تقسیم ہند: شرعی و تاریخی دلائل کی روشنی میں , دوسری قسط


           تقسیم ہند: شرعی و تاریخی  دلائل کی روشنی میں

             اور تقسیم ہند کے حامیوں کو میرا کھلا چیلنچ
                                                                  دوسری قسط

ایک نیا زاویہ                                ایک جدید نقطہ نظر


تاریخی دلائل:

آج کی اس دوسری اور آخری قسط میں  میں وہ زبردست تاریخی دلائل پیش کررہا ہوں  جو زمینی حقائق ہیں اور جن کا مشاہدہ  57 ممالک کی شکل میں ہر مسلمان آج کے دور میں کر رہا ہے۔ لیکن چونکہ وہ حقیقت سے ناواقف ہے لہذا اس  کو کوئی شعور و احساس نہیں ہے۔اور وہ دشمنوں کی مکاریوں و عیاریوں  و سازشوں کا شکار ہے ۔ اور سمجھتا ہے کہ حقیقت یہی ہے۔ اسلام اسی کا نام ہے۔ یا اسلام میں تعدد ممالک کی اجازت ہے۔ یہ سب مسلمانونے از  خود کیا ہے۔ دشمنوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر جاہل کی یہ سوچ ہوتی تو غنیمت تھا لیکن افسوس ہمارے بہت سارے علماء اور  تعلیم یافتہ لوگ بھی یہی سوچتے ہیں ۔جو در اصل اسلامی تاریخ سے  لا علمی و جہالت کا نتیجہ ہے۔
تاریخی دلائل میں سر فہرست  تاریخی دلیل ہمارے دشمنوں  کا طرز عمل و فعلی  اقدام  ہے جو انھوں نے مسلمانو اور مسلم ممالک کے ساتھ  آغاز اسلام سے لیکر اب تک اپنایا  ہوا ہے۔ وہ ہے اسلامی ممالک کو تقسیم در تقسیم کرنے کا فارمولہ جو اسلام و مسلمان دشمنوں خصوصا انگریزوں  کا ایک  پرانا ہتھیار رہا ہے جس پر وہ کئی صدیوں سے عمل پیرا رہے ہیں اور ابھی تک اس پر عمل پیرا ہیں کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اتحاد طاقت و قوت ہے جبکہ تفرقہ کمزوری , پسپائی اور ذلت ہے۔ اور اسی کے ذریعہ مسلمانوں کو اپنا مطیع و فرماں بردار بنا کے رکھا جاسکتا ہے اور ان کو آپس میں لڑا کے کمزور کیا جاسکتا ہے۔یہ ایک بدیہی چیز ہے جس کو ہر کوئی جانتا ہے اور کوئی بھی شخص اس کا انکار نہیں کر سکتا ہے۔
اس کی دلیل ان کے اقوال ہیں جو میں أپنی قوم کے غافل لوگوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں:---
1-     برٹش کولونیل وزیر  ولیم اورمس بائی گور (   William Ormsby-Gore 9 / جنوری 1938 ع میں تیار کردہ أپنی ایک رپورٹ میں کہتا ہے: یقینا جنگوں سے ہم کو یہ سبق ملا ہے کہ اسلامی اتحاد و اتفاق ہی ہمارے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے جس سے ہمیں ہوشیا رو  چوکنا رہنا ضروی ہے۔ اس کے خلاف جنگ کرنا بھی ہمارے لیے ضروری ہے۔اور صرف انگلینڈ ہی اس بات کا پابند نہیں ہے بلکہ فرانس بھی اس کا پابند ہے۔
بلاشبہ ہماری سیاست کا مقصد اسلامی اتحاد و اتفاق کو ہمیشہ  روکنا ہے۔ اور ضروری ہے کہ ہماری یہی سیاست ہو۔ہمارے لیے بہت خوشی کی بات ہے کہ مسلمانو کی خلافت ختم ہو گئ اور ہم ہماری آرزو ہے کہ وہ کبھی دوبارہ واپس نہ آئے۔
یقینا ہم نے سوڈان , نائجیریا , مصر اور دوسرے مسلمان ممالک میں مقامی قوم پرستی کو بڑھاوا دیا ہے اور ہم اس میں حق بجانب ہیں۔کیونکہ یہ ہمارے لیے اسلامی اتحاد و اتفاق سے کم خطرناک ہے۔
مسلمانو کی اس تقسیم سے ان کے دشمن بہت زیادہ خوش ہیں ۔ ان کا ماننا ہے کہ مسلمان ممالک کی سیاسی تقسیم سے ان کا کام بہت آسان ہوجائے گا۔ یہ  یورپین تہذیب و تمدن کے لیے راستہ ہموار کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں اسلام سیاسی اعتبار سے بہت ہی کمزور ہوجائے گا۔اور بہت تھوڑے وقت میں اسلام ایک شہر کے حکم میں ہوجائے گا جو یورپین  کانٹوں سے گھرا ہوگا۔
برٹش وزیر کے اس قول کو بار بار پڑھئے ۔ کیا آج اسلام کی وہی حالت نہیں ہے۔کیا آج مسلمان ممالک 57 ملکوں میں نہیں بٹے ہوئے ہیں۔اس سے ان کی تقسیم کی پالیسی  اور مقصدسمجھ میں آجائے گی۔اور آئندہ ذکر کیے جانے والے مثالوں سے یہ بات  زیادہ واضح ہوجائے گی۔
2-   سر تھامس اڈوارڈ لورنس کہتا ہے : یقینا ہمارا بنیادی مقصد اسلامی اتحاد و اتفاق کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ اور عثمانی سلطنت کو شکست دینا اور اس کو برباد کرنا ہے۔مزید کہتا ہے کہ اگر ہم عربوں کو بھڑکانے  میں  کامیاب ہوگئے کہ وہ اچانک اور تشدد کے ذریعہ أپنے حقوق کو عثمانی خلافت سے چھین لیں تو یقین جانئے کہ ہم نے ہمیشہ ہمیش کے لیے خطرہ اسلام کا خاتمہ کردیا۔اور ہم نے مسلمانو کو آپسی خانہ جنگی پر مجبور کردیا۔
ہمارے پاس بطور دلیل بہت سارے اقوال ہیں لیکن میں طوالت کی وجہ سے ان کو نظر انداز کرہا ہوں۔ آپ اس موضوع پر غزو فکری کی کوئی بھی کتاب مطالعہ کر سکتے ہیں۔ ایک کتاب کا ذکر میں یہاں کر دیتا ہوں ۔ اس کا نام ہے: قادۃ الغرب یقولون  دمروا الاسلام  أبیدوا أہلہ ,  یعنی اسلام کو تباہ و برباد کردو اور مسلمانو کو ہلاک کردو مؤلف : جلال العالم
جو لوگ ان اقوال کو ناکافی سمجھتے ہوں  اور مطمئن نہ ہوں تو میں ان کے لیے بہت ساری مثالیں ذکر کردیتا ہوں  جو انہوں نے ابتدا ہی سے اسلام و مسلمانوں کے خلاف اختیار کر رکھا ہے اور جب بھی موقع ملا ہے اس کو نافذ کیا ہے۔
اس کی درج ذیل مثالیں ہیں جو میں تاریخی ترتیب کے ساتھ ذکر رہا ہوں اور  یہ سلسلہ مسلمانو کے دور زوال میں شروع ہوا کیونکہ اس سے قبل  کافروں کو اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ مسلمان ممالک کو تقسیم کر سکیں :---
1-     بریطانیہ نے  1824 ع میں سنگاپور کو ملیشیا سے الگ کر دیا۔
2-    1883ع  میں  انگلینڈ نے  میں   متحدہ صومال کو تین  ملکوں  اریٹیریا , جیبوتی  اور حالیہ صومال میں تقسیم کردیا ۔ اور بریطانیہ نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ وہاں سے نکلتے ہوئے صومال کے جنوبی علاقہ کو کینیا اور مغربی صومالی علاقہ اوجادین کو بطور ہدیہ حبشہ کے حوالہ کردیا۔
3-   زنجبار ایک جزیرہ ہے جو مشرقی افریقیہ کے ساحل پر واقع ہے ۔ یہ جزیرہ بہت پرانے زمانہ سے مسلمانوں کے قبضہ میں تھا۔ اور  یہاں پر عمانی حاکم سعیدبن سلطان (179۰-1856)نےاپنی حکومت قائم کی تھی ۔ اور پھر اس کو وسعت دے کے ایک عظیم  اسلامی سلطنت قائم کی  تھی جو ساحل شرق افریقیہ  پر صومال کے دار السلطنت موغادیشو سے لیکر  راس دلجادو تک پھیلا ہوا تھا۔ جس کی لمبائی 1600کلو میٹر تھی۔اور اس کا اثر و نفوذ شرق افریقیہ کے بری علاقوں کے اندر بھی تھا۔غرضیکہ یہ ایک عظیم اسلامی سلطنت تھی ۔ پہلے انگریزوں نے اس پر قبضہ کیا۔پھر بعد میں اس کا بٹوارہ کیا۔ کچھ حصہ کینیا کو اور کچھ حصہ تنزانیا کو دیدیا ۔ اس طرح سے اس کا نام  و نشان ہی ختم کردیا۔ آج کل بہت کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ یہاں پر کوئی اسلامی سلطنت تھی۔
4-   اس کی سب سے واضح مثال انگلینڈ اور فرانس کا مئی 1916 ع میں کیا گیا  وہ خفیہ سمجھوتہ ہے جو تاریخ میں سایکس پکاٹ  سمجھوتہ (Sykes- Picot Agreement)کے نام سے مشہور ہے جس میں ان دونوں ملکوں نے خلافت عثمانیہ کے ٹکڑے بخڑے کرنے کی خفیہ سازش رچی تھی۔اور جس کو انہوں نے عملی جامہ پہناتے ہوئے ملک شام کو چار حصوں سوریا, فلسطین, لبنان اور اردن میں تقسیم کردیا۔خلافت عثمانیہ کے ماتحت حصوں کو اس سے آزاد کردیا۔ اور پھر وہ یہیں پر نہیں رکے بلکہ اس سے آگے بڑھ کے مصطفى کمال  بظاہر مسلمان   بباطن  یہودی  کے ذریعہ خلافت عثمانیہ کا 1924 ع میں خاتمہ کردیا ۔ اور عثانی خلافت کو چالیس سے زائد ممالک میں تقسیم کردیا۔
5-ترکستان کو مشرقی اور مغربی دو حصوں میں تقسیم کرکے مغربی ترکستان کو پانچ چھ ملکوں میں تقسیم کردیا جبکہ مشرقی ترکستان پر اب بھی چین کا قبضہ ہے جہاں مسلمانوں پر بے انتہا ظلم ڈھائے جا رہے ہیں ۔
6-  1971  ع میں بنگلہ دیش کو پاکستان سے الگ کردیا۔
7- 20مئی 2002 ع کو شرقی تیمور کو انڈونیسیا سے علیحدہ کردیا ۔
8- اور کچھ سالوں پہلے 9 جولائی 2011 ع  کو  جنوبی سوڈان کو سوڈان سے الگ کردیا۔
 اور اب بھی وہ بہت سارے اسلامی ممالک کے حصے بخرے کرنا چاہتے ہیں جن میں عراق اور پاکستان ان کے نشانے پر ہیں۔
اس طرح کی بہت ساری مثالیں ہیں  جیسے جزیرہ قبرص, برما میں اراکان, فلبین وغیرہ۔ میرا مقصد ان سب کو ذکر کرنا نہیں ہے ۔ بلکہ صرف یہ بتلانا ہے اسلام اور مسلمان دشمنوں کی بنیادی پالیسی, ان کا اساسی مقصد اور ان کا عظیم نصب العین ہی یہی ہے کہ مسلمانو اور ان کے ممالک کو زیادہ زیادہ ٹکڑوں میں تقسیم کردیا جائے تاکہ ان کو اپنے اہداف و مقاصد کے حصول میں آسانی ہو۔ اور جو ہم خود 57 / مسلمان ممالک کی صورت میں  اپنی آنکھوں سے آج کے زمانہ میں مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ان کے درمیان شدید اختلافات , رسہ کشی , لڑائی  اور جگھڑے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ان میں سے کچھ ممالک تو اتنے چھوٹے ہیں کہ ان کو ملک کہتے ہوئے شرم آتی ہے ۔ اور ان کو ملک یا مملکت کہنا ان الفاظ کی توہین ہے۔ مثال کے طور پر قطر, کویت, بحرین, مالدیپ, برونئی, جزر القمر وغیرہ۔ایک عربی شاعر کہتا ہے:
أسماء مملکۃ فی غیر موضعہا                       کالھر یحکی انتفاخا صورۃ الاسد
ان ملکوں کو مملکت کہنا نامناسب و غیر موزوں ہے۔ ان کی مثال تو اس بلی کی طرح ہے جو أپنے جسم کو پھلا کرکے شیر کی شکل میں ظاہر کرتی ہے۔
اور ہم مسلمان اتنے سادہ ہیں کہ ان کی سازشوں تک کو سمجھنے میں قاصر ہیں۔ اور یہ در اصل ہمارے نصاب و منہج تعلیم کی غلطی ہے۔جس میں اسلامی تاریخ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اور ہم انگریزوں کی تاریخ پڑھاتے ہیں جس میں کائد اعظم محمد علی جناح کو قائد اعظم اور مصطفى کمال کو ویلن کے بجائے ہیرو بنا کر پیش کیا ہے اور اسے  اتا یہود کے بجائے اتاترک کہا جاتا ہے ۔
 اب میں یہاں پر چند ان جماعتوں و علماء کا نام ذکر کر دیتا ہوں جو تقسیم ہند کے شدید مخالف تھے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ  اکُثر مسلمان خصوصا بڑے  و مشہور علماء دین  تقسیم ہند کے زبردست مخالف تھے ۔ان میں سر فہرست امام الہند علامہ ابوالکلام آزاد کا نام آتا ہے۔ اس کے علاوہ  مولانا حسین أحمد مدنی, مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی, مفتی کفایت اللہ دہلوی, مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری, مولانا عنایت اللہ مشرقی , مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی , مولانا حبیب الرحمن لدہیانوی, سید محمد میاں, علامہ عبد المجید حریری بنارسی   اور مولانا وحید احمد مدنی وغیرہ  شامل ہیں۔ ان علماء کی ایک لمبی فہرست ہے۔مختصرا یہ سمجھئے کہ انڈین نیشنل کانگریس,   جمعیت اہل حدیث , جمعیت علماء ہند, مجلس أحرار , تحریک خاکسار , تحریک خدائى خدمت گار  وغیرہ سے وابستہ تقریبا تمام علماء تقسیم ہند کے زبر دست مخالف تھے۔ اس کے برخلاف مسلم لیگ میں کوئی بھی بڑا ور مشہور عالم دین  شامل نہیں تھا۔بہت کوشسوں کے بعد چند گنے چنے  بڑے علماء نے ان کا ساتھ دیا جن میں سر فہرست مولانا شبیر احمد عثمانی ہیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: تقسیم ہند کے مخالف مسلمان, مؤلف: شمس الاسلام
 اور یہ خبر بھی پڑھ لیجیے ۔ ایک پاکستانی وزیر خود اعتراف کررہا ہے کہ تمام بڑے علماء قیام پاکستان کے خلاف تھے۔اور یہ علماء محمد علی جناح کو کافر کہتے تھے۔https://dailyausaf.com/pakistan/news-201905-17307.html?__cf_chl_jschl_tk__ فواد چوہدری( روزنامه اوصاف , 5-5-2019)

واضح ہوگیا کہ تقسیم ہند مسلمانوں کا مطالبہ نہیں بلکہ انگریزوں کی سازش اور چال تھی جس پر وہ ایک عرصہ سے عمل پیرا ہیں   ۔اسی وجہ سے ہندستان تقسیم ہوا ورنہ ہندستان تقسیم نہیں ہوتا ۔
 اس کی اور بھی دلیلیں ہیں ۔جن میں سے ایک مشرقی اور مغربی پاکستان میں ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ اور دوری بھی ہے۔ پھر بعد میں مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان  سے الگ کرانا  بھی ہے۔یہ سب سے بڑی دلیل ہے کہ انگریزمسلمانوں کے ہمدرد نہیں تھے ۔ ان کو مسلمانوں کے بجائے ہندؤوں سے محبت تھی  ۔ وہ مسلمانوں کے لیے کوئی محفوظ وطن   نہیں چاہتے تھے بلکہ وہ  مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن تھے اور ان کا مقصد مسلمانوں  کے اتحاد کو ختم کرنا, ان کو تقسیم کرنا,  ان کی طاقت و شوکت کو توڑنا, ان کو کمزور کرنا اور ان کو پورے برصغیر کی حکمرانی سے روکنا تھا کیونکہ ان کی نظر مستقبل پرتھی اور وہ جانتے تھے کہ اگر مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد ایک ساتھ رہی تو وہ عالم کفر کے لیے بہت بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ اور انہیں سب چیزوں کو ہندو لیڈروں کے ذہن میں ڈال کے ان کو بھی تقسیم کا ہمنوا بنا لیا کہ اگر مسلمان ایک ساتھ رہتے ہیں تو ہندو ہندستان پر راج نہیں کر سکیں گے۔ وہ ہمیشہ پریشانی میں رہیں گے۔ وغیرہ
 اسی طرح اس کی ایک سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ تقسیم ہند سے بر صغیر کے مسلمانوں کا نقصان بہت زیادہ ہوا جبکہ فائدہ کچھ نہیں ہوا۔ان کا آپسی سیاسی اتحاد و اتفاق ختم ہوا۔وہ تین ملکوں میں تقسیم ہو کر کمزور و بے بس ہوگئے۔ان کی شان وشوکت ختم ہوگئی۔بر صغیر کا ایک بڑا حصہ ان کی حکمرانی سے نکل گیا۔تقسیم کے وقت لاکھوں مسلمانوں کا قتل ہوا۔ لاکھوں مسلمان بے گھر ہوئے۔اور سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ہندستان میں رہنے والے مسلمان  بقول امام الہند علامہ ابو الکلام آزاد رح  ہمیشہ ہمیش کے لیے ہندؤوں کے رحم و کرم پر ہو گئے۔اور آج ہندستان میں بسنے والے مسلمانوں کی جو حالت ہے وہ اسی تقسیم کا شاخسانہ ہے۔ آج موجودہ ہندستان میں جو ہندو مسلمانوں کے خلاف  اتنے  جرأتمند و طاقتور ہیں وہ اسی تقسیم کا نتیجہ ہے۔ ورنہ ہندؤوں کی کیا مجال تھی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ایک لفظ بھی بول سکیں یا ان کو وہاں سے نکالنے کی دہمکی دیں۔
جامعہ سلفیہ بنارس میں ہمارے ایک استاذ جناب مولانا عبد الوحید سلفی صاحب تھے جو بنارس کے رہنے والے تھے اور شیخ الجامعہ تھے۔ وہ بھی تقسیم ہند کے نظریہ سے اتفاق نہیں رکھتے تھے۔اور اس نقصان کو ایک مثال سے اس طرح واضح کرتے تھے کہ آزادی سے پہلے ہم لوگ دشا سمیت گھاٹ پر اگر ایک ہندو کو ایک چانٹا مار دیا کرتے تھے تو ہندو کچھ نہیں کہتا تھا لیکن آج آزادی کے بعد کوئی ایک چانٹا ہندو کو مار کے جا کے دیکھ لے۔کیا کوئی مسلمان اب یہ جرات کر سکتا ہے۔
اب آئیے ذرا یہ بھی جان لیتے ہیں کہ پاکستان بننے سے مسلمانو کو کیا حاصل ہوا۔ ستر سال سے زائد کا عرصہ گذر گیا لیکن پاکستان کی جوحالت ہے وہ سب کے سامنے ہے۔آج پاکستان دنیا کے ناکام ترین ممالک میں سے ایک ہے۔سیاسی استقرار بالکل نہیں ہے۔اکثر اوقات میں فوجی حکومت رہی ہے۔آج کے ایام میں بھی امور حکومت میں  فوجی مداخلت بہت زیادہ ہے۔ اس کے حکمرانو نے اس کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے اور نہ ہی کوئی کوتاہی کی ہے۔ جس کی سب سے تازہ ترین مثال نواز شریف ہیں۔ پاکستان اقتصادی اعتبار سے  کنگال ہوچکا ہے۔ اگر سعودی عرب و کچھ دیگر ممالک اس کا ساتھ نہ دیتے تو اب تک  دیوالیہ اعلان کر دیا جاتا۔ اسی وجہ سے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کاسہ گدائی لے کر دنیا سے بھیک مانگنے پر مجبور ہے۔پاکستان پر 105 / ارب ڈالر سے زیادہ کا بیرونی قرض ہے۔ https://www.humnews.pk/latest/198321)/) آج پاکستان چین کا سیاسی و اقتصادی غلام بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ  پاکستانی حکمرانو و اکثر عوام  کو کشمیر میں ظلم نظر آتا ہے لیکن چینی مسلمانو پر کوئی ظلم  نظر نہیں آتا ہے ۔ امن و امان مفقود ہے۔ نسلی و قومی عصبیت عروج پر ہے۔ ایک قوم دوسرے قوم سے دست  بگریباں ہے۔پنجاب کا ملک کے سارے وسائل پر قبضہ ہے۔اور سب سے زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ ستر سال گذرنے کے باوجود بھی  پاکستان آج تک ایک اسلامی ریاست نہیں بن سکا۔اسلامی سزائیں نافذ نہیں کی جاتی ہیں اور کورٹ میں فیصلہ شریعت کے بجائے  انسانی دستور کے مطابق ہوتا ہے۔عوام کی جو دینی حالت ہے وہ بد سے بد تر ہے۔ پاکستان کا  کرپشن  انڈیکس میں 120 واں نمبر ہے۔
اسلام کے نام پر قائم ہونے والا پاکستان وہ بے شرم ملک ہےکہ  جو مسلمان شرعی نقطہ نظر سے  1971 ع کی جنگ میں  مشرقی پاکستان ( بنگلہ دیش ) کو پاکستان سے الگ کرنے کے مخالف تھے اور  متحدہ پاکستان کے حمایتی و طرفدار تھے ۔ جن کو آج کل  بہاری مسلمان کے نام سے جانا جاتا ہے۔  جو آج تک بنگلہ دیش میں بہت  ہی کسمپرسی کی حالت میں خیموں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔جو پاکستان سے أپنی محبت کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ان کو آج تک پاکستان أپنے یہاں نہیں لایا ہے اور نہ ہی ان کو أپنے یہاں لینے کے لیے تیار ہے۔کیا پاکستان کا یہی اسلام ہے؟اے پاکستان تو شرم کر اور چلو بھر پانی میں ڈوب مر۔تو أپنے پاکستانیوں کی مدد کے لیے نہیں تیار ہے تو تو دوسروں کی کیا مدد کرے گا۔
بہاری مسلمان کے نام سے آپ انٹرنٹ میں خود سرچ کرسکتے ہیں۔ درج ذیل لنک بھی دیکھ سکتے ہیں:https://www.dw.com/ur/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%AD%D9%85%D8%A7%DB%8C%D8%AA-%DB%81%DB%8C-%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D8%AC%D8%B1%D9%85-%DB%81%DB%92/a-50966280

http://urdu.alarabiya.net/ur/politics/2015/09/24/%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%AA%D9%88-%D8%B4%D8%B1%D9%85-%DA%A9%DB%8C%D8%AC%D8%A6%DB%92-.html
درج بالا تمام چیزیں  اس بات کی دلیل ہیں  کہ جناح اور دیگر لیگی رہمنا جھوٹے تھے ۔ اسماعیلی باطنی شیعہ محمد علی  جناح قائد اعظم نہیں بلکہ کائد اعظم تھا۔ مسلم لیگی رہنما جب أپنی ذاتی زندگی میں اسلام پر عمل پیرا نہیں تھے تو وہ اجتماعی زندگی میں شریعت کو کیوں نافذ کرتے۔ انہوں نے صرف مسلمانو کو دہوکا دینے  اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اسلام کا نعرہ لگایا تھا ورنہ وہ انگریزوں کے آلہ  کار اور ان کے ایجنٹ تھے۔ان کا واحد مقصد تقسیم ہند کے ذریعہ  مسلمانو کی متحدہ طاقت و قوت کو ختم کرنا تھا۔ اور أپنے لیے کرسی  و منصب کا حاصل کرنا تھا ۔ اسی وجہ سے  انہوں نے بنا کسی تردد کے  اپنے ذاتی فائدہ و شخصی نفع کے لیے کروڑوں مسلمانوں کی بھینٹ چڑھا دی۔
پاکستان بننے کا اس کے علاوہ اور کیا فائدہ ہوا ہے کہ پہلے اسلامی دنیا میں ایک ملک کا پھر دو ملک کا اضافہ ہوا جس سے سیاسی دوری  بڑھی اور عدم اتحاد میں اضافہ ہوا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی آج کل جو حالت ہے وہ سیاسی, اقتصادی اور اجتماعی طور پر نا گفتہ بہ ہے۔ علامہ ابو الکلام آزاد نے پاکستان بننے سے پہلے پاکستان کے بارے میں مجلہ چٹان کے ایڈیٹر شورش کاشمیری کو انٹرویو دیتے ہوئے جو پیشین گوئیاں کی تھیں وہ کافی حد تک درست اور صحیح ثابت ہو رہی ہیں۔اسی طرح آپ نے جامع مسجد میں جو تقریر کی تھی اور جن اندیشوں کا اظہار کیا تھا  وہ بھی صد فیصد صحیح ہیں۔ تقسیم کے نقصانات کو جاننے کے  علامہ آزاد کی تقریر ضرور سنیے جو یو ٹیوب پر دستیاب ہے۔
مذکورہ بالا تمام دلیلوں و  حقیقتوں  سے  قطعی طور پر  بنا کسی ادنی شک کے واضح  ہوجاتا ہے  کہ تقسیم  ہند انگریزوں کی سازش کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔اور یہ اسی سازشی سلسلہ "تقسیم در تقسیم  "کی ایک کڑی ہے جو وہ مسلمان  ممالک کے ساتھ کرتے آرہے ہیں  اور آئندہ بھی کریں گے۔ اور انگریز بہت ہی عیار و مکار قوم ہے۔ وہ أپنی سازش کو اس طرح نافذ کرتے ہیں کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔وہ دوسروں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر چلاتے ہیں۔ وہ أپنے منصوبوں کو اتنی ہوشیاری, چالاکی اور صفائی کے ساتھ نافذ کرتے ہیں کہ عوام تو عوام خواص مثلا علماء, دانشور , مفکر اور تعلیم یافتہ طبقہ بھی دھوکا کھاجاتےہیں اور ان کی سازش کا شکار ہوجاتے ہیں۔اور ایک طویل عرصہ بعد اس کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے۔ اس کی دلیل وہ سازش ہے جو انہوں نے خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے کے لیے کیا۔ اور انہوں نے صرف عربوں کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانو کو آسانی سے  بیوقوف بنا دیا حتى کہ امیر الشعراء أحمد شوقی نے مصطفى کمال کی شان میں قصیدہ خوانی کی۔اور ایک طویل عرصہ بعد مسلمانو کو ان کی سازش کا پتہ چلا۔ اسی طرح پہلی عالمی  جنگ  کے دوران بھی انہوں نے عربوں کو خوب اچھی طرح بیوقوف بنایا۔ ان کو عربی خلافت کا سبز باغ دکھلا کے خلافت عثمانیہ کے خلاف غداری پر آمادہ کیا۔ اور انہوں نے عملا شریف مکہ حسین  بن علی کی قیادت میں خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کی اور انگریزوں کا ساتھ دیا جو ان کی پیشانی پر ایک بد نما داغ ہے۔ اور عربوں کو  اس غداری و خیانت کا صلہ   کیا ملا۔ اس کا بھی ذکر کردیتا ہوں۔ انہوں نے آپس میں خفیہ معاہدہ کرکے جس کا ذکر اوپر گذرا عرب ممالک کو تقسیم کرکے ان پر قبضہ کر لیا۔خلافت کا ذکر ہی فضول ہے ۔  پھر یہودیوں کو فلسطین میں آباد کرکے ایک نیا  غیر مسلم ملک" اسرائیل " عربوں کے بالکل وسط میں قائم کردیا۔اور ان کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا جس سے عرب آج بھی لہو لہان ہے۔  حد تو یہ ہے کہ انگریز ظاہری طور پر أپنے کوبہت سارے مسائل میں   ایسا پیش کرتا ہے کہ اس کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔
وہ  دو قوموں کو آپس میں لڑاتے ہیں  اور پھر دور بیٹھ کرکے  تماشہ دیکھتے  ہیں اور مزہ لیتے ہیں۔ اور اس طرح لڑاتے ہیں کہ دونوں قو میں سمجھتی ہیں کہ انگریز ان کے ساتھ ہیں ۔جب کہ وہ کسی کے ساتھ نہیں ہوتے ہیں۔ نہ ہی کسی کے ہمدرد ہوتے ہیں بلکہ وہ صرف اور صرف اپنی مصلحتوں اور مفادات کے غلام ہوتے ہیں۔
میں تقسیم ہند کے حامیوں سے پوچھتا ہوں کہ آخر اسلام و مسلمانو کے کٹر دشمن  انگریز کب سے  مسلمانو کے اتنے ہمدرد ,  وفادار و  دوست بن گئے  کہ انہوں نے بنا کسی مصلحت و مفادات کے مسلمانو کے لیے ایک ملک الگ سے بنوا کے ان کو دیدیا ؟آخر انہوں نے مسلمانو کے ساتھ اتنی ہمدردی کیوں دکھلائی؟آخر وہ مسلمانو پر اتنے مہربان کیسے ہوگئے؟  یہ تو وہی انگریز  ہیں  جن کی دشمنی  آیات قرآنی کی روشنی میں کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے۔اور مسلمانو کے ساتھ ان کے وحشیانہ و سفاکانہ برتاؤ اس پر شاہد ہیں۔ انہوں نے دنیا پر  اپنے دور حکومت خصوصا عروج کے زمانہ میں مسلمانو کونیست و نابود کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ہے۔وہ دشمن تھے ۔ ہیں اور رہیں گے۔پھر مسلمان کی حمایت میں الگ ملک بنانا چہ معنى دارد؟ اس کا واضح مطلب ہے کہ اس کے پس پردہ خفیہ عزائم و مفادات ہیں۔اتنی معمولی بات بھی اگر کسی کے سمجھ میں نہیں آتی ہےتو پھر اس کے دماغ ہی میں خلل و کھوٹ ہے۔
 میں بالکل واضح طور پر کہہ رہا ہوں اور پورے وثوق و اطمینان کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ انگریزوں نے مسلمانو کی حمایت, محبت و ہمدردی میں نہیں بلکہ ان کی دشمنی اور ان کی تباہی و بربادی کے لیے تقسیم ہند کیا۔ان کو معلوم تھا کہ تقسیم ہند میں مسلمانو کا ذرہ برابر فائدہ نہیں ہے  اس لیے انہوں نے پاکستان بنوایا۔ اگر ان کو ذرہ برابر بھی شک ہوتا کہ تقسیم ہند یا قیام پاکستان مسلمانو کی مصلحت میں ہے۔ یا اس میں ان کا تہوڑا بہت مفاد ہے تو وہ قطعا پاکستان کے لیے راضی نہ ہوتے۔
ان تمام امور اور حقیقتوں کو جان لینے کے باوجود بھی اب اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ پاکستان مسلمانوں کا مطالبہ تھا انگریزوں کی سازش نہیں تھی تو اس کے عقل پر ماتم کرنے کے علاوہ اور کیا جا سکتا ہے ۔
اب میں آخر میں تقسیم ہند کے تمام حامیوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ ان دلیلوں کو غلط ثابت کردیں۔ اور یہ واضح  کردیں کہ مسلمان دشمنوں  نے مسلمان ممالک کو تقسیم نہیں کیا ہے تو میں  اپنے نظریہ سے رجوع کر لوں گا اور میں بھی دو قومی نظریہ کا حامی بن جاؤں گا۔ اور یہ تسلیم کرلوں گا کہ تقسیم ہند مسلمانو کے مطالبہ پر کیا گیا۔ اللہم اہد قومی فانہم لا یعلمون,و ما علینا الا البلاغ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

4 التعليقات:

avatar

tanveertamboli782@gmail.com

avatar

عمدہ موضوع عمدہ تحریر ( ظفر محمدی, واٹسپ مسیج بتاریخ 16 جون 2020 ع بوقت : 11:50 صباحا)

avatar

تقسیم ہند پر دوسری قسط کےconclusions بہت الگ ہے۔۔۔۔ آپ نے اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے دلائل بھی دیے ہیں۔۔۔۔ لیکن چند باتیں معذرت کے ساتھ عرض ہے۔۔۔
١ ۔ تقسیم ہند کا سوال میرے خیال سے ١٩٣٦ کے بعد مقامی الیکشن میں دھاندلی کی وجہ سے جناح کے ذہن میں آیا۔۔۔ اور چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں اس جیت کے بعد ان میں موجود مسلم اقلیت کے ساتھ حقوق تلفی کی عملی تصویر کے بعد جناح اس معاملے میں۔۔۔ ہندی مسلمانوں کا مستقبل محفوظ رکھنے کے لئے تقسیم ہند کی پالیسی پر سختی سے اصرار کرنے لگے۔۔۔۔
٢. جن علماء کے آپ نے نام گنائے ان میں صرف اما الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے نقطہ نظر کو واضح کیا کہ کیوں وہ تقسیم ہند کے قائل نہیں ہیں۔۔۔۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں انہوں نے جو بھوشوانی کی تھی وہ صد فیصد درست نکلی۔۔۔۔ جس پر چند سال پہلے پاکستان کے عظیم سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے تفصیلی آرٹیکل لکھا۔۔۔۔۔
٣. تقسیم ہند سے پہلے۔۔۔۔ چلیے دو منٹ کے لئے مانتے ہیں کہ یہ چال تھی۔۔۔ لیکن اس کے نتائج کیا بہتر نکلے یا نہیں۔۔۔۔ یہ اہم سوال ہے۔۔۔ آپ نے جو اس پر سوالیہ نشان کھڑا کیا وہ میرے خیال سے صحیح نہیں ہے۔۔۔
ڈاکٹر اسرار احمد ایک مفکر اور بہترین دور اندیش تھے۔۔۔ وہ حق بات کہنے میں کبھی کسی سے نہیں ڈرتے۔۔۔ انہوں نے پاکستان کے نظریہ پر خود دلائل دیے ہیں اور جناح کے حق میں کئی اہم نکات بیان کیے ہیں۔۔ لیکن انہیں اس چیز کا اعتراف ہے کہ جس وجہ اور نام لے کر پاکستان بنا تھا آج تک عملی طور پر مسلمانوں کے قوانین نافذ نہیں ہویے۔۔۔ مودودی صاحب جو اس تقسیم ہند پر سخت نالاں تھے، جن کی تنقید مسلم لیگ اور کانگریس پر زبردست تھی۔۔۔۔ لیکن انہوں نے بھی تقسیم ہند کے بعد جن الفاظ کے ساتھ جناح مرحوم کو خراج تحسین پیش کیا۔۔۔ وہ انہیں کا حق ہے۔۔۔۔ اقبال کے نظریہ پاکستان ( گرچہ نام آزاد مملکت یا ایسا ہی تصور تھا۔۔۔ نام تو بعد کی ایجاد ہے) کو دونوں مفکروں نے بار بار اپنی تقریروں اور تحریروں میں وضاحت سے بیان کیا ہے۔۔۔۔۔
اس لئے تقسیم ہند سے پہلے آپ کی رائے وزنی تو ہوسکتی ہے لیکن تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے حالات پر آپ کے تبصرے کو میں پوری طرح سے سہمت نہیں ہوں۔۔۔۔۔
جزاکم اللہ خیراً۔۔۔( ڈاکٹر شبیر پرے, واٹسپ میسیج, بتاریخ 22 جون 2020 ع بوقت 4:57 م )

avatar

میں محترم ڈاکٹر شبیر صاحب کا بے حد مشکور و ممنون ہون کہ انہوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کے میرے مضمون پر ایک طویل تبصرہ کیا۔ فجزاہ اللہ خیر الجزاء ۔ اور ان کی تحریر کا جواب درج ذیل ہے:-
1-موصوف کا یہ کہنا کہ 1936 کے الیکشن مین دھاندلی ارو مسلم اقلیت کے حقوق تلفی کے نتیجہ میں تقسیم ہند کا خیال جناح کے ذہن میں آیا۔ یہ ایک بہانہ ہوسکتا ہے مسلمانو کو گمراہ کرنے کے لیے۔ کیا آج کے دور میں تمام انسانوکو ہر جگہ ان کے حقوق حاصل ہیں۔ کئی ملکوں میں اقلیتوں پر ظلم ہوتا ہے۔ خود بعض مسلمان ممالک میں مسلمانو پر بہت ظلم ہوتا ہے۔ یہ تقسیم کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
2- ان تمام علماء نے گرچہ صراحت نہیں کی ہے کہ وہ تقسیم کے مخالف ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ جس جماعت سے یہ علماء وابستہ تھے اس کا موقف بالکل واضح و مکتوب ہے۔
3-ڈاکٹر اسرار احمد و مولانا مودودی نے گرچہ جناح کی تعریف کی ہے میں اس سے ہرگز متفق نہیں ہوں۔ ان دونو بزرگوں سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے۔ جناح جو بقول علماء کافر اعظم تھا اسماعیلی باطنی شیعہ تھا وہ مسلمانو کے لیے مخلص کیسے ہو سکتا ہے۔شیعہ نے ہمیشہ اسلام و مسلمانو کو نقصان پہنچایا ہے۔ تفصیل کے لیےمطالعہ کیجیے میرا مضمون: شیعہ اسلام و مسلمانو کے ازلی دشمن, مولانا مودودی و ڈاکٹر اسرار دونوں کے یہاں شیعہ کے لیے نرم گوشہ پیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر اسرار نے تو قرآن سے پاکستان کے قیام پر دلائل دیے ہیں تو کیا آپ اس سے متفق ہیں اور بتلایا ہے کہ پاکستان کا ذکر قرآن میں ہے ۔ یہ تو سراسر ایک بکواس ہے۔
4- علامہ اقبال کے نظریہ پاکستان سے میں متفق نہیں ہوں۔ یہ ان کی بہت بڑی بھول تھی ۔ اور ہر انسان سے غلطی ہوتی ہے۔
5- میرا اصل مقصد تقسیم ہند کی سازش کو بے نقاب کرنا ہے۔ اس کے لیے میں نے دلائل دئیے ہیں۔ اس کو ہند و پاکستان کے نظریہ سے نہ دیکھا جائے بلکہ بین الاقوامی سازش کے بطور دیکھا جائے تب بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ یہ انگریزوں کی سازش تھی۔