کامل اسلام پر عمل فرض ہے ورنہ ذلت و رسوائی مقدر ہے۔ دوسری قسط


                اللہ  سبحانہ و تعالى  کا کامل اسلام پر عمل کا  حکم
                                        اور
           ہم مسلمانو کی  من مانی و لا پرواہی, سرکشی و بغاوت
                                                                                    دوسری و آخری قسط 
قارئین  کرام :
   میں آپ کی خدمت میں دوسری اور آخری قسط پیش کر رہا ہوں  جس میں آج کے مسلمان أفراد, سماج اور حکومتوں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ امید کہ پسند آئے گا۔یہ حقیقت ہے جو آپ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔                             
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ اسلام کی اس تعلیم کے بارے میں آج کے مسلمانوں کا کیا رویہ ہے۔کیا مسلمان أفراد, معاشرے اور حکومتیں اس پر عمل کر رہی ہیں؟ یا وہ اس میں غفلت کا شکار ہیں اور أپنی من مانی کر رہے ہیں۔ایک حقیقت پسندانہ جائزہ  ہے جو ایک انسان خود أپنے گرد و پیش, سماج و معاشرہ کا مشاہدہ کرکے  یہ نتائج أخذ کر سکتا ہے۔
مسلمان أفراد کا رویہ:
یقین مانئے کہ آج کی دنیا میں کامل اسلام پر عمل کرنے والوں کی تعداد بہت ہی کم ہے ۔اور اگر یہ کہا جائے کہ ان کی تعداد دس فیصد سے زیادہ نہیں ہے تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ اندازہ بھی زیادہ ہے۔ ان کی تعداد اس سے بھی بہت کم ہے ۔ہزاروں  لاکھوں میں  چند ایسے مسلمان ملیں گے جو کامل اسلام پر عمل کرنے والے ہوں۔ یہ بات کہنے کی ایک پختہ وجہ ہے جو ہم خود ہی روز مرہ کی زندگی میں مشاہدہ کر رہے ہیں ۔آپ جہاں اور جس بھی ملک میں رہتے ہیں وہاں کے گرد و پیش کا جائزہ لیں صورت حال خود ہی واضح ہوجائے گی۔ اس کو تحریر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ہاں أگر کسی کو سمجھ میں نہ آئے تو اس کے لیے وضاحت کی جا سکتی ہے۔ اور جو صورت حال افراد کی بھارت میں ہے تقریبا وہی صورت حال تھوڑے بہت فرق کے ساتھ تقریبا ہر جگہ ہے۔ عرب و عجم سب اس میں برابر ہیں۔اور کئی ملکوں  خصوصا پاکستان  و مصر  و کینیا وغیرہ میں میں نے یہ صورت حال بذات خود دیکھی ہے ۔
آپ اس کا اندازہ اس طرح لگا سکتے ہیں کہ عبادات پے عمل کرنے والوں, برائیوں سے بچنے والوں اور رسوم و رواج و روایات و تقالید سے دور رہنے والوں کى تعداد کے بارے  میں پتہ لگائیے۔ أپنے گرد و پیش و سماج میں اس کا جائزہ لیجیے۔خود ہی حقیقت عیاں ہوجائے گی۔
مسلمان جماعتوں کا رویہ :           
بہت ہی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے دور میں مسلمانوں کا کوئی ایسا گروہ  , جماعت , تنظیم , سماج یا معاشرہ نہیں ہے جو اسلام کے  تمام پہلؤوں پر کما حقہ توجہ دیتا ہو ۔ اور ان تمام پر  مناسب   طور سے عمل پیرا ہو۔مسلمانوں کا کوئی ایسا گروہ, جماعت  یا معاشرہ ایسا نہیں ہے جو افراط و تفریط سے خالی ہو۔ آج ہم مسلمانوں میں اسلام کی جو ناقص سمجھ ہےیا  برائیوں کا جو سیلاب دیکھ رہے ہیں یا  جو ہم مسلمانوں کی ذلت اور پسماندگی ہے  وہ ہماری اسی ناقص یا غلط پالیسی کا نتیجہ ہے۔
ایک طرف آج ہم مسلمانو میں کوئی صرف سیاست ہی کو اصل اسلام سمجھ رہا ہے اور اپنی ساری توانائی اسی پر صرف کر رہا ہے اور اسی کو کل کا کل اسلام سمجھ بیٹھا ہے ۔ اور جائز و ناجائز کسی بھی طریقہ سے حکومت اسلامیہ کا قیام ہی اس کا واحد ہدف ہے۔ اور جس نے ظروف واحوال نیز شروط کی رعایت کیے بغیر اسلامی جہاد کی غلط تشریح و تعبیر کرکے بے شمار مسلم نوجوانو کی زندگی تباہ و برباد کردی۔اور مختلف علاقوں   میں  ہنگامہ , شورش  اور بدامنی  پیدا کی۔ 
 کوئی صرف عقیدہ کی رٹ لگا رہا  ہے اور اس کی ساری کوشس و توجہ کا مرکز  وہی ہے گرچہ  کچھ چیزوں میں وہ عقیدہ صرف نظریہ کی حد  تک محدود ہے عملا اس کا وجود نہیں ہے۔اور  عقیدہ کی تصحیح کے باوجود اکثر  افراد عمل میں کورے ہیں۔سیاست ان کے یہاں  قرآن و حدیث سے ہٹ کر غلامی و  اندھی فرماں برداری اور حق و ناحق کی تائیید کا نام ہے۔جو دوسروں سے بات بات پر قرآن و حدیث سے دلیل طلب کرتے ہیں وہ أپنوں سے قرآن و حدیث سے دلیل طلب کرنا بھول گئے ہیں یا انہوں نے سماجیات و معاشیات کو  کتاب و سنت کے دائرہ سے خارج کر دیا ہے۔ظلم کے خلاف محض آواز بلند کرنا یا حاکم سے پر امن طریقہ سے أپنے حقوق کا مطالبہ کرنا یا اس سے بیت المال کا حساب مانگنا بغاوت ہے۔ان کے اندر بھی وہ تمام خرابیاں  مثلا تعصب , ناحق تائیید , گروہ بندی وغیرہ پیدا ہوگئی ہیں جو دوسری جماعتوں میں پائی جاتی ہیں۔
 کسی کی ساری توجہ کا مرکز صرف اور صرف عبادت ہے۔ اس کو عقیدہ اور سیاست سے کوئی سروکار نہیں ہے۔عقیدہ و سیاست اس کے یہاں  شجرہ ممنوعہ ہے۔وہ صرف زمین کے  اوپر  یا نیچے کی باتیں کرتے ہیں لیکن  زمین  سے جڑی  باتیں بالکل نہیں کرتے ہیں۔
کسی جماعت نے دین کو پیٹ پالنے کا دھندہ بنا لیا ہے اور اسلام کے نام پر شرک و بدعت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ غر ضیکہ ہر جماعت و گروہ  نے دین  کے  بہت سارے اجزاء کو نظر انداز کرکے  کسی ایک جزء کو اپنا خاص ہدف و نشانہ بنا لیا ہےجس کے لیے وہ اپنا پورا زور صرف کر رہی ہیں۔ اور بقیہ أجزاء کو یا تو بالکلیہ نظر انداز کردیا ہے یا ان پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔سب کا اپنا الگ  وجدا منہج و طریقہ ہے جس پر وہ أپنی پورى طاقت کے ساتھ کاربند ہے۔
اور المیہ یہ ہے کہ ان میں اکثر جماعتیں اہل سنت و جماعت میں داخل ہیں۔پھر بھی وہ  ایک دوسرے کے خلاف پروپگنڈہ کرنے ,  خرابیوں و برائیوں  کو نشر کرنے ,جھوٹی خبریں پھیلانے, الزام  تراشى کرنے میں مصروف رہتی  ہیں۔ہر ایک کو دوسروں کی  خرابیاں و برائیاں بہت جلدی نظر آتی ہیں  اور ان کو نشر بھی خوب کرتے ہیں ۔ لیکن ان میں سے کسی کو بھی أپنے مخالف میں کبھی بھی کوئی خوبی نظر نہیں آتی ہے۔اور اگر  کوئی خوبی یا ہنر نظر آتی بھی ہے  تو وہ بھی تعصب کے چشمہ سے برائی ہی نظر آتی ہے ۔ کیونکہ ہنر بچشمے عداوت بزرگ تر عیبے است۔
اور اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی جماعت , گروہ یا تنظیم  أپنے گریبان میں جھانکنے, بذات خود أپنا احتساب کرنے اور اپنی غلطیوں  کی  کھلے دل سے اعتراف کرنے اور پھر ان کی اصلاح  کے لیے تیار نہیں ہے۔صحیح ہے لوگوں کو دوسروں کی آنکھ کا تنکا نظر آجاتا ہے لیکن اپنی آنکھ کی شہتیر نظر نہیں آتی ہے۔
مسلمان ممالک کا رویہ :
جو حال مسلمان أفراد و جماعتوں کا ہے وہی حال مسلمان ممالک کا بھی ہے۔موجودہ دور میں کوئی بھی ایسا ملک نہیں ہے جو کامل اسلام پر عمل پیرا ہو اور ہر ناحیہ سے اس کو نافذ کر رہا ہو۔أکثر مسلمان ممالک شریعت و شرعی  قوانین و حدود کا نفاذ نہیں کرتے ہیں۔ صنعت و حرفت میں مسلمان ممالک بہت زیادہ پیچھے ہیں۔ سائنس و ٹکنالوجی خصوصا طبی و فوجی  میں تو  بہت  ہی برا حال ہے جس کے بارے میں کچھ نہ لکھنا ہی بہتر ہے۔کوئی بھی مسلمان ملک ایسا نہیں ہے جہاں سپر کمپیوٹر تیار کیا جاتا ہو۔سویلین جہاز تیار نہیں کیے جاتے ہیں جنگی جہاز کے بارے سوچنا تو بہت دور کی بات ہے۔ کوئی بھی مسلمان ملک ایسا نہیں ہے جہاں اسپیس ریسرچ سنٹر ہو  یا اس کے پاس سٹیلائٹ لانچنگ کی قدرت ہو۔ اسی طرح کوئی بھی مسلمان ملک ایسا نہیں ہے جو صرف اسلام و مسلمانوں کی بنیاد پر غیر اسلامی ممالک کے ساتھ أپنے تعلقات قائم کرتا ہو ۔ اگر ایسی بات ہوتی تو تمام مسلمان ممالک چین, مینمار و بھارت  وغیرہ سے أپنے تعلقات منقطع کر لیتے لیکن کسى  کے اندر اتنی جرات نہیں ہے۔ سب أپنے مصالح و مفادات کے غلام ہیں۔وغیرہ ۔ اسی سے واضح اندازہ ہوجاتا ہے کہ کوئی بھی مسلمان ملک اسلام کو کامل طور سے نافذ نہیں کر رہا ہے۔
 علاوہ أزیں مسلمان ممالک کو آپسی تنازعات و لڑائیوں سے  فرصت نہیں ہے۔ اور ان کے اکثر سربراہوں و قائدین کو ہمیشہ  بس اپنی کرسی بچانے کی فکر  دامن گیر ہوتی ہے اور ان کا صرف یہی ایک مشغلہ ہوتا ہے کہ ہم أپنی عوام کو زیادہ سے زیادہ کس طرح ذلیل و خوار کریں ۔ان کو کس طرح أپنا فرماں بردار غلام بنا کر رکھیں۔ وہ خود مغرب کے حکمرانوں کے غلام اور ان کے حاشیہ بردار ہیں ۔ ان کی ساری سیاسی و اقتصادی پالیسی ان کے مغرب کے آقا تیار کرتے ہیں ۔وہ خود أپنی حفاظت کے لیے دوسروں پر انحصار کرتے ہیں۔ان کی کرنسیاں امریکی  ڈالر سے مربوط ہیں اور  ان کے اندر اتنی جرات و ہمت نہیں ہے کہ وہ أپنی  اسلامی اقتصادی منڈی الگ بنا لیں ۔ وہ خود زبردست اقتصادی غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں۔اور جو اسلامی سرکاری بیت المال کو اپنا ذاتی و شخصی خزانہ سمجھتے ہیں  تو پھر وہ مکمل اسلام کو کیوں نافذ کریں گے  اور اس کے کامل پہلؤوں پر توجہ کیوں دیں گے۔
أفسوس تو یہی ہے  کہ تمام مسلمان ممالک  دہائیوں پہلے فوجی اور عسکری غلامی سے تو آزاد ہوگئے لیکن فکری ,  ثقافتی ,اقتصادی اور معاشی غلامی میں ابھی تک جکڑے  ہوئے ہیں۔غاصب و قابض چلے گئے لیکن وہ اپنے پیچھے أپنے ایجنٹوں وپیروکاروں کو چھوڑ گئے جو ان کا ایجنڈہ مکمل طور سے نافذ کر رہے ہیں۔
واضح ہے کہ ہم مسلمان عصر حاضر میں تینوں سطحوں - انفرادی, سماجی, حکومتی – پر  اسلام کو کامل طور سے قطعا نافذ نہیں کر رہے ہیں جس کا نتیجہ خود ہمارے سامنے ہے۔ لہذا  کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم مسلمان انفرادی, اجتماعی اور حکومتی سطح پر  أپنا جائزہ لیتے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں أپنا احتساب کرتے۔اور  اگرمسلمانوں کا ہر ملک ,  ان کا  ہرگروہ  او رمعاشرہ  , ان کی تمام جماعتیں و تنظیمیں  اسلام کے  بہت سارے پہلؤوں کو نظر انداز کرکے کسی ایک جزء کو   بہت زیادہ اہمیت دینے یا  فوکس  کرنے کے بجائے اسلام کے کامل أجزاء یا مکمل اسلام پر مناسب  توجہ دیتے۔اس کے تمام پہلؤوں کو ایک ساتھ لے کر چلتے۔کسی ایک پہلو کو کسی دوسرے پہلو کی قیمت پر قطعا نظر انداز نہ کرتے۔اور مسلمان حکومتیں کامل اسلام نافذ کرتی  تو مستقبل قریب  میں  اس کا بہت شاندار نتیجہ برآمد ہوگا اور  آج  کے مسلمانوں کے حالات یکسر  بدل جائیں گے۔
یقینا اسلام کے تمام جوانب اور پہلؤوں پر عمل کرنے میں ہی ہم سب کی بھلائی ہے۔اسی میں کامرانی اور کامیابی کا راز مضمر ہے۔رفعت و سربلندی کا نسخہ پوشیدہ ہے۔عزت و غلبہ کی کنجی اسی میں ہے۔و ما ذلک على اللہ بعزیز.
 وما علینا الا البلاغ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔


التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: