہذا ہر چیز اپنی جگہ پر درست و بہتر ہے ۔ (الوسیط للطنطاوی)

روزہ کے علاوہ بقیہ دو فدیوں کی جگہ کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے , بعض کا کہنا ہے کہ کھانا اور خون مکہ ہی میں دے , بعض کے نزدیک مثل روزہ اس کے لیے بھی کوئی خاص جگہ متعین نہیں ہے۔ علامہ شوکانی نے اسی رائے کی تائیید کی ہے ۔(تفسیر احسن البیان)

اب اللہ سبحانہ و تعالی بحالت امن حلال ہونے کی کیفیت کو بیان کر رہا ہے  لہذا فرمایا : فاذا امنتم ...عشرۃ کاملۃ یعنی جب تمہارا خوف ختم ہوجائے اور امن و امان بحال ہوجائے  تو جو بھی حج تمتع کرتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ حج کے مہینوں میں پہلے عمرہ کرتا ہے , پھر اس سے حلال ہوجاتا ہے , اپنا سر حلق کرالیتا ہے اور اپنی بیوی سے مباشرت کرتا ہے اگر وہ اس کے ساتھ ہے , اور حج کا احرام باندھنے تک ہر وہ کام کرتا ہے جو غیر محرم کرتا ہے ۔ تو ایسی صورت میں اس کے اوپر واجب ہے  کہ اللہ کے شکر یہ کے طور پر  اسے جو بھی بکری, گائے یا اونٹ کی  قربانی میسر ہو  وہ کر ڈالے  کیونکہ اس نے  صرف اللہ کی توفیق سے  دو عبادتوں حج و عمرہ کے درمیان جمع کیا ہے  اور ساتھ ہی اس نے درمیان میں لذت حاصل کی اور لطف اندوز ہوا ۔(الوسیط للطنطاوی)

اب اگر کسی کے پاس قربانی کرنے کی طاقت نہیں ہے  تو اسے تین دن اوقات حج میں اور سات دن حج سے فراغت کے بعد روزہ رکھنا ہے ۔

اللہ تعالى نے مزید  رخصت  و رحمت فرماتے ہوئے اور زیادہ نرمی و آسانی فراہم کرتے ہوئے قربانی کے بدلے میں روزہ رکھنے کی اجازت دی ہے  اور وہ بھی دو مرحلہ میں ۔

ان میں سے پہلا مرحلہ  - جو سب سے کم ہے - حج کے وقت میں  ہے، اور بہت سے فقہاء ذو الحجہ کی چھٹی، ساتویں اور آٹھویں تاریخ کو روزہ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں(الوسیط للطنطاوی)۔ شیخ سعدی نے اپنی تفسیر میں تحریر کیا ہے  کہ اس کا وقت عمرہ کا احرام باندھتے ہی شروع ہوجاتا ہے  اور اس کا آخری وقت   13/ذوالحجہ تک ہے ۔ دس ذوالحجہ کو روزہ رکھنا منع ہے, لیکن 7, 8 اور 9/ ذو الحجہ کو روزہ رکھنا افضل ہے۔(تفسیر سعدی)

ان میں سے دوسرا مرحلہ - جو زیادہ ہے - اپنے گھر والوں کے پاس لوٹنے کے بعد ہوتا ہے، جہاں اسے اطمینان اور سکون محسوس ہوتا ہے اور سفر کی مشقت ختم ہوجاتی ہے، اس لیے وہ سات دن کے روزے رکھتا ہے۔

بعض فقہاء نے اعمال حج سے فارغ ہونے کے بعد واپسی شروع ہوتے ہی  روزہ رکھنا جائز قرار دیا ہے لیکن پہلا قول زیادہ راجح ہے  , اس کی دلیل حضرت عبد اللہ بن عمر کی حدیث ہے جس میں آیا ہے : فمن لم یجد ھدیا فلیصم ثلاثۃ ایام فی الحج و سبعۃ اذا رجع الى أہلہ یعنی جس کو قربانی کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ ایام حج میں تین دنوں کا اور سات دنوں کا اپنے گھر واپسی کے بعد روزہ رکھے۔(بخاری و مسلم)

اور اللہ کے قول: تلک عشرۃ کاملۃ میں تلک کا اشارہ تین اور سات کی طرف ہے  اور عدد کی تمیز ایام محذوف ہے,  اور یہ جملہ اللہ کے قول فصیام ثلاثۃ ایام ..... اذا رجعتم سے حاصل ہونے والے نتیجہ کی تاکید ہے ۔ اور اس تاکید کا فائدہ اس وہم کو دور کرنا ہے کہ"و"  أو کے معنی میں ہے  یا سات سے  عدد کی مطلق کثرت کی طرف اشارہ ہے ۔ اس طرح سے حکم بطور متن ثابت ہوجاتا ہے اور واضح ہوجاتا ہے  کہ قربانی کی جگہ پر دس مکمل روزہ رکھنا ضروری ہے , کچھ روزہ رکھنا کافی نہیں ہے ۔ (الوسیط للطنطاوی)

اور عشرہ کی صفت  بیان کی گئی ہے کہ وہی کامل ہے , تو یہ اس بات کی تعریف و تعظیم کے لیے ہے کہ یہ روزہ حج کے اعمال کی تکمیل کا راستہ ہے اور اگر حاجی ان میں سے کچھ بھول جائے تو اس کا حج اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک کہ وہ روزے نہ رکھے جس کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے۔

اور اللہ تعالى کے قول: ذلک لمن لم یکن اھلہ.... میں ذلک کا اشارہ تمتع ہے جو اللہ تعالى کے قول فمن تمتع بالعمرۃ الى الحج سے مفہوم ہے ۔

یعنی وہ تمتع جس میں محرم دو عبادتوں کے درمیان لطف اندوز ہوتا ہے  وہ اس شخص کے لیے ہے جس کے اہل و عیال مکہ و اس کے اطراف میں مقیم نہیں ہیں , کیونکہ مکہ و اس کے اطراف میں مقیم افراد کے لیے حج افراد ہے جمع کرنا نہیں ہے کیونکہ وہ سال بھر کبھی بھی  عمرہ کر سکتے ہیں ۔

اور اللہ نے حج تمتع کو اس لیے مشروع کیا ہے کیونکہ اس میں مکہ سے دور  قیام پذیر لوگوں کے لیے آسانی و سہولت ہے ۔ یہ احناف کی رائے ہے ۔

اس کے برعکس شافعیہ کا کہنا ہے کہ اہل مکہ و اس کے اطراف کے لوگ آفاقیوں کی طرح حج قران و تمتع کریں گے ,  اور ذلک کا مشار الیہ  نسک یعنی قربانی اور اس کا قائم مقام روزہ ہے کیونکہ یہ سب سے قریب مذکور ہے ۔

اس صورت میں معنى ہوگا : ذبح وہ کرے گا جس کو قربانی کا جانور  میسر ہے  اور روزہ وہ رکھے گا جس کو قربانی کا جانور میسر نہیں ہے , اور یہ حکم آفاقی  یعنی میقات سے باہر کےحاجیوں کے لیے ہے , مکہ و اس کے اطراف کے لوگوں کے لیے نہیں ہے  کیونکہ وہ اپنے تمتع کا احرام میقات سے باندھتے ہیں لہذا ان کے اوپر کوئی چیز واجب نہیں ہے ۔ (الوسیط للطنطاوی)

حاضری المسجد الحرام سے کون لوگ مراد ہیں  ؟

اس کے بارے میں احناف کا کہنا ہے کہ اس سے مراد مکہ اور حل کے وہ  لوگ ہیں جن کے گھر مواقیت کے اندر ہیں ۔مالکیہ  کا قول ہے کہ وہ صرف مکہ والے ہیں,  جب کہ شافعیہ کا قول ہے کہ یہ مکہ والے ہیں اور وہ لوگ ہیں جو مکہ سے اتنی  مسافت  پر نہیں رہتے ہیں کہ قصر کر سکیں ۔ہر ایک کے تفصیلی دلائل فقہ کی کتابوں میں موجود ہیں ۔

پھر آخر میں اللہ تعالى نے اس آیت کو تقوى کا حکم دے کر اور اپنی سزا سے تنبیہ پر ختم کیا ہے اور بلا شبہ جس نے تقوى کو اپنا لیا وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہوگیا اور جو اس کی نافرمانی کرتا ہے اس کے لیے سخت سزا ہے ۔(الوسیط للطنطاوی)  

آخر میں اللہ تعالى سے دعا ہے کہ وہ پوری دنیا کے تمام مسلمانوں کے حج کو قبول فرمائے اور انہیں تمام ارکان و واجبات آسانی و سہولت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق دے ۔ آمین  

 

 

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: