خلافت عثمانیہ کے بارے میں ایک شبہ اور اس کا ازالہ


خلافت عثمانیہ کے بارے میں ایک شبہ اور اس  کا ازالہ

شبہ:  میرے ایک اہل علم دوست کو اس بات پر اعتراض ہے  کہ عثمانی اتراک کی حکومت کو خلافت کے بجائے سلطنت یا دولت لکھنا و بولنا زیادہ اچھا ہے۔ وہ  فیس بک پر میری ایک تحریر کے بارے میں تحریر کرتے ہیں:
"خلافت عثمانیہ کے بجائے اکثر اہل علم حضرات خصوصا اہل عرب اہل علم دولت عثمانیہ یا سلطنت عثمانیہ لکھنا بولنا پسند کرتے ہیں، ان کی توجیہ یہ ہے کہ اصل خلافت اسلامیہ کی علمبردار یہ حکومت نہیں تھی، افکار ومنہج خاص طور سے عقائد اور توحید کے باب میں کتاب وسنت سے منحرف تھی، اسلئے خلافت سے تعبیر کو بہتر نہیں سمجھا جاتا"۔
 درج بالا شبہ کا جواب : موصوف نے جو کچھ لکھا ہے  اس سے دلائل کی روشنی میں  ہرگز اتفاق نہیں کیا جا سکتا ہے  کیونکہ:
1-      شرعی و تاریخی دونوں اعتبار سے خلافت عثمانیوں کے لیے ثابت ہے۔ اور وہ بجا طور پر اس کے مستحق ہیں۔ ان کے زمانہ میں کسی اور حکومت   نے خلافت کا  دعوى نہیں کیا۔
2-     عرب اہل علم میں سے بھی  بہت سارے خلافت لکھتے ہیں۔ یہ عموما  متعصب عرب قوم پرست ہیں جو ایسا لکھنے سے منع کرتے ہیں۔
3-    جہاں تک سوال خرابیوں کا ہے تو دنیا میں آج بھی کوئی ایسی حکومت نہیں ہے جو خرابیوں سے پاک ہو۔ نبی کریم کی حکومت کے بعد سب سے اچھی حکوت خلفاء راشدین کی تھی لیکن وہ بھی غلط طعون و اتہامات سے محفوظ نہیں رہی ۔ یہی حال خلافت عثمانیہ کا بھی ہے۔اور مجھے کسی ایسی حکومت کا نام بتا دیجیے جو ہر طرح کی  خرابیوں سے پاک رہی ہو۔بنو امیہ کا  خصوصا اس کے آخری دور میں کیا حال تھا۔خلافت بنو عباسیہ میں مامون و معتصم معتزلی  خلیفہ تھے  لیکن کیا کوئی ان کو خلیفہ لکھنے سے منع کرتا ہے؟
4- مذکورہ بالا  منطق کے اعتبار سے بنو امیہ و بنو عباسہ کو بھی خلافت نہیں لکھ سکتے ہیں کیونکہ ان کے اندر بھی بہت ساری خرابیاں تھیں۔اور بہت سارے لوگ تو بنو امیہ و عباسیہ کو بھی دولہ یا سلطنت لکھتے ہیں۔
5-     دنیا کی اکثر سلطنتیں وحکومتیں کئی مراحل سے گذرتی ہے جو أپنے آخری مرحلہ میں بہت ساری خرابیوں میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ خلافت عثمانیہ تین مراحل سے گذری ہے ۔ شروع کے دو مراحل میں ان کے اندر عموما خرابیاں نہیں تھیں۔ آخری مرحلہ میں بہت ساری خرابیاں پیدا ہوگئیں۔
6-    خلافت عثمانیہ پر أپنوں نے بہت زیادہ ظلم و ستم ڈھائے ہیں غیروں کو چھوڑ دیجیے۔ متعصب عرب قوم پرستوں نے اس خلافت کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔یہ سب عربوں پر خلافت عثمانیہ کی حکومت کو احتلا ل یعنی سامراجیت قرار دیتے ہیں۔
مثال کے طور پر :  ایک صاحب ڈاکٹر  محمد ریاض ہیں جنہوں نے اپنے ایک واٹس أپ پوسٹ میں لکھا ہے جو الصراط المستقیم گروپ میں  3 اکتوبر 2017 ع کو شیر کیا گیا۔: ماذا قدم الاتراک العثمانیون للاسلام ؟ .... لا شئ! یعنی عثمانی اتراک نے اسلام کی کیا خدمت کی ہے؟ پھر خود ہی جواب دیتے ہیں لاشئ یعنی کچھ بھی خدمت نہیں کی ہے۔تعجب کی بات یہ ہے کہ اس نے یہ سرخی  لگائی ہے ۔ أپنے مضمون کے وسط میں نہیں لکھا ہے۔ اتنا سفید جھوٹ کہ آدمی کو بولتے ہوئے شرم آئے۔
لیکن در اصل جب کوئی  شخص کسی  خاص سیاسی فکر کا معتقد ہوجاتا ہے۔ کسی قوم  کی دشمنی میں اندھا ہوجاتا ہے۔  اس پر قوم پرستی کا بھوت سوار ہوجاتا ہے اور تعصب جیسی خطرناک قلبی بیماری  میں مبتلا ہوجاتا ہے تو وہ حق سے اندھا ہوجاتا ہے۔ اس کی بصیرت مر جاتی ہے۔ اور اسے دوسری قوم کی اچھائیاں بھی برائیاں ہی نظر آتی ہیں۔ ہنر بچشم عداوت بزرگ تر عیبے است۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ ڈاکٹر محمد ریاض قیامت کے دن اللہ کو کیا جواب دےگا۔ اور اللہ کے سامنے کون سا منہ لے کر جائے گا۔ اس نے جو کچھ بھی اپنی پوسٹ میں لکھا ہے  اس میں سے اکثر جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ اور اس نے ایسا شاید أپنے عرب آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے لکھا ہے تاکہ اسے بھی کوئی منصب و عہدہ مل جائے۔
·       ذرا سوچئے کہ جس اسلامی سلطنت نے صلیبیوں کے مضبوط  ترین قلعہ و شہر قسطنطنیہ کو فتح کیا اور نبی کریم کی بشارت کی  مستحق ٹھری۔ جس کو کوئی بھی اسلامی سلطنت ماضی میں  ہزار کوشسوں کے باوجود فتح نہ کر سکی ۔اس کے بارے میں یہ  نادان و لاعلم  ڈاکٹر کہتا ہے کہ اس نے اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی ہے۔
·      جس نے چار سو سال تک  تمام عربوں کی  بحسن و خوبی حفاظت و حمایت  کی۔ ان کو طاقتور   دشمنوں  کے حملوں  سے محفوظ رکھا۔ اس نے  اسلام  و مسلمانو کی کوئی خدمت نہیں کی ۔
·       جس خلافت نے اسلامی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصہ  یعنی 661 سال تک حکومت کی ہے اور جس نے تین براعظموں یورپ, ایشیا و افریقہ   پر ایک ساتھ لمبی مدت تک حکومت کی ہے اس نے اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی ہے۔اگر اس نے کوئی خدمت نہیں کی ہے تو اتنی لمبی مدت تک جکومت کیسے کی اور وہ بھی  تین بر اعظموں پر؟
·       عثانی خلافت نے صلیبیوں کو ایشیائے کوچک کے ایک بڑے علاقے سے شکست دے کر ہمیشہ کے لیے باہر نکال دیا۔ اور ہمیشہ کے لیے اس علاقہ کو  مسلمانو کے تابع کردیا۔یہ ان کی کوئی خدمت نہیں ہے؟
·       عثمانی خلافت نے عالم اسلام کے ایک بڑے حصہ کو متحد کیا۔ ان کو ایک ملک بنایا۔ یہ ان کی کوئی خدمت نہیں ہے۔
·       جب تک عثمانی سلطنت قائم رہی اس وقت تک فلسطین میں یہودیوں  کو منتقل ہونے اور آباد ہونے کی اجازت نہیں ملی۔جس کے نتیجہ میں یہودیوں نے خلافت عثمانیہ کے خلاف زبردست سازش کی اور وہ اس کے سقوط کے اہم اسباب میں سے ایک ہیں۔ یہ کوئی خدمت نہیں ہے۔
·       آج کے زمانہ میں بھی یورپ میں دو مسلمان ممالک البانیہ و بوسنیہ و ہرز گووینا موجود ہیں۔ یہ عثمانی خلافت کی کوئی خدمت نہیں ہے۔
   افسوس ہے اس صاف جھوٹ پر۔خلافت عثمانیہ نے أپنے دور میں اسلام و مسلمانو کی جو زبردست خدمت کی ہے اور اس نے جو عظیم کارنامے انجام دئیے ہیں خصوصا صلیبیوں کے خلاف و ہ اسلامی تاریخ کا بہت ہی روشن و زریں باب ہے۔ جس کے لیے پوری امت قیامت کے دن تک اس کی ممنون و مشکور ہے۔ انہوں نے بے سرو سامانی و کم آمدنی و وسائل کے باوجود  جو خدمات انجام دی ہیں اس کو آج کے دور میں تمام   عرب ممالک بھی مل کے نہیں انجام دے سکتے ہیں۔ان کی خدما ت پر بہت ساری کتابیں ہیں  جن میں ایک کتاب ڈاکٹر اسماعیل احمد یاغی کی  الدولۃ العثمانیۃ فی التاریخ الاسلامی الحدیث ہے  ۔ اس کے دسویں باب میں انہوں نے خدمات الدولۃ العثمانیۃ للاسلام و العروبۃ  کے نام سے  خلافت عثمانیہ کی خدمات کا ذکر کیا ہے۔ اور بھی کتابیں  ہیں جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
  اور آج بھی  عرب قوم پرست عثمانی خلافت کو  بد نام کر رہے ہیں ۔ جن میں سر فہرست ڈاکٹر  سلطان الاصقہ کویتی  و علی العصملی  و غیرہ ہیں ۔ میرے کہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ان کے اندر کوئی خرابی نہیں تھی ۔بھلائیاں و  خرابیاں سب حکومتوں میں ہوتی ہے ۔ لہذا ان کے اندر بھی  اگر ایک طرف خوبیاں تھیں تو دوسری طرف خرابیاں تھیں  ۔ اور انصاف کا تقاضہ یہی ہے کہ اگر ان کی برائیاں بیان کر رہے ہیں تو بھلائیاں بھی ذکر کر دیجیے۔اور اگر كسي فرد يا جماعت يا قوم يا حکومت وغیرہ میں کوئی بھی خرابی یا عیب و نقص  پیدا ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اس کے سارے محاسن کو نظر انداز کردیں یا چند خرابیوں کی وجہ سے اس کے تمام محاسن پر پانی پھیر دیں۔
 اس موضوع پر انصاف پسند اہل عرب مصنفین کی بہت ساری کتابیں ہیں۔خود ہمارے جامعہ ام القرى سے بہت ساری  کتابیں چھپی ہیں جن میں ہمارے مناقش
د. خلف بن دبلان الوذینانی کی کتاب الدولۃ العثمانیۃ والغزو الفکری
 د نبیل رضوا ن :   جہود العثمانیین لانقاذ الاندلس و استردادہ  فی مطلع القرن الحدیث  
د عمر بابکور  : حزام الأمن العثماني حول الحرمين الشريفين في القرن العاشر الهجري/ السادس عشر المیلادی 
ڈاکٹر عادل نور غباشی کی کتاب :   المنشآت المائیۃ لخدمۃ مکۃ المکرمۃ و المشاعر المقدسۃ فی العصر العثمانی  وغیرہ
ہے۔
علاہ ازیں:                                                                    
  ربیع عبد الرؤوف الزواوی کی کتاب: الدولۃ التی ظلمہا التاریخ
عبد العزیز الشناوی   : الدولۃ العثمانیۃ دولۃ اسلامیۃ مفترى علیہا
د علی محمد محمد الصلابی :   الدولۃ العثمانیۃ  عوامل النہوض و اسباب السقوط  
 زکریا سلیمان بیومی کی   کتاب : قرأۃ اسلامیۃ فی تاریخ الدولۃ العثمانیۃ
 ڈاکٹر محمد حرب کی کتاب :  العثمانیون فی التاریخ و الحضارۃ  وغیرہ   بے شمار کتابیں ہیں۔
 د محمد موسى الشریف کی خلافت عثمانیہ کے بارے میں  یوٹیوب پر  بہت سارے ویڈیو ہیں  جو ہر کوئی دیکھ سکتا ہے۔ یہ سب عرب مؤلفین  ہیں ۔
7-      جہاں تک  ان کے  منہج , افکار و طریقہ وعقیدہ کو جاننے  کی بات ہے تو اس کے لیے  صلابی کی کتاب کے بعض مباحث خصوصا أہم الصفات القیادیۃ فی عثمان الاول,الدستور الذی سار علیہ العثمانیون پڑھ لینا کافی ہے۔ عثمان اول نے موت کے وقت أپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا اس کا کچھ حصہ یہاں پر نقل کرتا ہوں: اے میر ےبیٹے کوئی بھی ایسا کام مت کرنا جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا ہے۔اے میرے بیٹے :جان لو کہ ہمارا مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضامندی کا حصول ہے۔اے میرے بیٹے: میں تمہیں علماء امت کے بارے میں وصیت کر رہا ہوں۔ ان کی ہمیشہ نگہداشت کرنا,ان کی خوب زیادہ عزت کرنا, ان کے مشورہ کو ماننا کیونکہ وہ صرف خیر کا حکم دیتے ہیں۔
   اس وصیت سے واضح ہے  کہ عثمانی سلطنت کی بنیاد کتاب و سنت پر تھی۔ وہ توحید کے داعی او شرک کے مخالف تھے۔ علماء کے قدردان اور ان کے مشورہ پر عمل کرنے والے تھے۔ توکیا حنفی علماء سب شرک میں مبتلا تھے۔ ہاں بعد کے ادوار  میں کچھ خرابیاں ان کے اندر اس باب میں پیدا ہوئیں۔دراصل ہم مسلمانو میں چند افراد و جماعتوں کے سوچ کا دائرہ بہت ہی تنگ ہوتا ہے۔ وہ بہت ہی تنگ ذہن و تنگ نظر ہوتے ہیں  جو أپنے علاوہ کسی غیر کو توحید کا علمبردار ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے ہیں۔
    علاوہ ازیں اتراک سب کے سب حنفی ہیں ۔اور یہ ان کی خصوصیت ہے کہ ان میں شیعہ کوئی بھی نہیں ہے۔ اور احناف بھی اہل سنت و جماعت میں داخل ہیں۔ کوئی ان کو اہل سنت و جماعت سے خارج نہیں کرتا ہے۔اگر چند أفراد و اشخاص  یا کسی خاص گروہ و جماعت میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے تو اس کو سب پر عام نہیں کیا جائے گا۔ کیا سب احناف کے عقائد کتاب و سنت کے مخالف ہیں۔عقیدہ کی مشہور کتاب  الطحاویہ ابو العز الحنفی کی لکھی ہوئی ہے۔ عوام  جس کسی بھی مذہب کی طرف أپنی نسبت کرتے ہیں ان کی اکثریت أپنے مذہب کے افکار و عقیدہ کے باریک مسائل  سے واقف نہیں ہوتی ہے۔ان کے لیے اصول عقائد کافی ہیں۔ عوام الناس کی اکثریت کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا ہے کہ وہ ان مسائل کو جانیں۔ان سب کے لیے علماء ذمہ دار ہیں اور وہ قیامت کے دن اللہ کو جواب دیں گے۔
8-    آخری جواب یہ ہے کہ کہ جب بھی خلافت اسلامیہ کے خاتمہ کی تاریخ بیان کی جاتی ہےتو علماء ,  اہل علم  و مؤرخین کے درمیان  بنا  کسی اختلاف یا کسی دوسری رائے کے بغیر  متفقہ طور پر یہی بیان کیا جاتا ہے  کہ خلافت کا خاتمہ  1924 ع میں ہوا۔ اب اگر خلافت کہنا صحیح نہیں ہے تو اس کا مطلب خلافت کا خاتمہ 656 ھ /1258 ع میں ہوگیا۔اور یہ کوئی نہیں کہتا ہے۔معلوم ہوا کہ خلافت کہنا ہی زیادہ صحیح ہے۔
9-    أگر اصل خلافت اسلامیہ کی علمبردار یہ حکومت نہیں تھی تو کس خلافت کی علمبردار یہ حکومت تھی؟ کیا ان کا مذہب اسلام کے علاوہ کچھ اور تھا؟ کیا بنو عباسیہ اصل خلافت کے علمبردار تھے؟
در اصل عصر حدیث میں عرب قوم پرستوں کے علاوہ  علمانیوں,  یہودیوں و صلیبیوں  وغیرہ کے ذریعہ  جس قدر خلافت عثمانیہ کی تاریخ  مسخ کی گئی ہے اور ان کو بدنام کیا گیا ہے اتنا کسی کو نہیں۔خلافت عثمانیہ نے یہودیوں و صلیبیوں کو جو کاری زخم لگائے ہیں اور  صلیبیوں کے مضبوط و ناقابل تسخیر قلعہ قسطنطنیہ  کو فتح کرکے نصرانیت کو جو  زبر دست ٹھیس پہنچائی ہے۔ ان کو  پے درپے میدان جنگ میں بری طرح شکست دےکے  ان پرجو  شدید ضرب لگائی ہے ۔ اور اسلام و مسلمانو کا جو نام روشن کیا ہے  نصرانی ابھی تک اس کو بھولے نہیں ہیں۔ اسی لیے   انہوں نے سب سے زیادہ خلافت عثمانیہ کو بدنام کیا ہےاور ان پر بہت زیادہ جھوٹے الزامات لگائے ہیں ۔ یہاں تک کہ بعض نے جھوٹ میں لکھ دیا کہ ارطغرل اور اس کا باپ مسلمان ہی نہیں تھا۔
لہذا اکثر و بیشتر الزامات و اتہامات جو عثمانی سلطنت پر عائد کیے جاتے ہیں  ان کے صحیح ہونے کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔وہ سب محض افتراءات ہیں جو عام طور سے یورپ سے منقول ہیں۔
آخر میں میں أپنے تمام مسلمان بھائیوں سے صرف اتنا کہتا ہوں کہ خلافت عثمانیہ نے اسلام و مسلمانو کی جو زبردست و شاندار خدمات انجام دی ہیں اس کی نظیر تاریخ میں کم  ملتی ہے۔لیکن افسوس کہ ہم مسلمان اس سے غافل ہیں لہذا پہلے عثمانی خلافت کی شاندار تاریخ کا ضرور مطالعہ کیجیے۔  اللہ تعالى ہم سب کو اپنے اسلاف کی تاریخ کوپڑھنے کی توفیق عطا کرے  ۔ آمین۔ان شاء اللہ اگر اللہ نے توفیق دی تو مزید  لکھوں گا۔ وما ذلک على اللہ بعزیز , و آخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔ تحریرا فی  27 جون 2020 ع السبت


السابق
السابق
أنقر لإضافة تعليق

9 التعليقات:

avatar

شكراً
مقال مهم ومفيد جدا
بارك الله فيكم ونفع بكم

avatar

مقال يحتاج إلى مناقشة في بعض الأمور....

avatar

ماشاءاللہ، تبارک اللہ، بہت عمدہ مضمون ہے، آپ نے خلافت عثمانیہ کے تعلق سے کچھ لوگوں کے ذہنوں میں موجود شبہات کو دور کردیا۔

avatar

بسم الله , أشكركم جميعا ايها الاغوة الفضلاء على هذه الكلمات و جزاكم الله خيرا كثيرا, و أرجو من الأخ الفاضل د. أجمل تحديد بعض الأمور لكي تتم مناقشتها للفائدة وشكرا جزيلا لكم مرة أخرى.

avatar

ما شاء اللہ بہترین تحریر ( شیخ منظور ثاقب تیمی , واٹس أپ میسیج بتاریخ 27-6-2020 ع بوقت 11:08 ص )

avatar

بارک اللہ فی غلمکم بہت خوب ( شیخ مصطفى بشیر مدنی واٹس أپ میسیج بتاریخ 27-6-2020 ع بوقت 4:10 م )

avatar

لوگ اسی بارے میں بات کررہے تھے کہ خلافت کے بجائے سلطنت کہنا چاہئیے ۔ آپ نے بحسن و خوبی اس شبہ کا ازالہ کیا۔ جزاک اللہ خیرا( سید انس واٹس أپ میسیج بتاریخ 27-6-2020ع بوقت 10:41 ص )

avatar

بارك الله في علمه و عمله نموذج حي في الاعتدال بالقول ( ڈاکٹر اقبال بسکوہری, واٹسپ میسیج بتاریخ 27 جون 2020 ع بوقت 10:39 م)

avatar

ما شاء اللہ آپ کی تحریریں پڑھ کر بڑی خوشی ہوئی , وہ بڑی معلومات آگیں اور فکری ھیں , اللہ تعالى آپ کے قلم کو مزید طاقت عطا فرمائے۔ آمین ( شاہ ارشد على ندوی, واٹسپ میسیج بتاریخ 30 جون 2020 ع بوقت 1:32 م )