ایک سچا واقعہ ایک سبق آموزحقیقی کہانی

ایک سچا واقعہ ایک سبق آموزحقیقی کہانی
تمام مسلمانوں خصوصا فارغین مدارس اسلامیہ کی خدمت میں

       
    اللہ کے فضل و کرم سے برصغیر ہندوستان, پاکستان و بنگلہ دیش کے طول و عرض میں بہت سارےپرائیویٹ  اسلامی مدارس , دینی جامعات و کالجز  پھیلے ہوئے ہیں جو بحسن و خوبی اپنی دینی و معاشرتی  ذمہ داریاں نبھار ہے ہیں۔ اور ان ملکوں میں اسلام کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں۔ یہ اکثر مدارس و جامعات ہی  اندرونی و بیرونی محسنین و معاونین کے عطیات و چندوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور انہیں کے امداد و تعاون پر یہ عظیم کام انجام دیتے ہیں۔ ان میں زیر تعلیم طلباء بھی عموما غریب, نادار و محتاج ہوتے ہیں۔ یہ کسی طرح کی کوئی فیس ادا نہیں کرتے ہیں بلکہ خود ان مدارس و یونیورسٹیز کی طرف سے ان کے خورد و نوش, رہائش اور کتابوں وغیرہ کا مفت انتظام کیا جاتا ہے تاکہ یہ اپنے اہل خانہ پر مزید کسی طرح سے بوجھ نہ ہوں اور آسانی سے اپنی تعلیم حاصل کر سکیں۔
     آج سے دس پندرہ سال پہلے تک تقریبا  تمام مدارس و کالجز میں یہی نظام رائج تھا ۔ اور ان میں زیر تعلیم تمام طلباء ان سہولیات سے بنا کسی استثناء کے مفت میں فائدہ اٹھاتے تھے ۔ گنتی کے چند ہی طلباء ہوتے تھے جو خوراکی فیس وغیرہ ادا کرتے تھے ۔ اب حالات کچھ بدل گئے ہیں ۔ اب تقریبا تمام مدارس میں فیس کا نظام لاگو کر دیا گیا ہے ۔اب کچھ ہی بچوں کو فیس سےمستثنى کیا جاتا ہے ۔بدلتے حالات کے مطابق میرے خیال میں یہ ایک اچھا قدم ہے ۔ اور اس سے مدارس کو تھوڑی   بہت معاشی  راحت ملی  ہے۔
      یہ اسلامی و دینی مدارس ایک زمانہ سے قائم ہیں۔ان میں سے کچھ تو کافی قدیم ہیں ۔ پچاس سال سے زائد کا عرصہ ان کے قیام پر گذر چکا ہے۔ان سے فارغ ہونے والے طلباء کی تعداد بھی ہزاروں لاکھوں میں ہے۔ ان میں سے کچھ طلباء مدارس سے فراغت کے بعد اعلى تعلیم حاصل کرنے کے لیے اندرونی عصری یونیورسٹیز کا رخ کرتے ہیں ۔ جن میں سے بعض اعلى ڈگری حاصل کرکے سرکاری نوکری و ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے  ہیں ۔ اور وہ شاندار و اعلى تنخواہ حاصل کرتے ہیں۔کچھ طلباء بزنس و تجارت کی طرف بھی متوجہ ہوتے ہیں جن میں ان کو کامیابی ملتی ہے ۔کچھ طلباء اعلى تعلیم کے لیے اسکالر شپ حاصل کرنے کے بعد  بیرونی ممالک خصوصا خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔  جہاں ان میں سے  بعض اعلى تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہیں ممالک میں خدمات انجام دیتے ہیں یا پھر  وہاں کے کسی ادارہ سے مبعوث ہونے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ بہت سارے طلباء تو یونانی میڈیسن سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنا مطب چلاتے ہیں جس میں وہ اللہ کے فضل و کرم سے کافی کامیاب ہیں۔ کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ان مدارس و جامعات کے بہت سارے  فارغین اندرون و بیرون  ملک بہت سارے میدانوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کی اقتصادی و معاشی حالت تعلیم کے زمانہ سے  کافی اچھی و بہتر ہے۔اور یہ اللہ کا ان کے اوپر بہت بڑا فضل و کرم ہے۔
        ابھی تک جو بھی لکھا گیا ہے وہ سچ ہے اور سچائی پر مبنی ہے ۔ کوئی اس کا انکار نہیں کر سکتا ہے ۔ لیکن وہ سچا واقعہ یا حقیقی کہانی بیان نہیں کی گئی ہے ۔جو اس تحریر کا مقصد ہے ۔ اور اس کہانی کے  بیان کرنے کا مقصد صرف نیک کام کرنے کا جذبہ پیدا کرنا اور اس پر ابھارنا ہے  اور اسلامی مدارس کے حقوق و ذمہ داری کے تئیں شعور و احساس پیدا کرنا ہے تاکہ دوسرے لوگ بھی اس کی اقتداء کریں ۔ جیسا کہ اللہ رب ا لعزت کا فرمان ہے: إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ  وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ  وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّئَاتِكُمْ  وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ( بقرہ/271) ترجمہ: اگر تم اپنے صدقات کو ظاہر کرتے ہو تو وہ بھی اچھا ہے۔اور اگر اسے چھپا کر فقیروں کو دیتے ہو تو وہ بھی تمہارے لیے بہتر ہے۔اور اللہ تمہارے گناہوں کو مٹادےگا۔اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو بہر حال اس کی خبر ہے۔
       اس آیت میں صدقات و خیرات کو ظاہر کرنے پر جو اچھا و بہتر بتایا گیا ہے اس کا مقصد یہی ہے کہ دوسرے لوگ اس کی اتباع کریں ۔ اور ان میں بھی صدقہ و خیرات کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ ورنہ اگر ریاکاری مقصود ہے تو پھر ایسا صدقہ یا کوئی بھی عمل نا قابل قبول و مردود ہے۔اور یہی اچھا جذبہ بیدار کرنا اس کہانی کا مقصد ہے۔
        اور یہ کہانی اسلامی مدرسہ سے فارغ ایک شخص کی ہے جس کو اللہ جل و علا نے ایک سعودی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی توفیق بخشی ۔ اور اسے یہاں پر مختلف کام کرنے کے مواقع بھی حاصل ہوئے۔ ان جناب کا کہنا ہے کہ بہت عرصہ سے میرے ذہن و دماغ میں یہ بات آتی تھی اور بار بار آتی تھی کہ میں نے ایک دینی مدرسہ میں مفت تعلیم حاصل کی ہے ۔ میرے والد بلاشبہ اس وقت فیس ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے ۔ اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ بہت سارے والدین جب تک ان کا بچہ کسی مدرسہ میں زیر تعلیم ہوتا ہے اس وقت تک وہ اپنے اندر معمولی  فیس ادا کرنے کی طاقت نہیں پاتے ہیں لیکن جیسے ہی ان کا بچہ کسی عصری یوینورسٹی میں داخل ہوتا ہے اسی دن سے ان کی معاشی حالت بدل جاتی ہے اور وہ مدرسہ کی بہ نسبت یونیورسٹی کی اعلى فیس ادا کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں ۔ خیرمیرے خیال میں  یہ ایک قرض ہے اور اب تو اللہ نے مجھے نوازا ہے کہ میں یہ قرض ادا کر سکتا ہوں۔  لیکن یہ دنیا ہے ۔ اور اس دنیا میں ہر انسان کا بہت سارا خواب ہوتا ہے ۔میرے بھی بہت سارے خواب تھے ۔ اور میری آمدنی کوئی بہت زیادہ نہیں تھی کہ میں اپنے سارے خوابوں کی تکمیل کر سکوں۔ اور اگر میں بھی پہلے انہیں خوابوں کو پورا کرنے کے چکر میں لگا رہا تو پھر یہ قرض کبھی نہیں ادا کر پاؤں گا۔ لہذا میں نے پختہ ارادہ کیا کہ بہت ہوگیا ۔اب پہلے اس قرض کو چکانا ہے ۔ لہذا برسوں پہلے میں نے اس جامعہ کے نام تقریبا چالیس ہزار روپیہ بھیج دیا جس سے مجھے  بفضلہ تعالی بے حد خوشی ہوئی اور کافی سکون و اطمینان حاصل ہوا۔وذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء
       میں خاکسار  اس پر اللہ کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں اور میں یہی پیغام مدارس سے فارغ تمام حضرات کو دینا چاہتا ہوں کہ جنہوں نے بھی ان مدارس میں مفت تعلیم حاصل کی ہے اور وہاں کی سہولیات سے فائدہ اٹھایا ہے ۔اب اگر وہ اس معاشی  پوزیشن میں ہیں کہ   وہ مدارس کے اس حق و  قرض ادا کرنے کی طاقت رکھتے ہیں  تو اس کو قطعا نہ بھولیں اور جلد از جلد پہلی فرصت میں دوسری چیزوں پر فوقیت دیتے ہوئے  اس کو ادا کرنے کی کوشس کریں۔کیونکہ دنیا کے جمھیلے بہت زیادہ ہیں ۔ اگر ہم ان جمھیلوں  کو پورا کرکے پھر اس کو پورا کرنا چاہیں گے تو پھر یہ کر پانا بہت ہی مشکل ہوگا۔
علاہ ازیں اس سچی کہانی والے نے یہ بھی بتایا کہ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ اسلامی مدارس میں زیر تعلیم  دسیوں  بچوں  و بچیوں کا میں نے خرچ برداشت کیا ہے ۔جن میں سے کئی فارغ التحصیل ہوکے  درس و تدریس کا مقدس فريضہ بھی انجام دے رہے ہیں۔آنجناب نے یہ بھی بتلایا کہ تعلیم کے دوران بہت سارے افراد و اداروں سے زکوۃ کی وضاحت کے بغیر  بسااوقات کافی رقوم بھی حاصل ہوئے  لیکن میں نے ان کو اپنے اوپر خرچ کرنے کے بجائے غریبوں و محتاجوں میں تقسیم کرنے کو ترجیح دی۔
      تو یہ ہے ایک سچا واقعہ ایک حقیقی کہانی ۔ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ اس امت میں اب بھی ایسے ہزاروں افراد موجود ہیں جو خود بہت زیادہ بہتر مالی پوزیشن میں نہیں ہیں لیکن پھر بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے گریز نہیں کرتے ہیں۔میں آنجناب کے لیے اللہ کی بارگاہ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ ان کی تمام نیکیوں کو قبول فرمائے اور ان کا صلہ دنیا و آخرت دونوں میں عطا فرمائے ۔آمین وما ذلک على اللہ بعزیز۔بلاشبہ ان کی زندگی میں مدارس سے فارغین کے لیے ایک بہت ہی اہم درس ہے۔کیونکہ دیکھا  یہی گیا ہے کہ مدارس سے فارغین کی ایک بہت بڑی تعداد نہ صرف اپنے مدارس کی مدد نہیں کرتی ہے  بلکہ  ان کو بھول بھی جاتی ہے۔ حالانکہ انہیں مدارس نےنہ صرف  انہیں مفت میں تعلیم دی بلکہ  اس قابل بھی  بنایا کہ وہ اس اہم جگہ و منصب پر پہنچ سکیں ۔اللہ تعالی ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔
                           وما علینا الا البلاغ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔


التالي
السابق
أنقر لإضافة تعليق

0 التعليقات: