سورج یا چاند گرہن - شرعی نقطہ نظر



 بسم الله الرحمن الرحيم
مسجد حرام کے خطبہ نماز چاند گرہن کا اردو ترجمہ
بتاریخ: 15-12-1436ھ/28-9-2015ع

خطبہ وتحریر:ڈاکٹر بندر بلیلہ
امام مسجد حرام


ترجمہ: ڈاکٹر عبدالمنان محمد شفیق
 مدرس ام القری یونیورسٹی، مکہ مکرمہ

خطبہ نماز چاند گرہن
ہر قسم کی تعریف کا سزاوار صرف اللہ ہی ہے جو قدیم سلطنت اور عظیم قدرت والا ہے۔ میں اس کا ثنا خواں ہوں ۔ وہ پاک ہستی ہے ۔ وسیع رحمت و مغفرت والا ہے۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔اس نے شب و روز دو نشانیاں بنائی ہیں ۔لہذا اس نے رات کی نشانی کو مٹا کے  دن کی نشانی کو روشن و واضح بنایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار اور نبی محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ آپ نے ہم کو واضح شاہراہ  اور روشن راہ پر چھوڑا ہے۔اللہ کی رحمت , سلامتی و برکت نازل ہو آپ پر , آپ کے اہل و عیال پر , آپ کے صحابیوں پر جو روشن ستارے ہیں ۔ دائمی رحمت و سلامتی ہو جس کے ذریعہ ہم آخرت میں اچھی منازل کی امید کرتے ہیں۔
حمد و صلاۃ کے بعد :
 اے لوگوں میں اپنی ذات اور آپ سب کو اللہ کے تقوى کی وصيت کرتا ہوں ۔ چنانچہ اللہ کا تقوى اختیار کیجیے ۔ اللہ کی آپ سب پر رحمت ہو۔   اپنے سے پہلے گذرے ہوئے لوگوں سے عبرت و نصیحت حاصل کرو۔جن کےساتھ زمانہ  کے مصائب و حوادث نے   جلدی کیا۔اور جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا وہ ان کے پاس آگئی۔وہ پہلے جانے والے ہیں اور تم ان کے پیچھے ان سے ملنے  والے ہو۔وہ تم سے وقت کے پورا  ہونے کی وجہ سے سبقت لے گئے۔اورتمھاری ان کے نقش قدم پر سواریاں تیار کی جا رہی ہیں ۔ فرمان الہی ہے:کیا انھوں نے زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلوں کا انجام نہیں دیکھا(مؤمن/82) ایک دوسری آیت میں ہے:کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں  کہ ان کے دل سمجھنے والےیا ان کے کان سننے والے ہوتے, حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔(حج/46)
بندگان الہی : یقینا قیامت کی نشانیاں یکے بعد دیگرے  لگاتار مثل نظام جوہر واقع  ہو رہی ہیں۔ان میں سے ایک دوسرے کے بعد آرہی ہے۔ہمیشہ سے بڑی نشانی چھوٹی نشانی   کو بھلا دینے والى  رہی ہے تا آنکہ اللہ تعالى ان کو بڑی مصیبت یعنی قیامت پر ختم کر دے گا۔ 
 اور ایک بار نبی کے زمانہ میں سورج گرہن ہو گیا تو آپ  ڈرے سہمے گھبرائے چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے یہاں تک کہ آپ مسجد تشریف لائے۔پھر اعلان کیا گیا کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے۔بعد ازاں آپ نے لوگوں کو لمبی نماز پڑھائی ۔اس طرح کی نماز آپ نے اس سے پہلے نہیں ادا کی تھی۔لھذا آپ نے اس نماز میں طویل  قیام , رکوع و سجدہ  کیا۔ اور آخری سجدہ میں آپ رونے لگے  اور اپنی مبارک زبان سے پھونک رہے تھے۔ فرما رہے تھے : اے میرے رب کیا تونے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو لوگوں کو عذاب نہیں دے گا درانحالیکہ میں ان میں موجود ہوں۔ اے میرے رب کیا تونے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو لوگوں کو عذاب نہیں دے گا اس حال میں کہ وہ مغفرت کے طلبگار ہیں ۔ چنانچہ ہم سب تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ۔پھر آپ نے تشہد کیا۔ پھر آپ نے تشہد کرکے سلام پھیرا اس حال میں کہ سورج گرہن ختم ہو چکا تھا۔آپ نے کل چار رکعتیں چار سجدے میں پوری کی۔بعد ازاں آپ منبر  پر تشریف لائے اور لوگوں کو خطبہ دیا۔جس میں اللہ کی تعریف و ثنا کے بعد آپ نے فرمایا۔ اے لوگو: زمانہ جاہلیت والے کہتے تھے  کہ سورج یا چاند گرہن کسی بڑے آدمی کی وفات یا پیدائش کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ جان لو کہ یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو   نشانیاں ہیں جو کسی آدمی کی وفات یا ولادت کی وجہ سے  گرہن  نہیں ہوتے ہیں۔لھذا اگر تم اس طرح کی کوئی چیز دیکھو تو گرہن چھٹ جانے تک   اللہ کا ذکرکرنے , اس سے  دعاء مانگنے , استغفار , صدقہ, گردن آزاد کرنے اور مسجدوں میں نماز کا سہارا لو۔ اے امت محمد  اللہ کی قسم اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں ہے اس سے کہ کوئی اس کا بندہ یا بندی زنا کرے۔اے امت محمد: اگر تم کو وہ  چیز معلوم ہوجائے جو میں جانتا ہوں   تو تمھارا ہنسنا کم اور رونا زیادہ ہو جائیگا۔ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ  بلند کرکے پوچھا کہ کیا میں نے پہنچادیا؟پھر آپ نے فرمایا کہ میرے اوپرہر وہ چیز  پیش کی گئی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔چنانچہ میرے اوپر جنت پیش کی گئی   تو میں آگے بڑھا  اور أپنے کھڑے ہونے کی جگہ تک پہنچا ۔پھر میں نے اپنا ہاتھ بڑھا کے اس کے پھل میں سے کچھ توڑنا چاہالیکن تردد کی وجہ سے واپس لوٹ آیا۔ اگر میں اس میں سے کچھ بھی لے لیتا تو تم رہتی دنیا تک اس سے کھاتے۔اور میرے اوپر جہنم پیش کی گئی تو میں پیچھے  ہٹ گیا ۔ اور میں اس ڈر سے واپس ہوگیا کہ کہیں مجھ کو اس کی لپٹ نہ لگے۔ پھر میں پھونکنے لگا تاکہ تمھیں اس کی گرمی نہ لگے۔اس وقت جہنم میرے اوپر اس حال میں پیش کی گئی کہ اس کا بعض بعض کو توڑ رہا تھا۔اور میں نے دیکھا کہ جہنم والوں میں اکثریت عورتوں کی ہے۔اس پر صحابہ نے سوال کیا : اے اللہ کے رسول ایسا کیوں ہے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ وہ انکار کرتی ہیں۔صحابہ نے پھر پوچھا کہ اے اللہ کے رسول کیا وہ اللہ کا انکار کرتی ہیں؟آپ نے جواب دیا کہ وہ اپنے شوہروں اور احسان کی نا شکری کرتی ہیں۔ کیونکہ اگر تو ان میں سے کسی کے ساتھ زندگی بھر احسان کرتا ہے۔ پھر وہ تجھ سے کوئی نا پسندیدہ چیز دیکھتی ہے تو فورا بول اٹھتی ہے کہ میں نے کبھی بھی تم سے بھلائی نہیں دیکھی ۔ اور میں نےبنو اسرائیل کی ایک کالی لمبی عورت کو دیکھا  جو جہنم میں صرف اس وجہ سے داخل ہوئی کیونکہ اس نے ایک بلی کو قید کر دیا تھا۔ اس کو باندھ دیا تھا۔اس کے باوجود نہ اس کو کھانا کھلایا اور نہ پانی پلایا ۔ اور نہ ہی اس کو آزاد چھوڑا کہ زمینی کیڑے مکوڑوں کو کھائے۔یہاں تک کہ وہ مر گئی۔ میں نے خمدار ڈنڈے والے کو دیکھا جو حاجیوں کو اپنے خمدار ڈنڈے سے چراتا تھا۔ میں نے اس کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا ہے۔  
 آپ نے اپنے خطبہ میں یہ بھی فرمایا: آپ کی امت بلا شبہ قبروں میں آزمائش میں ڈالى جاتی ہے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اسی وجہ سے اس کے بعد آپ جہنم اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔
بندگان الہی :  یقینا یہ ایک بہت ہی بلیغ اور انوکھا خطبہ  ہے۔جس سے دل خوفزدہ ہوگئے۔ آنکھوں اشکبار ہوگئیں۔جو دلوں کی گہرائیوں میں سرایت کر گیا۔ بلا شبہ یہ نبی کے جامع کلمات میں سے ہے۔بیشک یہ  حدیث نبوی و مصطفوی کی خوبیوں میں سے ہے جس سے ضروری ہو جاتا ہے کہ   اس کے پاس ہر امین, نگہبان اور   رجوع کرنے والا  ٹہر کر سوچے ۔اس خطبہ میں اتنی عبرتیں ہیں  جس سے عقلمندوں کو نصیحت حاصل کرنا ضروری ہے۔ ان میں سے چند یہ ہیں :--
سورج اور چاند کے بارے میں نبی نے زمانہ جاہلیت والوں کے عقیدہ کو باطل قرار دیاکیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ سورج یا چاند گرہن کسی بڑے آدمی کی وفات یا اس کی ولادت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ لھذا آپ نے اس فکر اور مفہوم کو باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا:یہ دونوں کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں۔ آپ نے یہ بھی بیان فرما یا : یہ دونوں روشن  ستارے اللہ کے حکم سے چل رہے ہیں ۔ ان دونوں کو اتنی ہی قدرت حاصل ہے جتنی اللہ نے ان دونوں کے لیے مقدر کی ہے ۔ اور جتنی ان دونوں میں رکھی ہے۔لہذا اللہ کی کائنات میں کوئی بھی چیز اس کے ارادہ کے بغیر نہیں واقع ہوتی ہے۔ کیونکہ مخلوق میں کوئی بھی چیز بیکار نہیں ہے اور نہ ہی حکمت سے خالی ہے۔
آپ نے اپنے اس خطبہ میں  تنبیہ و اشارہ کے طور پر اس دنیاوی حادثہ کے بعض شرعی اسباب کا ذکر کیا۔ اسی وجہ سے آپ نے کئی کبیرہ گناہوں کا تذکرہ کیا۔ جن مین ایک کبیرہ گناہ زنا ہے۔ اور دور حاضر میں اس زنا  کے کتنے بلند جھنڈے اور آسان راستے ہیں  جو اس کی آگ کو بھڑکاتی اور اس کی تپش کو شعلہ بناتی ہیں۔فرمان الہی ہے: وہ بہت برا فعل اور بڑا ہی برا راستہ ہے(بنو اسرائیل /32)
اسی طرح آپ نے ایک بلی کو قتل کرنے والی عورت کے قصہ  میں  ایک کبیرہ گناہ قتل کا بھی بیان  کیا  جس کے پاداش میں وہ جہنم  میں داخل ہوئی ۔ لذا اے اللہ کے بندو: تمھارا اس کے بارے میں کیا خیال ہے جو کسی معصوم مال اور خون والے مسلمان کو قتل کرتا ہے۔ جان لیجیے کہ اس کے لیے تباہی و بربادی ہے۔ پھر اس کے لیے تباہی اور بربادی ہے۔یہ ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو معصوم خونوں سے اپنا ہاتھ رنگتے ہیں  کہ رک جاؤ اس سے پہلے کہ تمھارے اوپر سخت عذاب نازل ہو یا تمھارے اوپر تباہی اور بربادی اترے۔ اللہ تعالى کا فرمان ہے:جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کی غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے(نساء/93)
اسی طرح آپ نے  خمدار ڈنڈا والے کے قصہ میں ایک کبیرہ گناہ چوری کا ذکر کیا۔ یہ اور اس طرح کی تمام مہلک گناہیں  سزا کے نازل ہونے, نعمت کو ختم کرنے, عذاب  کے اترنے, رحمت کے سمیٹنے کی وجہ ہوتی ہے۔ان کی وجہ سے نشانیاں اور تنبیہیں یکے بعد دیگرے آتی ہیں۔لھذا  ۔ اللہ آپ سب پر رحم فرمائے- ان گناہوں سے بچو جو عام ہو گئیں ہیں  اور جس نے لوگوں کو اندھا کردیا ہے۔ جو چھا گئیں ہیں  اور جس نے لوگوں کو سرکش بنا دیا ہے۔اور وفات سے پہلے خالص توبہ کے ذریعہ  فوت شدہ کی تلافی کرو۔ایک شاعر کی زبان میں :--
اے وہ شخص جس کے گناہ بہت زیادہ اور بے شمار ہیں۔
اور جس کی مخالفت و نافرمانی کی وجہ سے اس کی کتاب کے اوراق کالے ہوگیے ہیں ۔
ہم کتنا  تجھ کو  ملاقات  کی دعوت دیتے ہیں لیکن تو  انکار پر مصر ہے۔
جبکہ موت تیری طرف  بھاگ دوڑ میں لگی ہے۔ اور اس کا پختہ ارادہ ہے کہ تجھ کو باپ دادا سے ملادے۔
چنانچہ تو ڈر کہ تیرے پاس موت گناہوں کی حالت میں آئے  کیونکہ جب موت آتی ہے تو واپس جانے سے انکا ر کر دیتی ہے۔
کب تک کوتاہی اور مذاق  چلتا رہے گا۔ کیا بڑھاپے نے مذاق کے لیے کوئی جگہ باقی رکھا ہے۔
یقینا صبح نے چراغ سے بے نیاز کردیا۔ اور فناء کی زبانوں نے  بہت صریح پند و موعظت سنایا۔
بیشک یہ  روشن  نشانی اور واضح  علامت  قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھی  اسی وجہ سے آپ نے اس  عظیم با رعب موقف میں  قیامت کی ہولناکیوں میں سى کچھ چیزوں کا مشاہدہ کیا۔ اور آخرت کی ہولناکیوں میں سے کچھ چیزیں آپ کے لیے ظاہر ہوئیں۔اے بندگان الہی : بلا شبہ تمھارے  لیے اس جگہ پر اس اجتماع میں  حشر کے دن   یعنی قیامت کے دن کی  یاد دہانی ہے جب تمھارا رب تم سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا۔ تمھاری کوئی بھی چیز اس پر مخفی نہیں ہوگی۔لھذا تم میدان قیامت میں اس کی ہولناکیاں مشاہدہ کرو گے۔اور اب جب کہ تمھارے رب نے اس چاند گرہن کے ذریعہ اپنی بعض نشانیوں کو تمھارے لیے بطور نصیحت و تنبیہ  واضح کردیا ہے تو اے نگاہ والو عبرت حاصل کرو۔ اور اے عقلمندو نصیحت پکڑو۔ اور ان کی طرح مت ہو جاؤ جن کے بارے میں اللہ نے اعلان کرتے ہوئے فرمایا :زمین اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گذرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے۔ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان رکھتے ہیں مگر اس طرح کہ دوسروں کو اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں ۔کیا وہ اس بات سے مامون ہیں کہ ان کے اوپر اللہ کے عذابوں میں سے کوئی عام عذاب آجائے یا ان پر اچانک قیامت ٹوٹ پڑے اور وہ بے خبر ہوں( یوسف/105-107)
اے مسلمانو: اس گرہن کے سامنے ایک اور گرہن بھی ہے۔ یہ کون سا گرہن ہے ۔ اللہ کی قسم یہ مومن کے دل کاگرہن ہے۔اللہ کی قسم  یہ اس پاک ذات کی نور معرفت ,اس کی تصدیق,  ایمان, محبت,  دائمی ذکر, اطمینان, اور صرف اسی سے تنہا محبت, خوف, امید, توکل  اور معاملہ کا گرہن ہے۔  یہی دنیا کی جنت ہے  جو اس میں نہیں داخل ہوا وہ آخرت کی جنت میں نہیں داخل ہوگا۔ جان لیجیے کہ آج  امت کو تہذیبی , سماجی , اور اخلاقی گرہن لگ چکا ہے۔ جس کی وجہ اس کا قرآن و حدیث سے منہ موڑنا ہے اور دونوں وحی یعنی کتاب و سنت سے فائدہ نہیں اٹھانا ہے۔لہذا یہ  تاریکی میں بھٹکنے کی طرح بھٹک رہی ہے۔ اور اندھے کی طرح سواری  کر رہی ہے۔اور جنگل میں سرگرداں و حیران چل رہی ہے۔یہاں تک کہ اس کے چراغ گل ہو گئے۔ اس کی ہوا اکھڑ گئی ۔جس سے کوئی جائے پناہ  نہیں ہے مگر یہ کہ یہ امت اللہ کی رسی اور اس کی شریعت کو  علمی , عملی , دعوتی اور تحکیمی طور پر مضبوطی سے پکڑ لے۔اللہ کا فرمان ہے : جو اللہ کے (دین) کو مضبوطی کے ساتھ تھامے گا وہ ضرور راہ راست پالےگا( آل عمران/101)
 اے اللہ تو ہمیں ایسی عصمت عطا کر جو گناہوں سے روکنے والی ہو۔ایسی رحمت عطا کر جو گذشتہ گناہوں کو مٹانے والی ہو۔اور ایسی نعمت دے جو ہر قسم کی بھلائیوں کو جامع ہو۔...   
    

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: