سماجی نظم و نسق , منصوبہ بندی اور پلاننگ کی اہمیت و ضرورت


          سماجی نظم و نسق , منصوبہ بندی اور پلاننگ کی اہمیت  و ضرورت


یقینا  ہمارا دین اسلام ایک  انتہائی منظم   و مرتب, نظم و نسق والا دین ہے جس میں بدنظمی  و بد انتظامی, بے ترتیبی و  غیر منصوبہ بندی کے لیے کسی طرح کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام میں نظم و نسق , تنظیم و ترتیب اور منصوبہ بندی کی اہمیت و ضرورت نیز افادیت کا پتہ اسی سے چلتا ہے کہ اس نے  ہماری زندگی کےچھوٹے سے چھوٹے و بڑے سے بڑے  ہر شعبہ و پہلو کو انتہائی اہمیت دی ہے اور اس کو منظم و مرتب  کیا ہے۔ ہماری زندگی کا کوئی ایسا جزئیہ  نہیں ہے جس کی  اسلام نے تنظیم نہ  کی ہو۔ قضاء حاجت سے لے کرکے جہانداری و جہانبانی تک کو اسلام نے منظم کیا ہے۔ہر ایک کے آداب و ضوابط , اصول اور پیمانے متعین کردئیے ہیں۔اسلام نےمعمولی سے معمولی امور مثلا  چلنے پھرنے ,أٹھنے بیٹھنے, کھانے پینے ,سونے جاگنے سے لے کرارفع و أعلى معاملات  بطور مثال   کورٹ اور کچہری اور حکمرانی تک کے سارے امور کو منظم  و مرتب کر دیا ہے۔  

اس کی دلیل حضرت سلمان فارسی کی روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مشرکوں نے مجھ سے کہا : تمھارا نبی تو تمھیں  ہر چیز  حتى کہ قضاء حاجت کی بھی تعلیم دیتا ہے ۔ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں  , اور مزید فرمایا کہ ہمارے نبی نے ہم کو قضاء حاجت کے وقت قبلہ کا استقبال کرنے, یا داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے یا  تین پتھروں سے کم میں استنجاء کرنے یا  گوبر و ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع کیا ہے۔(مسلم) اس حدیث سے ایک طرف جہاں اسلام کی عظمت کا پتہ چلتا ہے وہیں دوسری طرف  تنظیم و ترتیب , پلاننگ  اور منصوبہ بندی کی اہمیت و افادیت , ضرورت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ غرضیکہ سماجی, سیاسی, عقائدی, اخلاقی, تجارتی, معاشی , تعلیمی, عبادتی,سماجی اور معاشرتی وغیرہ کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جس کی اسلام نے تنظیم نہ کی ہو۔یا اس میں کسی طرح کی کوئی بد نظمی  و بد انتظامی ہو۔

ہمارے پیارے نبی کی سیرت سے بھی اسی کا پتہ چلتا ہے۔ آپ کی پوری زندگی انتہائی نظم و ضبط اور تنظیم و ترتیب کا نمونہ ہے۔ قدم  قدم پر آپ کی زندگی سے پلاننگ و منصوبہ بندی کا سبق ملتا ہے۔آپ نے مدینہ پہنچنے کے فورا بعد نہ صرف اسلامی حکومت کی بنیاد ڈالی بلکہ اس کے تمام امور کو منظم کیا۔مسلمانو کی مردم شماری کروائی کیونکہ مردم شماری کے بغیر تخطیط, پلاننگ یا تنظیم و ترتیب ممکن نہیں ہے۔آپ نے دعوت و تبلیغ کا فریضہ انتہائی پلاننگ کے ساتھ انجام دیا۔ آپ نے مسلمانو کی قیادت بہت ہی منظم انداز سے کی۔ آپ نے غزوات و سرایا کا انتظام و انصرام بہت ہی خوبی کے ساتھ کیا۔آپ  کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت  پلاننگ و منصوبہ بندی , تنظیم و ترتیب , تخطیط و تد بیر کی اعلى مثال ہے۔
 خلفاء راشدین کا بھی یہی دستور تھا کہ وہ ہر صوبہ میں ایک حاکم کے ساتھ ایک قاضی  و جابی یعنی زکوۃ وصول کرنے والا  متعین کرتے تھے۔زکوۃ وصول کرنے پھر اسے تقسیم کرنے کا ایک پورا نظم تھا۔ زکوۃ نہ دینے والوں  کے خلاف حضرت ابو بکر نے جنگ کی تاکہ اس کا نظم و نسق  بر قرار رہے اور کسی طرح کی بدنظمی سماج و معاشرہ میں جنم نہ لے۔ وغیرہ ۔غرضیکہ  بہت ساری چیزیں ہیں جن سے  اسلام میں نظم و نسق, ترتیب و تنظیم , منصوبہ بندی اور پلاننگ کی بہت زیادہ اہمیت و افادیت کا پتہ چلتا ہے اور اس كا اندازہ ہوتا ہے۔ ان سب کا ذکر اس مختصر مضمون میں نہیں کیا جا سکتا ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ  مکمل اسلام ہی نظم و نسق, پلاننگ و منصوبہ بندی سے عبارت ہے اور اسی کی تعلیم دیتا ہے۔
اور ایسا کیوں نہ ہو کیونکہ کوئی بھی فرد, معاشرہ , گروہ , جماعت , قوم و ملت اسی وقت کامیاب ہو سکتی  ہے یا أپنے مسائل و پریشانیوں  سے نجات حاصل کر سکتی ہےاور  ترقی  کے منازل ومدارج طے کر سکتی ہے جب وہ منظم  و مرتب ہو۔ منصوبہ بندی اور پلاننگ پر عمل پیرا ہو۔ نظم و نسق  اس  کی سماجی زندگی کا اہم جزء ہو۔ورنہ کامیابی و کامرانی محض خواب و خیال ہوگااور سماج کا ایک  حصہ ہمیشہ محروم و مقہور ہوگا۔
یہ تو پہلو کا صرف ایک رخ  ہے ۔ اب ذرا اس کے دوسرے رخ  یعنی اس معاملہ میں آج کے مسلمانو کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔اور دیکھتے ہیں کہ مسلمان کس حد تک برصغیر  خصوصا انڈیا میں اس امر پر عمل کرتے ہیں۔

برادران اسلام : بلاشبہ عصر حاضر کی  مسلمان قوم ایک زوال پذیر قوم ہے۔ اور یہ زوال اس کی زندگی کے  عقائدی, سماجی, سیاسی, دینی, اخلاقی,  فوجی,تعلیمی و تجارتی وغیرہ  ہر شعبہ میں  موجودہے۔ان میں معاشرتی و سماجی شعبہ ایک اہم شعبہ  ہےجس  میں یہ قوم انتہائی بدنظمی, بد انتظامی, غیر منصوبہ بندی  کا شکار ہے جس کی وجہ سے سیکڑوں  مسائل  اس امت کو در پیش ہیں ۔جن میں خاص طور سے یتیموں, غریبوں, محتاجوں و بیواؤں وغیرہ کی کفالت, تعلیم و تعلم, اور ان سے جڑے ہوئے بہت سارے مسائل ہیں۔ کتنے غریب بچے ایسے ہیں جو أپنی غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ کتنے محتاج بیمار  ایسے ہیں جو دوا کے لیے ترستے ہیں اور أپنا علاج نہیں کروا سکتے ہیں۔کتنے مسکین ایسے ہیں جو خالی پیٹ رات گذارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اسی طرح سماجی  یتیم خانوں و  شفاخانوں کا مسئلہ ہےجن کو تقریبا ہمیشہ  بجٹ کی تنگی کا سامنا رہتا ہے۔
 اور آج کے زمانہ میں کووڈ-19 کی وجہ سے اسلامی مدارس  اور اس کے اساتذہ کرام , مساجد اور ان کے ائمہ جس مالی بحران کا شکار ہیں  اور جن چیلنجوں کا سامنا ان کو کرنا پڑ رہا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ بہت سارے مدارس میں اساتذہ کو جواب دیدیا گیا ہے۔ کئی مہینے سے ان کی تنخواہیں بند ہیں۔بہت سارے علماء و حفاظ کرام  ایسا کام کرنے کے لیے مجبور ہیں جو انہوں نے أپنی زندگی میں کبھی نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے جالنا , مہاراشڑا کے  ایک حافظ نے أپنی جان بھی گنوادی ۔شوسل میڈیا پر بھی اس کا ذکر ہو رہا ہے۔عموما ذمہ داران مدارس کو اس کا ذمہ دار ٹہرایا جا رہا ہے۔لیکن میری نظر میں  تنہا صرف وہی ذمہ دار نہیں ہیں  ۔اور صرف انہیں کو ذمہ دار قرار دینا عدل و انصاف کے بھی منافی ہے۔ بلکہ  اس کا اصل ذمہ دار ہمارا  بے حس, غیر منظم سماج و معاشرہ ہے۔ اور اس کی اصل و خاص وجہ ہماری   سماجی بد نظمی اور معاشرتی غیر منصوبہ بندی ہے۔ کیونکہ اگر ہمارا سماج و معاشرہ منظم ہوتا - اس کے اندر ہر سطح پر معاشی و اقتصادی نظم اور  بیت المال کی تنظیم ہوتی تو بہت سارے مسائل سے بچا جا سکتا تھا اور ان کو آسانی کے ساتھ حل کر لیا جاتا۔

لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جس طرح مسلمانو نے دین کے بہت سارے احکام کو نظر انداز کردیا ہے اسی طرح تنظیم و منصوبہ بندی کے حکم کو بھی نظر انداز کردیا ہے۔ آج انفرادی و شخصی طور پر تو ہر کوئی منصوبہ بندی کرتا ہے ۔ پلان بناتا ہے ۔ تنظیم کرتا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ سماجی و معاشرتی تنظیم, منصوبہ بندی و پلاننگ غائب ہے۔جس کی وجہ سے یہ قوم بہت سارے مسائل میں گھری ہوئی ہے۔

لہذا اشد  ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مسلمان أپنے کو ہر سطح پر -  گاؤں سے لےکر  ملک تک - منظم کریں اور خاص طور سے بیت المال کا ایک نظام تیار کریں جس کو ہر مسلمان أپنائے۔زکوۃ وصول کرنے و تقسیم کرنے کا باقاعدہ نظم ہو۔ ہر جگہ ایک ڈاٹا ہو جس میں وہاں کے تمام مسلمانو کے بارے میں معلومات درج ہو اور اگر ایسا ڈاٹا  کسی قانونی دشواری کی وجہ سے نہیں تیار کیا جاسکتا ہے تو کم از کم ہر جگہ کے فقراء, مساکین و یتیم , بیوہ, مطلقہ وغیرہ کا ایک ڈاٹا ہو جن کی حسب ضرورت مددکی جا سکے۔ ایک ایمر جتسی فنڈ ہو جسے ہنگامی حالات میں استعمال کیا جائے۔ مساجد, مدارس , اس میں کام کرنے والے اساتذہ و ملازمین کی تعداد, تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی تعداد کا بیان ہو۔وغیرہ  
اور آج کے دور میں ایسا کرنا کوئی زیادہ مشکل بھی نہیں ہے۔ اور یہ کام آج کل ہر سطح پر بآسانی کروایا جا سکتا ہے۔ ایک طرف مسلمان اس ملک کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ کم ہی علاقے ایسے ہیں جہاں مسلمان آباد نہیں ہیں۔ اس میں مدارس و مساجد ایک بڑا کردار ادا کرسکتے ہیں۔کچھ افراد رضاکارانہ طور پر بھی اس میں تعاون کرسکتے ہیں۔  دوسری طرف یہ سائنس و ٹکنالوجی کا زمانہ ہے۔انٹرنٹ و وموبائل کا دور ہے۔یہ انٹرنٹ  و کمپیوٹر کی نسل ہے۔لہذا موبائل أیپ اور کمبیوٹر أپلیکیشن سے بھی یہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہو سکتا ہے۔ تمام معلومات اس کے ذریعہ جمع کی جا سکتی ہیں۔ اور اگر تمام جماعتیں مل کر یہ کام کرتی ہیں تو بہت ہی آسانی سے کم خرچ میں یہ کام ہوجائے گا۔ لیکن آج کے دور میں اس کی توقع کرنا عبث ہی ہے۔ کیونکہ مسلمانو  کا اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ وہ آپس میں کسی بھی امور پر متحد و متفق نہیں ہوں گے گرچہ ان کے مال و دولت کو لوٹ لیا جائے۔ ان کی عزتوں و ناموس کو تار تار کر دیا جائے۔ ان کو بہیمانہ طور پر قتل کردیا جائے۔ ان کو ان کے تمام حقوق سے محروم کردیا جائے۔خیر اگر تمام جماعتیں یکجا طور پر یہ مفید و نفع بخش کام نہیں کرسکتی ہیں تو کم از کم  ہر جماعت کو الگ ألگ  أپنی جماعت کے لیے یہ کام  ضرور کرنا چاہئیے۔بس اس کے لیے عزم و حوصلہ اور مصمم ارادہ کی ضرورت ہے۔ یقینا پہلی بار  چند دشواریوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ لیکن یقین جانئے کہ أگر پہلی بار یہ کام ہوگیا تو پھر  بعد میں بہت آسان ہوجائے گا۔

اگر یہ  اہم و ضروری کام ہو جاتا ہے تو اس سے مسلمانو کے سماج و معاشرہ میں ایک عظیم تبدیلی آئے گی اوربہت ہی زیادہ  مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔مسلم امت کابیش قیمتی  وقت اور سرمایہ دونوں بچے گا۔ علماء  اور حفاظ بھی بلا وجہ کی دوڑ دھوپ , محنت و مشقت سے محفوظ  رہیں گے۔ ان کو در بدر بھٹکنا نہیں ہوگا۔سماج میں ان کا وقار بڑھے گا۔ یتیموں, غریبوں, بیواؤں , مسکینوں غرضیکہ  ہر ایک حقدار کو اس کا حق بھی آسانی سے مل جائے گا۔ مساجد ومدارس  کو بھی ان کا حصہ بنا کسی محنت و مشقت کے حاصل ہو   جائے گا اور یہ أپنا کام بھی آسانی کے ساتھ بحسن و خوبی  انجام دیتے رہیں گے۔اور ملک و ملت کی بدستور خدمت کرتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ

غرضیکہ سماجی منصوبہ بندی و معاشرتی  پلاننگ خصوصا اقتصادی و معاشی  میدان میں  وقت کی اشد و اہم  ضرورت ہے۔ اس کے بغیر ہم بہت سارے سماجی مسائل پر غلبہ نہیں حاصل کر سکتے ہیں۔کیا ہم مسلمان  أپنے اندر اس  تبدیلی کے لیے تیار ہیں؟ 



التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: